Explained with ayahs 1–4
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة النَّجْم 2
مراد ہیں رسول اللہ ﷺ اور مخاطب ہیں قریش کے لوگ۔ اصل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ صَاحِبُکُمْ (تمہارا صاحب)۔ " صاحب " عربی زبان میں دوست، رفیق، ساتھی، پاس رہنے والے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کو ہوتے ہیں۔ اس مقام پر آپ ﷺ کا نام لینے یا " ہمارا رسول " کہنے کے بجائے " " تمہارا صاحب " کہہ کر آپ کا ذکر کرنے میں بڑی گہری معنویت ہے۔ اس سے قریش کے لوگوں کو یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ جس شخص کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ تمہارے ہاں باہر سے آیا ہوا کوئی اجنبی آدمی نہیں ہے اس سے تمہاری پہلے کی کوئی جان پہچان نہ ہو۔ تمہاری اپنی قوم کا آدمی ہے۔ تمہارے ساتھ ہی رہتا بستا ہے۔ تمہارا بچہ بچہ…
Read the full tafseer →مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى، یہ جواب قسم ہے یعنی وہ مضمون ہے جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے معنی اس کے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس راستے کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ صراط مستقیم اور منزل مقصود یعنی رضائے الٰہی کا صحیح راستہ ہے نہ آپ راستہ بھولے ہیں اور نہ غلط راستہ پر چلتے ہیں۔
آنحضرت کو لفظ صاحبکم سے تعبیر کرنے کی حکمت
اس جگہ رسول اللہ ﷺ کا نام مبارک یا لفظ رسول و نبی ذکر کرنے کے بجائے آپ کی ذات کو لفظ صاحبکم سے تعبیر کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کہیں باہر سے نہیں آئے، کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں جن کے صدق و کذب میں تمہیں اشتباہ رہے بلکہ وہ تمہارے ہر وقت کے ساتھ ہیں، تمہارے وطن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ما ضل صا حبکم وما غوی وما ینطق عن الھدی ان ھو الا وحی یوحی) (2، 4)۔
(آنحضرت ﷺ پر کتاب کے الزام کی تردید)۔ یہ پوری مقسم علیہ کی حیثیت رکھتی ہے ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر ﷺ نہ تو بھٹکے ہیں نہ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو کلام وہ تمہیں سنا رہے ہیں اپنے جی سے گھڑ کے نہیں سنا رہے ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو تمہیں سنائیں تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔
موقع کلام دلیل ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ پر کہانت کا جو الزام لگاتے تھے یہ اس کی تردید ہے۔ قریش کے لیڈروں کو جب آپ قرآن سناتے اور وحی اور اس کے لانے والے فرشتہ سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2: تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب سے مراد حضور نبی کریم ﷺ ہیں، اور آپ کے لئے یہ لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ نے کہیں باہر سے آکر نبوت کا دعوی نہیں کردیا، بلکہ وہ شروع سے تمہارے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کی پوری زندگی کھلی ہوئی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہے، اس کے برعکس آپ صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہیں، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عام زندگی میں تو جھوٹ سے اتنا پرہیزکریں اور اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا بہتان لگادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔
اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود…
Read the full tafseer →4 " رفیق " سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ یعنی نہ آپ غلط فہمی کی بناء پر راستہ سے بہکے، نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر بےراہ چلے، بلکہ جس طرح آسمان کے ستارے طلوع سے لے کر غروب تک ایک مقرر رفتار سے معین راستہ پر چلے جاتے ہیں کبھی ادھر ادھر ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ آفتاب نبوت بھی اللہ کے مقرر کیے ہوئے راستہ پر برابر چلا جاتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ایک قدم ادھر یا ادھر پڑجائے۔ ایسا ہو تو ان کی بعثت سے جو غرض متعلق ہے وہ حاصل نہ ہو۔ انبیاء (علیہم السلام) آسمان نبوت کے ستارے ہیں جن کی روشنی اور رفتار سے دنیا کی راہنمائی ہوتی ہے اور جس طرح تمام ستاروں کے غائب ہونے کے بعد آفتاب درخشاں طلوع ہوتا ہے۔ ایسے ہی…
Read the full tafseer →آیت 2 { مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوٰی۔ } ”اے لوگو ! تمہارے یہ ساتھی نہ تو بھٹکے ہیں اور نہ ہی بہکے ہیں۔“
قرآن حکیم میں قسم بالعموم شہادت کے لیے آتی ہے۔ یہاں ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے بتایا جا رہا ہے کہ تمہارے یہ ساتھی محمد ٌرسول اللہ ﷺ نہ تو غلط فہمی کی بنا پر راستہ سے بہکے ہیں اور نہ اپنے قصد و اختیار سے جان بوجھ کر غلط راستے پر چلے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اور رفیق سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کی سیرت و کردار سے کفار مکہ بچپن سے واقف تھے۔ انہیں قسم دے کر بتایا جارہا ہے کہ تمہارے یہ رفیق تاریکی میں نہیں بلکہ دن کی روشنی میں ٹھیک صراط مستقیم پر چل رہے ہیں نہ وہ راستہ بھولے ہیں کہ ادھر ادھر پھرتے رہیں اور نہ ہی راستہ سے بہکے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک ساری مسافت میں اپنی باقاعدہ رفتار قائم رکھتا ہے اور ذرا ادھر سے ادھر نہیں ہوتا، اسی طرح یہ پیغمبرامین ساری عمرضلال وغوایت کے اثر سے محفوظ رہے اور افراط وتفریط دونوں سے الگ، ٹھیک حق کی صراط مستقیم پر قائم ہیں (آیت) ” والنجم “۔ ستارہ سے مراد یہاں ستارہ کی جنس ہے، تو بعض نے ستارہ ثریا سے مراد لی ہے۔ الثریا اوجنس النجوم (کشاف) اقسم بالثریا اوبجنس النجوم (مدارک) ستارہ گو اپنی باقاعدہ رفتار سے ادھر ادھر جس طرح طلوع سے غروب تک نہیں ہوتا اسی غروب سے طلوع تک بھی نہیں ہوتا۔ لیکن یہ دوسری کیفیت مرئی ومحسوس نہیں۔ اور وہ پہلی کیفیت مشاہد ہے۔ اس لئے ذکر اسی قید کے ساتھ…
Read the full tafseer →ماضل صاحبکم یہ جواب قسم ہے، صاحبکم تمہارا ساتھی، اس کلمہ سے آپ ﷺ کی صداقت کو واضح اور ثابت کرنا مقصود ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گذارے ہیں، ان کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے، راست بازی اور امانتداری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور دیکھا ؟ اب چالیس سال بعد جو وہ نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے تو ذرا سوچو کہ وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے چناچہ واقعہ یہ ہے کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے، اللہ تعالیٰ نے دانستہ اور نادانستہ دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ فرمائی ہے۔
سوال :۔ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ما ضل صاحبکم وما غوی . یہ تمہاے ساتھ رہنے والے نہ راہ سے بھٹکے ‘ نہ غلط رو ہوئے۔
” صاحب “ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں یعنی ہدایت کے راستے سے نہ بھٹکے اور نہ باطل کے راستہ پر چل کر کج راہ ہوئے۔ بعض علماء نے کہا : ضلالت (گمراہی) ہدایت کے مقابل اور غی (کج راہی) رُشد کے مقابل ہوتی ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ہدایت یافتہ ہیں (گمراہ نہیں) اور صاحب رشد ہیں (کج راہ نہیں) اے اہل قریش ! تمہارا خیال غلط ہے جو ان کو گمراہ اور کج رو سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی قسم کھا کر فرماتا ہے جب کہ قرآن حکیم کو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر قسط وار ایک ایک دو دو تین تین اور چار چار آیتیں کر کے پورے بیس سال میں نازل فرمایا جب آیت نازل ہوئی تو عتبہ بن ابی لہب نے سنا کہ محمد قرآن حکیم کے حصوں کی قسم کھاتے ہیں تو اس نے کہا کہ محمد کو یہ بات پہنچا دو کہ میں قرآن کریم کے حصوں کا انکار کرتا ہوں، جبکہ ان لوگوں نے آپ کو یہ بات پہنچائی تو آپ نے فرمایا الہ العالمین اپنے درندوں میں سے کوئی درندہ اس پر مسلط کردے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حران کے قریب ایک شیر کو اس پر مسلط کردیا تو اس شیر نے اسے اس کے ساتھیوں میں سے نکال کر قریب ہی سر سے لے کر…
Read the full tafseer →(1) ماضل صاحبکم وما غوی :)”ضلالت“ (راہ بھولنے) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑے یا اسے سیدھا سمجھ لے اور ”غوایت“ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر سیدھے راستے سے ہٹ جائے۔ اللہ ت عالیٰ نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ تمہارا ساتھی نہ لاعلمی میں غلط راستے پر چل رہا ہے اور نہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔ اتنی تاکید کیساتھ نفی اس لئے فرمائی کہ مشرکین آپ کے متعلق یہ بات کہتے تھے۔
(2) ”صلحبکم“ (تمہارا ساتھی) کہہ کر رسول اللہ ﷺ کے صدق و امانت کی صفات کی طرف توجہ دلائی ہے، جو کفار کے ہاں بھی مسلم تھیں کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
والنجم اذا ھویٰ ۔ حضرت ابن عباس اور مجاہد نے کہا، والنجم اذا ھوی ٰ سے مراد ہے ثریا جب فجر کے ساتھ غروب ہوجائے۔ عرب ثریا کو نجم کہتے ہیں اگرچہ تعداد میں یہ نجوم ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سات ستارے ہیں ان میں سے چھ ظاہر ہیں اور ایک مخفی ہے جس کے ساتھ لوگ اپنی نظروں کا امتحان کرتے ہیں۔ قاضی عیاض کی ” الشفا “ میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ثریا میں گیارہ ستارے دیکھا کرتے تھے۔ مجاہد سے یہ بھی مروی ہے : معنی ہے قسم ہے قرآن کی جب وہ نازل ہو (1) کیونکہ وہ آیات درآیات نازل ہوتا تھا، یہ فراء کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : مراد تمام ستارے ہیں جب وہ غروب ہوں، یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے فرمایا : اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' (قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے ثریا (ستارہ) ہے جب وہ غائب ہوجائے اور ایک روایت میں یوں ہے جب وہ فجر کے ساتھ ساقط ہوجائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ثریا جب واقع ہوجائے۔
2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' سے مراد ہے قسم ہے ثریا کی جب وہ لٹک جائے۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے ثریا (ستارہ) کی جب وہ بلند ہوجائے۔
4:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →مَا ضَلَّ [ نہیں بھٹکے ] صَاحِبُكُمْ [ تمہارے ساتھی ] وَمَا غَوٰى [ اور نہ وہ بےراہ ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
رسول اللہ ﷺ صحیح راہ پر ہیں، اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے، وحی کے مطابق اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں، آپ نے جبرائیل کو دو بار ان کی اصلی صورت میں دیکھا
یہاں سے سورة النجم شروع ہے اس کے پہلے رکوع کے اکثر حصہ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور وحی کی حفاظت اور وحی لانے والے فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت اور ان کی رؤیت کا تذکرہ فرمایا ہے۔
ارشاد فرمایا ﴿ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ001﴾ (قسم ہے ستارہ کی جب غروب ہونے لگے) ۔
﴿ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ002﴾ (تمہارا ساتھی نہ راہ سے بھٹکا ہے اور نہ غلط راستہ پر پڑا ہے) ۔
﴿وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ003﴾ (اور وہ اپنی نفسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری :
(ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والنجم۔ تا۔ الکبری “ یہ تمہید ہے برائے اثبات و صداقت رسول اللہ ﷺ ۔ ” ما ضل “ جواب قسم ہے۔ ” ضلال “ یعنی راستہ نہ ملنا اور ” غوایۃ “ راستہ ملنے کے بعد بھٹک جانا۔ الضلال ضد الھدایۃ والھی ضد الرشد یعنی ھو مھتد راشد (مظہری ج 9 ص 104) ۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ نیچے گرتا ہے یعنی غروب ہوتا ہے۔ محمد ﷺ غلط راہ پر نہیں ہیں، بلکہ راہ راست پر قائم ہیں۔ یعنی ستارے کا نیچے آنا شاہد ہے کہ نبی کریم ﷺ پر آسمان سے فرشتہ اترتا اور وحی لاتا ہے اور آپ کا یہ فرمانا کہ مجھ پر وحی آتی ہے غلط نہیں اور نہ بعید از قیاس ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔
مضامین سورة
اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى 2 ۚ
ما
مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف .
فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع .
فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي
نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] .
الثاني :
نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُـکُمْ وَمَا غَوٰی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم : 1 تا 4)
(قسم ہے ستاروں کی، جب وہ غروب ہوگئے۔ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا۔ وہ تو ایک وحی ہے جو اسے کی جاتی ہے۔ )
اَلنَّجْم سے مراد کیا ہے ؟
عام طور پر مفسرین اَلنَّجْمِ سے ثریا مراد لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے زہرہ مراد لیا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک کو مراد لینے پر بھی کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ابوعبید نحوی کا قول زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ یہاں النجم بول کر جنسِ نجوم مراد لی گئی ہے، یعنی یہ اسم جنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : سورة الطور کا اختتام اس فرمان پر ہوا کہ جب ستارے غروب ہونے کے وقت ہو تو اپنے رب کو یاد کیا کرو۔ اس مناسبت سے سورة النجم کا آغاز ستارے کی قسم سے ہورہا ہے۔
عربی زبان میں حرف واؤ کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں اسے قسم کے معنٰی میں استعمال کیا گیا ہے۔ رب ذوالجلال کا ارشاد ہے کہ مجھے ڈوبتے ہوئے ستارے کی قسم۔ تمہارا ساتھی نہ بہکا ہے اور نہ ہی بھٹکا ہے۔ نبی معظم ﷺ کے بارے میں اہل مکہ یہ پراپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ آپ صحیح راستے سے بہک گئے ہیں، کچھ لوگ کہتے کہ محمد ﷺ گمراہ ہوچکے ہیں۔ خیال رہے کہ اہل لغت راستہ بھول جانے والے مسافر کے لیے ضلّ کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور جو شخص…
Read the full tafseer →وہ سیدھی راہ پر نہ کہ ضلالت میں :
آیت 2: ما ضل اور میانہ روی سے نہیں بھٹکے یہ جواب قسم ہے، صاحبکم یعنی محمد ﷺ ۔ کم سے قریش مکہ سے مراد وما غوی اور باطل کی اتباع میں وہ غلط راستے پر نہیں چلے۔ الضلال یہ الہدی کی ضد ہے، اور الغی یہ الرشد کی۔ مطلب یہ ہوا وہ سیدھا راہ پانے والے ہیں وہ اس طرح نہیں جیسا کہ تم اپنے خیال کے مطابق ان کی نسبت ضلالت وغوایت کی طرف کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →نجم کی تفسیر
1 ۔” والنجم اذاھویٰ “ ابن عباس ؓ نے والبی اور عوفی رحمہما اللہ کی روایت میں فرمایا ہے کہ یعنی ثریا جب گرجائے اور غائب ہوجائے اور اس کا ھویٰ اس کا چھپ جانا ہے اور عرب ثریا کا نام نجم رکھتے ہیں اور ابوہریرہ ؓ سے حدیث مرفوع میں آیا ہے نہیں طلوع ہوا نجم کبھی اور زمین میں کوئی آفت ہو مگر وہ اٹھالی جاتی ہے اور نجم سے ثریا مراد لیا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں آسماں کے تمام ستارے مراد ہیں جب غروب ہوجائیں۔ اس کا لفظ واحد ہے اور معنی جمع کا ہے ۔ کوکب کا نام نجم رکھا گیا ہے اس کے طلوع ہونے کی وجہ سے اور ہر طلوع ہونے والا نجم ہے۔
کہا جاتا ہے ” نجم السن والقرن والنبت “ جیسے دانت، سینگ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →اور فرمایا (صَاحِبُكُمْ ) تمہارا ساتھی۔ تاکہ اللہ تبارک وتعالی تمہارے ساتھی کے ان اوصاف کی طرف اشارہ کرے جن کا وہ آپ کے اندر موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہیں مثلا صدق اور ہدایت نیز یہ کہ آپ کا معاملہ ان پر مخفی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[ 3] صاحبکم کے لفظ کی بلاغت و تاثیر کا ذکر وبیان :
سو اس لفظ اور اس کی ترکیب سے واضح فرما دیا گیا کہ جس کی پوری زندگی، اور زندگی کی ہر حالت، تمہارے سامنے ہے، اور ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے، بچپن سے لڑکپن، اور لڑکپن سے جوانی، اور جوانی کے بعد کی پوری حیات طیبہ تمہارے سامنے ہے، اور اس طور پر کہ اس کا کوئی مرحلہ بھی تم سے مخفی اور تمہاری نگاہوں سے اوچھل اور پوشیدہ نہیں، اور تم خود ان کی صداقت، اور ان کی امانت و دیانت داری کے قائل اور معترف ہو، اور ان کو تم لوگ خود صادق و امین مانتے ہو، اور ان کی نزاہت و پاکیزگی کے تم لوگ خود عینی شاہد اور کھلے گواہ ہو، تو جب چالیس سال کی طویل زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے
تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔
صاحبکم۔
اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →ف 10 جیسا کہ مشرکین مکہ کہتے ہیں۔ ضال (بہکا ہوا) وہ ہے جو جہالت کے سبب صحیح راہ بھٹک جائے اور غادی وہ ہے جو جان بوجھ کر سیدھے رستے سے ہمٹ جائے اور لفظ صاحبکم “ میں اشارزہ ہے کہ یہ لوگ آنحضرت کے حقیقی حال سے خوب واقف تھے۔ (ابن کثیر شوکانی)
Read the full tafseer →(53:2) ماضل صاحبکم وما غوی : یہ جواب قسم ہے اور ما نافیہ ہے۔
ضل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ضلال باب ضرب مصدر سے ۔ متعدد معنی میں مستعمل ہے :۔ مثلاً بمعنی گمراہ ہونا۔ بہکنا۔ راہ سے دور جا پڑنا۔ کھوناجا ۔ ضائع ہوجانا۔ گم ہونا۔ ہلاک ہونا۔ وغیرہ وغیرہ۔ سیدھے راستہ سے روگردانی کو ضلال کہتے ہیں۔ یہ ہدایت کی ضد ہے ۔ راستہ سے روگردانی دانستہ ہو یا بھول کر، تھوڑی ہو یا زیادہ؛ اس کو ضلال کہتے ہیں۔ افعال و اقوال اور عقائد کی غلطی کے لئے ضلال ہی مستعمل ہے۔ جب کہ غوایۃ خاصۃ اعتقادی غلطی کو کہتے ہیں۔
ماضل نہیں بھٹکا وہ۔ وما غوی اور نہ وہ کسی اعتقاد غلطی کا مرتکب ہوا ہے ۔ غوی ماضی واحد مذکر غائب ۔ غنی باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18
ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 18
ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ نبی ان ہی اہل مکہ میں پلے بڑے ہوئے اور نبوت سے پہلے اہل مکہ آپ پر دیوانگی یا جھوٹ کا کوئی الزام نہیں لگاتے تھے اسی واسطے فرمایا یہ کہ اللہ کے رسول جو تم لوگوں کے ہمیشہ کے رفیق ہیں اور تم کو ان کا ہر طرح کا حال خوب معلوم ہے نہ وہ دیوانے ہیں ہمیشہ اپنے رب کی توحید و عبادت میں رہے آپ کے دامن عصمت پر کبھی کسی امر مکروہ کی گردنہ آئی، اور نہ اپنی ذاتی غرض سے انہوں نے خود یہ قرآن بنایا ہے بلکہ آسمانی وحی کے ذریعہ سے اللہ کا جوحکم ان کو پہنچا ہے وہی تم کو وہ سنادیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[2] یعنی محمد ﷺ ۔ کفار مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ پیغمبر جو تمہارا دن رات کا ساتھی ہے تمہارے لئے کوئی اجنبی نہیں ہے۔ تم اس کے ماضی وحال، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے رجحان و ذوق سے اچھی طرح واقف ہو۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ بھٹکا اور بہکا ہوا آدمی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا
3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔
حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(2) کہ تمہارے رفیق صحبت اور ساتھی یعنی محمد ﷺ نے نہ راہ گم کی اور نہ وہ راہ سے بہکے اور نہ بےراہ چلے۔ سیاروں کے طلوع اور غروب سے مسافروں کو جہت کا پتہ چلتا ہے اور رات کی تاریکی میں ان سیاروں سے بڑی رہنمائی ہوتی ہے اور چونکہ نبی کریم ﷺ کے ہادی برحق ہونے اور ہر قسم کی گمراہی اور غوایت سے پاک ہونے پر قسم کھائی تھی اس لئے تارے کی قسم کھائی اور اس مناسبت سے قسم کا یہ عنوان قائم کیا۔
عام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ نجم سے مراد یہاں تاروں کی جنس ہے کوئی خاص تارا مراد لینا راجح نہیں اگر مفسرین کے بیشمار اقوال ہیں جیسے ثریا، زحل ، زہرہ یا وہ ستارے جو نبی کریم ﷺ کی ولادت کے وقت اترے اور لٹکتے تھے یا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 5۔ اس قسم میں نظیر ہے مضمون جواب قسم ما ضل و ماغوی کی یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک اس تمام تر مسافت میں اپنی قاعدہ رفتار سے ادھر ادھر نہیں ہوا اسی طرح آپ اپنی عمر بھر میں ضلال وغوایت سے محفوظ ہیں، اس میں نیز اشارہ ہے اس طرف کہ جیسے نجم سے اہتداء ہوتا ہے اسی طرح اپ سے بھی بوجہ عدم ضلال و عدم غوایت کے اہتداء ہوتا ہے۔ (فائدہ) ضلال یہ کہ بالکل رستہ بھول کر کھڑا رہ جائے اور غوایت یہ کہ غیر راہ کو راہ سمجھ کر چلتا رہے۔
Read the full tafseer →یقینی بات یہ ہے کہ تمہارا رفیق نہ بہکا ہے اور نہ راہ سے بھٹکا ہے
2 ؎ جس بات کے لئے پیچھے قسم کھائی گئی ہے وہ اس جگہ بیان کی جا رہی ہے کہ تمہارا ساتھی ‘ تمہارا دوست ‘ تمہارا جانا پہچانا آدمی (محمد رسول اللہ ﷺ نہ بھٹکا ہے اور نہ ہی بہکا ہے۔ (صاّحبکم) صاحب۔ ساتھی۔ والا اور رفیق و دوست صحبتہ سے جس کے معنی ساتھ دینے کے ہیں۔ ساتھ دینے والا صاحب ہو انسان ہو یا حیوان۔ مکان ہو یا زمان اور اس امر میں فرق نہیں کہ مصاحبت یعنی باہم ساتھ رہنا بدن سے ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت و ہمت کہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے اور عرف میں ” صاحب “ صرف اس…
Read the full tafseer →مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ (your companion [ the Holy Prophet ﷺ ] has neither missed the way, nor did he deviate. [ 53:2] Verse [ 1] was قَسَم qasam or oath and verse [ 2] is jawab-ul-qasam or the subject for which oath is sworn. The verse means that the path towards which the Holy Prophet ﷺ is calling the people is the perfectly straight path leading to the desired goal of Allah's good pleasure. He is following the right guidance and has not deviated from the path of righteousness.
The Reason for Describing the Holy Prophet ﷺ as 'your companion'
The Qur'an on this occasion, when…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 "Your Companion" implies the Holy Messenger of Allah (upon whom be peace) and the addressees are the Quraish. The word Sahib as used in the original means a friend, a companion, a close associate. Here, making mention of the Holy Prophet by the word Sahib-u-kum (yew Companion) instead of "Our Messenger" is very meaningful. This is meant to make the people of the Quraish realize: "The person being mentioned is no stranger to you: he is not an outsider whom you may not be knowing or recognizing already. He is a man of your own clan and tribe; he lives and moves among you; even your children…
Read the full tafseer →