وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ۟ؕوَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Nor does he speak from [his own] inclination.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰی ۟ؕوَمَا يَنۡطِقُ عَنِ الۡهَوٰىؕ
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
Nor does he speak from [his own] inclination.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں
اور نہ وه اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں
اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے۔
اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے،
اور وہ (اپنی) خواہش سے کلام نہیں کرتے،
اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔
وہ اپنی خواہش نفس سے کچھ بھی نہیں کہتے
اور وہ اپنے جی سے نہیں بولتا ،
وہ اپنی خواہش نفس سے بولتا بھی نہیں
اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔
اور یہ (جو کچھ کہہ رہے ہیں) اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔
اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں۔
nor does he speak out of his desire.
He does not speak out of (his own) desire.
He does not speak out of (his own) desire.
Nor does he speak of desire.
Nor doth he speak of (his own) desire.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Nor does he speak from [his own] inclination.
He does not speak out of his own desires.
Nor does he speak out of desire.
And he speaketh not of his own desire.
Nor does he say (aught) of (his own) Desire.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–4
حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
سورة النَّجْم 2 مراد ہیں رسول اللہ ﷺ اور مخاطب ہیں قریش کے لوگ۔ اصل الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ صَاحِبُکُمْ (تمہارا صاحب)۔ " صاحب " عربی زبان میں دوست، رفیق، ساتھی، پاس رہنے والے اور ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے کو ہوتے ہیں۔ اس مقام پر آپ ﷺ کا نام لینے یا " ہمارا رسول " کہنے کے بجائے " " تمہارا صاحب " کہہ کر آپ کا ذکر کرنے میں بڑی گہری معنویت ہے۔ اس سے قریش کے لوگوں کو یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ جس شخص کا تم سے ذکر کیا جا رہا ہے وہ تمہارے ہاں باہر سے آیا ہوا کوئی اجنبی آدمی نہیں ہے اس سے تمہاری پہلے کی کوئی جان پہچان نہ ہو۔ تمہاری اپنی قوم کا آدمی ہے۔ تمہارے ساتھ ہی رہتا بستا ہے۔ تمہارا بچہ بچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
اس لئے آگے فرمایا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى، یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کریں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں، بلکہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام احادیث بخاری سے ثابت ہیں، ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ سب حق تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، جس کا نام قرآن ہے، دوسری وہ کہ صرف معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، آنحضرت ﷺ اس معنی کو اپنے الفاظ میں ادا فرماتے ہیں اس کا نام حدیث اور سنت ہے، پھر حدیث میں جو مضمون حق تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے کبھی وہ کسی معاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ما ضل صا حبکم وما غوی وما ینطق عن الھدی ان ھو الا وحی یوحی) (2، 4)۔ (آنحضرت ﷺ پر کتاب کے الزام کی تردید)۔ یہ پوری مقسم علیہ کی حیثیت رکھتی ہے ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر ﷺ نہ تو بھٹکے ہیں نہ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو کلام وہ تمہیں سنا رہے ہیں اپنے جی سے گھڑ کے نہیں سنا رہے ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو تمہیں سنائیں تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔ موقع کلام دلیل ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ پر کہانت کا جو الزام لگاتے تھے یہ اس کی تردید ہے۔ قریش کے لیڈروں کو جب آپ قرآن سناتے اور وحی اور اس کے لانے والے فرشتہ سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2: تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب سے مراد حضور نبی کریم ﷺ ہیں، اور آپ کے لئے یہ لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ نے کہیں باہر سے آکر نبوت کا دعوی نہیں کردیا، بلکہ وہ شروع سے تمہارے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کی پوری زندگی کھلی ہوئی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہے، اس کے برعکس آپ صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہیں، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عام زندگی میں تو جھوٹ سے اتنا پرہیزکریں اور اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا بہتان لگادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔ اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
5 یعنی کوئی کام تو کیا۔ ایک حرف بھی آپ کے دہن مبارک سے ایسا نہیں نکلتا جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ بلکہ آپ ﷺ جو کچھ دین کے باب میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں وحی متلوکو " قرآن " اور غیر متلو کو " حدیث " کہا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 3 { وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی۔ } ”اور یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں اپنی خواہش نفس سے نہیں کہہ رہے ہیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 روئے سخن کفار مکہ کی طرف ہے اور رفیق سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کی سیرت و کردار سے کفار مکہ بچپن سے واقف تھے۔ انہیں قسم دے کر بتایا جارہا ہے کہ تمہارے یہ رفیق تاریکی میں نہیں بلکہ دن کی روشنی میں ٹھیک صراط مستقیم پر چل رہے ہیں نہ وہ راستہ بھولے ہیں کہ ادھر ادھر پھرتے رہیں اور نہ ہی راستہ سے بہکے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →2۔ (اور اپنے گڑھے ہوئے کلام کو خدا کو جانب منسوب کردیتے ہیں، جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو) مطلب یہ ہوا کہ دین کے باب میں جو کچھ بھی آپ ﷺ کے منہ سے نکلتا ہے وہ کسی خواہش نفس سے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وما ینطق عن الھوی یعنی وہ گمراہ اور بہک کیسے سکتا ہے وہ تو وحی الٰہی کے بیر لب کشائی ہی نہیں کرتا حتی کہ مزاح طبعی کے موقعوں پر بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا (ترمذی شریف) اسی طرح حالت غضب میں آپ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی۔ (ابودائود) خلاصہ یہ ہوا کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں بلکہ آپ جو کچھ فرماتے وہ سب اللہ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام بخاری کی احادیث سے ثابت ہیں ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا نام…
Read the full tafseer →وما ینطق عن الھوی . اور نہ یہ اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں۔ وَمَا یَنْطِقُ : یعنی قرآن ہو یا دوسرا ارشاد وہ اپنے میلان نفس سے کچھ نہیں کہتے۔ مطلب یہ کہ شاعروں کے شعروں کی طرح قرآن انہوں نے خود نہیں بنایا۔ اسی طرح وہ جو کلام کرتے ہیں اپنے میلان نفس کے ماتحت نہیں کرتے وحی جلی (قرآن) ہو یا خفی (احادیث) سب اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں بلکہ وہ اجتہاد فکری بھی بامر خدا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →اور نہ آپ بذریعہ قرآن کریم اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں۔
Read the full tafseer →(وما ینطق عن الھویٰ : بھولنے یا جان بوجھ کر غلط راستے پر چلنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی صبح راستہ بتانے والے کے بجائے اپنے گمان یا خواہش نفس پر چل پڑتا ہے۔ مشرکین اور تمام گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل باعث یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کے بجائے گمان اور اپنی خواہش نفس پر چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا :(ان یتبعون الا الظن وما تھوی الانفس و لقد جآء ھم من ربھم الھدیٰ) (النجم : 23)”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقیا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔“ ہمارا رسول ضلالت وغوایت سے اس لئے محفوظ ہے کہ وہ صرف ہمارے بتائے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
وما ینطق عن الھوی۔ ان ھو الا وحی یوحی۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ وماینطق عن الھوی۔ قتادہ نے کہا، آپ قرآن اپنی خواہش سے بیان نہیں کرتے (2) ” یہ تو وحی ہے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ “ ایک قول یہ کیا یا : عن الھوی، بالھوی کے معنی میں ہے، یہ ابوعبیدہ نیق ول کیا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسئل بہ خبیراً ۔ (الفرقان) یہاں بھی بہ، عنہ کے معنی میں ہے۔ نحاس نے کہا، قتادہ کا قول اولی ہے اور عن اپنے معنی میں ہے یعنی آپ کا نطق (بولنا) اپنی رائے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد ہے ان ھو الا وحی یوحی۔ مسئلہ نمبر 2۔ جو علماء امور میں رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' (قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے ثریا (ستارہ) ہے جب وہ غائب ہوجائے اور ایک روایت میں یوں ہے جب وہ فجر کے ساتھ ساقط ہوجائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ثریا جب واقع ہوجائے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' سے مراد ہے قسم ہے ثریا کی جب وہ لٹک جائے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے ثریا (ستارہ) کی جب وہ بلند ہوجائے۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَمَا يَنْطِقُ [اور وہ نہیں بولتے ] عَنِ الْهَوٰى [ جی چاہنے سے ] نوٹ ۔ 3: آیت ۔ 3 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کریں ، اس کا قطعا کوئی امکان نہیں ہے بلکہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں ۔ اس کا نام قرآن ہے۔ دوسری وہ کہ صرف معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اس معنی کو اپنے الفاظ میں بیان فرماتے ہیں ۔ اس کا نام حدیث اور سنت ہے۔ پھر حدیث میں جو مضمون اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے کبھی وہ کسی معاملہ کا واضح فیصلہ اور حکم ہوتا ہے ۔ جبکہ کبھی کوئی قاعدہ وکلیہ بتایا جاتا ہے جس سے احکام رسول اللہ ﷺ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
رسول اللہ ﷺ صحیح راہ پر ہیں، اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے، وحی کے مطابق اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں، آپ نے جبرائیل کو دو بار ان کی اصلی صورت میں دیکھا یہاں سے سورة النجم شروع ہے اس کے پہلے رکوع کے اکثر حصہ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور وحی کی حفاظت اور وحی لانے والے فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت اور ان کی رؤیت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ001﴾ (قسم ہے ستارہ کی جب غروب ہونے لگے) ۔ ﴿ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ002﴾ (تمہارا ساتھی نہ راہ سے بھٹکا ہے اور نہ غلط راستہ پر پڑا ہے) ۔ ﴿وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ003﴾ (اور وہ اپنی نفسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3:۔ ” وما ینطق۔ الایۃ “ اللہ کی طرف سے آپ جو قرآن پیش کرتے ہیں وہ اپنی رائے اور خواہش سے بنا کر نہیں لاتے، بلکہ اللہ کی طرف سے آپ پر اس کی باقاعدہ وحی ہوتی ہے۔ ای ما یصدر نطقہ فما اتاکم بہ من جھتہ عز وجل کالقران او من القران عن ھوی نفسہ ورایہ اصلا (روح ج 17 ص 46) ۔ ” ان ھو۔ الایۃ “ ھو سے مراد قرآن ہے یعنی یہ قرآن وھی ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کے پاس بھیجی جاتی ہے۔ (بیضاوی، روح، وغیرہما) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى 3 ۭ نطق [ النُّطْقُ في التّعارُف : الأصواتُ المُقَطّعة التي يُظْهِرُها اللسّانُ وتَعِيهَا الآذَانُ ] . قال تعالی: ما لَكُمْ لا تَنْطِقُونَ [ الصافات/ 92] ولا يكاد يقال إلّا للإنسان، ولا يقال لغیره إلّا علی سبیل التَّبَع . نحو : النَّاطِقُ والصَّامِتُ ، فيراد بالناطق ما له صوت، وبالصامت ما ليس له صوت، [ ولا يقال للحیوانات ناطق إلّا مقيَّداً ، وعلی طریق التشبيه کقول الشاعر : 445- عَجِبْتُ لَهَا أَنَّى يَكُونُ غِنَاؤُهَا ... فَصِيحاً وَلَمْ تَفْغَرْ لِمَنْطِقِهَا فَماً ] «1» والمنطقيُّون يُسَمُّون القوَّةَ التي منها النّطقُ نُطْقاً ، وإِيَّاهَا عَنَوْا حيث حَدُّوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُـکُمْ وَمَا غَوٰی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم : 1 تا 4) (قسم ہے ستاروں کی، جب وہ غروب ہوگئے۔ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا۔ وہ تو ایک وحی ہے جو اسے کی جاتی ہے۔ ) اَلنَّجْم سے مراد کیا ہے ؟ عام طور پر مفسرین اَلنَّجْمِ سے ثریا مراد لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے زہرہ مراد لیا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک کو مراد لینے پر بھی کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ابوعبید نحوی کا قول زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ یہاں النجم بول کر جنسِ نجوم مراد لی گئی ہے، یعنی یہ اسم جنس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
فہم القرآن ربط کلام : کفار کے الزامات کی تردید کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ وحی کے بغیر نبی ﷺ نہیں بولتے۔ لہٰذا نبی ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی قسم اٹھائی ہے کہ نبی ﷺ کا اپنی خواہش کے پیچھے چلنا تو درکنار آپ اپنی مرضی سے دین کے معاملہ میں لب کشائی نہیں کرتے۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے اور کرتے ہیں وہ آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ جو فرشتہ آپ کو وحی پہنچاتا ہے وہ جبرائیل امین ہے جو بڑا طاقت والا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ آپ تک پہنچایا ہے وہ اللہ کے حکم سے پہنچایا : (اور آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ البقرۃ : 97) اہل علم نے ” ذُوْمِرَّۃٍ “ کے تین…
Read the full tafseer →آیت 3: وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى(وہ اپنی خواہش سے نہیں کلام کرتے)
Read the full tafseer →2 ۔ اور جواب قسم اللہ تعالیٰ کا قول ” ماضل صاحبکم “ ہے۔ یعنی محمد ﷺ ہدایت کے طریقہ سے گمراہ نہیں ہوئے۔ ” وماعویٰ ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى) یعنی آپ کا کلام خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔
Read the full tafseer →[ 5] پیغمبر ( علیہ السلام) کا ہر قول حق اور صدق ہوتا ہے : کیونکہ انکا ہر قول و فعل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس میں نفسانی خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنی خواہش سے بولتے بھی نہیں۔ تو پھر کسی گمراہی کا کیا سوال ؟ کہ اصل بنیاد تو اتباع ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا، ولا تتبع الھوٰی فیضلک عن سبیل للّٰہ یعنی تم خواہش کی پیروی نہیں کرنا کہ وہ تمہیں بھٹکا دے اللہ کی راہ سے، اور اتباع ہویٰ کا یہاں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا فانی لا اقوال فیہما الا حقاً ۔ یعنی میں رضا و غضب اور خوشی و غصہ کی ہر حالت میں حق ہی کہتا ہوں، اور میرے منہ سے کسی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →ف 11 بلکہ جیسا خدا کی طرف سے حکم ہوتا ہے سنا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(53:3) ما ینطق مضارع منفی واحد مذکر غائب نطق (باب ضرب) مصدر۔ وہ نہیں بات کرتا ہے ۔ وہ نہیں کلام کرتا ہے۔ عن الھوی : عن حروف جار۔ الھوی مجرور۔ اسم ومصدر (باب سمع) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ ناجائز نفسانی خواہش ، ناجائز رغبت۔ عن الھوی۔ اپنی ذاتی خواہش کی بناء پر۔ وما ینطق عن الھوی۔ اور نہ وہ اپنی خواہش نفس سے کوئی بات کرتا ہے یہ جملہ مستانفہ ہے اور جملہ سابقہ کی دلیل ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے وکیف یضل او یغوی وھو لا ینطق عن الھوی۔ وہ کیسے گمراہ ہوسکتا ہے یا بہک سکتا ہے جب کہ وہ اپنی خواہش نفس سے کوئی بات کرتا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ نبی ان ہی اہل مکہ میں پلے بڑے ہوئے اور نبوت سے پہلے اہل مکہ آپ پر دیوانگی یا جھوٹ کا کوئی الزام نہیں لگاتے تھے اسی واسطے فرمایا یہ کہ اللہ کے رسول جو تم لوگوں کے ہمیشہ کے رفیق ہیں اور تم کو ان کا ہر طرح کا حال خوب معلوم ہے نہ وہ دیوانے ہیں ہمیشہ اپنے رب کی توحید و عبادت میں رہے آپ کے دامن عصمت پر کبھی کسی امر مکروہ کی گردنہ آئی، اور نہ اپنی ذاتی غرض سے انہوں نے خود یہ قرآن بنایا ہے بلکہ آسمانی وحی کے ذریعہ سے اللہ کا جوحکم ان کو پہنچا ہے وہی تم کو وہ سنادیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
[2] یعنی محمد ﷺ ۔ کفار مکہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ پیغمبر جو تمہارا دن رات کا ساتھی ہے تمہارے لئے کوئی اجنبی نہیں ہے۔ تم اس کے ماضی وحال، اس کے اخلاق و کردار اور اس کے رجحان و ذوق سے اچھی طرح واقف ہو۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ بھٹکا اور بہکا ہوا آدمی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(3) اور نہ وہ اپنی نفسانی خواہشات سے کوئی بات بنا کر کہتے ہیں۔ یعنی جیسا کہ م کہتے ہو کہ یہ قرآن اس نے خود بنالیا ہے یا اس نے کوئی نئی شریعت بنائی ہے حالانکہ جہاں تک انسانی ہدایت اور رہنمائی کا تعلق ہے ان کی کوئی بات بھی خود ساختہ اور اپنی بنائی ہوئی نہیں ہے بلکہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 5۔ اس قسم میں نظیر ہے مضمون جواب قسم ما ضل و ماغوی کی یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک اس تمام تر مسافت میں اپنی قاعدہ رفتار سے ادھر ادھر نہیں ہوا اسی طرح آپ اپنی عمر بھر میں ضلال وغوایت سے محفوظ ہیں، اس میں نیز اشارہ ہے اس طرف کہ جیسے نجم سے اہتداء ہوتا ہے اسی طرح اپ سے بھی بوجہ عدم ضلال و عدم غوایت کے اہتداء ہوتا ہے۔ (فائدہ) ضلال یہ کہ بالکل رستہ بھول کر کھڑا رہ جائے اور غوایت یہ کہ غیر راہ کو راہ سمجھ کر چلتا رہے۔
Read the full tafseer →اور اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے تو کبھی خواہش نفس کی کسی سے بات ہی نہیں کی 3 ؎ انسان اور اس کی خواہش دونوں لازم و ملزوم ہیں ایک کا ہونا دوسرے کا ثبوت ہے۔ انسان ہے تو لاریب اس کی خواہش بھی موجود ہے اور جب خواہش ہے تو بلاشبہ انسان بھی ہے پھر نفی کس بات کی گئی ہے ؟ نفی ان خواہشات کی گئی ہے جن پر نفسانی خواہشات کا اطلاق ہوتا ہے اور وہ ہی جو جائز اور درست نہ ہوں لیکن ان کا پیدا ہونا کوئی برائی نہ ہو ہاں ! ان کا پورا کرنا برا ہو۔ اس جگہ کمالات کی بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اندر کسی ایسی خواہش کے پیدا ہونے کی نفی کی گئی ہے جس کا نطق سے اظہار ہو اور وہ خواہش انسان کے لئے محمود نہ ہو بلکہ مذموم ہو۔ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
The Holy Prophet's Words are a Revelation from Allah وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (And he does not speak out of (his own) desire. It is not but revelation revealed [ to him ]....53:3-4]. The verses tell us that it is absolutely impossible for the Messenger ﷺ to forge lies and impute them to Allah. Nothing he utters is of his own wish or desire. He only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety, without additions or deletions. An analysis of the various Traditions in Bukhari indicates that there are many categories or types of wahy […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2 "Your Companion" implies the Holy Messenger of Allah (upon whom be peace) and the addressees are the Quraish. The word Sahib as used in the original means a friend, a companion, a close associate. Here, making mention of the Holy Prophet by the word Sahib-u-kum (yew Companion) instead of "Our Messenger" is very meaningful. This is meant to make the people of the Quraish realize: "The person being mentioned is no stranger to you: he is not an outsider whom you may not be knowing or recognizing already. He is a man of your own clan and tribe; he lives and moves among you; even your children…
Read the full tafseer →