An-Najm 53:4

An-Najm · from ayah 4

53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی ۟ۙاِنۡ هُوَ اِلَّا وَحۡىٌ يُّوۡحٰىۙ‏

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is not but a revelation revealed,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:4

یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اُن کا ارشاد سَراسَر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ وہ کہتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ تو بس وحی ہے جو اس کو کی جاتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ تو نری وحی ہوتی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(ان کا کلام تو) تمامتر وحی ہی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ قرآن تو اللہ کا حکم ہے جو ان کی طرف بھیجا جاتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

This is nothing but a revelation that is conveyed to him,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is but revelation revealed (to him).

— Muhammad Taqi Usmani

It is but revelation revealed (to him).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is only a revelation revealed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is naught save an inspiration that is inspired,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is not but a revelation revealed,

— Saheeh International

It is a revelations which has been revealed to him

— Muhammad Sarwar

It is naught but revelation that is revealed,

— Muhammad Habib Shakir

It is but a revelation revealed.

— Abdul Majid Daryabadi

It is no less than inspiration sent down to him:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–4

حضرت شعبی فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھالے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی (ابن ابی حاتم) ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا کے ستارے کا غائب ہونا ہے۔ بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہوسکتی ہے مجاہد فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت (فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ 75 ۙ) 56۔ الواقعة :75) ہے۔ پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں وہ بےعلمی کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 4 مطلب یہ ہے کہ جن باتوں کی وجہ سے تم اس پر یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ گمراہ یا بد راہ ہوگیا ہے، وہ اس نے اپنے دل سے نہیں گھڑ لی ہیں، نہ ان کی محرک اس کی اپنی خواہش نفس ہے، بلکہ وہ خدا کی طرف سے اس پر وحی کے ذریعہ سے نازل کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں۔ اس کا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ اپنی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے اس نے دعوائے نبوت کردیا ہو، بلکہ خدا نے جب وحی کے ذریعہ سے اس کو اس منصب پر مامور کیا تب وہ تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کے لیے اٹھا اور اس نے تم سے کہا کہ میں تمہارے لیے خدا کا نبی ہوں۔ اسی طرح اسلام کی یہ دعوت، توحید کی یہ تعلیم، آخرت اور حشر و نشر اور جزائے اعمال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 3–4

اس لئے آگے فرمایا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى، یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کریں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں، بلکہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام احادیث بخاری سے ثابت ہیں، ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ سب حق تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، جس کا نام قرآن ہے، دوسری وہ کہ صرف معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، آنحضرت ﷺ اس معنی کو اپنے الفاظ میں ادا فرماتے ہیں اس کا نام حدیث اور سنت ہے، پھر حدیث میں جو مضمون حق تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے کبھی وہ کسی معاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 2–4

(ما ضل صا حبکم وما غوی وما ینطق عن الھدی ان ھو الا وحی یوحی) (2، 4)۔ (آنحضرت ﷺ پر کتاب کے الزام کی تردید)۔ یہ پوری مقسم علیہ کی حیثیت رکھتی ہے ستاروں کے غروب یا سقوط کی قسم کھا کر قریش کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہارے ساتھی (پیغمبر ﷺ نہ تو بھٹکے ہیں نہ گمراہ ہوئے ہیں۔ جو کلام وہ تمہیں سنا رہے ہیں اپنے جی سے گھڑ کے نہیں سنا رہے ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر وحی کیا جاتا ہے کہ وہ اس کو تمہیں سنائیں تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔ موقع کلام دلیل ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ پر کہانت کا جو الزام لگاتے تھے یہ اس کی تردید ہے۔ قریش کے لیڈروں کو جب آپ قرآن سناتے اور وحی اور اس کے لانے والے فرشتہ سے متعلق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–10

2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 2–5

2: تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب سے مراد حضور نبی کریم ﷺ ہیں، اور آپ کے لئے یہ لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ نے کہیں باہر سے آکر نبوت کا دعوی نہیں کردیا، بلکہ وہ شروع سے تمہارے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کی پوری زندگی کھلی ہوئی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہے، اس کے برعکس آپ صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہیں، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عام زندگی میں تو جھوٹ سے اتنا پرہیزکریں اور اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا بہتان لگادیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 2–4

ما ضل ........ یوحیٰ (35 : 4) ” تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل ہوجاتی ہے۔ “ تمہارا ساتھی صحیح راہ پر ہے وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ صراط مستقیم پر ہے۔ کسی ٹیڑھی راہ پر نہیں چل رہا ہے۔ وہ مخلص ہے ، مطلب پرست نہیں ہے۔ وہ حق کی تبلیغ کررہا ہے نہ وہم پرست ہے نہ افترا پرداز ہے اور نہ بدعتی ہے اور نہ وہ تمہیں جو تبلیغ کررہا ہے اس میں اس کے ہوائے نفس کا کوئی دخل ہے۔ وہ وہی کچھ کہتا ہے جو وحی ہوتی ہے اور وہ صادق وامین ہے۔ اس لئے وہ سچ کی تبلیغ کرتا ہے۔ اس وحی کے حاملین معلوم ہیں اس کا طریقہ کار متعین ہے اور اس کو لانے والوں کو حضور نے خود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 3–4

5 یعنی کوئی کام تو کیا۔ ایک حرف بھی آپ کے دہن مبارک سے ایسا نہیں نکلتا جو خواہش نفس پر مبنی ہو۔ بلکہ آپ ﷺ جو کچھ دین کے باب میں ارشاد فرماتے ہیں وہ اللہ کی بھیجی ہوئی وحی اور اس کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ اس میں وحی متلوکو " قرآن " اور غیر متلو کو " حدیث " کہا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 { اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ } ”یہ تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔“ اگلی آیات میں حضرت جبرائیل علیہ السلام کا ذکر ہے جنہوں نے نبی مکرم ﷺ کو اس کلام کی تعلیم دی۔ یہ مضمون دوسری مرتبہ 30 ویں پارے کی سورة التَّکوِیر میں آیا ہے۔ دونوں عبارتوں میں ایک خوبصورت مماثلت یہ ہے کہ وہاں بھی حضور ﷺ کا ذکر صَاحِبُـکُمْ کے لفظ سے کیا گیا ہے : { وَمَا صَاحِبُکُمْ بِمَجْنُوْنٍ۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِ۔ وَمَا ہُوَ عَلَی الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ۔ وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍ۔ } التکویر ”اور مکے والو تمہارے یہ رفیق دیوانے نہیں ہیں۔ بیشک انہوں نے اس جبرائیل کو کھلے افق پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–7

3 رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی شرعی حیثیت اور منکرین حدیث :۔ ان آیات کے اولین مخاطب تو کفار مکہ ہیں۔ مگر یہ آیتیں چونکہ آپ کے اقوال کو وحی اور واجب الاتباع قرار دیتی ہیں لہذا منکرین حدیث ان کو مقید بھی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب نے یوں کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے گھر جاکر اپنی کسی زوجہ سے یہ کہتے کہ میرا جوتا لاؤ تو کیا یہ بھی وحی ہوتی تھی ؟ اور اکثر منکرین اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف جو کچھ وحی کی جاتی رہی وہ سب قرآن میں آگئی ہے۔ اسی پر کفار کو اعتراض اور اسی پر آپ ﷺ سے ان کا تکرار اور جھگڑا رہتا تھا۔ اور آپ کی قرآن کے علاوہ دوسری باتیں جو بحیثیت انسان کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ یہ وحی خواہ لفظی ہو جو قرآن کہلاتی ہے، خواہ محض معنوی ہو، جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ محض کسی قاعدۂ کلی کی ہو جس سے آپ ﷺ اجتہاد کرتے ہوں، مقصود زعم کفار کی نفی ہے یعنی صرف اس حقیقت کا اظہار کہ آپ کسی غلط بات کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں کردیتے۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” ھو “۔ یعنی دین کے باب میں آپ کا تکلم “۔ اے مانطقہ فی الدین “۔ (معالم)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 3–5

وما ینطق عن الھوی یعنی وہ گمراہ اور بہک کیسے سکتا ہے وہ تو وحی الٰہی کے بیر لب کشائی ہی نہیں کرتا حتی کہ مزاح طبعی کے موقعوں پر بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا (ترمذی شریف) اسی طرح حالت غضب میں آپ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی۔ (ابودائود) خلاصہ یہ ہوا کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں بلکہ آپ جو کچھ فرماتے وہ سب اللہ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام بخاری کی احادیث سے ثابت ہیں ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا نام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان ھو الا وحی یوحی . ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے۔ اِنْ ھُوَ : یعنی قرآن۔ اس جملہ میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو یہ ثابت کرتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ خود اپنے اجتہاد سے کلام نہیں کرتے تھے بلکہ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی کی تائید اس جملہ سے ہو رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) ان کا یہ ارشاد یعنی قرآن کریم اللہ کی طرف سے ایک وحی ہے جو بذریعہ جبریل امین ان کے پاس بھیجی جاتی ہے کہ وہ ان کے پاس آتا ہے اور ان کو پڑھ کر سناتا ہے آپ کو اس وحی کی جبریل امین تعلیم کرتے جو بدن کے اعتبار سے بڑے طاقتور ہیں اور یہ طاقت و قوت ان کی پیدایشی ہے۔ اور ان کی طاقت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے جب انہوں نے لوط کی بستیوں کے نیچے ہاتھ دیا اور ان کو سیاہ پانی پر سے اکھاڑ کر آسمان پر لے جاکر پھر زمین پر الٹا چھوڑ دیا۔ اور اسکی سختی کا اندازہ اس سے کیجیے جبکہ انہوں نے انطاکیہ کے دروازہ کی چوکھٹ پکڑ کر ایک چیخ ماری جس سے اس میں جو بھی مخلوق تھی سب مرگئی۔ اور کہا گیا ہے کہ ان کی سختی کا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ان ھو الا وحی یوحی :”ھو“ سے مراد یا تو قرآن مجید اور دین ہے جس کے متعلق مشرکین کہتے تھے کہ آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس سے بنا لیا ہے، جیسا کہ فرمایا :(ام یقولون افترہ بل ھو الحق من ربک) (السجدۃ : 3)”یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہی ہے۔“ اس لئے قرآن اور دین کے متعلق فرمایا کہ وہ وحی کے سوا کچھ نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا :(فانھم لایکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون) (الانعام : 33)”تو بلاشبہ وہ تجھے جھوٹا نہیں کہتے اور لیکن وہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔“ یا اس ”ھو“ سے مراد ”ینطق“ کے ضمن میں پایا جانے والا ”منطوق بہ“ ہے، یعنی وہ بات جو وہ بولتا ہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 3–4

وما ینطق عن الھوی۔ ان ھو الا وحی یوحی۔ اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ وماینطق عن الھوی۔ قتادہ نے کہا، آپ قرآن اپنی خواہش سے بیان نہیں کرتے (2) ” یہ تو وحی ہے جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے۔ “ ایک قول یہ کیا یا : عن الھوی، بالھوی کے معنی میں ہے، یہ ابوعبیدہ نیق ول کیا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فسئل بہ خبیراً ۔ (الفرقان) یہاں بھی بہ، عنہ کے معنی میں ہے۔ نحاس نے کہا، قتادہ کا قول اولی ہے اور عن اپنے معنی میں ہے یعنی آپ کا نطق (بولنا) اپنی رائے سے نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے وحی ہوتی ہے کیونکہ اس کے بعد ہے ان ھو الا وحی یوحی۔ مسئلہ نمبر 2۔ جو علماء امور میں رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–4

1:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' (قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے ثریا (ستارہ) ہے جب وہ غائب ہوجائے اور ایک روایت میں یوں ہے جب وہ فجر کے ساتھ ساقط ہوجائے اور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ثریا جب واقع ہوجائے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' سے مراد ہے قسم ہے ثریا کی جب وہ لٹک جائے۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' والنجم اذا ھوی '' یعنی قسم ہے ثریا (ستارہ) کی جب وہ بلند ہوجائے۔ 4:۔ عبدالرزاق (رح) نے حسن (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنْ هُوَ [ نہیں ہے یہ (قرآن ) ] اِلَّا وَحْيٌ [ مگر ایک ایسی وحی جو ] يُّوْحٰى [ وحی کی جاتی ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–4

رسول اللہ ﷺ صحیح راہ پر ہیں، اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے، وحی کے مطابق اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں، آپ نے جبرائیل کو دو بار ان کی اصلی صورت میں دیکھا یہاں سے سورة النجم شروع ہے اس کے پہلے رکوع کے اکثر حصہ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور وحی کی حفاظت اور وحی لانے والے فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت اور ان کی رؤیت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ001﴾ (قسم ہے ستارہ کی جب غروب ہونے لگے) ۔ ﴿ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ002﴾ (تمہارا ساتھی نہ راہ سے بھٹکا ہے اور نہ غلط راستہ پر پڑا ہے) ۔ ﴿وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ003﴾ (اور وہ اپنی نفسانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3:۔ ” وما ینطق۔ الایۃ “ اللہ کی طرف سے آپ جو قرآن پیش کرتے ہیں وہ اپنی رائے اور خواہش سے بنا کر نہیں لاتے، بلکہ اللہ کی طرف سے آپ پر اس کی باقاعدہ وحی ہوتی ہے۔ ای ما یصدر نطقہ فما اتاکم بہ من جھتہ عز وجل کالقران او من القران عن ھوی نفسہ ورایہ اصلا (روح ج 17 ص 46) ۔ ” ان ھو۔ الایۃ “ ھو سے مراد قرآن ہے یعنی یہ قرآن وھی ہے جو اللہ کی طرف سے آپ کے پاس بھیجی جاتی ہے۔ (بیضاوی، روح، وغیرہما) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۝ 4 ۙ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 1–4

وَالنَّجْمِ اِذَا ھَوٰی۔ مَا ضَلَّ صَاحِبُـکُمْ وَمَا غَوٰی۔ وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی۔ اِنْ ھُوَ اِلاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی۔ (النجم : 1 تا 4) (قسم ہے ستاروں کی، جب وہ غروب ہوگئے۔ تمہارا ساتھی نہ بھٹکا ہے اور نہ گمراہ ہوا ہے۔ وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتا۔ وہ تو ایک وحی ہے جو اسے کی جاتی ہے۔ ) اَلنَّجْم سے مراد کیا ہے ؟ عام طور پر مفسرین اَلنَّجْمِ سے ثریا مراد لیتے ہیں۔ بعض اہل علم نے اس سے زہرہ مراد لیا ہے۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی ایک کو مراد لینے پر بھی کوئی قرینہ موجود نہیں۔ ابوعبید نحوی کا قول زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ یہاں النجم بول کر جنسِ نجوم مراد لی گئی ہے، یعنی یہ اسم جنس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–6

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے الزامات کی تردید کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ وحی کے بغیر نبی ﷺ نہیں بولتے۔ لہٰذا نبی ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی قسم اٹھائی ہے کہ نبی ﷺ کا اپنی خواہش کے پیچھے چلنا تو درکنار آپ اپنی مرضی سے دین کے معاملہ میں لب کشائی نہیں کرتے۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے اور کرتے ہیں وہ آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ جو فرشتہ آپ کو وحی پہنچاتا ہے وہ جبرائیل امین ہے جو بڑا طاقت والا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ آپ تک پہنچایا ہے وہ اللہ کے حکم سے پہنچایا : (اور آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ البقرۃ : 97) اہل علم نے ” ذُوْمِرَّۃٍ “ کے تین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 4: اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى (ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی گئی ہے) جو تمہیں وہ قرآن میں سے دیں وہ ایسی بات نہیں جو اپنی رائے اور خواہش سے صادر ہونے والی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔ ایک دلیل : اس آیت سے ان لوگوں نے حجت بنائی ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق اجتہاد کو جائز نہیں رکھتے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد میسر فرمایا اور اس پر ان کو باقی رکھا تو وہ وحی کی طرح ہے، اور اپنی خواہش کی گفتگو نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

3 ۔” وما ینطق عن الھویٰ “ یعنی بالھویٰ مراد یہ ہے کہ وہ باطل کلام نہیں کرتے۔ یہ اس وجہ سے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ محمد ﷺ قرآن اپنی طرف سے کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

(اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) یعنی آپ صرف اس چیز کی پیروی کرتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، یعنی ہدایت اور اپنے اور دیگر لوگوں کے بارے میں تقوی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی رسول اللہ کی طرف بھیجی ہوئی وحی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ۔ النساء 113) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔ نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے آپ اللہ اور اس کی شریعت کے بارے میں خبر دینے میں معصوم ہیں کیونکہ آپ کا کلام کسی خواہش نفسانی سے صادر نہیں ہوتا یہ تو وحی الہی ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے معلم کا ذکر فرمایا اور وہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–12

گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

[ 7] پیغمبر (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو سکھایا سخت قوتوں والے نے " پس جس طرح پیغمبر خود بےمثال عظمت شان کے مالک ہوتے ہیں اسی طرح ان کے استاد بھی بےمثال عظمت و شان کے مالک ہوتے ہیں، کہ وہ دنیا میں کسی سے پڑھتے سیکھتے نہیں، بلکہ ان کا علم براہ راست حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ البتہ اس کا ذریعہ و واسطہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہوتے ہیں۔ سو یہاں پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کو سکھایا سخت قوتوں والے نے۔ یعنی جبرائیل امین (علیہ السلام) نے جیسا کہ پ 30 سورة تکویر آیت 19 تا 20 میں ارشاد فرمایا گیا { انہٗ لقول رسولٍ کریم ذی قوۃٍ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 چاہے وہ قرآن کی کوئی آیت ہو یا حدیث پاک 2 یعنی دین کے باب میں جو کچھ فرماتے ہیں وہ وحی کے بغیر نہیں فرماتے۔ معلوم ہوا کہ حدیث بھی قرآن کی طرح وحی ہے اور واجب الاتباع ہونے کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ علماء نے قرآن کو وحی متلو اور حدیث کو وحی غیر متلو کہا ہے : والبحث یطول

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:4) ان ھو : میں ان نافیہ ہے ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ الا حرف استثناء وحی ای وحی الہی موصوف یوحی مضارع مجہول سابقہ ما ینطق عن الھویٰ کی تاکید کے لئے ہے۔ جملہ کا مطلب :۔ ما القران او الذی ینطق بہ الاوحی یوحیہ اللہ الیہ۔ قرآن یا جو ارشاد فرماتے ہیں وہ ماسوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور کچھ نہیں (بیضاوی) علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کا مطلب فرماتے ہیں :۔ ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں۔ اس جملہ میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو یہ ثابت کرتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ خود اپنے اجتہاد سے کلام نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ ما ینطق عن الھوی کی تائید اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 4–5

(ف 3) بعض مفسر اس طرف گئے ہیں کہ بری قوت والے صاحب حسن سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت سے شیطان ڈرتا ہے چناچہ سورت انفال میں گزرچکا ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت پہلے تو شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں مشرکین کے لشکر میں موجود رہا، جب لشکر اسلام کی مدد کو فرشتے آئے اور شیطان نے جبرائیل (علیہ السلام) کو پہچانا تو بھاگ گیا، قوم لوط کے قصہ میں حضرت جبرائیل کی قوت کا ذکر گزرچکا ہے انہوں نے قوم لوط کے لاکھوں آدمیوں کے رہنے کی چار بستیاں اپنے ایک پر اٹھا کر آسمان تک ان کو بلند کیا اور پھر ان کو الٹ دیا، حسن بصری نے فرمایا کہ شدید القوی ذومرۃ، سے مراد اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] یہ وحی خواہ لفظی ہو جو قرآن کہلاتی ہے خواہ معنوی ہو جو سنت کہلاتی ہے اور خواہ محض کسی قاعدہ کلی کی ہو جس سے آپ اجتہاد کرتے ہیں، مقصود اس سے کفار کے دعویٰ باطل کی نفی ہے یعنی اس حقیقت کا اظہار کہ آپ کسی غلط بات کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–16

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) ان کا ہر فرمان اور ان کا ہر ارشاد تو صرف وحی ہے جو ان کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ یعنی انسانی ہدایت کے بارے میں ان کا ہر کلام اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو وحی ان کی جانب بھیجی جاتی ہے……وہ وحی متلو یعنی قرآن ہو یا غیر متلو یعنی حدیث ہو، غرض شریعت اور دین کے بارے میں وہ کوئی بات اپنی جائو اور اپنی خواہش سے نہیں کہتے اور نہیں بولتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے 4 ؎ یہ آیت گزشتہ آیت کی مزید وضاحت بیان کر رہی ہے کہ آپ ﷺ کی خواہش نفس یعنی حرص و ہوا سے خالی ہونا کسی ایک بات کے بارے میں نہیں بلکہ عام ہے یعنی ایک اصولی بحث ہے جس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے۔ آپ ﷺ کبھی بھی کوئی بات خواہش نفس سے نہیں کرتے بلکہ آپ ﷺ جو کچھ بولتے ہیں وحی الٰہی کے مطابق بولتے ہیں اور یہ بات کہ وحی کیا ہے ؟ نبوت و رسالت کے اشارات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ہونے والے نبی و رسول کے لئے مخصوص تھے جن کی پوری کیفیت ہم واضح الفاظ میں پیش نہیں کرسکتے کیونکہ جو چیز مشاہدہ میں آنے والی نہ ہو اس کے متعلق جو کچھ بھی کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 3–4

The Holy Prophet's Words are a Revelation from Allah وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ (And he does not speak out of (his own) desire. It is not but revelation revealed [ to him ]....53:3-4]. The verses tell us that it is absolutely impossible for the Messenger ﷺ to forge lies and impute them to Allah. Nothing he utters is of his own wish or desire. He only conveys to the people what he was commanded to convey, in its entirety, without additions or deletions. An analysis of the various Traditions in Bukhari indicates that there are many categories or types of wahy […

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 It means this: "The things for which you accuse him of having gone astray or been misled and deceived, have neither been fabricated by himself nor motivated by any selfish desire on his part, but they have been sent down, and are being sent down, to him by God. He did not intend to become a Prophet of his own desire so that he might have laid a claim to Prophet hood in order to satisfy his desire, but when Allah appointed him to that office through Revelation, then only did he rise to preach his mission and to tell you that he had been appointed God's Messenger to you. Likewise, this…

Read the full tafseer →