53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsاحسن البیان

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے (1)

یہ پہلی سورت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے کفار کے مجمع عام میں تلاوت کیا، تلاوت کے بعد آپ ﷺ نے اور آپ ﷺ کے پیچھے جتنے لوگ تھے، سب نے سجدہ کیا، ماسوائے امیہ بن خلف کے، اس نے اپنی مٹھی میں مٹی لے کر اس پر سجدہ کیا۔ چناچہ یہ کفر کی حالت میں ہی مارا گیا (صحیح بخاری، تفسیر سورة نجم) بعض طریق میں اس شخص کا نام عتبہ بن ربیعہ بتلایا گیا ہے (تفسیر ابن کثیر) واللہ اعلم۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس سورت کی تلاوت آپ ﷺ کے سامنے کی، آپ ﷺ نے اس میں سجدہ نہیں کیا (صحیح بخاری، باب مذکور) اس کا مطلب یہ ہوا کہ سجدہ کرنا مستحب ہے، فرض نہیں۔ اگر کبھی چھوڑ بھی دیا جائے تو جائز ہے۔ 1۔ 1 بعض مفسرین نے ستارے سے ثریا ستارہ اور بعض نے زہرہ ستارہ مراد لیا ہے، یعنی جب رات کے اختتام پر فجر کے وقت وہ گرتا ہے، یا شیاطین کو مارنے کے لئے گرتا ہے یا بقول بعض قیامت والے دن گریں گے۔
Ayahs 53:2–10

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے ساتھی نے نہ راہ گم کی ہے اور نہ ٹیڑھی راہ پر ہے (1)

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں۔

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا۔

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو زور آور ہے پھر وہ سیدھا کھڑا ہوگیا۔

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھا۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی۔

2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ بیان فرمائی۔
Ayahs 53:11–13

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

دل نے جھوٹ نہیں کہا (پیغمبر نے) دیکھا (1)

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں۔

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اسے تو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا تھا۔

11۔ 1 یعنی نبی ﷺ نے جبرائیل ؑ کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرۃ المنتہیٰ کے پاس (1)۔

14۔ 1 یہ لیلۃ المعراج کو جب اصل شکل میں جبرائیل ؑ کو دیکھا، اس کا بیان ہے۔ یہ سدرۃ المنتہیٰ ، ایک بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور یہ آخری حد ہے، اس کے اوپر کوئی فرشتہ نہیں جاسکتا۔ فرشتے اللہ کے احکام بھی یہیں سے وصول کرتے ہیں
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس جنتہ الماویٰ ہے (1)

15۔ 1 اسے جنت الماویٰ ، اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ روحیں یہاں آکر جمع ہوتی ہیں (فتح القدیر)
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب کہ سدرہ کو چھپائے لیتی تھی وہ چیز جو اس پر چھا رہی تھی (1)

16۔ 1 سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ ﷺ نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابن کثیر) اس مقام پر نبی ﷺ کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوگا۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نہ تو نگاہ بہکی نہ حد سے بڑھی (1)

17۔ 1 یعنی نبی کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ کے لئے مقرر کردی گئی تھی۔ (ایسر التفاسیر)
Ayahs 53:18–19

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں (1)

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا۔

18۔ 1 جن میں جبرائیل ؑ اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور منات تیسرے پچھلے کو (1)

20۔ 1 یہ مشرکین کی توبیخ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل ؑ جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، رسول اللہ ﷺ جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمان پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں ؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لات، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لات یلیت سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا۔ بعض کہتے ہیں، کہ لات میں تا مشدد ہے لت یلت سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ مرگیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنالیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عزی کہتے ہیں یہ اللہ کے صفاتی نام عزیز سے ماخوذ ہے، اور یہ أعز کی تانیث ہے بمعنی عزیزت بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ منوت، منی یمنی سے ہے جس کے معنی صب (بہانے) کے ہیں۔ اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور انکا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنوخزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔ زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔ (ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا ان پر جو قبے اور عمارتیں بنی ہوئی تھیں، وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار و مظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ ﷺ نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جاکر ان سب کو ڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔ (ابن کثیر)
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے لڑکے اور اللہ کے لئے لڑکیاں ہیں (1)

21۔ 1 مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہ اس کی تردید ہے، جیسا کہ متعدد جگہ یہ مضمون گزر چکا ہے۔
Ayahs 53:22–23

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو اب بڑی بےانصافی کی تقسیم ہے۔ (1)

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے لئے رکھ لئے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔

22۔ 1 ضِیْزیٰ ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا ہر شخص جو آرزو کرے اسے میسر ہے ؟ (1)

24۔ 1 یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

اللہ ہی کے ساتھ ہے یہ جہان اور وہ جہان (1)

25۔ 1 یعنی وہی ہوگا، جو وہ چاہے گا، کیونکہ تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔
Ayahs 53:26–30

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لئے چاہے اجازت دے دے (1)

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

بیشک لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ انہیں اس کا علم نہیں وہ صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا۔

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو آپ اس سے منہ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منہ موڑے اور جن کا ارادہ بجز زندگانی دنیا کے اور کچھ نہیں۔

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہے اس سے بھی جو راہ یافتہ ہے۔

26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی ؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے ؟
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے (1)

31۔ 1 یعنی ہدایت اور گمراہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے، تاکہ نیکوکار اس کی نیکیوں کا صلہ اور بدکار کو اس کی برائیوں کا بدلہ دے۔
Ayahs 53:32–33

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

اور ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بےحیائی سے بھی سوائے کسی چھوٹے گناہ کے (1) بیشک تیرا رب بہت کشادہ مغفرت والا ہے، وہ تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے (2) پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو۔ وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منہ موڑ لیا۔

32۔ 1 کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بےحیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہوگئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب بےحیائی، کو اپنا لیا ہے۔ چناچہ گھروں میں ٹیوی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا، بلکہ بن سنور کر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنالیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد و زن کا بےباکانہ اختلاط اور بےمحابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب، فواحش، میں داخل ہیں، جن کی بابت یہاں بتلایا جارہا ہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر فواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔ (2) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کے آغاز کا ارتکاب، لیکن بڑے گناہ سے پرہیز کرنا یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا محض دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادے گا۔ (3) جنین کی جمع ہے جو پیٹ کے بچے کو کہا جاتا ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے۔ (3) یعنی اس سے جب تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتی کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے واقف تھا، تو بھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے ؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور بہت کم دیا اور ہاتھ روک لیا (1)

34۔ 1 یعنی تھوڑا سا دیکر ہاتھ روک لیا۔ یا تھوڑی سی اطاعت کی اور پیچھ ہٹ گیا، یعنی کوئی کام شروع کرے لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے۔
Ayahs 53:35–38

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اسے علم غیب ہے کہ وہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے (1)

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ ؑ کے۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور وفادار ابراہیم ؑ کی آسمانی کتابوں میں تھا۔

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔

35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا ؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ ہر انسان کے لئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی (1)۔

39۔ 1 یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہوگا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہوگی۔