53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsسراج البیان

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب گرے

Ayahs 53:2–16

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا رفیق نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بےراہ (ف 3) چلا ہے

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو وحی ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

سخت قوتوں والے نے اسے سکھایا ہے

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو زبردست ہے ۔ پھر سیدھا بیٹھا

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ آسمان کے اونچے کنارہ پر تھا

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ نزدیک ہوا ۔ پس اتر آیا

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پھر رہ گیا فرق دوکمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اس نے اپنے بندہ کی طرف جو وحی نازل کرنی تھی کی

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو دیکھا اس میں (اس کے) دل نے جھوٹ نہیں کہا

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

اب کیا تم اس سے اس چیز میں جھگڑوگے جو اس نے دیکھی ؟

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

حالانکہ اس نے اسے اترتے ہوئے ایک دفعہ اور بھی دیکھا ہے

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

(کہ) اس کے پاس رہنے کی بہشت ہے

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب چھارہا تھا اس بیری پر جو کچھ کہ چھارہا تھا

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ جھکے اور اترے ۔ اور دو کمانوں کے برابر یا کم فاصلہ دونوں میں رہ گیا ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی وساطت سے اپنے بندے کہ مخاطب کیا ۔ اور رشدوہدایت کے منصب پر فائز کیا ہیں ۔ ضمن میں دل نے جو کچھ دیکھا ۔ اس میں جھوٹ اور قریب نظر نہیں تھا ۔ یہ ایک حقیقت تھی ۔ اور واقعہ تھا ۔ تم کو اگر شبہ ہے ۔ تو ہوا کرے ۔ انہوں نے جبرائیل کو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا ہے ۔ سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک جس کے قریب ہی جنت ہے جب کہ اس پر انوار و تجلیات چھارہی تھیں ۔ اس وقت بھی نگاہوں نے امرواقعہ کا جائزہ لینے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ۔ اللہ کی بڑی بڑی نشانیوں کو آپ نے دیکھا ۔ اور اس کی بےانتہا قدرتوں کا اندازہ کیا ۔ صاحبکم کا لفظ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ جس پیغمبر نے تمہارے سامنے چلیس برس کی ایک عمر بسر کی ہے ۔ اور کبھی اس کا دامن جھوٹ سے آلودہ نہیں ہوا ۔ کیا تم سمجھ سکتے ہو ۔ کہ ایک دم وہ اس درجہ افتراء پرواز ہوگیا ہے ۔ کہ جھوٹے واقعات کو اللہ کی جانب منسوب کرنے لگے ۔ حل لغات :۔ یغعقون ۔ ان کے ہوش اڑ جائینگے ۔ صعق سے ہے ۔ جس کے معنے بےہوش ہوچکے ہیں ۔ یاغیتنا ۔ یعنی آپ ہماری حفاظت میں ہے ۔ حل لغات :۔ الھویٰ ۔ خواہش نفس شدید الطویٰ ۔ نہایت طاقت ور ۔ جبرائیل کا لقب ہے مرۃ ۔ یعنی فطری طاقت ور ہے قاب ۔ انداز غوسین ۔ کمانیں عربوں میں قاعدہ تھا ۔ کہ جب وہ بڑے آدمی آپس میں معاہدہ کرتے ۔ تو وہ اپنی کمانوں کو ایک دوسرے کی طرف بڑھاتے اور قریب کرتے ۔ تاآنکہ با ہوں سے با ہیں مل جاتیں ۔ اور وہ اس کو مبایعہ کے لفظ سے تعبیر کرتے ۔ مقصد یہ ہے کہ کچھ جبرائیل عالم بشریت کے قریب ہوئے اور کچھ حضور ﷺ بشریت ملکولیت کی طرف بڑھے اور ان دونوں میں بس اتنا فاصلہ رہ گیا ۔ جتنا کہ عام طور پر دو گفتگو نے مصالحت کرنے والوں میں رہ جاتا ہے ۔ ماینطق ۔ میں مراد شرعیات ہیں ۔ یعنی جہاں تک لوگوں کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کا تعلق ہے ۔ آپ جو کچھ کہتے ہیں ۔ وہ مستعمار ہوتا ہے ۔ جناب باری سے سدرۃ المتھی ایک مقام ہے ۔ جہاں ملائکہ جاکر رک جاتا ہے ۔ اور جبرائیل بھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ جہاں صرف حیرت ہے ۔ اور عقل وخرد کا تیز رفتار جی زاہ انوار و تجلیات کے وفور سے گھبرا جانا ہے ۔ اور اس درجہ علم وقدرت میں گم ہوکر رہ جاتا ہے یہ وہ مقام ہے جہاں کائنات کی سرحدیں ختم ہوتی ہیں ۔ اور حجب واستزالٰہیہ کا آغاز ہوتا ہے ۔
Ayahs 53:17–22

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نگاہ نہ بہکی اور نہ حد سے (ف 1) بڑھی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

بیشک اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم دیکھو تو ۔ لات اور عزیٰ

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور منات تیسری پچھلی (یہ کیا چیز ہیں ؟ )

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے لڑکے اور اللہ کے لئے لڑکیاں ؟

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو بہت بھونڈی تقسیم ہے

ف 1: مازاغ البصر و ما طغی سے مقصود یہ ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدات روحانی ہیں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ روح اور نفس کا کوئی دھوکہ کار فرمائی نہیں کرتا ۔ بلکہ وہ جو دیکھنے میں سراپا حقیقت اور امر عاقعہ ہی ہوتا ہے ۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ بت (ف 2) کچھ نہیں مگر صرف چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لئے ہیں ۔ اللہ نے ان کے بارے میں کوئی سند نہیں اتاری ۔ یہ لوگ صرف اٹکلوں اور نفسیاتی خواہشوں پر چلتے ہیں ۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے

بت پرستی پر کوئی دلیل نہیں 2: ان آیتوں میں بت پرستی کی مذمت فرماتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بت جن کو تم نے اللہ کا نام دے رکھا ہے ۔ حقیقتاً ان میں الوہیت کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی ۔ یہ محض پتھر ہیں ۔ بالکل بےجان اور بےبس ان کی پوجا اور پرستش کے لئے کوئی دلیل ہی نہیں ۔ محض بربتائے فن وتمخمین تم لوگ ان سے حسبت رکھتے ہو ۔ اور ان کو خبر وشر کا مالک سمجھتے ورنہ عقل ، دجان کے پاس اس کے جو از کے لئے کوئی برہان نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوسکے ۔ کہ یہ پتھر باجود اپنی ساخت کے اور باوجود اس ہدایت کے اپنے اندر اتنا قدس رکھتے ہیں ۔ کہ ان کو خدا قرار دیا جائے اللہ کی طرف سے ہدایت آچکی ہے ۔ حل لغات :۔ ضمیرای ۔ قص تقسیم سلطن ۔ حجت ۔ قدرت ۔
Ayahs 53:24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان جس بات کی (ف 1) تمنا کرے پاسکتا ہے ؟

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

سو پچھلا (جہان) اور پہلا جہان اللہ کے ہاتھ میں ہے

ف 1: یہ واضح طور پر بتایا جاچکا ہے ۔ کو اس کے تخلیل کے لئے کن کن معتقیات کا ہونا ضروری ہے ۔ کیا ان لوگوں کی یہ رائے ہے ۔ کہ یہ جو کچھ چاہیں گے وہی ہوگا ۔ اور دین کو ان کی خواہشات نفس کے تابع کردیا جائے گا ۔ سو ایسا نہیں ہوسکتا ؟ دنیا اور آخرت کے تمام اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہ ان کو دنیا میں بھی اس ذلیل عقیدہ پر مواخذہ کریگا ۔ اور عاقبت میں بتائے گا ۔ کہ تم لوگ راہ راست پر گامزن نہیں تھے ۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت فرشتے ہیں کہ ان کی شفاعت کچھ کام نہیں آسکتی ، مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لئے چاہے اجازت دے اور پسند (ف 2) کرے

فرشتے بھی جرات لب کشائی نہیں رکھتے 2: فرمایا : کہ ان لوگوں کو پتھر کے ان اصنام بےمعنے پر اعتماد ہے ۔ اور سمجھتے ہیں ۔ کہ ان لوگوں کی سفارش کریں گے ۔ حالانکہ وہاں بےنیازی کا یہ عالم ہے کہ فرشتے بھی موجود اتنے تقرب اور پاکیزگی کے اس کے جلال وجبروت کے سامنے لب کشائی کی جرات نہیں رکھتے ۔ ان کو بھی یہ اختیار نہیں ہے ۔ کہ بلا اس کی اجازت کے کسی شخص کے متعلق سفارش کے کلمات کا اظہار کرسکیں ۔ پھر اس صورت حال میں یہ کیونکر ممکن ہے ؟ کہ ان کا یہ اعتماد درست اور صحیح ثابت ہو ۔
Ayahs 53:27–31

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کے (ف 3) عورتوں کے سے نام رکھتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور ان کو اس کا علم نہیں صرف گمان پر چلتے ہیں ۔ اور ٹھیک بات میں گمان کچھ کم نہیں آتا

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

ہو جو ہمارے ذکر سے منہ موڑے اور سوائے دنیا کی زندگی کے اور کچھ نہ چاہے اس سے تو منہ پھیرلے

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کی سمجھ کی انتہا یہیں تک ہے ۔ تیرا رب ہی سے خوب جانتا ہے ۔ جو اس کی راہ سے بہکا ہوا ہے اور اسے بھی جوب جانتا ہے جو ہدایت پر ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کا ہے تاکہ بدکاروں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کرداروں کا اچھا بدلہ دے

فرشتے مذکر ہیں ۔ کہ مونث 3: خدا جانے کیا جہالت تھی کہ مکہ والے فرشتوں کو مونث سمجھتے تھے ۔ کہتے تھے ۔ کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں ۔ حالانکہ فرشتے اپنی ذات کے اعتبار سے ایسی بسیط اور نورانی صفات کے مال ہیں ۔ کہ ان کے متعلق تذکیر وتانیث کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ مذکر میں نہ مونث ۔ ان میں سرے سے ہی یہ جنسی جذبات نہیں ہوتے ۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے ۔ کہ کائنات کے امور انتظامیہ کو باحسن وجوہ تکمیل تک پہنچائیں ۔ اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کا بہترین اظہار کریں ۔ ان کے متعلق یہ رائے رکھنا ۔ کہ یہ خدا سے نسبی نسبت رکھتے ہیں ۔ محض ان کی خرافات ہیں ۔ جس میں حقانیت کا کوئی شائبہ نہیں ۔ فرمایا ۔ کہ آپ ان کے ان شرعومات سے اعراض فرمائیں ۔ یہ نتیجہ ہیں ۔ محض دنیا میں انہماک اور جہالت کا ۔ اگر یہ لوگ اللہ سے محبت رکھتے اور عاقبت کے مسئلہ کو اہمیت نہ دیتے ۔ تو پھر ان مشرکانہ خیالات کے عالم نہ ہوتے ۔ حل لغات :۔ ملک ۔ فرشتہ ھکن ۔ غیر یقینی بات ۔
Ayahs 53:32–34

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں سوائے نزدیک ہوجائے کے ان گناہوں سے بیشک تیرے رب کی بخشش (ف 1) بڑی وسیع ہے ۔ وہ تمہیں خوف جانتا ہے ۔ جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے ۔ سو تم اپنے نفسوں کو پاک نہ ٹھہراؤ ۔ پرہیز گاروں کو وہی خوب جانتا ہے

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تونے اسے بھی دیکھا ۔ جس نے منہ پھیرلیا ؟

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا اور (پھر) سخت دل ہوگیا

خدا کا مطالبہ 1: اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہے ۔ کہ وہ اپنے بندوں سے سو فیصد ہی نیک ہونے کا ماطلبہ نہیں کرتا ۔ اور یہ نہیں چاہتا ۔ کہ ان سے کسی لغزش اور کوتاہی کا صدور نہ ہو ۔ کیونکہ اس نے انسان کی طبیعت کسی قسم کی ہے ۔ وہ صرف یہ توقع رکھتا ہے ۔ کہ جہاں تک متعین گناہوں اور کھلی کھلی برائیوں کا تعلق ہے ۔ انسان ان سے بچنے اور ان سے موافقت نہ کرے ۔ زندگی کا تصور صحیح ہو ۔ دماغ درست ہو اور عقیدہ ایسانہ ہو جو اس کو گمراہ کردے ۔ تو پھر اللہ اتنا واسع المغفرت ہے ۔ کہ چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر مواخذہ نہیں کریگا ۔ وہ تو یہ بھی کرسکتا ہے ۔ کہ کبائر سے بھی چشم پوشی کرلے ۔ اور بڑے بڑے گناہوں سے درگزر کردے ۔ مگر ایسا کرنا خوہ انسان کے لئے مضر ہے ۔ اس سے معنے صاف طور پر یہ ہیں ۔ کہ دنیا میں بےخوف وخطر اللہ کے احکام کی مخالفت ہو ۔ اور بلا ادنی تامل کے معاصی کلادتکاب کیا جائے ۔ اس طریق سے انسانی روح کے ناپاک اور تاریک ہوجانے کا اندیشہ تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنادیا ۔ کہ یاد رکھو ان لغزشوں کو چھوڑ کر جو بتقاضائے بشریت تم سے صادر ہوتی ہیں ۔ باقی احکام شریعت کی مخالیت میں پوری پوری سزادی جائے گی ۔ اس کے بعد یہ ارشاد فرمایا ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ اور وہ ان تمام منزلوں سے آگاہ ہے ۔ جن میں سے گزر کر تم نے یہ شکل و صورت اختیار کی ہے ۔ اس لئے اس کے سامنے مشخیت اور تقدس کا اظہار نہ کرو ۔ اس کی نگاہوں سے متقی اور پرہیز گار اوجھل نہیں ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے ۔ کہ تم میں سے کن لوگوں نے روگردانی کی ۔ اور اللہ کے عذاب کے مستحق ہوئے ۔ حل لغات :۔ الا اللھم ۔ صغائر ۔ ہلکے ہلکے گناہ اجنۃ ۔ جنتین کی جمع ہے ۔
Ayahs 53:35–39

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے سو وہ دیکھتا (ف 1) ہے ؟

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اسے اس بات کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں میں لکھی ہے

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی بھی میں نے اپنا قول پورا اتارا

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائیگا

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کے لئے وہی ہے جو اس نے کوشش کی

ف 1: الذی لولی سے کوئی خاص شخص مراد نہیں ہے ۔ بلکہ مقصد یہ ہے ۔ کہ ان مکہ والوں نے اللہ کے پیغام کو ٹھکرادیا ہے ۔ اور تسلیم ورضا سے روگردانی کی ہے ۔ پہلے جب حضور ﷺ تشریف نہیں لائے تھے ۔ اس وقت تو رفاہ عام کے کاموں میں میں یہ کچھ حصہ لیتے تھے ۔ اور جو دو سخا سے کام لیتے تھے ۔ مگر اب ضد اور تعصب میں آکر انہوں نے وہ بھی بند کردیا ہے ۔ کب ان لوگوں کے پاس اس طرز عمل کے جواز کے لئے کوئی سند غیب سے نازل ہوئی ہے ۔ یا یہ محض بغض وعناد کا مظاہرہ ہے ۔