Ayahs 53:1–21۔ یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک ساری مسافت میں اپنی باقاعدہ رفتار قائم رکھتا ہے اور ذرا ادھر سے ادھر نہیں ہوتا، اسی طرح یہ پیغمبرامین ساری عمرضلال وغوایت کے اثر سے محفوظ رہے اور افراط وتفریط دونوں سے الگ، ٹھیک حق کی صراط مستقیم پر قائم ہیں (آیت) ” والنجم “۔ ستارہ سے مراد یہاں ستارہ کی جنس ہے، تو بعض نے ستارہ ثریا سے مراد لی ہے۔ الثریا اوجنس النجوم (کشاف) اقسم بالثریا اوبجنس النجوم (مدارک) ستارہ گو اپنی باقاعدہ رفتار سے ادھر ادھر جس طرح طلوع سے غروب تک نہیں ہوتا اسی غروب سے طلوع تک بھی نہیں ہوتا۔ لیکن یہ دوسری کیفیت مرئی ومحسوس نہیں۔ اور وہ پہلی کیفیت مشاہد ہے۔ اس لئے ذکر اسی قید کے ساتھ کیا گیا۔ (آیت) ” ماضل “۔ ضلال یہ کہ بالکل راستہ بھول کر کھڑا رہ جائے۔ (آیت) ” ما غوی “۔ غوایت یہ کہ غیر راہ کو راہ سمجھ کر چلتا رہے۔ (آیت) ” صاحبکم “۔ یعنی یہ تمہارے ہر وقت کے اور سامنے سامنے ساتھ رہنے والے، جن کے کردار، اقوال، احوال، اعمال سے تم خوب واقف ہو۔
Ayah 53:32۔ (اور اپنے گڑھے ہوئے کلام کو خدا کو جانب منسوب کردیتے ہیں، جیسا کہ تم سمجھ رہے ہو) مطلب یہ ہوا کہ دین کے باب میں جو کچھ بھی آپ ﷺ کے منہ سے نکلتا ہے وہ کسی خواہش نفس سے نہیں۔
Ayah 53:43۔ یہ وحی خواہ لفظی ہو جو قرآن کہلاتی ہے، خواہ محض معنوی ہو، جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ محض کسی قاعدۂ کلی کی ہو جس سے آپ ﷺ اجتہاد کرتے ہوں، مقصود زعم کفار کی نفی ہے یعنی صرف اس حقیقت کا اظہار کہ آپ کسی غلط بات کی نسبت حق تعالیٰ کی جانب نہیں کردیتے۔ (تھانوی (رح)) (آیت) ” ھو “۔ یعنی دین کے باب میں آپ کا تکلم “۔ اے مانطقہ فی الدین “۔ (معالم)
Ayah 53:54۔ (اس وحی کو اللہ کی طرف سے) یہاں ذکر واسطہ وحی کا ہے۔ مشرکین عرب معتقد تھے کہ کاہنوں کے پاس غیبی معلومات شیطانوں کے واسطہ سے پہنچتے ہیں۔ یہاں اس کی تردید میں ارشاد ہوا کہ یہاں درمیانی واسطہ شیطان کا نہیں جو ان پیغمبر پر کاہن ہونے کا احتمال بھی ہوسکے بلکہ واسطہ بھی فرشتہ کا ہے۔ یعنی سرچشمہ وحی رحمانی اور واسطہ وحی ملکوتی۔ (آیت) ” شدید القوی “۔ وہ پر قوت فرشتہ جس پر کسی شیطانی اثر سے تاثر ومغلوبیت کا گمان بھی نہیں ہوسکتا۔ مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ قوت واجلال کے مظہر اتم۔ اے ملک شدید قواہ وھو جبریل (علیہ السلام) عند الجمھور (مدارک) ھو جبریل (علیہ السلام) کما قال ابن عباس ؓ وقتادۃ والربیع (روح)
Ayah 53:65۔ (ان رسول کے روبرو) اس میں کمال اکرام و اعزاز ہے رسول اللہ ﷺ کا۔ کہ آپ ﷺ کے لئے ایک بار وہ حجابات دور کردیئے گئے جن کے اندر جبریل (علیہ السلام) انسانی آنکھ کے سامنے جلوہ گر ہوسکتے ہیں۔ (آیت) ” ذو مرۃ “۔ پیدائشی طاقتور ایسے شیطان کی مجال نہیں جو ان کے سامنے پر مار سکے۔ (آیت) ” ذو مرۃ “۔ کے ایک معنی حسین وپاکیزہ روکے بھی کئے گئے ہیں۔ حسن و جمال کے مظہر اتم عن ابن عباس ؓ ذومنظر حسن (مدارک) گویا جلال و جمال الہی دونوں کے مظہر اتم۔ ایک معنی (آیت) ” ذو مرۃ “۔ کے یہ بھی کئے گئے ہیں۔ کہ عقل ونظر کے لحاظ سے کامل، جس طرح (آیت) ” شدید القوی “۔ کے معنی کئے گئے ہیں۔ قوت جسمانی کے لحاظ سے کامل۔ ذو مرۃ اے ذوحصانۃ و استحکام فی العقل فکانہ الاول وصف بقوۃ الفعل وھذا وصف بقوۃ النظر والعقل (روح)
Ayah 53:76۔ (جانب مشرق میں) اے مطلع الشمس (مدارک) وھو اقصی الدنیا عند مطلع الشمس (معالم) اس نظارہ کی تفصیلات حدیث میں آئی ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جدھر سے صبح صادق طلوع ہوتی ہے ادھر رسول اللہ ﷺ کو ابتداء نبوت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ایک بار اپنی اصلی صورت میں کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ آسمان اس وقت ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان کے وجود سے پر معلوم ہورہا تھا۔ یہ مہیب وحیرت انگیز منظر آپ نے پہلی بار دیکھا تو طبیعت میں قدرۃ کچھ گھبراہٹ کے آثار پیدا ہوئے اس پر سورة المدثر نازل ہوئی۔
Ayah 53:87۔ یعنی وہ فرشتہ وحی صورت و سیرت میں کامل پر قوت وپاکیزہ رورسول ﷺ سے بالکل متصل وملحق ہو کررہا۔ (آیت) ” دنا فتدلی “۔ دنو کے معنی خود ہی قریب ونزدی کی کے ہیں۔ تدلی قرب مزید کے معنی میں لاکر اس کی اور تاکید و توثیق کردی۔ دنا اور تدلی دونوں کی ضمیریں فرشتہ وحی، جبریل امین (علیہ السلام) شدید القوی کی جانب ہیں۔
Ayah 53:98۔ محاورۂ عرب میں مراد اس سے کمال قرب ہوتی ہے۔ جب (2) عرب آپس میں کوئی نہایت مضبوط عہد وپیماب کرنا چاہتے تھے تو اپنی اپنی کمانوں کو نکال کر انہیں باہم ملاتے تھے۔ یہاں تک کہ دنوں کے چلے مل جاتے، پھر دونوں کو اکٹھا کھینچتے اور دونوں سے ایک ہی تیر چلاتے۔ یہ گویا علامت تھی ” من تو شدم تو من شدی “۔ ہوجانے کی۔ رفتہ رفتہ زبان میں یہ محاورہ کمال قرب وغایت اتحاد واتصال کے لئے استعمال ہونے لگا، مقصود یہاں فرشتہ وحی اور رسول صاحب وحی کے درمیان غایت قرب واتصال کو دکھانا ہے۔ والمقصود تمثیل ملکۃ الاتصال وتحقیق استماعہ لما اوحی الیہ بنفی بعد المجلس (بیضاوی) یکون ذلک اشارۃ الی ان رضا احدھم رضا الاخر وسخطہ سخطہ لایمکن خلافہ (روح) وردھنا علی استعمال العرب وعادتھم (کبیر) (آیت) ” او ادنی “۔ اس میں اشارہ آگیا رسول اللہ ﷺ اور جبریل (علیہ السلام) کے درمیان کمال قرب صوری کے علاوہ غایت مناسبت روحانی کی جانب بھی جو مداراعظم معرفت تام کی ہے (تھانوی (رح)) (آیت) ” او “۔ یہاں شک کے لئے نہیں، تاکید اور وثوق میں زیادتی کے لیے ہے اور اس امر کے اظہار کے لئے کہ فاصلہ اتنی مقدار سے زائد بہرحال نہ تھا کم جتنا بھی ہو۔ قد تقدم ان ھذہ الصفۃ تستعمل فی اللغۃ لاثبات المخبرعنہ ونفی مازاد علیہ (ابن کثیر) والمراد افادۃ شدۃ القرب (روح) (آیت) ” فکان ..... ادنی “۔ رسول اللہ ﷺ سے یہ غایت قرب واتصال ظاہر ہے کہ انہی فرشتہ وحی کو حاصل ہوا۔ تابعین ہی نہیں، اجل صحابہ سے بھی یہی منقول ہے۔ ھذا المقترب الدانی الذی صاربینہ وبین محمد ﷺ انما ھو جبریل (علیہ السلام) ھو قول ام ال مومنین عائشۃ وابن مسعود ابی ذروابی ہریرہ (ابن کثیر)
Ayah 53:109۔ (اس فرشتہ کے ذریعہ سے، آپ ﷺ کے افاقہ کے بعد) یعنی اللہ جیسے حاکم ذوالجلال وبااقتدار نے وحی بھیجی بھی تو ایسے پر قوت اور متقدر فرشتہ کے ذریعہ سے اور اس فرشتہ نے بھی آپ سے اس درجہ متصل ہو کر پہنچائی۔ (آیت) ” مااوحی “۔ کلمہ تفخیم ہے۔ محاورۂ عرب میں اس کا استعمال موقع کمال عظمت پر ہوتا ہے، جہاں انتہائی تعظیم مقصود ہوتی ہے وہاں بجائے تفصیلات میں جانے کے صیغہ اسی اجمالی ابہام کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تفخیم للوحی الذی اوحی الیہ (کشاف و، مدارک)
Ayah 53:1110۔ ادھر بیان ہوچکا ہے کہ وحی کا سرچشمہ خود حضرت رحمن وسبحان ہیں جہاں غلطی کا امکان ہی نہیں، اور پھر واسطہ وحی، فرشتہ جبریل کہ وہاں بھی غلطی کا گزر نہیں، اب رہے وہ صاحب جن پر وحی نازل ہوئی، یہاں تصریح اس کی ہوگئی کہ وہ بشر ہونے کے باوجود ہر غلطی سے محفوظ ومامون۔ گویا اتصال وحی و قبول وحی کے سلسلہ میں سارے احتمالات خطاء منفی۔ فؤاد اور رؤیت دونوں کے اجتماع سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے چشم دل سے بھی دیکھا اور چشم جسم سے بھی، آنکھ نے بھی صحیح دیکھا اور دل نے بھی تصدیق کی، بصارت اور بصیرت دونوں اس مشاہدہ یا نظارہ پر متفق رہے۔
Ayah 53:1211۔ کیسے غضب کی بات ہے کہ تم نبی ﷺ سے نزاع اس چیز میں کررہے ہو، جو اس کی سنی سنائی ہوئی یا خیال و گمان کی ہوئی نہیں۔ خوب اچھی طرح دیکھی بھالی، جانچی پڑتالی ہوئی اور تخیلات ومعقولات ومسموعات کے عالم سے کہیں گزر کر اس کے لیے دائرہ مشاہدات میں آچکی ہے۔
Ayahs 53:13–1412۔ (آیت) ” سدرۃ المنتھی۔ سدرۃ “۔ کے لفظی معنی بیری کے درخت کے ہیں۔ اور (آیت) ” سدرۃ المنتھی “۔ اصطلاح میں وہ بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان یا دونوں پر ہے ایک سے لے دوسرے تک اور گویا اس عالم اور اس عالم کے درمیان ایک نقطہ اتصال ہے۔ عالم بالا سے جتنے احکام وغیرہ صادر ہوتے ہیں وہ (آیت) ” سدرۃ المنتھی ہی تک پہلے آتے ہیں اور پھر ملائکہ وہاں سے زمین پر لاتے ہیں۔ اسی طرح یہاں سے جو اعمال صعود کرتے ہیں وہ بھی پہلے (آیت) ” سدرۃ المنتھی “۔ تک پہنچتے ہیں۔ پھر وہاں سے اوپر اٹھالئے جاتے ہیں۔ عن ابن مسعود ؓ والضحاک سدرۃ المنتھی فی السماء السادسۃ والیھا ینتھی مایعرج الی السماء (جصاص) الجمھور علی انھا شجرۃ تبقی فی السماء السابعۃ علی یمین العرش (مدارک) وھی فی السماء السابعۃ الیھا ینتھی مایعرج بہ من الارض فیقبض منھا والیھا ینتھی مایھبط بہ من فوقھافیقبض منھا (معالم) التی ینتھی اعمال الخلائق وعلمھم اوما ینزل من فوقھا ویصعد من تحتھا (بیضاوی) المشھور ان السدرۃ شجرۃ فی السماء السابعۃ علیھا مثل النبق وقیل فی السماء السادسۃ (کبیر) آسمانوں کے اوپر درخت اور بیری کے درخت کے تسلیم کرنے میں دشواری کچھ بھی نہیں۔ آخر جنت میں دودھ، شہد، پانی وغیرہ کے ساتھ درخت اور باغ کثرت سے ہیں۔ تو ایک بیری ہی کے درخت میں کیا خاص اشکال واستبعاد ہے ؟ البتہ یہ ظاہر ہے کہ جس طرح جنت اور آسمان کی ہر نعمت دنیا کی نعمتوں سے مشابہ لیکن بہت مختلف ہوگی۔ اسی طرح یہ بیری بھی دنیا کی بیریوں سے یقیناً بہت کچھ مختلف ہوگی اور کچھ اور ہی آثار و خواص رکھتی ہوگی۔ (آیت) ” ولقد ….. اخری “۔ یعنی اس فرشتہ کو دوبارہ ہیئت اصل پر دیکھا پہلی بار اسی سطح ارضی پر دیکھا تھا اور اب کی دوبارہ شب معراج میں۔ عن ابن مسعود ؓ وعائشۃ و مجاھد ولربیع قالوا رای جبریل فی صورۃ التی خلقہ اللہ علیھا مرتین (جصاص) فھذہھی لیلۃ الاسراء والاولی کانت فی الارض (ابن کثیر) ھذہھی المرۃ الثانیۃ التی رای رسول اللہ ﷺ فیھا جبریل علی صورتہ التی خلقہ اللہ علیھا وکانت لیلۃ الاسراء (ابن کثیر)
Ayahs 53:15–1613۔ یہ لپٹنے والی چیزیں روایات کے مطابق فرشتے تھے جو بکثرت دیوانہ وار گر رہے تھے۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ انوار و تجلیات جمال مطلق تھے جو سدرہ کو لپٹے ہوئے تھے اور فرشتے انہیں پر عاشقانہ گر رہے تھے۔ غشیھا نورالرب وغشی تھا الملائکہ من حب اللہ (ابن جریر۔ عن الربیع) قد تقدم فی احدیث الاسراء انہ غشی تھا الملائکہ مثل الغربان وغشیھا نور الرب وغشیھا الوان ما ادری ماھی (ابن کثیر) مایغشی کلمہ تفخیم ہے۔ اہل عرب کمال عظمت کے اظہار کے موقع پر ایسا ہی صیغہ اجمال وابہام کا لاتے ہیں۔ تعظیم وتکبیرلما یغشھا (کشاف۔ مدارک) وفی ابھام مایغشی من التفخیم مالا یخفی (روح) (آیت) ” عندھا جنۃ الماوی “۔ پہلے فقرہ میں اس مقام کی نشان دہی کی تھی جہاں فرشہ اعظم کی ملاقات ہوئی تھی، اس فقرہ میں اس مقام کے شرف و امتیاز کا ذکر ہے۔ ماوی کے لفظی معنی ٹھہرنے کی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ جنت چونکہ مقبولین کے رہنے اور ٹھہرنے کاٹھکانہ ہے۔ اس لئے اسے جنت الماوی کہتے ہیں۔ پہلے فقرہ میں اس مقام کی نشان دہی کی تھی جہاں فرشتہ اعظم کی ملاقات ہوئی تھی، اس فقرہ میں اس مقام کی شرف و امتیاز کا ذکر ہے۔ ماوی۔ کے لفظی معنی ٹھہرنے کی جگہ یا ٹھکانے کے ہیں۔ جنت چونکہ مقبولین کے رہنے اور ٹھہرنے کا ٹھکانا ہے۔ اس لئے اسے جنت الماوی کہتے ہیں۔
Ayah 53:1714۔ ان چیزوں سے جن کی رویت کا حکم نہیں ہوا تھا۔ (آیت) ” ما زاغ البصر “۔ یعنی ان چیزوں سے نہ ہٹی جن کی رویت کا حکم ہوا تھا۔
Ayahs 53:18–2015۔ (کہ وہ کوئی بھی شائبہ الوہیت کا اپنے اندر رکھتی ہیں اے مشرکو) لات۔ عزی اور منات تینوں مشرکین عرب کے مشہور بت تھے۔ (آیت) ” اللت “۔ عرب کی بہت مشہور وقدیم دیوی تھی، نباطی کتبات تک میں اس کا نام موجود ہے۔ یہ سورج دیوتا کی مظہر تھی، اور قبیلہ ثقیف کی دیوی تھی۔ DOUGHTY کی (ARABIA.DISERTA) جلد دوم میں اس کافوٹو بھی دیا ہوا ہے۔ (آیت) ’ العزی “۔ یہ قوت و طاقت کی دیوی تھی جیسے ہندوستان میں درگاہ دیوی۔ یونان ورومہ کی زہرہ دیوی کی قائم مقام، ظہور اسلام کے وقت عربوی میں اس کا سب سے زیادہ شہرہ تھا۔ اس کا بت نخلہ میں نصب تھا اور یہ دیوی قبیلہ غطفان کی تھی۔ منات۔ یہ دیوی تقدیر کی حکمران تھی، اس کا بت قدید میں نصب تھا۔ مدینہ کے اوس و خزرج والے اس کے خاص طور پر معتقد تھے۔ عجب نہیں کہ تحقیقات کے بعد اس کا تعلق ہندوستان کے مشہور بت وبتکدہ ” سومنات “ سے بھی ثابت ہوجائے تفصیلات کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ مشرکین عرب کے عقیدہ میں یہ تینوں دیویاں خدا کی بیٹیاں تھیں۔ افرء یتم “۔ کے حرفمیں ادھر اشارہ ہے کہ پیغمبر کی عظمت وصداقت کے محقق ہوجانے کے بعد تو تم کو سمجھ جانا چاہئے تھا۔ (آیت) ” الاخری “۔ ذم وتحقیر کیلئے ہے۔ ھی صفۃ ذم اے المتاخرہ الوضیعۃ المقدار (کشاف) وقال بعض الاجلۃ الثالثۃ للتاکید والاخری للذم بانھا متاخرۃ فی الرتبۃ وضیعۃ المقدار (روح)
Ayahs 53:21–2216۔ یعنی شرک پر مستزاد یہ کہ اپنے لئے تو اپنے رواج وعرف کی بناء پر اچھی چیز یعنی بیٹے تجویز کرتے اور خدا کیلئے اپنے رواج وعرف کے معیار سے بھی ناقص اور گھٹیا چیز یعنی بیٹیاں تجویز کئے ہوئے ہو۔ (آیت) ” تلک ..... ضیزی “۔ یعنی یہی کہ کسی کو دیوی ٹھہرائی کسی کو دیوتا، کسی کا نام ہوا کا خدا رکھ دیا، کسی کو رزق وبارش کا دیوتا کہنے لگے۔ ان اسماء والقاب کو حقیقت سے کوئی دور کا بھی واسطہ تو نہیں۔
Ayah 53:2317۔ یعنی نظریہ شرک پر کوئی دلیل نہ تو عقل سے ملتی ہے نہ نقل سے، نہ کوئی الہامی ثبوت نہ کوئی علمی وتجربی شہادت۔ (آیت) ” ما .... سلطن “۔ قرآن مجید نے محض اثبات توحید ہی پر دلائل نہیں قائم ہیں بلکہ بار بار مدعیان شرک کو چیلنج کیا ہے تم اثبات شرک پر کوئی ایک دلیل کسی درجہ کی بھی تو پیش کرکے دکھاؤ۔
18۔ (پیغمبر کے ذریعہ سے) یعنی بلادلیل وبلاثبوت ان ادہام فاسدہ میں مبتلا ہوجانا یوں بھی بڑے غضب کی بات تھی، چہ جائیکہ جب اس کے خلاف دلائل اور ثبوت پیغمبر برحق کی معرفت پہنچ جائیں۔ (آیت) ” ان ..... الانفس “۔ ان کی یہ خواہشات نفس بھی انہیں ادہام اور بےعقلی کے خیالات پر مبنی ہیں۔
Ayahs 53:24–2519۔ (تو پھر ان مشرکوں کی یہ کیسی حماقت ہے کہ اپنی دیویوں دیوتاؤں سے اس کی آس لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کی آرزوؤں، تمناؤں کے مطابق انکے کام آئیں گے اور ان کی سعی وسفارش کریں گے) (آیت) ” ام ..... تبنی “۔ یہ کتنی گہری اور اہم حقیقت کا اعلان ہے۔ اگر انسان کو اسی کو استحضار رہے تو کتنی مایوسیوں، ناکامیوں، نامرادیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ (آیت) ” فللہ الاخرۃ والاولی “۔ انسان کی فوری اور انجام دونوں طرح کی بھلائیاں صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ توقع جو کچھ بھی کی جائے۔ بس اسی سے کیجائے۔ (آیت) ’ للانسان “۔ انسان سے یہاں مراد کافر انسان سے لی گئی ہے۔ یعنی الکافر (مدارک) ایظن الکافر ان لہ مایتمنی (معالم)
Ayah 53:2620۔ مطلب یہ ہوا کہ ان بتوں، مورتیوں کا تو خیر ذکر ہی نہیں جو شفاعت کی سرے سے کوئی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ ملائکہ مقربین تک کی یہ مجال نہیں کہ اپنی رائے و ارادہ سے جس کسی کی چاہیں بےدھڑک سفارش کرڈالیں، بلکہ وہ بھی صرف اجازت الہی کے بعد ہی اس کی جرات کرسکتے ہیں۔ (آیت) ” وکم ..... السموت۔ فی السموت “۔ کا اضافہ عجب نہیں جو ملائکہ کے مزید تقرب وشرف واکرام کے اظہار کیلئے ہو۔ (آیت) ” لمن یشآء “۔ اس کے اندر ساری مشیت تکوینی کا قانون آگیا۔ یعنی اجازت بھی صرف اسی کے حق میں سفارش کی ملے گی، جسے خود حق تعالیٰ کی مشیت تکوینی چاہ رہی ہو۔ (آیت) ” ویرضی، یہ قید غالبا اس لیے بڑھادی کہ کہیں دنیا والوں کی طرح وہاں بھی یہ نہ قیاس کیا جائے کہ نعوذ باللہ حق تعالیٰ کو بھی کسی کی مروت ولحاظ یا خوف سے اپنی مرضی کے خلاف اجازت دے دینا پڑتی ہے۔ مرضی حق خود ہی سب سے بالا تر ہے، جس کے اوپر کوئی مؤثر نہیں۔
Ayahs 53:27–2821۔ (آیت) ” الظن “۔ ظن سے مراد تخمین و قیاس ہے اور وہ بھی ایسا جو نہ کسی دلیل شرعی پر مبنی ہو نہ کسی قاعدۂ عقلی سے مستنبط۔ (آیت) ” من علم “۔ علم یہاں تحقیق یا حقیقت رسی کے معنی میں ہے اور ظن یا تخمین کے ٹھیک مقابل من نے موقع پر نفی پر آکر معنی میں استغراق پیدا کردیا، یعنی کوئی بھی دلیل ان کے پاس نہیں۔
Ayah 53:2922۔ (اور یہی دلیل ہے ان کی کج فہمی اور بےغوری دونوں کی) مبلغ اعظم ﷺ کو ہدایت ہو رہی ہے کہ ان دنیا پرستوں سے جب قبول حق کی کوئی توقع ہی نہیں تو آپ بھی ان کی پروانہ کیجئے اور ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑے رہئے۔ (آیت) ” عن ذکرنا .... الدنیا “۔ انسان کی حماقت وسفاہت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ وہ ہاتھی کے جسم کی ساری بڑائی کو چھوڑ چھاڑ کر اس کی دم کے آخری سرے کو یا پیر کے ناخنوں کو پکڑ لے۔ اور اسی سے ہاتھی کی جسامت، ساخت، ترکیب سے متعلق رائے قائم کرنے لگے۔ اس سے ہزار اور لاکھ درجہ بڑھ کر اور قابل رحم ان ” روشن خیالوں “ یا ” بےفکروں “ کا حال ہے، جو مابعد الموت جیسے بیحد وسیع عالم سے بالکل قطع نظر کئے ہوئے ساری توجہ اور ” علم “ وتحقیق “ کا موضوع اسی چند سالہ زندگی کو بنائے ہوئے ہیں ! ان سے بڑھ کر اندھا اور کون ہوسکتا ہے ؟
Ayah 53:3023۔ یعنی یہی مادی، عنصری، زودفنا، سریع الزوال، چند روزہ دنیوی زندگی۔ کتنے افسوس اور حسرت کا مقام ہے کہ آج مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کا سارا مبلغ علم اور منتہائے پرواز خیال اسی محدود ومختصرعنصری زندگی تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اپنی اس تنگ نظری پر انتہائی فخرو ناز ہے !
24۔ (کہ علم اسی کا کامل ہے)
Ayah 53:3125۔ (کہ قدرت اسی کی کامل ہے)
26۔ یعنی اس کے علم کامل وقدرت کامل کے مجموعہ کا متقضایہ ہے کہ مکلفین کے انجام دو قسم کے ہوں۔ اہل ضلالت کا انجام عذاب پر ہو اور اہل ہدایت کا مسرت و راحت پر۔ (آیت) ” لیجزی “۔ میں ل عاقبت کا ہے۔ یعنی انجام کار یہ ہونا تھا۔ قال الواحیدی اللام للعاقبۃ (کبیر) والتحقیق فیہ ھو ان حتی ولام الغرض متقاربان فی المعنی لان الغرض نھایۃ العقل وحتی للغایۃ المطلقۃ فبینھما مقاربۃ یستعمل احدھما مکان الاخر (کبیر)
Ayah 53:3227۔ (کبھی کبھار۔ تو وہ درجہ محسنیت اور محبوبیت کے منافی نہیں) ” جو محبوبیت یہاں بقرینہ مقام مدح مذکور ہے اس کا مصداق بننے کے لئے کبائر سے بچنا تو شرط ہے لیکن صغائر کا احیانا صدور اس کے لئے موقوف علیہ نہیں البتہ عدم اصرار شرط ہے۔ “ (تھانوی (رح)) (آیت) ” الااللم “۔ لمم اور الالمام وہ معصیت ہے جو کبھی کبھی اور اتفاقا سرزد ہوجائے۔ یقال فلان یفعل کذالمما اے حینا بعد حین (راغب) واصل اللمم والالمام مایعملہ الانسان الحین بعد الحین ولایکون لہ عادۃ ولا اقامۃ علیہ (روح) اے مایاتی بہ المومن ویندم فی الحال وھو من اللمم الذی ھو مس من الجنون (کبیر) مقصود کلام یہ ہے کہ انسان گناہ پر جما نہ رہے۔ گناہ اس سے سرزد ہوتے رہیں اور وہ ان پر توبہ و استغفار کرتا رہے مذہب اہل سنت میں مقبولین ومحبوبین کے لئے ضروری شرط گناہوں سے محفوطیت ہرگز نہیں بلکہ یہی گناہوں پر توبہ، ندامت، انفعال و استغفار ہے۔ صحابیوں اور تابعین سب سے یہی مذہب منقول ہے۔ ومعنی الایۃ الا ان یلم بالفاحشۃ مرۃ ثم یتوب ویقع الواقعۃ ثم ینتھی وھو قول ابن ہریرہ ؓ و مجاھد والحسن وروایۃ عطاء عن ابن عباس (معالم) عن ابی ہریرہ وقال اللمۃ من الزنا چم یتوب ولا یعود واللمۃ من السرقۃ ثم یتوب ولا یعود واللمۃ من شرب الخمر ثم یتوب ولا یعود قال کذالک الالمام (ابن کثیر) بعض اقوال اس مضمون کے بھی نقل ہوئے ہیں۔ کہ لمم کے تحت میں بڑے چھوٹے سارے ہی گناہ آجاتے ہیں۔ بجز شرک کے۔ قال عبداللہ بن عمر وبن العاص ؓ واللمم مادون الشرک (معالم) غرض یہ کہ آیت سے یہ بالکل ظاہر ہوجاتا ہے کہ گناہوں کا کبھی کبھی سرزد ہوتے رہنا جب درجہ محسنیت کے منافی نہیں تو عامہ مومینن کے مقام سے تو اسے اور بھی تنانی حاصل نہیں۔
28۔ (تو سب بندوں کو چاہئے کہ تھوڑا ساصرف ہمت کرکے اور اپنے بدکرداریوں کا تدارک کرکے اس کی مغفرت وسیع میں داخل ہوجائیں)
29۔ (کہ کون متقی ہے اور کون نہیں، گو افعال تقوی صورۃ دونوں سے صادر ہوتے ہیں) آیت میں اہل طاعت کو تنبیہ ہے کہ اپنے متعلق عجب وپندار میں نہ مبتلا ہوجائیں۔ (آیت) ” مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دعوی تقدس سے صریح ممانعت ہے۔ (آیت) ” اذا انشاکم من الارض “۔ یعنی جب تم سب کو تمہارے جدا علی آدم (علیہ السلام) کے واسطہ سے پیدا کیا تھا۔ یہ ذکر انسان کی خلقت نوعی کا ہوا۔ (آیت) ” واذ .... امھتکم “ یہ بیان انسان کی خلقت شخصی کا ہوا۔ (آیت) ” من الارض “۔ یعنی زمین کی خاک سے، مطلب یہ ہوا کہ انسان سے متعلق علم کامل تو صرف اللہ ہی کو ہے۔ باقی انسان پر تو ایسی حالتیں گزرتی ہیں کہ اسے خود اپنی حالت کا شعور واحساس نہیں ہوتا۔
Ayahs 53:33–3430۔ یعنی اپنے ہی مطلب کے لئے مال دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اور پھر اس کا بھی پوری طرح ایفاء نہ کیا تو ایسا شخص بھلا دوسروں کی نفع رسانی کیلئے کھلے دل سے کیا خرچ کرے گا ؟ حدیث میں ایک شخص متعین کا ذکر آتا ہئے۔ ولید بن مغیرہ نامی کا، کہ اس کا میلان اسلام کی طرف دیکھ کر ایک دوسرے مشرک نے اس سے کہا کہ کیوں اس فکر میں گھلا جاتا ہے۔ مجھے اتنا روپیہ دے میں سب تیری طرف سے اوڑھے لیتا ہوں۔ ولید نے وعدہ کرلیا لیکن کچھ تھوڑا بہت دے کر اسے بھی بند کردیا۔ (آیت) ” الذی تولی “۔ یعنی دین حق سے وہ شخص پھر گیا۔
Ayah 53:3531۔ (اور یقینی طور پر جان رہا ہے کہ فلاں شخص میری طرف سے عذاب کا متحمل ہوجائے گا)
Ayahs 53:36–3832۔ (ایمانیات میں) یعنی ایک کا ایمان دوسرے کے کام نہ آے گا (آیت) ” الذی وفی “۔ سورة البقرۃ پ 1 آیۃ کریمہ (آیت) ” واذابتلی ابرھم ربہ بکلمت فاتمھن “۔ کے ماتحت حاشیے ملاحظہ کرلئے جائیں۔
Ayahs 53:39–4033۔ (سو اس اطلاع اور اعلان کے بعد بھی انسان کا اپنی ذاتی ذمہ داری کی طرف سے غافل رہنا کیسا عجیب ہے) (آیت) ” الانسان “۔ الانسان سے یہاں مراد کافر انسان سے لی گئی ہے، نہ کہ مطلق انسان سے۔ وقالالربیع الانسان ھنا الکافر واما ال مومن فلہ ماسعی لہ غیرہ (روح) وقال الربیع بن انس یعنی الکافر (معالم) (آیت) ” وان ..... سعی “۔ یعنی ایک کا ایمان دوسرے کے کام نہ آئے گا۔ مشرک جاہلی قوموں میں تو خیر یہ وبا عام تھی ہی۔ یہود اہل کتاب کے ہاں بھی یہ عقیدہ پختہ طور پر قائم ہوگیا تھا کہ مورثوں اور بزرگوں کا مقبولین میں سے ہونا۔ اخلاف واولاد کے لئے بالکل کافی ہے اور جو لوگ پیغمبروں کی نسل میں سے ہیں انہیں کچھ ہاتھ پیر ہلانے بلکہ تصحیح عقائد پر ٹھہرا دیا۔ قرآن مجید اس کے برعکس سارا زور ہر فرد کی ذمہ داری اور مسؤلیت پر دیتا ہے اور نجات کا دارومدار بعد فضل خداوندی کے اسی کو ٹھہراتا ہے۔ چانچہ یہاں بھی اسی مسئلہ کا اثبات ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ کوئی شخص اپنے کسی دوست، عزیز، بزرگ وغیرہ کے لئے اپنے کچھ حقوق اپنی خوشی سے چھوڑ دے تو یہ اس آیت کے ہرگز منافی نہیں۔ یہ تو مومن کے حق میں دوسرے مومن کی طرف سے صورت دعا کی ہے، یہ کیوں نہ قبول ہوگی، اور مسئلہ ایصال ثواب اموات کا احادیث صحیحہ متعددہ کی بناء پر اپنی جگہ پر بالکل ثابت ہے۔ وردت اخبار صحیحۃ بنفع الصدقۃ عن المیت منھا مااخرجہ مسلم والبخاری وابو داؤد والنسائی (روح) اور فقہاء مفسرین نے اس کی متعدد توجہیات درج کی ہیں۔ واما ماصح فی الاخبار من الصدقۃ عن المیت والحج عنہ فقد قیل ان سعی غیرہ لما لم ینفعہ الانبیا علی سعی نفسہ وھو ان یکون مومن اکان سعی غیرہ کانہ سعی نفسہ لکونہ تابعالہ وقائما بقیامہ ولان سعی غیرہ لاینفعہ اذا عملہ لنفسہ ولکن اذا نواہ بہ فھو بحکم الشرع کالنائب عنہ والوکیل القائم مقامہ (مدارک)