53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

اور قسم ہے ستارے (کے رب ) کی جب وہ غروب ہوا

ستاروں کے رب کی قسم جب وہ غروب ہوں 1 ؎ (النجم) اسم جنس ہے اور جنس میں واحد جمع کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ گزشتہ سورت کے خاتمہ پر (ادبار النجوم) ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ستاروں کے غروب ہونے کے بعد اور وہاں عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ وہ وقت ہے جب صلوٰۃ فجر ادا کی جاتی ہے یعنی صبح کی نماز با جماعت ادا کی جاتی ہے۔ اس جگہ (النجم) سے مراد مفسرین نے زیادہ تر ” ایک ستارہ “ لی ہے اور پھر اس ستارہ کے تعین میں اختلاف کیا ہے۔ ایک گروہ نے اس ستارہ سے مراد ثریا جس کو پروین کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور ہماری پنجابی زبان میں اس کو ” کھتی “ کے نام سے موسوم کرتے ہیں جو چند ستاروں کا ایک جھنڈ سا آسمان پر نظر آتا ہے اور بعض نے اس ستارہ سے مراد ” زہرہ “ ستارہ لیا ہے اور غالباً اس کو عربی زبان میں ” الشعریٰ “ بھی کہتے ہیں جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت 49 میں آ رہا ہے اور چونکہ (النجم) کا لفظ اسم جنس کے طور پر قرآن کریم میں عام استعمال ہوا ہے اس لئے اس جگہ یہی مراد لیا ہے اور بعض مفسرین نے بھی اس کا یہی مفہوم بیان کیا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ (النجم ھم یھتدون) (16 : 16) ” اور ستاروں سے وہ راہنمائی حاصل کرتے ہیں “ (والنجم والشجر یسجدن) (55 : 6) ” ستارے اور درخت سجدہ کرتے ہیں “ اس جگہ (النجم ) سے مراد زمین کی روئیدگی بھی لی گئی ہے۔ (النجم الثاقب) ۔ 86 : 3) جھکنے والے ستارے “۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے۔ (والنجم اذا ھری) اس لئے جان لینا چاہئے کہ (ھوی) کے معنی کیا ہیں ؟ (ھوی) کے معنی غائب ہوگیا یا جب غائب ہونے لگے یا جب غائب ہوجائے۔ (ھوی) ماضی واحد مذکر غائب۔ گر پڑا یا غائب ہوگیا۔ نفسنای خواہش پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور اس کی جمع اھواء ہے یعنی خواہشیں۔ (ھوی) کا لفظ ستاروں کے افق پر غائب ہونے پر بولا جاتا ہے اور یہی معنی اس جگہ مراد ہیں اور قسم کے متعلق قبل ازیں بہت دفعہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ یہ شہادت کے طور پر ذکر کی جاتی ہے جس سے مقصد بات کو پکا کرنا اور یقین بنانا عام دستور ہے اور ہر زبان اور ہر قوم میں اس کا استعمال اپنی اپنی زبان کے مطابق ہوتا ہے اور اس سے آنے والی بات کا یقین دلانا مقصود ہے کہ جو کوئی بات اس کے بعد بیان کی جانے والی ہے وہ بہت یقینی بات ہے۔
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا رفیق (محمد رسول اللہ : ﷺ نہ بہکا اور نہ راہ سے بےراہ ہوا

یقینی بات یہ ہے کہ تمہارا رفیق نہ بہکا ہے اور نہ راہ سے بھٹکا ہے 2 ؎ جس بات کے لئے پیچھے قسم کھائی گئی ہے وہ اس جگہ بیان کی جا رہی ہے کہ تمہارا ساتھی ‘ تمہارا دوست ‘ تمہارا جانا پہچانا آدمی (محمد رسول اللہ ﷺ نہ بھٹکا ہے اور نہ ہی بہکا ہے۔ (صاّحبکم) صاحب۔ ساتھی۔ والا اور رفیق و دوست صحبتہ سے جس کے معنی ساتھ دینے کے ہیں۔ ساتھ دینے والا صاحب ہو انسان ہو یا حیوان۔ مکان ہو یا زمان اور اس امر میں فرق نہیں کہ مصاحبت یعنی باہم ساتھ رہنا بدن سے ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت و ہمت کہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے اور عرف میں ” صاحب “ صرف اس کو کہا جائے گا کہ جو کثرت کے ساتھ رہا ہو اور کسی شے کے مالک کو بھی ” صاحب “ کہہ دیا جاتا ہے اور اس طرح اس کو بھی جو اس شے میں تصرف کا مالک ہو۔ اور (کم) ضمیر جمع مذکر حاضر اور اس جگہ (کم) کا خطاب کفار کی جانب ہے اور ” صاحب “ سے مراد نبی اعظم و آخر ﷺ ہیں۔ امام راگب رحمتہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس جگہ صاحب کہہ کر کفار کو اس امر پر تنبیہہ کرنا ہے کہ تم ان کے ساتھ رہ چکے ہو اور ان کا تجربہ کرچکے ہو اور ان کا ظاہر و باطن سب تم پر واضح اور عیاں ہے جس کو تم اچھی طرح جانتے اور پہچانتے ہو اور پھر بھی تم نے اس میں کوئی خرابی اور دیوانگی نہیں پائی ہے۔ (صاحبکم) کا لفظ آپ ﷺ کے لئے قرآن کریم میں تین جگہ استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ اور ایک بار قبل ازیں سورة سبا کی آیت 46 میں اور ایک بار سورة التکویر کی آیت 22 میں اور اسی طرح (صاحبھم) کا لفظ بھی ایک بار آپ ﷺ کی ذات اقدس کے لئے سورة الاعراف کی آیت 184 میں آیا ہے۔ (صل) کا مادہ ض ل ل ہے اور (ضل) کے معنی گمراہ ہوا ‘ بہکا ہوا ‘ بھٹکا ہوا ‘ راہ سے دور جا پڑا ‘ کھو گیا ‘ ضائع ہوگیا ‘ گم ہوگیا ‘ ہلاک ہوگیا ‘ ضلال سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (غوی) کا اصل مادہ ع و ی ہے واحد مذکر غائب ‘ ماضی معروف غنی اور غوابۃ مصدر غوابتہ کے معنی ہیں بہک جانا ‘ بےراہ ہوجانا۔ (قاموس) نادان ہونا۔ (راغب) ناکام ہونا۔ (تاج لسان) اور پھر (صل) اور (عوی) میں فرق کیا رہا ؟ فرق یہ ہے کہ (ماضل) ضلالت کی نفی ہے یعنی ہمارا رسلو محمد رسول اللہ ﷺ سیدھی راہ سے نہیں پھرا یعنی کسی عملی گمراہی میں مبتلا نہیں ہوا۔ اور (ماھوی) برے عقیدے کی نفی کی گئیے کہ ہمارا رسول اللہ ﷺ کا اعتقاد و علم بھی بالکل درست ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ گویا ان دو طریقوں سی نفی کر کے آپ ﷺ کی طمیت پر مہر ثبت فرما دی ہے کہ اس سے زیادہ واضح اور صاف الفاظ میں کسی کی عصمت و پاکیزگی کا بیان ممکن ہی نہیں ہے۔ عصمت انبیاء کرام کا عقیدہ واضح ہے جس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے لیکن اکثر اس کے معنی گناہ ہی سے بچنے کے کئے اور سمجھے جاتے ہیں لیکن قرآن کریم نے اس جگہ نہ یہ کہ نبی کریم کو صرف گناہ سے محفوظ قرار دیا ہے بلکہ آپ ﷺ کے عمل اور عقیدہ کو بھی معصوم بتایا ہے اور کسی غلطی کے شائبہ سے اس کو منزہ اور پاک بیان فرمایا ہے اس لحاظ سے آپ ﷺ کو عقیدہ اور عمل دونوں کی معصومیت کا ایک جگہ ساتھ ساتھ اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس لحاظ سے یہ آیت آپ ﷺ کی عصمت پر سو دلیلوں سے بھی زیادہ وزنی دلیل بیان کردی ہے اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد یا کم از کم یہ کہ اس سورت کے نزول کے بعد اس بات کا اعلان تحدی کے طور پر کردیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نبوت و رسالت آنے کے بعد نہ تو گمراہ ہوئے اور نہ ہی کبھی ہوں گے اور رہی نبوت سے پہلے کی تلاش تو اس کے نتیجہ ہی میں یہ اعزاز آپ ﷺ کو حاصل ہوا ہے اس لئے آپ ﷺ کا وہ عمل بھی چونکہ تلاش حق کے لئے تھا اس لئے اس کو مستحسن ہی کہا جاسکتا ہے اور آپ ﷺ کی عصمت کا کمال یہ ہے کہ وہ الزامات جو غیروں نے مخالفین ومعاندین نے آپ ﷺ پر لگائے یا قیامت تک جو لگائے جانے والے تھے سب کی نفی فرما دی گئی جیسا کہ سورة الفتح میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ آپ ﷺ کے پیچھے لگائے جانے والے اعتراضات و الزامات سے بھی آپ ﷺ کو بری الذمہ قرار دیا گیا اور یہ وہ اعزاز ہے جو آپ ﷺ کے سوا کسی دوسرے نبی و رسول کو بھی نہیں دیا گیا۔ کسی ایک لگائے گئے الزام کے بعد نفی کی جاتی تو اس کا مفہوم یہ نکل سکتا تھا کہ اس ایک مخصوص الزام کی تردید کی جا رہی ہے لیکن جب بات عام کی گئی اور آپ ﷺ پر کسی بھی لگائے گئے الزام یا ضلالت وغوایت کے ذکر کرنے کے علاوہ ہی نفی کردی تو گویا مکمل طور پر نفی کردی گئی اور واضح کردیا کہ آپ ﷺ کبھی بھی نبوت آنے کے بعد کسی ایک امر میں بھی ضلالت و گمرہای اور غوایت کے مرتکب نہیں ہوئے اور نہ آنے والی زندگی میں اس کا کوئی شائبہ موجود ہے اس طرح گویا وہ باتیں جو انہوں نے آپ ﷺ کی طرف سادگی سے منسوب کردی ان سب کی نفی بھی کردی گئی کہ کسی نے آپ ﷺ پر تقسیم کے معاملہ میں کمی بیشی کا ذکر کردیا اور کسی نے صلح کے معاملہ میں جھک جانے کا ذکر کیا اور کہیں قیدیوں کو چھوڑنے اور اجازت نہ دینے کا موقع پر اجازت دے دینے اور کسی نے ایک کام نہ کرنے کے باوجود کردینے یا کرنے کے باوجود نہ کرنے کا ذکر کیا حالانکہ قرآن کریم نے آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کے بعد اس طرح کی ہر لغزش کی نفی کردی اور اس طرح صرف دو الفاظ (ماضل) اور (ماعوی) بول کر ایک بحر بیکراں کو زے میں بند کردیا۔ سبحان اللہ و بحمد سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور وہ تو اپنی خواہش (نفس) سے بات ہی نہیں کرتا

اور اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے تو کبھی خواہش نفس کی کسی سے بات ہی نہیں کی 3 ؎ انسان اور اس کی خواہش دونوں لازم و ملزوم ہیں ایک کا ہونا دوسرے کا ثبوت ہے۔ انسان ہے تو لاریب اس کی خواہش بھی موجود ہے اور جب خواہش ہے تو بلاشبہ انسان بھی ہے پھر نفی کس بات کی گئی ہے ؟ نفی ان خواہشات کی گئی ہے جن پر نفسانی خواہشات کا اطلاق ہوتا ہے اور وہ ہی جو جائز اور درست نہ ہوں لیکن ان کا پیدا ہونا کوئی برائی نہ ہو ہاں ! ان کا پورا کرنا برا ہو۔ اس جگہ کمالات کی بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کے اندر کسی ایسی خواہش کے پیدا ہونے کی نفی کی گئی ہے جس کا نطق سے اظہار ہو اور وہ خواہش انسان کے لئے محمود نہ ہو بلکہ مذموم ہو۔ اگر اس پر پوری طرح غور کیا جاتا جس طرح غور کرنے کا حق تھا تو آپ ﷺ کے حق کو محفوظ رکھنے کے لئے بیسیوں باتیں ایسی ہیں جن کا مفہوم لوگوں نے اپنی غلطی کے باعث صحیح نہیں سمجھا لیکن افسوس کہ جس کسی نے اس کو صحیح سمجھنے کی کوشش کی اس کو منفرد کہہ کر درخوراعتناء نہ سمجھا گیا۔ اس جگہ ہم تفصیل بیان نہیں کرسکتے۔ البتہ ایک واقعہ نقل کر کے بات کو ختم کردیں گے اور اگر اس ایک بات کو سمجھ لیا گیا تو باقی باتوں کو اسی پر محمول کرلیا جائے گا اگر کوئی اس پر محمول کرنا چاہے گا جیسا کہ حدیث میں ہے کہ : (عن جابر ان النبی ﷺ رای امراۃ فدخل علیٰ زینب فقضی حاجتہ فخرج و قال ان المراۃ اذا اقبلت اقبلت فی صورہ شیطان فاذا رای احد کم امراۃ فاعجبتہ فلیات اھلہ فان معھا۔ مثل الذی معھا ) الترمذی باب ماجاء فی الرجل بری المراۃ فتعجبہ) اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ : ” جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا تو اپنی بیوی زینب کے پاس سوئے اور اپنی حاجت پوری کی اور باہر نکلے تو فرمایا کہ عورت جب سامنے آتی ہے تو شیطان کی صورت میں آتی ہے لہٰذا اگر تم میں سے کوئی شخص کی عورت کو دیکھے اور وہ اسے اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے کیونکہ اسکے پاس بھی وہی کچھ ہے جو اس کے پاس ہے “۔ ہم اس کی ترجمانی اس طرح کرتے ہیں کہ ” جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے ایک بیوی کو دیکھا لیکن اس کے ہاں باری کی رات نہ تھی تو آپ ﷺ اپنی بیوی زینب ؓ کے پاس آئے۔ جس کی باری کی رات تھی “ بعد ازاں جب کبھی اس طرح کا موضع زیر بحث آیا تو آپ ﷺ نے عدل بین النساء کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ” اگرچہ ایسا ممکن ہے کہ شیطان انسان کو کسی ایسی بات کی طرف دعوت دے جس کا انسان کو حق نہیں۔ پس اگر تم میں سے کوئی ایسی بات سے دوچار ہوجائے تو وہ اپنی اس بیوی کی طرف آئے جس کی باری ہے کیونکہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کے پاس بھی ہے۔ “ اور اس سے استدلال اس طرح بھی کرسکتے ہیں کہ : ” اگر کسی شخص کے پاس دو یا دو سے زائد چار تک بیویاں ہوں اور وہ عدل و انصاف سے کام لیتے ہوئے ہر ایک کو برابر باری کا حق دے رہا ہو لیکن اگر اتفاق ایسا ہوجائے کہ کسی بیوی کی باری کے روز اللہ تعالیٰ کا حکم اس کو مانع ہو اور اس کو ازدواجی زندگی گزارنے کا احساس ہو تو چاہئے کہ وہ دوسری بیوی کے ہاں اپنے احساس کا ازالہ کرلے اور شیطان کے بہلاوے میں نہ آئے کیونکہ وہ اس کو اس بیوی کی طرف مائل کرسکتا ہے کہ وہ حکم الٰہی کی نافرمانی کرتے ہوئے اپنے احساس کا ازالہ اس جگہ کرے کہ شاید دوسری جگہ بھی یہی کچھ ہو جو یہاں ہے کیونکہ شیطان اس طرح کی کار ستانیاں دکھاتا رہتا ہے۔ “ ایسا کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم کی آیت اس پر گواہ ہے کہ کوئی نبی و رسول بھی اپنی خواہش نفس سے کام نہیں لیتا اور خصوصاً نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق ایسا خیال کرنا بھی حرام اور گناہ ہے کیونکہ ایسے معاملات تو کسی انسان کے ساتھ بھی اتفاقاً پیش نہیں آتے بلکہ ان کے لئے اس سے پہلے بہت کچھ ہو چکتا ہے تب معاملہ اس حد تک پہنچتا ہے کبھی اتفاقی نظر سے اس طرح کا ہیجان پیدا نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اور احادیث رسول نے اتفاقی نظر کو بدنظر میں شامل نہیں کیا۔ بدنظری وہ ہوتی ہے جو اتفاقی نظر کے بعد آنکھ خیانت کرتی ہے تو پھر یہ خیانت کسی دوسرے شخص کے بارے میں تسلیم کی جاسکتی ہے خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو لیکن ایک نبی و رسول کے بارے میں تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ رہا ترجمہ کا معاملہ تو اس کے متعلق سمجھ لینا چاہئے کہ (رای امراہ) میں تنوین عوض مضاف الیہ ہو کہ امرائتہ ہے یا امراۃ من نساء ؟ مقصود ہے جو عربی قاعدہ کے مطابق ہے یعنی آپ ﷺ نے اپنی عورتوں میں سے کسی کو دیکھا اور پھر وعظ و درس کی بات بوقت ضرورت ارشاد فرمائی نہ کہ اسی قت ازالہ خواہش کے بعد جیسا کہ مقام ترجمہ سے واضح دکھائی دے رہا ہے۔ احادیث کے انہی تراجم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور لوگوں کی زبانیں دراز کردی ہیں کہ جہاں احتیاط چاہئے تھی نہیں کی گئی حالانکہ ایک زبان کا ترجمہ دوسری زبان میں کرتے وقت ان چیزوں کا خیال بہت ضروری ہوتا ہے اور بعض اوقات صرف لب و لہجہ کا خیال نہ کیا جائے تو مفہوم کچھ کا کچھ ہوجاتا ہے۔ مذکورہ احادیث مسند دارمی عبداللہ بن مسعود سے اور مشکوٰۃ شریف میں اسی حوالہ سے باب النظر الی المخطویۃ ص 269 پر بیان کی گئی ہے اور مشکوٰۃ کے حاشیہ کی عبارت پڑھنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی اکثریت نے اس سے اتفاقی نظر مراد لی ہے لیکن اس سے معاملہ صاف نہیں ہوا اور نبوت و رسالت کا احترام ملحوظ نہیں رکھا گیا اور انہی حاشیوں نے اس طرح کی باتوں کو مزید بگاڑنے میں بہت کام کیا ہے اور اس طرح بات بگڑتے بگڑتے کچھ سے کچھ ہو کر رہ گئی ہے اور احادیث کے تراجم میں یہ بات عام ہے۔ والی اللہ المشتکی ۔ واللہ المستعان علی ماتصفون۔
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

بلکہ وہ تو اس (اللہ) کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے

بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی وحی ہے 4 ؎ یہ آیت گزشتہ آیت کی مزید وضاحت بیان کر رہی ہے کہ آپ ﷺ کی خواہش نفس یعنی حرص و ہوا سے خالی ہونا کسی ایک بات کے بارے میں نہیں بلکہ عام ہے یعنی ایک اصولی بحث ہے جس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں ہے۔ آپ ﷺ کبھی بھی کوئی بات خواہش نفس سے نہیں کرتے بلکہ آپ ﷺ جو کچھ بولتے ہیں وحی الٰہی کے مطابق بولتے ہیں اور یہ بات کہ وحی کیا ہے ؟ نبوت و رسالت کے اشارات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے ہونے والے نبی و رسول کے لئے مخصوص تھے جن کی پوری کیفیت ہم واضح الفاظ میں پیش نہیں کرسکتے کیونکہ جو چیز مشاہدہ میں آنے والی نہ ہو اس کے متعلق جو کچھ بھی کہا جائے گا وہ ایمان باللہ اور ایمان بالرسات ہی کے تحت کہا جاسکتا ہے اور ظاہر ہے کہ نبوت کا دیباچہ یہ تھا کہ خواب میں آپ ﷺ پراسرار منکشف ہوتی اور جو کچھ آپ ﷺ خواب میں دیکھتے تھے بعینہ وہی پیش آتا تھا۔ (صحیح بخاری کتاب اول مابد ‘ رسول اللہ ﷺ من الوحی الرویا الصالحۃ فی النوم) اور رفتہ رفتہ وہ ناموس اکبر آپ ﷺ کے حاسہ میں نے لگا اور اس کا فرضی وجود قائم ہوگیا کیونکہ کوئی فرشتہ بھی اپنا اصل اور واضح وجود نہیں رکھتا کیونکہ وہ جسمانی مخلوق نہیں ہے کہ اس کا کوئی حقیقی وجود تصور کیا جائے اور آخر اس کا یہ ہے کہ ایک خاص خاصیت و کیفیت کی بعد فرشتہ ایک بات آپ ﷺ کے دل پر نازل کرتا یعنی اتارتا اور اس کیفیت سے جب آپ ﷺ باہر آتے تو دل میں ڈالا گیا کلام اپنی زبان اقدس سے کاتبان وحی میں سے جو حاضر ہوتا تحریراً لکھوا دیتے اور لاریب وہ کلام الٰہی ہوتا اور نطق آپ ﷺ کے دل میں بھی محفوظ ہوتی جاتی اور دماغ میں بھی اور اس تحریر میں بھی جس میں یہ تحریر کرایا جاتا۔ جب یہ بات واضح کی گئی کہ آپ ﷺ حرص و ہوا سے کوئی بات بھی نہیں کرتے تو اس پر یہ سوال قدرتی پیدا ہوتا ہے کہ پھر یہ قرآن کریم ہے کیا ؟ اس کا یہ جواب ہے کہ وحی الٰہی ہے اور اس طرح ہو کی ضمیر قرآن کریم کی طرف راجع ہے اور نطق سے مراد وہی نطق ہے جو نازل ہوا عام بول چال اور مافی الضمیر جس کا اظہار بہرحال انسان زبان ہی سے کرتا ہے وہ مکمل مراد نہیں ہے۔ جس طرح ایک جج جج ہی ہے خواہ وہ سویا ہوا ہو یا جاگتا ہو ‘ کھاتا پیتا ہو یا اوڑھتا پہنتا ہو لیکن اس کا فیصلہ اسی کو کہا جائے گا جو وہ عدالت میں بھٹخ کر فیصلہ کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے ارشاد کرے نہ کہ ہر وقت کی بول چال اور ہر مجلس کی بات فیصلہ تسلیم کی جائے گی۔ ہاں ! اس کا احترام ایک بالکل دوسری بات ہے اور وہ ہر حال میں ہوگا۔ یہی حالت نبوت و رسالت کا ہے کہ آپ ﷺ کے بارے میں ایک سے زیادہ بار یہ سوال کیا گیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے یہ حکم دیا ہے یا مشورہ طلب کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے جو ارشاد فرمایا ہے اس کے متعلق کچھ ہم بھی مرضی کرسکتے ہیں ؟ پھر آپ ﷺ نے اس کی اجازت بھی دی کہ ہاں ! جو کچھ کہنا چاہو کہہ سکتے ہو اور بعض اوقات آپ ﷺ نے اپنی رائے کے برعکس دوسروں کی رائے کو قبول فرماتے ہوئے اس پر عمل بھی کیا۔ ان ساری باتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس نطق سے مراد وہی نطق ہے جو وحی الٰہی یعنی قرآن کریم یا اس کی تھیوری (Theory) کے پریکٹیکل میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمائی یعنی ایک وحی الٰہی ہے جو آپ ﷺ نے تلاوت فرمائی اور اس کو باضابطہ طور پر تحریر کرایا اور دوسری اس کی وضاحت ہے جو کہ قرآنی حکم کی آپ ﷺ نے فرمائی اور اسی کے مطابق امت کو عمل کر کے بتا دیا۔
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اس کو زبردست قوت والے نے سکھایا ہے

اس کو بہت زبردست قوت والے نے سکھایا ہے 5 ؎ وہ کون ہے جو مضبوط قوتوں والا ہے ؟ اس کائنات کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا ہے خواہ وہ ہے جو نظر آتی ہو اور خواہ وہ ہے جو انسانی ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی لیکن عقل اس کو دیکھتی ہے۔ اس مخلوق میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی قوت رکھی ہے اور اس کی مخلوق کی قوت کا پورا اندازہ ابھی انسان نہیں لگا سکا اور شاید کبھی بھی نہ لگا سکے۔ نہ نظر آنے والی چیزوں میں صرف ایک ہوا کو لے لیں کیا اس کی قوت کا اندازہ ابھی تک انسان لگا سکا ہے ؟ یقینا نہیں پھر ہوا ایک ہی قسم کی ہے ؟ نہیں اس کی بہت سی اقسام ہیں کیونکہ جتنی گیسیں دریافت ہوتی ہیں ان کی قوتوں کا بھی انسان مکمل طور پر اندازہ نہیں کرسکا بلکہ ابھی تک وہ مکمل طور پر دریافت ہی نہیں ہو سکیں اور ابھی کتنی ہیں جن کو دریافت ہونا ہے اور لاریب وہ اس فضا میں فضا کے ان سیاروں میں بلکہ ان سے اوپر اور اس زمین کی سطح کے نیچے دبی پڑی ہیں اور قرآن کریم کے اشارات و استعارات ان کا کھلا پتہ دے رہے ہیں لیکن اس ساری کائنات میں سے افضل واعلیٰ وہ مخلوق ہے جس کو انسان کا نام دیا گیا ہے جو ان کو دریافت کرنے کے درپے ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور طاقتوں کو مشاہدہ میں تبدیل کر رہا ہے۔ لیکن ان ساری قوتوں اور طاقتوں سے ارفع و اعلیٰ طاقت و قوت اسی رب ذوالجلال والاکرام کی ہے جو ان ساری طاقتوں اور قوتوں کا خالق ومالک ہے۔ انسان چونکہ مکلف ہے اس کو بذریعہ وحی سمجھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنی طاقتیں اور قوتیں مخلوق کی ہیں ان میں سے ایک مخلوق بھی اییا نہیں جس کو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہو اس میں سے جتنا اور جیسا کیسا حصہ بھی ملا ہے وہ فقط اس حضرت انسان کو ملا ہے جو اپنی بود و باش اور معاشرت کے لحاظ سے دو اصناف میں تقسیم کیا گیا ہے وہ جو مدنی الطژبع ہے اس کا نام تو انسان ہی رہا لیکن جو بدوی و سفری طبع ہو کر پہاڑوں اور جنگلوں میں رہنا پسند کرتا ہے اس پر مکلف ” جن “ کا اطلاق کیا گیا ہے اور چونکہ دونوں کا اصل ایک ہے اس لئے اس کی اصل ہی سے انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کا سلسلہ جاری کیا گیا تھا جو نبیا عظم و آخر ﷺ پر لا کر ختم کردیا گیا ہے۔ سارے نبیوں اور رسولوں کی طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو بھی تعلیم دینے والا اور علم سکھانے والا براہ راست اللہ تعالیٰ ہے۔ آپ ﷺ نے بھی وہ کچھ سیکھا جو دنیا کے کسی انسان کو نہ سکھایا گیا اور آپ ﷺ نے وہ پڑھا جو دنیا کے کسی ایک انسان کو بھی نہ پڑھایا گیا لیکن آپ ﷺ نے جو سیکھا اور جو پڑھا براہ راست رب ذوالجلال والا کرام سے پڑھا اور سیکھا۔ ہاں ! اللہ رب کریم کی سکھانے اور پڑھانے کی قوت کا نام جبریل ہے جو کوئی مرئی چیز نہیں بلکہ محض ایک قوت و طاقت ہے جیسے دوسرے ان گنت فرشتے ‘ ہاں ! ان ساری قوتوں اور طاقتوں سے بڑی طاقت اور قوت کا نام جبریل (علیہ السلام) ہے اور ایک حقیقت کی وضاحت کے لئے ضروری تھا کہ اس کا کوئی نام رکھا جائے جیسا کہ دوسری طاقتوں اور قوتوں کے نام رکھے گئے ہیں اور ان میں سے جو طاقت اور قوت دریافت ہوتی ہے اس کا ایک نام قرار پا جاتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ دنیا کی جتنی اشیاء ہیں سب کے ناموں کی شناخت اور پہچان اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ودیعت کردی ہے اسی لئے جب بھی اس کا اظہار ہوگا تو اس کا فاعل حقیقی وہی اللہ تعالیٰ قرار پائے گا انسان کا کمال محض یہ ہے کہ اس نے اس کو دریافت کیا ہے اور اس لئے دریافت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں دریافت کرنے کی صلاحیت ودیعت کردی ہوئی ہے۔ زیر نظر آیت میں (علمہ) کی ضمیر تو بالاتفاق محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے لیکن اس کا فاعل کون ہے ؟ اس میں زیادہ تر مفسرین نے جس کا اظہار کیا ہے وہ یہی ہے کہ وہ فرشتہ جبریل ہے جس کو (شدید القوی) کا لقب دیا گیا ہے۔ لیکن مخلوق میں سے کسی کی صفت (شدید القوی) ہو اس سے زیادہ بہتر اور دل کو لگتی بات خود ذات رب ذوالجلال والا کرام ہی کی ہے کہ وہ زبردست قوتوں کا مالک حقیقی ہے جس نے جبریل جیسی صاحب قوت شخصیت کو پیدا کردیا ہے پھر یہ بھی کہ ایک بندے اور بندے کی ملاقات کے ذکر کے لئے اس قدر بلندیوں میں لے جا کر کیا جائے جب کہ اس کا نزول ایک مدت دراز تک پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ رہی یہ بات کہ یہ اسی فرشتہ کی اصل شکل و صورت دکھانے کا ذکر ہے تو اس کے متعلق ہم اپنا نظریہ پہلے عرض کرچکے ہیں کہ ان طاقتوں اور قوتوں کی اپنی اصل شکل ہوتی ہی کیا ہے ؟ وہ تو متشکل ہونے ہی سے نظر آتی ہے جیسا کہ ہم ہوا کی مثال سے اوپر اس کی وضاحت کرچکے ہیں اس لئے ہم تو یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ جو زبردست قوتوں والا دانا و بینا ہے اس نے اپنے بندہ محمد رسول اللہ ﷺ کو قرآن کریم کی تعلیم دی اس کی وضاحت خود قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح کردی کہ (الرحمن ‘ علم القرآن) ” رحمن نے اس قرآن کریم کی تعلیم دی ہے “۔ (55 : 1 ‘ 2) (الذی علیم بالقلم ‘ علم الانسان مالم یعلم ) (96 : ‘ 4 ‘ 5) ” وہ ذات جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا ‘ انسان کے اندر صلاحیتیں رکھنے والا وہ خود اللہ رب کریم ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے کہ اپنے لکھنے پڑھنے کی نسبت بھی اسی اللہ رب ذوالجلال والا کرام ہی کی طرف کی جائے جس نے انسان کے اندر اس طرح کی قوتیں ودیعت کی ہیں پھر تعجب ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ کے تعلیم حاصل کرنے کا ذکر آئے تو اس کی نسبت ایک مخلوق کی طرف کردی جائے حالانکہ نبوت و رسالت کی صلاحیتیں بھی تو اللہ تعالیٰ ہی کی ودیعت ہوا کرتی تھیں کسی انسان کی تربیت وتعلیم سے تو یہ عہدہ مل ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ وہبی اور عطائی چیز تھی نہ کہ کسی اور کمائی ہوئی۔ ہمیں تعجب ہے کہ مفسرین کی اکثریت نے اگر ایسا کہا ہے تو کیا کثرت کو مزید کثرت دینا لازم و ضروری ہے یا قرآن کریم کی حقیقی روح تک پہنچنا زیادہ ضروری ہے ؟ غور کرو کہ آلات کی انسان کو کتنی ضرورت ہے لیکن اگر کہیں آلات اور انسان کا مقابلہ شروع ہوجائے تو اہمیت کس کو دی جائے گی ؟ ظاہر ہے کہ انسان کو کیونکہ انسان کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو آلات خود بخود بیکار ہوجاتے ہیں اور ان کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔ غور کرو کہ نبوت و رسالت ایک اتنا بڑا اعزاز ہے کہ جبریل اس کے لئے آلہ کا کام دیتا ہے اور آلہ کتنا ہی قیمتی اور کتنا ہی طاقت و قوت والا ہو بہرحال آلہ ہے نبوت کے سامنے اور رسالت کے سامنے وہ کیا چیز ہے ؟ یہ بیان مسلسل اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس اور اللہ کے بندے محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہے اور جبریل ہیں تو وہ محض ایلچی اور خادم کی حیثیت سے ساتھ ہیں۔ رہی یہ بات کہ اللہ رب کریم اور بندہ کے درمیان کوئی فاصلہ ہی کب ہے کہ اس کے لئے کوئی سفر درپیش ہو ؟ لاریب انسان اور اللہ کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں اور یہی بات اس میں تفہیم کرائی گئی ہے کہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا مشاہدہ بھی کرایا گیا اور جگہ بھی نہیں بدلی گئی گویا یہ ایک ایسا سفر تھا جس میں اصل جسم تو وہیں کا وہیں رہا اور مثالی جسم نے روح کا وہ ساتھ دیا جو اصل جسم دیتا ہے اور اصل جسم سے کوئی بات پوشیدہ بھی نہیں رہی اور یہ رب ذوالجلال والا کرام کی اسی معیت ہی کے باعث ہوا جو انسان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے اگر وہ قریب نہ ہوتا تو یہ ملکوت السموات والارض کی سیر کیونکر ممکن ہوتی۔ غور کرو کہ آپ ﷺ اس جگہ موجود رہے جہاں آپ ﷺ آرام کرنے کی خاطر لیٹے تھے اور حالت بیداری اور قوم کے درمیان یہ ساری سیر بھی کی گئی اور زندگی کا پورا پروگرام بھی آپ ﷺ کو پیش کردیا گیا اور اعمال کے نتائج بھی آپ ﷺ کو مشاہدہ کرا دیئے گئے اور عالم دنیا اور عالم آخرت کا ایک پر تو آپ ﷺ کے سامنے پیش کردیا گیا اور اس وسیع پروگرام کے مشاہدہ کے لئے وہ مقام ہونا ہی چاہئے تھا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے اور اس میں یاد رکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ جو کچھ ہوا وہ بین النوم والبقضان ہوا اور اس کی برق رفتاری کی طرف ” براق “ نے اشارہ کردیا۔ اس کی وضاحت میں جو احادیث آئی ہیں ان میں اس کا ذکر اول تا آخر موجود ہے۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو بڑا زور آور اور قائم ہونے والا ہے

یہ اس نے کیا جو بڑا زور آور اور قائم رہنے والا ہے 6 ؎ (ذومرہ) ذو کے معنی والا یعنی صاحب کے ہیں اور یہ اسم ہے اس کے ذریعہ اسماء اجناس و انواع کو موسوم کیا جاتا ہے یہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیریائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو پیش کی حالت میں لایا جاتا ہے۔ علامہ سہیل کہتے ہیں کہ ” دو “ کے وصف میں صاحب کے وصف کی بہ نسبت زیادہ بلاغت ہے اور اس کے ذریعہ اضافت میں زیادہ شرف ہے کیونکہ ذو تابع کی طرف مضاف ہوتا ہے اور صاحب متبوع کی طرف جیسے بولتے وقت ہم بولیں گے کہ ابوہریرہ صاحب انہیں اور اس کو یوں نہیں بولیں گے۔ النبی صاحب ابی ہریرۃ لیکن ” ذو “ کے ساتھ جب ذوالمال اور ذوالعرش کہیں گے تو یہ پہلا اسم آپ کو متبوع ہی ملے گا تابع نہیں “ اور (دو ) کا استعمال اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے عام ہے۔ جیسے (ذوالفضل العظیم ذوالرحمتہ) وغیرہ (مرۃ) کی اصل م ر رہے اور (مرۃ) قوت اور عقل کو کہتے ہیں۔ صاحب قوۃ اور صاحب عقل کلی اور یہ وہی ذات اقسد ہے جس کی صفت میں گزشتہ آیت میں (شدید القوی) کہا گیا اور سورة الذاریات میں (ان اللہ ھوالرزق ذوالقوۃ المتین) کہا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات اقدس جو مادی قوتوں کا مالک اور صاحب عقل کل ہے۔ قوت اسی سے ہے اور عقل بھی اسی سے ہے جو خود طاقت ور ہے کہ اس کی طاقت و قوت عطائی نہیں ہے۔ (مرۃ) قوت ‘ شدت ‘ پختگی اور مضبوط کرنا ہے۔ (قاموس) طاقت و قوت میں کون سخت ہے ؟ اللہ تعالیٰ ۔ ہرچیز کو مضبوط کرنے والا کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا مضمون ہی اشارات و استعارات اور محاورات و امثال پر مشتمل ہے۔ اور اس ایک ایک اشارہ و استعارہ میں اتنا اتنا مضمون بند ہے کہ اگر اس کو کھولا جائے تو ایک مستقل جلد تیار ہوجائے اور پھر یہ بھی کہ ایک ادن دیکھی اور اس سمجھی بات کو بیان کرنے کے لئے اشارہ و استعارہ ہی سے کام لیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ باتیں مشاہدہ میں آنے والی نہیں ہیں بلکہ ایک اشارہ کو دوسرے اشارہ سے اور ایک استعارہ کو دوسرے استعارہ ہی سے بیان کیا جاسکتا ہے اور اسی طرح اس کو بیان کیا گیا ہے۔ غور کرو کہ (ذومرۃ) کے بعد (فاسعوی) کا لفظ ہے گویا پہلا اشارہ کیا تھا کہ اب دوسرا اس کی جگہ آگیا جو پہلے اشارہ سے بھی زیادہ گہرا اشارہ ہے۔ استوی اس نے قصد کیا۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا بیٹھا استواء ماضی کا صیغہ مذکر غائب ہے اللہ تعالیٰ کے لئے (اسعراء علی العرش) کے الفاظ دوسری جگہ قرآن کریم میں بولے گئے ہیں لہٰذا اس سلسلہ میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی صفات میں بیان کئے گئے ہیں اور مخلوق کے اوصاف میں بھی ان کا ذکر ہوا ہے جیسے (حی ‘ سمیع) اور (بصیر) وغیرہ الفاظ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے بولے گئے ہیں اور انسانوں کے لئے بھی لیکن دونوں جگہ ان کے استعمال کی حیثیت بالکل جداگانہ ہے کسی مخلوق کو سمیع وبصیر کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اس کے پاس دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان موجود ہیں۔ اب اس جگہ دو چیزیں ہوئیں ایک تو وہ آلہ جو سننے اور دیکھنے کا مبدا اور ذریعہ ہے یعنی کان اور آنکھ دوسرا اس کا نتیجہ اور غرض وغایت یعنی وہ خاص علم جو آنکھ سے دیکھنے اور کان کے سننے سے حاصل ہوتا ہے پس جب مخلوق کو سمیع وبصیر کہا جائے گا تو اس کے لئے یہ مبدا اور غایت دونوں چیزیں معتبر ہوں گی جن کی کیفیت ہم کو معلوم ہے لیکن یہی الفاظ جب اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے لئے استعمال کئے جائیں گے تو یقینا ان سے وہ مبادی اور کیفیات جسمانیہ نہیں ماد لئے جائیں گے جو مخلوق کے خواص میں داخل ہیں اور جن سے اللہ رب کریم عزاسمہ قطعاً منزہ ہے البتہ یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ سمع و بصر کا مبدا اس ذات اقدس میں بدرجہ اتم موجود ہے اور اس کا نتیجہ یعنی وہ علم جو رویت و سماع سے حاصل ہوتا ہے اس کو بدرجہ کمال حاصل ہے اور دیکھنے اور سننے کی کیا کیفیت ہے تو ظاہر ہے کہ اس سوال کے جواب میں بجز اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ دیکھنا اور سننا مخلوق کی طرح نہیں اور اسی طرح اس کی تمام صفات کو سمجھنا چاہئے کہ صفت باعتبار اپنے اصلی مبدا وغایت کے ثابت ہے مگر اس کی وہ کیفیت بیان نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کسی آسمانی شریعت نے انسان کو کبھی اس پر مجبور کیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ ان حقائق میں غور و فکر کر کے جو اس کی عقل و ادراک کی دسترس سے باہر ہیں بیکار اپنے عقل و دماغ کو پریشان کرے اسی اصول پر (اسعوی علی العرش) اور مطلق (اسعوی) کو بھی سمجھ لینا چاہئے۔ بلاشبہ (استوی) کا ترجمہ ” تمکن و استقرار “ یعنی قرار پکڑنے اور قائم ہونے ہی سے کیا ہے اس کی وضاحت ہم عروہ الموثقی ‘ جلد سورم سورة الاعراف کی آیت 54 ‘ جلد چہارم سورة یونس کی آیت 3 ‘ ‘ سورة الرعد کی آیت 2 ‘ جلد پنجم سورة طٰہ کی آیت 5 ‘ جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 59 ‘ جلد ہفتم سورة السجدہ کی آیت 4 میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور سورة الشوریٰ کی آیت 11 میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ لیس کمثلہ میں جس طرح اس کی ذات کی مانند کوئی چیز نہیں اس کی صفات کی مثل بھی ممکن نہیں ہے۔ پھر جب واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہونے کے باوجود انسان کے برابر اور محاذ میں نہیں تو (استوی) میں برابر اور محاذ آخر کیوں مراد لیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے آسمان اول میں آنے سے جب اس کا اتار چڑھائو مراد نہیں تو اس افق اور استوی میں اس کا نزول اس طرح کا کیوں مراد لیا جائے گا جو عام مخلوق کے حق میں مراد لیا جاتا ہے۔ اس میں آخر وہ کونسی بات ہضم ہونے والی نہیں جس سے ذات باری کا انکار کر کے اس جگہ جبریل مراد لیا جائے یا یہ کہ اس کو مراد لینا ضروری ٹھہرے۔ جب ایک بار یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ جو واجب الوجود ہے کسی جسم کا محتاج نہیں اور نہ وہ جسم رکھتا ہے تو اس کی صفات میں آخر جسم کا تصور کیونکر جائز ہو سکتا ہے ؟ پھر ایک بات کو ایک بار کرنے کی بجائے اگر ایک ہزار بار کہی جائے تو کیا اس میں فرق آجائے گا۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ افق اعلیٰ پر تھا

اور وہ افق اعلیٰ یعنی آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا 7 ؎ جب یہ بات طے ہے کہ یہ سفر جو بین النوم والیقظان کیا گیا جسم مثالی اور روح کے کے جوڑ سے طے ہوا ہے اور یہ الفاظ ہم محض تفہیم کے لئے بولنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے احاطہ عقل میں نہ آنے والی حقیقت کا بیان کرنا مقصود ہے اس میں ایک بلانے والا ہے اور ایک بلایا گیا ہے اور ایک بلا کر لانے والا ہے اس لئے جہاں بلانے والے کا ذکر ہوگا وہاں ضمائر اس کی طرف پھریں گی اور جہاں بلائے گئے کی بات ہوگی وہاں ضمائر بلانے والے کی طرف پھریں گی اور اسی طرح جہاں بلا کر لانے والے کا ذکر آئے گا تو ضمائر خود بخود اس کی طرف پھرتی چلی جائیں گی اور ان اشارات و استعارات کے لئے ضمائر کا آنا ہی ضروری تھا۔ گزشتہ آیت میں ہمارے خیال میں بلانے والے یعنی اللہ رب کریم کا ذکر تھا اور اب بلائے جانے والے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ افق اعلیٰ یعنی آسمان کے بلند ترین کنارہ پر پہنچ گئے اور (افق اعلیٰ ) اس کا نام محض اس لئے رکھا گیا کہ انسان کے ذہن کی رسائی اس سے آگے ممکن نہیں ہے اور انسان کا تخیل بھی اس جگہ جا کر رک جاتا ہے اس لئے آپ ﷺ وہاں تک گویا پہنچ گئے جہاں تک انسانی عقل و فکر کی رسائی ممکن ہے اور جس سے آگے کی حدود انسانی عقل میں آنے والی نہیں اور ان مشاہدات کا وہاں تک پہنچ کر رک جانا ضروری ہے۔ انسان کتنی ہی بلندی پر رسائی حاصل کرلے لیکن اس کے آگے اس کی رسائی ممکن نہیں ہے اور یہی آنے والے اور اس دنیا میں ہونے والی ترقیوں کی انتہا ہے جہاں سے آگے انسان کے قدم نہیں چل سکیں گے خواہ وہ کوئی ہو ‘ کون ہو اور کہاں ہو اسی مقام کو قرآن کریم نے (افق اعلیٰ ) قرار دیا ہے یہ کتنے سیارگان سے آگے ہے اس کی ہقیقت کو صرف اور صرف اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہی جانتا ہے اس کا نام اگر دنیا ہے تو کوئی ” لامکان “ کہے اور کوئی ” لاہوت “ قرار دے اور چاہے جو الفاظ اس کے لئے اختیار کری بہرحال چونکہ اس کی ایک حد مقرر کی گئی ہے خواہ ہم میں سے اس کی نوعیت حقیقت کو کوئی سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے بہرحال اس کی ضمیر اللہ رب کریم کی طرف راجح نہیں بلکہ نبی اعظم و آخر سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ہی مراد لئے جاسکتے ہیں اگرچہ اس جگہ بھی مراد اکثریت نے جبریل (علیہ السلام) ہی لئے ہیں لیکن ہم نے اپنی تفہیم آپ ﷺ کے سامنے واضح کردی ہے ۔ آپ حضرات سے ہمارا کوئی تقاضا نہیں جو بات آپ کی سمجھ میں آتی ہے وہ آپ مراد لے سکتے ہیں جہاں وسعت موجود ہے ہم اس وسعت کو تنگ کرنے کیلئے کسی حال میں تیار نہیں۔ ہاں ! جوں جوں آگے چلیں گے مضمون ان شاء اللہ مزید کھلتا جائے گا اور اسی وسعت میں مزید وسعت پیدا ہوتی جائے گی۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوا (مزید) آگے بڑھا

پھر قریب ہوا اور مزید آگے بڑھا 8 ؎ قریب کون ہوا ؟ جس کو بلایا گیا تھا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کس کے قریب ہوئے ؟ بلانے والے کے یعنی رب ذوالجلال والاکرام کے۔ ” دنی “ وہ نزدیک ہوا۔ وہ قریب ہوا۔ ذنو سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ (فتدلی) کا اصل مادہ دل و ہے جس کے معنی اترنے اور شکنے کے ہیں۔ تدلی وہ اتر آیا ‘ وہ لٹک آیا اور اس کا مآحصل مزید قریب ہونا ہی ہو سکتا ہے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کا قرب پہلے ہی کتنا ہے کہ اس سے زیادہ قرب کسی اور کو حاصل نہیں جو قرب بندہ اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا ہے اس کا ذکر پیچھے سورة ق کی آیت 19 میں گزر چکا ہے اور سورة الواقعہ کی آیت 85 میں مزید وضاحت آئے گی ان شاء اللہ العزیز اور نبی اعظم و آخر ﷺ کا قرب تو بہرحال دوسرے انسانوں سے بہت ہی زیادہ قریب کا ہے پھر جب احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ جب بندہ اللہ کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود بندہ کے قریب آنے میں انسان سے بھی جلدی اور زیادہ قریب آتا ہے اور یہ بات روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہے کہ یہ قرب مکان و زمان کا قرب نہیں بلکہ یہ وہ قرب ہے جو سجدہ ریزیوں اور فرمانبرداریوں کا مآحصل ہوتا ہے اور جو مکان و زمان کے قرب سے بےنیاز کردیتا ہے جس کو نہ تو زبان بیان کرسکتی ہے اور نہ قلم کے نوک سے اس کو نکالا جاسکتا ہے اور اس کی صحیح تصویر وہی سمجھتا ہے جس کو وہ حاصل ہوتا ہے گویا عطا کرنے والا جانتا ہے یا وہ جانتا ہے جس کو عطا کیا جاتا ہے۔ غور کرو کہ اس قرب کو قرآن کریم نے کس انداز میں بیان کیا پھر اس کی ایک جھلک آنے والی آیت مزید پیش کر رہی ہے۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پھر دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا

وہ قرب دو کمانوں کے برابر ہوا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا 9 ؎ (قاب) کے معنی ہیں اندازہ ‘ مقدار یا کمان کے قبضہ سے نوک تک کا فاصلہ یعنی آدھی کمان کی لمبائی۔ (تاج العروس ‘ راغب ‘ معجم) اہل عرب کسی مسافت کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف الفاظ بولتے تھے مثلاً کمان کے برابر ‘ ایک نیزے کے برابر ‘ ایک کوڑے کے برابر ‘ ہاتھ کے برابر ‘ بازو کے برابر ‘ باع کے برابر ‘ بالشت بھر وغیرہ وغیرہ اور (قالب ‘ قومین) میں لفظی قلب بھی تسلیم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اصل میں یہ لفظ ” قابی قوس “ تھا یعنی کمان کے دو قاب کے برابر۔ ایک کمان کے دو قاب ہوتے ہیں یعنی وسطیٰ قبضہ سے دونوں طرف کے حصے برابر ہوتے ہیں اور دو قاب پوری کمان کے برابر ہوگئے۔ (معجم القران ) صاحب منتہی الارب نے بھی آیت میں لفظی قلب مکانی نقل کی ہے لیکن (قاب) کے معنی اندازہ اور مقدار بھی لکھا ہے اور محلی نے بھی مقدار ترجمہ کیا ہے۔ لیکن یہاں قرآن کریم کی تفسیر ہو رہی ہے اور قرآن کریم کسی لگت کا محتاج نہیں کیونکہ وہ خاص عربی زبان ہے اور کوئی زبان بھی لغت کی محتاج نہیں ہوتی بلکہ لغت زبان کے مطابق تیار کی جاتی ہے اور اس کی وضاحت ہم پیچھے بہت سے مقامات پر کرچکے ہیں اس جگہ ہمارے خیال میں نہ قلب مکانی کہنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی دو کمانوں کے برابر فاصلہ قرار دینے کی کوئی ضرورت ہے کیونکہ اس جگہ کلام کی بنا عرب کے رواج اور دستور پر ہے جو اہل زبان تھے۔ عربوں میں جب دو شخص گہری دوستی اور ایک روح دو قالب ہونے کا پیمان باندھتے تھے تو ہر ایک اپنی کمان نکال کر لاتا تھا۔ پھر دونوں کمانوں کو اس طرح ملا دیا جاتا تھا کہ دونوں کے قبضے مل جاتے تھے ‘ گوشے مل جاتے تھے ‘ تانت مل جاتی تھی گویا دونوں کمانیں جڑ کر ایک ہوجاتی تھیں۔ پھر دونوں کو ملا کر ایک تیر پھینکا جاتا تھا جس کا مطلب یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم دونوں ان دونوں کمانوں کی طرح ایک ہوگئے اور دونوں یک جان ہو کر دسمن کا مقابلہ کریں گے ایک کسی سے صلح کرے گا تو دوسرے کو بھی صلح ماننی پڑے گی اور اگر ایک کی کسی سے جنگ ہوگی تو دوسرے کی بھی جنگ سمجھی جائے گی۔ (کذا نقل عن مجاہد) اس طرح مطلب بالکل واضح اور صاف ہوگیا کہ عام لوگوں کے لئے تو رب کریم (حبل الورید) سے قریب ہے اور آپ ﷺ کے لئے اس طرح قریب ہے جس طرح دو کمانیں قریب ہوتی ہیں جب انہیں ملایا جاتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اگر قرب کے لئے کوئی مثال دی جاسکتی ہے یعنی محاورہ میں اگر کوئی مزید گنجائش ہو سکتی ہے اور یہ وہی چیز ہے جس کے متعلق قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ (وما رمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی ) (8 : 17) ” اے پیغمبر اسلام ! جب تم نے مٹھی بھر کر پھینکی تھی تو حقیقت میں تم نے نہیں پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی۔ “ (فلم تقتلوھم ولکن اللہ قتلھم) (8 : 17) ” پھر کیا تم نے ان کو قتل کیا ؟ نہیں بلکہ ان کو اللہ نے قتل کیا “ اور اس طرح کی مثالیں اور بھی قرآن کریم سے پیش کی جاسکتی ہیں۔ پھر اس قرب میں کیا ہوا ؟ اس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اپنے بندہ کی طرف جو وحی کرنا چاہی وہ کی

پھر وحی کی جو اپنے بندہ کی طرف وحی کرنا چاہی 10 ؎ (اوحی) کا فاعل کون ہے ؟ کہا گیا ہے کہ (اوحی) کا فاعل جبریل (علیہ السلام) ہیں اور (عبدہ) کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندہ کی طرف وحی کی جو وحی کی اور پھر بعض نے پہلے (اوحی) کا فاعل جبریل اور دوسرے (اوحی) کا فاعل اللہ تعالیٰ بتایا ہے اور ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندے کو وحی کی جو اللہ تعالیٰ نے جبریل پر وحی کی تھی اور ہمارے نزدیک سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح کا قرب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان ہوگیا جس کا ذکر دوسرے بندوں کے استعارہ سے ہٹ کر استعارہ استعمال کیا گیا تو مطلب یہ نکلا کہ اللہ رب کریم نے وحی کی اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف جو وحی کرنا چاہی یا جو وحی کی۔ گویا اس وحی کی تفصیل کا ذکر اس جگہ نہیں کیا گیا کہ جو بات ذکر کی جا رہی ہے اس میں خلا پیدا نہ ہوجائے اور بحث ایک نیا رخ اختیار نہ کری اور اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص الخاص بندے محمد رسول اللہ ﷺ کو جو اس بلند مقام کی طرف بلایا تو جو اصل مقصد تھا وہ یقینا پورا ہوگیا اور جو حکم و احکام آپ ﷺ کو دیئے جانا ضروری تھے وہ دے دیئے گئے اس طرح یہ بات واضح فرما دی کہ یہ بین القوام ولیقظان جو کچھ ہوا بلامقصد نہیں ہوا بلکہ جس مقصد کے لئے ہوا وہ بحمد اللہ پورا ہوا اور اللہ تعالیٰ کا براہ راست اپنے بندے کو وحی کرنا کوئی بعید از قیاس نہیں جس پر کوئی اشکال پیدا ہوں کیونکہ وحی کے جو طریقے معروف ہیں ان میں سے ایک طریقہ وحی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست اپنے نبی و رسول کی طرف وحی کی جائے جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو کی گئی تھی اور وحی کی یہ صورت نص قرآنی سے قطعی طور پر ثابت ہے اور آپ ﷺ کے لئے اس کا واضح ثبوت آپ ﷺ کی بیان کردہ حدیث میں بھی واضح الفاظ میں موجود ہے اور اس کی وضاحت ہم ان شاء اللہ العزیز اس سورت کی آیت 18 کی تفسیر کے بعد کریں گے۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں ذرا بھی جھوٹ نہ ملایا

آپ ﷺ کی نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں ایک ذرہ بات کی ملاوٹ نہ کی 11 ؎ آپ ﷺ نے کیا دیکھا ؟ وہی جس کی پیچھے وضاحت چلی آرہی ہے کہ آپ ﷺ نے (بین النوم والیقظان) اپنے مثالی جسم اور روح کے ساتھ ایک سفر کیا جس سفر پر آپ ﷺ کو بلایا گیا تھا بلانے والا اللہ رب ذوالجلال والا کرام تھا ‘ لے جانے والے جبریل تھے اور جانے والے محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ ﷺ کو ایک بلند افق تک لے جایا گیا جہاں تک مخلوق خداوندی کے جانے کی گویا آخری سرحد ہے وہاں نہ تو کوئی آپ ﷺ نے ظاہری شکل و صورت دیکھی اور نہ کوئی جسمانی چیز آپ ﷺ کو وہاں نظر آئی لیکن اللہ تعالیٰ کا وہ نور جس کی تجلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہوش کردیا تھا اپنے سامنے پایا لیکن آپ کو کوئی بےہوشی اور غشی نہ ہوئی لیکن چونکہ آپ ﷺ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ذات کے دیکھنے کی کوئی تمنا نہ کی تھی اس لئے آپ ﷺ پر اس تجلی نے ایسا کوئی اثر نہ کیا کہ آپ کو اعتراف کرنا پڑے کہ بس میں اس سے آگے کا کوئی مطالبہ نہیں رکھتا۔ آپ ﷺ کو رب ذوالجلال والا کرام نے وہ کچھ سکھایا اور وہ پڑھایا جو کچھ سکھانے اور پڑھانے کے لئے بلایا گیا تھا اور پھر اس سے بھی زیادہ قریب آپ کو نصیب ہوا جو کسی دوسرے نبی و رسول کو بھی نصیب نہیں ہوا تھا اور اس طرح آپ کو ایک مزید بلند افق پر پہنچایا گا ۔ پھر آپ ﷺ مزید قریب ہوئے جتنا کہ قریب ہو سکتے تھے جو قریب یقینا حبل الورید سے اقرب تھا جس کو قاب قوسین سے ادا کیا جاسکتا ہے یا اس سے بھی قریب ہونے کے لئے زبان کا کوئی محاورہ بولا جاسکتا ہے تو پھر اس قرب کے بعد آپ ﷺ کی طرف مزید وحی کی گئی جو وحی بھی کی گئی یعنی اس وحی کے اندر جو پروگرام بھی پیش کیا گیا تھا وہ آپ ﷺ کے سامنے پیش کردیا گیا اور اس طرح جو کچھ آپ ﷺ کو پیش آیا وہ من و عن آپ ﷺ کو یاد رہا اس میں کسی طرح کی کوئی کمی و بیشی نہیں کی گئی اور آپ ﷺ کے دل نے اس میں کسی طرح کی کوئی ملاوٹ نہیں کی اور نہ ہی کوئی ایسی بات ہے جو آپ ﷺ کو یاد نہ رہی یا آپ ﷺ کے مشاہدہ میں نہ آئی اور آپ ﷺ نے اس کو بیان کردیا جیسا کہ رویا میں اکثر ہوجایا کرتا ہے لیکن چونکہ یہ رویا کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کی رویا نہیں تھی یہ ان روئیائے صادقہ کا نچوڑ اور خلاصہ تھا جو نبوت و رسالت کے ملنے کے بعد دیکھا گیا پھر جب نبوت سی پہلے جو کچھ آپ ﷺ نے دیکھا وہ صبح صادق کی طرح واضح اور صاف ہوگیا اور اس کی حقیقت کھلی تو وہ ہر زاویہ و کونہ سے فٹ آتا رہا تو آپ ﷺ کے نبوت کے بعد کے اس رئویا صادقہ کی جو صورت حال ہے اس میں تو کسی قسم کا کوئی شبہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کوئی نظر کا فریب نہیں تھا اور آپ ﷺ کی نگاہوں نے کوئی دھوکہ نہیں کھایا تھا کہ حقیقت کچھ ہو اور آپ کچھ بیان کر رہے ہوں۔ لاریب اس کے اندر اج کچھ آپ ﷺ نے دیکھا وہ زیادہ حصہ عالم آخرت سے متعلق تھا اور جو عالم دنیا کے متعلق تھا وہ بھی من و عن ثابت ہوا اور جو آخرت میں پیش آنے والے واقعات آپ ﷺ نے بیان کئے وہ بھی اپنی اصل حقیقت کے ساتھ بیان کئے چونکہ وہ ابھی مشاہد میں نہیں آسکتے اس لئے اس کی زیادہ تاکید کر کے وضاحت کردی گئی تو ویہ وحی الٰہی کی بتائے ہوئے واقعات ہیں جو عین ًہادت سے بھی زیادہ صاف اور واضح ہیں کیونکہ عین شہادت میں بھی بعض اوقات کمی بیشی کا امکان موجود ہوتا ہے کہ ہوتا کچھ ہے اور نظر کچھ آتا ہے۔ اس جگہ نظر آنے والے اکثر واقعات ایسے تھے جن کا تعلق عالم دنیا سے نہیں تھا اس لئے اس کی اتنی وضاحت فرما دی گئی تاکہ کسی کو کسی قسم کا ابہام نہ رہے اور یہ تاکید اس لئے کہ نبی و رسول کو تو کسی قسم کا ابہام پہلے ہی نہیں تھا لیکن سامعین بھی ان واقعات کو صرف ایک خواب اور خیال ہی کہہ کر ٹال نہ دیں بلکہ یہ وہ حقیقت ہے جس کو کبھی بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اس کا دکھلانے والا خود رب ذوالجلال والاکرام ہے اور دیکھنے والی ذات محمد رسول اللہ ﷺ کی ہے اور معیت جبریل (علیہ السلام) کی۔ ذرا غور کرو کہ اس جگہ کوئی کمی بیشی کا سوال پیدا ہو سکتا ہے ؟
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا تم اس سے اس بات پر جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا

کیا تم اس سے اس پر جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا 12 ؎ (تما رونہ) تم اس سے جھگڑتے ہو۔ تم اس سے گفتگو کرتے ہو۔ تم اس کے متعلق شک کرتے ہو (تمارون) محاراۃ سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ” ہ “ ضمیر واحد مذکر غائب ہے۔ یہ خطاب آپ ﷺ کے مخالفین ومعاندین سے ہے جنہوں نے نبی اعظم و آخرت ﷺ کی بات کو سن کر طرح طرح کی بحث و تکرار شروع کردی اور آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی طرف کی گئی وحی کو اسہتزاء اور مذاق کا نشانہ بنایا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے وہی کچھ بیان کیا جس کا آپ ﷺ کو مشاہدہ کرایا گیا جس کی تفصیل قدرے سورة بنی اسرائیل میں گزر چکی اور ان شاء اللہ اس جگہ بھی عنقریب بیان ہوگی۔