53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 53:1–2

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

(1۔ 2) اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی قسم کھا کر فرماتا ہے جب کہ قرآن حکیم کو بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر قسط وار ایک ایک دو دو تین تین اور چار چار آیتیں کر کے پورے بیس سال میں نازل فرمایا جب آیت نازل ہوئی تو عتبہ بن ابی لہب نے سنا کہ محمد قرآن حکیم کے حصوں کی قسم کھاتے ہیں تو اس نے کہا کہ محمد کو یہ بات پہنچا دو کہ میں قرآن کریم کے حصوں کا انکار کرتا ہوں، جبکہ ان لوگوں نے آپ کو یہ بات پہنچائی تو آپ نے فرمایا الہ العالمین اپنے درندوں میں سے کوئی درندہ اس پر مسلط کردے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حران کے قریب ایک شیر کو اس پر مسلط کردیا تو اس شیر نے اسے اس کے ساتھیوں میں سے نکال کر قریب ہی سر سے لے کر پیر تک پھاڑ دیا اور شیر نے اس کی نجاست کی وجہ سے اسے چکھا بھی نہیں اور رسول اکرم کی بددعا کی وجہ سے جیسا وہ تھا اسی طرح اس کو چھوڑ دیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ قسم ہے مطلق ستاروں کی جبکہ وہ غروب ہونے لگیں کہ محمد جو تم سے بیان کرتے ہیں اس میں نہ وہ راہ حق سے بھٹکے اور نہ غلطی پر ہوئے۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

اور نہ آپ بذریعہ قرآن کریم اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں۔
Ayahs 53:4–5

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

(4۔ 5) ان کا یہ ارشاد یعنی قرآن کریم اللہ کی طرف سے ایک وحی ہے جو بذریعہ جبریل امین ان کے پاس بھیجی جاتی ہے کہ وہ ان کے پاس آتا ہے اور ان کو پڑھ کر سناتا ہے آپ کو اس وحی کی جبریل امین تعلیم کرتے جو بدن کے اعتبار سے بڑے طاقتور ہیں اور یہ طاقت و قوت ان کی پیدایشی ہے۔ اور ان کی طاقت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے جب انہوں نے لوط کی بستیوں کے نیچے ہاتھ دیا اور ان کو سیاہ پانی پر سے اکھاڑ کر آسمان پر لے جاکر پھر زمین پر الٹا چھوڑ دیا۔ اور اسکی سختی کا اندازہ اس سے کیجیے جبکہ انہوں نے انطاکیہ کے دروازہ کی چوکھٹ پکڑ کر ایک چیخ ماری جس سے اس میں جو بھی مخلوق تھی سب مرگئی۔ اور کہا گیا ہے کہ ان کی سختی کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ جس وقت ابلیس ملعون بیت المقدس کی ایک چوکھٹ پر اپنا پر مارا تو انہوں نے اس کو اٹھا کر منتہائے ہند پر پھینک دیا۔
Ayahs 53:6–9

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

(6۔ 9) پھر جبریل امین اپنی اصلی حالت پر نمودار ہوئے یا یہ کہ بہترین شکل و صورت میں نمودار ہوئے اس حالت میں کہ وہ افق شرقی پر تھے یا یہ کہ ساتویں آسمان کے کنارہ پر تھے پھر جبریل امین رسول اکرم کے قریب آئے یا یہ کہ حضور اکرم پروردگار کے قریب ہوئے۔ اور پھر اور نزدیک ہوئے کہ قرب کی وجہ سے دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ آدھے کمان سے کم فاصلہ رہ گیا۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

پھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمانی تھی یا یہ مطلب ہے کہ جبریل امین پر جو کچھ وحی نازل ہوئی تھی وہ انہوں نے رسول اکرم پر نازل فرمائی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے محمد پر جو کچھ وحی نازل فرمانی تھی سو فرمائی۔
Ayahs 53:11–14

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

(11۔ 14) اور رسول اللہ کے قلب مبارک نے جو اپنے قلب سے اپنے پروردگار کو دیکھا اس میں ان کے قلب نے کوئی غلطی نہیں کی اور کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا اور یہ بھی قول روایت کیا گیا کہ آنکھوں سے اپنے پروردگار کو دیکھا یہ جواب قسم ہے، چناچہ جب رسول اکرم نے اپنی قوم کو اس چیز کے بارے میں بتایا تو انہوں نے تکذیب کی تب یہ آیت نازل ہوئی تو کیا یہ لوگ رسول اکرم کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ آپ کی دیکھی بھالی چیز میں جھگڑا کرتے ہیں۔ اور رسول اکرم نے تو جبریل امین کو ان کی اصلی صورت میں ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کو اپنے دل یا اپنی آنکھ سے دیکھا ہے سدرۃ المنتہی کے پاس۔
Ayahs 53:15–18

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

(15۔ 18) یہ ایسا مقام ہے جہاں تک ہر مقرب فرشتہ اور نبی منتہی ہوجاتا ہے یا یہ کہ ہر ایک مقرب فرشتہ اور نبی مرسل اور عالم راسخ کا علم اس مقام پر پہنچ کر منتہی ہوجاتا ہے اس سدرۃ المنتہی کے قریب جنت الماوی ہے جہاں شہداء کی روحیں ٹھہرتی ہیں جب اس سدرۃ المنتہی کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں یعنی سونے کے پروانے یا یہ کہ نور اور کہا گیا ہے کہ وہ لپٹنے والے فرشتے تھے۔ اور رسول اکرم کی نگاہ ان چیزوں کے دیکھنے سے دائیں بائیں نہ ہٹی اور جبریل امین کو جو اس وقت ان کی اصلی صورت میں چھ سو پروں کے ساتھ دیکھا تو نہ اس سے آپ کی نگاہ آگے بڑھی۔ اور اس وقت رسول اکرم نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے۔
Ayahs 53:19–22

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟)

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو !) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

(19۔ 22) بھلا اے مکہ والو تم نے لات و عزی اور تیسرے منات بت کی حالت میں بھی غور کیا ہے کہ یہ تمہارے آخرت میں کام آسکتے ہیں ہرگز نہیں قیامت کے دن یہ تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ لات، طائف میں قبیلہ ثقیف کا بت تھا وہ اس کو پوجتے تھے اور عزی بطن نخلہ میں غطفان کا ایک درخت تھا وہ اس کی پوجا کرتے تھے اور مناۃ مکہ مکرمہ میں قبیلہ ہزیل اور خزاعہ کا بت تھا وہ اللہ کے علاوہ اس کو پوجا کرتے تھے۔ مکہ والو تم اپنے لیے بیٹے تجویز کرو اور اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز ہوں حالانکہ تم بیٹیوں کو برا سمجھتے ہو اور اپنے لیے ان کا ہونا ناگوار نہیں کرتے یہ تو بہت ہی جاہلانہ نازیبا تقسیم ہوئی۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

لات و عزی اور منات صرف بت ہی ہیں جن کو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے خود ہی گھڑ لیا تھا اللہ تعالیٰ نے تو ان کی عبادت کرنے اور ان کے معبود بنانے کے بارے میں کوئی کتاب نازل نہیں کی جس سے تم حجت پکڑو۔ بلکہ یہ لوگ صرف بےبنیاد خیالات اور نفس کی خواہش کی وجہ سے ان کی عبادت کر رہے ہیں اور ان کو معبود تجویز کر رکھا ہے۔ حالانکہ ان مکہ والوں کے پاس قرآن کریم میں صاف یہ مضمو آچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔
Ayahs 53:24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

(24۔ 25) کیا ان مکہ والوں کو جس بات کی یہ خواہش کر رہے ہیں کہ فرشتے اور بت ان کی سفارش کریں گے، کیا ان کی یہ خواہش پوری ہوجائے گی ایسا نہیں ہے بلکہ ثواب و کرامت کا دینا اور شفاعت کروانا اور توفیق و معرفت کا عطا کرنا یہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں جن کے متعلق تمہارا یہ خیال ہے کہ معاذ اللہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں مگر ان کی سفارش ذرا بھی کسی کے لیے کام نہیں آسکتی مگر سوائے اس کے جس کے لیے اللہ تعالیٰ شفاعت کرنے کا حکم دیں یعنی اہل ایمان میں سے جو اس چیز کا اہل ہو اور اللہ تعالیٰ سے راضی ہوں۔
Ayahs 53:27–28

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

(27۔ 28) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یعنی کفار مکہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں حالانکہ ان کے اس قول پر ان کے پاس کوئی دلیل عقلی اور نقلی نہیں صرف یہ لوگ گمان سے گھڑ کر ایسی باتیں بک رہے ہیں اور گمان سے کسی کی عبادت کرنا اور گمانی باتیں کرنا عذاب خداوندی کے سامنے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں۔
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

اے محمد آپ ایسے شخص سے اپنی توجہ ہٹا لیجیے جو ہماری توحید اور ہماری کتاب کا خیال نہ کرے اور اپنی کوششوں سے سوائے دنیوی زندگی کے اسے کوئی مقصود نہ ہو، یعنی ابو جہل۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

ان لوگوں کے علم و عقل اور رائے کی حد بس یہی ہے کہ فرشتے اور بت اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور آخرت کی کوئی حقیقت نہیں۔ اے محمد آپ کا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے رستے سے بھٹکا ہوا ہے یعنی ابوجہل اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھے راستے پر ہے، یعنی حضرت ابوبکر صدیق۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

آسمانوں اور زمین میں جس قدر مخلوق ہے وہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین کو ان کے شرک کی سزا دے گا اور موحدین کو ان کی توحید کے صلہ میں جنت عطا کرے گا۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

اب اس طبقہ کے دنیوی اعمال کو بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ ایسے ہیں کہ شرک اور کبیرہ گناہوں اور زنا اور تمام سے بچتے ہیں۔ مگر ہلکے ہلکے گناہ کہ بےخیالی میں کسی پر نظر پڑگئی یا کسی کو ہاتھ لگ گیا اور پھر اس سے نفس کو ملامت کر کے توبہ کرلی یا یہ کہ شادی کے علاوہ وہ لوگ اور کچھ نہیں کرتے۔ بلا شبہ آپ کے پروردگار کی مغفرت بڑی وسیع ہے کہ صغائر و کبائر جو بھی توبہ کرے اس کو معاف فرما دیتا ہے۔ اور وہ تمہارے احوال کو تم سے زیادہ اس وقت سے اچھی طرح جانتا ہے جبکہ تمہیں کو آدم سے اور آدم کو مٹی سے اور مٹی کو زمین سے پیدا کیا تھا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے اسی وقت سے ہمیں تمہاری سب حالتوں کا علم ہے سو تم اپنے آپ کو گناہوں سے پاک مت سمجھا کرو بس گناہوں سے بچنے والوں اور نیکوکاروں کو وہی اچھی طرح جانتا ہے۔ شان نزول : هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ (الخ) واحدی طبرانی، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ثابت بن حارث انصاری سے روایت نقل کی ہے کہ یہودیوں کا جب کوئی چھوٹا بچہ مرجاتا ہے تو وہ کہتے تھے کہ یہ صدیق ہے۔ رسول اکرم کو اس چیز کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا یہودی جھوٹے ہیں کوئی بچہ ایسا نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کے پیٹ میں پیدا کیا ہو مگر یہ کہ وہ شقی یا سعید نہ ہو تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یعنی وہ تمہیں خوب جانتا ہے جبکہ تمہیں زمین سے پیدا کیا تھا۔ (الخ)
Ayahs 53:33–34

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

(33۔ 34) بھلا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اصحاب محمد میں جو غرباء ہیں ان پر خرچ کرنے سے منہ موڑا اور اللہ تعالیٰ کے رستہ میں بہت تھوڑا مال دیا اور پھر وہ بھی بند کردیا۔ شان نزول : اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى (الخ) اور ابن ابی حاتم نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم جہاد میں تشریف لے چلے تو ایک شخص اس راہ سے آیا کہ اسے کوئی سوار کرالے پر اس کے سوار ہونے کے لیے کوئی چیز نہ ملی اتنے میں اس کا دوست ملا تو اس شخص نے اپنے دوست سے کہا کہ مجھے بھی کچھ دو ، وہ کہنے لگا میں اپنی یہ سواری دیتا ہوں اس شرط پر کہ میرے گناہوں کا بوجھ تو اٹھا لے تو اس نے اپنے دوست سے کہا کہ منظور ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ اور ابن جریر نے ابن زید سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص مشرف بااسلام ہوگیا تو اسے بعض عار دلانے والے ملے اور کہنے لگا کہ کیا تو نے بزرگوں کے دین کو چھوڑ دیا اور ان کو گمراہ قرار دیا اور تو سمجھتا ہے کہ وہ دوزخ میں ہیں۔ یہ مسلمان کہنے لگا کہ میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تو وہ شخص کہنے لگا کہ مجھے کچھ دو تو جو بھی تم پر عذاب ہوگا میں اسے اپنے ذمہ لے لیتا ہوں تو اس نے کچھ دے دیا وہ کہنے لگا اور دو تو اس نے دینے میں تنگی کی یہاں تک کہ اسے کچھ اور دے دیا اور اس معاہدہ پر ایک دستاویز لکھوا کر گواہ لے لیے اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی یعنی تو بھلا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے روگردانی کی۔ (الخ)
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے ؟

کیا اس کے سامنے لوح محفوظ ہے کہ وہ اس میں اپنے کام کو دیکھ رہا ہے کہ جو یہ کر رہا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان بہت زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والے اور اصحاب محمد کی مدد کرنے والے تھے اتفاق سے عبداللہ بن سعد ابی سرح ان سے ملا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ ان لوگوں پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کنگال ہوجائیں گے۔ حضرت عثمان بولے کہ میرے بہت زیادہ گناہ اور غلطیاں ہیں میں ان کی معافی اور اپنے پروردگار کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرتا ہوں تو اس پر عبداللہ کہنے لگا اپنی اونٹنی کی مہار مجھے دے دو اور دنیا و آخرت میں جو تمہارے گناہ ہیں وہ میرے حوالے کردو تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 53:36–37

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی ؟

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی جنہوں نے (حق طاعت و رسالت) پورا کیا ؟

(36۔ 37) کیا اس کو بذریعہ قرآن حکیم اس مضمون کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ کے صحیفوں اور نیز ابراہیم کے صحیفوں میں تھی جنہوں نے احکام کی پوری تعمیل کی اور رسالت کامل طور پر پہنچا دی یا یہ کہ جو خواب میں نے دیکھا تھا اس کی پوری بجا آوری کی۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

اور وہ مضمون یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں لے سکتا یا یہ کہ کسی کو دوسرے کے بدلے عذاب نہیں دیا جاسکتا۔
Ayahs 53:39–40

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

(39۔ 40) اور انسان نے دنیا میں جو نیکی اور برائی کی ہے آخرت میں صرف اس کو اسی کی کمائی ملے گی اور یہ کہ انسان کے اعمال اس کی میزان میں بہت جلدی دیکھے جائیں گے۔