53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsبیان القرآن

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے (مطلق) ستارہ کی جب وہ غروب ہونے لگے۔

Ayahs 53:2–3

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

یہ تمہارے ساتھ کے رہنے والے نہ راہ (حق) سے بھٹکے اور نہ غلط راستہ ہولئے۔ (ف 5)

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ آپ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔

ف 5۔ اس قسم میں نظیر ہے مضمون جواب قسم ما ضل و ماغوی کی یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک اس تمام تر مسافت میں اپنی قاعدہ رفتار سے ادھر ادھر نہیں ہوا اسی طرح آپ اپنی عمر بھر میں ضلال وغوایت سے محفوظ ہیں، اس میں نیز اشارہ ہے اس طرف کہ جیسے نجم سے اہتداء ہوتا ہے اسی طرح اپ سے بھی بوجہ عدم ضلال و عدم غوایت کے اہتداء ہوتا ہے۔ (فائدہ) ضلال یہ کہ بالکل رستہ بھول کر کھڑا رہ جائے اور غوایت یہ کہ غیر راہ کو راہ سمجھ کر چلتا رہے۔
Ayahs 53:4–19

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔ (ف 6)

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو ایک فرشتہ تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے پیدائشی طاقتور ہے۔

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

پھر وہ فرشتہ (اپنی) اصلی صورت پر نمودار ہوا۔

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

ایسی حالت میں کہ وہ (آسمان کے) بلند کنارہ پر تھا۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ فرشتہ (آپ کے) نزدیک آیا پھر اور نزدیک آیا۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

سو دو کمانوں کی برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم۔

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمائی تھی۔

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی۔

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

تو کیا ان (پیغمبر ﷺ سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو۔

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے (یعنی پیغمبر نے) اس فرشتہ کو ایک اور دفعہ بھی (صورت اصلیہ میں) دیکھا ہے۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرة المنتہیٰ کے پاس۔

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب اس سدرة المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں۔

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نگاہ نہ تو ہٹی اور نہ بڑھی۔

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے۔

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم نے لات اور عزّیٰ

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Ayahs 53:20–22

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کے حال میں غور بھی کیا ہے۔ (ف 1)

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لئے بیٹیاں۔

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

اس حالت میں تو یہ بہت بےڈھنگی تقسیم ہوئی۔

ف 1۔ عرب میں بت تو بہت تھے مگر تخصیص ان تین کی بوجہ اشہر و اکبر ہونے کے ہے تو اوروں کی الوہیت کا بطلان بدرجہ اولی ہوگیا۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ (معبودات مذکورہ) نرے نام ہی نام ہیں جنکو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھیرالیا ہے خدا تعالیٰ نے تو ان (کے معبود ہونے) کی کوئی دلیل بھیجی نہیں (بلکہ) یہ لوگ صرف بےاصل خیالات پر اور اپنے نفس کی خواہش پر چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے (بواسطہ رسول ﷺ ہدایت آ چکی ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ یعنی خود اپنے دعوی پر تو کوئی دلیل نہیں رکھتے اور اس دعوی کی نقیض پر رسول کے ذریعہ سے دلیل سنتے ہیں اور پھر نہیں مانتے۔
Ayahs 53:24–26

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان کو اسکی ہر تمنا مل جاتی ہے۔ (ف 3)

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

سو خدا ہی کے اختیار میں ہے آخرت اور دنیا (کی بھی) ۔

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور بہت سے فرشتے آسمان میں موجود ہیں انکی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ جس کے لئے چاہیں اجازت دیں اور (اس کے لئے شفاعت کرنے سے) راضی ہوں۔

ف 3۔ یعنی ایسا نہیں ہے۔
Ayahs 53:27–29

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں۔ (ف 4)

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور یقیناً بےاصل خیالات امر حق (کے اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں ہوئے۔

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹالیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اسکو کوئی مقصود نہ ہو۔

ف 4۔ ان کی تعبیر بالکفر میں آخرت کی تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہ سب ضلالتیں آخرت کی بےفکری سے پیدا ہوئی ہیں، ورنہ معتقد آخرت کو اپنی نجات کی ضرور فکر ہوتی ہے۔
Ayahs 53:30–31

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان لوگوں کی فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دنیوی زندگی ہے) (ف 5) تمہارا پروردگار خوب جاتنا ہے کہ کون اس کے رستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی اس کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ راست پر ہے۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے انجام کار یہ ہے کہ برا کام کرنے والوں کو انکے (برے) کام کے عوض میں (خاص طور کی) جزا دیگا اور نیک کام کرنیوالوں کو انکے نیک کاموں کے عوض میں جزا دیگا۔

ف 5۔ جب ان کی بد فہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجئے۔
Ayahs 53:32–33

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

وہ لوگ ایسے ہیں کہ کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں مگر ہلکے ہلکے گناہ (ف 6) ۔ بلا شبہ آپ کے رب کی مغفرت بڑی وسیع ہے وہ تم کو (اور تمہارے احوال کو اس وقت سے) خوب جانتا ہے جب تم کو زمین سے پیدا کیا تھا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ تو تم اپنے کو مقدس مت سمجھا کرو۔ (بس) تقویٰ والوں کو وہی خوب جانتا ہے۔

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

تو بھلا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے (دین حق سے) رو گردانی کی۔

ف 6۔ یعنی ہلکے ہلکے گناہ اگر کبھی کبھار ہوجائیں تو جس نکو کاری کا یہاں ذکر ہے اس میں ان سے خلل نہیں آتا۔ (تنبیہ) استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ صغائر کی اجازت ہے۔
Ayahs 53:34–38

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا مال دیا۔ (ف 1)

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

اور (پھر) بند کردیا ․کیا اس شخص کے پاس (کسی صحیح ذریعہ سے) علم غیب ہے کہ اسکو دیکھ رہا ہے۔

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا اس کو اس مضمون کی خبر نہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہے۔

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور نیز ابراہیم (علیہ السلام) کے جنہوں نے احکام کی پوری بجا آوری کی۔

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

(اور وہ مضمون یہ (ہے) کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر نہیں لے سکتا۔

ف 1۔ سبب نزول اس آیت کا یہ ہے کہ ایک شخص اسلام لے آیا تھا، کسی نے اس کو ملامت کی، اس نے کہا کہ میں عذاب سے ڈرتا ہوں، وہ بولا تو مجھ کو کچھ دے میں تیری طرف سے عذاب اپنے سر رکھوں گا۔ چناچہ کچھ دیا، اس نے اور مانگا، نہایت کشاکشی سے اس نے اور بھی دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی۔ یہ شخص ولید بن مغیرہ تھا، ظاہر ہے کہ جس شخص کی ایسی حالت ہو، آیت سب کو شامل ہے