Ayahs 53:1–4رسول اللہ ﷺ صحیح راہ پر ہیں، اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے، وحی کے مطابق اللہ کا کلام پیش کرتے ہیں، آپ نے جبرائیل کو دو بار ان کی اصلی صورت میں دیکھا
یہاں سے سورة النجم شروع ہے اس کے پہلے رکوع کے اکثر حصہ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور وحی کی حفاظت اور وحی لانے والے فرشتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت اور ان کی رؤیت کا تذکرہ فرمایا ہے۔
ارشاد فرمایا ﴿ وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى ۙ001﴾ (قسم ہے ستارہ کی جب غروب ہونے لگے) ۔
﴿ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ002﴾ (تمہارا ساتھی نہ راہ سے بھٹکا ہے اور نہ غلط راستہ پر پڑا ہے) ۔
﴿وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى ؕ003﴾ (اور وہ اپنی نفسانی خواہش سے بات نہیں کرتا) ۔
﴿اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى ۙ004﴾ (وہ نہیں ہے مگر جو وحی کی جاتی ہے) ۔
آیت شریفہ میں جو لفظ النجم وارد ہوا ہے بظاہر یہ صیغہ مفرد کا ہے لیکن چونکہ اسم جمع ہے اس لیے تمام ستارے مراد ہیں اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے ثریا مراد ہے جو سات ستاروں کا مجموعہ ہے، ستارے چونکہ روشنی دیتے ہیں اور ان کے ذریعہ لوگ ہدایت پاتے ہیں اس لیے ان کی قسم کھا کر نبوت اور رسالت اور وحی کو ثابت فرمایا ہے کیونکہ یہ چیزیں قلوب کے منور ہونے کا ذریعہ ہیں، رسوال اللہ ﷺ تو کبھی بھی مشرک نہ تھے نبوت سے پہلے بھی موحد تھے اور نبوت کے بعد بھی آپ کا موحد ہونا توحید کی دعوت دینا قریش کو ناگوار تھا اور وہ یوں کہتے تھے کہ انہوں نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا ہے صحیح راہ سے بھٹک گئے ہیں اور آپ کو کاہن یا ساحر یا شاعر کہتے تھے، ستارہ کی قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ تمہارے ساتھی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جو کچھ بتاتے ہیں اور جو دعوت دیتے ہیں وہ سب حق ہے ان کے بارے میں یہ خیال نہ کرو کہ وہ راہ سے بھٹک گئے اور غیر راہ پر پڑگئے ان کا دعوائے نبوت اور توحید کی دعوت اور وہ تمام امور جن کی دعوت دیتے ہیں یہ سب حق ہیں سراپا ہدایت ہیں ان میں کہیں سے کہیں تک بھی راہ حق سے ہٹنے کانہ کوئی احتمال ہے اور نہ یہ بات ہے کہ انہوں نے یہ باتیں اپنی خواہش نفسانی کی بنیاد پر کہی ہوں، ان کا یہ سب باتیں بتانا صرف وحی سے ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ان پر وحی کی گئی ہے اسی کے مطابق سب باتیں بتا رہے ہیں ان کا فرمانا سب سچ ہے جو انہیں اللہ کی طرف سے بطریقہ وحی بتایا گیا ہے اور چونکہ ستاروں کے غروب ہونے سے صحیح سمت معلوم ہوجاتی ہے اس لیے وَ النَّجْمِ کے ساتھ اِذَا هَوٰى بھی فرمایا، یعنی جس طرح ستارہ ہدایت بھی دیتا ہے اور صحیح سمت بھی بتاتا ہے اسی طرح تمہارے ساتھی یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ فرمایا اور سمجھایا حق ہے اور راہ حق کے مطابق ہے۔ ان کا اتباع کرو گے تو صحیح سمت پر چلتے رہو گے یہ شخص تمہارا ساتھی ہے بچپن سے اس کو جانتے ہو اور اس کے اعمال صادقہ اور احوال شریفہ سے واقف ہو ہمیشہ اس نے سچ بولا ہے جانتے پہچانتے ہوئے اس کی تکذیب کیوں کرتے ہو (جس نے مخلوق سے کبھی جھوٹی باتیں نہیں کیں وہ خالق تعالیٰ شانہٗ پر کیسے تہمت رکھے گا) ۔
Ayah 53:5اس کے بعد وحی لانے والے فرشتہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى ۙ005﴾ (اس کو سکھایا ہے بڑی طاقت والے نے) ﴿ذُوْمِرَّةٍ 1ؕ﴾ (وہ طاقتور ہے) ۔
یعنی جبرائیل فرشتہ نے آپ کو یہ قرآن سکھایا جو بڑے قوت والا ہے۔ اس میں اس احتمال کی تردید فرمادی ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر چلے ہوں اور درمیان میں کوئی دوسری مخلوق شیطان وغیرہ پیش آگیا ہو اور اس نے صحیح طور پر وحی پہنچانے سے باز رکھا ہوا، ارشاد فرما دیا کہ وحی لانے والا فرشتہ بڑی قوت والا ہے پوری قوت والا ہے اس کے پیغام پہنچانے میں کوئی مانع نہیں ہوسکتا۔
Ayahs 53:6–10پہلی بار رویت :
اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو بازو تھے اور اس قدر پھیلے ہوئے تھے کہ مغربی افق تک کو گھیر رکھا تھا۔ رسول اللہ ﷺ ان کو دیکھ کر بیہوش ہو کر گرپڑے اسی وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی شکل میں آپ کے پاس پہنچے اور آپ کو لپٹا لیا اور آپ کے چہرہٴ انور سے غبار صاف کردیا۔ اس نزدیک آنے کو ﴿ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ008﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ (پھر وہ قریب آیا پھر وہ نیچے آیا) ﴿ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ ﴾ (اور اتنا قریب ہوگیا جیسا دو کمانوں کے درمیان قرب ہوتا ہے) اہل عرب کا طریقہ تھا کہ جب آپس میں معاہدہ کرتے تھے تو دونوں کمانوں کی تانت کو خوب اچھی طرح ملا دیتے تھے اور اس طرح سے ایک دوسرے کو باور کراتے تھے اور یقین دلاتے تھے کہ اب تم ایک ہوگئے آپس میں کوئی بعد نہیں رہا۔
﴿اَوْ اَدْنٰىۚ009﴾ اس میں یہ بتادیا کہ دو کمانوں کے درمیان جو نزدیکی ہوتی ہے قرب کے اعتبار سے اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا جو اتحاد روحانی اور قلبی پر دلالت کرتا ہے۔ پھر جب آپ کو افاقہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی جسے ﴿ فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ0010﴾میں بیان فرمایا ہے۔
معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ اس موقعہ پر جو وحی فرمائی تھی وہ ﴿ اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًا فَاٰوٰى006﴾ سے لے کر ﴿وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَؕ004﴾ تک تھی، یہ حضرت سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس وقت یہ وحی فرمائی کہ جب تک آپ جنت میں داخل نہ ہوں گے کوئی نبی داخل نہ ہوگا اور جب تک آپ کی امت اس میں داخل نہ ہوگی کسی امت کو داخلہ نہ ملے گا۔
Ayah 53:11﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 0011﴾ (یعنی قلب نے جو کچھ دیکھا اس میں غلطی نہیں کی) یعنی جو کچھ دیکھا صحیح دیکھا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 53:12﴿اَفَتُمٰرُوْنَهٗ۠ عَلٰى مَا يَرٰى 0012﴾ (کیا تم رسول اللہ ﷺ سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں جھگڑا کرتے ہو) انہوں نے جو دیکھا ہے صحیح دیکھا۔ اس میں کسی انکار اور مجادلہ کا موقع نہیں۔
قال فی معالم التنزیل قرأ حمزہ والکسائی و یعقوب افتمرونہ بفتح التاء بلا الف ای افتجحدونہ تقول العرب مریت الرجل حقہ اذا جحدتہ وقرالاخرون افتمارونہ بالالف وضم التاء علی معنی افتجادلونہ علی مایری۔
Ayah 53:13دوسری بار رویت :
﴿وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ0013﴾ (اور بلاشبہ انہوں نے اس فرشتے کو ایک مرتبہ اور بھی دیکھا) اس میں دوسری مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت کا ذکر ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک مرتبہ مکہ معظمہ میں اصلی صورت میں دیکھا تھا اس کے بعد ایک مرتبہ شب معراج میں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب اصلی صورت میں دیکھا۔
Ayah 53:14﴿عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى 0014 عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى ؕ0015 اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى ۙ0016﴾ (سدرۃ المنتہیٰ کے پاس، اس کے قریب جنت الماویٰ ہے، جبکہ سدرۃ المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں) ۔
اس میں یہ بتایا کہ دوسری بار رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو عالم بالا میں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا، سدریٰ کے قریب جنت الماویٰ ہے، اس وقت سدرۃ المنتہیٰ کو عجیب عجیب حسین چیزیں لپٹ رہی تھیں۔
Ayah 53:15جنۃ الماویٰ کیا ہے ؟
آیت کریمہ میں فرمایا ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب جنتہ الماویٰ ہے، ماوی لغتہ ٹھکانہ پکڑنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ یہاں جَنَّةُ الْمَاْوٰى سے کیا مراد ہے ؟ علامہ قرطبی ؓ نے اس کے بارے میں متعدد اقوال لکھے ہیں۔ حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ اس سے وہ جنت مراد ہے جس میں متقی حضرات داخل ہوں گے ایک قول یہ ہے کہ اس جنت میں شہداء کی ارواح پہنچتی ہیں یہ حضرت بن عباس ؓ کا ارشاد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ جنت ہے جس میں حضرت آدم (علیہ السلام) قیام پذیر تھے، اور ایک قول یہ ہے کہ تمام مومنین کی روحیں جَنَّةُ الْمَاْوٰى میں ٹھہرتی ہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل و میکائیل ( علیہ السلام) ان کی طرف ٹھکانہ پکڑتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
فائدہ : اس میں اختلاف ہے کہ رسول اللہ ﷺ شب معراج میں دیدار خداوندی سے مشرف ہوئے یا نہیں اور اگر رویت ہوئی تو وہ رویت بصری تھی یا رویت قلبی تھی، یعنی سر کی آنکھوں سے دیکھا یا دل کی آنکھوں سے دیدار کیا۔
ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ رویت کا انکار کرتی تھیں اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ المعراج میں باری تعالیٰ شانہٗ کا دیدار کیا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس بارے میں توقف کیا جائے نفی یا اثبات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔
ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے سامنے ان کے شاگرد حضرت مسروق (رح) نے آیت کریمہ ﴿ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بالْاُفُقِ الْمُبِيْنِۚ0023﴾ اور ﴿وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ0013 ﴾ تلاوت کی اور اس سے رویت باری تعالیٰ پر استدلال کیا۔ یعنی یہ ثابت کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیا۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اس امت میں میری سب سے پہلی شخصیت ہے جس نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا، آپ نے فرمایا کہ میں نے جبرائیل کو ان کی اصلی صورت پر صرف دو مرتبہ دیکھا (صحیح مسلم صفحہ 98: ج 1) نیز حضرت مسروق (رح) نے سیّدہ عائشہ ؓ کے سامنے آیت کریمہ ﴿ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ008 فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ009﴾ بھی پیش کی، انہوں نے اس کے بارے میں بھی یہی فرمایا کہ اس سے جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت مراد ہے وہ آپ کے پاس انسانی صورت میں آیا کرتے تھے۔ اس مرتبہ اصلی صورت میں آئے اور اس وقت انہوں نے آسمان کے افق کو گھیر رکھا تھا۔ (صحیح مسلم صفحہ 98: ج 1)
امام نووی (رح) نے شرح مسلم میں کلام طویل کے بعد لکھا ہے : فالحاصل ان الراجح عند اکثر العلما ان رسول اللہ ﷺ رای ربہ بعینی راٰسہ لیلة الاسراء لحدیث ابن عباس وغیرہ مما تقدم و اثبات ھذا لایاخذونہ الابالسماع من رسول اللہ ﷺ ھذا ممالا ینبغی ان یتشکک فیہ (شرح مسلم صفحہ 97: ج 1)
اس سے معلوم ہوا کہ اکثر علماء نے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کو ترجیح دی ہے۔
روایات میں غور کرنے سے اور سورة النجم کی آیات کے سیاق وضمائر کے مراجع پر نظر کرنے سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہاں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت مراد ہے، رویت اولیٰ جس کا ذکر ﴿ ذُوْ مِرَّةٍ 1ؕ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007 ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى ۙ008 فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ009﴾ میں ہے اس سے بلا تاویل یہی بات واضح ہوتی ہے کہ اس سے رویت جبرائیل مراد ہیں۔ اور ماکذب الفواد مارای کے بارے میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا : رای جبرئیل لہ ستمائة جناح (صحیح مسلم صفحہ 97: ج 1) ۔ اس کے بعد جو فرمایا ﴿ وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ0013 ﴾ اس کی ضمیر منصوب اسی کی طرف راجع ہے جس کی رویت پہلے ہوچکی تھی، اس کے بعد جو ﴿ لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى 0018﴾ فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اس کو پڑھ کر بھی رای جبرئیل فی صورتہ لہ ستمائة جناح فرمایا (صحیح مسلم صفحہ 98: ج 1) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے بھی ﴿وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ0013﴾ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا : رای جبرئیل علیہ السلام۔ (صحیح مسلم 98: ج ! )
ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کے شاگرد حضرت مسروق (رح) نے جو ان سے سوال کیا تو انہوں نے سورة النجم میں ذکر فرمودہ دونوں روایتوں کو جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت قرار دیا، امام نووی (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ کے قول کو ترجیح دیتے ہوئے فرمایا کہ اثبات رویت کا جو انہوں نے دعویٰ کیا ہے بظاہر وہ سماع پر ہی مبنی ہے، یہ بات محل نظر ہے کیونکہ ام المومنین عائشہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ اس سے جبرائیل (علیہ السلام) مراد ہیں۔ وہ تو فرما رہی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ہے آپ نے فرمایا کہ ﴿ وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ0013 ﴾ میں جبرائیل کی رویت مذکور ہے اور حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں جو امام نووی ؓ کہ انہوں نے سنا ہی ہوگا یہ ایک محض حسن ظن پر مبنی ہے پھر حضرت ابن عباس ؓ نے بھی رویت بصری کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ فرمایا راہ بفوادہ مرتین۔ (صحیح مسلم صفحہ 98: ج 1)
پوری طرح غوروفکر کرنے اور روایات کو دیکھنے سے شب معراج میں رویت باری تعالیٰ شانہٗ کا مضبوط ثبوت نہیں ہوتا لہٰذا تیسرا قول یعنی توقف راجح معلوم ہوتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
حافظ ابن حجر ؓ فتح الباری صفحہ 608 ج 8 میں لکھتے ہیں : وقد اختلف السلف فی رویة النبی ﷺ ربہ فذھبت عائشة و ابن مسعود الی انکارھا، واختلف عن ابی ذر۔ وذھب جماعة الی اثباتھا، وحکی عبدالرزاق عن معمر عن الحسن انہ حلف ان محمدارای ربہ ـ واخرج ابن خزیمة عن عروة ابن الزبیر اثباتھا، وکان یشتد علیہ اذا ذکر لہ انکار عائشة، وبہ قال سائر اصحاب ابن عباس، وجزم بہ کعب الاحبار والزھری و صاحبہ معمر وآخرون، وھو قول الاشعری و غالب اتباعہ ـ ثم اختلفو اھل رآہ بیعنہ اوبقلبہ وعن احمد کالقولین قلت : جات عن ابن عباس اخبار مطلقة واخری مقیدة فیجب حمل مطلقھا علی مقیدھا، فمن ذلک ما اخرجہ النسائی باسناد صحیح و صححہ الحاکم ایضامن طریق عکرمة عن ابن عباس قال : اتعجبون ان تکون الخلة لابراھیم والکلام لموسیٰ والرویة لمحمد ؟ واخرجہ ابن خزیمہ بلفظ ان اللہ اصطفی ابراھیم بالخلة الحدیث واخرج ابن اسحاق من طریق عبداللہ ابی سلمة ان ابن عمر ارسل الی ابن عباس : ھل رایء محمد ربہ ؟ فارسل الیہ ان نعم ـ ومنھا ما اخرجہ مسلم من طریق ابی العالیة عن ابن عباس فی قولہ تعالیٰ (ماکذب الفواد مارای، ولقد راہ نزلة اخری) قال : رای ربہ بفوادہ مرتین : ولہ من طریق عطاء عن ابن عباس قال : راہ بقلبہ واصرح من ذالک ما اخرجہ ابن مردویہ من طریق عطاء ایضًا عن ابن عباس قال : لم یرہ رسول اللہ ﷺ بعینہ انما راہ بقلبہ : وعلی ھذا فیمکن الجمع بین اثبات ابن عباس ونفی عائشة بان یحمل نفیھا علی رویة البصرو اثباتہ علی رویة القلب ـ ثم المراد برویة الفواد رویة القلب لا مجرد حصول العلم، لانہ ﷺ کان عالما باللہ علی الدوام ـ بل مراد من اثبت لہ انہ رابقلبہ ان الرویة التی حصلت لہ خلقت فی قلبہ کما یخلق الرویة بالعین لغیرہ، والرویة لا یشترط لھا شییء مخصوص عقلا ولو جرت العادة بخلقھا فی العین، وروی ابن خزیمة باسناد قوی عن انس قال رای محمد ربہ، وعند مسلم من حدیث ابی ذرانہ سال النبی ﷺ عن ذلک فقال نورانی اراہ، ولاحمد عنہ، قال ورایت نورا، ولابن خزیمة عنہ قال راہ بقلبہ ولم یرہ بیعنہ وبھذا یتبین مراد ابی ذربذکرہ النور ای النور حال بین رویتہ لہ ببصرہ، وقد رجع القرطبی فی (المفھم) قول الوقف فی ھذا المسالة وعزاہ الجماعة من المحققین، وقواہ بانہ لیس فی الباب دلیل قاطع، وغایة ما استدل بہ للطائفتین ظواھر متعارضة قابلة للتاویل، قال ولیست المسالة من العملیات فیکتفی فیھا بالادلة الظنیة، وانماھی من المعتقدات فلا یکتفی فیھا الا بالدلیل القطعی، وجنح ابن خزیمة فی (کتاب التوحید) الی ترجیح الاثبات واطنب فی الاستدلال لہ بما یطول ذکرہ، وحمل م اور دعن ابن عباس علی ان الرویاوقعت مرتین مرة بقلبہ ومرة بعینہ وفیما اور دتہ من ذلک مقنع وممن اثبت الرویة لنبینا ﷺ الامام احمد فروی الخلال فی (کتاب السنة) عن المروزی قلت لاحمد انھم یقولون ان عائشة قالت : من زعم ان محمدا رای ربہ فقداعظم علی اللہ الفریة، فبای شیء یدفع قولھا ؟ قال : بقول النبی ﷺ رایت ربی قول للنبی ﷺ اکبر من قولھا ـ وقد انکر صاحب الہدی علی من زعم ان احمد قال رای ربہ بعینی راسہ قال : وانما قال مرة رای محمد ربہ وقال بفوادہٖ ـ وحکی عنہ بعض المتاخرین راٰہ بعینی راسہ وھذا من تصرف الحا کی، فان نصوصہ موجودة، انتھی ـ
قلت : وھذا الذی روی عن الامام احمد (رح) تعالیٰ انہ یدفع قولھا بقولہ ﷺ : رایت ربی فانہ اذاثبت بسند صحیح دل علی الرویة البصریة ومع ذلک لایثبت بسیاق سورة النجم فاثبات الرویة منہ ﷺ احتاج الیٰ روایة صحیحة صریحة دالة علی الرویة البصریة الحقیقة فی الیقظة سواء کان فی لیلة الاسراء وغیرھا، فاما ماحمل ابن خزیمة ماورد عن ابن عباس ؓ عنھما علی ان الرویہ وقعت مرتین مرة بعینہ ومرة بقلبہ فھو خلاف مانص علیہ ابن عباس نفسہ انہ راہ بفوادہ مرتین کمارواہ مسلمہ)
Ayah 53:16سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى کیا ہے ؟
سدرہ عربی میں بیری کے درخت کہتے ہیں اور المنتہیٰ کا معنی ہے انتہاء کی جگہ، عالم بالا میں جَنَّةُ الْمَاْوٰى کے قریب سدرۃ المنتہیٰ ہے یعنی بیری کا وہ درخت جس کے پاس چیزیں آکر منتہی ہوجاتی ہیں یعنی ٹھہر جاتی ہیں، زمین سے جو کچھ اعمال وغیرہ اوپر جاتے ہیں وہ پہلے وہاں ٹھہرتے ہیں پھر اوپر جاتے ہیں اور اوپر سے جو کچھ نازل ہوتا ہے پہلے وہاں ٹھہرایا جاتا ہے پھر نیچے اترتا ہے۔
(راجع تفسیر القرطبی صفحہ 94: ج 9)
حدیث شریف کی کتابوں میں معراج شریف کا واقعہ تفصیل کے ساتھ مروی ہے۔ اس میں سدرۃ المنتہیٰ کا بھی تذکرہ فرمایا ہے صاحب معراج ﷺ کی حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملاقات کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ کیطرف لے جایا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے پھل اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے کہ ہجر بستی کے مشکیزے ہوتے ہیں اور اس کے پتے اتنے بڑے بڑے ہیں جیسے ہاتھی کے کان اس درخت کو سونے کے پتنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ اسے ایسے الوان (یعنی رنگوں) نے ڈھانپ رکھا تھا جنہیں میں نہیں جانتا اور ایک روایت میں ہے کہ جب سدرۃ المنتہیٰ کو اللہ کے حکم سے ان چیزوں نے ڈھانپ لیا جنہوں نے ڈھانپا تو وہ بدل گیا (یعنی پہلی حالت نہ رہی) اس میں بہت زیادہ حسن آگیا اس وقت اس کے حسن کا یہ عالم تھا کہ اللہ کی مخلوق سے کوئی بھی اس کے حسن کو بیان نہیں کرسکتا۔ (صحیح مسلم صفحہ 93: ج 1)
چونکہ اس کے حسن اور سونے کے پتنگوں اور الوان کے ڈھانپنے کی وجہ سے اس کی عجیب کیفیت ہو رہی تھی اس لیے تفخیم اللشان ﴿ اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى ۙ0016﴾ فرمایا۔
Ayah 53:17﴿مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى 0017﴾ یعنی آپ نے جو دیکھا ٹھیک دیکھا، صحیح دیکھا آپ کی نظر مبارک دیکھنے کی جگہ سے دائیں یا بائیں نہیں ہٹی اور جن چیزوں کو دیکھنا تھا ان سے آگے نہ بڑھی۔
Ayah 53:18﴿لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى 0018﴾ (رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی آیات کو دیکھا) ، آیت کبریٰ سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں صحیح مسلم صفحہ 98: ج 1 میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ اس سے جبرائیل (علیہ السلام) کا دیکھنا مراد ہے۔ ان کو وہاں سدرۃ المنتہیٰ کے قریب دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔ (جیسا کہ زمین والی رویت میں بھی یہی بات دیکھی تھی) ۔
Ayahs 53:19–20مشرکین عرب کی بت پرستی، لات، عزیٰ اور منات کی عبادت اور ان کے توڑ پھوڑ کا تذکرہ
رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب مشرک تھے اور اہل مکہ بھی شرک اختیار کیے ہوئے تھے حالانکہ یہ حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما الصلوٰۃ والسلام کی اولاد تھے جنہوں نے توحید کی دعوت دی اور مکہ معظمہ میں کعبہ شریف بنایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی ﴿ وَّ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ0035﴾ (اے رب مجھے اور میری اولاد کو بتوں کی عبادت سے بچانا) ان کی اولاد میں ایک عرصہ تک موحدین مخلصین کا وجود رہا پھر شدہ شدہ عرب کے دیگر قبائل سے متاثر ہو کر اہل مکہ مشرک ہوگئے، اہل عرب نے بہت سے بتوں کو معبود بنا رکھا تھا خود ہی تراشتے تھے پھر انہیں معبود بنا لیتے تھے ان بتوں میں تین بت زیادہ معروف تھے جن کا آیت بالا میں تذکرہ ہے ایک کا نام لات تھا اور ایک کا نام عزیٰ تھا اور ایک کا نام منات تھا۔
لات و منات اور عزیٰ کیا تھے
فتح الباری میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ لات طائف میں تھا اور اسی کو اصح بتایا ہے اور ایک قول یہ ہے کہ مقام نخلہ میں اور ایک قول کے مطابق عکاظ میں تھا نیز فتح الباری میں یہ بھی لکھا ہے کہ لات لَتَّ یَلُتُّ سے اسم فاعل کا صیغہ ہے ایک شخص طائف کے آس پاس رہتا تھا اس کی بکریاں تھیں آنے جانے والوں کو ان کے دودھ کا حریرہ بنا کر کھلاتا تھا اور ستوگھول کر پلاتا تھا اس وجہ سے اسے لات کہا جاتا تھا کثرت استعمال کی وجہ سے تاء کی تشدید ختم ہوگئی، کہا جاتا ہے کہ اس کا نام عامر بن ظرب تھا اور یہ اہل عرب کے درمیان فیصلے کیا کرتا تھا جس شخص کو حریرہ پلا دیتا تھا وہ موٹا ہوجاتا تھا جب وہ مرگیا تو عمرو بن لحی نے لوگوں سے کہا کہ وہ مرا نہیں ہے پتھر کے اندر داخل ہوگیا ہے لہٰذا لوگ اس کی عبادت کرنے لگے اور اس کے اوپر ایک گھر بنا لیا۔ (فتح الباری صفحہ 612 ج 8)
علامہ قرطبی ؓ نے عزّٰی کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ سفید پتھر تھا، اس کی جگہ بطن نخلہ بتائی ہے ظالم بن اسعدنے اس کی عبادت کا سلسلہ شروع کیا اس پر لوگوں نے گھر بنا لیا تھا اس میں سے آواز آیا کرتی تھی اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ عزّٰی ایک شیطان عورت تھی وہ بطن نخلہ میں ببول کے تین درختوں کے پاس آتی جاتی تھی۔
مشرکین مکہ کا ایک بت ہبل بھی تھا ان کے یہاں اس کی بہت بڑی اہمیت تھی غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو ظاہری شکست ہوگئی تو ان کے لشکر کے سردار ابوسفیان نے پکار کر جیکارہ (نعرہ) لگایا : اعلی ھبل (اے ہبل ! تو اونچا ہوجا) رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس کا جواب دو عرض کیا کیا جواب دیں فرمایا یوں کہو اللہ : اعلٰی واجل (کہ اللہ سب سے بلند ہے اور سب سے بڑا ہے) ابوسفیان نے کہا : لنا العزی ولا عزی لکم (ہمارے لیے عزّٰی ہے تمہارے لیے کوئی عزّٰی نہیں) شرک نے ان کا ایسا ناس کھویا تھا کہ خالص موحدین جب اللہ کی عظمت بیان کرتے تھے تو اس کے مقابلہ میں یہ لوگ اپنے بتوں کی دہائی دیتے تھے۔
(تفسیر قرطبی صفحہ 99، 100: ج 17)
تیسرا بت (جس کا آیت بالا میں تذکرہ فرمایا) منات تھا یہ بھی عرب کے مشہور بتوں میں تھا۔ تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ اس کا نام منات اس لیے رکھا گیا کہ تقریب حاصل کرنے کے لیے اس کے پاس کثرت سے خون بہائے جاتے تھے یہ بت بنی ہذیل اور بنی خزاعہ کا تھا۔
اور اس کے نام کی دہائی دیتے تھے مقام مشلل میں اس کی عبادت کرتے تھے، مشلل قدید کے قریب ایک جگہ ہے (جو آج کل مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان راستہ میں واقع ہے بنسبت مدینہ منورہ کے مکہ معظمہ کے قریب ہے) نیز فتح الباری میں لکھا ہے کہ عرو بن لحی نے منات کو ساحل سمندر پر قدید کے قریب نصب کردیا تھا قبیلہ ازد اور غسان اس کا حج کرتے تھے اور اس کی تعظیم کرتے تھے۔ جب بیت اللہ شریف کا طواف کرلیتے اور عرفات سے واپس آجاتے اور منیٰ کے کاموں سے فارغ ہوجاتے تو منات کے لیے احرام باندھتے تھے۔ مذکورہ تینوں بتوں کی عرب قبائل میں بڑی اہمیت اور شہرت تھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اَفَرَئَ یْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰی وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْاُخْرٰی﴾ (کیا تم نے لات اور عزی اور تیسرے نمبر کے منات کو دیکھا) یعنی تم نے غور کیا تو کیا سمجھ میں آیا ؟ کیا انہوں نے کوئی نفع دیا یا ضرردیا ؟ جب ایسا نہیں ہے تو وہ شریک فی العبادۃ کیسے ہوگئے اور تم ان کی عبادت کیسے کرنے لگے، جب اسلام کا زمانہ آیا تو ان تینوں کا ناس کھو دیا گیا۔
لات کی بربادی
جیسا کہ پہلے معلوم ہوا کہ لات طائف میں تھا وہاں بنی ثقیف رہتا تھا اس قبیلے کے افراد مدینہ منورہ میں آئے اور مشرف باسلام ہوگئے۔ وہ لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ ہمارا سب سے بڑا بت یعنی لات تین سال تک باقی رہنے دیا جائے آپ نے انکار کردیا اور حضرت ابوسفیان بن حرب اور مغیرہ بن شعبہ ؓ کو بھیج دیا انہوں نے اس بت کو گرا دیا اور توڑتاڑ کے رکھ دیا، بنی ثقیف کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بھی کہا تھا کہ ہم بتوں کو اپنے ہاتھوں سے نہیں توڑیں گے اور ہم سے نماز پڑھنے کے لیے بھی نہ کہا جائے آپ نے فرمایا کہ بتوں کو تم اپنے ہاتھوں سے نہ توڑو یہ بات تو ہم مان لیتے ہیں، رہی نماز تو (وہ تو پڑھنی ہی پڑے گی) اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں نماز نہیں۔ (سیرت ابن ہشام، ذکر وفد ثقیف واسلامھا) ۔
عزیٰ کی کاٹ پیٹ اور توڑ پھوڑ
عزیٰ کے بارے میں فتح الباری صفحہ 612 ج 8 میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عام الفتح یعنی فتح مکہ کے سال حضرت خالد بن ولید ؓ کو بھیجا انہوں نے اسے گرا دیا۔
تفسیر قرطبی میں لکھا کہ عزیٰ ایک شیطان (جننی) عورت تھی بطن نخلہ میں تین ببول کے درختوں کے پاس آتی جاتی تھی رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو بھیجا اور بتلایا کہ بطن نخلہ میں جاؤوہاں ببول کے تین درخت ہیں پہلے درخت کو کاٹ دو انہوں نے اس کو کاٹ دیا جب واپس آئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے کچھ دیکھا عرض کیا کہ میں نے تو کچھ نہیں دیکھا فرمایا اب دوسرے درخت کو کاٹ دو وہ واپس گئے اور دوسرے درخت کو کاٹ دیا پھر حاضر خدمت ہوئے تو آپ نے پھر وہی سوال فرمایا، عرض کیا میں نے تو اب بھی کچھ نہیں دیکھا فرمایا جاؤ تیسرے کو بھی کاٹ دو ۔ جب وہ تیسرے درخت کے پاس آئے اور اسے کاٹ دیا تو ایک حبشی عورت کو دیکھا جو اپنے بال پھیلائے ہوئے تھی اور اپنے ہاتھوں کو مونڈھے پر رکھے ہوئے تھی اور اپنے لمبے لمبے دانتوں کو گھما رہی تھی اس کے پیچھے اس کا مجاور بھی تھا جس کا نام دبیہ تھا۔ حضرت خالد ؓ نے اس شیطان عورت کے سر پر ضرب ماری اور اس کا سر پھاڑ دیا اور مجاور کو قتل کردیا۔ واپس آکر پورا واقعہ عرض کردیا آپ نے فرمایا یہی عورت عزیٰ تھی آج کے بعد کبھی بھی اس کی عبادت نہیں کی جائے گی۔ (تفسیر قرطبی صفحہ 100، ج 9)
البدایہ والنہایہ (صفحہ 316 ج 4) میں ہے کہ جب حضرت خالد بن ولید ؓ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک ننگی عورت بال پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے اپنے چہرے اور سر پر مٹی ڈال رہی ہے اسے انہوں نے تلوار سے قتل کردیا پھر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آکر قصہ سنایا تو آپ نے فرمایا، یہ عورت عزیٰ تھی۔
یہ جو اشکال ہوتا ہے کہ پہلے تو عزیٰ کو سفید پتھر بتایا تھا اور اس روایت سے ثابت ہوا کہ یہ جنی عورت تھی ؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ جنات مشرکین کے پاس آتے اور اب بھی آتے ہیں بری بری ڈراؤنی صورتیں لے کر لوگوں کے پاس پہنچتے ہیں وہ ان کی صورتوں کے مطابق بت بناتے ہیں پھر ان کی پوجا کرتے ہیں۔ جنات اسے اپنی عبادت سمجھ لیتے ہیں۔ بت خانوں میں اور مشرکین کے استہانوں میں ان کا رہنا سہنا آنا جانا ہوتا ہے اور مشرکین کو بیداری میں اور خواب میں نظر آتے ہیں۔
منات کی بربادی اور تباہی
اب رہی یہ بات کے منات کا انجام کیا ہوا تو اس کے بارے میں تفسیر ابن کثیر صفحہ 454: ج 4 میں لکھا ہے کہ اس کے توڑنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوسفیان ؓ کو بھیجا تھا۔ جنہوں نے اس کا تیاپانچا کردیا اور ایک قول یہ ہے کہ اس کام کے لیے حضرت علی ؓ بن ابی طالب کو بھیجا تھا اہل عرب کے اور بھی بہت سارے بت تھے ان میں ایک ذی الخلصہ تھا یہ قبیلہ دوس اور خثعم کا بت تھا اس کو کعبہ یمانیہ کہتے تھے رسول اللہ ﷺ نے اس کے منہدم کرنے کے لیے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کو روانہ فرمایا جنہوں نے اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔
Ayah 53:21مشرکین کی ضلالت اور حماقت :
مشرکین کے بڑے بڑے بتوں کی عاجزی اور محتاجی اور نفع و ضرر پر قدرت نہ رکھنے کی حالت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ﴿اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى0021﴾ (کیا تمہارے لیے نر ہو اور اللہ کے لیے مادہ ہو) اول تو یہ گمراہی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کردی پھر جو اولاد تجویز کی تو بیٹیاں تجویز کردیں اور فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتادیا حالانکہ اپنے لیے بیٹے پسند کرتے تھے اسی کو سورة الاسراء میں فرمایا ﴿ اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنَاثًا 1ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا (رح) 0040﴾ (کیا تمہارے رب نے تمہیں بیٹیوں کے ساتھ خاص کردیا اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ؟ بیشک تم بڑی بات کہتے ہو) ۔ سورة الصافات میں فرمایا ﴿فَاسْتَفْتِهِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَ لَهُمُ الْبَنُوْنَۙ00149 اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِنَاثًا وَّ هُمْ شٰهِدُوْنَ 00150 اَلَاۤ اِنَّهُمْ مِّنْ اِفْكِهِمْ لَيَقُوْلُوْنَۙ00151 وَلَدَ اللّٰهُ 1ۙ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ 00152 اَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِيْنَؕ00153 مَا لَكُمْ 1۫ كَيْفَ تَحْكُمُوْنَ 00154﴾ سو ان لوگوں سے پوچھئے کہ کیا اللہ کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ؟ کیا ہم نے فرشتوں کو عورت بنایا اس حال میں کہ وہ دیکھ رہے تھے۔ خوب سن لو کہ وہ لوگ اپنی سخن تراشی سے کہتے ہیں کہ اللہ صاحب اولاد ہے اور وہ یقینا جھوٹے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے بیٹوں کے مقابلہ میں بیٹیاں پسند کیں تم لوگوں کو کیا ہوگیا، کیسا حکم لگاتے ہو) ۔
Ayah 53:22ان لوگوں کی اس تجویز باطل کے بارے میں فرمایا ﴿ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى0022﴾ کہ یہ تقسیم بڑی ظالمانہ ہے بھونڈی ہے باطل ہے خود غور کرنے اور سمجھنے کی بات ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے تجویز کیا۔
Ayah 53:23مشرکین نے اپنے لیے خود معبود تجویز کیے اور ان کے نام بھی خود ہی رکھے :
مشرکین نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے تھے خود ہی تجویز کیے تھے خود ہی ان کے نام رکھے تھے اسی کو فرمایا ﴿ اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ ﴾ (یہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے نام رکھ لیے ہیں اور انہیں معبود تجویز کرلیا ہے) یہ مستحق عبادت ہو ہی نہیں سکتے غیر معبود کو تم معبود کہنے لگے ﴿ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ﴾ (اللہ تعالیٰ نے ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی) ۔ ﴿ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ 1ۚ ﴾ (یہ لوگ صرف بےاصل خیالات اور محض گمان کے پیچھے پیچھے چلتے ہیں اور نفسوں کی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں) جو جی میں آیا کہہ دیا اور تجویز کرلیا اور جو اصحاب اہواء نے بتادیا (جن میں ان کے باپ دادا بھی ہیں) اس کو مان لیا۔ ﴿ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ0023﴾ (اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے) اپنی اٹکل پر اور نفس کی تجویز پر ضد کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو واقعی اور یقینی ہدایت آئی ہے اس کو نہیں مانتے۔ ہدایت ربانی سے اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اللہ کے رسول ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ نے بتادیا ہے کہ عبادت کا مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس سے منحرف ہو رہے ہیں۔
Ayah 53:24پھر فرمایا : ﴿ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى ٞۖ0024﴾ (کیا انسان کے لیے وہ سب کچھ ہے جس کی وہ تمنا کرے) یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہر آرزو پوری نہیں ہوتی مشرکین نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہم جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں ان سے دنیا میں ہماری حاجتیں پوری ہوں گی اور آخرت میں یہ معبود ہماری سفارش کردیں گے اور بخشوا دیں گے یہ ان کی صرف اپنی آرزو اور تمنا ہے جو پوری ہونے والی نہیں، دنیا میں خودیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کی ہر تمناپوری نہیں ہوتی پھر اس بات کا یقین کیسے كئے بیٹھے ہیں کہ ان معبودوں سے فائدہ پہنچے گا جب کہ انہیں خود ہی معبود تجویز کرلیا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے معبود ہونے کی کوئی دلیل نہیں نازل کی گئی۔
Ayah 53:25﴿فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى (رح) 0025 ﴾ (سو اللہ ہی کے لیے آخرت ہے اور اولیٰ ہے) اولی دنیا اور اخریٰ سے آخرت مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اپنی طرف سے کسی کو کچھ بھی تجویز کرنے اور طے کرنے کا اختیار نہیں، دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی بادشاہت ہے اور آخرت میں بھی اس کی بادشاہت ہوگی، وہ اپنے قوانین تشریعیہ اور تکوینیہ کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، کافروں کی سب امیدیں اور آرزوئیں ضائع ہیں اور رائیگاں ہیں۔
Ayah 53:26مشرکین کا خیال باطل کہ ہمارے معبود سفارش کردیں گے :
مشرکین غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے ان معبودین میں بت بھی تھے اور فرشتے بھی۔ ان کا یہ خیال تھا کہ اللہ کے سواجن کی عبادت کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہمارے سفارش کردیں ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے۔ یہ شیطان نے انہیں سمجھایا تھا، مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ ہم شرک کرتے ہیں یہ اللہ کی رضا ہی کے لیے کرتے ہیں، قرآن مجید نے ان لوگوں کی تردید فرمائی بت تو بیچارے کیا سفارش کریں گے وہ تو خود ہی بےحس، بےروح اور بےجان ہیں اپنے نفع و ضرر ہی کو نہیں جانتے جو انہیں توڑنے لگے اسی سے بچاؤ نہیں کرسکتے وہ کیا سفارش کریں گے، فرشتے اور انبیائے کرام اور اللہ کے دوسرے نیک بندے اللہ کی بارگاہ میں شفاعت تو کردیں گے لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاعت کی اجازت ہو کہ فلاں فلاں کی سفارش کرسکتے ہو۔
آیت کریمہ ﴿ وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ ﴾ (الایۃ) میں اس مضمون کو بتایا ہے کہ آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں ان کی سفارش کچھ بھی کام نہیں آسکتی ہاں اللہ تعالیٰ جس کے لیے اجازت دے اور جس سے راضی ہو اس کی شفاعت سے فائدہ پہنچ سکے گا۔
اور چونکہ کافر اور مشرک کی بخشش ہی نہیں ہونی اس لیے ان کے لیے شفاعت کی اجازت ہونے کا کوئی تصور ہی نہیں ہوسکتا۔ سورة الانبیاء میں ان لوگوں کی تردید فرمائی ہے جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد بتاتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کی شفاعت کی امید رکھتے تھے۔ ارشاد فرمایا ﴿وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ 1ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَۙ0026 لَا يَسْبِقُوْنَهٗ بالْقَوْلِ وَ هُمْ بِاَمْرِهٖ يَعْمَلُوْنَ 0027 يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يَشْفَعُوْنَ 1ۙ اِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰى وَ هُمْ مِّنْ خَشْيَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ 0028﴾ (اور وہ اس کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں وہ ان کے اگلے پچھلے احوال کو جانتا ہے اور وہ سفارش نہیں کرسکتے مگر جس کے لیے وہ راضی ہوا اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 53:27مشرکین نے اپنی طرف سے فرشتوں کا مادہ ہونا تجویز کیا
مشرکین جو فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد بتاتے تھے اور یوں کہتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اس کے بارے میں فرمایا ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ لَيُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓىِٕكَةَ تَسْمِيَةَ الْاُنْثٰى 0027﴾ (بےشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو مونث یعنی لڑکی کے نام سے نامزد کرتے ہیں) ان کی یہ سب بری حرکتیں ہیں اور برے عقیدے ہیں اور ان کے یہ جو خیالات ہیں فکر آخرت نہ ہونے کی وجہ سے ہیں اگر آخرت پر ایمان لاتے اور یہ فکر ہوتا کہ موت کے بعد ہمارا کیا بنے گا ایسا تو نہیں کہ ہمارے عقائد اور اعمال ہمیں عذاب میں مبتلا کردیں تو بغیر قطعی دلیل کے فرشتوں کو نہ عورت بتاتے اور نہ ان کو اللہ کی اولاد بتاتے، اپنی عقل کو کام میں نہ لائے ساری باتیں محض گمان سے کرتے رہے نہ دلیل نہ حجت محض اٹکل پچو باتیں بناتے رہے اور خود ساختہ معبودوں کی عبادت کرتے رہے۔
ایمان اور فکر آخرت کی ضرورت
اللہ جل شانہٗ نے جو ﴿ اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ ﴾ (الایۃ) فرمایا ہے اس میں ایک اہم مضمون کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ شرکیہ باتیں کرتے ہیں معلوم ہوا کہ آخرت پر یقین نہ ہونا کفر وشرک اختیار کرنے اور اس پر جمے رہنے کا بہت بڑا سبب ہے۔ آخرت پر یقین نہیں اور آخرت کا تصور ہے تو یوں ہی جھوٹا سا دھندلا سا ہے پھر ان کے دینی ذمہ داروں نے یہ سمجھا دیا ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کی عبادت کرتے ہو یہ تمہیں قیامت کے دن سفارش کرکے عذاب سے بچا لیں گے لہٰذا تھوڑا بہت جو آخرت کا ڈر اور فکر تھا وہ ختم ہوا، مشرکین تو کافر ہیں ہی ان کے علاوہ جو کافر ہیں ان کی بہت سی قسمیں اور بہت سی جماعتیں ہیں ان میں بعض تو ایسے ہیں جو نہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کے وجود کو مانتے ہیں نہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمارا کوئی خالق ہے اور نہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں انکے عقیدہ میں جب کوئی خالق ہی نہیں تو کون حساب لے گا اور کون دوبارہ زندہ کرے گا یہ ملحدین کا اور دہریوں کا عقیدہ ہے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو کسی دین اور دھرم کے قائل ہیں اللہ تعالیٰ کو بھی خالق اور مالک مانتے ہیں لیکن شرک بھی کرتے ہیں اور تناسخ یعنی آواگون کا عقیدہ رکھتے ہیں آخرت کے مواخذہ اور محاسبہ اور عقاب کا تصور ان کے یہاں نہیں ہے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو انبیائے کرام ﷺ کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں یعنی یہودونصاریٰ یہ لوگ دوسرے کافروں کی نسبت آخرت کا ذرا زیادہ تصور رکھتے ہیں لیکن دونوں قوموں کو عناد اور ضد نے برباد کردیا سیدنا محمد رسول ﷺ کی نبوت اور رسالت پر ایمان نہیں لاتے یہودیوں کی آخرت سے بےفکری کا یہ عالم ہے کہ یوں کہتے ہیں ﴿ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ﴾ (ہمیں ہرگز آگ نہ پکڑے گی مگر چند روز) یہ جانتے ہوئے کہ دنیاوی آگ ایک منٹ بھی ہاتھ نہیں لے سکتے اپنے اقرار سے چند دن کے لیے دوزخ میں جانے کو تیار لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں۔ اور نصاریٰ کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ آخرت کے عذاب کا یقین رکھتے ہوئے اپنے دینی پیشواؤں اور پادریوں کی باتوں میں آگئے جنہوں نے یہ سمجھا دیا کہ کچھ بھی کرلو اتوار کے دن چرچ میں آجاؤ بڑے بڑے گناہ جو کیے ہیں وہ پادری کو بتادو وہ انہیں معاف کر دے گا اور دوسرے گناہوں کو بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ پادری کے اعلان سے سارے معاف ہوجائیں گے ایسی بےوقوفی کی باتوں کو مان کر آخرت کے عذاب سے غافل ہیں اور کفر و شرک میں مبتلا ہیں، بےفکری نے ان سب کا ناس کھویا ہے آخرت کے عذاب کا جو دھندلا سا تصور ذہن میں تھا اسے بھی ان کے بڑوں نے کالعدم کردیا، دھڑلے سے کفر پر بھی جمے ہوئے ہیں اور شرک پر بھی اور کبیرہ گناہوں پر بھی، غور کرنے کی بات ہے کہ نافرمانی کی خالق تعالیٰ جل مجدہ کی اور معاف کردیں بندے ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟
آخرت کے عذاب سے بچنے کی فکر کرنا لازم ہے :
انسانوں کو موت کے بعد کا فکر ہی نہیں اور یہ یقین ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے اپنی طرف سے کوئی دین بھیجا ہے جس کے ماننے اور قبول کرنے پر آخرت کے عذاب سے بچ جائیں گے نہ فکر ہے نہ یقین ہے اس لیے کفر و شرک اور گنہگاری کی زندگی میں مبتلا ہیں، فکر اور یقین بہت بڑی چیز ہے، اگر کسی کو فکر لاحق ہوجائے اور کفروشرک پر مرنے سے عذاب میں مبتلا ہونے کا یقین ہوجائے تو نیند نہ آئے اور نہ کھانے میں مزا آئے جب تک اس دین کو تلاش نہ کرلیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بھیجا ہے اور اس کے انکار پر دوزخ میں داخل کرنے کا فیصلہ فرمایا ہے اس کی تحقیق کرنے سے پہلے نہ جینے میں مزہ آتا نہ خوشیاں مناتے نہ مستیاں کرتے۔ اگر واقعی فکر کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ سب کی سمجھ میں یہی آئے گا کہ صرف دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ کے یہاں معتبر ہے اور اسی میں نجات ہے اس کے خلاف کسی کی بات نہ مانیں نہ کسی سردار کی نہ پیشوا کی، نہ پوپ کی نہ پادری کی، اور ہر شخص مذہب کے بڑوں کو جواب دے کہ دین کو اختیار کرنا دوزخ کے عذاب سے بچنے کے لیے ہے دنیا میں گروہ بندی کرنے کے لیے نہیں ہے تم اپنی بڑائی باقی رکھنے اور ایک جماعت کا سردار اور پیشوا بننے کی حرص میں ہمارا ناس کیوں کھوتے ہو اور اپنے ساتھ ہمیں دوزخ میں لے جانے کی فکر میں کیوں مبتلا ہو ؟
درحقیقت آخرت پر پختہ ایمان نہ ہونا خواہشات نفس کا اتباع کرنا، اٹکل پچو اپنے لیے دین تجویز کرلینا ان تین باتوں نے انسانوں کو دوزخ میں ڈالنے کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ بہت سے وہ لوگ جو مسلمان ہیں آخرت کا یقین بھی رکھتے ہیں لیکن خواہشات نفس کا مقابلہ نہیں کرسکتے، یہ لوگ بھی اپنی جانوں کو آخرت کے عذاب میں مبتلا کرنے کے لیے تیار ہیں، نمازیں چھوڑنے والے زکوٰتیں روکنے والے، حرام کمانے والے، حرام کھانے والے اور دوسرے گناہوں میں جو لوگ پھنسے ہوئے ہیں ان کے ایمان کو خواہشات نفس نے کمزور کر رکھا ہے فکر آخرت نہیں اس لیے گناہ نہیں چھوڑتے۔
گمان کی حیثیت :
آیات بالا میں گمان کے پیچھے پڑنے کی بھی مذمت فرمائی اور یہ بھی فرمایا کہ ” گمان حق کا فائدہ نہیں دیتا۔ “ اس میں ان لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت ہے جو قرآن و حدیث کی تصریحات کے مقابلہ میں اپنے خیال اور گمان کے تیر چلاتے ہیں اور دینی مسائل میں دخل دیتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ میرے خیال میں یوں ہے یا یوں ہونا چاہیے۔
جو لوگ عموماً دوسروں کے بارے میں بدگمانی کرتے ہیں اور ان کی یہ بدگمانی انہیں غیبت اور تہمت پر آمادہ کردیتی ہے (اپنی آخرت کی فکر نہیں کرتے) یہ لوگ اپنی بہت سی ایسی ہی حرکتوں کی وجہ سے رسوا بھی ہوجاتے ہی اور آخرت میں گناہوں کا نتیجہ سامنے آہی جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث (بدگمانی سے بچو کیونکہ یہ بدگمانی باتوں میں سب سے جھوٹی بات ہے) ۔ (مشکوۃ المصابیح صفحہ 427 عن البخاری و مسلم)
Ayah 53:28اسی کو فرمایا ﴿ وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ ﴾ (اور ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں) ﴿اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ 1ۚ﴾ (صرف بےاصل خیالات اور محض گمان کے پیچھے چلتے ہیں) ﴿ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔاۚ0028﴾ (اور بلاشبہ گمان حق کے بارے میں کوئی فائدہ نہیں دیتا) گمان کا اتباع کرنے کا تذکرہ دوبارہ فرمایا ہے پہلی جگہ باطل معبود تجویز کرنے سے متعلق ہے اور دوسری جگہ ان کو شفاعت والا سمجھنے سے متعلق ہے۔
Ayah 53:29اہل دنیا کا علم دنیا ہی تک محدود ہے، اللہ تعالیٰ ہدایت والوں کو اور گمراہوں کو خوب جانتا ہے
یہ چند آیات کا ترجمہ ہے، ان میں اولاً رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نصیحت سے اعراض کیا آپ اس کی طرف سے اعراض فرمائیں، بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے پیچھے نہ پڑیں اور ان کی حرکتوں سے دلگیر نہ ہوں ان کو دنیا میں جھٹلانے اور انکار کرنے کی سزا مل جائے گی اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے عذاب ہے ہی اس سے چھٹکارہ نہیں۔
جن لوگوں نے قرآن سے اعراض کیا ان کی ایک صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ﴿ وَ لَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَاؕ0029﴾ (کہ اس نے صرف دنیا والی زندگی کا ارادہ کیا) اس میں یہ بتادیا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اعراض کرنے والوں کی یہ صفت بھی ہوتی ہے کہ وہ صرف دنیا ہی کو چاہتے ہیں دنیا ہی انکا مقصود اور مطلوب ہوتی ہے اسی کے لیے کھاتے ہیں اور کماتے ہیں اور اسی کے لیے جیتے ہیں اور مرتے ہیں جس نے دنیا ہی کو مقصود بنا لیا وہ موت کے بعد کی زندگی کے لیے اور وہاں کام آنے والے اعمال کی طرف متوجہ ہوتا ہی نہیں اس کا سونا جاگنا اٹھنا، بیٹھنا دنیا ہی کے لیے ہوتا ہے ﴿ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ﴾ (یہ ہی ان کے علم کی پہنچ ہے) جتنی بھی ترقی کرلیں اور جتنا بھی پڑھ لیں اور جتنی بھی ڈگریاں حاصل کرلیں، ان کا سب کچھ غوروفکر اور مقصود اور مطلوب دنیا کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا جو دنیا میں غرق ہوگیا آخرت کی فکر سے اسے واسطہ ہی نہ رہا، سورة روم میں فرمایا ﴿ يَعْلَمُوْنَ ظَاهِرًا مِّنَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا 1ۖۚ وَ هُمْ عَنِ الْاٰخِرَةِ هُمْ غٰفِلُوْنَ 007﴾ (یہ لوگ دنیاوی زندگانی کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں) اصحاب دنیا کو دنیا کی محبت ایمان قبول نہیں کرنے دیتی اور جو لوگ ایمان قبول کرلیتے ہیں اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے جتنی دنیا غالب ہوگی اس قدر آخرت سے غفلت ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( من احب دنیاہ اضر باخرتہ ومن احب اخرتہ اضر بدنیاہ فاٰثروا مایبقٰی علی من یفنی) (جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرے گا اپنی آخرت کو نقصان پہنچائے گا اور جو شخص اپنی آخرت سے محبت کرے گا اپنی دنیا کو نقصان پہنچائے گا لہٰذا تم باقی رہنے والی کو فنا ہونے والی پر ترجیح دو ) (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 441) مطلب یہ ہے کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے۔ اسی کو ترجیح دینا ہوش مندی کی بات ہے۔ ایک حدیث میں فرمایا : حب الدنیا راس کل خطیئة دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 444)
Ayah 53:30رسول اللہ ﷺ جو دعائیں کیا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ دعا بھی تھی :
اللھم لاتجعل مصیبتنا فی دیننا ولا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا (اے ہمارے اللہ ہمارے دین میں کوئی مصیبت مت بھیج، اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر اور ہمارے علم کی پہنچ مت بنادے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 219)
پھر فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ 1ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى 0030﴾ (بیشک آپ کا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹک گیا اور وہ خوب جانتا ہے اس شخص کو جس نے ہدایت پائی دونوں فریقوں کا حال اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے وہ ہر ایک کے حال کے مطابق جزا سزا دیدے گا۔
Ayah 53:31برے کام کرنے والوں کو ان کے اعمال کی سزا ملے گا اور محسنین کو اچھا بدلہ دیا جائے گا
﴿وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ ﴾ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے) اسی نے سب چیزوں کو پیدا فرمایا اسی مخلوق میں بنی آدم بھی ہیں جن کے لیے ہدایت بھیجی ہے ہدایت پہنچنے کے بعد دو فریق ہوگئے ایک فریق برے اعمال والا ہے دوسرا فریق اچھے اعمال والا ہے دونوں فریق کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا اس بات کو ﴿ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ يَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بالْحُسْنٰى ۚ0031﴾ میں بیان فرمایا ہے پھر اچھے عمل کرنے والوں کی صفت بتاتے ہوئے ﴿اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ 1ؕ﴾ فرمایا ہے اس میں نیک ہونے کی سلبی صفت بیان فرمادی اور یہ بتادیا کہ جیسے فرائض اور واجبات کا اہتمام کرنا اور دیگر اعمال صالحہ اور اخلاق عالیہ کا انجام دینا نیکیوں سے متصف ہونا نیک ہونے کی ایک صفت ہے اسی طرح اس کے مقابل بڑے گناہوں اور فحش کاموں کو چھوڑ دینا بھی اچھے بندوں کی صفت ہے، کوئی شخص نیک عمل کرتا رہے اور ساتھ ہی گناہ کبیرہ کا بھی ارتکاب کرے تو یہ شخص کامل طریقہ پر اچھے بندوں میں شمار نہیں ہوگا دونوں پہلو نیکی کا جزو ہیں جن کاموں کا حکم دیا گیا ہے ان پر عمل کرنا اور جن سے منع کیا گیا ہے ان سے بچنا دونوں چیزیں مل جائیں توتب ایمان کا کمال حاصل ہوتا ہے اور بندہ ﴿ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا ﴾ کا مصداق بنتا ہے بہت سے لوگ نفلیں زیادہ پڑھتے ہیں لیکن گناہ چھوڑنے کی طرف توجہ نہیں کرتے حالانکہ گناہوں کو چھوڑنا بہت بڑی نیکی ہے بلکہ سب سے بڑی عبادت ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ( اتق المحارم تکن اعبدالناس) (تو گناہوں سے بچ لوگوں میں سب سے بڑھ کر عبادت گزار ہوگا) (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 440)
بات یہ ہے کہ نیکی کرنا بہ نسبت گناہ چھوڑنے کے آسان ہے اور بہت سے لوگ گناہوں سے بچنے میں کوئی خاص زیادہ ثواب نہیں سمجھتے حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گناہوں سے بچنا سب سے بڑی عبادت ہے جن گناہوں کی عادت پڑگئی ہے انہیں کرتے ہی رہتے ہیں نیکیوں کا اہتمام کرنے کے ساتھ ہی گناہوں کے چھوڑنے کا اہتمام کرنا بھی لازم ہے۔