53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

ایک مرتبہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قریش مکہ کے مجمع میں سورة النجم کی تلاوت فرمائی تو اس وقت اہل ایمان کے ساتھ ساتھ کافر و مشرک سب ہی موجود تھے۔ جب سجدہ کی ایٓت آئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جاں نثار صحابہ کرام نے تو سجدہ کیا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس وقت جتنے بھی لوگ موجود تھے وہ سب بھی سجدے میں گر گئے اور قریش کے بڑے بڑے سردار اور مخالفین سجدہ کئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ ستارہ جب غائب ہوجاتا ہے اس کی قسم کھا کر فرمایا کہ تمہارے یہ رفیق (ساتھی) جو ہمیشہ تمہارے سامنے ہیں یہ اللہ کا پیغام پہنچانے میں راہ حق سے نہ بھٹکے اور نہ انہوں نے کوئی غلط راستہ اختیار کیا ہے۔ آپ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) برحق ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنی ذاتی خواہش سے بیان نہیں کرتے بلکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف جو وحی نازل ہوتی ہے آپ اس کو بیان کردیتے ہیں۔ طاقت و قوت والا ہے۔ وہ ایک مرتبہ اپنی اصلی صورت پر سامنے آیا جب کہ وہ آسمان کے کنارے پر تھا۔ (جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس فرشتے کو دیکھ کر بےہوش ہوگئے تو) وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت زیادہ قریب آیا اتنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اور اس کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ پھر اللہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جس قدر وحی بھیجنا چاہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کو بھیجا۔ نظر نے جو کچھ دیکھا تھا دل نے اس میں کسی جھوٹ کو نہ ملایا تھا ۔ کیا تم لوگ انسے اس بات میں جھگڑ رہے ہو، جس کو انہوں نے آنکھ سے دیکھا تھا۔ لات منات، اور عزیٰ وہ بہت ہیں جو عورتوں کے نام ہیں جو کفار کے بڑوں نے اس تصور کے ساتھ نام رکھے تھے کہ نعوذ باللہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور دو بیٹیاں قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں ان کی سفارش کر کے ان کو جہنم کے عذاب سے نجات دلوا دیں گی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ کیسی بےڈھگنی اور ظالمانہ تقسیم ہے کہ خود تو لڑکیوں کو قابل تعریف سمجھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ان گھروں میں لڑکے پیدا ہوں۔ تم نے اللہ کے لئے فرشتوں کو اس کی لڑکیاں بنا دیا۔ تو یاد رکھو اللہ ان تمام باتوں اور شرک سے پاک ہے۔ قیامت کے ہولناک دن فرشتے تو کیا کسی پیغمبر کو بھی اس وقت تک کسی کی سفارش کا حق نہ ہوگا۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت نہ دی جائے۔ سفارش اسی کی ہوگی جس کے لئے اللہ چاہے گا۔ زمین و آسمان اور ساری کائنات میں سارا اختیار اللہ کا ہے جو جیسا عمل کرے گا اس کو ایسا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ اگر کوئی برے راستے کا انتخاب کرکے اس پر عمل کرے گا تو اس کو سخت سزا دی جائے گی اور اگر کسی نے نیک اور بہتر راستے اختیار کر کے نیک عمل کیا ہوگا تو اس کو اللہ تعالیٰ بہترین بدلہ اور جزا عطا فرمائیں گے۔ اور ایک مرتبہ پھر انہوں نے اس کو (نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل کو) سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔ جس کے پاس ہی ” جنت الماوی “ ہے اس وقت اس پیروی کے درخت (سدرۃ المنتہی) پر ہو طرف اللہ کے انورات اور فرشتے چھائے ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ دیکھنے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نہ تو نظر بہکی اور نہ وہ حد سے آگے بڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ فرمایا کیا تم نے کبھی لات عزیٰ اور ایک تیسری بت منات پر بھی غور کیا ہے ؟ وہ کیا ہیں ؟ اور ان کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ کچھ عورتوں کے نام ہیں جن پر ان بتوں کے نام رکھ لئے گئے ہیں کیونکہ تمہارا گمان یہ ہے کے فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور یہ تصویریں ان ہی کی ہیں۔ فرمایا کس قدر بےڈھنگی تقسیم ہے کہ تم اپنے گھروں میں بیٹیاں پیدا ہونے کے بعد شرمندگی سے منہ چھپاتے پھرتے ہو اور لڑکیوں کے وجود کو نفرت دیکھتے ہو۔ تم نے اللہ کے لئے تو بیٹیوں کو پسند کیا اور خود تم چاہتے ہو کہ تمہارے گھروں میں لڑکے ہوں یہ کیسی ظالمانہ تقسیم ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تصور کرنا او ان ہی پر تصور بنا کر ان کی عبادت و پرستش کرنا اور یہ سمجھنا کہ قیامت میں یہ فرشتے (جن کو وہ اللہ کی بیٹیاں سمجھنے تھے) ان کی سفارش کر کے ان کو عذاب الٰہی سے بچا لیں گے یہ انکا محض وہم اور گمان ہے جس کی وہ عبادت زندگی میں کر رہے ہیں۔ یہ محض ان کی طرف سے گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔ ان کا گمان ہے جس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ فرمایا کہ فرشتے نہیں بلکہ کوئی بھی اس کی بارگاہ میں کسی کی سفارش اور شفاعت نہیں کرسکتا جب تک اس کو سفاشر کرنے کی اجازت نہ ہو وہ اس کے پسند کرے۔ دنیا اور آخرت کا مالک اللہ ہے اس کے سوا مالک نہیں۔ فرمایا کہ لات، منات اور عزیٰ یہ بتوں کے وہ نام ہیں جو ان کے باپ دادا نے رکھ لیے تھے۔ یہ ان کی اپنی خواہشات تھیں جن کی انہوں نے پیروی کی ورنہ اللہ نے ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ان کے پاس اس کی کوئی سند یا دلیل نہیں ہے بلکہ یہ ان کا محض خیال اور گمان ہے۔ درحقیقت کسی کا گمان حق کی جگہ نہیں لے سکتا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ ہمارے ذکر سیم نہ پھیر کر چل رہے ہیں اور انہیں دنیا کے سوا کچھ نہیں چاہئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجیے کیونکہ ان کے علم کی انتہا بس یہیں تک ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے۔ فرمایا زمین و آسمان میں سارا اختیار اللہ ہی کا ہے۔ جس نے بھی برے راستے کا انتخاب کیا وہ اس کو اس کی سزا دے گا اور جن لوگوں نے بہترین اور نیک راستے کا انتخاب کر کے اس پر قدم بڑھائے ہوں گے ان کو بہترین جزا اور بدلہ دیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچ کر چلتے ہیں۔ اگر ان سے کوئی ہلکا پھلکا گناہ ہوجائے تو آپ کے پروردگار کا دامن رحمت بہت وسیع ہے۔ وہ اللہ تمہاری کمزوریوں اور خوبیوں سے اچھی طرح واقف ہے اس وقت سے وہ تمہیں جانتا ہے جب تمہیں مٹی سے پیدا کر کے ماں کے پیٹ میں تم نے ایک بچے کی شکل اختیار کی تھی۔ تم اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو وہ جانتا ہے کون متقی اور پرہیز گار ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی اس شخص کے حالات پر بھی غور کیا جو اللہ کے راستے سے بھٹک گیا۔ کچھ خرچ کیا اور کہیں وہ رک گیا۔ کیا اس کے پاس کوئی غیب کا علم ہے کہ اس نے ہر حقیقت کو دیکھ لیا ہے۔ کیا اسے اس صحیفوں صکتابوں) کی خبر ملی ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت ابراہیم کے پاس تھیں۔ وہ ابراہیم جنہوں نے وفا کا حق ادا کردیا تھا۔ ان صحیفوں میں لکھا ہوا ہے کہ (١) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ (٢) انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کیلئے وہ جدوجہد کرتا ہے۔ (٣) اس کی جدوجہد اللہ کی نظر میں ہے وہ ہر ایک کو اس کا بدلہ دے گا۔ (٤) یہ کہ آخر کار تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کرجاتا ہے۔ (٥) وہی ہنساتا ہے وہی رلاتا ہے۔ (٦) زندگی اور موت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (٧) اس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا جب کہ اس ایک بوند سے جو ٹپکائی گئی (اسی سے اس کا وجود ہے۔ ) (٨) مرنے کے بعد دوبارہ زنگدی دینا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ (٩) وہی مال اور جائیداد عطا کرتا ہے۔ (١٠) وہی اس ستارے ” شعری “ کا رب ہے (جس کو تم پوجتے ہو) ۔ (١١) اسی نے قوم عاد یعنی عاد اولیٰ کو ہلاک کیا۔ (١٢) اور اسی نے ثمود کو اس طرح منایا کہ کسی کو باقی نہ چھوڑا۔ (١٣) اور اسی نے قوم نوح کو جو بڑے ظالم اور سرکش تھے تباہ کیا۔ (١٤) اوندھی گری ہوئی بستیوں کو (قوم لوط) کو اٹھا پھینکا ۔ (١٥) پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے یعنی ان پر عذاب آ کر رہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے مخاطب ! تو اپنے رب کی کن نعمتوں میں شک و شبہ کرے گا۔ فرمایا کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی پہلے پیغمبروں کی طرح ایک پیغام پر ہیں (ان کو مان لو) کیونکہ وہ جلدی آنے والی چیز (قیامت) بہت قریب آپہنچی۔ کیا تم یہ سب باتیں سن کر بھی کلام الٰہی میں تعجب کرتے ہو۔ تم ہنستے ہو مذاق اڑاتے ہو (اور اپنے برے انجام پر) روتے نہیں ہو اور تم غرور وتکبر کرتے ہو۔ اب بھی وقت ہے کہ تم اللہ کی اطاعت کرو اور اسی کی عبادت کرو۔

Ayahs 53:1–18

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب وہ غروب ہوا۔

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارے رفیق نے نہ تو راستہ گم کیا اور نہ وہ غلط چلے۔

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کرتے ہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

سوائے اس کے جو (ان کی طرف ) وحی کی جاتی ہے۔

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

انہیں سکھاتا ہے جو بڑی طاقت والا ہے۔

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو حکمت والا ہے۔ پھر وہ سامنے کھڑا ہوا

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

جب کہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا۔

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ (جبرئیل) نزدیک ہوا اور اتر آیا۔

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر اللہ نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر وحی نازل کی جو بھی اسے پہنچانی تھی

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

(آپ ﷺ نے جو دیکھا) اس کے سمجھنے میں دل نے غلطی نہیں کی۔

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

تو کیا پھر تم ان کی رسول کی) دیکھی ہوئی چیز میں ان سے جھگڑتے ہو

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور بلاشبہ انہوں نے جبرئیل) کو ایک مرتبہ اور بھی اترتے دیکھا تھا۔

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

اس سدرۃ المنتھی (بیری کے درخت) کے پاس دیکھا تھا

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

جس سدرۃ المنتھی کے پاس جنت الماوی آرام سے رہنے والی جنت) ہے۔

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

اس وقت اس (سدرۃ المنتھی) کو ڈھانپ رکھا تھا جس نے بھی ڈھانپ رکھا تھا۔

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نہ اس کی آنکھ نے دھوکا کھایا اور نہ وہ حد سے آگے بڑھا۔

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

یقینا اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں لوگوں کی ہدایت کے لئے اللہ کے پیغمبر آتے رہے اور توحید و رسالت کی تعلیمات اور اللہ کے دین کی روشنی سے دنیا کو منور کرتے رہے لیکن جب اللہ نے اپنے آخری نبی اور آخری محبوب رسول حضرت محمد ﷺ کو بھیجا تو اس روشنی کی تکمیل ہوگئی اور ساری دنیا کے روحانی اندھیرے دور ہوگئے اور اب یہ شمع رسالت قیامت تک اسی طرح اپنی روشنی بکھیرتی رہے گی۔ فرمایا کہ ستارے کی قسم جس طرح یہ ستارے چاند اور سورج اپنی جگہ پر قا اعدے طریقے سے چلتے ہیں اور ان کی رفتار میں نکلنے اور ڈوبنے میں کبھی کوئی فرق نہیں آتا اور وہ اپنی مستعدی سے اپنی جگہ جم کر چلتے ہیں اسی طرح ہمارے رسول بھی پوری مستعدی اور شان سے اللہ کے احکامات کو پوری دیانت داری سے ساری دنیا تک پہنچا رہے ہیں انہوں نے شب معراج اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اور سنا وہ سورج کی روشنی کی طرف صاف اور واضح تھا جس کے دیکھنے میں نہ تو وہ بھٹکے اور نہ انہوں نے کوئی غلطی کی۔ ۔ فرمایا کہ ہمارے مبحوب نبی پر جو فرشتہ وحی لے کر اترتا ہے (جبرئیل امین) وہ بڑی قوت و طاقت والا، مضبوط و توانا، زور آور، جسمانی اور روحانی طاقتوں کا مالک ہے جس کے چھ سو بازو ہیں۔ اگر وہ اپنی اصلی آواز نکالیں تو لوگوں کے کلیجے پھٹ جائیں۔ ان کی طاقت وق وت کا یہ حال ہے کہ جب انہوں نے اللہ کے حکم سے قوم لوط کی بستیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر آسمان تک بلند کیا اور پھر اس قوم کو زمین پر پٹک دیا تو وہ قوم اور اس کی بستیاں اس طرح برباد ہوگئیں کہ اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر آگیا اور پھر سمندر کا پانی ان پر چڑھ دوڑا اور ان کی بستیوں کو سمندر میں غرق کر کے نشان عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کے لئے فرمایا ہے کہ وہ کریم ہیں عزت و قوت والے ہیں جن کا اللہ کے ہاں ایک اعلیٰ مقام ہے۔ سب فرشتوں کے مقابلے میں ان کو اللہ کی بارگاہ میں زیادہ قرب اور پہنچ ہے۔ وہ مطاع ہیں یعنی آسمان کے فرشتے بھی ان کی بات ماننے پر مجبور ہیں اور ان کا حکم تسلیم کرتے ہیں جن کے امین اور معتبر ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اللہ کے اس طاقت ور فرشتے کے سامنے شیطان کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ کسی قسم کی رکاوٹ ڈال سکے لہٰذا یہ اللہ کا کلام کسی شیطان کے ذریعہ نہیں پہنچا کہ آپ کو کاہن کہا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرئیل کو ان کی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ ایک مرتبہ زمین پر اور ایک مرتبہ ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتھی کے پاس ۔ ابتدائے وحی کے قویب ایک مرتبہ آپ ﷺ نے حضرت جبرئیل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا کہ وہ ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس وقت آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا تھا۔ نبی کریم ﷺ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ اس وقت حضرت جبرئیل آپ کے پاس عام انسانی شکل میں آئے تاکہ آپ کو تسلی دے سکیں چناچہ انہوں نے آپ ﷺ کو اٹھایا، تسلی دی اور اتنے قریب ہوگئے کہ حضرت جبرئیل اور نبی کریم ﷺ کے درمیان دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ رہا۔ پھر انہوں نے اللہ کے حکم سے جو اس نے چاہا آپ پر وحی نازل کی۔ دوسری مرتبہ شب معراج میں سدرۃ المنتھی کے پاس آپ نے حضرت جبرئیل کو دیکھا کہ وہ رفرف کے لباس میں ہیں اور زمین و آسمان کی فضا کو ان کے وجود نے بھر رکھا تھا۔ ان کے وجود کا پھیلائو چھٹے آسمان سے ساتویں آسمان تک تھا۔ پھر وہ عام شکل میں قریب آئے اور اتنے قریب ہوئے کہ نبی کریم ﷺ اور ان کے درمیان دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ پھر نبی کریم ﷺ کو اس شب معراج میں اللہ کی نشانیاں دکھائی گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ نے اس رات کو جو کچھ دیکھا نہ آپ کی آنکھ نے دھوکا کھایا اور نہ آپ کی آنکھ بھٹکی اس طرح اللہ نے اپنی بہت سی نشانیاں دکھا کر ختم نبوت کا تاج آپ کے سر پر رکھ دیا۔ ان آیات کے سلسلہ میں چند باتوں کی وضاحت پیش خدمت ہے۔ (1) اس جگہ اللہ نے ” النجم “ (ستارہ) کی قسم کھا کر نبی کریم کی شان رسالت کو بیان کیا ہے۔ یہ کون سا ستارہ ہے اس سلسلہ میں مفسرین کرام نے مختلف باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ ٭… اس سے صرف ایک ستارہ نہیں بلکہ ستاروں کی جنس مراد ہے یعنی ستاروں کا جھرمٹ، کہکشاں ٭… اس سے شہاب ثاقب مراد ہیں جن کے ذریعہ ان شیاطین کو مار کر بھگایا جاتا ہے جو آسمانوں پر مستقبل کی باتیں سننے کی کو ششک رتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے یہ شیاطین آسمانوں پر جا کر فرشتوں کی گفتگو سن لیتے اور پھر آ کر کاہنوں کو بتا دیتے تھے وہ کاہن جنات و شیاطین کی باتوں کو سن کر اور کچھ خود سے گھڑ کر لوگوں کے سامنے مستقبل کی پیشین گوئیاں کردیتے تھے۔ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد اللہ نے جنات و شیاطین پر پابندی لگا دی اور اگر کوئی جن یا شیطان آسمان کی طرف بلند ہو کر سننے کی کوشش کرتا تو اس کے پیچھے شہاب ثاقب یعنی آسمانی انگارے برسائے جاتے تھے۔ ٭… بعض مفسرین نے ” النجم “ سے مراد قرآن کریم کی آیتوں اور سورتوں کو لیا ہے۔ ٭… بہرحال ” النجم “ سے ستارے مراد ہوں یا شہاب ثاقب اللہ نے ساتروں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جب یہ ستارے ڈوب جاتے ہیں تب ہی صبح ہوتی ہے اور اس سے رات کے اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اب نبی کریم ﷺ کی آمد اور قرآن کریم کی آیتوں کے نازل ہونے کے بعد اگر کہیں روشنی ہے تو وہ صرف خاتم الانبیاء ﷺ اور آپ کے لائے ہوئے دین ہی کی ہے۔ (2) اس میں نبی کریم ﷺ کو صاحبکم “ فرمایا یعنی تمہارے رفیق تمہارے ساتھی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ جو اس دین اسلام کو لے کر آئے ہیں وہ کہیں اور سے نہیں آئے ہیں۔ یہ وہی ہیں جن کے بچپن ، جوانی اور ادھیڑ عمری کے ایک ایک لمحے سے مکہ کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جن کو صادق و امین اور معتبر سمجھا جاتا تھا۔ آج اعلان نبوت کے بعد ان جیسی عظیم ہستی کے متعلق طرح طرح کی نامناسب باتیں کرنا ان کو زیب نہیں دیتا۔ انہوں نے معراج میں جو کچھ دیکھا وہ اللہ کی نشانیاں تھیں۔ جو کچھ آنکھوں سے دیکھا اس میں نہ وہ گمراہ ہیں اور نہ راستے سے بھٹکے ہیں بلکہ جو کچھ انہوں نے دیکھا اور جو کچھ عطا کیا گیا وہ برحق تھا۔ آپ کی شان یہ ہے کہ آپ جو کچھ بھی کہتے ہیں جب تک اللہ کی طرف سے وحی نہیں ہوتی آپ بیان نہیں فرماتے۔ (3) سورة النجم وہ سب سے پہلی سورت ہے جس کا نبی کریم ﷺ نے اعلان فرمایا۔ آپ نے اس کی تلاوت فرمائی۔ اس مجمع میں میں اہل ایمان کے علاوہ کفار و مشرکین بھی تھے جب آیت سجدہ آئی تو آپ نے اور تمام مسلمانوں نے سجدہ آئی تو آپ نے اور تمام مسلمانوں نے سجدہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس وقت تمام کفار و مشرکین نے بھی اللہ کے سامنے سجدہ کیا۔ (4) عربوں میں باہمی دوستی کے دو طریقفے تھے ایک تو یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر دوستی کرتے تھے۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ وہ دونوں شخص اپنی اپنی کمانوں کی لکڑی تو اپنی طرف کرلیتے اور کمان کی ڈور دوسرے کی طرف۔ اس طرح جب دونوں کمانوں کی ڈور مل جاتیں تو یہ اس بات کا اعلان ہوتا تھا کہ دو دشمنوں میں محبت اور قربت ہوگئی ۔ اس قرب کے وقت ان دونوں میں دونوں ” قوسوں “ کے ماپ کا فاصلہ رہتا تھا یعنی تقریباً دو ہاتھ (ایک گز) اس کے بعد ” ادنی “ کہہ کر بتا دیا کہ یہ اس سے بھی زیادہ قریب اور ملا ہوا تھا۔ (5) ساتویں آسمان پر عرش کے نیچے ایک درخت ہے جس کو ” سدرہ المنتھی ‘ کہتے ہیں۔ عربی میں ” سدرہ “ بیری کے درخت کو کہتے ہیں جس کی کیفیت کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو بھی احکامات یا رزق نازل ہوتے ہیں ان کا فیصلہ سدرہ تک پہنچتا ہے وہاں سے جن ملائکہ کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے وہ اس کو لے کر زمین کی طرف لاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں جتنے انساین اعمال ہیں وہ سدرہ تک پہنچتے ہیں پھر وہاں سے اوپر اٹھائے جاتے ہیں۔ فرمایا کہ اسی سدرہ کے پاس وہ جنت بھی ہے جو اللہ کے نیک بندوں کے رہنے کی باعزت جگہ ہے اس کو ” جنت الماوی “ فرمایا گیا ہے۔ جب نبی کریم ﷺ شب معراج تشریف لائے تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ ہم بھی اس رات رسول اللہ ﷺ کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے ان کو اجازت دے دی اور وہ تمام فرشتے سدرہ کے درخت اور اس کے ہر پتے پر اس طرح آپ کا انتظار کرنے لگے کہ ان کی جگمگاہٹ سے ایسا لگتا تھا جیسے سونے کے پروانے ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت جبرئیل جیسے مقرب فرشتے نے بھی اگٓے جانے سے یہ کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں اس سے آگے ایک قدم بھی جاؤں گا تو اللہ کی تجلی سے میرے پر جل جائیں گے۔ اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی بہت سی نشانیاں دیکھیں جن کے دیکھنے میں نہ تو آپ کی آنکھ نے دھوکا کھایا اور نہ وہ حد سے آگے بڑھی۔
Ayahs 53:19–28

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

کیا پھر تم نے لات، عزی

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور ایک تیسرے (معبود) پر غور کیا ؟

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس کے لئے (یعنی اللہ کے لئے) بیٹیاں ہیں

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تو بہت ہی بےانصافی کی تقسیم ہے

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ تو چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے ان کے (ثبوت پر ) کوئی مضبوط دلیل بھی نازل نہیں کی ہے۔ یہ لوگ محض اپنے بےبنیاد خیالات اور نفسانی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں حالانکہ ان کے پاس اس کی طرف سے ہدایت آ چکی ہے۔

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان کی ہر خواہش (اس کی مرضی کے مطابق) پوری ہوتی ہے۔

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

یہ دنیا اور وہ دنیا سب کا اختیار اللہ ہی کو حاصل ہے۔

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

کتنے ہی فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش ان کے کام نہ آئے گی سوائے اس کے کہ اللہ جس کو سفارش کا حق دینا چاہے اور وہ اس کی سفارش کو پسند بھی کرتا ہو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے جیسے نام دیتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف اپنے بےبنیاد خیالات کے پیچھے چلتے ہیں اور یقینا بےبنیاد خیالات حق کے مقابلے میں ان کے ذرا بھی کام نہ آسکیں گے۔

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 28 ضیزی ظالمانہ۔ ٹیڑھی چیز۔ یرضی وہ پسند کرتا ہے۔ یسمون وہ نام رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 19 تا 27 قریش مکہ اور آس پاس کے قبائل نے ” بیت اللہ “ کو اپین جہالت اور نادانی میں بتوں کی گندگی سے بھر دیا تھا۔ تین سو ساٹھ بتوں میں سے طائف، مکہ، مدینہ اور حجاز کے اردگرد کے لوگ لات، عزی اور منات کو بہت مانتے تھے۔ قدیم عرب کے یہ تین مشہور بت تھے جن سے انہوں نے اپنی آرزوئیں اور تمنائیں وابستہ کر رکھی تھیں۔ لات ۔ طائف والوں کا بت تھا جس کو بنو ثقیف بہت زیادہ مانتے تھے۔ عزی۔ مکہ کے قریب وادی نخلہ میں حراض کے مقام پر قریش اور بنو کنانہ کا بت تھا۔ منات۔ مدینہ کے اوس و خزرج کا وہ بت جو قدید کے مقام پر نصب تھا۔ اوس و خزرج کے قبائل اس کا بہت احترام کرتے تھے اور ایسی ایسی کہانیاں مشہور کر رکھی تھیں کہ بنو قریش بھی اس کے آگے جھکنے کو بڑی نیکی سمجھتے تھے چناچہ قریش اور دوسرے قبیلوں کے لوگ حج کے بعد منات کی زیارت کے لئے جاتے۔ قربانی کے جانور لے جاتے اور نذریں چڑھاتے۔ لبیک، لبیک صحاضر ہوں میں حاضر ہوں) کی صدائیں بلند کرتے جاتے۔ منات کے احترام کا یہ حال تھا کہ اس کی زیارت کے مقابلے میں صفا مروہ کی سعی تک کو غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے۔ لات عزی اور منات یہ بت سب کے سب مونث تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ نعوذ باللہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اسی طرح وہ فرشتوں کو بھی اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انہوں نے بغیر کسی سند اور دلیل کے یہ سمجھ رکھا تھا کہ یہ بت اور فرشتے جو اللہ کی بیٹیاں ہیں جب وہ قیامت میں ہماری سفارش کریں گی تو اللہ کی سفارش کو رد نہیں کرے گا کیونکہ بیٹیوں کی بات عام طور پر باپ مان ہی لیتے ہیں۔ (نعوذد باللہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں اس کے نزدیک تو بیٹا، بیٹی یکساں ہیں۔ اللہ نے سوال کیا ہے کہ تمہارے نزدیک تو سب مخلوق میں سب سے زیادہ بری چیز لڑکیاں ہیں۔ تمہارے ہاں نرینہ اولاد ہوتی ہے تو تم خوشی سے دیوانے ہوجاتے ہو اور اگر لڑکیاں ہوجائیں تو غم اور شرمندگی کے مارے تمہارے چہرے سیاہ پڑجاتے ہیں ڈ۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ اپنے لئے تم لڑکیوں کی پیدائش تک کو توہین سمجھتے ہو اور اللہ کے فرشتوں تک کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہو۔ اس سے زیادہ جہالت، نادانی اور بےانصافی کی بات اور کیا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم لوگوں اور تمہارے باپ دادا نے جو طرح طرح کے نام رکھ کر بت بنا رکھے ہیں یہ سب من گھڑت باتیں ہیں جن کی نہ تو کوئی دلیل ہے اور نہ سند ہے۔ دراصل یہ محض ان کی خواہشیں ہیں جن کو انہوں نے مختلف نام دے رکھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اور آخرت میں سارا اختیار صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو جو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا۔ اس کے سامنے اس وقت تک کسی کو سفارش کرنے کا اختیار نہیں ہیجب تک وہ اجازت نہ دیدے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف فرما دیا ہے کہ جو لوگ اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر حق و صداقت کو جھٹلاتے ہیں ان کے بےبنیاد خیالات اور من گھڑت تصورات دنیا اور آخرت میں ان کے کسی کام نہ آسکیں گے اور جب وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے تو ان کے یہ بت اپنی عاجزی اور بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے سارا الزام بت پرستوں اور خواہشات نفس کے پیچھے چلنے والوں پر ڈال دیں گے۔ اس وقت حسرت اور فاسوس بھی کسی کے کام نہ آسکے گا۔ اللہ نے ایک چبھتا ہوا سوال کیا ہے۔ یہ بتائو کیا انسان کی ہر خواہش اور تمنا اس کی مرضی کے مطابق پوری ہوتی ہے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو بےبنیاد تمناؤں سے کیا فائدہ جن کا فائدہ نہ اس دنیا میں ملے گا اور نہ آخرت میں۔
Ayahs 53:29–32

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ایسے شخص سے منہ پھیر لیجیے جس نے ہماری نصیحت سے منہ پھیرلیا ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں ہے۔

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی انتہا یہیں تک ہے۔ آپ کا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے بھٹک گیا اور کون شخص ہے جس نے ہدایت حاصل کرلی ہے۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اسی کی ملکیت ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جنہوں نے گناہ (برائی ) کی ہے اور جنہوں نے اچھے کام کئے ہیں ان کو بہترین بدلہ عطا کرے۔

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

(یہ وہ لوگ ہیں) جو کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں سوائے اس کے کہ ان سے کوئی معمولی گناہ ہوجائے۔ بلاشبہ آپ کا پروردگار بہت زیادہ وسیع مغفرت کرنے والا ہے۔ وہ تمہیں جانتا ہے۔ جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا تھا اور جب تم اپنی مائوں کے پیٹ میں بچے سے تھے۔ لہذا تم زیادہ پاک باز بننے کی کوشش نہ کرو۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کون پرہیز گار ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 29 تا 32 مبلغ پہنچنے کی جگہ۔ اسآء و انہوں نے برے کام کئے۔ یجتنبون جو بچتے ہیں ۔ کبائر الاثم بڑے بڑے گناہ۔ الواحش بےحیائیاں۔ اللمم تھوڑا سا گناہ، خطا ۔ انشا اس نے پیدا کیا۔ اجنۃ (جنین) ماں کے پیٹ میں بچے لاتزکوا پاکباز نہ بننے پھرو۔ تشریح : آیت نمبر 29 تا 32 نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ان لوگوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتے رہے جن کا مقصد زندگی اللہ کو راضی کرنا ہے اور ان کا ہر قدم اللہ و رسول کی رضا و خوشنودی کے لئے اٹھتا ہے لیکن وہ لوگ جن کا مقصد دنیا کی زندگی کا آرام و سکون، راحت اور عیش و عشرت حاصل کرنا ہے ان کی عقل ان کا فہم اس سے آگے بڑھتا ہی نہیں۔ ان کے نزدیک جو کچھ ہے وہ بس یہی دنیا ہے جس کے چکر میں وہ دن رات دیوانگی کی حد تک لگے رہتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ایسے دنیا پرستوں کی پرواہ نہ کیجییا ور ان سے اپنا رخ موڑ کر اہل ایمان کی طرف کر لیجیے۔ اللہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کون اس کے رساتے اور ہدایت پر ہے اور کون اس سے بھٹک کر دور جا پڑا ہے۔ یہ ساری کائنات اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک وہی ہے ۔ وہی گمراہوں کو ان کے برے انجام تک پہنچائے گا اور جن لوگوں نے تقویٰ ، پرہیز گاری اور نیکی کے ساتھ زنگدی گذاری ہوگی ان کو بہترین بدلہ اور اجر عطا فرمائے گا۔ یہ نیک لوگ وہ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچ کر چلنے کے عادی ہیں اور اگر بشری کمزوریوں کی وجہ سے ان سے کسی طرح کی کوتاہی ، غفلت یا چھوٹا موٹا گناہ سرزد ہوگیا ہوگا تو وہ اس پر ضد اور اصرار کرنے کے بجائے فوراً اللہ سے سچے دل سے توبہ کرلیتے ہیں تو یقینا وہ لوگ اپنے پروردگار کی رحمت و مغفرت کے دامن کو بہت وسیع پائیں گے۔ وہ اللہ جس نے انسان کو زمین سے پیدا کیا ہے وہ انسانی فطرت اور مزاج کو بہت اچھی طرح جانتا ہ۔ آدمی کو غرور وتکبر کرنے اور اپنی پاکیزگی پر فخر نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دنیا جانتی ہو یا نہ جانتی ہو وہ اللہ تو اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کون متقی پرہیز گار ہے اور کون گلے گلے تک گناہوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ (1) اللہ کا دین پہنچانے کے سلسلے میں ہر شخص پر محنت کرنے کی ضرورت ہے لیکن جو لوگ دامن مصطفیٰ سے وابستہ ہوچکے ہوں ان کا خیال رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ جیسے موجودہ دور میں اہل ایمان کی تعداد ساری دنیا میں ہر قوم سے زیادہ ہے۔ اللہ نے سارے خزانے اور وسائل مسلمانوں کے قدموں میں ڈال دیئے ہیں۔ غیر مسلموں کو دین اسلام کی طرف رغبت دلاتے رہنا چاہئے لیکن صرف اسی طرف لگا رہنے میں اتنا فائدہ نہیں ہے جتنا اس بات میں فائدہ ہے کہ مسلمانوں کو صحیح معنی میں مسلمان بنایا جائے۔ آج اگر صرف مسلمان ہی دین اسلام پر پوری طرح عمل کرنے والے بن جائیں تو ہمیں صرف غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی فکر نہیں پڑے گی۔ اگر آج سارے مسلمان عالمی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہوجائیں تو یہی غیر مسلم مسلمانوں کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔ اس آیت میں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ آج اگر صرف مسلمان ہی دین اسلام پر پوری عمل کرنے والے بن جائیں تو ہمیں صرف غیر مسلموں کو مسلمان بنانے کی فکر نہیں پڑے گی۔ آج سارے مسلمان عالمی غنڈہ گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ہوجائیں تو یہی غیر مسلم مسلمانوں کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔ اس آیت میں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ (2) کبیرہ گناہ ویسے تو کبیرہ گناہوں کی فہرست بہت طویل ہے ان میں سے چند کبیرہ گناہوں سے بچنے کی بہت ضرورت ہے جیسے زنا کاری اور بد کاری، لواطت (قوم لوط کا عمل) ، چوری، ڈاکہ ، قتل و غارت گری، سود، جواء ، شراب نوشی اور نشہ پیدا کرنے والی چیزوں کا استعمال، والدین کی نافرمانی، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا، رشوت ، مردار جانور اور خنزیر کا گوشت کھانا، کسی شخص یا یتیم کے مال پر زبردستی قبضہ کرلینا، جادو سیکھنا سکھانا، ماپ تول میں کمی کرنا، غیب چغل خوری، جھوٹی قسم، جھوٹی گواہی، قطع رحمی اور صغیرہ گناہوں کو معمولی سمجھ کر مسلسل کرتے رہنا یہ بھی کبیرہ گناہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح ناچ گانا وغیرہ یہ سب کے سب کبیرہ گناہ ہیں۔ اگر کسی نے بڑے بڑے گناہوں سے توبہ نہ کی اور جس کا حق ہے اس کو اس کا حق ادا نہ کیا تو آخرت میں وہ زبردست خسارہ میں رہے گا۔ وہاں جا کر ایسا پچھتاوا ہوگا جس کا اس دنیا میں رہ کر تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ صغیرہ گناہ … وہ ہیں جن کے لئے دنیا میں تو سزا مقرر نہیں ہے اور نہ آخرت میں عذاب دینے کی وعید ہے یعنی وہ گناہ جو انسانوں سے اتفاقیہ طور پر بغیر کسی ارادے کے سر زد ہوجائیں لیکن صغیرہ گناہوں سے بچنا بھی بہت ضروری ہے۔ صغیرہ گناہوں کو جان بوجھ کر مسلسل کرتے رہنا ان کو گناہ کبیرہ بنا دیتا ہے۔ (3) فلانز کو انفسکم … یعنی اپنے آپ کو مقدس و محترم، گناہوں سے پاک سمجھنا اور خود اپنے منہ سے اپنی تعریفیں کرنا، ڈینگیں مارنا یہ اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ باتیں ہیں کیونکہ یہ بھی تکبر اور غرور کا ایک انداز ہے جسمیں آدمی اپنے آپ کو تو ہر عیب سے پاک سمجھتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اصل میں خود پسندی انسان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتی ہے کیونکہ جب وہ اپنی حماقتوں پر بھی تقدس کے پردے ڈالے رکھے گا تو نہ وہ کسی سے کھچ سیکھے گا اور نہ اس میں کسی اچھی بات کے اختیار کرنے کا جذبہ ہوگا اس طرح وہ دنیا اور آخرت کی ہر سعادت سے محروم رہے گا۔ اس لئے نبی کریم ﷺ سے جب کسی نے دوسرے کی تعریف کی تو آپ نے اس سے من فرما دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی کی تعریف کرنی ہو تو ان لافاظ سے کرو کہ ” میرے علم میں یہ شخص متقی ہے ” میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کے نزدیک وہ ایسا ہی پاک صاف ہے جیسا کہ میں سمجھ رہا ہوں۔ (الحدیث) (4) مبلغ علم ۔ اس سیم راد انسان کے عقل و فہم کی پہنچ ہے ینی یہ لوگ بس اتنا ہی سوچ اور سمجھ سکتے ہیں جو انہوں نے دنیا میں دیکھا ان کا علم اور سمجھ آخرت تک پہنچا ہی نہیں۔ فرمایا کہ آپ ایسے لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیجیے کیونکہ ایسی محدود سوچ رکھنے والوں سے اللہ خواب اچھی طرح واقف ہے وہی تو ان کا خلاق ہے۔ وہ ہر انسان کی فہم و فکر، عقل و سمجھ اور محنت کے نتائج سے اچھی طرح واقف ہے۔