53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 53:1–25

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

ستارے کی قسم جب وہ غائب ہونے لگے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارے صاحب نہ راستہ بھولے اور نہ بھٹکے ہیں

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

ان کا ارشاد تو وحی ہے جو (ان کی طرف) بھیجی جاتی ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو بہت قوت والے (جبرائیل علیہ السلام) نے سکھایا

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

بڑے طاقتور ہیں پھر وہ (اصلی صورت پر آپ پر) ظاہر ہوئے

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) بلند کنارے پر تھے

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے تو آگے بڑھے

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ دو کمان کے فاصلے یا اس سے بھی کم (فاصلے پر رہ گئے)

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر (اللہ نے) اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمائی تھی

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

(ان کے) قلب نے دیکھی وہ چیز میں غلطی نہیں کی

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

تو کیا ان سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں جھگڑا کرتے ہو ؟

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور یقینا انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی نازل ہوتے دیکھا ہے

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرۃ المنتہیٰ کے پاس

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اس کے قریب جنت الماویٰ ہے

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب بیری پوچھا رہا تھا جو کچھ چھار ہا تھا

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

(ان کی) آنکھ نہ تو ہٹی اور نہ حد سے آگے بڑھی

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اپنے پروردگار کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم نے بھی لات اور عزیٰ کو دیکھا

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (بھلا یہ معبود ہوسکتے ہیں ؟ )

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس (اللہ) کے لئے بیٹیاں ؟

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں۔ اللہ نے تو ان کی کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی۔ تم تو صرف بےاصل خیالات پر اور اپنے نفس کی خواہش پر چل رہے ہو حالانکہ ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے ہدایت آچکی ہے

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

سو آخرت اور دنیا اللہ ہی کے اختیار میں ہے

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک جائیں اور نہ کبھی بھٹکنے کے غلط راستے کو صحیح جان لیں بلکہ یہ تو وہ ہستی ہے جو اپنی خواہش سے کلام تک نہیں فرماتی صرف وہ فرماتی ہے جو اللہ کی طرف سے وحی کیا جائے۔ اقسام وحی۔ وحی کی تین اقسام ہیں قرآن کریم۔ حدیث پاک۔ اور سنت اور کبھی کوئی قاعدہ بتادیاجاتا ہے جس میں نبی (علیہ السلام) اجتہاد فرما کر فیصلہ فرماتے پہلی دو صورتیں توقطعی ہوگئیں رہا اجتہاد تو اس میں نبی کو غلطی لگنے کا احتمال ہوتا ہے مگر فورا بذریعہ وحی اصلاح کردی جاتی ہے لہذا اس کا شبہ بھی رہا ہاں مجتہد کو غلطی کا امکان ہے مگر اس پر بھی اسے اجر ملنے کا وعدہ ہے کہ دینی کام میں محنت کرکے خلوص کی ساتھ ایک فیصلہ تک پہنچا اور وحی لانے والے میں بھی کسی کوتاہی یا کسی شیطانی مداخلت کا امکان نہیں کہ آپ تک وحی لانے والا فرشتہ بہت قوت کا مالک اور ایسا طاقتور ہے کہ نہ تو اللہ کی وحی میں بھولتا ہے نہ کوئی اسے بھلاسکتا ہے اور نہ شیطان اس کے قریب پھٹک سکتا ہے نیز آپ کا اس سے رابطہ بھی کوئی محض خیالی نہیں بلکہ آپ نے اسے اس کی اصلی صورت پر بھی دیکھا جب وہ افق اعلی پر بیٹھا ہوا تھا۔ جبرائیل (علیہ السلام) کودیکھنا۔ اس کا ذکر حدیث شریف میں ہے آپ مکہ میں کہی تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ نے دیکھا جبرائیل امین کرسی پر بیٹھے ہیں اور آسمان تک فضا کو ان کے وجود نے بھردیا ہے یہ ان کی اصلی صورت تھی ورنہ توہروحی کے وقت وہ شرف ملاقات پاتے تھے پھر اور قریب ہوئے اپنی جگہ سے نیچے آئے اور دوکمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم پر آگئے کہ روایات میں ملتا ہے کہ پھر جبرائیل امین انسانی شکل میں آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ کی خدمت میں اقرار کیا جیسے عرب دوستی کا اقرار کرنے کے لیے اپنی کمانیں آگے کردیتے کہ ان کی تانت مل جاتے وہ محاورہ استعمال ہوا اور یوں رب جلیل نے اس مضبوط اور طاقتور فرشتے کے ذریعے جسے نبی (علیہ السلام) کی خدمت عالی میں بھی ایک مقام قرب حاصل تھا اپنی وحی جو پہنچانا چاہتا تھا اپنے رسول تک پہنچائی ۔ یہ دیکھنا سر کی آنکھوں سے تھا۔ اور پھر آپ نے دیکھا آپ کے قلب اطہر نے بھی اس کی تصدیق کی یعنی آپ نے آنکھوں سے دیکھا اور دل نے بھی تصدیق فرمائی تو تم لوگ اس بات پر آپ سے جھگڑتے ہو جس کو آپ نے اتنے مضبوط طریقے سے مشاہدہ فرمایا ہے اور آپ نے دوسری بار جبرائیل امین کو ان کی اصلی صورت پر شب معراج دیکھا سدرۃ المنتہی کے پاس اترتے ہوئے۔ سدرۃ المنتہی۔ حدیث شریف کے مطابق یہ بیری کا درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان پر ہیں اور اس پر ملائکہ کے دفاتر ہیں کہ عالم بالا سے نازل ہونے والے احکام یہاں پہنچ کر متعلقہ فرشتوں کو تقسیم ہوتے ہیں اور زمین سے جانے والے اعمال یہاں پہنچ کر عالم بالا کو جاتے ہیں جس کے پاس جنت ہے جو اللہ کے بندوں کا گھر ہے ۔ جنت و دوزخ۔ جنت و دوزخ فی الوقت موجود ہیں اور مفسرین کرام کے مطابق ساتواں آسمان فرش اور عرش عظیم جنت کی چھت ہے اور آثار میں ہے کہ دوزخ زمین کے اندر موجود ہے جس کو ایک سخت غلاف نے ڈھانپ رکھا ہے روز حشر پھٹے گا توسمندوں کوکھولاکربھانپ بنادے گا (واللہ اعلم بحقیقۃ ھالہ) جب سدرہ کو بیشمار ملائکہ نے ڈھانپ رکھا تھا حدیث شریف کے مطابق جو سب آپ کے استقبال کو حاضر ہوئے تھے اور پھر اس سے آگے جہاں تک اللہ نے چاہا لے گیا اور جو چاہا دکھایا ۔ دیدار باری تعالی۔ اور جو کچھ بھی دیکھا حضور اکرم نے صحیح صحیح دیکھا نہ آپ کی نگاہ بھٹکی کہ کسی اور طرف دیکھنے لگے اور نہ یہ ہوا کہ حد سے بڑھ جائے اس میں دو آراء ہیں یہ کہ سب جبرائیل امین کی زیارت کی بات ہورہی ہے یا دیدار الٰہی کی فقیر کی دانست میں جو بات رازمذش قرآن حکیم سے بےغبار سمجھ میں آتی ہے وہ سدرۃ المنتہی تک بات جبرائیل امین کی ہے اور سدرہ کے بعد واقع معراج شریف اور دیدار باری تعالیٰ کا واقعہ ارشاد ہوا ہے یوں تو ذات باری ہر آن ہرجاموجود ہے انسان کی نظر دیکھنے سے عاری ہے اور جمہور کا اتفاق ہے کہ آخرت میں نگاہ قوی ہوکردیکھنے کے لائق ہوگی اور اہل جنت کو زیارت باری نصیب ہوگی جبکہ یہاں جنت سدرۃ المنتہی کے پاس رہ گئی اور آپ کن بلندیوں اور قرب کی کن منزلوں میں تشریف لے گئے یہاں زیارت باری میں کوئی مانع نہیں اور نگاہ مصطفیٰ پھر نگاہ مصطفیٰ ہے آپ کی شان کہ آپ وجود یاجود کے ساتھ تشریف لے گئے اور بچشم سردیدار فرمایا ورنہ نگاہ قلب سے تجلیات باری تعالیٰ تو صدیوں بعد بھی آپ کے غلاموں اور اہل اللہ کو بھی نصیب ہوتی ہیں اور ذات باری تعالیٰ بھی محدود نہیں ہر کوئی اپنی شان کے مطابق دیکھے گا لہذا آپ نے اپنی شان کے لائق دیکھا اور پھر اپنے رب عظیم کی بیشمار نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ برزخ اس کے حالات عذاب وثواب اور جنت دوزخ سب حقیقتیں ذاتی طور پر تشریف لے جاکردیکھیں سبحان اللہ وبحمدہ۔ تفاسیر میں بہت وضاحت سے سب واقعات درج ہیں یہاں مختصرا لکھا گیا ہے اے کفار تم نے بھی لات وعزی اور تیسرے بڑے بت مناۃ کی حقیقت جاننے کی کوشش کی ہے کبھی ان کے بارے میں تحقیق وتصدیق کا تکلف کیا ہے اگر کرتے تو ان کی حقیقت جان کر انہیں چھوڑ دیتے۔ بھلایہ تمہارا دین ہے کہ تمہارے لیے بیٹے ہوں اور اللہ کو بیٹیاں ملیں یہ تو عقلا بھی تقسیم ہی بہت نامناسب ہے جبکہ اس کی کوئی بنیاد نہیں اللہ ان باتوں سے پاک ہے اور یہ صرف تم نے کہانیاں گھڑ رکھی ہیں اور کچھ نام ہیں جو تم لوگوں نے رکھ لیے ہیں اور تمہارے باپ دادا بھی اسی گمراہی میں تباہ ہوئے اللہ نے ان باتوں پر کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی تم لوگ محض اپنے لیے بےبنیاد گمان اور وہم کی پیروی کرتے ہو اور اپنی خواہشات نفس کی غلامی کے علاوہ تمہارے پاس کچھ نہیں حالانکہ اللہ ایسا کریم ہے کہ اس نے تمہارے پاس بھی ہدایت کا سامان اپنا نبی اور اپنی کتاب بھیجی ہے اور ایسے لوگوں کو بھی محروم نہیں رکھا اور اگر آدمی خواہشات کے ہی پیچھے لگے تو دین سے محروم تو ہوگا کہ نظام قدرت میں تو وہ ہوتا ہے جو اللہ چاہے بھلا انسان کی ہر خواہش تو پوری ہونے سے رہی کہ نظام اس کی خواہشات کے تابع نہیں اور دنیا ہو یا آخرت سب کچھ اللہ ہی کے تابع اور اس کے حکم کا پابند ہے لہذا انسان بھی تب ہی ہدایت پاسکتا ہے جب اپنی خواہشات کی بجائے اس کے احکام کو اختیار کرے۔
Ayahs 53:26–32

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں ، ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی مگر اس کے بعد کہ اللہ جس کے لئے چاہیں ، اجازت دیں اور پسند فرمائیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو لڑکیوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

حالانکہ ان کے پاس اس کی کچھ خبر نہیں ۔ یہ صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں اور یقینا بےاصل خیالات امر حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتے

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا طالب ہو تو آپ بھی اس سے رخ (انور) پھیر لیجئے

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے۔ بیشک آپ کا پروردگار اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا ہے اور وہ اس سے بھی خوب واقف ہے جو ہدایت پر ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے تاکہ جن لوگوں نے برے کام کیے ان کو ان کے کاموں کا بدلہ دیں اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دیں

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو لوگ بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے بچتے ہیں سوائے چھوٹی چھوٹی غلطیوں کے ، بیشک آپ کے پروردگار کی مغفرت بہت وسیع ہے ۔ وہ تم کو خوب جانتا ہے جب تم کو مٹی سے پیدا فرمایا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ تو اپنے کو پاک صاف نہ سمجھا کرو ، جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

آیات 26 تا 32۔ اسرار ومعارف۔ ان کی رسومات اور معبودان باطلہ کیا سفارش کریں گے جبکہ وہ بارگاہ بہت عالی ہے اور کس قدر مقبولان بارگاہ فرشتے ہیں جو شفاعت نہیں کرسکتے ہاں خود اللہ کسی پر راضی ہوجائیں اور فرشتوں کو اس کی سفارش کی اجازت مرحمت فرمادیں کہ یہ بھی ایک انداز رضا وعطا ہے ورنہ کوئی بھی کسی حیلے بہانے یازورطاقت سے وہاں دم نہیں مارسکتا۔ کفار کا یہ حال ہے کہ یہ سرے سے آخرت پر ایمان ہی نہیں رکھتے لہذا جو ایمان نہیں رکھتا وہ آخرت کے لیے کوئی عمل بھی نہیں کرتا تو اسے وہاں بہتری کی کوئی امید نہیں ہوسکتی ، اور اپنی خرافات میں یہاں تک بڑھے کہ ملائکہ کو مونث پکارتے ہیں جس کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے یعنی جن سے اگر کوئی شفاعت کی امید رکھتے بھی ہیں اگرچہ بوجہ انکار آخرت خود ان میں وہ استطاعت نہیں کہ کوئی ان کی سفارش کرسکے اس کے باوجود یہ کم ازکم ملائکہ کی ذات کو جانتے تو ہوتے یہاں تو یہ بات بھی نہیں انہیں عورتیں سمجھ رکھا ہے محض اپنے زعم باطل سے اور اپنے اوہام باطلہ کی پیروی میں حالانکہ یہ حقیقت واضح ہے کہ وہم و گمان سے حقیقت وصداقت کبھی تبدیل نہیں ہوا کرتی۔ ظن کا لغوی معنی اور اصطلاح شرعیت۔ ظن کا لغوی معنی بےبنیاد خیالات ہے اور یہاں وہی مراد بھی ہے اصطلاح شریعت میں دو طرح کے احکام ہیں اول قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ بات ایسے احکام کو قطعیات یایقینیات کہا جاتا ہے اس کے مقابل عام روایات حدیث جو ثبوت کے اس درجہ کو نہ پہنچی ہوں ان سے ثابت شدہ مسائل کو ظنیات کہا جاتا ہے یہ ظن شرعی اعتبار سے اور قرآن وحدیث کے دلائل کی روشنی میں معبتر ہے آیہ مذکورہ میں پہلی قسم مراد ہے یعنی بےبنیاد خیالات ۔ آپ ایسے لوگوں سے قطعی طور پر توجہ ہٹالیجئے اور انہیں چھوڑ دیجئے جن لوگوں نے محض حصول دنیا اور مادی فوائد کی طلب میں ہماری یاد ہی سے منہ موڑ لیا ان بدنصیبوں کی ساری علم و دانش کی رسائی بس حصول دنیا تک ہے۔ نبی اکرم سے حصول برکات کا سلیقہ اور راستہ۔ آیہ مبارکہ میں عموم ہے اگرچہ یہ بات کفار کے اوصاف میں فرمائی جارہی ہے مگر جو بھی شخص یہ انداز اختیار کرے گا کہ وہ محض حصول دنیا کے لیے عمر کھپادے اور کبھی یاد الٰہی یا اتباع رسالت پناہی کا خیال نہ آئے تو وہ بھی اسی وعید کا مستحق ٹھہرے گا اس کی روشنی میں مسلمان کا حال عہد حاضر میں دیکھاجائے گا تو یہ نظرآتا ہے کہ حکومتی اداروں کے سارے وسائل صرف اور صرف مادی تعلیم اور مادی فوائد کے حصول کا طریقہ سکھانے پہ لگے ہیں اور لوگ بھی اپنی پوری محنت و کوشش صرف دنیا کے حصول پر لگائے بیٹھے ہیں حتی کہ نعت بھی پڑھیں گے تو اس میں دنیا کی طلب ہوگی اور نعت لکھنے والابھی نہ عملا اطاعت گزار ہوگا اور نہ نعت میں اطاعت گزاری کی بات ہی کرے گا ، الاماشاء اللہ ، بلکہ ہندوشعراء کی نعتیں میں نے آج کے اکثر مسلمان شعراء سے بہتر پائیں۔ یہاں یہ نہ سمجھاجائے کہ دنیا کے علوم حاصل نہ کیے جائیں ضرور کیے جائیں مگر ساتھ دین بھی سیکھاجائے اور دین کے احکام کے تابع دنیا کمانا بھی دین ہے ہاں دین کو قربان کرکے اور دین کو رسوا کرکے دنیا کا حصول کافرانہ فعل ہی نہیں ایساجرم بھی ہے جس کے سبب نبی (علیہ السلام) ایسے لوگوں سے رخ انور پھیر لیتے ہیں اور وہ دوعالم میں کہیں پناہ نہیں پاتا۔۔۔ بیٹھے کون دے ہے پھر اس کو ، جوتیرے آستان سے اٹھتا ہے ، نیز آپ کا پروردگار ہر طرح سے خوب جانتا ہے کہ کون شخص سیدھی راہ کو چھوڑ بیٹھا ہے اور محض دنیا طلبی کے لیے اپنی ساری توانائی وقف کیے ہوئے ہے اور ان لوگوں کے حال سے بھی واقف ہے جو ہدایت کی راہ پر ہیں کہ انہیں دنیا بھی اللہ ورسول کی اطاعت کی راہ سے درکار ہے اور جو بھی جس طرح کے اعمال کررہا ہے وہ اس کا بدلہ پائے گا کہ اللہ کے قبضہ قدرت میں یہ ارض وسما کا نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ بدکار اور نافرمانوں کو کفروبرائی کا مزہ چکھایاجائے اور کیے کی سزا پائیں جبکہ اطاعت اور نیکی کرنے والوں پر کرم کی بارش ہو اور انہیں بہترین اجر سے نوازاجائے گا۔ ایسے لوگوں جو بڑے بڑے گناہوں کے قریب نہیں پھٹکتے اور بےحیائی کے کاموں اور فحش کلامی سے اجتناب کرتے ہیں سوائے اس کے کہ بتقاضائے بشریت کوئی خطا کربیٹھیں۔ لمم۔ مفسرین کرام کے مطابق ، لمم ، وہ گناہ ہے جو انسان سے اتفاقا سرزد ہوجائے مگر وہ اس پہ نادم ہو اور توبہ کرلے پھر اس کے قریب نہ پھٹکے اکثر روایات کا حاصل یہ ہے کہ کسی نیک آدمی سے کبھی گناہ کبیرہ سرزد ہوگیا اور اس نے توبہ کرلی تو وہ صالحین کی فہرست سے خارج نہ ہوگا کہ آپ کا پروردگار بہت ہی وسیع بخشش رکھنے والا ہے۔ اور اس کے کرم کی بھی حد نہیں نیز نیکی کرنے والے کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ اس کے حال سے تب بھی واقف تھا جب وہ محض خاکی ذرات تھا پھر اس نے وہ ذرات جمع کرکے غذانطفہ اور پھر انسان بنادیا اور ماں کے پیٹ میں بنایا جبکہ وہ اپنے حال سے واقف نہ تھا اللہ اس کو بنارہا تھا۔ اور اس سے خوب واقف تھا پھر اسے تمام خوبیاں عقل و شعور فکر ونظر قوت و طاقت اعضا جوارح عطا فرمائے کہ وہ اطاعت اور نیکی کرنے کے قابل ہوا لہذا کسی کو اپنے تقدس پہ ناز نہ کرنا چاہیے ، اور توفیق عمل کو اللہ رب العزت کا احسان ماننا چاہیے کہ یہ بات بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ کون کس قدر متقی ہے کہ تقوی محض اعمال ظاہر ہی نہیں ایک کیفیت قلبی ہے وہ بھی تب کام آئے گی جب موت اور قبر تک ساتھ رہی اور یہ سب صرف اللہ جانتا ہے۔