53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ سعدی

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

اللہ تبارک وتعالی ستارے کے ٹوٹنے کی، یعنی رات کے آخری حصے میں جب رات کے جانے اور دن کے آنے کا وقت ہوتا ہے اس وقت افق میں ستارے کے گرنے کی قسم کھاتے ہیں کیونکہ اس میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں جو اس امر کی موجب ہیں کہ اس کی قسم کھائی جائے اور صحیح معنی یہ ہے کہ النجم ستارہ اسم جنس ہے جو تمام ستاروں کو شامل ہے۔ رسول اللہ جو وحی لے کر آئے ہیں، اس کی صحت پر اللہ نے ستاروں کی قسم کھائی ہے کیونکہ وحی الٰہی اور ستاروں کے مابین ایک عجیب مناسبت ہے اللہ نے ستاروں کو آسمان کی زینت بنایا اسی طرح اللہ نے وحی اور اس کے آثار کو زمین کے لیے زینت بنایا پس اگر انبیائے کرام کی طرف سے موروث علم نہ ہوتا تو لوگ گمراہی کے تیرہ وتار اندھیروں میں بھٹک رہے ہوتے جو شب تاریک کے اندھیروں سے بھی گہرے ہوتے ہیں۔ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ ہے رسول اللہ کا اپنے علم میں ضلالت اور اپنے قصد میں گمراہی سے منزہ اور پاک ہونا اور اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ اپنے علم میں راست رو، راہ راست کی طرف رہنمائی کرنے والے حسن قصد رکھنے والے اور مخلوق کی خیرخواہی کرنے والے ہیں اس کے برعکس فساد علم اور سوء قصد کا راستہ وہ ہے جس پر گمراہ لوگ گامزن ہیں۔
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

اور فرمایا (صَاحِبُكُمْ ) تمہارا ساتھی۔ تاکہ اللہ تبارک وتعالی تمہارے ساتھی کے ان اوصاف کی طرف اشارہ کرے جن کا وہ آپ کے اندر موجود ہونے کا اعتراف کرتے ہیں مثلا صدق اور ہدایت نیز یہ کہ آپ کا معاملہ ان پر مخفی نہیں ہے۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

(وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى) یعنی آپ کا کلام خواہش نفس سے صادر نہیں ہوتا۔
Ayahs 53:4–5

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

(اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) یعنی آپ صرف اس چیز کی پیروی کرتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، یعنی ہدایت اور اپنے اور دیگر لوگوں کے بارے میں تقوی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی رسول اللہ کی طرف بھیجی ہوئی وحی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ۔ النساء 113) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔ نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے آپ اللہ اور اس کی شریعت کے بارے میں خبر دینے میں معصوم ہیں کیونکہ آپ کا کلام کسی خواہش نفسانی سے صادر نہیں ہوتا یہ تو وحی الہی ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے معلم کا ذکر فرمایا اور وہ ہیں جبرائیل جو مکرم فرشتوں میں سب سے افضل، سب سے قوی اور سب سے کامل ہیں چناچہ فرمایا (علمہ شدید القوی) یعنی جبرائیل جو نہایت طاقتور اور ظاہری باطنی قوی کے مالک ہیں اس وحی کو لے کر رسول مصطفیٰ پر نازل ہوئے حضرت جبرائیل اس حکم کو نافذ کرنے میں جس کو نافذ کرنے کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا، بہت طاقتور ہیں اس وحی کو رسول اللہ تک پہنچانے، اس کو شیاطین کے اچک لینے سے بچانے اور اس کے اندر ان کی دخل اندازی سے حفاظت کرنے میں یہ قوی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی وحی کی حفاظت ہے کہ اس نے اس وحی کو ایسے پیغامبر فرشتے کے ساتھ بھیجا جو نہایت طاقتور اور امانت دار ہے۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

(ذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى) یعنی وہ قوت خلق حسن ظاہری اور باطنی جمال کا حامل ہے پھر وہ اپنی اصلی صورت میں سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

(وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى) جبکہ وہ اونچے کنارے پر تھے یعنی آسمان کے افق پر جو زمین سے بلند تر ہوتا ہے اس کا شمار ان ارواح علویہ میں ہوتا ہے جنہیں شیاطین حاصل کرسکتے ہیں نہ ان تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

(ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى) پھر جبرائیل وحی پہنچانے کے لیے نبی اکرم کے قریب ہوئے اور اتر آئے۔ افق اعلی سے آپ کے قریب
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

(فَكَانَ ) ہوگیا جبرائیل کا آپ سے قرب (قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى) دو کمانوں کے فاصلے پر اور یا دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب تر۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت جبرائیل پیغام لے کر کامل طور پر رسول اللہ سے بالمشافہ ملے۔ نیز اس پر بھی دلیل ہے کہ آپ کے اور اجبرائیل کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

(فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى) پس اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کے توسط سے وحی کی اپنے بندے حضرت محمد ﷺ کی طرف ، ، جو وحی کی گئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف عظیم شریعت اور درست خبریں وحی کیں۔
Ayahs 53:11–12

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

(مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى) اس رسول نے جو کچھ دیکھا اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو وحی بھیجی اس پر آپ کا قلب مبارک آپ کی روئیت آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے، یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا، آپ کو اپنے قلب مبارک اور روئیت کے ساتھ اس کے حق ہونے کا یقین تھا آیت کریمہ کی یہی تفسیر صحیح ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد معراج کی رات رسول اللہ کا اپنے رب کے دیدار اور اس کے ساتھ ہم کلام ہونا ہے اسے بہت سے علمائے کرام نے اختیار کیا ہے پھر وہ اسی بنیاد پر رسول اللہ کے لیے دنیا میں دیدار الٰہی کو ثابت کرتے ہیں مگر پہلا قول صحیح ہے کہ اس سے مراد جبرائیل ہیں جیسا کہ آیات کریمہ کا سیاق دلالت کرتا ہے نیز یہ اس امر کی بھی دلیل ہے کہ رسول اللہ نے جبرائیل کو اپنی اصلی شکل میں دو مرتبہ دیکھا ایک مرتبہ آسمان دنیا کے نیچے افق اعلی میں جیسا کہ گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے اور دوسری دفعہ ساتویں آسمان کے اوپر جس رات آپ کو سیرا کروائی گئی۔
Ayahs 53:13–14

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

(وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى) ۔ یعنی رسول اللہ نے جبرائیل کو دوسری دفعہ اپنی طرف اترتے ہوئے دیکھا۔ (عند سدرۃ المنتھی) سدرۃ المنتھی کے پاس۔ سدرۃ المنتھی ساتویں آصمان پر بیری کا بہت بڑا درخت ہے اور اسے سدرۃ المنتھی اس لیے کہا جاتا ہے کہ زمین سے جو چیز اوپر کی طرف عروج کرتی ہے اس کے پاس آکر رک جاتی ہے اور الہ تعالیٰ کی مخلوق سے جو وحی وغیرہ نازل ہوئی ہے یہاں آکر ٹھہر جاتی ہے یا اس بنا پر سدرۃ المنتھی کہا جاتا ہے کہ یہ مخلوقات کے علم کی انتہائی حد ہے، نیز اس نام سے موسوم کیے جانے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کے اوپر واقع ہے اور سدرۃ المنتھی اس کی بلندی کی انتہا ہے اس کے علاوہ بھی کوئی سبب ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

چناچہ اس مقام پر جو پاک خوبصورت اور بلند مرتبہ ارواح کا مقام ہے جہاں شیطان اور دیگر ارواح خبیثہ نہیں ٹھہر سکتیں حضرت محمد نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔ (عِنْدَهَا) یعنی اس درخت کے پاس (جَنَّةُ الْمَاْوٰى) یعنی وہ جنت میں ہر نعمت جمع ہے یہ ایسا مقام ہے جو منتہائے آرزو ہے جس کی طرف ارادے راغب رہتے ہیں جہاں چاہتیں جا کر ٹھہرتی ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جنت بلندترین مقام ہے اور ساتویں آسمان پر واقع ہے۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

(اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا۔ یعنی امر الٰہی سے ایک عظیم چیز نے اسے ڈھانپ رکھا تھا جس کا وصف اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

(مَا زَاغَ الْبَصَرُ ) یعنی نگاہ اپنے مقصود سے ہٹ کردائیں بائیں نہیں ہوئی۔ (وَمَا طَغٰى) اور نہ نگاہ نے اپنے مقصود سے تجاوز ہی کیا یہ رسول اللہ کا کمال ادب ہے کہ آپ اس مقام پر کھڑے رہے جہاں اللہ نے آپ کو کھڑا کیا آپ اس مقام سے پیچھے ہٹے نہ اس سے تجاوز کیا اور نہ ادھر ادھر انحراف ہی کیا۔ یہ کامل ترین ادب ہے جس میں آپ اولین وآخرین پر فوقیت لے گئے۔ مندرجہ امور میں سے ایک پر عمل کرنے سے کمال ادب میں خلل واقع ہوتا ہے۔ بندہ ان امور پر قائم نہ رہے جس کا اسے حکم دیا گیا ہے۔ اس میں کوتاہی کرے۔ اس میں افراط سے کام لے۔ اس پر قائم رہتے ہوئے دائیں بائیں التفات کرے۔ مذکورہ تمام امور میں سے ایک بھی نبی اکرم ﷺ کے اندر موجود نہ تھا۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

(لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) انہوں نے اپنے رب کی کچھ بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں یعنی جنت، جہنم اور دیگر آیات الٰہی جن کا آپ نے معراج کی رات مشاہدہ کیا۔
Ayahs 53:19–20

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟ )

اللہ تبارک وتعالی نے اس ہدایت اور دین حق جس کے ساتھ حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے تھے نیز عبادت الٰہی اور توحید الٰہی کا ذکر کرنے کے بعد اس مسلک کے بطلان کا ذکر فرمایا جس پر مشرکین گامزن تھے یعنی ایسی ہستیوں کی عبادت جو اوصاف کمال سے محروم ہیں جو کوئی نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ یہ معانی سے خالی محض نام ہیں جن کو مشرکین اور ان کے جاہل اور گمراہ آباؤ اجداد نے گھڑ لیا ہے انہوں نے ان کے لیے اسمائے باطلہ ایجاد کیے جن کی وہ مستحق نہ تھیں پس انہوں نے خود اپنے آپ کو اور دیگر گمراہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کیا۔ جن معبودوں کا یہ حال ہو وہ عبادت کا ذرہ بھر استحقاق نہیں رکھتے یہ خود ساختہ ہمسر جن کو انہوں نے ان ناموں سے موسوم کیا ہے اور اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ نام ان اوصاف سے مشتق ہیں جن سے یہ متصف ہیں۔ چناچہ انہوں نے اللہ کے ناموں اور الحاد اور شرک کی جسارت کرتے ہوئے لات اور الہ سے مشتق کرکے موسوم کیا جو عبادت کا مستحق ہے عزیز سے عزی اور منان سے منات کو مشتق کیا یہ نام معانی سے خالی ہیں چناچہ ہر وہ شخص جو ادنی سے عقل سے بہرہ مند ہے وہ ان نام نہاد معبودوں کے اندر ان اوصاف کے بطلان کا علم رکھتا ہے۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

(اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى) یعنی کیا تم اللہ کے لیے بزعم خود بیٹیاں قرار دیتے ہو اور اپنے لیے بیٹے ؟
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى) تب تو یہ بہت ہی ظالمانہ تقسیم ہے اس تقسیم سے بڑھ کر کون ساظلم ہوسکتا ہے جو خالق پر بندہ مخلوق کی فضیلت کو مقتضی ہو، اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند ہے۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

(اِنْ هِىَ اِلَّآ اَسْمَاۗءٌ سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ ۭ ) یہ تو صرف چند نام ہی ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لیے ہیں اللہ نے تو ان کی کوئی سند نہیں اتاری یعنی تمہارے مذہب کے صحیح ہونے پر تمہارے پاس کوئی دلیل وبرہان نہیں۔ ہر وہ امر جس پر اللہ نے دلیل نازل نہ کی ہو، باطل اور فاسد ہوتا ہے اسے دین نہیں بنایا جاسکتا۔ درحقیقت وہ کسی دلیل وبرہان کی پیروی نہیں کرتے کہ انہیں اپنے مذہب کے صحیح ہونے کا یقین ہو۔ محض گمان فاسد، جہالت، خواہشات نفس پر مبنی مشرکانہ عقائد اور خواہشات نفس کے موافق بدعات ان کے نظریات کی دلیل ہیں حالانکہ علم و ہدایت کے فقدان کی وجہ سے وہم و گمان کے سوا کوئی ایسا موجب نہیں جو اس کا تقاضا کرتا ہو اسلیے فرمایا (ولقد جاءھم من ربھم الھدی) اور البتہ یقینا ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے جو توحید ونبوت اور ان تمام امور میں ان کی رہنمائی کرتی ہے بندے جن کے محتاج ہیں پس ان تمام امور کو اللہ نے کامل ترین، واضح ترین اور مضبوط ترین دلائل کے ساتھ بیان کیا ہے اس پر دلائل وبراہین قائم کیے ہیں جو ان کے لیے اور دیگر لوگوں کے لیے اتباع کے موجب ہیں اس بیان وبرہان کے بعد کسی کے لیے کوئی حجت اور عذر باقی نہیں رہا۔
Ayahs 53:24–25

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

جب ان کے مذہب کی غرض وغایت محض ظن و گمان کی پیروی اس کی انتہا شقاوت ابدی اور عذاب سرمدی ہے تو ان کا اس حال پر باقی رہنا سب سے بڑی سفاہت اور سب سے بڑا ظلم ہے بایں ہمہ وہ اپنی آرزوں میں تم اور خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی بات کا انکار کیا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اس کی آرزوئیں پوری ہوں گی حالانکہ وہ اس بارے میں جھوٹا ہے چناچہ فرمایا (اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَــنّٰى۔ فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَالْاُوْلٰى) کیا انسان جس چیز کی آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟ چناچہ آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے پس وہ جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے محروم کردیتا ہے لہذا امر الٰہی ان کی آرزوں کے تابع ہے نہ ان کی خواہشات کے موافق۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

جو لوگ فرشتوں اور دیگر ہستیوں کی عبادت کرتے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ یہ ہستیاں قیامت کے روز ان کی شفاعت کریں گی اللہ ان پر نکیر کرتے ہوئے فرماتا ہے (وَكَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ ) یعنی آسمانوں میں کتنے ہی اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم فرشتے ہیں ( لَا تُغْـنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَـيْــــًٔا) جن کی شفاعت کچھ کام نہ آئے گی یعنی جو کوئی اس شفاعت کا دعوی کرتا ہے اس سے امید وابستہ کرتا ہے یہ شفاعت اس کے کسی کام نہیں آئے گی (اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ يَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَرْضٰى) مگر بعدازاں کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور پسند کرے، شفاعت کے لیے دو شرائط کا مجتمع ہونا ضروری ہے۔ 1۔ شفاعت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی اجازت کا ہونا۔ 2۔ جس کی شفاعت کی جارہی ہو اس کے حق میں اللہ کی رضامندی کا ہونا۔ یہ امر متحقق ہے کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول کرتا ہے جو خالص اللہ کی رضا کے لیے اور صاحب شریعت کے طریقے کے موافق ہو چناچہ مشرکین شفاعت کرنے والوں کی شفاعت سے بہرہ مند نہیں ہوسکیں گے کیونکہ انہوں نے خود ہی اپنے اوپر سب سے رحیم ہستی کی رحمت کے دروازے بند کرلیے ہیں۔
Ayahs 53:27–29

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے، انبیا ومرسلین کو جھٹلانے والے جو اللہ پر عدم ایمان کے سبب سے آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایسے اقوال وافعال کی جسارت کرتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی پر مبنی ہیں مثلا وہ کہتے ہیں فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں پس انہوں نے اللہ کو ولادت سے منزہ قرار دیا نہ انہوں نے فرشتوں کا اکرام کیا اور نہ انہوں نے ان کو مونث سے بالاتر سمجھا حالانکہ انہیں اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم حاصل ہے نہ اس کے رسول کی طرف سے اور نہ عقل اور فطرت ہی اس پر دلالت کرتی ہیں۔ بلکہ علم تو ان کے قول کے تناقض پر دلالت کرتا ہے، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اولاد اور بیوی سے منزہ ہے کیونکہ وہ اکیلا اور یکتا، متفرد اور بےنیاز ہے اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ وہ جنم دیا گیا ہے اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہی ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے مقرب اور مکرم بندے ہیں جو اس کی خدمت پر قائم ہیں (لایعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون۔ التحریم 6) اللہ ان کو جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے مشرکین اس بارے میں بدترین قول کی پیروی کررہے ہیں اور وہ ہے محض ظن و گمان جو حق کے مقابلے میں خوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ حق کے لیے ایسے یقین کا وجود ضروری ہے جو نہایت روشن دلائل وبراہین سے مستفاد ہو چونکہ ان مشرکین کی عادت یہ ہے کہ انہیں اتباع حق سے کوئی غرض نہیں ان کی غرض وغایت اور ان کا مقصد تو خواہشات نفس کی پیروی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ اس شخص سے منہ موڑ لیں جو اللہ کے ذکر جو کہ حکمت سے لبریز ہے اور قرآن عظیم سے اعراض کرتا ہے۔ پس اس نے گویا علوم نافعہ سے منہ موڑا وہ دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہیں چاہتا۔ پس یہ اس کے ارادے کی انتہا ہے یہ چیز معلوم اور متحقق ہے کہ بندہ صرف اسی چیز کے لیے عمل کرتا ہے جس کا وہ ارادہ کرتا ہے پس ان لوگوں کی کوشش اور دوڑ دھوپ دینا اور اس کی لذت وشہوات تک محدود ہے یہ لذات اور شہوات جیسے بھی حاصل ہوئی ہیں یہ انہیں حاصل کرتے ہیں اور جس راستے سے بھی ان کا حصول آسان ہو یہ اس کی طرف لپکتے ہیں۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

(ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ۭ ) ان کے علم کی یہی غایت اور انتہا ہے رہے آخرت پر ایمان رکھنے اور اس کی تصدیق کرنے والے عقل مند اور خرد مند لوگ تو ان کی ہمت اور ارادہ آخرت پر مرتکز رہتا ہے۔ ان کے علوم سب سے افضل اور سب سے جلیل القدر علوم ہیں یہ علوم کتاب اللہ اور سنت رسلو سے ماخوذ ہیں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے پس وہ اسے ہدایت سے نواز دیتا ہے اور کون ہدایت کا مستحق نہیں ہے اسے اس کے نفس کے حوالے کردیتا ہے اور اس سے الگ ہوجاتا ہے پس وہ اللہ کی راہ سے بھٹک جاتا ہے۔ بنا بریں فرمایا (اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ ۙ وَهُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى) بیشک آپ کا رب اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی اس شخص سے بھی خوب واقف ہے جو رستے پر چلا۔ چناچہ وہ اپنے فضل و کرم کو اس محل ومقام پر رکھتا ہے جو اس کے لائق ہے۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

اللہ تبارک وتعالی آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اقتدار کا مالک ہے دنیا وآخرت اسی اکیلے کی ملکیت ہے دنیا وآخڑت میں جو کچھ ہے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ ان میں اس طرح تصرف کرتا ہے جیسے عظیم بادشاہ اپنے غلاموں میں تصرف کرتا ہے وہ ان پر اپنی قضا وقدر نافذ کرتا ہے ان پر شرعی احکام جاری کرتا ہے انہیں حکم دیتا ہے انہیں منع کرتا ہے اپنے اوامر ونواہی پر انہیں جزا وسزا دیتا ہے پس اطاعت گزار کو ثواب عطا کرتا ہے اور نافرمان کو عذاب دیتا ہے۔ ( لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا بِمَا عَمِلُوْا) تاکہ وہ لوگ جنہوں نے کفر اور اس سے کم تر گناہوں اور اعمال شر کا ارتکاب کیا انہیں جزا کے طور پر بدترین سزا دے۔ ( وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى) اور انکو جزا سے سرفراز فرمائے جنہوں نے اللہ کی عبادت میں احسان سے کام لیا اور اللہ کی مخلوق کو مختلف فوائد پہنچا کر اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا۔ (بالحسنی) اچھائی کے ساتھ یعنی ان کو دنیا وآخڑت میں اچھی جزا سے سرفراز فرمائے۔ سب سے بڑی اور سب سے جلیل القدر ان کے رب کی رضا جنت اور اس کی نعمتوں سے فوزیابی ہے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

پھر اللہ تبارک وتعالی نے ان محسنین کا وصف بیان کرتے ہوئے فرمایا (اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ) ، جو لوگ کبیرہ گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں۔ یعنی ان واجبات پر عمل کرتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے جن کا ترک کرنا کبائر میں شمار ہوتا ہے اور وہ بڑے بڑے محرمات کو ترک کرتے ہیں۔ مثلا، زنا، شراب نوشی، سودخوری، قتل ناحق، اور دیگر بڑے بڑے گناہ۔ ( اِلَّا اللَّمَمَ ) الا یہ کہ کوئی صغیرہ گناہ سرزد ہو۔ اس سے مراد ایسے چھوٹے چھوٹے گناہ ہیں جن پر بندہ مصر نہیں ہوتا یا بار بار ان گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتا۔ ان صغیرہ گناہوں کا مجرد اور ارتکاب بندے کو محسنین کے زمرے سے نہیں نکالتا۔ یہ چھوٹے چھوٹے گناہ واجبات پر عمل کرنے اور محرمات کو چھوڑنے سے اللہ کی مغفرت کے تحت داخل ہوجاتے ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اس لیے فرمایا (ۭ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ ۭ ) بیشک آپ کا رب بڑی وسیع مغفرت والا ہے پس اگر اللہ تعالیٰ کی مغفرت نہ ہوتی تو تمام شہر اور بندے تباہ ہوجاتے اگر اس کا عفو وحلم نہ ہوتا تو آسمان زمین پر آ گرتا اور روئے زمین پر کسی جان دار کو نہ چھوڑتا۔ بنابریں نبی اکرم نے فرمایا پانچوں نمازیں جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک ان کے درمیان ہونے والے تمام صغیرہ گناہوں کا کفار ہیں۔ اگر کبائر سے اجتناب کیا جائے۔ (هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ۚ ) وہ تمہیں اس وقت سے بخوبی جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنے ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے احوال سے اور تمہاری جبتوں کو جو اس نے پیدا کی ہیں خوب جانتا ہے اللہ نے تمہیں جو حکم دیا ہے ان میں سے بہت سے احکام کی تعمیل تمہاری کمزوری اور سستی کو، محرمات کے ارتکاب پر آمادہ کرنے والے وداعی کی کثرت کو، ان محرمات کی طرف راغب کرنے والے جذبات کو اور محرمات کے ارتکاب کی راہ میں حائل ہونے والے موانع کے عدم وجود کو زیادہ جانتا ہے۔ تمہارے اندر کمزوری موجود ہے جس کا مشاہدہ اس وقت ہوا جب اللہ نے تمہیں زمین سے نکالا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں تھے اور یہ کمزوری تمہارے اندر ہمیشہ موجود رہی اللہ نے تمہیں ایک چیز کا حکم دیا اگرچہ اس کی تعمیل کے لیے اس نے تمہارے اندر قوت رکھی مگر پھر بھی کمزوری تمہارے اندر ہی موجود رہی۔ پس اس بنا پر اللہ تمہارے ان احوال کا علم رکھتا ہے حکمت الٰہی اور جود ربانی کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اپنی رحمت و مغفرت اپنے عفو و درگزر اور اپنے احسان سے ڈھانپ لے اور تم سے تمام جرائم اور گناہوں کو دور کردے خاص طور پر جب کہ ہر وقت بندے کا مقصد اپنے رب کی رضا کا حصول ہو ہر آن ایسے اعمال کی کوشش کرنا جو اس کے قریب کرتے ہیں اور ایسے گناہوں سے فرار ہونا جو اسکے آقا کی ناراضی کا باعث بنتے ہیں پھر اس سے لغزش صادر ہوجائے تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا کریم اور سب سے بڑا جواد ہے وہ اپنے بندون پر اس سے زیادہ رحیم ہے جتنی ماں اپنے بچے پر ہوتی ہے۔ پس اس قسم کے شخص کے لیے ضروری ہے وہ اپنے رب کی مغفرت کے قریب رہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام احوال میں اس کی دعائیں قبول کرے۔ بنا بریں فرمایا (ۚ فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ ) لہذا تم اپنے آپ کو پاکیزگی بیان نہ کرو۔ یعنی مدح کے حصول کی خواہش کی بنا پر لوگوں کو اپنے نفس کی طہارت کی خبر نہ دیتے پھرو۔ (هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى) وہ اسے بھی خوب جانتا ہے جس نے تقوی اختیار کیا۔ تقوے کا مقام دل ہے اللہ تعالیٰ اس سے مطلع ہے دل کے اندر جو نیکی بدی یا تقوی موجود ہے اللہ تعالیٰ اس کی جزا دے گا رہے لوگ تو وہ الہ کے مقابلے میں تمہارے کسی کام نہیں آسکتے۔
Ayahs 53:33–34

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے (اَفَرَءَيْتَ ) کیا آپ نے اس شخص کا حال دیکھا ہے جسے اپنے رب کی عبادت اور توحید کا حکم دیا گیا تھا مگر اس نے اس سے منہ موڑا اور اعراض کیا اگر اس کا نفس قلیل سے عمل پر آمادہ ہوا بھی تو اس پر قائم نہ رہا بلکہ اس نے بخل سے کام لیا اور اپنے ہاتھ کو روک لیا کیونکہ احسان اس کی عادت اور فطرت نہیں اس کی فطرت تو اللہ کی اطاعت سے روگردانی اور نیکی پر عدم ثبات ہے بایں ہمہ وہ اپنے نفس کو پاک گردانتا ہے اور اسے وہ منزلت عطا کرتا ہے جو اللہ نے عطا نہیں کی۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے ؟

(اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى) کیا اس کے پاس علم غیب ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے غیب کو اور اس کے بارے میں خبر دیتا ہے ؟ یا وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ گھڑتا ہے یا وہ دونوں باتوں کو جمع کرنے کی جسارت کرتا ہے، یعنی برائی اور طہارت نفس کے دعوے کو اور فی الواقع ایسا ہی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ اس کے پاس غیب کا کچھ بھی علم نہیں اور اگر یہ فرض کرلیاجائے کہ اسے غیب دانی کا دعوی ہے تو علم غیب کے متعلق قطعی اور یقینی خبریں جو نبی معصوم کی طرف سے دی گئی ہی اس کے قول کے تناقض پر دلالت کرتی ہیں اور یہ اس کے قول کے بطلان کی دلیل ہے۔
Ayahs 53:36–37

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی ؟

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی جنہوں نے (حق طاعت و رسالت) پورا کیا ؟

(اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ ) کیا اس مدعی کو وہ خبریں نہیں پہنچیں (بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى۔ وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ) جو موسیٰ اور وفادار ابراہیم کے صحیفوں میں ہیں ؟ یعنی حضرت ابراہیم ان تمام آزمائشوں میں پورے اترے جن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزمایا اور جن احکام شریعت اور دین کے جن اصول و فروع کا آپ کو حکم دیا، آپ نے اس کی تعمیل کی۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

ان صحیفوں میں بہت سے احکام درج تھے جن میں سے سب سے اہم وہ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں ذکر فرمایا (اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى۔ وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) یعن ہر عمل کرنے والے کا اچھا برا عمل اسی کے لیے ہے کسی دوسرے کے عمل اور کوشش میں سے اس کے لیے کچھ بھی نہیں اور نہ کوئی کسی اور کے گناہ کا بوجھ اٹھا سکے گا۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

(وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) اللہ تبارک وتعالی کے اس ارشاد سے استدلال کیا گیا ہے کسی شخص کا زندوں اور مردوں کے لی ہدیہ کرنا، ان کے لیے کوئی مفید نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) اور انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے سعی کی۔ چناچہ کسی شخص کی سعی اور اس کے عمل کا کسی اور کو پہنچنا اس آیت کے منافی ہے مگر یہ استدلال محل نظر ہے کیونکہ آیت کریمہ تو صرف یہ دلالت کرتی ہے کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کے لیے اس نے خود کوشش کی اور یہ حق ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں مگر اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس بات پر بھی دلالت کرتی ہو کہ وہ غیر کی سعی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا جب کہ غیر نے اپنی سعی اور عمل کو اسے ہدیہ کے طور پر پیش کیا ہو جیسے انسان صرف اسی مال کا مالک ہے جو اس کی ملکیت اور اس کے قبضہ میں ہو مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی ایسی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا جو غیر نے اپنے مال میں سے جس کا وہ مالک ہے اسے ہبہ کی ہو۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

(وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى) یعی آخرت میں اسے اس کی کوشش دکھائی جائے گی اور وہ اپنی نیکی اور برائی میں تمیز کرسکے گا۔