53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsانوار البیان

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

تارے کی قسم جب غائب ہونے لگے

(53:1) والنجم : واؤ قسمیہ ہے۔ اذا۔ جب ، جس وقت، ناگہاں۔ ظرف زمان ہے زمانہ مستقبل پر بھی دلالت کرتا ہے کبھی زمانہ ماضی کے لئے بھی آتا ہے جیسے واذاراوا تجارۃ اولہوا ن انفضوا الیہا (62:11) اور جب ان لوگوں نے سودا بکتا یا سودا ہوتے دیکھا تو جھٹک کر ادھر ادھر چل دئیے۔ اور اگر اذا قسم کے بعد واقع ہو تو پھر زمانہ حال کے لئے آتا ہے جیسا کہ آیت زیر غور میں ہے۔ والنجم اذا ھوی (53:1) اور قسم ہے تارے کی جب وہ گرنے لگے۔ جب وہ غائب ہوجائے۔ ھویٰ ماضی واحد مذکر غائب ھ و ی مادہ سے مصدر۔ ھوی ھ کی فتح سے باب ضرب سے بمعنی (ستارہ کا طلوع ہونا۔ اور مصدر ھوی ( ھ کے ضمیر سے) باب ضرب سے بمعنی (ستارہ کا) غروب ہونا۔ مستعمل ہے ۔ چونکہ ہر دو مصادر میں ھوی یھوی (ماضی اور مضارع) کی ایک ہی صورت ہے لہٰذا ھوی بمعنی (ستارہ کا) طولع ہونا یا غروب ہونا ہر دو طرح جائز ہے اور دونوں معانی بھی ایک ہی صیغہ میں لئے جاسکتے ہیں یعنی (ستارہ کا) طلوع و غروب ہونا۔ الھوی (باب سمع) کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفسانی خواہش میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہہ دیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف و منزلت کے مقام سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہے۔ والنجم اذا ھوی : قسم ہے تارے کی جب وہ طلوع ہو یا غروب ہوجائے، النجم مقسم بہٖ ہے۔ النجم کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) جمہور کا قول ہے کہ اس سے مراد ستارہ ہے پھر اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ 1- بعض کے نزدیک یہ کہ کوئی خاص ستارہ نہیں بلکہ جنس مراد ہے یعنی ہر ایک ستارہ۔ 2- بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد ثریا ستارہ ہے کلام عرب میں النجم بول کر یہی مراد لیتے ہیں۔ 3- بعض کا خیال ہے کہ اس سے مراد شعریٰ ستارہ ہے قرآن مجید میں ہے وانہ ھو رب الشعری (54:49) اور یہ کہ وہی شعریٰ کا مالک ہے۔ 4 - بعض کہتے ہیں کہ اس سے زہرہ مراد ہے۔ بہرکیف ایک ستارہ خاص ہو یا عام مگر ستارہ مراد لینا ایک قول ہے۔ (2) دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد زمین پر پھیلنے والی بیلیں ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ہے والنجم والشجر یسجدان (55:6) اور بیلیں اور درخت (ہر دو ) سجدہ کر رہے ہیں ۔ (3) تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں جن کو ظلمات عالم میں روشنی دینے کے سبب بطور استعارہ کے ستارہ کہنا بہت ہی ٹھیک ہے۔ (4) چوتھا قول یہ ہے کہ : النجم سے مراد قرآن شریف ہے تنجیم کے معنی ہیں تفریق اور قرآن مجید ٹکڑے ٹکڑے یعنی تھوڑا تھوڑا ہوکر نازل ہوا ہے۔ اب نجم کے کوئی معنی ہی لے لو مگر اذا ھوی (جب کہ وہ جھکے) سے اسی کے مناسب معنی مراد لئے جائیں گے۔ ستاروں کا جھکنا طلوع و غروب جو خدا کی شان جبروت بتاتا ہے۔ زمین کی وہ بوٹیاں جن کو درخت نہیں کہتے ان کا جھکنا وہی جھکنا ہے جو ہوا سے سربسجود ہوکر اس کی شان یکتائی بتایا کرتی ہیں۔ قرآن کا جھکنا اس کا اوپر سے نازل ہونا ہے۔ رسول مقبول ﷺ و اصحابہ وسلم کا جھکنا رکوع و سجود کرنا ہے جو خدا کے نزدیک ایک عمدہ حالت ہے اور آپ کا جھکنا ذات باری تعالیٰ کی طرف منازل قربت طے کرنا ہے۔ (5) پانچواں قول یہ ہے کہ بعض عرفاء (صوفیہ) کے نزدیک النجم کے معنی بندہ کا دل ہے جو ظلمات ہیولانیہ میں خدا تعالیٰ کا چمکتا ستارہ ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے تو اس میں اور بھی روشنی آجاتی ہے جس سے وہ حق اور باطل میں تمیز کرنے پر بخوبی قادر ہوجاتا ہے۔ (تفسیر حقانی)
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

کہ تمہارے رفیق (محمد ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں نہ بھٹکے ہیں

(53:2) ماضل صاحبکم وما غوی : یہ جواب قسم ہے اور ما نافیہ ہے۔ ضل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ضلال باب ضرب مصدر سے ۔ متعدد معنی میں مستعمل ہے :۔ مثلاً بمعنی گمراہ ہونا۔ بہکنا۔ راہ سے دور جا پڑنا۔ کھوناجا ۔ ضائع ہوجانا۔ گم ہونا۔ ہلاک ہونا۔ وغیرہ وغیرہ۔ سیدھے راستہ سے روگردانی کو ضلال کہتے ہیں۔ یہ ہدایت کی ضد ہے ۔ راستہ سے روگردانی دانستہ ہو یا بھول کر، تھوڑی ہو یا زیادہ؛ اس کو ضلال کہتے ہیں۔ افعال و اقوال اور عقائد کی غلطی کے لئے ضلال ہی مستعمل ہے۔ جب کہ غوایۃ خاصۃ اعتقادی غلطی کو کہتے ہیں۔ ماضل نہیں بھٹکا وہ۔ وما غوی اور نہ وہ کسی اعتقاد غلطی کا مرتکب ہوا ہے ۔ غوی ماضی واحد مذکر غائب ۔ غنی باب ضرب مصدر سے ما غوی وہ گمراہ نہیں ہوا۔ وہ اعتقاد میں نہیں بھٹکا۔ وہ نہیں بہکا۔ اغوی بمعنی گمراہ کرنا۔ مدارک التنزیل میں ہے :۔ الفرق بین الضلال والغی ان الضلال ھو ان لایجد السالک الی مقصدہ طریقا اصلا۔ والغی ان لایکون لہ طریق الی مقصدہ مستقیم۔ ضلال اور غی میں فرق یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کا صحیح راستہ نہ پائے اور غوایۃ یہ ہے کہ اس کا مقصد کی طرف کوئی سیدھا راستہ نہ ہو۔ صاحبکم : مضاف مضاف الیہ۔ تمہارا صاحب ، تمہارا ساتھی۔ تمہارا رفیق ۔ صاحب صرف اس ساتھی کو کہا جاتا ہے کہ جس کی رفاقت اور سنگت بکثرت ہو۔ یہاں کم کا خطاب کفار کی جانب ہے اور صاحب سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں۔ راغب (رح) نے لکھا ہے کہ :۔ یہاں صاحب کہہ کر کفار کو اس امر پر تنبیہ کرنا ہے کہ تم ان کے ساتھ رہ چکے ہو، ان کا تجربہ کرچکے ہو۔ اور ان کے ظاہر و باطن کو پہچان چکے ہو۔ اور پھر بھی تم نے ان میں کوئی خرابی یا دیوانگی نہیں پائی۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیں

(53:3) ما ینطق مضارع منفی واحد مذکر غائب نطق (باب ضرب) مصدر۔ وہ نہیں بات کرتا ہے ۔ وہ نہیں کلام کرتا ہے۔ عن الھوی : عن حروف جار۔ الھوی مجرور۔ اسم ومصدر (باب سمع) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ ناجائز نفسانی خواہش ، ناجائز رغبت۔ عن الھوی۔ اپنی ذاتی خواہش کی بناء پر۔ وما ینطق عن الھوی۔ اور نہ وہ اپنی خواہش نفس سے کوئی بات کرتا ہے یہ جملہ مستانفہ ہے اور جملہ سابقہ کی دلیل ہے۔ اور تقدیر کلام یوں ہے وکیف یضل او یغوی وھو لا ینطق عن الھوی۔ وہ کیسے گمراہ ہوسکتا ہے یا بہک سکتا ہے جب کہ وہ اپنی خواہش نفس سے کوئی بات کرتا ہی نہیں۔
Ayah 53:4

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف) بھیجا جاتا ہے

(53:4) ان ھو : میں ان نافیہ ہے ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع قرآن ہے۔ الا حرف استثناء وحی ای وحی الہی موصوف یوحی مضارع مجہول سابقہ ما ینطق عن الھویٰ کی تاکید کے لئے ہے۔ جملہ کا مطلب :۔ ما القران او الذی ینطق بہ الاوحی یوحیہ اللہ الیہ۔ قرآن یا جو ارشاد فرماتے ہیں وہ ماسوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہے اور کچھ نہیں (بیضاوی) علامہ پانی پتی (رح) اس آیت کا مطلب فرماتے ہیں :۔ ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے۔ آگے چل کر فرماتے ہیں۔ اس جملہ میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو یہ ثابت کرتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ خود اپنے اجتہاد سے کلام نہیں کرتے تھے ۔ بلکہ ما ینطق عن الھوی کی تائید اس جملہ سے ہو رہی ہے۔ فائدہ : بعض کے نزدیک ھو کا مرجع صرف قرآن مجید ہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ جو بات بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی زبان مبارک سے نکلتی ہے وہ سب وحی ہے اور وحی کی دو قسمیں ہیں :۔ (1) جب معانی اور کلمات سب منزل من اللہ ہوں اسے وحی جلی کہتے ہیں۔ جو کہ قرآن مجید کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے (اسے وحی ناطق بھی کہتے ہیں) ۔ (2) اور جب معانی کا نزول تو منجانب اللہ ہو لیکن ان کو الفاظ کا جامہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے خود پہنا یا ہو اسے وحی خفی یا غیر متلو کہا جاتا ہے جیسے احادیث طیبہ (ضیاء القرآن)
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا

(53:5) علمہ شدید القوی : علم فعل، شدید القوی فاعل ہ ضمیر مفعول اول القران محذوف مفعول ثانی، ایک بڑے طاقتور (فرشتہ) نے ان کی تعلیم قرآن کی۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔ شدید القوی۔ شدید سخت مستحکم ، پکا، مضبوط، شد سے جو بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مضاف، القوی جمع قوۃ واحد طاقتیں۔ سخت اور مضبوط قوتوں والا اس سے مراد عام مفسرین کے نزدیک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نےحضور ﷺ کو قرآن سکھایا۔ فائدہ : اس آیت سے لے کر لقد رأی من ایت ربہ الکبری آیت 16 تک کی تفسیر میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ عہد صحابہ کرام ؓ میں بھی ان آیات کے بارے میں اختلاف رہا ہے۔ جہاں تک آیات کی نصوص کا تعلق ہے ان سے دونوں مفہوم اخذ کئے جاسکتے ہیں اور کوئی ایسی حدیث مرفوع بھی موجود نہیں جو ان آیات کے مفہوم کو متعین کر دے ۔ ورنہ ایسے ارشاد نبوی کی موجودگی میں ایسا اختلاف سرے سے رونما ہی نہ ہوتا۔ اسی طرح بعد میں آنے والے علماء ان آیات کے بارے میں دو گروہوں میں منقسم ہیں اپنی دیانتدارانہ تحقیق کی روشنی میں ہمیں یہ حق تو پہنچتا ہے کہ ان دو قولوں میں سے کوئی ایک قول اختیار کرلیں لیکن ہمیں یہ حق ہرگز نہیں پہنچتا کہ دوسرے قول کے قائلین کے بارے میں ہم کسی بدگمانی کا شکار ہوں۔ (تفسیر ضیاء القرآن) ۔ مزید تشریح و وضاحت یا ہر دو فریقین کی دلائل مستند تفاسیر میں ملاحظہ فرمائے جاسکتے ہیں ہم نے ذیل میں عام مفسرین کی رائے کو اختیار کیا ہے۔ عام مفسرین کے نزدیک شدید القوی سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جیسا کہ اور جگہ ارشاد ربانی ہے انہ لقول رسول کریم ۔ ذی قوۃ عند ذی العرش مکین ۔ (81:19-20) کہ یہ (قرآن) ایک معزز قاصد کا لایا ہوا ہے جو قوت والا ہے، مالک عرش کے ہاں عزت والا ہے۔ (قاصد یعنی حضرت جبرائیل کو ذی قوۃ بیان فرمایا۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

(یعنی جبرئیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

(53:6) ذو مرۃ۔ مضاف مضاف الیہ، صاحب مرۃ۔ مرۃ خوش منظری خوبصورتی و بزرگی، اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور جس طرح رسول بشری (جناب رسول اللہ ﷺ ) اعلیٰ انسانی قوتوں کے حامل، انتہائی حسین و جمیل اور بہترین علوم و کمالات کے ساتھ متصف تھے، اسی طرح اس آیت میں رسول ملکی (حضرت جبرائیل) کو بھی ایسی صفات کا حامل فرمایا گیا ہے کہ وہ خوش منظر، خوبصورت و بزرگ اور شدید القویٰ فرشتہ ہے جس نے بحکم الٰہی رسول اللہ ﷺ کو تعلیم دی۔ (کما حقق ابن القیم (رح) تعالیٰ ۔۔ (قاموس القرآن) امررت الحبل کے معنی رسی بٹنے کے ہیں اور بٹی ہوئی رسی کو مریر یا ممر کہا جاتا ہے اسی سے فلان ذو مرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی طاقت ور اور توانا کے ہیں ذو مرۃ یعنی طاقتور۔ (راغب) مرۃ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر پختہ کرنے اور مضبوط بنانے کے ہیں اس لئے ذومرۃ کا معنی طاقت ور اور زور آور کیا گیا ہے۔ یہ لفظ ذہنی اور جسمانی دونوں قوتوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی لئے حکیم اور دانان کو بھی ذرمرۃ کہتے ہیں۔ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :۔ وقال : قطرب : تقول العرب لکل جزل الرای حصیف العقل ذومرۃ عرب ہر عمدہ رائے والے اور پختہ عقل والے کو ذومرۃ بولتے ہیں۔ شدید القوی سے حضرت جبرائیل کی جسمانی قوتوں کا بیان ہے اور ذومرۃ سے ان کی دانشمندی اور عقل کا بیان ہے۔ فاستوی :عاطفہ، استوی ماضی واحد مذکر غائب ۔ اس نے قصد کیا اس نے قرار پکڑا۔ وہ سنبھل گیا۔ وہ چڑھا۔ وہ سیدھا بیٹھا۔ استواء (افتعال) مصدر۔ یہاں بمعنی سیدھا بیٹھا۔ اللہ تعالیٰ کے استوار علی العرش کے سلسلہ میں ۔ استواء کا ترجمہ اکثر محققین نے تمکن واستقراء ۔ یعنی قرار پکڑنے اور قائم ہونے سے کیا ہے۔ مطلب یہ کہ تخت حکومت پر اس طرح قابض ہونا کہ اس کا کوئی حصہ اور کوئی گوشہ حیطہ اقتدار سے باہر نہ ہو۔ اور نہ قبضہ و تسلط میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت اور گڑبڑ ہو۔ غرض سب کام اور انتظام درست ہو۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے

(53:7) وھو بالافق الاعلی واؤ حالیہ ہے ھو کا مرجع جبرائیل ہے۔ افق الاعلی موصوف وصفت افق اس کنارے کو کہتے ہیں جہاں زمین اور آسمان آپس میں ملے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اعلی بمعنی بلند، مطلب یہ کہ :۔ پھر وہ سیدھا بیٹھا اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ (یہاں اونچا کنارہ وہ ہوگا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے)
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے

(53:8) ثم : التراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ یعنی پھر۔ دنا : ماضی واحد مذکر غائب دنو (باب نصر) مصدر۔ وہ نزدیک ہوا۔ وہ قریب ہوا اسی سے ہے دنیا۔ یعنی عالم دنیا ۔ جو افضل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ بہت نزدیک ہے۔ دنا کا فاعل جبرائیل ہے۔ فتدلی۔عاطفہ۔ تدلی : ماضی واحد مذکر غائب۔ تدلی تفعل، مصدر وہ اتر آیا۔ وہ نزدیک ہوا۔ تدلی کا معنی کسی بلند چیز کا نیچے کی طرف اس طرح لٹکنا کہ اس کا تعلق اپنی اصلی جگہ سے بھی قائم رہے۔ جب ڈول کو کنویں میں لٹکایا جاتا ہے اور اس کی رسی لٹکانے والے نے پکڑ رکھی ہو تو کہتے ہیں ادلی دلوا۔ علامہ قرطبی (رح) تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ اصل التدلی : النزول الی الشی حتی یقورب منہ۔ کہ اس کا اصل معنی ہے کسی چیز کی طرف اترنا یہاں تک کہ اس کے نزدیک ہوجائے۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم ہوگا :۔ کہ جبرائیل جو اپنی اصلی صورت میں اپنے چھ سو پروں سمیت شرقی افق پر نمودار ہوئے تھے وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے بالکل قریب ہوگئے۔ دنی کی طرح تدلیکا فاعل بھی جبریل ہے۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

تو وہ کمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم

(53:9) فکان قاب قوسین : اس میں کان کا اسم محذوف ہے تقدیر کلامیوں ہے : فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین۔ کان فعل ناقص مقدار (اسم کان محذوف) قاب قوسین خبر کان۔ قاب (ق و ب مادہ) کے معنی کمان کے درمیان والے حصہ کو کہتے ہیں۔ مقبض (مٹھ) سے لے کر ایک گوشہ کمان تک کے فاصلہ کے ہیں۔ اور قوس کی طرف اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک قوس کی مقدار یا فاصلہ۔ القوس : قطعۃ من الدائرۃ۔ دائرہ کے کسی حصہ کو قوس کہتے ہیں۔ القوس عام طور پر اس آلہ کو کہتے ہیں جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔ الۃ علی ہیئۃ ہلال ترمی بھا السھام۔ ہلال کی شکل کا آلہ جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔ قاب قوسین دو قوس کی مقدار۔ یعنی ایک کمان۔ لغات القرآن میں اس کی تشریح یوں کی گئی ہے :۔ قاب : اندازہ۔ مقدار۔ یا کمان کے قبضہ سے نوک تک کا فاصلہ ۔ یعنی آدھی کمان کی لمبائی۔ (تاج، صحاح، راغب، معجم) ۔ اہل عرب کسی مسافت کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف الفاظ بولتے تھے۔ مثلاً کمان برابر، ایک نیزے کے برابر، ایک کوڑے کے برابر، ہاتھ بربار، بالشت برابر۔ انگلی برابر وغیرہ۔ آیت میں لفظی قلب کردیا گیا ہے اصل میں قابی قوس تھا یعنی کمان کے دو قاب برابر۔ ایک کمان کے دو قاب ہوتے ہیں۔ یعنی وسطی قبضہ سے دونوں طرف کے حصے برابر ہوتے ہیں۔ دو قاب پوری کمان کے برابر ہوگئے۔ (معجم القرآن) صاحب منتہی الارب نے بھی آیت میں لفظی قلب نقل کیا ہے۔ لیکن قاب کے عام (معنی) اندازہ و مقدار بھی لکھا ہے۔ محلی نے بھی مقدار ترجمہ کیا ہے ۔۔ لیکن عام اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ نہ قلب مکانی کی ضرورت ہے نہ دو کمانوں کے برابر فاصلہ قرار دینے کی۔ کیونکہ اس جگہ کلام کی بناء اہل عرب کے رواج اور دستور پر ہے۔ عرب میں جب وہ شخص گہری دوستی اور ایک روح دو قالب ہونے کا پیمان باندھتے تھے تو ہر ایک اپنی مکان نکال کر لاتا تھا پھر دونوں کمانوں کو اس طرح ملا دیا جاتا تھا کہ دونوں قبضے مل جاتے تھے ، گوشے مل جاتے تھے۔ تانت مل جاتی تھی۔ گویا دونوں کمانیں جڑ کر ایک ہوجاتی تھیں۔ پھر دونوں سے ملا کر ایک تیر پھینکا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم دونوں ان دونوں کمانوں کی طرح ایک ہوگئے۔۔ اس صورت میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور رسول مقبول ﷺ کے درمیان فاصلہ ثابت ہوگا جتنا دو کمانوں کو جوڑنے کے بعد دونوں کے درمیان ہوتا ہے یعنی بالکل فاصلہ نہ رہے گا۔ دونوں کا بالکل متصل ہونا سمجھا جائے گا۔ (واللہ اعلم) او ادنی۔ اس جگہ او بمعنی یا (شکیہ) نہیں ہے بلکہ او بمعنی بل ہے جیسے کہ آیت وارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون (37:147) اور ہم نے ان کو ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف ّپیغمبر بنا کر) بھیجا۔ ادنی۔ افعل التفضٰل کا صیغہ واحد مذکر اقصی کے مقابلہ میں آتا ہے۔ بہت نزدیک ۔ قریب تر۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

(53:10) فاوحی الی عبدی ما اوحی :عاطفہ اوحی ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل یہاں بھی جبریل کی طرف راجع ہے۔ پس اس نے وحی کی۔ الی عبدہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی جبرائیل امین نے اللہ تعالیٰ کے بندے کی طرف وحی کی ما اوحی جو وحی کی : (ما موصولہ ہے جو اس نے وحی کی) ۔ بعض نے پہلے اوحی کا فاعل جبرئیل اور دوسرے اوحی کا فاعل اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے اس وقت آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ جبریل نے اللہ تعالیٰ کے بندے کو وحی کی جو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل پر وحی کی۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا

(53:11) ماکذب الفواد ما رای : الفواد (ف ء د مادہ) بمعنی دل۔ اس کی جمع افئدۃ ہے۔ ما (دوسرا) موصولہ ہے۔ رای ماضی واحد مذکر غائب اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر ماکذب کا مفعول ۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا۔ یعنی نبی کریم ﷺ نے جب جبرائیل کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تو دل نے اس کی تصدیق کی ! کہ آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں یہ ایک حقیقت ہے یہ واقعی جبرئیل ہے جو اپنی اصل صورت میں نظر آرہا ہے نظر کا فریب نہیں ہے۔ نگاہوں نے دھوکہ نہیں کھایا۔ کہ حقیقت کچھ اور ہو۔ اور نظر کچھ اور آرہا ہو۔
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو

(53:12) افتمرونہ علی مایری۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہےعاطفہ ہے کلام کی تقدیر یوں ہے۔ اتکذبونہ فتمارونہ : تمارون مضارع جمع مذکر حاضر مماراۃ مفاعلۃ مصدر سے : (م ر ی مادہ) ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کیا تم اس کو جھٹلاتے ہو اور اس سے جھگڑا کرتے ہو۔ یعنی جس چیز کو وہ دیکھنے کا دعوی کر رہے ہیں تمہیں اس کا انکار یا تکذیب نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ہی جھگڑنا چاہیے۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے فلا تمار فیہم الا مراء ظاھرا (18:22) تم ان کے معاملہ میں مت جھگڑنا۔ مت گفتگو کرنا۔ تمارون : مراء سے مشتق ہے مراء کا معنی جھگڑا کرنا۔ مری الناقۃ دودھ نکالنے کے لئے اونٹنی کے تھن سہلانا۔ باہم جھگڑنے والے بھی اپنے مخالف کی دلیلوں کو نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس لغوی معنی کی مناسبت سے مراء کا معنی ہوگیا جھگڑا کرنا۔ (تفسیر مظہری) علی ما یری۔ اس چیز کے متعلق جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ ما موصولہ اور یری بمعنی رای العین آنکھوں سے دیکھنا (رازی) ۔ یری صیغہ مضارع کا استعمال ماضی کے استحضار اور حکایت کے لئے۔
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور انہوں نے اس کو ایک اور بار بھی دیکھا ہے

(53:13) ولقد راہ واؤ عاطفہ قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے ۔ لام تاکید مزید کے لئے ۔ (انہوں نے تو اسے دوبارہ بھی دیکھا ہے) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں۔ نزلۃ اخری۔ موصوف وصفت ای مرۃ اخری دوسری مرتبہ۔ منصوب بوجہ مصدر کے ہے۔ کلام کی تقدیر یوں ہے ولقد راہ نازلا نزلۃ اخری۔ اور اس نے تو اس کو دوبارہ بھی نازل ہوتے دیکھا ہے یا دوسری۔
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

پرلی حد کی بیری کے پاس

(53:14) سدرۃ المنتھی اس ترکیب میں موصوف کی اضافت صفت کی طرف کی گئی ہے سدرۃ بیری کا درخت منتہی انتہائ۔ اختتام ، آخری سرحد۔ آخری کنارہ۔ انتھاء سے مصدر میمی۔ سدرۃ المنتھی بیری کا وہ درخت جو مادی جہان کی آخری سرحد پر ہے۔ یہ کیسا درخت ہے اس کی حقیقت کیا ہے اس کی شاخوں ، پتوں اور پھلوں کی نوعیت کیا ہے ہمیں ان کی ماہیت کا علم نہیں ہے۔ کہتے ہیں کہ اعمال خلق پہنچنے کی یہ آخری حد ہے انتہائی حد ہے۔ یہاں پہنچ کع یہ اعمال ملائکہ سے لے لئے جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اتر کر یہاں تک پہنچتے ہیں اور یہاں سے ملائکہ لے کر نیچے اترتے ہیں ۔ گویا یہ مقام احکام الٰہی کے نزول اور اعمال خلق کے عروج کی آخری حد ہے۔ جو کچھ پرے ہے وہ غیب ہے۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اسی کے پاس رہنے کی جنت ہے

(53:15) عندھا میں ضمیر واحد مؤنث غائب سدرۃ کے لئے ہے اس کے پاس ہی۔ جنت الماوی : جنت مضاف الماوی مضاف الیہ ماوی، اوی یاوی کا مصدر۔ بمعنی قیام کرنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ اور اسم ظرف ۔ بمعنی مقام ، سکونت، ٹھکانا ہے باب افعال سے اوی یووی ایواء بمعنی کسی کو جگہ دینا۔ ٹھکانا دینا۔ یا رہنے کا مقام دینا۔ الماوی معرف باللام قرآن مجید میں صرف تین جگہ آیا ہے۔ اور ہر جگہ مصدری معنی ہے۔ جنت الماوی قیام کرنے کی جنت، اس جنت کو جنت الماوی کیوں کہتے ہیں علمائے کرام نے اس کی متعدد توجیہات کی ہیں :۔ (1) شہداء کی روحیں یہاں تشریف فرما ہیں۔ (2) جبرائیل اور دوسرے ملائکہ کی یہ رہائش گاہ ہے۔ (3) اہل ایمان کی روحیں یہاں ٹھہرتی ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جبکہ اس بیری پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا

(53:16) اذ یغشی السدرۃ مایغشی : اذ اسم ظرف مکان ہے یغشی مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ غشی وغشیان (باب سمع) مصدر سے ہے بمعنی چھا جانا ڈھانپ لینا۔ یہاں مضارع بمعنی حکایت حال ماضی آیا ہے یعنی ایک گذشتہ بات کو بیان کرنے کے لئے فعل ماضی کے بجائے استعمال ہوا ہے اس میں استمرار غشیان کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یعنی جس وقت کا ذکر ہے غشیان کا عمل جاری تھا۔ لہٰذا اس کا ترجمہ اکثر یہ کیا گیا ہے کہ اس وقت تجلی اسکو ڈھانپتے چلی جارہی تھی اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھا (تفہیم القرآن) جبکہ اس سدرہ کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں کہ لپٹ رہی تھیں (تفسیر ماجدی) جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ (ضیاء القرآن) جبکہ سدرۃ کو چھپا رکھا تھا جس چیز نے کہ چھپا رکھا تھا ۔ (تفسیر حقانی) مایغشی۔ یہ یغشی اول کا فاعل ہے۔ فاعل کی لغت و صفت بیان نہیں کی گئی۔ اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :۔ (1) حضرت ابوہریرہ ؓ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے (ابن کثیر) (2) وفی حدیث : رایت علی کل ورقۃ من ورقھا ملکا قائما یسبح اللہ تعالیٰ (روح المعانی) میں نے اس کے ہر پتے پر ایک فرشتے کو کھڑا دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہا تھا۔ (3) وقیل یغشاھا الجم الغفیر من الملئکۃ یعبدون اللہ تعالیٰ عندھا (مدارک التنزیل) اور کہتے ہیں :۔ کہ اس کو فرشتوں کے ایک جم غفیر نے ڈھانپ رکھا تھا جو اللہ کی عبادت کر رہے تھے۔ (4) وقال مجاھد و ابراہیم : یغشاھا جراد من ذھب (روح المعانی) اور مجاہد و ابراہیم کا قول ہے کہ اسے یعنی سدرۃ المنتہیٰ کو سونے کی ٹڈیوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ (5) انوار و تجلیات کے ہجوم نے سدرۃ کو ڈھانپ رکھا تھا۔ ان انواروتجلیات کو بیان کرنے کے لئے نہ تو لغت میں کوئی لفظ موجود ہے اور نہ اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کسی میں طاقت ہے۔ (ضیاء القرآن) (6) واخرج عبد بن حمید عن سلمۃ قال : استأذنت الملئکۃ الرب تعالیٰ ان ینظروا الی النبی ﷺ فاذن لہم فغشیت الملئکۃ السدرۃ لینظروا الیہ الصلوٰۃ والسلام (روح المعانی) عبد بن حمید نے حضرت سلمہ ؓ علیہ سے روایت کی ہے کہ :۔ فرشتوں نے اللہ سے اجازت چاہی کہ وہ بھی حضور علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کی زیارت کریں ان کو اجازت مل گئی۔ سو فرشتے سدرہ پر لپٹ گئے کہ حضور ﷺ کی زیارت کرسکیں۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ (حد سے) آگے بڑھی

(53:17) ما زاغ البصر وما طغی : ما نافیہ ہے زاغ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ زیغ (باب ضرب) مصدر۔ بہکنا۔ کج ہونا۔ راہ راست سے بہک جانا۔ ان کی آنکھ (اپنے نصب العین سے نہ ہٹی) ۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذھدیتنا (3:8) اے ہمارے پروردگار ! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی پیدا نہ کر۔ وما طغی۔ واؤ عاطفہ ما نافیہ ہے طغی ماضی واحد مذکر غائب ۔ طغیان (باب نصر، سمع) مصدر۔ اور نہ وہ حد سے نکل گئی۔ جب نگاہ اپنی حد سے گزر جاتی ہے تو بہک جاتی ہے۔ اسی طرح جب پانی اپنی حد سے متجاوز ہوتا ہے تو طغیانی آجاتی ہے۔ یہاں طغی کا استعمال اسی اعتبار سے ہے۔ علامہ مودودی اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ ایک طرف رسول اللہ ﷺ کے کمال تحمل کا یہ حال تھا کہ ایسی زبردست تجلیات کے سامنے بھی آپ کی نگاہ میں کوئی چکا چوند پیدا نہ ہوئی اور آپ پورے سکون کے ساتھ ان کو دیکھتے رہے۔ دوسری طوف آپ کے ضبط اور یکسوئی کا کمال یہ تھا کہ جس مقصد کے لئے بلایا گیا تھ اسی پر آپ نے اپنی نگاہ اور اپنے ذہن کو مرکوز کئے رکھا ۔ اور جو حیرت انگیز مناظر وہاں تھے ان کی طرف آپ نے نگاہ ہی نہ اٹھائی۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کی کتنی ہی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں

(53:18) لقد رای : لام تاکید کے لئے ہے قد ماضی سے قبل تحقیق کا معنی دیتا ہے ۔ یقینا انہوں نے دیکھیں۔ من تبعیضیہ ہے۔ ایت ربہ الکبری : ایت مضاف ربہ مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر موصوف۔ الکبری۔ کبر سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ، یہ سارا جملہ رای کا مفعول ہے۔ آیت کا ترجمہ :۔ یقینا انہوں نے اپنے رب کی (قدرت کی کتنی ہی) بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ آیت کبریٰ سے مراد عالم ملکوت کی وہ عجیب و غریب چیزیں ہیں جن کا مشاہدہ حضور ﷺ نے سفر معراج پر جاتے ہوئے اور واپسی کے دوران میں کیا جیسے براق ، سموت، انبیاء ، فرشتے، سدرۃ المنتہیٰ ، جنت الماوی وغیرہ۔
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

بھلا تم لوگوں نے لات اور عزٰی کو دیکھا

(53:19) افرایتم۔ علامہ پانی پتی (رح) رقمطراز ہیں :۔ افرایتم میں استفہام انکاری ہے اور ثبنیہی ہے اور محذوف جملہ پر اس کا عطف ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا ۔ کیا تم نے اپنے معبودوں کو دیکھا اور کیا لات اور عزی اور تیسری ایک اور دیوی منات کا غور سے مشاہدہ کیا۔ (بھلا اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اس کی زمین و آسمان میں سلطنت وسطوت کے سامنے ان حقیر و ذلیل بتوں کی بھی کوئی حیثیت ہے۔ لات، عزی، منات کے متعلق صاحب ضیاء القرآن لکھتے ہیں :۔ لات ، قتادہ کہتے ہیں کہ یہ قبیلہ ثقیف کا بت تھا۔ جس کا استھان طائف میں تھا۔ بنو ثقیف اس کے بڑے معتقد تھے۔ جب ابراہہ کا لشکر کعبے کو گرانے کے قصد سے مکہ جاتے ہوئے طائف سے گزرا تو انہوں نے اسے رہبر مہیا کئے اور دیگر سہولتیں بہم پہنچائیں تاکہ وہ ان کے معبود لات کے استہان کو منہدم نہ کر دے۔ عزی : اس کا ماخذ عزت ہے یہ اعزی کی تانیث ہے سوق عکاظ کے قریب وادی نخلہ میں خراض نامی ایک بستی تھی ، عزی کا مندر اس جگہ تھا۔ بنو غطفان اس کی پوجا کیا کرتے تھے۔ بعض کے نزدیک یہ بنی شیبان کی دیوی تھی۔ جو بنی ہاشم کے حلیف تھے۔ قریش اور دوسرے قبائل اس کی زیارت کو آتے تھے قربانی کے جانور یہاں لاکر ذبح کیا کرتے تھے اور نذرانہ چڑھاتے تھے۔ تمام دوسرے بتوں سے اس کی تکریم و عزت کیا کرتے تھے۔ منوۃ۔ اس کا مندر قدید کے مقام پر تھا جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے ایک آبادی ہے یثرب کے اوس اور خزرج کے علاوہ بنو خزاعہ بھی اس کے معتقد تھے۔ کعبہ کی طرح اس کا حج بھی کیا جاتا قربانی کے جانور بھی اس کے لئے ذبح کئے جاتے۔ حج کعبہ سے فارغ ہونے کے بعد لوگ اس کا حج کرنا چاہتے وہ وہیں سے لبیک لبیک کے نعرے لگاتے ہوئے قدید کی طرف چل پڑتے۔ اگرچہ ان بتوں کے مخصوص مندر مختلف مقامات پر تھے جیسا کہ آپ پڑھ آئے ہیں۔ لیکن ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ انہی ناموں کے بت کعبے میں بھی رکھے ہوئے تھے۔ اور دوسرے بتوں کے ساتھ ساتھ ان کی بھی وہاں پوجا پاٹ کی جاتی تھی۔ علامہ ابو جان اندلسی (رح) نے بحر محیط میں اسی رائے کو ترجیح دی ہے اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ احد کے میدان میں ابو سفیان نے بڑے فخر و ناز سے کہا تھا کہ : ۔ لنا العزی ولا عزی لکم : کہ ہمارے پاس تو عزی دیوی ہے اور تمہارے پاس کوئی عزی نہیں۔ نیز افرایتم میں خطاب کی ضمیر کا مرجع قریش مکہ ہیں۔ ان بتوں کی پوجا کرنے والوں کا یہ عقیدہ تھا کہ فرشتے (معاذ اللہ) اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اور یہ بت جنیات کا مسکن ہیں اور یہ جنیات بھی اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ بعض کا یہ خیال تھا کہ یہ بت فرشتوں کے ہیکل ہیں اور فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں (نعوذ باللہ من ذلک)
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں خدا ہوسکتے ہیں ؟ )

(53:20) منوۃ۔ اللت، والعزی منصوب بوجہ مفعول رایتم کے ہیں ۔
Ayah 53:21

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

(مشرکو ! ) کیا تمہارے لئے بیٹے اور خدا کے لئے بیٹیاں ؟

(53:21) الذکر۔ مرف ۔ خر۔ واحد اس کی جمع ذکور وذکران ہے ۔ الانثی مادہ۔ عورت۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔
Ayah 53:22

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

یہ تقسیم تو بہت بےانصافی کی ہے

(53:22) تلک۔ یعنی یہ نر کا تمہارے لئے ہونا اور مادہ کا اللہ کے لئے ہونا۔ اذا۔ حرف جزاء ہے۔ بمعنی تب، اس وقت، اصل میں یہ اذن تھا۔ وقف کی صورت میں نون کو الف سے بدل لیتے ہیں۔ قسمۃ ضیزی : موصوف وصفت، بہت بھونڈی تقسیم، نہایت غیر منصفانہ تقسیم، بہت ناقص، ضیزی۔ ضاز یضیر (باب ضرب) کا مصدر بھی ہوسکتا ہے ۔ اجوف یائی ہے اور مہمو العین (باب فتح) سے بھی۔ ضاز یضاز کا مصدر ضیزی ہوگا۔ معنی دونوں کے قریب قریب ایک ہی ہیں۔ لہٰذا ضیزی ہر دو صورت میں مصدر بھی ہے اور صیغہ صفت بھی۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

وہ تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں خدا نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی یہ لوگ محض ظن (فاسد) اور خواہشات نفس کے پیچھے چل رہے ہیں حالانکہ ان کے پروردگار کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے

(53:23) ان ہی : میں ان نافیہ ہے ہی ضمیر واحد مؤنث غائب کا اشارہ اصنام کی طرف ہے۔ جن کی کفار پوجا کیا کرتے تھے۔ سمیتموھا۔ سمیتم ماضی جمع مذکر حاضر تسمیۃ (باب تفعیل) مصدر سے واؤ اشباع کا ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اصنام کے لئے ہے جنہیں وہ پوجا کرتے تھے۔ یہ محض نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں۔ ورنہ ان میں حقیقت کچھ بھی نہیں ہے ۔ علامہ راغب آیت ما تعبدون من دونہ الا اسماء سمیتموھا کے تحت لکھتے ہیں۔ ” کچھ نہیں پوجتے ہو سوائے اس کے کہ محض نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں “۔ اس کا معنی یہ ہے کہ :۔ جن ناموں کا تم ذکر کرتے ہو ان کے مسیمیات نہیں ہیں بلکہ یہ اسماء ایسے ہیں جو بغیر مسمی کے ہیں کیونکہ ان ناموں کے اعتبار سے بتوں کے بارے میں جو وہ اعتقاد رکھتے ہیں اس کی حقیقت ان میں پائی ہی نہیں جاتی۔ انتم واباء کم۔ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے یہ فاعل ہیں فعل سمیتم کے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الاصنام کے لئے ہے۔ سلطن سند۔ برھان ، دلیل، اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں کوئی سند نازل نہیں کی۔ ان یتبعون ای ما یتبعون وہ پیروی نہیں کر رہے۔ الا الظن وما تھوی الانفس : سوائے (1) گمان کی (2) اور جسے ان کے نفس چاہتے ہیں۔ ولقدواؤ حالیہ ہے۔ ملہ حالیہ ہے بمعنی : حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی ہے۔ الھدی۔ ای القران
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا جس چیز کی انسان آرزو کرتا ہے وہ اسے ضرور ملتی ہے ؟

(53:24) ام استفہام انکاری کے لئے ہے الانسان سے مراد یا تو کافر ہے یا عام انسان ۔ پہلی صورت میں مفہوم ہوگا :۔ ان کفار نے ان بتوں سے جو طرح طرح کی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں یہ محض دھوکہ اور فریب ہے ان کی یہ توقعات کبھی بھی پوری نہ ہوں گی۔ دوسری صورت میں مفہوم ہوگا :۔ ایسا نہیں ہوا کرتا کہ انسان جو چاہے وہ ضرور پورا ہوکر رہے۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس دنیا میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اذن سے ہو رہا ہے۔ اور عالم آخرت میں جو کچھ ہوگا اس کے حکم سے ہوگا۔ ما تمنی : ما موصولہ تمنی اس کا صلہ۔ ماضٰ واحد مذکر غائب ۔ تمنی (تفعل) مصدر۔ بمعنی چاہنا۔ تمنا کرنا، آرزو کرنا۔ جس کی وہ تمنا کرتا ہے۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

آخرت اور دنیا تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے

(53:25) للہ : میں لام اختصاص کا ہے۔ الاخرۃ : قیامت ، آخرت، الاولی جہاں آخرت کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد عالم دنیا ہے کیونکہ وہ آخرت سے پہلے ہے۔ پس اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے آخر اور دنیا۔
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے

(53:26) کم اسم مبنی ہے اور صدر کلام میں آتا ہے۔ مبہم ہونے کی وجہ سے تمیز کا محتاج ہے یہ عدد سے کنایہ کے لئے آتا ہے اور دو قسم پر ہے۔ استفہامیہ ۔ خبر یہ۔ استفہامیہ قرآن مجید میں نہیں آیا۔ استفہامیہ اگر آئے تو اس کا مابعد تمیز بن کر منصوب ہوتا ہے ۔ اور اس کے معنی کتنی تعداد یا مقدار کے ہوتے ہیں جیسے کم رجلا ضربت : تو نے کتنے آدمیوں کو پیٹا۔ جب خبر یہ ہو تو اپنی تمیز کی طرف مضاف ہوکر اسے مجرور کردیتا ہے اور کثرت کے معنی دیتا ہے۔ یعنی کتنے ہی۔ جیسے کم رجل ضربت میں نے کتنے مردوں کو پیٹا۔ اس میں کبھی اس کی تمیز پر من جارہ داخل ہوتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے : کم من قریۃ اہلکناھا (7:4) اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے تباہ کر ڈالیں ۔ اور کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ (2:249) بسا اوقات کتنی ہی چھوٹی جماعتوں نے بڑی جماعتوں پر خدا کے حکم سے فتح حاصل کی ہے۔ یا کم قصمنا من قریۃ کانت ظلمۃ (21:11) اور ہم نے بہت سی بستیاں جو کہ ستمگار تھیں ہلاک کر ڈالیں۔ کم من ملک فی السموت اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں (جن کی ۔۔ الآیۃ۔ لاتغنی مضارع واحد مؤنث غائب۔ اغناء (افعال) مصدر۔ وہ نفع نہیں دے سکے گی۔ وہ کام نہ آئے گی۔ شیئا : کبھی بھی۔ الا حرف استثنائ۔ ان یاذن اللہ میں ان مصدر یہ ہے۔ یاذن مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ اذن (باب سمع) مصدر (مگر بعد اس کے ) کہ اللہ (شفاعت کی) اجازت دے۔ لمن یشاء : جس کیلئے وہ چاہے۔ یعنی جس فرشتے کو شفاعت کرنے کی یا جس آدمی کے لئے شفاعت کرنے کی اجازت دے۔ ویرضی : واؤ عاطفہ، یرضی مضارع واحد مذکر غائب۔ رضی (باب سمع) مصدر۔ اور اس کے لئے شفاعت کر پسند کرے۔
Ayah 53:27

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ لَیُسَمُّوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ تَسْمِیَةَ الْاُنْثٰى Open ayah 53:27 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے وہ فرشتوں کو (خدا کی) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں

(53:27) ان الذین لا یؤمنون بالاخرۃ۔ بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ فاعل۔ لیسمون : لام تاکید کا۔ یسمون مضارع جمع مذکر غائب۔ تسمیۃ (تفعیل) مصدر۔ وہ نامزد کرتے ہیں (فعل) الملئکۃ : فرشتوں کو۔ مفعول اول۔ تسمیۃ الانثی : مضاف مضاف الیہ تسمیۃ نا رکھنا بروزن تفعلۃ باب تفعیل سے مصدر ہے انثی عورت کا سا (نام رکھنا) مفعول ثانی۔ ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے سے نام سے نامزد کرتے ہیں۔
Ayah 53:28

وَ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًاۚ Open ayah 53:28 in the Quran reader

اور حالانکہ ان کو اس کی کچھ خبر نہیں وہ صرف ظن پر چلتے ہیں اور ظن یقین کے مقابلہ میں کچھ کام نہیں آتا

(53:28) وما لہم بہ من علم : ضمیر فاعل یسمون سے حال ہے اور بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب تسمیۃ کے ذکر کے متعلق ہے وضمیر بہ للمذکور من التسمیۃ (روح المعانی) حالانکہ ان کو اس بات کا (فرشتوں کو عورتوں کے نام سے نامزد کرنے کا) علم نہیں۔ یعنی ان کو اس حقیقت کا علم ہی نہیں۔ یہ محض اپنے آباواجداد کی تقلید میں وہ اس ظن پر قائم ہیں کہ ملائکہ مؤنث ہیں اور خدا کی بیٹیاں ہیں۔ ان یتبعون الا الظن : ان نافیہ ہے۔ الظن مستثنیٰ منقطع۔ یہ صرف طن (بےاصل) بےدلیل خیالات پر چل رہے ہیں ۔ جو تقلید آباء سے حاصل ہوا ہے۔ لایغنی من الح شیئا۔ اور ظن حق کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہیں دیتا۔ یعنی ظن حق کا بدل نہیں ہوسکتا۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت 26 متذکرہ الصدر)
Ayah 53:29

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى١ۙ۬ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ Open ayah 53:29 in the Quran reader

تو جو ہماری یاد سے روگردانی کرے اور صرف دنیا ہی کی زندگی کا خواہاں ہو اس سے تم بھی منہ پھیر لو

(53:29) فاعرض : میںعاطفہ ہے جب ان مشرکوں کی جہالت و خفت دانش معلوم ہوگئی اور یہ معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت پر چلنے کی بنائے وہ اپنے بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں تو آپ بھی ان کی طرف سے روگردانی کرلیجئے۔ کیونکہ ایسوں کو سمجھانا اور حق کی دعوت دینا بےکار ہے۔ اعرض فعل امر واحد مذکر حاضر۔ اعراض (افعال) مصدر۔ تو منہ پھیرلے تو کنارہ کرلے۔ من تولی : من موصولہ ہے تولی ماضٰ واحد مذکر غائب تولی (تفعل) مصدر ۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔ عن ذکرنا۔ یہاں ذکر سے مراد قرآن ، یا ایمان یا اللہ کی یاد ہے۔ ولم یرد : واؤ عاطفہ، لم یرد فعل مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد مذکر غائب ہے اور نہیں خواہش رکھتا وہ۔ الا الحیوۃ الدنیا : الا حرف استثناء الحیوۃ الدنیا موصوف صفت۔ مل کر مستثنیٰ ۔ منصوب بوجہ مستثنیٰ منقطع کے۔
Ayah 53:30

ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدٰى Open ayah 53:30 in the Quran reader

ان کے علم کی یہی انتہا ہے تمہارا پروردگار اس کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور اس سے بھی خوب واقف ہے جو راستے پر چلا

(53:30) مبلغہم : مضاف مضاف الیہ۔ مبلغ بلوغ سے اسم ظرف پہنچنے کی جگہ۔ ان کی علمی انتہائ۔ ان کے علم کی آخری حد۔ ان کی انتہائی رسائی۔ بلوغ سے مصدر میمی بھی ہے۔ بمعنی پہنچنا۔ بمن میں من موصولہ ہے ضل عن سبیلہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ربک کی طرف راجع ہے۔ یہ آیت امر بالاعراض کی تعلیل ہے۔
Ayah 53:31

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۙ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَ یَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰىۚ Open ayah 53:31 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے (اور اس نے خلقت کو) اس لئے (پیدا کیا ہے) کہ جن لوگوں نے برے کام کئے ان کو ان کے اعمال کا (برا) بدلہ دے اور جنہوں نے نیکیاں کیں ان کو نیک بدلہ دے

(53:31) وللہ : میں واؤ عاطفہ ہے اور لام تخصیص کا ہے۔ اور اللہ ہی کا ہے۔ لیجزی لام تعلیل کا ہے یعنی اس نے پیدا کیا اس عالم کو جزاء اور سزاء دینے کی غرض سے۔ یجزی مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ لام تعلیل۔ جزاء (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی جزاء دینا۔ بدلہ دینا۔ سزا دینا۔ وہ معاوضۃ یا بدلہ جو مقابلہ سے مستثنیٰ کردے۔ خیر کے بدلہ میں خیر شر کے بدلہ میں شر جزاء کہلاتا ہے۔ یہاں ترجمہ ہوگا :۔ تاکہ وہ سزا دے (برابر بدلہ دے) بدکار کو۔ الذین اسم موصول جمع مذکر اساء وا (جنہوں نے برا کام کیا) اساء وا ماضی جمع مذکر غائب۔ اساء ۃ (باب افعال) مصدر۔ انہوں نے برا کیا۔ بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ ہے عملوا اس کا صلہ۔ یہ سبب اس فعل کے جو انہوں نے کیا۔ احسنوا : ماضٰ جمع مذکر غائب احسان (افعال) مصدر۔ انہوں نے بھلائی کی انہوں نے نیک کام کیا۔ بالحسنی ب تعدیہ کا ہے۔ اچھا بدلہ۔ نیک بدلہ۔ عمدہ جزاء فعلی کے وزن پر حسن سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ اور جنہوں نے نیک کام کئے ان کو عمدہ بدلہ دے۔
Ayah 53:32

اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ١ۚ فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى۠ Open ayah 53:32 in the Quran reader

جو صغیرہ گناہوں کے سوا بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں بیشک تمہارا پروردگار بڑی بخشش والا ہے وہ تم کو خوب جانتا ہے جب اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے تو اپنے آپ کو پاک صاف نہ جتاؤ جو پرہیزگار ہے وہ اس سے خوب واقف ہے

(53:32) یجتنبون مضارع جمع مذکر غائب اجتناب (افتعال) مصدر سے : وہ بچتے ہیں۔ وہ پرہیز کرتے ہیں۔ کبئر الاثم : مضاف مضاف الیہ۔ بڑے بڑے گناہ۔ یجتنبون کا مفعول ہے ۔ الفواحش : بےحیائی کی باتیں۔ ناشائستہ باتیں۔ فاحشۃ کی جمع۔ یجتنبون کا مفعول ثانی۔ گناہ کبیرہ کے بارے میں متعدد روایات ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے :۔ ہر وہ کام جس سے کتاب و سنت کی صریح نص سے منع کیا گیا ہو۔ یا اس کے لئے کوئی شرعی حد مقرر ہو یا جس کی سزا جہنم بتائی گئی ہو یا جس کے مرتکب کو لعنت کا مستحق قرار دیا گیا ہو۔ یا جس پر عذاب کے نزول کی خبر دی گئی ہو ایسی تمام باتیں گناہ کبیرہ ہیں۔ ان کے علاوہ جو دوسرے گناہ ہیں انہیں صغیرہ گناہ کہا جاتا ہے مگر یاد رہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار اور شریعت کے کسی فرمان کا استحقاف اور تحقیر کا شمار بھی کبیرہ گناہوں میں ہوتا ہے (ضیاء القرآن) الا اللمم : الا حرف استثناء لمم چھوٹے گناہ۔ وہ گناہ جن کا شازونادر ارتکاب ہو۔ مستثنیٰ ۔ امام راغب لکھتے ہیں : اللمم کے اصلی معنی ہیں معصیت کے قریب جانا۔ کبھی اس سے صغیرہ گناہ بھی مراد لئے جاتے ہیں۔ محاورہ ہے : فلان یفعل کذا لمما وہ کبھی کبھار یہ کام کرتا ہے آیت ہذا میں لفظ لمم مشتق ہے الممت بکذا سے۔ جس کے معنی کسی چیز کے قریب جانا کے ہیں۔ یعنی ارادہ کرنا مگر مرتکب نہ ہونا (مفردات راغب) لمم سے مراد وہ گناہ ہے جو آدمی سے کبھی کبھی صادر ہوجائے مگر وہ ان پر جما ہوا نہ رہے بلکہ توبہ کرلے۔ گناہ اس کا معمول نہ بن جائے۔ عادت نہ ہوجائے ۔ کبھی کبھی صادر ہوجائے (تفسیر مظہری) آیت الذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش الا اللمم۔ آیت الذین احسنوا ۔۔ کا بدل ہے۔ یا صفت ہے یا عطف بیان ہے۔ مضارع کا صیغہ اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ اجتناب کے تجدد اور استمرار پر دلالت کرے، وہ ہمیشہ گناہوں سے اجتناب کرتے رہتے ہیں (ضیاء القرآن) الا اللمم استثناء متصل بھی ہوسکتا ہے اور استثناء منقطع بھی۔ (1) اگر لمم سے مراد چھوٹے گناہ لئے جائیں مثلاً نامحرم پر پہلی نظر۔ آنکھ کا اشارہ۔ بوسہ یعنی زنا سے کم درجہ کا گناہ۔ تو الا اللمم استثناء متصل ہوگا۔ (2) اگر لمم سے مراد بےارادہ نظر پڑجانا۔ گناہ کا خیال آنا۔ لیکن اس کے ارتکاب کے لئے عملی قدم نہ اٹھانا وغیرہ ہو تو یہ استثناء منقطع ہوگا۔ بیضاوی و کشاف و جلالین وغیرہ نے استثناء منقطع ہی لکھا ہے۔ واسع المغفرۃ : واسع اسم فاعل واحد مذکر۔ مضاف المغفرۃ مضاف الیہ۔ غفر یغفر (باب ضرب) کا مصدر۔ بمعنی کسی گناہ کا معاف کردینا۔ واسع المغفرۃ وسیع مغفرت والا۔ جس کے گناہ معاف کرنا چاہیگا بغیر توبہ کے بھی معاف کر دے گا خواہ وہ کبیرہ ہوں یا صغیرہ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ شعر پڑھا تھا :۔ ان تغفر اللہم تغفر جما وای عبد لک لا الما اے اللہ اگر تو معاف کردے گا تو بہت گناہ معاف کر دے گا۔ تیرا کون سا بندہ گناہ پر نہیں اترا۔ (یعنی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا) اذ : اسم ظرف زمان ۔ جب انشاکم : اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے تمہاری پرورش کی۔ انشا ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر انشاء (افعال) مصدر۔ اعلم۔ اگرچہ اسم تفضیل کا صیغہ ہے لیکن تفضیلی معنی مراد نہیں۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور بھی تم کو پیش آنے والے واقعات و حالات سے واقف تھا مگر اللہ سب سے بڑھ کر واقف کار تھا۔ کیونکہ کوئی انسان بھی اپنی پیدائش سے پہلے اپنی زندگی کے احوال سے واقف نہیں ہوسکتا۔ اجنۃ : بچے جو پیٹ میں ہوں جنین کی جمع ہے، جنین پیت کے بچے کو کہتے ہیں۔ جنین بروزن فعل بمعنی مفعول ہے یعنی چھپا ہوا۔ الجنین قبر کا بھی کہتے ہیں۔ فعیل بمعنی فاعل چھپانے والی۔ لاترکوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تزکیۃ (تفعیل) مصدر بمعنی مال کی زکوٰۃ لینا یاد ینا۔ خود ستائی کرنا۔ لاتزکوا (تم خود ستائی نہ کرو) ۔ نفس انسانی کے تزکیہ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) بذریعہ فعل۔ یعنی اچھے اعمال کے ذریعہ اپنے آپ کو درست کرلینا۔ یہ پسندیدہ اور محمود طریقہ ہے۔ قد افلح من تزکی (87:14) (وہ بامراد ہوا جس نے اپنے آپ کو سنوار لیا) میں اسی تزکیہ عملی کا ذکر ہے۔ یہاں تزکی باب تفعل سے بمعنی باب تفعیل اپنے آپ کو سنوارنے کے معنی میں آیا ہے۔ (2) بذریعہ قول۔ جیسے ایک عادل اور متقی شخص کا دوسرے شخص کا تزکیہ کرنا۔ اور اس کی خوبی کی شہادت دینا۔ لیکن یہی طریقہ اگر انسان خود اپنے حق میں برتے تو برا ہے۔ آیت ہذا فلا تزکوا انفسکم (سو مت بولو اپنی ستھرائیاں یعنی اپنی خودستائی مت کرو) میں اللہ جل شانہ نے اسی تزکیہ سے ممانعت فرمائی ہے کیونکہ اپنے منہ آپ میاں مٹھو بننا عقلاً شرعاً کسی بھی طرح زیبا نہیں ہے۔ اعلم۔ اوپر ملاحظہ ہو۔ من : موصولہ ہے۔ اتقی ماضی واحد مذکر غائب۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے جو ڈرا۔ جس نے پرہیزگاری اختیار کی۔
Ayah 53:33

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ تَوَلّٰىۙ Open ayah 53:33 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے منہ پھیرلیا

(53:33) افرایت استفہام تعجبی ہے اور نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کیا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا۔ الذی تولی : الذی اسم موصول واحد مذکر ہے۔ تولی ماضی کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ تولی (تفعل) مصدر سے۔ اس نے منہ موڑا۔ اس نے پیٹھ پھیر دی۔ وہ پھر گیا۔ جس نے حق کی طرف سے پشت پھیرلی۔ فائدہ : (1) جمہور کے نزدیک اس شخص سے مراد ولید بن مغیرہ ہے، ولید نبی کریم ﷺ کا متبع ہوگیا تھا لیکن بعض مشرکوں نے اس کا عار دلائی اور کہا کہ تم نے باپ دادا کا دین چھوڑ دیا۔ اور ان کو گمراہ سمجھنے لگا۔ ولید نے کہا کہ مجھے اللہ کے عذاب سے ڈر لگتا ہے ۔ ایک شخص بولا۔ گر تم باب دادا کے مذہب کی طرف لوٹ آؤ تو میں تم کو اتنا مال دوں گا۔ اور اگر اللہ کا عذاب تم پر آیا تو تمہاری جگہ میں اس کو اپنے اوپر برداشت کرلوں گا۔ ولید شرک کی طرف لوٹ گیا اور نبی کریم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ (2) ابن جریر نے بحوالہ ابن زید بیان کیا ہے کہ ایک شخص مسلمان ہوگیا کسی نے اس کو غیرت دلائی کہ تو نے بزرگوں کے دین کو چھوڑ دیا۔ اور ان کو گمراہ سمجھا اور وہ دوزخی قرار دیا۔ مسلمان ہونے والے نے کہا کہ مجھے اللہ کے عذاب کا ڈر ہے۔ غیرت دلانے والے نے کہا کہ تو مجھے کچھ مال دیدے تجھ پر جو عذاب آئے گا میں برداشت کرلوں گا۔ اس شخص نے اس کو کچھ مال دے دیا۔ اس شخص نے کچھ اور مانگا اس نے کچھ اور بڑھا دیا۔ مانگنے والے نے ایک تحریر لکھ دی۔ اور گواہی بھی اس پر ثبت کردی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (3) سدی کا بیان ہے کہ یہ آیت عاص بن دائل سہمی کے حق میں نازل ہوئی جو بعض باتوں میں رسول اللہ ﷺ کے موافق تھا اور بعض امور میں مخالف۔ (4) محمد بن کعب قرضی کا قول ہے کہ :۔ اس آیت کا نزول ابو جہل کے بارے میں ہوا۔ ابوجہل نے کہا تھا کہ محمد ﷺ ہم کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتا ہے لیکن اس قول کے باوجود ایمان نہ لایا۔ تھوڑا سینے کا یہی مطلب ہے کہ کسی قدرحق کا اس نے اقرار کیا۔ اور اکدی سے مراد ہے ایمان نہ لانا۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 53:34

وَ اَعْطٰى قَلِیْلًا وَّ اَكْدٰى Open ayah 53:34 in the Quran reader

اور تھوڑا سا دیا (پھر) ہاتھ روک لیا

(53:34) واعطی قلیلا : واؤ عاطفہ ہے۔ اعطی قلیلا معطوف۔ اور اس نے تھوڑا مال دیا۔ یعنی مشرک نے ولید کو کچھ مال دیا۔ اور باقی کے دینے میں بخل کر گیا۔ انکاری ہوگیا۔ اکدی ماضی واحد مذکر غائب اکداء (افعال) مصدر جس کے معنی زمین کے پتھر کی طرح سخت نکلنے کے ہیں۔ اکدا اصل میں کدیۃ سے ماخوذ ہے جس کے معنی زمین کے سخت ہونے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں حفر فاکدی اذا بلغ الیٰ کدیۃ ای صلابۃ فی الارض فلم یمکنہ الحفر۔ جب زمین کھودتے وقت پتھریلی چٹان آجائے اور مزید کھدائی ناممکن ہوجائے تو کہتے ہیں حفرفاکدی۔ اس نے زمین کھودی اور نیچے سے چٹان نکل آئی ۔ یہاں آیت ہذا میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے تھوڑا سا مال دے کر باقی کی ادائیگی منقطع کردی۔
Ayah 53:35

اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَهُوَ یَرٰى Open ayah 53:35 in the Quran reader

کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے ؟

(53:35) اعندہ علم الغیب : ہمزہ استفہام انکاری ہے کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے (یعنی نہیں ہے) ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ولید بن مغیرہ ہے یا وہ شخص جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ الیسر التفاسیر میں ہے : ای یعلم ان غیرہ یتحمل عنہ العذاب والجواب لا : (کیا وہ جانتا ہے کہ کوئی دوسرا اس پر سے عذاب کو اٹھالے گا اور اس کا جواب ہے ” نہیں “ ) اعندہ علم الغیب : رایت کا مفعول ثانی ہے۔ مفعول اول اسم موصول الذی ہے۔ فھو یری : میںسببیہ ہے۔ یعنی کیا اس کو غیب کا علم ہے جس کی وجہ سے وہ جانتا ہے یا دیکھتا ہے کہ میں اگر کچھ مال دیدوں گا تو وہ شخص میرے اوپر سے شرک کا عذاب اٹحا کر اپنے اوپر لادلے گا۔
Ayah 53:36

اَمْ لَمْ یُنَبَّاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰىۙ Open ayah 53:36 in the Quran reader

کیا جو باتیں موسیٰ کے صحیفوں میں ہیں ان کی اس کو خبر نہیں پہنچی ؟

(53:36) ام لہم ینبا : ام بمعنی ہمزہ استفہامیہ ہے ای الم ینبا۔ لم ینبا مضارع مجہول نفی جحد بلم۔ صیغہ واحد مذکر غائب۔ تنبئۃ (تفعیل) مصدر ن ب ء مادہ۔ خبر دینا۔ کیا اس کو خبر نہیں دی گئی۔ بما : میں ب تعدیہ کا ہے۔ ما موصولہ ہے۔ صحف : صحیفے، کتابیں۔ اور اق، صحیفۃ کی جمع ہے۔ یہ جمع نادر ہے کیونکہ فعلیہ بروزن فعل نہیں آتی۔ ندرت اور قیاس میں اس کی مثال۔ سفینۃ (واحد) کی جمع سفن ہے۔ ترجمہ : کیا اس کو ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو (حضرت) موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ہیں۔
Ayah 53:37

وَ اِبْرٰهِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰۤىۙ Open ayah 53:37 in the Quran reader

اور ابراہیم کی جنہوں نے (حق طاعت و رسالت) پورا کیا ؟

(53:37) و ابراہیم الذی وفی۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ ای وبما فی صحف ابراہیم الذی وفی اور جو باتیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ۃیں جس نے احکام کی پوری پوری بجا آوری کی تھی۔ وفی، ماضی واحد مذکر غائب توفیۃ (تفعیل) مصدر بمعنی کسی کام کو پورا پورا کرنا و، ف، ی، مادہ۔ الوافی، مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :۔ واوفوا الکیل اذا کلم (17:35) اور جب تم (کوئی چیز) ماپ کردینے لگو تو پیمانہ مکمل اور پورا پورا بھرا کرو۔ الذی وفی اسم موصول وصلہ مل کر صفت ہے ابراہیم کی۔ کہ انہوں نے خداوندتعالیٰ کے احکام کی پوری پوری تعمیل کی تھی۔ بیٹے کو ذبح کرنے کے بلاچوں وچرا تیا ہوگئے۔ آتش نمرود میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ اپنے پروردگار کے احکام مخلوق تک پہنچائے اور اس سلسلے میں طرح طرح کی تکالیف لوگوں کے ہاتھوں سے اٹھائیں وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 53:38

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ Open ayah 53:38 in the Quran reader

یہ کہ کوئی شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا

(53:38) آیت سے قبل عبارت مقدرہ ہے، وقیل ماذا فی صحف موسیٰ و ابراہیم ؟ فقیل ھو ! ۔۔ اور سوال ہے کہ (حضرت) موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام کے صحیفوں میں کیا ہے ؟ جواب ہے : یہ کہ ۔۔ الا تزر وازرۃ وزراخری کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص دوسرے (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا : الا ان اور لا سے مرکب ہے۔ ان کی دوسری صورتوں کے علاوہ ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ ان مخففہ ہے جو شروع میں ثقیلہ تھا پھر خفیفہ کرلیا گیا یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے۔ ہ ضمیر شان جو ان کا اسم ہے محذوف ہے کلام ہوگا :۔ انہ لاتزروا وازر اخری۔ تحقیق شان یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا شخص۔۔
Ayah 53:39

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ Open ayah 53:39 in the Quran reader

اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے

(53:39) وان لیس للانسان الا ماسعی۔ اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے من عمل صالحا فلنفسہ ومن اساء فعلیہا (41:46) جو نیک کام کرے گا تو اپنے لئے اور جو برے کام کریگا تو ان کا ضرر اسی کو ہوگا بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ للانسان میں لام بمعنی علی ہے یعنی انسان کے لئے صرف اسی کا برا عمل ضرر رساں ہوگا۔ اس مطلب پر یہ آیت سابقہ آیت کی تفسیر ہوجائیگی اور عطف تفسیری ہوگا۔
Ayah 53:40

وَ اَنَّ سَعْیَهٗ سَوْفَ یُرٰى۪ Open ayah 53:40 in the Quran reader

اور یہ کہ اس کی کوشش دیکھی جائے گی

(53:40) (3) وان سعیہ سوف یری اور یہ کہ بیشک انسان کی کوشش جلدی دیکھی جائے گی۔ سعیہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی سعی۔ اس کی کوشش۔ سعی یسعی اس نے ارادہ کیا۔ اس نے قصد کیا۔ وہ دوڑا۔ اس نے کوشش کی۔ اس نے نیت کی، سوف عنقریب، یری مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ وہ دیکھا جائے گا۔ یعنی اس کے عمل کا مقصد معلوم ہوجائے گا (کیونکہ اعمال کے بارآور ہونے کی اولین شرط خلوص نیت ہے)