عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی ۟ۙعَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰىۙ
ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Taught to him by one intense in strength -
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی ۟ۙعَلَّمَهٗ شَدِيۡدُ الۡقُوٰىۙ
ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
— Fateh Muhammad Jalandhari
Taught to him by one intense in strength -
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے
ان کو نہایت قوت والے نے سکھایا
اسے پوری طاقت والے فرشتے نے سکھایا ہے
انہیں ایک ایسے مضبوط طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے۔
انہیں سکھایا سخت قوتوں والے طاقتور نے
ان کو بڑی قوّتوں و الے (رب) نے (براہِ راست) علمِ (کامل) سے نوازا،
اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔
یہ انہیں زبردست قوتوں والے (جبریل) نے سکھائی ہے
اس کو ایک مضبوط قوتوں والے، نے تعلیم دی ہے۔
آپ کو سکھایا اس سخت قوتوں والے نے
انہیں بڑی قوت والا (فرشتہ) سکھاتا ہے۔
انہیں سکھایا ہے اس نے جو زبردست قوت والا ہے۔
ان کو بڑی قوت والے نے سکھایا۔
something that a very powerful one has imparted to him,
It is taught to him by one (angel) of strong faculties,
It is taught to him by one (angel) of strong faculties,
He has been taught by one mighty in power.
Which one of mighty powers hath taught him,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Taught to him by one intense in strength -
and taught to him
The Lord of Mighty Power has taught him,
One of mighty powers hath taught it him.
He was taught by one Mighty in Power,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 5 یعنی کوئی انسان اس کو سکھانے والا نہیں ہے، جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، بلکہ یہ علم اس کو ایک فوق البشر ذریعہ سے حاصل ہو رہا ہے۔ " زبردست قوت والے " سے مراد بعض لوگوں کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، لیکن مفسرین کی عظیم اکثریت اس پر متفق ہے کہ اس سے مراد جبریل ؑ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود حضرت عائشہ حضرت ابوہریرہ، قتادہ، مجاہد، اور ربیع بن انس سے یہی منقول ہے۔ ابن جریر، ابن کثیر، رازی اور آلوسی وغیرہ حضرات نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور مولانا اشرف علی صاحب نے بھی اپنے ترجموں میں اسی کی پیروی کی ہے۔ اور صحیح بات یہ ہے کہ خود قرآن مجید کی دوسری تصریحات سے بھی…
Read the full tafseer →عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى، یہاں سے سترہویں آیت (لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) تک تمام آیات میں اس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، یہ اللہ کا کلام ہے، جو آپ کو اس طرح دیا گیا ہے کہ اس میں کسی التباس وتلبیس یا خطاء اور غلطی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ آیات نجم کی تفسیر میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ان آیات کے بارے میں ائمہ تفسیر سے دو تفسیریں منقول ہیں، ایک کا حاصل یہ ہے کہ ان سب آیات کو واقعہ معراج کا بیان قرار دے کر حق تعالیٰ سے تعلیم بلا واسطہ اور رویت و قرب حق تعالیٰ کے ذکر پر محمول فرمایا، اور شَدِيْدُ الْقُوٰى، ۙذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى اور…
Read the full tafseer →(علمہ شدید القوی) (5) (حضرت جبرئیل ؑ کی صفات) کلام اور صاحب کلام کی صفات بیان کرنے کے بعد یہ اس فرشتہ (حضرت جبرئیل) کی صفات بیان ہو رہی ہے جس نے اس کلام کی نبی ﷺ کو تعلیم دی۔ فرمایا کہ وہ (شدید القوی) یعنی تمام اعلیٰ صفات اور صلاحیتیوں سے بھر پور اور اس کی ہر صفت و صلاحیت نہیں محکم و مضبوط ہے۔ اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اس کو متاثر یا مرعوب کرسکے، اس سے خیانت کا ارتکاب کر اسکے یا اس کی تعلیم میں کوئی خلط مبحث کرسکے یا اس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اس کو کوئی وسوسہ لا حق ہو سکے۔ اس طرح کی تمام کمزوروں سے اللہ تعالیٰ نے اس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اس کے سپرد فرمایا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2: تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب سے مراد حضور نبی کریم ﷺ ہیں، اور آپ کے لئے یہ لفظ استعمال کرکے اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ نے کہیں باہر سے آکر نبوت کا دعوی نہیں کردیا، بلکہ وہ شروع سے تمہارے ساتھ رہتے ہیں، اور ان کی پوری زندگی کھلی ہوئی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے کہ انہوں نے زندگی بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا، اور نہ کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہے، اس کے برعکس آپ صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہیں، اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ عام زندگی میں تو جھوٹ سے اتنا پرہیزکریں اور اللہ تعالیٰ پر اتنا بڑا بہتان لگادیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61) ” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “ یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر…
Read the full tafseer →6 یعنی وحی بھیجنے والا تو اصل میں اللہ تعالیٰ ہے۔ لیکن جس کے ذریعہ سے وہ وحی آپ ﷺ تک پہنچتی ہے اور جو بظاہر آپ ﷺ کو سکھلاتا ہے وہ بہت سخت قوتوں والا، بڑا زور آور حسین و وجیہ فرشتہ ہے جسے " جبرائیل امین " کہتے ہیں۔ چناچہ " سورة التکویر " میں جبرائیل کی نسبت فرمایا۔ (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙ ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ 20 ۙ ) 81 ۔ التکویر :19)
Read the full tafseer →آیت 5{ عَلَّمَہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی۔ } ”انہیں سکھایا ہے اس نے جو زبردست قوت والا ہے۔“ ”شَدِیْدُ الْقُوٰی“ سے یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام مراد ہیں ‘ یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کو یہ قرآن جبرائیل علیہ السلام نے سکھایا ہے جو زبردست قوت والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
3 رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی شرعی حیثیت اور منکرین حدیث :۔ ان آیات کے اولین مخاطب تو کفار مکہ ہیں۔ مگر یہ آیتیں چونکہ آپ کے اقوال کو وحی اور واجب الاتباع قرار دیتی ہیں لہذا منکرین حدیث ان کو مقید بھی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب نے یوں کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے گھر جاکر اپنی کسی زوجہ سے یہ کہتے کہ میرا جوتا لاؤ تو کیا یہ بھی وحی ہوتی تھی ؟ اور اکثر منکرین اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف جو کچھ وحی کی جاتی رہی وہ سب قرآن میں آگئی ہے۔ اسی پر کفار کو اعتراض اور اسی پر آپ ﷺ سے ان کا تکرار اور جھگڑا رہتا تھا۔ اور آپ کی قرآن کے علاوہ دوسری باتیں جو بحیثیت انسان کے ہیں…
Read the full tafseer →4۔ (اس وحی کو اللہ کی طرف سے) یہاں ذکر واسطہ وحی کا ہے۔ مشرکین عرب معتقد تھے کہ کاہنوں کے پاس غیبی معلومات شیطانوں کے واسطہ سے پہنچتے ہیں۔ یہاں اس کی تردید میں ارشاد ہوا کہ یہاں درمیانی واسطہ شیطان کا نہیں جو ان پیغمبر پر کاہن ہونے کا احتمال بھی ہوسکے بلکہ واسطہ بھی فرشتہ کا ہے۔ یعنی سرچشمہ وحی رحمانی اور واسطہ وحی ملکوتی۔ (آیت) ” شدید القوی “۔ وہ پر قوت فرشتہ جس پر کسی شیطانی اثر سے تاثر ومغلوبیت کا گمان بھی نہیں ہوسکتا۔ مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ قوت واجلال کے مظہر اتم۔ اے ملک شدید قواہ وھو جبریل (علیہ السلام) عند الجمھور (مدارک) ھو جبریل (علیہ السلام) کما قال ابن عباس ؓ وقتادۃ والربیع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
وما ینطق عن الھوی یعنی وہ گمراہ اور بہک کیسے سکتا ہے وہ تو وحی الٰہی کے بیر لب کشائی ہی نہیں کرتا حتی کہ مزاح طبعی کے موقعوں پر بھی آپ ﷺ کی زبان مبارک سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا (ترمذی شریف) اسی طرح حالت غضب میں آپ کو اپنے جذبات پر اتنا کنٹرول تھا کہ زبان سے کوئی بات خلاف واقعہ نہ نکلتی۔ (ابودائود) خلاصہ یہ ہوا کہ آپ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں بلکہ آپ جو کچھ فرماتے وہ سب اللہ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام بخاری کی احادیث سے ثابت ہیں ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا نام…
Read the full tafseer →علمہ شدید القوی . ان کو ایک بڑے طاقتور (فرشے) نے تعلیم دی۔ شَدِیْدُ الْقُوٰی : یعنی اللہ جو بڑی قوّ توں والا ہے۔ قُوٰی ‘ قُوَّتٌ کی جمع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(4۔ 5) ان کا یہ ارشاد یعنی قرآن کریم اللہ کی طرف سے ایک وحی ہے جو بذریعہ جبریل امین ان کے پاس بھیجی جاتی ہے کہ وہ ان کے پاس آتا ہے اور ان کو پڑھ کر سناتا ہے آپ کو اس وحی کی جبریل امین تعلیم کرتے جو بدن کے اعتبار سے بڑے طاقتور ہیں اور یہ طاقت و قوت ان کی پیدایشی ہے۔ اور ان کی طاقت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے جب انہوں نے لوط کی بستیوں کے نیچے ہاتھ دیا اور ان کو سیاہ پانی پر سے اکھاڑ کر آسمان پر لے جاکر پھر زمین پر الٹا چھوڑ دیا۔ اور اسکی سختی کا اندازہ اس سے کیجیے جبکہ انہوں نے انطاکیہ کے دروازہ کی چوکھٹ پکڑ کر ایک چیخ ماری جس سے اس میں جو بھی مخلوق تھی سب مرگئی۔ اور کہا گیا ہے کہ ان کی سختی کا…
Read the full tafseer →(علمہ شدید القوی : بعض لوگ اس سے مراد اللہ تعالیٰ لیتے ہیں مگر یہ درست نہیں، بلکہ اس سے مراد جبریل ؑ ہیں جنہوں نے آپ ﷺ تک اللہ تعالیٰ کی وحی پہنچائی۔ دل یل اس کی یہ ہے کہ دوسری جگہ واضح طور پر یہ صفت جبریل ؑ ک بیان ہوئی ہے، فرمایا :(انہ لقول رسول کریم ، ذی قوۃ عند ذی العرش مکین ، مطاع ثم امین) (التکویر : 19 تا 21)”بلاشبہ یقینا یہ ایک ایسے پغیام پہنچانے اولے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔ بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت متر بےوالا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، نہایت امانت دار ہے۔“ ”القوی“ ”قوۃ“ کی جمع ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جبریل ؑ کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہیں بہت سی قوتیں عطا فرمائی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
علمہ شدید القوی۔ حضرت حسن بصری کے علاوہ تمام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ شدید القویٰ سے مراد حضرت جبریل امین ہیں (3) کیونکہ ان کی رائے ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے (4) ۔ حضرت حسن بصری کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فرمان ذومرۃ پر کلام کمل ہوجائے گی۔ اس کا معنی ہے قوت والا اور قوت اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اس کا اصل معنی اس کو مضبوطی سے بٹنا ہے گویا اسے لگاتار بٹا گیا یہاں تک کہ اس کا کھولنا مشکل ہوگیا۔ پھر فرمایا فاستوی اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یعنی عرش پر متمکن ہوا، یہ معنی حضرت حسن بصری سے مروی ہے۔ ربیع بن انس اور فراء نے کہا ، فاستوی۔ وھو بالافق اعلیٰ ۔ یعنی حضرت جبریل اور حضرت…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' علمہ شدید القوی '' (ان کو بڑے طاقتور فرشتے نے تعلیم دی) یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے۔ 2:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' علمہ شدید القوی '' سے مراد ہے جبرائیل (علیہ السلام) (آیت ) '' ذومرۃ '' (جو پیدائش طور پر طاقتور ہے) یعنی جو طویل الخلقت اور خوبصورت ہے۔ 3:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' علمہ شدید القوی '' سے مراد ہے کہ ان کو سکھایا یاقوت و طاقت والے جبرائیل (علیہ السلام) نے۔
Read the full tafseer →عَلَّمَهٗ [ تعلیم دی ان کو ] شَدِيْدُ الْقُوٰى [ قوتوں کے شدید ]
Read the full tafseer →اس کے بعد وحی لانے والے فرشتہ کا تذکرہ فرمایا ﴿ عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى ۙ005﴾ (اس کو سکھایا ہے بڑی طاقت والے نے) ﴿ذُوْمِرَّةٍ 1ؕ﴾ (وہ طاقتور ہے) ۔ یعنی جبرائیل فرشتہ نے آپ کو یہ قرآن سکھایا جو بڑے قوت والا ہے۔ اس میں اس احتمال کی تردید فرمادی ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لے کر چلے ہوں اور درمیان میں کوئی دوسری مخلوق شیطان وغیرہ پیش آگیا ہو اور اس نے صحیح طور پر وحی پہنچانے سے باز رکھا ہوا، ارشاد فرما دیا کہ وحی لانے والا فرشتہ بڑی قوت والا ہے پوری قوت والا ہے اس کے پیغام پہنچانے میں کوئی مانع نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4:۔ ” علمہ شدید القوی “ شدید القوی مضبوط قوتوں والا، مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں جن کی قوتوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو اٹھا کر بلندی سے الٹا کر پھینک دیا اور ملا اعلی سے زمین تک کا سفر آنکھ جھپکنے میں طے کرلیتے تھے۔ اور ان کی دلدوز چیخ سے قوم ثمود کے جگر پھٹ گئے (قرطبی) ۔ ” ذو مرۃ “ عقل و فہم میں کامل یا حسین و جمیل اور خوش منظر و طویل القامۃ ذومنظر حسن (مدارک ج 4 ص 147) ۔ ذو ھیئۃ حسنۃ قیل ھو جسم طویل حسن (بحر ج 8 ص 157) ۔ ذو مرۃ حصافۃ فی عقلہ ورایہ (بیضاوی) ۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن آپ نے اپنے پاس سے نہیں بنایا ہے۔ بلکہ جبریل (علیہ السلام) نے ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →عَلَّمَہٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى 5 ۙ علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] ، ونحو ذلك . وقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
عَلَّمَہٗ شَدِیْدُالْقُوٰی۔ ذُوْمِرَّۃٍ ط فَاسْتَوٰی۔ وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ (النجم : 5 تا 7) (اور اس کو تعلیم دی ہے زبردست قوتوں والے نے۔ جو بڑا صاحب حکمت ہے، وہ نمودار ہوا۔ اور وہ بالائی افق پر تھا۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات قریش کا یہ بھی الزام تھا کہ محمد ﷺ پر کوئی جن اترتا ہے جو اسے مختلف باتوں کی تعلیم دیتا ہے۔ اور کبھی وہ یہ کہتے کہ کوئی غلام ہے جو نہایت پڑھا لکھا ہے اور وہ آپ کو قرآن کریم کی عبارت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ چناچہ ایسی تمام لایعنی باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو نہ کسی جن نے سکھایا ہے اور نہ کسی انسان نے آپ کو کوئی تعلیم دی ہے بلکہ آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
فہم القرآن ربط کلام : کفار کے الزامات کی تردید کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ وحی کے بغیر نبی ﷺ نہیں بولتے۔ لہٰذا نبی ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی قسم اٹھائی ہے کہ نبی ﷺ کا اپنی خواہش کے پیچھے چلنا تو درکنار آپ اپنی مرضی سے دین کے معاملہ میں لب کشائی نہیں کرتے۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے اور کرتے ہیں وہ آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ جو فرشتہ آپ کو وحی پہنچاتا ہے وہ جبرائیل امین ہے جو بڑا طاقت والا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ آپ تک پہنچایا ہے وہ اللہ کے حکم سے پہنچایا : (اور آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ البقرۃ : 97) اہل علم نے ” ذُوْمِرَّۃٍ “ کے تین…
Read the full tafseer →طاقتور فرشتہ جبرئیل : آیت 5: عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى (ان کو ایک بڑے طاقتور نے تعلیم دی) علمہ یعنی محمد ﷺ کو سکھایا، شدید القوی، طاقتور فرشتہ اس میں اضافت غیر حقیقی ہے، کیونکہ وہ صفت مشبہ کی اضافت فاعل کی طرف ہے، اور مراد اس سے جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جمہور کا قول یہی ہے اور اس کی قوت کا حال یہ ہے کہ انہوں نے ماء اسود سے قوم لوط کی بستیوں کو اکھاڑ کر اپنے ایک پر کے کنارے پر اٹھا کر پلٹ دیا اور ایک چیخ ماری جس سے قوم ثمود اوندھے منہ گر کر ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →4 ۔” ان ھو “ جو آپ (علیہ السلام) نے دین کے بارے میں بیان کیا اور کہا گیا ہے قرآن ” الا وحی یوحی “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی جو آپ (علیہ السلام) کی طرف بھیجی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى) یعنی آپ صرف اس چیز کی پیروی کرتے ہیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے، یعنی ہدایت اور اپنے اور دیگر لوگوں کے بارے میں تقوی۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ سنت بھی رسول اللہ کی طرف بھیجی ہوئی وحی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ۔ النساء 113) اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی۔ نیز یہ اس بات کی بھی دلیل ہے آپ اللہ اور اس کی شریعت کے بارے میں خبر دینے میں معصوم ہیں کیونکہ آپ کا کلام کسی خواہش نفسانی سے صادر نہیں ہوتا یہ تو وحی الہی ہے جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے معلم کا ذکر فرمایا اور وہ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
[ 7] پیغمبر (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو سکھایا سخت قوتوں والے نے " پس جس طرح پیغمبر خود بےمثال عظمت شان کے مالک ہوتے ہیں اسی طرح ان کے استاد بھی بےمثال عظمت و شان کے مالک ہوتے ہیں، کہ وہ دنیا میں کسی سے پڑھتے سیکھتے نہیں، بلکہ ان کا علم براہ راست حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ البتہ اس کا ذریعہ و واسطہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہوتے ہیں۔ سو یہاں پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کو سکھایا سخت قوتوں والے نے۔ یعنی جبرائیل امین (علیہ السلام) نے جیسا کہ پ 30 سورة تکویر آیت 19 تا 20 میں ارشاد فرمایا گیا { انہٗ لقول رسولٍ کریم ذی قوۃٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →ف 3 اکثر صحابہ بعد کے مفسرین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(53:5) علمہ شدید القوی : علم فعل، شدید القوی فاعل ہ ضمیر مفعول اول القران محذوف مفعول ثانی، ایک بڑے طاقتور (فرشتہ) نے ان کی تعلیم قرآن کی۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔ شدید القوی۔ شدید سخت مستحکم ، پکا، مضبوط، شد سے جو بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ مضاف، القوی جمع قوۃ واحد طاقتیں۔ سخت اور مضبوط قوتوں والا اس سے مراد عام مفسرین کے نزدیک حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ یعنی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نےحضور ﷺ کو قرآن سکھایا۔ فائدہ : اس آیت سے لے کر لقد رأی من ایت ربہ الکبری آیت 16 تک کی تفسیر میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ ایسی روایات بھی موجود ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 3) بعض مفسر اس طرف گئے ہیں کہ بری قوت والے صاحب حسن سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں کیونکہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی قوت سے شیطان ڈرتا ہے چناچہ سورت انفال میں گزرچکا ہے کہ بدر کی لڑائی کے وقت پہلے تو شیطان سراقہ بن مالک کی صورت میں مشرکین کے لشکر میں موجود رہا، جب لشکر اسلام کی مدد کو فرشتے آئے اور شیطان نے جبرائیل (علیہ السلام) کو پہچانا تو بھاگ گیا، قوم لوط کے قصہ میں حضرت جبرائیل کی قوت کا ذکر گزرچکا ہے انہوں نے قوم لوط کے لاکھوں آدمیوں کے رہنے کی چار بستیاں اپنے ایک پر اٹھا کر آسمان تک ان کو بلند کیا اور پھر ان کو الٹ دیا، حسن بصری نے فرمایا کہ شدید القوی ذومرۃ، سے مراد اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[4] مراد ہیں جبرائیل علیہ السلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(5) اس وحی کو انہیں ایک بڑا طاقت ور فرشتہ تعلیم کرتا ہے۔ یعنی جو وحی ان کی جانب کی جاتی ہے اسکو ایک بڑا زور آور اور طاقت دار فرشتہ لے کر آتا ہے اور ان کے سامنے پڑھتا اور بیان کرتا ہے اسی کو تعلیم سے تعبیر کیا ہے طاقت دار اس فرشتے کو کہا تاکہ معلوم ہو کہ راستے میں اس کے بدلنے اور گھٹنے بڑھنے کا احتمال بھی نہیں۔ مراد اس فرشتے سے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ہیں جن کی بےپناہ طاقت اور زور کا اندازہ کرنا مشکل ہے جن کی ایک آواز سے لوگوں کے پتے پھٹ جائیں اور جو بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر الٹ دیں تو جو پیام وہ لے کر آئیں ان سے کون چھین سکتا ہے اور کون تبدیل کرسکتا ہے۔ شدید القوی کی اضافت صفت مشبہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →اس کو بہت زبردست قوت والے نے سکھایا ہے 5 ؎ وہ کون ہے جو مضبوط قوتوں والا ہے ؟ اس کائنات کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو مخلوق پیدا ہے خواہ وہ ہے جو نظر آتی ہو اور خواہ وہ ہے جو انسانی ظاہری آنکھوں سے نظر نہیں آتی لیکن عقل اس کو دیکھتی ہے۔ اس مخلوق میں اللہ تعالیٰ نے بڑی بڑی قوت رکھی ہے اور اس کی مخلوق کی قوت کا پورا اندازہ ابھی انسان نہیں لگا سکا اور شاید کبھی بھی نہ لگا سکے۔ نہ نظر آنے والی چیزوں میں صرف ایک ہوا کو لے لیں کیا اس کی قوت کا اندازہ ابھی تک انسان لگا سکا ہے ؟ یقینا نہیں پھر ہوا ایک ہی قسم کی ہے ؟ نہیں اس کی بہت سی اقسام ہیں کیونکہ جتنی گیسیں دریافت ہوتی ہیں ان کی قوتوں کا بھی انسان…
Read the full tafseer →عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ (It is taught to him by one [ angel ] of strong faculties,...53:5) From here upto the eighteenth verse, لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ the subject-matter is the revelation from Allah. It has been established that the Qur'an is a record of verbal revelation vouchsafed to the Holy Prophet Muhammad ﷺ . There is no room for doubt about the fact that it is the very Words of Allah. It was sent down in such a way that no possibility of confusion or error ever existed. Divergent Interpretation of the Verses of Najm Regarding these verses of Surah Najm,…
Read the full tafseer →5 That is, "There is no human being who teaches him this, as you seem to think, but he obtains this knowledge through a supernatural source. " According to some people, "mighty in power" implies AIIah Himself, but a great majority of the commentators are agreed that it implies the Angel Gabriel (upon whom be peace). This same view has been reported from Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, Hadrat 'A'ishah, Hadrat Abu Hurairah, Qatadah, Mujahid and Rabi`bin Anas. Ibn Jarir, Ibn Kathir, Razi, Alusi and others also have adopted this very view. Shah Waliyullah and Maulana Ashraf 'Ali Thanwi also have…
Read the full tafseer →