An-Najm 53:6

An-Najm · from ayah 6

53:6

ذُوْ مِرَّةٍ ؕ— فَاسْتَوٰی ۟ۙذُوۡ مِرَّةٍؕ فَاسۡتَوٰىۙ

(یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

One of soundness. And he rose to [his] true form

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:6

(یعنی جبرائیل) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو زور آور ہے پھر وه سیدھا کھڑا ہو گیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو قوت کا حامل ہے، چنانچہ وہ سامنے آگیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس جلوہ نے قصد فرمایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو حسنِ مُطلَق ہے، پھر اُس (جلوۂ حُسن) نے (اپنے) ظہور کا ارادہ فرمایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو بڑی طاقت والا ہے، سو وہ بلند ہوا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو بڑا زور آور ہے وہ سامنے آکھڑا ہوا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

عقل و کردار کے توانا ، وہ نمودار ہو ا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو بڑا زور آور ہے چناچہ وہ (اپنی اصل شکل میں) سامنے آکھڑا ہوا

— مولانا اسحاق مدنی

پیدائشی طاقتور پھر وہ اصلی صورت پر اصلی صورت پر ظاہر ہوا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو بڑا زور آور ہے۔ وہ سیدھا ہوا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی جبرائیل طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے

— محترمہ رفعت اعجاز

one endowed with immense wisdom. He came forth and stood poised,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the one of vigour. So he stood poised,

— Muhammad Taqi Usmani

the one of vigour. So he stood poised,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Dhu Mirrah then he Istawa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

One vigorous; and he grew clear to view

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

One of soundness. And he rose to [his] true form

— Saheeh International

by the great mighty one (Gabriel),

— Muhammad Sarwar

The Lord of Strength; so he attained completion,

— Muhammad Habib Shakir

One strong of make. Then he stood straight.

— Abdul Majid Daryabadi

Endued with Wisdom: for he appeared (in stately form);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–18

تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 6 اصل میں لفظ ذُوْ مِرَّۃٍ استعمال فرمایا گیا ہے۔ ابن عباس اور قتادہ اس کو خوبصورت اور شاندار کے معنی میں لیتے ہیں۔ مجاہد، حسن بصری، ابن زید اور سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اس کے معنی طاقتور کے ہیں۔ سعید بن مُسَیَّب کے نزدیک اس سے مراد صاحب حکمت ہے۔ حدیث میں نبی ﷺ کا رشاد ہے لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مِرَّۃٍ سَوِیٍّ۔ اس ارشاد میں ذو مرہ کو آپ نے تندرست اور صحیح القویٰ کے معنی میں استعمال فرمایا ہے۔ عربی محاورے میں یہ لفظ نہایت صائب الرائے اور عاقل و دانا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جبریل ؑ کے لیے یہ جامع لفظ اسی لیے منتخب فرمایا ہے کہ ان میں عقلی اور جسمانی،…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

ذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى، مرہ کے معنی قوت کے ہیں، یہ بھی جبرئیل امین کی دوسری صفت قوت و طاقت کی زیادتی بیان کرنے کے لئے ہے، تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ وحی لانے والے فرشتے کے کام میں کوئی شیطان دخیل ہوسکتا ہے، کیونکہ جبرئیل امین اتنے قوی ہیں کہ شیطان ان کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتا اور فاستویٰ کے معنی " برابر ہو گئے " مراد یہ ہے کہ اول جب جبرئیل امین کو دیکھا تو وہ آسمان سے اتر رہے تھے، اترنے کے بعد افق بلند پر مستوی ہو کر بیٹھ گئے، افق کے ساتھ اعلیٰ کی قید میں یہ حکمت ہے کہ افق کا وہ حصہ جو زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے وہ عموماً نظروں سے مخفی رہتا ہے اس لئے افق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–10

(زومرہ فاستوی وھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوا دنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (6، 10) (جبریل ؑ کا طریقہ تعلیم) ذو مرۃ، کا تعلق شدید القوی سے ہے اس وجہ سے اس کی ضاحت ہم نے شدید القوی کے ساتھ ہی کردی ہے۔ اب فاسنوی سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر علمہ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ فاستری میںتفصیل کے لیے ہے۔ یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں مستوی القامت ہو کر، نمو دار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–10

2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: اس سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس وحی لے کر تشریف لاتے تھے، ان کی اطاعت کا خاص طور سے ذکر فرما کر اس بات کی تردید کی گئی ہے جو کافروں کے دل میں آسکتی تھی کہ اگر کوئی فرشتہ ہی وحی لاتا ہے تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ درمیان میں کوئی شیطانی تصرف نہیں ہوا ؟ آیت نے بتادیا کہ وحی لانے والا فرشتہ اتنا طاقتور ہے کہ کوئی دوسرا اسے اپنے مشن سے نہیں ہٹاسکتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–10

علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61) ” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “ یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 6–7

7 " اونچے کنارے " سے اکثروں نے افق شرقی مراد لیا ہے۔ جدھر سے صبح صادق نمودار ہوتی ہے نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ اس وقت آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ یہ غیر معمولی اور مہیب منظر پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے دیکھا تھا۔ دیکھ کر گھبرائے تو سورة " مدثر " اتری۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ ذُوْ مِرَّۃٍط فَاسْتَوٰی۔ } ”جو بڑا زور آور ہے۔ وہ سیدھا ہوا۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 4–7

3 رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی شرعی حیثیت اور منکرین حدیث :۔ ان آیات کے اولین مخاطب تو کفار مکہ ہیں۔ مگر یہ آیتیں چونکہ آپ کے اقوال کو وحی اور واجب الاتباع قرار دیتی ہیں لہذا منکرین حدیث ان کو مقید بھی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب نے یوں کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے گھر جاکر اپنی کسی زوجہ سے یہ کہتے کہ میرا جوتا لاؤ تو کیا یہ بھی وحی ہوتی تھی ؟ اور اکثر منکرین اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف جو کچھ وحی کی جاتی رہی وہ سب قرآن میں آگئی ہے۔ اسی پر کفار کو اعتراض اور اسی پر آپ ﷺ سے ان کا تکرار اور جھگڑا رہتا تھا۔ اور آپ کی قرآن کے علاوہ دوسری باتیں جو بحیثیت انسان کے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ (ان رسول کے روبرو) اس میں کمال اکرام و اعزاز ہے رسول اللہ ﷺ کا۔ کہ آپ ﷺ کے لئے ایک بار وہ حجابات دور کردیئے گئے جن کے اندر جبریل (علیہ السلام) انسانی آنکھ کے سامنے جلوہ گر ہوسکتے ہیں۔ (آیت) ” ذو مرۃ “۔ پیدائشی طاقتور ایسے شیطان کی مجال نہیں جو ان کے سامنے پر مار سکے۔ (آیت) ” ذو مرۃ “۔ کے ایک معنی حسین وپاکیزہ روکے بھی کئے گئے ہیں۔ حسن و جمال کے مظہر اتم عن ابن عباس ؓ ذومنظر حسن (مدارک) گویا جلال و جمال الہی دونوں کے مظہر اتم۔ ایک معنی (آیت) ” ذو مرۃ “۔ کے یہ بھی کئے گئے ہیں۔ کہ عقل ونظر کے لحاظ سے کامل، جس طرح (آیت) ” شدید القوی “۔ کے معنی کئے گئے ہیں۔ قوت جسمانی کے لحاظ سے کامل۔ ذو مرۃ اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

ذومرۃ فاستوی یہ اور آئندہ کلمات اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت جبرئیل کی صفات ہیں اور بعض دیگر مفسرین کے نزدیک مذکورہ صفات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہیں اور ان تمام آیات کا تعلق واقعہ معراج سے قرار دے کر حق تعالیٰ سے تعلیم بلاواسطہ اور رویت و قرب حق تعالیٰ پر محمول کرتے ہیں، یہ تفسیر صحابہ کرام میں سے حضرت انس ؓ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور پہلی تفسیر جن صحابہ سے منقول ہے ان میں بہت سے حضرات صحابہ وتابعین شامل ہیں ان حضرات کے قول کے راجح ہونے کی کئی وجوہات میں تاریخ سے بھی اسی قول کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ سورة نجم بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور ظاہر یہی ہے کہ واقعہ معراج اس سے مئوخر ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذو مرۃ . جو پیدائشی طاقتور ہے۔ مِرَّۃٌ : قوّت ‘ شدت ‘ پختگی ‘ مضبوط کرنا (قاموس) اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وہی ہر چیز کی اصل کو مضبوط کرتا ہے۔ فاستوی . پھر وہ (فرشتہ اپنی) اصلی صورت میں نمودار ہوا۔ لفظ اِسْتَوٰی متشابہات میں سے ہے جس کی مراد سوا اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ سلف (رح) نے آیت : الرَّحْمٰنُ عَلُی الْعَرْشِ اسْتَوٰی کی تشریح میں صراحت کی ہے کہ اِسْتِوَا : کا معنی معلوم ہے (لیکن استواء رحمٰن) بےکیفیت ہے۔ یعنی استواء کا معنی معلوم ہے لیکن کیفیت مجہول) سہیل بن عبداللہ تستری نے فرمایا : کسی مؤمن کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ سوال کرے کہ جس نے استواء کو پیدا کیا اس کا استواء کیسا ہے ؟ ہم پر رضا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 6–9

(6۔ 9) پھر جبریل امین اپنی اصلی حالت پر نمودار ہوئے یا یہ کہ بہترین شکل و صورت میں نمودار ہوئے اس حالت میں کہ وہ افق شرقی پر تھے یا یہ کہ ساتویں آسمان کے کنارہ پر تھے پھر جبریل امین رسول اکرم کے قریب آئے یا یہ کہ حضور اکرم پروردگار کے قریب ہوئے۔ اور پھر اور نزدیک ہوئے کہ قرب کی وجہ سے دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ آدھے کمان سے کم فاصلہ رہ گیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–9

(1) ذومرۃ : طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ ”مرۃ“ کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کیلئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔”شدید القوی“ کے بعد ”ذومرۃ“ کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ”شدید القوی“ سے عملی قوتیں اور ”ذومرۃ“ سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر ساتعملا ہوتے ہیں، اس لئے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔ (2) ”فاستوی“ برابر ہوا، بلند ہوا۔”افق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–6

علمہ شدید القوی۔ حضرت حسن بصری کے علاوہ تمام مفسرین کی رائے یہ ہے کہ شدید القویٰ سے مراد حضرت جبریل امین ہیں (3) کیونکہ ان کی رائے ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے (4) ۔ حضرت حسن بصری کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے فرمان ذومرۃ پر کلام کمل ہوجائے گی۔ اس کا معنی ہے قوت والا اور قوت اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اس کا اصل معنی اس کو مضبوطی سے بٹنا ہے گویا اسے لگاتار بٹا گیا یہاں تک کہ اس کا کھولنا مشکل ہوگیا۔ پھر فرمایا فاستوی اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے یعنی عرش پر متمکن ہوا، یہ معنی حضرت حسن بصری سے مروی ہے۔ ربیع بن انس اور فراء نے کہا ، فاستوی۔ وھو بالافق اعلیٰ ۔ یعنی حضرت جبریل اور حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

4:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابن ابی حاتم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ذومرۃ '' سے مراد ہے خوبصورت پیدائش والے۔ 5:۔ الطستی نے اپنے مسائل میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ' ' ذو مرۃ '' کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کے امر کے بارے میں زبردست قوت اور طاقت والا ہو۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں کیا تو نے نابغہ بنی ذیبان کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ فدی اقربہ اذ ضافنی وھنا قری ذی مرۃ حازم : ترجمہ : اس نے فدیہ دینے کا اقرار کیا جب وہ میرے ہاں مہمان بنا اور یہ تو طاقت ور محتاط اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–10

پہلی بار رویت : اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–6

4:۔ ” علمہ شدید القوی “ شدید القوی مضبوط قوتوں والا، مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں جن کی قوتوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے قوم لوط (علیہ السلام) کی بستیوں کو اٹھا کر بلندی سے الٹا کر پھینک دیا اور ملا اعلی سے زمین تک کا سفر آنکھ جھپکنے میں طے کرلیتے تھے۔ اور ان کی دلدوز چیخ سے قوم ثمود کے جگر پھٹ گئے (قرطبی) ۔ ” ذو مرۃ “ عقل و فہم میں کامل یا حسین و جمیل اور خوش منظر و طویل القامۃ ذومنظر حسن (مدارک ج 4 ص 147) ۔ ذو ھیئۃ حسنۃ قیل ھو جسم طویل حسن (بحر ج 8 ص 157) ۔ ذو مرۃ حصافۃ فی عقلہ ورایہ (بیضاوی) ۔ حاصل یہ ہے کہ یہ قرآن آپ نے اپنے پاس سے نہیں بنایا ہے۔ بلکہ جبریل (علیہ السلام) نے ایسے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذُوْ مِرَّۃٍ۝ 0 ۭ فَاسْتَوٰى۝ 6 ۙ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 5–7

عَلَّمَہٗ شَدِیْدُالْقُوٰی۔ ذُوْمِرَّۃٍ ط فَاسْتَوٰی۔ وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ (النجم : 5 تا 7) (اور اس کو تعلیم دی ہے زبردست قوتوں والے نے۔ جو بڑا صاحب حکمت ہے، وہ نمودار ہوا۔ اور وہ بالائی افق پر تھا۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات قریش کا یہ بھی الزام تھا کہ محمد ﷺ پر کوئی جن اترتا ہے جو اسے مختلف باتوں کی تعلیم دیتا ہے۔ اور کبھی وہ یہ کہتے کہ کوئی غلام ہے جو نہایت پڑھا لکھا ہے اور وہ آپ کو قرآن کریم کی عبارت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ چناچہ ایسی تمام لایعنی باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو نہ کسی جن نے سکھایا ہے اور نہ کسی انسان نے آپ کو کوئی تعلیم دی ہے بلکہ آپ کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–6

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے الزامات کی تردید کرنے کے بعد بتلایا ہے کہ وحی کے بغیر نبی ﷺ نہیں بولتے۔ لہٰذا نبی ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر بھی قسم اٹھائی ہے کہ نبی ﷺ کا اپنی خواہش کے پیچھے چلنا تو درکنار آپ اپنی مرضی سے دین کے معاملہ میں لب کشائی نہیں کرتے۔ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے اور کرتے ہیں وہ آپ پر وحی کی جاتی ہے۔ جو فرشتہ آپ کو وحی پہنچاتا ہے وہ جبرائیل امین ہے جو بڑا طاقت والا ہے۔ اس نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ آپ تک پہنچایا ہے وہ اللہ کے حکم سے پہنچایا : (اور آپ ﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے۔ البقرۃ : 97) اہل علم نے ” ذُوْمِرَّۃٍ “ کے تین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جبرئیل کا اصلی صورت میں ظاہر ہونا : آیت 6: ذُوْ مِرَّةٍ (جو پیدائشی طاقتور ہے) خوبصورت ہے، یہ ابن عباس کا قول ہے۔ فَاسْتَوٰى(نمودار ہوا) وہ اپنی حقیقی صورت میں نمودار ہوا، صورت مثالیہ میں نہیں جبکہ وہ وحی لے کر آتے تھے تو حضرت دحیہ کلبی کی صورت میں آتے، اور اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ رسول اللہ نے پسند فرمایا کہ جبرئیل کو اس کی اصلی صورت میں دیکھیں۔ پس جبرئیل (علیہ السلام) آسمان کے بلند کنارے میں نمودار ہوئے اور وہ مشرقی کنارہ تھا پس افق کو بھر دیا۔ ایک قول یہ ہے : کسی بھی پیغمبر نے ان کو اصلی صورت میں نہیں دیکھا سوائے محمد ﷺ کے، آپ نے بھی دو مرتبہ ان کو اصلی صورت میں دیکھا، ایک مرتبہ زمین پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى) یعنی وہ قوت خلق حسن ظاہری اور باطنی جمال کا حامل ہے پھر وہ اپنی اصلی صورت میں سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) ۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–12

گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 8] وہ نہایت مضبوط و محکم عقل و کردار والا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا جو بڑا زورآور ہے۔ " مرّہ " کا اطلاق دراصل عقل و فکر کی قوت کے اعتبار سے ہوتا ہے، جب کہ پہلی صفت یعنی " شدید القویٰ " کا تعلق جسمانی اور عمل قوت سے ہے، [ روح، مدارک، بحر، بیضاوی، مراغی، اور صفوۃ وغیرہ ] چناچہ حضرت جبرائیل، کی جسمانی قوت کا عالم یہ تھا اور ہے کہ قوم لوط کی بستیوں کو ایک پر کے اوپر اٹھا کر آسمان تک تک لے گئے اور پھر وہاں سے ان کو اوندھا کرکے زمین پردے مارا، اور قوم ثمود کو ایک ہی آواز سے ڈھیر کردیا، اور آپ ملاء اعلیٰ یعنی عالم بالا سے زمین تک کا سفر پل بھر میں طے کرلیتے ہیں [ قرطبی، جواہر، خازن، ابن کثیر، روح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 6–7

ف 4 یعنی آنحضرت تک وحی پہنچا کہ جبرئیل آسمان کیطرف چلے گئے۔ ترجمہ کے مطابق یہ تفسیر سعید بن المسیب اور ابن جبیر سے منقول ہے۔ شاہ صاحب نے فاستوی کا ترجمہ پس سیدھا بیٹھا کیا ہے اور فوائد میں لکھا ہے کہ یہ ابتدائی نبوت کا واقعہ ہے کہ حضرت جبرئیل آنحضرت کو اپنی اصل شکل میں نظر آئے کہ آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا دکھائی دیا۔ یہ دیکھ کر آنحضرت گھبرا گئے تو سورة مدثر نازل ہوئی۔ (موضع) حضرت عبداللہ بن سعود فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے دو مرتبہ حضرت جبرئیل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا ہے۔ یعنی ایک مرتبہ ابتدائے نبوت میں جس کی طرف ان آشات میں اشارہ ہے اور دوسری مرتبہ معراج کے موقع…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:6) ذو مرۃ۔ مضاف مضاف الیہ، صاحب مرۃ۔ مرۃ خوش منظری خوبصورتی و بزرگی، اس سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور جس طرح رسول بشری (جناب رسول اللہ ﷺ ) اعلیٰ انسانی قوتوں کے حامل، انتہائی حسین و جمیل اور بہترین علوم و کمالات کے ساتھ متصف تھے، اسی طرح اس آیت میں رسول ملکی (حضرت جبرائیل) کو بھی ایسی صفات کا حامل فرمایا گیا ہے کہ وہ خوش منظر، خوبصورت و بزرگ اور شدید القویٰ فرشتہ ہے جس نے بحکم الٰہی رسول اللہ ﷺ کو تعلیم دی۔ (کما حقق ابن القیم (رح) تعالیٰ ۔۔ (قاموس القرآن) امررت الحبل کے معنی رسی بٹنے کے ہیں اور بٹی ہوئی رسی کو مریر یا ممر کہا جاتا ہے اسی سے فلان ذو مرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) عام مفسرین نے فاستوی کا فاعل بھی حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اور یہ معنی لیے ہیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اپنی صورت پر قائم ہوئے اور اس کا سبب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں انکی اصلی صورت میں ملاحظہ فرمانے کی خواہش ظاہر فرمائی تھی تو حضرت جبرائیل جانب مشرق میں حضور کے سامنے نمودار ہوئے اور انکے وجود سے مشرق سے مغرب تک بھرگیا یہ بھی کہا گیا کہ نبی ﷺ کے سوا کسی انسان نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں نہیں دیکھا، امام فخرالدین فرماتے ہیں کہ حضرت جبرائیل کو دیکھنا تو صحیح ہے اور حدیث سے ثابت ہے ۔ لیکن یہ حدیث میں نہیں ہے کہ اس آیت میں حضرت جبرائیل کو دیکھنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–16

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) جو خوش منظر صاحب حسن اور زور آور ہے پھر وہ فرشتہ اپنی اصل شکل میں سیدھا کھڑا ہوا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یہ اس نے کیا جو بڑا زور آور اور قائم رہنے والا ہے 6 ؎ (ذومرہ) ذو کے معنی والا یعنی صاحب کے ہیں اور یہ اسم ہے اس کے ذریعہ اسماء اجناس و انواع کو موسوم کیا جاتا ہے یہ اسمائے ستہ مکبرہ میں سے ہے یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیریائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو پیش کی حالت میں لایا جاتا ہے۔ علامہ سہیل کہتے ہیں کہ ” دو “ کے وصف میں صاحب کے وصف کی بہ نسبت زیادہ بلاغت ہے اور اس کے ذریعہ اضافت میں زیادہ شرف ہے کیونکہ ذو تابع کی طرف مضاف ہوتا ہے اور صاحب متبوع کی طرف جیسے بولتے وقت ہم بولیں گے کہ ابوہریرہ صاحب انہیں اور اس کو یوں نہیں بولیں گے۔ النبی صاحب ابی ہریرۃ لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

ذُو مِرَّ‌ةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ (one of vigour. So he stood poised, while he was on the upper horizon...53:6-7] The word mirrah means 'strength' or 'vigour'. This is another quality of Jibra'il (علیہ السلام) in that he is no weakling, but strong, mighty in power and firm, so that it may not be suspected that the devil may intercept the angel carrying the Divine revelation and snatch it away from him. Jibra'il (علیہ السلام) is so mighty in power and strength that the devil dare not come anywhere near him. The word اِسْتَوَىٰ istawa means to be or become straight or to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 Ibn `Abbas and Qatadah take dhu mirra-tin of the Text in the meaning of beautiful and grand. Mujahid, Hasan Basri, Ibn Zaid and Sufyan Thauri say that it mean: strong and powerful. Said bin Musayyab has expressed the opinion that it means wise. In a Hadith the Holy Prophet has used this word in the sense of healthy and sound. In Arabic usage this word is used in the meaning of sound in judgement, wise and learned also. Allah has chosen this word for Gabriel (peace be upon him) here because he possesses both intellectual and physical powers to the highest degree. We have adopted only one of…

Read the full tafseer →