وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی ۟ؕوَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى
اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
While he was in the higher [part of the] horizon.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی ۟ؕوَهُوَ بِالۡاُفُقِ الۡاَعۡلٰى
اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
While he was in the higher [part of the] horizon.
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا
اور وہ (آسمان کے) اونچے کنارے میں تھے
اور وه بلند آسمان کے کناروں پر تھا
جبکہ وہ بلند افق پر تھا۔
اور وہ آسمان بریں کے سب سے بلند کنارہ پر تھا
اور وہ (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شبِ معراج عالمِ مکاں کے) سب سے اونچے کنارے پر تھے (یعنی عالَمِ خلق کی انتہاء پر تھے)،
اس حال میں کہ وہ آسمان کے مشرقی کنارے پر تھا۔
جبکہ وہ بالائی افق پر تھا
اور وہ افق اعلیٰ میں تھا ،
جب کہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا
اس حال میں کہ وہ آسمان کے بلند کنارہ پر تھا۔
اور وہ افق اعلیٰ پر تھا۔
اور وہ آسمان کے اونچے کنارے میں تھے۔
being on the higher horizon.
while he was on the upper horizon.
while he was on the upper horizon.
While he was in the highest part of the horizon,
When he was on the uppermost horizon.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
While he was in the higher [part of the] horizon.
the strong one who appeared on the uppermost horizon.
And he is in the highest part of the horizon.
While he was on the uppermost horizon.
While he was in the highest part of the horizon:
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة النَّجْم 7 اُفق سے مراد ہے آسمان کا مشرقی کنارا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے۔ اسی کو سورة تکویر کی آیت 23 میں افق مبین کہا گیا ہے۔ دونوں آیتیں صراحت کرتی ہیں کہ پہلی مرتبہ جبریل ؑ جب نبی ﷺ کو نظر آئے اس وقت وہ آسمان کے مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے تھے۔ اور متعدد و معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی اصلی صورت میں تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ آ گے چل کر ہم وہ تمام روایات نقل کریں گے جن میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى، مرہ کے معنی قوت کے ہیں، یہ بھی جبرئیل امین کی دوسری صفت قوت و طاقت کی زیادتی بیان کرنے کے لئے ہے، تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ وحی لانے والے فرشتے کے کام میں کوئی شیطان دخیل ہوسکتا ہے، کیونکہ جبرئیل امین اتنے قوی ہیں کہ شیطان ان کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتا اور فاستویٰ کے معنی " برابر ہو گئے " مراد یہ ہے کہ اول جب جبرئیل امین کو دیکھا تو وہ آسمان سے اتر رہے تھے، اترنے کے بعد افق بلند پر مستوی ہو کر بیٹھ گئے، افق کے ساتھ اعلیٰ کی قید میں یہ حکمت ہے کہ افق کا وہ حصہ جو زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے وہ عموماً نظروں سے مخفی رہتا ہے اس لئے افق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(زومرہ فاستوی وھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوا دنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (6، 10) (جبریل ؑ کا طریقہ تعلیم) ذو مرۃ، کا تعلق شدید القوی سے ہے اس وجہ سے اس کی ضاحت ہم نے شدید القوی کے ساتھ ہی کردی ہے۔ اب فاسنوی سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر علمہ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ فاستری میںتفصیل کے لیے ہے۔ یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں مستوی القامت ہو کر، نمو دار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4: کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جو فرشتہ وحی لاتا ہے وہ انسان ہی کی شکل میں آتا ہے، اس لئے آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ وہ فرشتہ ہی ہے، ان آیتوں میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس فرشتے کو کم از کم دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں بھی دیکھا ہے، ان میں سے ایک واقعے کا اس آیت میں تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل ؑ سے یہ فرمائش کی تھی کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آپ کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ اپنی اصلی صورت میں افق پر ظاہر ہوئے، اور آپ نے انہیں دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61) ” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “ یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7 " اونچے کنارے " سے اکثروں نے افق شرقی مراد لیا ہے۔ جدھر سے صبح صادق نمودار ہوتی ہے نبی کریم ﷺ کو ابتدائے نبوت میں ایک مرتبہ حضرت جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ اس وقت آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ یہ غیر معمولی اور مہیب منظر پہلی مرتبہ آپ ﷺ نے دیکھا تھا۔ دیکھ کر گھبرائے تو سورة " مدثر " اتری۔
Read the full tafseer →آیت 7{ وَہُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ } ”اور وہ افق اعلیٰ پر تھا۔“ یعنی حضور ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو افق پر اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
3 رسول اللہ ﷺ کے اقوال کی شرعی حیثیت اور منکرین حدیث :۔ ان آیات کے اولین مخاطب تو کفار مکہ ہیں۔ مگر یہ آیتیں چونکہ آپ کے اقوال کو وحی اور واجب الاتباع قرار دیتی ہیں لہذا منکرین حدیث ان کو مقید بھی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب نے یوں کہا کہ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے گھر جاکر اپنی کسی زوجہ سے یہ کہتے کہ میرا جوتا لاؤ تو کیا یہ بھی وحی ہوتی تھی ؟ اور اکثر منکرین اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی طرف جو کچھ وحی کی جاتی رہی وہ سب قرآن میں آگئی ہے۔ اسی پر کفار کو اعتراض اور اسی پر آپ ﷺ سے ان کا تکرار اور جھگڑا رہتا تھا۔ اور آپ کی قرآن کے علاوہ دوسری باتیں جو بحیثیت انسان کے ہیں…
Read the full tafseer →6۔ (جانب مشرق میں) اے مطلع الشمس (مدارک) وھو اقصی الدنیا عند مطلع الشمس (معالم) اس نظارہ کی تفصیلات حدیث میں آئی ہیں۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جدھر سے صبح صادق طلوع ہوتی ہے ادھر رسول اللہ ﷺ کو ابتداء نبوت میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) ایک بار اپنی اصلی صورت میں کرسی پر بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ آسمان اس وقت ایک سرے سے دوسرے سرے تک ان کے وجود سے پر معلوم ہورہا تھا۔ یہ مہیب وحیرت انگیز منظر آپ نے پہلی بار دیکھا تو طبیعت میں قدرۃ کچھ گھبراہٹ کے آثار پیدا ہوئے اس پر سورة المدثر نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ذومرۃ فاستوی یہ اور آئندہ کلمات اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت جبرئیل کی صفات ہیں اور بعض دیگر مفسرین کے نزدیک مذکورہ صفات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہیں اور ان تمام آیات کا تعلق واقعہ معراج سے قرار دے کر حق تعالیٰ سے تعلیم بلاواسطہ اور رویت و قرب حق تعالیٰ پر محمول کرتے ہیں، یہ تفسیر صحابہ کرام میں سے حضرت انس ؓ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور پہلی تفسیر جن صحابہ سے منقول ہے ان میں بہت سے حضرات صحابہ وتابعین شامل ہیں ان حضرات کے قول کے راجح ہونے کی کئی وجوہات میں تاریخ سے بھی اسی قول کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ سورة نجم بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور ظاہر یہی ہے کہ واقعہ معراج اس سے مئوخر ہے،…
Read the full tafseer →وھو بالافق الاعلی . اس وقت وہ (آسمان کے) بلند ترین کنارے پر تھا۔ وَھُوَ : یعنی رسول اللہ ﷺ ۔ مطلب یہ کہ وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ استعداد کی نہایت بلندی پر تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کا مرتبہ بہت اونچا تھا۔ اُفق : کا معنی ہی کنارہ یعنی دائرۂ مکان کی آخری حد پر تھے کہ اس سے آگے دائرۂ وجوب تھا جسکے اندر کوئی سالک قدم نہیں رکھ سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(6۔ 9) پھر جبریل امین اپنی اصلی حالت پر نمودار ہوئے یا یہ کہ بہترین شکل و صورت میں نمودار ہوئے اس حالت میں کہ وہ افق شرقی پر تھے یا یہ کہ ساتویں آسمان کے کنارہ پر تھے پھر جبریل امین رسول اکرم کے قریب آئے یا یہ کہ حضور اکرم پروردگار کے قریب ہوئے۔ اور پھر اور نزدیک ہوئے کہ قرب کی وجہ سے دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ آدھے کمان سے کم فاصلہ رہ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(1) ذومرۃ : طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ ”مرۃ“ کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کیلئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔”شدید القوی“ کے بعد ”ذومرۃ“ کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ”شدید القوی“ سے عملی قوتیں اور ”ذومرۃ“ سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر ساتعملا ہوتے ہیں، اس لئے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔ (2) ”فاستوی“ برابر ہوا، بلند ہوا۔”افق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے…
Read the full tafseer →وھو بالافق الاعلیٰ ۔ یہ جملہ حال ہے معنی ہے فاستوی عالیا یعنی حضرت جبرئیل امین اپنی صورت پر بلند ہوتے ہوئے کھڑے ہوئے نبی کریم ﷺ نے اس سے قبل انہیں نہیں دیکھا تھا نبی کریم ﷺ نے اس کا مطالبہ کیا تھا جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ افق سے مراد آسمان کی جانب ہے اس کی جمع آفا ہے۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے سورج آتا ہے (2) سفیان نے یہی کہا ہے۔ اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔ مجاہد سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ ہا جاتا ہے افق وافق مثل عسہ و عسہ۔ حم سجدہ میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔رس افق عمدہ گھوڑا۔ مونث بھی اسی طرح ہے : شاعر نے کہا : ارجل لمتی و اجر ذیلی و تحمل شکتی افق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6:۔ احمد وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کو (اصلی) صورت میں نہیں دیکھا مگر دو مرتبہ پہلی مرتبہ جب آپ نے ان سے سوال کیا کہ وہ ان کو اپنی اصلی صورت دکھائے تو انہوں نے اپنی اصلی صورت دکھائی جس نے آسمان کے کناروں کو بند کردیا اور دوسری مرتبہ جبکہ وہ آپ کے ساتھ آسمان کے اوپر چڑھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وھو بالافق الاعلی (7) لقدرای من ایت ربہ الکبری '' (اس وقت وہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) پیدا…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اس حال میں کہ وہ ] بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى [ بلند ترین کنارے پر تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
پہلی بار رویت : اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5:۔ ” فاستوی “ یہ غار حراء کے پاس پیش آنے والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ” الافق الاعلی “ آسمان کا وہ حصہ جو دور سے زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے۔ ” قاب “ وہ فاصلہ جو کمان کے وسط سے وتر تک ہوتا ہے اس طرح ہر کمان میں صرف ایک قاب ہوا۔ اس لیے ترکیب میں قلب ماننے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قابی قوس تھا۔ عن مجاھد و الحسن ان قاب القوس ما بین وترھا و مقبحہا، ولا حاجۃ الی القلب (روح ج 27 ص 48) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ اصل میں ” قاب قوس “ تھا پھر اس کو تثنیہ کیا گیا اور جب مرکب کا تثنیہ بنایا جائے تو علامت تثنیہ کبھی صرف ایک حرف کے ساتھ اور کبھی دونوں جزؤوں کے ساتھ لگائی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →وَہُوَبِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى 7 ۭ أفق قال تعالی: سَنُرِيهِمْ آياتِنا فِي الْآفاقِ [ فصلت/ 53] أي : في النواحي، والواحد : أُفُق وأفق ويقال في النسبة إليه : أُفُقِيّ ، وقد أَفَقَ فلان : إذا ذهب في الآفاق، وقیل : الآفِقُ للذي يبلغ النهاية في الکرم تشبيها بالأفق الذاهب في الآفاق . ( اق ) الافق ۔ کنارہ جمع آفاق ۔ قرآن میں ہے :{ سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ } [ فصلت : 53] ہم عنقریب ان کو اطراف ( عالم میں بھی ۔۔ نشانیاں دکھائینگے آفاق کے معنی اطراف کے ہیں اس کا واحد افق وافق ہے اور نسبت کے وقت افقی کہا جاتا ہے اور افق فلان کے معنی آفاق ( اطراف عالم ) میں جانے کے ہیں اور افق کے اطراف میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
عَلَّمَہٗ شَدِیْدُالْقُوٰی۔ ذُوْمِرَّۃٍ ط فَاسْتَوٰی۔ وَھُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰی۔ (النجم : 5 تا 7) (اور اس کو تعلیم دی ہے زبردست قوتوں والے نے۔ جو بڑا صاحب حکمت ہے، وہ نمودار ہوا۔ اور وہ بالائی افق پر تھا۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات قریش کا یہ بھی الزام تھا کہ محمد ﷺ پر کوئی جن اترتا ہے جو اسے مختلف باتوں کی تعلیم دیتا ہے۔ اور کبھی وہ یہ کہتے کہ کوئی غلام ہے جو نہایت پڑھا لکھا ہے اور وہ آپ کو قرآن کریم کی عبارت بنانے میں مدد دیتا ہے۔ چناچہ ایسی تمام لایعنی باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ کو نہ کسی جن نے سکھایا ہے اور نہ کسی انسان نے آپ کو کوئی تعلیم دی ہے بلکہ آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔ جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ ﷺ کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ ﷺ کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی ﷺ نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت…
Read the full tafseer →آیت 7: وھو (اور وہ) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى (اس وقت آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا) مشرقی کنارہ۔
Read the full tafseer →6 ۔” ذومرۃ “ قوت اور شدت والا ہے اپنی خلقت میں یعنی جبرائیل علیہ السلام۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” ذومرۃ “ یعنی اچھے منظر والا ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں لمبی اچھی خلقت والا ہے۔ ” فاستوی “ یعنی جبرئیل علیہ السلام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(وَهُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰى) جبکہ وہ اونچے کنارے پر تھے یعنی آسمان کے افق پر جو زمین سے بلند تر ہوتا ہے اس کا شمار ان ارواح علویہ میں ہوتا ہے جنہیں شیاطین حاصل کرسکتے ہیں نہ ان تک پہنچنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔
Read the full tafseer →[ 10] حضرت جبرائیل امین ( علیہ السلام) افق اعلیٰ پر : سو جبرائیل امین کے نمودار ہونے کی جگہ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ افق اعلیٰ میں تھی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جبکہ وہ افق اعلیٰ یعنی آسمان کے بلند کنارے پر تھا : مشرقی جانب میں، جب کہ آپ غار حرا میں تھے، چناچہ جبرائیل امی نے جب اپنے دونوں پر کھولے تو مشرق و مغرب کے درمیان کو بھر دیا، اور حضور ﷺ بےہوش ہو کر گرپڑے، تو جبرائیل امین نے انسان کی شکل میں اتر کر آنحضرت ﷺ کو اپنے سینے سے لگایا، اور آپ کے چہرہ انور سے غبار جھاڑنے لگے [ روح، قرطبی، ابن کثیر، مراغی، اور محاسن وغیرہ ] بہرکیف حضرت جبرائیل اپنی اصلی ہیت میں افق اعلیٰ پر نمودار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 4 یعنی آنحضرت تک وحی پہنچا کہ جبرئیل آسمان کیطرف چلے گئے۔ ترجمہ کے مطابق یہ تفسیر سعید بن المسیب اور ابن جبیر سے منقول ہے۔ شاہ صاحب نے فاستوی کا ترجمہ پس سیدھا بیٹھا کیا ہے اور فوائد میں لکھا ہے کہ یہ ابتدائی نبوت کا واقعہ ہے کہ حضرت جبرئیل آنحضرت کو اپنی اصل شکل میں نظر آئے کہ آسمان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک ان کے وجود سے بھرا ہوا دکھائی دیا۔ یہ دیکھ کر آنحضرت گھبرا گئے تو سورة مدثر نازل ہوئی۔ (موضع) حضرت عبداللہ بن سعود فرماتے ہیں کہ آنحضرت نے دو مرتبہ حضرت جبرئیل کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا ہے۔ یعنی ایک مرتبہ ابتدائے نبوت میں جس کی طرف ان آشات میں اشارہ ہے اور دوسری مرتبہ معراج کے موقع…
Read the full tafseer →(53:7) وھو بالافق الاعلی واؤ حالیہ ہے ھو کا مرجع جبرائیل ہے۔ افق الاعلی موصوف وصفت افق اس کنارے کو کہتے ہیں جہاں زمین اور آسمان آپس میں ملے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ اعلی بمعنی بلند، مطلب یہ کہ :۔ پھر وہ سیدھا بیٹھا اور وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔ (یہاں اونچا کنارہ وہ ہوگا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →(ف 2) یہاں بھی عام مفسرین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ حال جبرائیل امین کا ہے لیکن امام رازی فرماتے ہیں کہ ظاہر یہ ہے کہ یہ حال نبی ﷺ کا ہے کہ آپ افق اعلی یعنی فوق سموات تھے جس طرح کہنے والا کہتا ہے کہ میں نے چھت پر چاند دیکھا یا پہاڑ پرچاند دیکھا اس کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ چاند چھت پر یا پہاڑ پر تھا بلکہ یہی معنی ہوتے ہیں کہ دیکھنے والا چھت یا پہاڑ پر تھا، اسی طرح یہاں یہ معنی ہیں کہ نبی ﷺ فوق سموات پر پہنچے تو تجلی ربانی اپ کی طرف متوجہ ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[5] آسمان کے بلند کنارے سے مراد اس کا مشرقی کنارہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے۔ مقصود اس وضاحت سے یہ ہے کہ جبرائیل اپنی اصل ہیئت میں پیغمبر ﷺ کے سامنے مشرقی افق سے نمودار ہوئے اور آپ ﷺ نے کھلی آنکھوں سے صبح کی روشنی میں ان کا اچھی طرح مشاہدہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(7) دراں حالانکہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا۔ ھرۃ کے معنی بھی مضبوط کے ہیں۔ مریرہ اس رسی کو کہتے ہیں جو بہت ہی مضبوط بٹی ہوئی ہو۔ استحکام عقل اور مضبوطی رائے اور دین کی متانت کے لئے بھی بولا جاتا ہے صاحب حسن اور وجیہ کو بھی کہتے ہیں فلاں ذومرہ کانہ محکم الفتل۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (رح) نے صاحب حسن ترجمہ کیا ہے اس لئے ہم نے خوش منظر کردیا ہے بہرحال شدید القوی کے بعد پھر ذومرۃ فرمایا تو یا تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی روحانی اور جسمانی طاقت کو ظاہر کرنا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ بڑی قوت والا پیدائشی طاقت ور اور زور آور ہے بہرحال حضرت جبرئیل کی کمال طاقت اور کمال زور کا اظہار ہے حضرت جبرئیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →اور وہ افق اعلیٰ یعنی آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا 7 ؎ جب یہ بات طے ہے کہ یہ سفر جو بین النوم والیقظان کیا گیا جسم مثالی اور روح کے کے جوڑ سے طے ہوا ہے اور یہ الفاظ ہم محض تفہیم کے لئے بولنے پر مجبور ہیں کہ ہمارے احاطہ عقل میں نہ آنے والی حقیقت کا بیان کرنا مقصود ہے اس میں ایک بلانے والا ہے اور ایک بلایا گیا ہے اور ایک بلا کر لانے والا ہے اس لئے جہاں بلانے والے کا ذکر ہوگا وہاں ضمائر اس کی طرف پھریں گی اور جہاں بلائے گئے کی بات ہوگی وہاں ضمائر بلانے والے کی طرف پھریں گی اور اسی طرح جہاں بلا کر لانے والے کا ذکر آئے گا تو ضمائر خود بخود اس کی طرف پھرتی چلی جائیں گی اور ان اشارات و استعارات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ (one of vigour. So he stood poised, while he was on the upper horizon...53:6-7] The word mirrah means 'strength' or 'vigour'. This is another quality of Jibra'il (علیہ السلام) in that he is no weakling, but strong, mighty in power and firm, so that it may not be suspected that the devil may intercept the angel carrying the Divine revelation and snatch it away from him. Jibra'il (علیہ السلام) is so mighty in power and strength that the devil dare not come anywhere near him. The word اِسْتَوَىٰ istawa means to be or become straight or to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7 The horizon means the eastern edge of the sky where the sun rises and the day dawns. The same has been referred to as ufuq mubin (bright horizon) in Surah Takvir: 23. Both the verses make it explicit that when the Holy Prophet (upon whom be peace) saw Gabriel (peace be upon him) for the first time, he had appeared on the eastern horizon of the sky; and there are several authentic Traditions which show that at that time he was in his real shape in which Allah has created him. We shall quote all such Traditions below. -
Read the full tafseer →