ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۟ۙثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ
پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then he approached and descended
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۟ۙثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ
پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Then he approached and descended
— Saheeh International
Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah An-Najm
پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا
پھر قریب ہوئے اوراَور آگے بڑھے
پھر نزدیک ہوا اور اتر آیا
پھر وہ قریب آیا، اور جھک پڑا۔
پھر وہ جلوہ نزدیک ہوا پھر خوب اتر آیا
پھر وہ (ربّ العزّت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا٭، ٭ یہ معنی امام بخاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے الجامع الصحیح میں روایت کیا ہے، مزید حضرت عبد اﷲ بن عباس، امام حسن بصری، امام جعفر الصادق، محمد بن کعب القرظی التابعی، ضحّاک رضی اللہ عنہم اور دیگر کئی ائمہِ تفسیر کا قول بھی یہی ہے۔
پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔
پھر وہ نزدیک ہوا پھر اور آگے بڑھا
پھر قریب ہوگیا اور جھک پڑا ،
پھر وہ نزدیک ہوا پھر اور نزدیک ہوا
پھر وہ نزدیک ہوا اور زیادہ نزدیک ہوا۔
پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا۔
پھر قریب ہوئے اور مزید آگے بڑھے۔
Then he drew near and hung above suspended,
Then he drew near, and came down,
Then he drew near, and came down,
Then he approached and came closer,
Then he drew nigh and came down
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Then he approached and descended
He (Gabriel) then came nearer and nearer.
Then he drew near, then he bowed
Thereafter he drew nigh, then he let himself down.
Then he approached and came closer,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة النَّجْم 7 اُفق سے مراد ہے آسمان کا مشرقی کنارا جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے۔ اسی کو سورة تکویر کی آیت 23 میں افق مبین کہا گیا ہے۔ دونوں آیتیں صراحت کرتی ہیں کہ پہلی مرتبہ جبریل ؑ جب نبی ﷺ کو نظر آئے اس وقت وہ آسمان کے مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے تھے۔ اور متعدد و معتبر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ اپنی اصلی صورت میں تھے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ آ گے چل کر ہم وہ تمام روایات نقل کریں گے جن میں یہ بات بیان کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى، دنی کے معنی " قریب ہوگیا " اور تدلی کے لفظی معنی " لٹک گیا " مراد جھک کر قریب ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(زومرہ فاستوی وھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوا دنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (6، 10) (جبریل ؑ کا طریقہ تعلیم) ذو مرۃ، کا تعلق شدید القوی سے ہے اس وجہ سے اس کی ضاحت ہم نے شدید القوی کے ساتھ ہی کردی ہے۔ اب فاسنوی سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر علمہ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ فاستری میںتفصیل کے لیے ہے۔ یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں مستوی القامت ہو کر، نمو دار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
4: کافروں کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آنحضرت ﷺ کے پاس جو فرشتہ وحی لاتا ہے وہ انسان ہی کی شکل میں آتا ہے، اس لئے آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ وہ فرشتہ ہی ہے، ان آیتوں میں اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس فرشتے کو کم از کم دو مرتبہ اپنی اصل صورت میں بھی دیکھا ہے، ان میں سے ایک واقعے کا اس آیت میں تذکرہ فرمایا گیا ہے، اور وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل ؑ سے یہ فرمائش کی تھی کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آپ کے سامنے آئیں، چنانچہ وہ اپنی اصلی صورت میں افق پر ظاہر ہوئے، اور آپ نے انہیں دیکھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61) ” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “ یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8 یعنی جبرائیل اپنے اصلی مستقر سے تعلق رکھنے کے باوجود نیچے اترے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اس قدر نزدیک ہوگئے کہ دونوں کے درمیان دو ہاتھ یا دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی بھیجی۔ غالباً اس سے مراد سورة " مدثر " کی یہ آیات ہیں۔ (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۽) 74 ۔ المدثر :2-1) یا کچھ اور احکام ہوں گے۔ (تنبیہ) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ میں محققین کے نزدیک " او " شک کے لیے نہیں۔ بلکہ اس قسم کی ترکیب پوری تاکید اور مبالغہ کے ساتھ زیادہ کی نفی کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی تعیین کر کے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ " قوسین " کا…
Read the full tafseer →آیت 8{ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ } ”پھر وہ قریب آیا اور جھک پڑا۔“
Read the full tafseer →4 آپ کا سیدنا جبرئیل کو پہلی بار اصل شکل میں دیکھنا :۔ ان آیات میں سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) کا ذکر ہے جو بڑی قوتوں کے مالک ہیں۔ قوی قوۃ کی جمع ہے اور ذومرۃ کا لفظ بڑے وسیع مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا معنی زور آور، طاقتور، صاحب حکمت اور خوش شکل بھی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں سیدنا جبرئیل (علیہ السلام) کو دو بار اپنی اصل شکل میں دیکھا تھا۔ ان آیات میں اس واقعہ کا ذکر ہے جب آپ ﷺ نے پہلی بار دیکھا تھا۔ سیدنا جبرئیل مشرقی افق پر نمودار ہوئے۔ پھر آپ ﷺ کو ایسے معلوم ہوا کہ زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ انہیں سے پر ہوگیا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے : سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ…
Read the full tafseer →7۔ یعنی وہ فرشتہ وحی صورت و سیرت میں کامل پر قوت وپاکیزہ رورسول ﷺ سے بالکل متصل وملحق ہو کررہا۔ (آیت) ” دنا فتدلی “۔ دنو کے معنی خود ہی قریب ونزدی کی کے ہیں۔ تدلی قرب مزید کے معنی میں لاکر اس کی اور تاکید و توثیق کردی۔ دنا اور تدلی دونوں کی ضمیریں فرشتہ وحی، جبریل امین (علیہ السلام) شدید القوی کی جانب ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ذومرۃ فاستوی یہ اور آئندہ کلمات اکثر مفسرین کے نزدیک حضرت جبرئیل کی صفات ہیں اور بعض دیگر مفسرین کے نزدیک مذکورہ صفات اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہیں اور ان تمام آیات کا تعلق واقعہ معراج سے قرار دے کر حق تعالیٰ سے تعلیم بلاواسطہ اور رویت و قرب حق تعالیٰ پر محمول کرتے ہیں، یہ تفسیر صحابہ کرام میں سے حضرت انس ؓ اور ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور پہلی تفسیر جن صحابہ سے منقول ہے ان میں بہت سے حضرات صحابہ وتابعین شامل ہیں ان حضرات کے قول کے راجح ہونے کی کئی وجوہات میں تاریخ سے بھی اسی قول کی تائید ہوتی ہے، اس لئے کہ سورة نجم بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور ظاہر یہی ہے کہ واقعہ معراج اس سے مئوخر ہے،…
Read the full tafseer →ثم دنا فتدلی پھر وہ (فرشتہ رسول اللہ ﷺ کے) قریب آیا۔ پھر اور قریب آیا دونوں جگہ مضاف محذوف ہے یعنی مقدار قرب دو قوسوں کے قرب کے برابر بلکہ اس سے بھی قریب تھی۔ بغوی نے لکھا ہے قصہ معراج میں شریک بن عبداللہ بن انس کی روایت سے ہم سے بیان کیا گیا کہ رب العزت قریب ہوا۔ پھر نیچے آیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اتنا قریب ہوگیا جیسے دو کمانوں کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی قریب۔ شیخ محمد حیات سندھیؔ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے یہ حدیث غریب ہے اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے بھی بیان کیا جس کو ابو سلمہ نے نقل کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(6۔ 9) پھر جبریل امین اپنی اصلی حالت پر نمودار ہوئے یا یہ کہ بہترین شکل و صورت میں نمودار ہوئے اس حالت میں کہ وہ افق شرقی پر تھے یا یہ کہ ساتویں آسمان کے کنارہ پر تھے پھر جبریل امین رسول اکرم کے قریب آئے یا یہ کہ حضور اکرم پروردگار کے قریب ہوئے۔ اور پھر اور نزدیک ہوئے کہ قرب کی وجہ سے دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ آدھے کمان سے کم فاصلہ رہ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(1) ذومرۃ : طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ ”مرۃ“ کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کیلئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔”شدید القوی“ کے بعد ”ذومرۃ“ کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ”شدید القوی“ سے عملی قوتیں اور ”ذومرۃ“ سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر ساتعملا ہوتے ہیں، اس لئے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔ (2) ”فاستوی“ برابر ہوا، بلند ہوا۔”افق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے…
Read the full tafseer →ثم دنا فتدلی۔ یعنی افق علی میں ظاہر ہونے کے بعد حضرت جبرئیل امین زمین کے قریب ہوئے فتدلی یعنی وحی کے ساتھ نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئے مطلب یہ ہے جب نبی کریم ﷺ نے اس کی عظمت کو دیکھا جو دیکھا اور اس وجہ سے آپ خوفزدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کو آدمی کی صورت میں لوٹا دیا جب وہ وحی کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے قریب ہوئے یہی اللہ تعالیٰ کے فرمان فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ کا مقصود ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کی طرف وحی کی اور جبرئیل امین قاب قوسین او ادنیٰ ۔ کے مقام پر فائز تھے (1) یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، قتادہ اور بیع وغیرہ کا نقطہ نظر ہے۔ حرت ابن عباس سے یہ بھی منقول ہے کہ ثم دنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6:۔ احمد وابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ (رح) نے العظمہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کو (اصلی) صورت میں نہیں دیکھا مگر دو مرتبہ پہلی مرتبہ جب آپ نے ان سے سوال کیا کہ وہ ان کو اپنی اصلی صورت دکھائے تو انہوں نے اپنی اصلی صورت دکھائی جس نے آسمان کے کناروں کو بند کردیا اور دوسری مرتبہ جبکہ وہ آپ کے ساتھ آسمان کے اوپر چڑھے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) '' وھو بالافق الاعلی (7) لقدرای من ایت ربہ الکبری '' (اس وقت وہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر تھا انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) پیدا…
Read the full tafseer →ثُمَّ دَنَا [ پھر وہ نزدیک ہوئے ] فَتَدَلّٰى [ تو وہ جھکے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
پہلی بار رویت : اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5:۔ ” فاستوی “ یہ غار حراء کے پاس پیش آنے والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ” الافق الاعلی “ آسمان کا وہ حصہ جو دور سے زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے۔ ” قاب “ وہ فاصلہ جو کمان کے وسط سے وتر تک ہوتا ہے اس طرح ہر کمان میں صرف ایک قاب ہوا۔ اس لیے ترکیب میں قلب ماننے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قابی قوس تھا۔ عن مجاھد و الحسن ان قاب القوس ما بین وترھا و مقبحہا، ولا حاجۃ الی القلب (روح ج 27 ص 48) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ اصل میں ” قاب قوس “ تھا پھر اس کو تثنیہ کیا گیا اور جب مرکب کا تثنیہ بنایا جائے تو علامت تثنیہ کبھی صرف ایک حرف کے ساتھ اور کبھی دونوں جزؤوں کے ساتھ لگائی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى 8 ۙ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ (النجم : 8، 9) (پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ ) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت کا منظر جب حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے اور نبی کریم ﷺ نے انھیں دیکھا تو انھوں نے آپ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے آپ کے اوپر آکر فضا میں معلق ہوگئے۔ اور آپ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ قَابَ قَوْسَیْنِ کا ترجمہ تو ہے دو کمانوں کے بقدر۔ لیکن اہل عرب اسے غایت قرب کے لیے استعمال کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔ جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ ﷺ کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ ﷺ کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی ﷺ نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت…
Read the full tafseer →آیت 8: ثُمَّ دَنَا (پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب آیا) یعنی جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوا۔ فَتَدَلّٰى (پھر اور قریب ہوا) قرب و نزدیکی میں بڑھ گیا۔ التدلی، کسی چیز کے قریب اترنا۔
Read the full tafseer →7 ۔” وھو “ یعنی محمد ﷺ اور اکثر کلام عرب میں جب اس کی مثل میں عطف ڈالنا ہو تو وہ معطوف علیہ میں ضمیر کو ظاہر کرتے ہیں۔ پس وہ کہتے ہیں ” استویٰ ھو وفلان “ اور بہت کم وہ ایسے کہیں گے ” استویٰ وفلان “ اور اس کی نظیر اس کا قول ” ائذا کا ترابا وآبائونا “ ہے۔ آباء کا عطف کنا کی ضمیر پر ہے نحن کو ظاہر کرنے کے بغیر اور آیت کا معنی استویٰ جبرئیل ومحمد (علیہما السلام) لیلۃ المعراج ہے۔” بالافق الاعلی “ اور وہ دنیا کی انتہا سورج کے طلوع ہونے کی جگہ۔ اور کہا گیا ہے ” فاستویٰ “ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) اور جبرائیل (علیہ السلام) سے بھی کنایہ ہے یعنی وہ اپنی صورت میں کھڑے ہوئے جس پر ان کو اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى) پھر جبرائیل وحی پہنچانے کے لیے نبی اکرم کے قریب ہوئے اور اتر آئے۔ افق اعلی سے آپ کے قریب
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[ 11] حضرت جبرائیل امین کے آنحضرت سے غایت قرب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر رہ گیا یا اس سے بھی کم۔ سو یہ تعبیر یہ انتہائی قرب سے کنایۃ ہے جیسا کہ یہ عربوں کے یہاں رائج تھا کہ وہ اپنے محاورات میں گایت قرب کو ظاہر کرنے کیلئے قاب القوس کے اس استعارے کو استعمال کیا کرتے تھے، یعنی جبرائیل آنحضرت ﷺ سے نہایت قریب ہوگئے [ روح المعانی، خازن اور صفوۃ وغیرہ ] سو یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارے یہاں محاورے میں گز یا دو گزا فٹ یا دو فٹ وغیرہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں، اور اوکا کلمہ یہاں پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تشبیہ محض قرب کے بیان کیلئے ہے، یہ فاصلہ اس سے بھی کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →ف 5 یعنی پھر نیچے زمین پر اترے اور آپ سے قریب ہوئے۔
Read the full tafseer →(53:8) ثم : التراخی فی الوقت کے لئے ہے۔ یعنی پھر۔ دنا : ماضی واحد مذکر غائب دنو (باب نصر) مصدر۔ وہ نزدیک ہوا۔ وہ قریب ہوا اسی سے ہے دنیا۔ یعنی عالم دنیا ۔ جو افضل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ بہت نزدیک ہے۔ دنا کا فاعل جبرائیل ہے۔ فتدلی۔عاطفہ۔ تدلی : ماضی واحد مذکر غائب۔ تدلی تفعل، مصدر وہ اتر آیا۔ وہ نزدیک ہوا۔ تدلی کا معنی کسی بلند چیز کا نیچے کی طرف اس طرح لٹکنا کہ اس کا تعلق اپنی اصلی جگہ سے بھی قائم رہے۔ جب ڈول کو کنویں میں لٹکایا جاتا ہے اور اس کی رسی لٹکانے والے نے پکڑ رکھی ہو تو کہتے ہیں ادلی دلوا۔ علامہ قرطبی (رح) تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔ اصل التدلی : النزول الی الشی حتی یقورب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →(ف 3) اس کے معنی میں بھی مفسرین کے کئی قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کا نبی ﷺ سے قریب ہونامراد ہے کہ وہ اپنی صورت اصلی دکھادینے کے بعد نبی کے قرب میں حاضر ہوئے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ نبی حضرت حق کے قرب سے مشرف ہوئے۔ تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو اپنے قرب کی نعمت سے نوازا اور یہی صحیح تر ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان) ۔ (ف 4) اس میں بھی چند قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ نزدیک ہونے سے حضور کا عروج وصول مراد ہے اور اترآنے سے نزول ورجوع تو حاصل معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں باریاب ہوئے پھر وصال کی نعمتوں سے فیض یاب ہوکر خلق کی طرف متوجہ ہوئے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ رب العزت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[5] آسمان کے بلند کنارے سے مراد اس کا مشرقی کنارہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور دن کی روشنی پھیلتی ہے۔ مقصود اس وضاحت سے یہ ہے کہ جبرائیل اپنی اصل ہیئت میں پیغمبر ﷺ کے سامنے مشرقی افق سے نمودار ہوئے اور آپ ﷺ نے کھلی آنکھوں سے صبح کی روشنی میں ان کا اچھی طرح مشاہدہ کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(8) پھر وہ فرشتہ نزدیک ہوا اترآیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →پھر قریب ہوا اور مزید آگے بڑھا 8 ؎ قریب کون ہوا ؟ جس کو بلایا گیا تھا یعنی محمد رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کس کے قریب ہوئے ؟ بلانے والے کے یعنی رب ذوالجلال والاکرام کے۔ ” دنی “ وہ نزدیک ہوا۔ وہ قریب ہوا۔ ذنو سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ (فتدلی) کا اصل مادہ دل و ہے جس کے معنی اترنے اور شکنے کے ہیں۔ تدلی وہ اتر آیا ‘ وہ لٹک آیا اور اس کا مآحصل مزید قریب ہونا ہی ہو سکتا ہے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ اللہ تعالیٰ اور بندے کا قرب پہلے ہی کتنا ہے کہ اس سے زیادہ قرب کسی اور کو حاصل نہیں جو قرب بندہ اور اللہ رب ذوالجلال والا کرام کا ہے اس کا ذکر پیچھے سورة ق کی آیت 19 میں گزر چکا ہے اور سورة الواقعہ کی آیت…
Read the full tafseer →ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ (Then he drew near, and came down,... 53:8). The word dana means to draw near and tadalla means to hang or to come down. The verse means that Jibra'il علیہ السلام drew nearby coming down.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
7 The horizon means the eastern edge of the sky where the sun rises and the day dawns. The same has been referred to as ufuq mubin (bright horizon) in Surah Takvir: 23. Both the verses make it explicit that when the Holy Prophet (upon whom be peace) saw Gabriel (peace be upon him) for the first time, he had appeared on the eastern horizon of the sky; and there are several authentic Traditions which show that at that time he was in his real shape in which Allah has created him. We shall quote all such Traditions below. -
Read the full tafseer →