Explained with ayahs 5–18
تعارف جبرائیل امین ؑ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…
Read the full tafseer →سورة النَّجْم 8
یعنی آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہونے کے بعد جبریل ؑ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف آ گے بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ آپ کے اوپر آ کر فضا میں معلق ہوگئے۔ پھر وہ آپ کی طرف جھکے اور اس قدر قریب ہوگئے کہ آپ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ عام طور پر مفسرین نے قاب قَوْسَیْن کے معنی " بقدر دو قوس " ہی بیان کیے ہیں، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے قوس کو ذراع (ہاتھ) کے معنی میں لیا ہے اور کان قَابَ قَوْسَیْنِ کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
اور یہ جو فرمایا کہ فاصلہ…
Read the full tafseer →فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى، قاب، کمان کی لکڑی جہاں دستہ پکڑنے کا ہوتا ہے اور اس کے مقابل کمان کی ڈور (تانت) ہوتی ہے، ان دونوں کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہا جاتا ہے، جس کا اندازہ تقریبی ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے، قاب قوسین، یعنی دو کمانوں کی قاب فرمانے کی وجہ عرب کی ایک خاص عادت ہے کہ دو آدمی اگر آپس میں معاہدہ صلح اور دوستی کا کرنا چاہتے تو جیسی اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف مشہور ہے، اسی طرح دوسری علامت جس سے دوستی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا یہ تھی کہ دونوں شخص اپنی اپنی کمانوں کی لکڑی تو اپنی طرف کرلیتے اور کمان کی ڈور دوسرے کی طرف، اس طرح جب دونوں کمانوں کی ڈوریں آپس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(زومرہ فاستوی وھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوا دنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (6، 10)
(جبریل ؑ کا طریقہ تعلیم) ذو مرۃ، کا تعلق شدید القوی سے ہے اس وجہ سے اس کی ضاحت ہم نے شدید القوی کے ساتھ ہی کردی ہے۔ اب فاسنوی سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر علمہ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ فاستری میںتفصیل کے لیے ہے۔ یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں مستوی القامت ہو کر، نمو دار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–10
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
5: یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ جب دو آدمی آپس میں دوستی کا عہد کرتے تھے تو اپنی کمانیں ایک دوسرے سے ملا لیتے تھے۔ اس وجہ سے جب زیادہ قرب بیان کرنا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61)
” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “
یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8 یعنی جبرائیل اپنے اصلی مستقر سے تعلق رکھنے کے باوجود نیچے اترے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اس قدر نزدیک ہوگئے کہ دونوں کے درمیان دو ہاتھ یا دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی بھیجی۔ غالباً اس سے مراد سورة " مدثر " کی یہ آیات ہیں۔ (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۽) 74 ۔ المدثر :2-1) یا کچھ اور احکام ہوں گے۔ (تنبیہ) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ میں محققین کے نزدیک " او " شک کے لیے نہیں۔ بلکہ اس قسم کی ترکیب پوری تاکید اور مبالغہ کے ساتھ زیادہ کی نفی کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی تعیین کر کے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ " قوسین " کا…
Read the full tafseer →آیت 9{ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ } ”بس دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی قریب۔“
Read the full tafseer →5 قَابَ (الارض) بمعنی زمین کو گول کھودنا اور قاب بمعنی مقدار، اندازہ، کمان کے کونے سے قبضہ تک کا فاصلہ۔ محاورہ ہے ھو علٰی قاب قوسین بمعنی وہ نہایت قریب ہے (منجد) اور مجاہد کہتے ہیں قاب قوسین کی عبارت میں قلب ہوا ہے یعنی اصل لفظ قابی قَوْسٍ ہے یعنی کمان کے دو کنارے (بخاری۔ کتاب التفسیر) پہلے معنی کے لحاظ سے یہ فاصلہ کمان کی تانت کا نصف اور دوسرے معنی کے لحاظ سے کمان کی تانت کے برابر فاصلہ ہے اور آیت مذکورہ میں (أوْاَدْنٰی) سے معلوم ہوا کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ اور جبرئیل کا درمیانی فاصلہ کمان کے دونوں کناروں سے بہرحال کم تھا۔ زیادہ نہیں تھا۔
Read the full tafseer →8۔ محاورۂ عرب میں مراد اس سے کمال قرب ہوتی ہے۔ جب (2) عرب آپس میں کوئی نہایت مضبوط عہد وپیماب کرنا چاہتے تھے تو اپنی اپنی کمانوں کو نکال کر انہیں باہم ملاتے تھے۔ یہاں تک کہ دنوں کے چلے مل جاتے، پھر دونوں کو اکٹھا کھینچتے اور دونوں سے ایک ہی تیر چلاتے۔ یہ گویا علامت تھی ” من تو شدم تو من شدی “۔ ہوجانے کی۔ رفتہ رفتہ زبان میں یہ محاورہ کمال قرب وغایت اتحاد واتصال کے لئے استعمال ہونے لگا، مقصود یہاں فرشتہ وحی اور رسول صاحب وحی کے درمیان غایت قرب واتصال کو دکھانا ہے۔ والمقصود تمثیل ملکۃ الاتصال وتحقیق استماعہ لما اوحی الیہ بنفی بعد المجلس (بیضاوی) یکون ذلک اشارۃ الی ان رضا احدھم رضا الاخر وسخطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–14
فکان قاب قوسین او ادنیٰ ” قاب “ کمان کی لکڑی جس میں قبضہ (دستہ) لگا ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل لکڑی کے دونوں کناروں میں ڈور (تانت) بندھی ہوتی ہے، دستہ اور ڈور کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہتے ہیں، جس کا فاصلہ اندازاً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے، قاب قوسین یعنی دو کمانوں کا قاب جس کا فاصلہ تین فٹ ہے یہ تعبیر حضرت جبرئیل اور آپ ﷺ کے درمیان نہایت قرب کو بیان کرنے کے لئے اتخیار کی ہے، عرب کی عادت تھی کہ آپسی اتحاد و یگانگت کو ظار کرنا یا اگر دو آدمی پولیس میں صلح اور دوستی کا معاہدہ کرنا چاہتے تو جس طرح اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف و مشہور ہے اسی طرح ایک علامت یہ تھی کہ دونوں اپنی اپنی کمانوں کی…
Read the full tafseer →فکان قاب قوسین او ادنی . سو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔
اس جگہ ” او “ کا ترجمہ یا (شکیہ) نہیں ہے بلکہ او بمعنی بل ہے جیسے آیت : فَاَرْسَلْنَا اِلٰی مِأَۃٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ میں او کا معنی ہے (بلکہ) صوفیہ نے کہا کہ دو کمانوں سے مراد ہے قوس امکان اور قوس وجوب۔ صوفی مرتبہ قرب میں قاب قوسین کے مقام پر پہنچتا ہے تو اس کی نظر دونوں قوسوں (دائرۂ مکان اور دائرۂ وجوب) کی طرف ہوتی ہے لیکن مرتبہ ادنیٰ (اقرب) پر پہنچتا ہے تو اس کی نظر سے قوس امکان پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ اس کو اپنی ہستی کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔
قَابَ ‘ قَیْبَۃٌ قَاو اور قَیْدٌ سب کے معنی ہیں : مقدار ‘ اس جگہ انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(6۔ 9) پھر جبریل امین اپنی اصلی حالت پر نمودار ہوئے یا یہ کہ بہترین شکل و صورت میں نمودار ہوئے اس حالت میں کہ وہ افق شرقی پر تھے یا یہ کہ ساتویں آسمان کے کنارہ پر تھے پھر جبریل امین رسول اکرم کے قریب آئے یا یہ کہ حضور اکرم پروردگار کے قریب ہوئے۔
اور پھر اور نزدیک ہوئے کہ قرب کی وجہ سے دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ آدھے کمان سے کم فاصلہ رہ گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(1) ذومرۃ : طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ ”مرۃ“ کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کیلئے ہے ، اس لئے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔”شدید القوی“ کے بعد ”ذومرۃ“ کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے ”شدید القوی“ سے عملی قوتیں اور ”ذومرۃ“ سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر ساتعملا ہوتے ہیں، اس لئے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔
(2) ”فاستوی“ برابر ہوا، بلند ہوا۔”افق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے…
Read the full tafseer →فکان قاب قوسین او اولی۔ یعنی حضرت محمد ﷺ اپنے رب سے یا جبرئیل امین سے دو عربی کمانوں کے مقدار پر تھے، یہ حضرت ابن عباس، عطا اور فراء کا نقطہ نظر ہے۔ زمحشری نے کہا، اگر تو یہ سوال کرے فکان قاب قوسین کی تقدیر کیسے درست ہوگی (3) ؟ میں کہوں گا : اس کی تقدیر یہ ہوگی فکان مقدار مسافۃ قرب مثل قاب قوسین درمیان سے ان مضافوں کو حذف کردیا گیا ہے۔ جس طرح ابواعلیٰ نے اپنے قول میں کہا :
وقد جعلتنی من حذیمۃ اصبعا
اس نے مجھے حذیمہ سے ایکا نگلی برابر مسافت پر کر چھوڑا۔ یہ بھی اصل میں ذامقدار مسافۃ اصبع تھا۔
اوادنی یعنی تمہارے اندازے کے مطابق، جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اویزیدون صحاح میں ہے : تو کہتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
11:۔ البخاری (رح) ومسلم (رح) والترمذی (رح) (وصححہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی ابوالشیخ والضحاک (وصحح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) والبیہقی (رح) نے الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔
کوئی غلطی نہیں کی) یعنی رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ان پر سبز رفرف (باریک ریشم) کے دو جوڑے ہیں اور انہوں نے آسمان اور زمین کے درمیان ساری جگہ کو بھر دیا ہے۔
جبرائیل امین (علیہ السلام) محلہ اجیاد میں ملاقات :
13:۔ ابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے…
Read the full tafseer →فَكَانَ [تو وہ تھے ] قَابَ قَوْسَيْنِ [ دو کمانوں کے فاصلے پر ] اَوْ اَدْنٰى [ یا (اس سے ) زیادہ نزدیک ]
ق و ب : (ن) قوبا ۔ زمین کو گول دائرے میں کھودنا ۔ قاب ۔ کمان کے ایک کونے سے درمیان میں پکڑے ۔۔ کا فاصلہ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔
ق و س : (س) قوسا کمر کا جھک جانا ۔ قوس ۔ کمان ۔ ہر وہ چیز جو کمان کی شکل پر ہے جیسے محراب ۔ زیرمطالعہ آیت ۔ 9 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
پہلی بار رویت :
اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری :
(ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
5:۔ ” فاستوی “ یہ غار حراء کے پاس پیش آنے والے واقعہ کی طرف اشارہ ہے ” الافق الاعلی “ آسمان کا وہ حصہ جو دور سے زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے۔ ” قاب “ وہ فاصلہ جو کمان کے وسط سے وتر تک ہوتا ہے اس طرح ہر کمان میں صرف ایک قاب ہوا۔ اس لیے ترکیب میں قلب ماننے کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں قابی قوس تھا۔ عن مجاھد و الحسن ان قاب القوس ما بین وترھا و مقبحہا، ولا حاجۃ الی القلب (روح ج 27 ص 48) ۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں یہ اصل میں ” قاب قوس “ تھا پھر اس کو تثنیہ کیا گیا اور جب مرکب کا تثنیہ بنایا جائے تو علامت تثنیہ کبھی صرف ایک حرف کے ساتھ اور کبھی دونوں جزؤوں کے ساتھ لگائی جاتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–12
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔
مضامین سورة
اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…
Read the full tafseer →فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى 9 ۚ
قاب
القَابُ : ما بين المقبض والسّية من القوس . قال تعالی: فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] . ( ق و ب ) قاب کے معنی کمان کے درمیانی حصہ ( مقبض ) سے لے کر ایک گوشہ کمان تک کے فاصلہ کے ہیں استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا ۔ فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] تو دو کھانوں کے قاب کے فاصلہ پر یا اس سے بھی کم ۔
قوس
القَوْسُ : ما يرمی عنه . قال تعالی: فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] ، وتصوّر منها هيئتها، فقیل للانحناء : التَّقَوُّسُ ، وقَوَّسَ الشّيخ وتَقَوَّسَ : إذا انحنی، وقَوَّسْتُ الخطّ فهو مُقَوَّسٌ ، والْمِقْوَسُ :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی۔ (النجم : 8، 9)
(پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا۔ پس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ )
حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی رویت کا منظر
جب حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہوئے اور نبی کریم ﷺ نے انھیں دیکھا تو انھوں نے آپ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ وہ بڑھتے بڑھتے آپ کے اوپر آکر فضا میں معلق ہوگئے۔ اور آپ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ قَابَ قَوْسَیْنِ کا ترجمہ تو ہے دو کمانوں کے بقدر۔ لیکن اہل عرب اسے غایت قرب کے لیے استعمال کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
فہم القرآن
ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔
جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ ﷺ کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ ﷺ کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی ﷺ نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت…
Read the full tafseer →بہتر قریب تر :
آیت 9: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ (پس دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم) یعنی عربی کمانوں کی مقدار۔ یہاں اندازے کمانوں سے اور نیزے اور کوڑے، بازو اور دونوں کھلے بازوں سے بیان کیا جاتا ہے۔ جیسا حدیث میں فرمایا : لا صلاۃ الی ان ترتفع الشمس مقدار رمحین اور دوسری روایت میں ہے لقاب قوس احدکم من الجنۃ و موضع قدہ خیر من الدنیا وما فیھا۔ راہ البخاری، 2793۔ القد کوڑا، تقدیر کلام یہ ہے۔ فکان مقدار مسافۃ قربہ مثل قاب قوسین۔ پس قرب کا مقدار فاصلہ دو کمانوں کی مقدار تھا، پس ان مضافات کو حذف کردیا۔
اَوْ اَدْنٰى (یا اس سے بھی زیادہ قریب) یعنی تمہارے اندازے کے مطابق جیسا کہ…
Read the full tafseer →فکان قاب قوسین کی تفسیر
8 ۔” ثم دانا فتدلی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…
Read the full tafseer →(فَكَانَ ) ہوگیا جبرائیل کا آپ سے قرب (قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى) دو کمانوں کے فاصلے پر اور یا دو کمانوں کے فاصلے سے بھی قریب تر۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت جبرائیل پیغام لے کر کامل طور پر رسول اللہ سے بالمشافہ ملے۔ نیز اس پر بھی دلیل ہے کہ آپ کے اور اجبرائیل کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–12
گفتہ پیغمبری وحی ہے
قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
[ 11] حضرت جبرائیل امین کے آنحضرت سے غایت قرب کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر رہ گیا یا اس سے بھی کم۔ سو یہ تعبیر یہ انتہائی قرب سے کنایۃ ہے جیسا کہ یہ عربوں کے یہاں رائج تھا کہ وہ اپنے محاورات میں گایت قرب کو ظاہر کرنے کیلئے قاب القوس کے اس استعارے کو استعمال کیا کرتے تھے، یعنی جبرائیل آنحضرت ﷺ سے نہایت قریب ہوگئے [ روح المعانی، خازن اور صفوۃ وغیرہ ] سو یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارے یہاں محاورے میں گز یا دو گزا فٹ یا دو فٹ وغیرہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں، اور اوکا کلمہ یہاں پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تشبیہ محض قرب کے بیان کیلئے ہے، یہ فاصلہ اس سے بھی کم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے
تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–25
آیات 1 تا 25۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔
صاحبکم۔
اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ف 6 یہ معراج کا واقعہ ہے کہ آنحضرت نے جبرئیل کو دوسری مرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(53:9) فکان قاب قوسین : اس میں کان کا اسم محذوف ہے تقدیر کلامیوں ہے : فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین۔ کان فعل ناقص مقدار (اسم کان محذوف) قاب قوسین خبر کان۔
قاب (ق و ب مادہ) کے معنی کمان کے درمیان والے حصہ کو کہتے ہیں۔ مقبض (مٹھ) سے لے کر ایک گوشہ کمان تک کے فاصلہ کے ہیں۔ اور قوس کی طرف اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک قوس کی مقدار یا فاصلہ۔
القوس : قطعۃ من الدائرۃ۔ دائرہ کے کسی حصہ کو قوس کہتے ہیں۔ القوس عام طور پر اس آلہ کو کہتے ہیں جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔ الۃ علی ہیئۃ ہلال ترمی بھا السھام۔ ہلال کی شکل کا آلہ جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔
قاب قوسین دو قوس کی مقدار۔ یعنی ایک کمان۔ لغات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–18
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18
ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 18
ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…
Read the full tafseer →(ف 1) بعض مفسروں نے آیت کی تفسیریوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے ایسا نزدیک ہوا کہ فقط دوگزیا اس سے بھی کم کا فرق رہ گیا یہ تفسیر انس بن مالک کی اس حدیث کی بنا پر ہے جو صحیح بخاری ومسلم میں شریک بن عبداللہ کی روایت سے ہے۔ بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل آسمان کے مشرقی کنارہ سے اتر آئے اور زمین پر اتر کر نبی صلی اللہ لعیہ وسلم کے ایسے نزدیک ہوگئے کہ فقط دوگز یا اس سے بھی کم کا فرق رہ گیا۔
Read the full tafseer →[6] یعنی جبرائیل پیغمبر ﷺ سے اتنے قریب ہوگئے کہ بس دو کمانوں کے بقدر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ اس تشبیہ میں اہل عرب کے ذوق کا لحاظ ہے۔ وہ تیر وکمان والے لوگ تھے اس وجہ سے غایت قریب کی تعبیر کے لئے ایک کمان دو کمانوں کے بقدر تشبیہ استعمال کرتے تھے جس طرح ہم گز بھر یا دوگز کے الفاظ بولتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–16
جبریل کو دیکھا
3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔
حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…
Read the full tafseer →(9) یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–19
ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔
Read the full tafseer →وہ قرب دو کمانوں کے برابر ہوا یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا
9 ؎ (قاب) کے معنی ہیں اندازہ ‘ مقدار یا کمان کے قبضہ سے نوک تک کا فاصلہ یعنی آدھی کمان کی لمبائی۔ (تاج العروس ‘ راغب ‘ معجم) اہل عرب کسی مسافت کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف الفاظ بولتے تھے مثلاً کمان کے برابر ‘ ایک نیزے کے برابر ‘ ایک کوڑے کے برابر ‘ ہاتھ کے برابر ‘ بازو کے برابر ‘ باع کے برابر ‘ بالشت بھر وغیرہ وغیرہ اور (قالب ‘ قومین) میں لفظی قلب بھی تسلیم کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اصل میں یہ لفظ ” قابی قوس “ تھا یعنی کمان کے دو قاب کے برابر۔ ایک کمان کے دو قاب ہوتے ہیں یعنی وسطیٰ قبضہ سے دونوں طرف کے حصے برابر ہوتے ہیں اور دو قاب…
Read the full tafseer →فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ (so as he was at a distance between two bows (joined together), rather even nearer....53:9). The noun qab refers to the distance between the curved handle of a bow and the tight chord that releases arrows. This distance is estimated about the length of one hand. The expression qaba qawsain is based on an ancient Arab custom, according to which when two persons pledged themselves to firm friendship, each one of them would turn the wooden part of their bows towards themselves, but they would turn the chord part towards the other. In this way when the…
Read the full tafseer →8 That i:, "After appearing on the uppermost edge of the sky, Gabriel started advancing towards the Prophet till he reached and hung suspended about him in mid air. Then he bent down to him and came within just two bow-lengths or even closer. " The commentators generally have taken qaba qausain in the meaning of "two bow-lengths", but Hadrat `Abdullah bin `Abbas and Hadrat `Abdullah bin Mas`ud have taken qaus in the meaning of a dhira'(an amm-length, cubit), and have interpreted the words kama qaba qausain, saying that the distance between them was reduced to only two arm-lengths. And since…
Read the full tafseer →