An-Najm 53:10

An-Najm · from ayah 10

53:10

فَاَوْحٰۤی اِلٰی عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰی ۟ؕفَاَوۡحٰۤى الٰى عَبۡدِهٖ مَاۤ اَوۡحٰىؕ

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he revealed to His Servant what he revealed.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:10

تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر خدا نے اپنے بندے کی طرف جو بھیجا سو بھیجا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس (اُس خاص مقامِ قُرب و وصال پر) اُس (اﷲ) نے اپنے عبدِ (محبوب) کی طرف وحی فرمائی جو (بھی) وحی فرمائی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر اللہ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو کرنا تھی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تب اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو کچھ وحی آپ کو فرمانا تھی

— مولانا اسحاق مدنی

پھر (اللہ نے) اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ کہ نازل کیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر اس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر اللہ نے اپنے بندہ کی طرف جو بھیجا سو بھیجا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he revealed to Allah's servant whatever he had to reveal.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus He (Allah) revealed to His slave what He revealed.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus He (Allah) revealed to His slave what He revealed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And He revealed unto His slave that which He revealed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he revealed to His Servant what he revealed.

— Saheeh International

He revealed to God's servant whatever he wanted.

— Muhammad Sarwar

And He revealed to His servant what He revealed.

— Muhammad Habib Shakir

Thus He revealed Unto His bondman whatsoever He revealed.

— Abdul Majid Daryabadi

So did (Allah) convey the inspiration to His Servant- (conveyed) what He (meant) to convey.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–18

تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة النَّجْم 9 اصل الفاظ ہیں فَاَوْحٰٓی الیٰ عَبْدِہ مَا اَوْحیٰ۔ اس فقرے کے دو ترجمے ممکن ہیں۔ ایک یہ کہ " اس نے وحی کی اس کے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی "۔ اور دوسرا یہ کہ " اس نے وحی کی اپنے بندے پر جو کچھ بھی وحی کی "۔ پہلا ترجمہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جبریل نے وحی کی اللہ کے بندے پر جو کچھ بھی اس کو وحی کرنی تھی۔ اور دوسرا ترجمہ کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے وحی کی جبریل کے واسطہ سے اپنے بندے پر جو کچھ بھی اس کو وحی کرنی تھی۔ مفسرین نے یہ دونوں معنی بیان کیے ہیں۔ مگر سیاق وسباق کے ساتھ زیادہ مناسبت پہلا مفہوم ہی رکھتا ہے اور وہی حضرت حسن بصری اور ابن زید سے منقول ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى، اوحی کی ضمیر فاعل حق تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور عبدہ کی ضمیر بھی، معنی یہ ہیں کہ جبرئیل امین کو معلم کی حیثیت میں رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب بھیج کر حق تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی نازل فرمائی۔ ایک علمی اشکال اور اس کا جواب یہاں جو ظاہری شکل میں ایک علمی اشکال یہ محسوس ہوتا ہے کہ اوپر کی آیات میں ضمیریں جمہور مفسرین و محدثین نے جبرئیل امین کی طرف راجع کی ہیں، فَاسْتَوٰى سے لے کر فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى تک سب ضمیریں جبرئیل ہی کی طرف راجع ہیں اور اگلی آیات میں بھی بقول جمہور مفسرین جبرئیل ؑ ہی کا ذکر ہے، تو صرف اس آیت میں اوحی اور عبدہ کی ضمیر اللہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 6–10

(زومرہ فاستوی وھو بالافق الاعلی ثم دنا فتدلی فکان قاب قوسین اوا دنی فاوحی الی عبدہ ما اوحی) (6، 10) (جبریل ؑ کا طریقہ تعلیم) ذو مرۃ، کا تعلق شدید القوی سے ہے اس وجہ سے اس کی ضاحت ہم نے شدید القوی کے ساتھ ہی کردی ہے۔ اب فاسنوی سے آگے اس تعلیم کے طریقہ کی وضاحت ہو رہی ہے جس کا ذکر اوپر علمہ کے لفظ سے ہوا ہے۔ فرمایا کہ اس مقرب فرشتے نے نبی کو نہایت اہتمام، توجہ اور شفقت سے اس وحی کی تعلیم دی جو اللہ نے اس پر نازل کرنی چاہی۔ فاستری میںتفصیل کے لیے ہے۔ یعنی پہلے وہ اپنی اصل صورت میں مستوی القامت ہو کر، نمو دار ہوا۔ اس کے نمودار ہونے کی جگہ آسمان کی افق اعلیٰ میں تھی۔ افق اعلیٰ سے مراد وہ افق ہے جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 2–10

2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی ﷺ کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا ؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے ؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–10

5: یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ جب دو آدمی آپس میں دوستی کا عہد کرتے تھے تو اپنی کمانیں ایک دوسرے سے ملا لیتے تھے۔ اس وجہ سے جب زیادہ قرب بیان کرنا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–10

علمہ شدید ............ ما یغشیٰ (61) (35 : 4 تا 61) ” اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگیا یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اسے پہنچانی تھی۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ “ یہ شدید القوی اور ذومرہ (یعنی قوت والے) کون ہیں ؟ یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ انہوں نے حضور اکرم ﷺ کو وہ وحی سکھائی جسے وہ آپ کو پہنچا رہے ہیں۔ یہی راہ اور یہی سفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 8–10

8 یعنی جبرائیل اپنے اصلی مستقر سے تعلق رکھنے کے باوجود نیچے اترے۔ اور آنحضرت ﷺ سے اس قدر نزدیک ہوگئے کہ دونوں کے درمیان دو ہاتھ یا دو کمانوں سے زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندہ (محمد رسول اللہ ﷺ پر وحی بھیجی۔ غالباً اس سے مراد سورة " مدثر " کی یہ آیات ہیں۔ (يٰٓاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ۝ ۙ قُمْ فَاَنْذِرْ ۝۽) 74 ۔ المدثر :2-1) یا کچھ اور احکام ہوں گے۔ (تنبیہ) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنیٰ میں محققین کے نزدیک " او " شک کے لیے نہیں۔ بلکہ اس قسم کی ترکیب پوری تاکید اور مبالغہ کے ساتھ زیادہ کی نفی کے لیے ہوتی ہے۔ یعنی تعیین کر کے یہ بتلانا مقصود نہیں کہ " قوسین " کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 10{ فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰی۔ } ”پھر اس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی۔“ ”اَوْحٰی“ کا فاعل اللہ تعالیٰ بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا : ”پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔“ جس وحی کا یہ ذکر ہے وہ ”وحی رسالت“ تھی ‘ جبکہ پہلی وحی جو سورة العلق کی ابتدائی آیات پر مشتمل تھی ”وحی نبوت“ تھی۔ اس وحی سے حضور ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا : { اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔ اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ۔ } ان پانچ آیات میں نہ تو آپ ﷺ کو کوئی حکم دیا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 آپ ﷺ کے سیدنا جبرئیل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے : سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ( فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ۝ۚ ) 53 ۔ النجم :9) سے یہ مراد ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جبرئیل کو (ان کی اصلی شکل میں) دیکھا ان کے چھ سو بازو (پر) تھے۔ (بخاری، کتاب التفسیر) اور یہ وحی غالباً سورة مدثر کی وہی آیات ہیں جن کا اوپر ذکر ہوا۔ یہ وحی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر جبرئیل کے واسطہ سے کی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (اس فرشتہ کے ذریعہ سے، آپ ﷺ کے افاقہ کے بعد) یعنی اللہ جیسے حاکم ذوالجلال وبااقتدار نے وحی بھیجی بھی تو ایسے پر قوت اور متقدر فرشتہ کے ذریعہ سے اور اس فرشتہ نے بھی آپ سے اس درجہ متصل ہو کر پہنچائی۔ (آیت) ” مااوحی “۔ کلمہ تفخیم ہے۔ محاورۂ عرب میں اس کا استعمال موقع کمال عظمت پر ہوتا ہے، جہاں انتہائی تعظیم مقصود ہوتی ہے وہاں بجائے تفصیلات میں جانے کے صیغہ اسی اجمالی ابہام کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تفخیم للوحی الذی اوحی الیہ (کشاف و، مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–14

فکان قاب قوسین او ادنیٰ ” قاب “ کمان کی لکڑی جس میں قبضہ (دستہ) لگا ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل لکڑی کے دونوں کناروں میں ڈور (تانت) بندھی ہوتی ہے، دستہ اور ڈور کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہتے ہیں، جس کا فاصلہ اندازاً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے، قاب قوسین یعنی دو کمانوں کا قاب جس کا فاصلہ تین فٹ ہے یہ تعبیر حضرت جبرئیل اور آپ ﷺ کے درمیان نہایت قرب کو بیان کرنے کے لئے اتخیار کی ہے، عرب کی عادت تھی کہ آپسی اتحاد و یگانگت کو ظار کرنا یا اگر دو آدمی پولیس میں صلح اور دوستی کا معاہدہ کرنا چاہتے تو جس طرح اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف و مشہور ہے اسی طرح ایک علامت یہ تھی کہ دونوں اپنی اپنی کمانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاوحی الی عبدہ ما اوحی . پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمائی۔ اوحی اور عبدہٖ کی ضمیریں شَدِیْدُ القوٰی کی طرف راجع ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت انس ؓ سے یہی قول مروی ہے اور عربی قواعد کے لحاظ سے اس میں کوئی سقم بھی نہیں ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اور اکثر اہل تفسیر نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ شدید القوٰی سے مراد حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں اور فاستوٰی کی ضمیر بھی حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ ایک روایت میں ذُوْمِرَّۃٍ کا ترجمہ ” خوبصورت “ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے لیکن قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا : خوبصورت ‘ طویل القامت اور ھو کی ضمیر راجع ہے رسول اللہ ﷺ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

پھر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین رسول اکرم پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمانی تھی یا یہ مطلب ہے کہ جبریل امین پر جو کچھ وحی نازل ہوئی تھی وہ انہوں نے رسول اکرم پر نازل فرمائی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے محمد پر جو کچھ وحی نازل فرمانی تھی سو فرمائی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فاوحی الی عبدہ ما اوحی : ”فاوحی“ (پھر اس نے وحی کی) کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جاسکتی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے (جبریل ؑ کے واسطے سے) اپنے بندے کی طرف وحی کی اور ”فاوحی کی ضمیر جبریل علیہ السم ک طرف بھی جاسکتی ہے، مگر اس صورت میں ”عبدہ“ میں ضمیر غائب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہوگی، کیونکہ ”عبدہ“ سے مراد ”اللہ کے بندے“ کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا ، کیونکہ آپ ﷺ ہی نہیں آسمان و زمین کا جو شخص اللہ کا بندہ ہے، جبریل یا کسی اور کا کوئی بندہ نہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ”پھر جبریل نے اس اللہ کے بندے کی طرف وحی کی۔“ (2) ”ما اوحی“ (جو وحی کی) کو مبہم رکھ کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فاوحی الی عبدہ ما اوحی۔ جو وحی بندے کی طرف کی گئی اس کی عظمت شان کا اظہار ہے۔ وحی کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ اس سے مراد جلدی سے کوئی چیز پھینکنا اور عطا کرنا ہے، اسی سے الوحاء الوحاء ہے معین ہے جلدی کرو، جلدی کرو۔ معنی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے حضرت محمد ﷺ کی طرف وحی کی جو وحی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے جبرئیل امین کی طرف وحی کی جو وحی کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے جبرئیل امین نے اللہ تعالیٰ کے بندے حضرت محمد ﷺ کی طرف وحی کی جو اس کے رب نے اس کی طرف وحی کی تھی (1) یہ قول ربیع حسن بصری، ابن زید اور قتادہ نے کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جبرئیل امین کی طرف وحی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 9–10

11:۔ البخاری (رح) ومسلم (رح) والترمذی (رح) (وصححہ) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) والطبرانی ابوالشیخ والضحاک (وصحح) وابن مردویہ (رح) وابو نعیم (رح) والبیہقی (رح) نے الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فکان قاب قوسین '' سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے۔ کوئی غلطی نہیں کی) یعنی رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا ان پر سبز رفرف (باریک ریشم) کے دو جوڑے ہیں اور انہوں نے آسمان اور زمین کے درمیان ساری جگہ کو بھر دیا ہے۔ جبرائیل امین (علیہ السلام) محلہ اجیاد میں ملاقات : 13:۔ ابن ابی حاتم (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَوْحٰٓى [ تو اس ( اللہ ) نے وحی بھیجی (جبریل کے ذریعے )] اِلٰى عَبْدِهٖ [ اپنے بندے کی طرف ] مَآ [ وہ جو ] اَوْحٰى [ اس نے وحی کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–10

پہلی بار رویت : اس کے بعد ارشاد فرمایا ﴿ فَاسْتَوٰى ۙ006 وَ هُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى ؕ007﴾ (کہ وہ فرشتہ ایک مرتبہ افق اعلیٰ میں نمودار ہوا) یعنی نبی اکرم ﷺ کے سامنے آیا اور آپ نے اس کو اصلی صورت میں دیکھ لیا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) انسانی صورت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے اور وحی سنا دیتے تھے ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمائش کی کہ آپ مجھے اپنی اصل صورت دکھادیں جبرائیل (علیہ السلام) ایسے وقت اپنی اصل صورت میں ظاہر ہوئے جبکہ آپ حراء پہاڑ پر تھے (اور بعض روایات میں ہے کہ مکہ معظمہ کے محلہ اجیاد میں تشریف فرما تھے) آپ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو مشرقی افق میں دیکھا ان کے چھ سو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–12

6:۔ ” فاوحی “ اوحی کا فاعل جبریل (علیہ السلام) ہے۔ ” عبدہ “ کی ضمیر مجرور ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے (فاوحی) جبریل (علیہ السلام) (الی عبدہ) الی عبداللہ (مدارک ج 4 ص 148) ۔ جبریل نے اللہ کے عظیم الشان اور جلیل القدر بندے کو وحی پہنچائی۔ وحی کا ابہام تفخیم وتعظیم کے لیے (روح، قرطبی) ۔ ” ماکذب الفؤاد۔ الایۃ “ آپ نے اپنی آنکھوں سے جس چیز کا مشاہدہ کی آپ کے دل نے اسے پہچان لیا کہ یہ جبریل امین ہے آپ کے دل نے یہ نہیں کہا کہ میں نے اس کو پہچانا نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں پورے یقین اور وثوق سے دیکھا ہے۔ اور اس بارے میں آپ کے دل میں کوئی شک و شبہ واقع نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِہٖ مَآ اَوْحٰى۝ 10 ۭ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہٖ مَـآ اَوْحٰی۔ (النجم : 10) (پھر اس نے وحی کی اللہ کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ ) آیت کا مفہوم اس آیت کے تین ترجمے ممکن ہیں۔ 1 حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی۔ اس صورت میں مضاف الیہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہوگا۔ 2 اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو بھی کی۔ اس صورت میں اَوْحٰیکا فاعل حضرت جبرائیل نہیں، اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے۔ 3 حضرت جبرائیل نے اپنے بندے کی طرف وحی کی جو کچھ بھی کی۔ اس صورت میں مضاف الیہ کی ضمیر کا مرجع حضرت جبرائیل ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ تیسرا ترجمہ ہر لحاظ سے مردود ہے۔ نہ سیاق وسباق اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔ جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ ﷺ کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ ﷺ کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی ﷺ نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 10: فَاَوْحٰٓى (پس اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی) پس وحی لائے جبرئیل (علیہ السلام) اِلٰى عَبْدِهٖ (اللہ تعالیٰ کے بندے پر) گرچہ اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی کا تذکرہ ہوا مگر ضمیر لوٹانے میں التباس نہیں ہے جیسا کہ اس ارشاد میں فرمایا۔ ماترک علی ظھرھا (فاطر : 45) آپ کی امت پہلے جنت میں : مَآ اَوْحٰى (جو کچھ نازل فرمائی) اس میں وحی کی عظمت شان کو ذکر کیا جو آپ کی طرف بھیجی گئی۔ ایک قول یہ ہے : آپ کی طرف وحی کی گئی، کہ جنت اس وقت تک انبیاء (علیہم السلام) کے لیے حرام ہے جب تک آپ ﷺ داخل نہ ہوں گے اور تمام امتوں پر جنت حرام ہے یہاں تک کہ آپ کی امت اس میں داخل ہو۔ (زمخشری فی الکشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” فکان قاب قوسین او ادنیٰ “ اس کے معنی میں مفسرین رحمہم اللہ نے اختلاف کیا ہے۔ مسروق (رح) سے روایت ہے کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو کہا، کہاں ہے اللہ تعالیٰ کا قول ” ثم دنا فتدلی، فکان قاب قوسین اوادنیٰ “ انہوں نے فرمایا یہ جبرئیل آپ (علیہ السلام) کے پاس آدمی کی صورت میں آتے تھے اور بیشک وہ اس مرتبہ اپنی اصلی صورت میں آئے اور افق کو بند کردیا۔ شیبانی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے زر ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول ” فکان قاب قوسین اوادنیٰ “ کے بارے میں پوچھا : انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ یعنی ابن مسعود ؓ نے خبر دی کہ محمد ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اس کے چھ سو 600 پر تھے۔ پس آیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى) پس اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کے توسط سے وحی کی اپنے بندے حضرت محمد ﷺ کی طرف ، ، جو وحی کی گئی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف عظیم شریعت اور درست خبریں وحی کیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–12

گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 12] اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے کی طرف وحی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تب اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجنا تھی۔ دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تب جبرائیل نے اللہ کے بندے پر وحی فرمائی، مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے کہ بندے تو آپ ﷺ بھی بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کے تھے، جس طرح کہ دوسرے تمام بندے اسی کے بندے ہیں، اور وحی اللہ پاک ہی کی طرف سے آتی تھی، اور حضرت جبریل امین کے واسطے سے ہی آتی تھی، سو اللہ پاک نے اپنے بندہئِ خاص امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر سید الملائکہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے وحی فرمائی جو وحی آپ کو فرمانا تھی اور اما اوحی کا ابہام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–13

ف 6 یہ معراج کا واقعہ ہے کہ آنحضرت نے جبرئیل کو دوسری مرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:10) فاوحی الی عبدی ما اوحی :عاطفہ اوحی ماضی واحد مذکر غائب ضمیر فاعل یہاں بھی جبریل کی طرف راجع ہے۔ پس اس نے وحی کی۔ الی عبدہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے۔ یعنی جبرائیل امین نے اللہ تعالیٰ کے بندے کی طرف وحی کی ما اوحی جو وحی کی : (ما موصولہ ہے جو اس نے وحی کی) ۔ بعض نے پہلے اوحی کا فاعل جبرئیل اور دوسرے اوحی کا فاعل اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے اس وقت آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ جبریل نے اللہ تعالیٰ کے بندے کو وحی کی جو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل پر وحی کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) اکثر علماء مفسرین کے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ خاص محمد کو وحی فرمائی (جمل) حضرت جعفر صادق ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کو وحی فرمائی جو وحی فرمائی یہ وحی بےواسطہ تھی کہ اللہ کے اور اس کے محبوب کے درمیان کوئی واسطہ نہ تھا اور یہ خدا اور رسول کے درمیان کے اسرار ہیں جن پر ان کے سوا کسی کو اطلاع نہیں بقلی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس رزا کو تمام خلق سے مخفی رکھا اور نہ بیان فرمایا کہ اپنے محبوب کو کیا وحی فرمائی اور محب ومحبوب کے درمیان ایسے راز ہوتے ہیں جن کو ان کے سوا کوئی نہیں جانتا (روح البیان) ۔ علماء نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ شب میں جو آپ کو وحی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[7] یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے جب جبرائیل (علیہ السلام) پہلی مرتبہ اپنی اصلی صورت میں نبی ﷺ کو نظر آئے۔ اس وقت آسمان مشرق سے مغرب تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–16

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر وحی نازل فرمائی جو کچھ بھی نازل فرمائی۔ جیسا کہ اوپر فرمایا تھا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اپنی اصلی شکل میں نظر آئے جب حضور ﷺ کو پریشانی اور بےہوشی ہوئی تو وہ انسان شکل کے ساتھ متشکل ہوکر حضور کے قریب آئے اور جھک کر آپ کو اٹھایا جس کو قرآن نے فتدلی فرمایا قرب کو محاورے کے طور پر فرمایا وہ کمان یا اس سے بھی کم فاصلہ تھا عرب کا قاعدہ تھا کہ جب وہ شخص باہمی یکانگت اور اتحاد کا عہد کرتے تھے تو وہ کمانوں کو باہم ملا کر آدمی مل کر ایک تیر پھینکتے تھے اور اس کو دوستی اور اتحاد کا عہد کہا کرتے تھے۔ اسی اتحاد اور یگانگت کی طرف شاید اشارہ ہو۔ بہرحال جب حضرت جبرئیل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر وحی کی جو اپنے بندہ کی طرف وحی کرنا چاہی 10 ؎ (اوحی) کا فاعل کون ہے ؟ کہا گیا ہے کہ (اوحی) کا فاعل جبریل (علیہ السلام) ہیں اور (عبدہ) کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندہ کی طرف وحی کی جو وحی کی اور پھر بعض نے پہلے (اوحی) کا فاعل جبریل اور دوسرے (اوحی) کا فاعل اللہ تعالیٰ بتایا ہے اور ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے بندے کو وحی کی جو اللہ تعالیٰ نے جبریل پر وحی کی تھی اور ہمارے نزدیک سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح کا قرب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے درمیان ہوگیا جس کا ذکر دوسرے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ (Thus He [ Allah ] revealed to His slave what He revealed... 53:10) The subject pronoun understood in the past perfect verb awha (He revealed) refers to Allah, and so does the pronoun in ` abdihi (His slave), and the verse means: Allah revealed to His servant Muhammad ﷺ whatever He revealed through the medium of Jibra'il (علیہ السلام) by attaching him so intimately to the Holy Prophet ﷺ . An Academic Problem and its Solution Here an apparent problem arises which at best can be described as academic, because it does not relate to a real situation.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 The sentence fa auha ila `abd-i -hi ma auha of the Text can have two translations: (1) "He revealed to His (Allah's) servant whatever he revealed"; and (2) "He (Allah) revealed to His own servant whatever He revealed. " According to the first translation, the meaning would be: Gabriel revealed to the servant of Allah whatever he had to reveal"; according to the second: "Allah revealed through Gabriel to His servant whatever He had to reveal. " The commentators have given both these meanings; the first meaning, however, fits in better with the context, .and the same has been reported from…

Read the full tafseer →