An-Najm 53:11

An-Najm · from ayah 11

53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۟مَا كَذَبَ الۡفُؤَادُ مَا رَاٰى

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا

— Fateh Muhammad Jalandhari

The heart did not lie [about] what it saw.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:11

نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ مانا

— مولانا فتح محمد جالندہری

دل نے جھوٹ نہیں کہا جسے (پیغمبر نے) دیکھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اس میں کوئی غلطی نہیں کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اُن کے) دل نے اُس کے خلاف نہیں جانا جو (اُن کی) آنکھوں نے دیکھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دل نے جھوٹ نہیں بولا جو اس نے دیکھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ اس نے آنکھ سے دیکھا تھا دل نے اسے جھوٹ نہیں سمجھا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو کچھ اس نے دیکھا یہ دل کی خیال آرائی نہیں ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

دل نے جھوٹ نہیں کہا جو کچھ کہ اس نے دیکھا

— مولانا اسحاق مدنی

قلب نے کوئی غلطی نہیں کی دیکھی ہوئی چیز میں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل و دماغ نے اسے جھٹلایا نہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

His heart added no untruth to what he saw.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

The heart did not err in what he saw.

— Muhammad Taqi Usmani

The heart did not err in what he saw.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The heart lied not in what he saw.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The heart lied not (in seeing) what it saw.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The heart did not lie [about] what it saw.

— Saheeh International

His (Muhammad's) heart did not lie to him about what his eyes had seen.

— Muhammad Sarwar

The heart was not untrue in (making him see) what he saw.

— Muhammad Habib Shakir

The heart lied not in that which he saw.

— Abdul Majid Daryabadi

The (Prophet's) (mind and) heart in no way falsified that which he saw.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–18

تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–14

سورة النَّجْم 10 یعنی یہ مشاہدہ جو دن کی روشنی میں اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے محمد ﷺ کو ہوا۔ اس پر ان کے دل نے یہ نہیں کہا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے، یا یہ کوئی جن یا شیطان ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے، یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آگئی ہے اور میں جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ بلکہ ان کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس امر میں کوئی شک لاحق نہیں ہوا کہ فی الواقع یہ جبریل ہیں اور جو پیغام یہ پہنچا رہے ہیں وہ واقعی خدا کی طرف سے وحی ہے۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو ایسے عجیب اور غیر معمولی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–12

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى، فواد کے معنی قلب اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے قلب نے بھی اس کے ادراک میں کوئی غلطی نہیں کی، اسی غلطی اور خطاء کو آیت میں لفظ کذب سے تعبیر کیا ہے جو " کچھ دیکھا " قرآن کے الفاظ نے یہ متعین نہیں کیا کہ کیا دیکھا، اس کی تفسیر میں صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے وہی دو قول ہیں جو اوپر تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں کہ بعض کے نزدیک خود حق تعالیٰ کو دیکھنا مراد ہے (وہو قول ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول عائشتہ و ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ما کذب الفوا دما رای) (11) (نبی ﷺ کے مشاہدے کی تصدیق)۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کے اس مشاہدے کی تصدیق و تصویب ہے کہ کوئی اس مشاہدے کو دل کی خیال آرائی اور نفس کے فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریب پر محمول نہ کرے، یہ فریب نفس اور دھوکا نہیں بلکہ فی الحقیقت نبی کو یہ مشاہدہ ہوا ہے۔ (نبی ﷺ کے مشاہدے کی تصدیق) ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ نبی ﷺ نے جب اپنے ان مشاہدات کا ذکر کیا تو مخالفین نے آپ کا مذاق اڑایا کہ جس قسم کے ارمان اس شخص کے دل میں بسے ہوئے ہیں اسی قسم کے خواب اس کو نظر آتے ہیں اور یہ خواب کو حقیقت گمان کر کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے ان کو سناتا پھرتا ہے، حالانکہ یہ تمام فریب نفس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–13

11۔ 1 یعنی نبی ﷺ نے جبرائیل ؑ کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–14

6: یعنی ایسا نہیں ہوا کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو، دل نے اس کے سمجھنے میں غلطی کردی ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–15

ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔ پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔ ولقد ........…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی جبرائیل کو آپ ﷺ نے آنکھ سے دیکھا اور اندر سے دل نے کہا کہ اس وقت آنکھ ٹھیک ٹھیک جبرائیل کو دیکھ رہی ہے، کوئی غلطی نہیں کر رہی کہ کچھ کا کچھ نظر آتا ہو۔ ایسا کہنے میں آپ کا دل سچا تھا۔ حق تعالیٰ اسی طرح پیغمبروں کے دلوں میں فرشتہ کی معرفت ڈال دیتے ہیں ورنہ رسول کو خود اطمینان نہ ہو تو دوسروں کو اطمینان کہاں سے دستیاب ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1 1{ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۔ } ”جو کچھ انہوں نے دیکھا ‘ ان کے دل و دماغ نے اسے جھٹلایا نہیں۔“ یعنی دل میں کسی قسم کا شک پیدا نہیں ہوا۔ یہ خیال نہیں آیا کہ یہ وہم ہوسکتا ہے یا خواب ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ‘ انسان جب کوئی غیر معمولی واقعہ یا انوکھامنظر دیکھتا ہے تو ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑجاتا ہے کہ ع ”آنچہ می بینم بیداریست یارب یا بخواب !“ اے اللہ ! یہ جو میں دیکھ رہا ہوں یہ بیداری میں دیکھ رہا ہوں یا خواب میں ! لیکن اس واقعہ کے بارے میں حضور ﷺ کا معاملہ ایسا نہیں تھا۔ آپ ﷺ کی آنکھوں نے جو دیکھا آپ ﷺ کے دل نے اسے تسلیم کیا اور اس کی تصدیق کی۔ گویا اس انتہائی غیر معمولی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔ دن کی روشنی میں دیکھا، تاریکی میں نہیں دیکھا، نیز آپ ﷺ نے عالم بیداری میں دیکھا، نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا۔ لہذا دل نے پورے وثوق سے اس بات کی تائید کردی کہ واقعی آپ ﷺ نے اس جبریل فرشتہ کو ہی دیکھا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہ رہا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ ادھر بیان ہوچکا ہے کہ وحی کا سرچشمہ خود حضرت رحمن وسبحان ہیں جہاں غلطی کا امکان ہی نہیں، اور پھر واسطہ وحی، فرشتہ جبریل کہ وہاں بھی غلطی کا گزر نہیں، اب رہے وہ صاحب جن پر وحی نازل ہوئی، یہاں تصریح اس کی ہوگئی کہ وہ بشر ہونے کے باوجود ہر غلطی سے محفوظ ومامون۔ گویا اتصال وحی و قبول وحی کے سلسلہ میں سارے احتمالات خطاء منفی۔ فؤاد اور رؤیت دونوں کے اجتماع سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے چشم دل سے بھی دیکھا اور چشم جسم سے بھی، آنکھ نے بھی صحیح دیکھا اور دل نے بھی تصدیق کی، بصارت اور بصیرت دونوں اس مشاہدہ یا نظارہ پر متفق رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–14

فکان قاب قوسین او ادنیٰ ” قاب “ کمان کی لکڑی جس میں قبضہ (دستہ) لگا ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل لکڑی کے دونوں کناروں میں ڈور (تانت) بندھی ہوتی ہے، دستہ اور ڈور کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہتے ہیں، جس کا فاصلہ اندازاً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے، قاب قوسین یعنی دو کمانوں کا قاب جس کا فاصلہ تین فٹ ہے یہ تعبیر حضرت جبرئیل اور آپ ﷺ کے درمیان نہایت قرب کو بیان کرنے کے لئے اتخیار کی ہے، عرب کی عادت تھی کہ آپسی اتحاد و یگانگت کو ظار کرنا یا اگر دو آدمی پولیس میں صلح اور دوستی کا معاہدہ کرنا چاہتے تو جس طرح اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف و مشہور ہے اسی طرح ایک علامت یہ تھی کہ دونوں اپنی اپنی کمانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ما کذب الفواء دما رای . قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی۔ اَلْفُؤَادُ : یعنی رسول اللہ ﷺ کا دِل۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پنکھ تھے۔ حضرت عائشہ کا قول بھی اسی طرح آیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ (معراج میں) اللہ کو دیکھنے کی منکر تھیں۔ مسروق کا بیان ہے میں نے عرض کیا : اماں کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ فرمایا : تمہارے اس قول سے تو (خوف کی وجہ سے) میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کیا تم کو دو تین باتیں معلوم نہیں کہ جو ان کا قائل ہے وہ جھوٹا ہے۔ (1) جو شخص کہتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ جھوٹا ہے یہ کہہ کر ام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–14

(11۔ 14) اور رسول اللہ کے قلب مبارک نے جو اپنے قلب سے اپنے پروردگار کو دیکھا اس میں ان کے قلب نے کوئی غلطی نہیں کی اور کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا اور یہ بھی قول روایت کیا گیا کہ آنکھوں سے اپنے پروردگار کو دیکھا یہ جواب قسم ہے، چناچہ جب رسول اکرم نے اپنی قوم کو اس چیز کے بارے میں بتایا تو انہوں نے تکذیب کی تب یہ آیت نازل ہوئی تو کیا یہ لوگ رسول اکرم کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ آپ کی دیکھی بھالی چیز میں جھگڑا کرتے ہیں۔ اور رسول اکرم نے تو جبریل امین کو ان کی اصلی صورت میں ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کو اپنے دل یا اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ماکذب الفواد مارای :”کذاب“ کو سبعہ قرأت میں دو طرح پڑھا گیا ہے۔ چناچہ ابن عامر نے اسے ذال کی تشدید کے ساتھ ”کذب“ پڑھا ہے، جھٹلایا۔ اس وقت معنی ہوگا کہ نبی ﷺ نے آنکھوں سے جو کچھ دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا، بلکہ اس کی تصدیق کی۔ دوسرے قراء نے ”ذال“ کو تشدید کے بغیر ”کذب“ پڑھا ہے، جھوٹ کہا۔ یعنی دل نے جبریل ؑ کو دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا، بلکہ سچ کہا کہ اس نے جبریل کو دیکھا ہے، جیسے آنکھوں نے دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا۔ جبریل ؑ کو دیکھنے میں آنکھیں اور لد دونوں شریک تھے۔ شیخ عبدالرحمٰن السعدی ”تیسیرا الرحمٰن“ میں لکھتے ہیں،”ای اتفق فواد الرسول ﷺ و رویتہ علی الوحی الذی او حاہ اللہ الیہ وتواطاً…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ماکذب القوادما رای۔ یعنی حضرت محمد ﷺ کے دل نے معراج کی رات نہیں جھٹلایا۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بصر آپ کے دل میں رکھی (3) یہاں تک کہ آپ نے اپنے رب کا دیدار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے رئویت بنا دیا۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ آنکھ سے حقیقی رئویت تھی۔ پہلا قول حضر ابن عباس سے مروی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دل سے اپنے رب کا دیدار کیا (4) یہ حضتر ابو ذر اور صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے۔ دوسرا قول حضرت انس اور جماعت کا ہے۔ حضرت ابن عباس سے بھی یہ مروی ہے فرمایا : کیا تم تعجب کرتے ہو کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خلت، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام اور حضرت محمد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

12:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والبیہقی (رح) فی الدلائل ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ماکذب الفوادما رای '' (دل نے دیکھی ہوئی چیز میں 28:۔ النسائی وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فاوحی الی عبدہ ما اوحی '' یعنی اپنے بندے محمد ﷺ (کی طرف وحی فرمائی ) 29:۔ الطبرانی نے السنۃ میں اور الحکیم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے بڑا نور دیکھا اور اس کے میرے سامنے موتیوں اور یاقوت والا اپنا ریشمی پردہ لٹکادیا پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف جو وحی کرنا چاہی وہ وحی فرمائی۔ 30:۔ ابوالشیخ (رح) و ابونعیم (رح) نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

مَا كَذَبَ [ جھوٹ نہ جانا ] الْفُؤَادُ [ دل نے ] مَا [ اس کو جو ] رَاٰى [ انھوں (رسول ) نے دیکھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى 0011﴾ (یعنی قلب نے جو کچھ دیکھا اس میں غلطی نہیں کی) یعنی جو کچھ دیکھا صحیح دیکھا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–12

6:۔ ” فاوحی “ اوحی کا فاعل جبریل (علیہ السلام) ہے۔ ” عبدہ “ کی ضمیر مجرور ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے (فاوحی) جبریل (علیہ السلام) (الی عبدہ) الی عبداللہ (مدارک ج 4 ص 148) ۔ جبریل نے اللہ کے عظیم الشان اور جلیل القدر بندے کو وحی پہنچائی۔ وحی کا ابہام تفخیم وتعظیم کے لیے (روح، قرطبی) ۔ ” ماکذب الفؤاد۔ الایۃ “ آپ نے اپنی آنکھوں سے جس چیز کا مشاہدہ کی آپ کے دل نے اسے پہچان لیا کہ یہ جبریل امین ہے آپ کے دل نے یہ نہیں کہا کہ میں نے اس کو پہچانا نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں پورے یقین اور وثوق سے دیکھا ہے۔ اور اس بارے میں آپ کے دل میں کوئی شک و شبہ واقع نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى۝ 11 ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

مَاکَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی۔ (النجم : 11) (جو کچھ آپ نے دیکھا، دل نے اس میں جھوٹ نہیں ملایا۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کے مشاہدے کی تصویب پروردگار کی جانب سے آنحضرت ﷺ کے مشاہدے کی تصدیق و تصویب کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس مشاہدے کی حقیقت اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور کون جانتا ہے۔ اس کی تصدیق ہی اصل تصدیق ہے۔ اس کے باوجود کسی کا انکار یا تکذیب فریبِ نفس اور دوسروں کو دھوکہ دینے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور اس تصدیق کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ نبی کریم ﷺ جب اس طرح کے مشاہدات مخالفین کے سامنے ذکر کرتے تھے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے، اور لوگوں کو یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے کہ یہ شخص جس طرح کے ارمان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–11

فہم القرآن ربط کلام : جبریل امین کی شخصیت اور وحی کا بیان جاری ہے۔ جبریل امین افق اعلیٰ پر آپ ﷺ کے سامنے آکھڑئے ہوئے پھر آپ ﷺ کے قریب ہوئے یہاں تک کہ دو کمانوں یا اس سے بھی زیادہ قریب آگئے پھر اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی اس تک پہنچائی۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی آنکھوں سے جو دیکھا اس کی دل نے پوری طرح تصدیق کی۔ اہل تفسیر نے ” فَاَوْحٰی الیٰ عَبْدِہٖ مَا اَوْحیٰ “ کا یہ بھی ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے جبریل امین کے ذریعے اپنے بندے پر وحی فرمائی جو اسے وحی کرنا تھی۔ نبی ﷺ نے اس مقام پر جو کچھ دیکھا آپ کے دل نے اس کی تصدیق فرمائی۔ انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ جب وہ ما فوق الفطرت یا خرق عادت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جبرئیل (علیہ السلام) کو سر کی آنکھوں سے دیکھا : آیت 11: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ (قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی) الفواد سے محمد ﷺ کا فواد مراد ہے۔ مَا رَاٰى (اس میں غلطی نہیں کی) جو آپ نے صورت جبرئیل اپنی آنکھ سے دیکھی تھی یعنی آپ کے دل نے یہ نہیں کہا جبکہ جبرئیل کو دیکھا کہ میں نے تمہیں نہیں پہچانا۔ اور اگر ایسا کہتے تو غلط ہوتا کیونکہ آپ نے اس کو پہچانا تھا، یعنی آپ نے اس کو اپنی آنکھ سے دیکھا اور دل سے پہچانا۔ اور اس میں قطعا شک نہ کیا کہ جو آپ نے دیکھا وہ برحق ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جو قیل سے نقل کیا : جن کو دیکھا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے آپ نے اپنے سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” فاوحیٰ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے وحی کی ۔ ” الیٰ عبدہ ماواحیٰ “ محمد ﷺ ، ابن عباس ؓ نے عطاء کی روایت میں اور کلبی، حسن اور ربیع رحمہم اللہ ابن زید فرماتے ہیں اس کا معنی ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کی طرف وہ وحی کی جوان کی طرف رب تعالیٰ نے وحی بھیجی۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” اوحیٰ الیہ “ آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی۔ ” الم یجدک یتیما فآوی “ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ” ورفعنا لک ذکرک “ تک اور کہا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ جنت انبیاء (علیہم السلام) پر حرام ہے جب تک آپ (علیہ السلام) داخل نہ ہوں گے اور انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں پر حرام ہے جب تک آپ (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–12

(مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى) اس رسول نے جو کچھ دیکھا اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو وحی بھیجی اس پر آپ کا قلب مبارک آپ کی روئیت آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے، یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–12

گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 13] پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدے کی تصویب و تصدیق کا ذکر وبیان : سو اس سے پیغمبر کے مشاہرے کی حضرت حق جل مجدہٗ کی طرف سے تصویب و تصدیق کا ذکر فرمایا گیا کہ دل نے اس کو جھٹلایا نہیں جو کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا، بلکہ دل نے اس کی تصدیق و تائید، کی تو آپ ﷺ کا فرمان ہر طرح سے حق اور سچ ہے، حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت جبریل امین کو اپنی اصل شکل میں دیکھا، تو ان کے چھ سو پر تھے، [ بخاری، کتاب التفسیر، سورة النجم ] اور ہر پر اتنا کہ افق کو بھر دے اور آپ کے پیروں سے یا قوت اور موتیوں جیسی ایسی عظیم الشان چیزیں جھڑ رہی تھیں جن کی اصل اور حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–13

ف 6 یہ معراج کا واقعہ ہے کہ آنحضرت نے جبرئیل کو دوسری مرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:11) ماکذب الفواد ما رای : الفواد (ف ء د مادہ) بمعنی دل۔ اس کی جمع افئدۃ ہے۔ ما (دوسرا) موصولہ ہے۔ رای ماضی واحد مذکر غائب اس کا صلہ۔ موصول و صلہ مل کر ماکذب کا مفعول ۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا ان کے دل نے اس کو جھوٹ نہ جانا۔ یعنی نبی کریم ﷺ نے جب جبرائیل کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تو دل نے اس کی تصدیق کی ! کہ آنکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں یہ ایک حقیقت ہے یہ واقعی جبرئیل ہے جو اپنی اصل صورت میں نظر آرہا ہے نظر کا فریب نہیں ہے۔ نگاہوں نے دھوکہ نہیں کھایا۔ کہ حقیقت کچھ اور ہو۔ اور نظر کچھ اور آرہا ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آنحضرت ﷺ کے دومرتبہ دیکھنے کا ذکر۔ (ف 3) یہاں فرمایا کہ نبی ﷺ کے قلب مبارک نے اسکی تصدیق کی جو چشم مبارک نے دیکھا معنی یہ ہیں کہ آنکھ سے دیکھا دل سے پہچانا اور اس روئیت ومعرفت میں شک وتردد نے راہ نہ پائی اب یہ بات کہ کیا دیکھا بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا لیکن مذہب صحیح یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے رب تبارک وتعالی کو دیکھا، اور یہ دیکھنا کس طرح تھا چشم سر سے ، یا چشم دل سے، اس میں مفسرین کے دونوں قول پائے جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ نبی ﷺ نے رب العزت کو اپنے قلب مبارک سے دو بار دیکھا، (رواہ مسلم) ۔ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ اپنے رب العزت کو حقیقت چشم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[7] یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے جب جبرائیل (علیہ السلام) پہلی مرتبہ اپنی اصلی صورت میں نبی ﷺ کو نظر آئے۔ اس وقت آسمان مشرق سے مغرب تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–16

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) جو کچھ پیغمبر کی آنکھ نے معائنہ کیا اس کے سمجھنے میں دل نے غلطی نہیں کی اور جھوٹ نہیں کہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ کی نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں ایک ذرہ بات کی ملاوٹ نہ کی 11 ؎ آپ ﷺ نے کیا دیکھا ؟ وہی جس کی پیچھے وضاحت چلی آرہی ہے کہ آپ ﷺ نے (بین النوم والیقظان) اپنے مثالی جسم اور روح کے ساتھ ایک سفر کیا جس سفر پر آپ ﷺ کو بلایا گیا تھا بلانے والا اللہ رب ذوالجلال والا کرام تھا ‘ لے جانے والے جبریل تھے اور جانے والے محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ ﷺ کو ایک بلند افق تک لے جایا گیا جہاں تک مخلوق خداوندی کے جانے کی گویا آخری سرحد ہے وہاں نہ تو کوئی آپ ﷺ نے ظاہری شکل و صورت دیکھی اور نہ کوئی جسمانی چیز آپ ﷺ کو وہاں نظر آئی لیکن اللہ تعالیٰ کا وہ نور جس کی تجلی نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہوش کردیا تھا اپنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَ‌أَىٰ (The heart did not err in what he saw....53:11) Fu'ad means heart, and the verse means whatever the eyes saw, the heart did not err in its grasping. This erring in the verse is described as kidhb [ lying ]. In other words, the heart did not lie in connection with the perceived objects. It did not err or slip up. In the phrase mara'a 'what he saw', the Qur'an does not specify what it saw. The blessed Companions ؓ and their followers, and the leading authorities on Tafsir hold two divergent views as was discussed in detail earlier: [ 1] The phrase means it […

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

10 That is, "As the Holy Prophet Muhammad (upon whom be peace) observed all this in broad daylight in the waking condition, with open eyes, his heart did not deem it was a delusion, or that it was a jinn or a devil, who had appeared before him, or that it was an imaginary figure, or a vision that he was seeing while awake, but his heart fully confirmed what his eyes saw. He did not for a moment doubt that it was the Angel Gabriel and the Message he was conveying was indeed God's Revelation to him." Here, the question arises: How is it that the Holy Prophet (upon whom be peace) did not…

Read the full tafseer →