An-Najm 53:12

An-Najm · from ayah 12

53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰی مَا یَرٰی ۟اَفَتُمٰرُوۡنَهٗ عَلٰى مَا يَرٰى

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

So will you dispute with him over what he saw?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah An-Najm

All translations of 53:12

اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا پھر بھی تم ان سے اس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم ان سے اِس پر جھگڑتے ہو کہ جو انہوں نے دیکھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اب کیا تم اس بات میں جھگڑا کرتے ہو جو اس نے آنکھوں سے دیکھا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑے ہو جس کا وہ مشاہدہ کررہا ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا تم لوگ اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جس کو اس نے خود دیکھا (اپنی کھلی آنکھوں سے ؟)

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا ان (پیغمبر) سے ان چیزوں میں نزاع کرتے ہو جو ان کی دیکھی ہوئی ہیں۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس چیز پر جسے وہ دیکھتا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا جو کچھ وہ دیکھتے ہیں تم اس میں ان سے جھگڑتے ہو ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Are you, then, going to contend with him regarding what he sees with his eyes?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you quarrel with him in what he sees?

— Muhammad Taqi Usmani

Do you quarrel with him in what he sees?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Will you then dispute with him about what he saw

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Will ye then dispute with him concerning what he seeth?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So will you dispute with him over what he saw?

— Saheeh International

Will you then argue with him about what he saw?

— Muhammad Sarwar

What! do you then dispute with him as to what he saw?

— Muhammad Habib Shakir

Will ye therefore dispute with him concerning that which he hath Seen?

— Abdul Majid Daryabadi

Will ye then dispute with him concerning what he saw?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 53:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–18

تعارف جبرائیل امین ؑ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے معلم حضرت جبرائیل ؑ ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا ہے آیت (اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 40؀ڌ) 69۔ الحاقة :40) یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے یہاں بھی فرمایا وہ قوت والا ہے آیت (ذو مرۃ) کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے حدیث میں بھی (مرۃ) کا لفظ آیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔ پھر وہ سیدھے کھڑے ہوگئے یعنی حضرت جبرائیل ؑ۔ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–14

سورة النَّجْم 10 یعنی یہ مشاہدہ جو دن کی روشنی میں اور پوری بیداری کی حالت میں کھلی آنکھوں سے محمد ﷺ کو ہوا۔ اس پر ان کے دل نے یہ نہیں کہا کہ یہ نظر کا دھوکا ہے، یا یہ کوئی جن یا شیطان ہے جو مجھے نظر آ رہا ہے، یا میرے سامنے کوئی خیالی صورت آگئی ہے اور میں جاگتے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ بلکہ ان کے دل نے ٹھیک ٹھیک وہی کچھ سمجھا جو ان کی آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ انہیں اس امر میں کوئی شک لاحق نہیں ہوا کہ فی الواقع یہ جبریل ہیں اور جو پیغام یہ پہنچا رہے ہیں وہ واقعی خدا کی طرف سے وحی ہے۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا بات ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو ایسے عجیب اور غیر معمولی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–12

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى، فواد کے معنی قلب اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے قلب نے بھی اس کے ادراک میں کوئی غلطی نہیں کی، اسی غلطی اور خطاء کو آیت میں لفظ کذب سے تعبیر کیا ہے جو " کچھ دیکھا " قرآن کے الفاظ نے یہ متعین نہیں کیا کہ کیا دیکھا، اس کی تفسیر میں صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے وہی دو قول ہیں جو اوپر تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں کہ بعض کے نزدیک خود حق تعالیٰ کو دیکھنا مراد ہے (وہو قول ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول عائشتہ و ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(افتمرونہ علی ما بری) (12) یہ مخالفین کو مخاطب کر کے ان کو ملامت فرمائی ہے کہ کیا تم پیغمبر ﷺ سے اس کے مشاہدات پر جھگڑتے ہو ؟ وہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھتا ہے اور کانوں سے سنتا ہے اس سے تم کو آگاہ کر رہا ہے، اگر یہ چیز تم کو نظر نہیں آتی تو اس سے نفس حقیقت باطل نہیں ہوجائے گی۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ مخالفین اپنے کاہنوں کی تو ساری خرافات بےدریغ تسلیم کرلیتے تھے اس لیے کہ ان کی باتیں ان کی خواہشوں کے مطابق ہوتی تھی لیکن پیغمبر ﷺ کی دعوت ان کی خواہشوں کے خلاف تھی اس وجہ سے آپ کی مخالفت کے لیے طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–13

11۔ 1 یعنی نبی ﷺ نے جبرائیل ؑ کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–14

6: یعنی ایسا نہیں ہوا کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہو، دل نے اس کے سمجھنے میں غلطی کردی ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–15

ماکذب الفواد مارا (11) افتمرونہ علی مایری (35 : 21) ” نظر نے جو دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے “ نہ صرف نظر سے دیکھا ہے آپ نے بلکہ دل سے بھی دیکھا ہے اور نظر میں تو فریب نظر ہوسکتا ہے لیکن دل میں فریب ممکن نہیں ہے۔ آپ نے دیکھا اور آپ کے قلب نے یقین کیا کہ یہ فرشتہ ہے۔ حامل وحی ہے ، اللہ کافر ستادہ ہے۔ آپ کی طرف تاکہ آپ کو وحی دے اور آپ تبلیغ کریں اور یہ جھگڑا اب ختم ہے کیونکہ آپ کے قلب نے اس حقیقت پر یقین کرلیا ہے اور آپ صادق وامین ہیں۔ پھر محمد ﷺ نے اس فرشتے کو صرف ایک ہی مرتبہ نہیں دیکھا۔ دوسری بار بھی دیکھا ہے۔ ولقد ........…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی وحی بھیجنے والا اللہ، لانے والا فرشتہ جس کی صورت و سیرت نہایت پاکیزہ اور فہم و حفظ وغیرہ کی تمام قوتیں کامل، پھر اتنا قریب ہو کر وحی پہنچائے، پیغمبر اس کو اپنی آنکھ سے دیکھے، اس کا صاف اور روشن دل اس کی تصدیق کرے، تو کیا ایسی دیکھی بھالی چیز میں تم کو حق ہے کہ اس سے فضول بحث و تکرار کرو اور جھگڑے نکالواِذَا لَمْ تَرَالہِلَالَ فَسَلِّمْ لِنَّاسٍ رَاَوْہُ بالْاَبْصَارِ ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 12{ اَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی۔ } ”تو کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس چیز پر جسے وہ دیکھتا ہے !“ اس بارے میں جو تفصیل محمد ﷺ بیان کر رہے ہیں تم لوگ اس میں شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہو۔ لیکن وہ تو یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں اور وہ تم سے آنکھوں دیکھا واقعہ ہی بیان کر رہے ہیں۔ بقول اقبال : ع ”قلندر ہرچہ گوید دیدہ گوید“ کہ قلندر جو بھی بیان کرتا ہے اپنا مشاہدہ ہی بیان کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–14

8 اس کے مخاطب قریش مکہ ہیں اور انہیں کہا یہ جارہا ہے کہ تم اپنے رفیق ( محمد ﷺ کو خود سچا اور راست باز انسان تسلیم کرتے ہو۔ اور وہ اپنے ذاتی اور عینی مشاہدہ کی بنا پر تم سے ایک بات کہتا ہے جو اسے دن کی روشنی میں اور عالم بیداری میں پیش آئی۔ پھر تم اس کی بات کا انکار کرتے۔ اور اس سے جھگڑا کرتے ہو تو آخر تمہارے پاس اس کو جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کے لیے کیا دلیل ہے ؟ واضح رہے کہ اس بارے میں صحابہ میں بھی اختلاف تھا کہ آیا آپ ﷺ نے اس وقت جبریل کو دیکھا تھا یا اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا تو اس کے متعلق صحابہ کی اکثریت کا یہ قول ہے کہ آپ ﷺ نے جبریل کو دیکھا تھا۔ لے دے کے ایک سیدنا ابن عباس ؓ ہیں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ کیسے غضب کی بات ہے کہ تم نبی ﷺ سے نزاع اس چیز میں کررہے ہو، جو اس کی سنی سنائی ہوئی یا خیال و گمان کی ہوئی نہیں۔ خوب اچھی طرح دیکھی بھالی، جانچی پڑتالی ہوئی اور تخیلات ومعقولات ومسموعات کے عالم سے کہیں گزر کر اس کے لیے دائرہ مشاہدات میں آچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–14

فکان قاب قوسین او ادنیٰ ” قاب “ کمان کی لکڑی جس میں قبضہ (دستہ) لگا ہوتا ہے اور اس کے بالمقابل لکڑی کے دونوں کناروں میں ڈور (تانت) بندھی ہوتی ہے، دستہ اور ڈور کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہتے ہیں، جس کا فاصلہ اندازاً ڈیڑھ فٹ ہوتا ہے، قاب قوسین یعنی دو کمانوں کا قاب جس کا فاصلہ تین فٹ ہے یہ تعبیر حضرت جبرئیل اور آپ ﷺ کے درمیان نہایت قرب کو بیان کرنے کے لئے اتخیار کی ہے، عرب کی عادت تھی کہ آپسی اتحاد و یگانگت کو ظار کرنا یا اگر دو آدمی پولیس میں صلح اور دوستی کا معاہدہ کرنا چاہتے تو جس طرح اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف و مشہور ہے اسی طرح ایک علامت یہ تھی کہ دونوں اپنی اپنی کمانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افتمرونہ علی ما یری . کیا تم ان سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو ؟ تَمَارُوْنَ ‘ مِرَا ءٌ : سے مشتق ہے۔ مراء : کا معنی جھگڑا کرنا۔ مری الناقۃ : دودھ نکالنے کے لیے اونٹنی کے تھن کو ملنا۔ باہم جھگڑنے والے بھی اپنے مخالف کی دلیلوں کو نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس لغوی مناسبت سے مراء کا معنی ہوگیا ‘ جھگڑا کرنا۔ اصل کلام اس طرح تھا : کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کا انکار کرتے ہو اور ان سے جھگڑا کرتے ہو۔ استفہام توبیخی اور انکاری ہے یعنی محمد ﷺ جس چیز کے دیکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں تمہیں اسکا انکار اور جھگڑا نہ کرنا چاہیے۔ صیغۂ مضارع کا استعمال ماضی کے استحضار اور حکایت کے لیے ہے یا زمانۂ حال میں رسول…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–14

(11۔ 14) اور رسول اللہ کے قلب مبارک نے جو اپنے قلب سے اپنے پروردگار کو دیکھا اس میں ان کے قلب نے کوئی غلطی نہیں کی اور کہا گیا ہے کہ آپ نے اپنے پروردگار کو اپنے دل کے ساتھ دیکھا اور یہ بھی قول روایت کیا گیا کہ آنکھوں سے اپنے پروردگار کو دیکھا یہ جواب قسم ہے، چناچہ جب رسول اکرم نے اپنی قوم کو اس چیز کے بارے میں بتایا تو انہوں نے تکذیب کی تب یہ آیت نازل ہوئی تو کیا یہ لوگ رسول اکرم کی دیکھی ہوئی چیز کو جھٹلاتے ہیں یا یہ کہ آپ کی دیکھی بھالی چیز میں جھگڑا کرتے ہیں۔ اور رسول اکرم نے تو جبریل امین کو ان کی اصلی صورت میں ایک اور دفعہ بھی دیکھا ہے اور کہا گیا ہے کہ اپنے پروردگار کو اپنے دل یا اپنی…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) افتمرونہ :”تم اورن“ ماری یماری مراء و مماراۃ“ (مفاعلہ) سے فعل مضارع معلوم جمع مذکر حاضر ہے، جھگڑا کرنا۔ یہ مشرکین مکہ سے خطاب ہے، جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں بتایا کہ میرے پاس کوئی شیطان نہیں بلکہ جبریل فرشتہ آتا ہے اور میں اسے دیکھتا ہوں، اس کی اصل صورت میں بھی میں نے اسے دیکھا ہے تو انہوں نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا اور جھگڑنے لگے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اپنے صاحب کو خود صادق و امین تسلیم کرتے ہو، جب وہ تم سے کہتا ہے کہ اس کے پاس جبریل فرشتہ آتا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو تم اس سے جھگڑنے لگتے ہو، آخر تمہاریپ اس اسے جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کی کیا دلیل ہے ؟۔ اذا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

افتمرونہ علی مایری۔ حمزہ اور کسائی نے افتمرونہ تاء کے فتحہ اور الف کے بغیر پڑھا ہے معنی ہے کیا تم انکار کرتے وہ۔ ابوعبید نے اسے ہی پسند کیا ہے کیونکہ کہا جاتا ہے، لم یم اورہ وانما حجدوہ یہ جملہ کہا جاتا ہے : مراہ حقہ یعنی اس کے حق کا انکار کردیا (5) مریتہ انا، شاعر نے کہا ، لئن ھجرت اخا صدق و مکرمۃ لقد مریت اخاما کان یمریکا تو نے سچے اور عزت والے شخص کو چھوڑ دیا ہے تو تو نے اس بھائی کا انکار کیا ہے جو تیرا انکار نہیں کرتا تھا۔ یعنی تو نے اس کا انکار کیا۔ مبرو نے کہا : مراہ عن حقہ و علی حقہ جب اس کا حق اس سے روک لے اور اس کو اس سے دور کر دے۔ علی، عن کے معنی میں ہے اس کی مثال بنی کعب بن ربیعہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

34:۔ سعید بن منصور (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' افتمرونہ '' اور اس کی تفسیر کرتے کہ کیا تم اس کا انکار کرتے ہو۔ 35:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) '' افتمرونہ '' پھر فرمایا جس نے اس کو پڑھا (آیت ) '' افتمرونہ '' تو اس نے کہا کیا تم اس سے جھگڑا کرتے ہو اس بارے میں۔ 36:۔ عبد بن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو (آیت ) '' افتمرونہ '' پڑھا کرتے تھے۔ 37:۔ عبد بن حمید (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ شریح (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت )…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ [ تو کیا تم لوگ جھگڑتے ہو ان سے ] عَلٰي مَا [ اس پر جو ] يَرٰى [ وہ دیکھتے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اَفَتُمٰرُوْنَهٗ۠ عَلٰى مَا يَرٰى 0012﴾ (کیا تم رسول اللہ ﷺ سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں جھگڑا کرتے ہو) انہوں نے جو دیکھا ہے صحیح دیکھا۔ اس میں کسی انکار اور مجادلہ کا موقع نہیں۔ قال فی معالم التنزیل قرأ حمزہ والکسائی و یعقوب افتمرونہ بفتح التاء بلا الف ای افتجحدونہ تقول العرب مریت الرجل حقہ اذا جحدتہ وقرالاخرون افتمارونہ بالالف وضم التاء علی معنی افتجادلونہ علی مایری۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–18

اثبات عظمت نبوت و محبت اقوال رسول اللہ ﷺ وعصمت حیات طیبہ : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” والنجم اذا ھوی ...... الی ....... من ایت ربہ الکبری : (ربط) گذشتہ سورت توحید خداوندی اور دلائل قدرت اور اثبات حشر ونشر کے مضامین پر مشتمل تھی اب اس سورت میں آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان ہے اور یہ کہ رسول خدا ﷺ کا ہر قول وعمل وحی الہی ہے پیغمبر کی ہر بات اور ان کا ہر عمل امت کے واسطے قانون اور اسوہ بنایا گیا ہے اللہ کے پیغمبر کی کوئی بات اور اس کی زبان سے نکلا ہوا کوئی لفظ خود اس کی خواہش سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی وحی ہی ہوتا ہے جس طرح کہ قرآن اللہ کی وحی ہے بس فرق اتنا ہے کہ قرآن اللہ کا کلام لفظ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–12

6:۔ ” فاوحی “ اوحی کا فاعل جبریل (علیہ السلام) ہے۔ ” عبدہ “ کی ضمیر مجرور ذات باری تعالیٰ سے کنایہ ہے (فاوحی) جبریل (علیہ السلام) (الی عبدہ) الی عبداللہ (مدارک ج 4 ص 148) ۔ جبریل نے اللہ کے عظیم الشان اور جلیل القدر بندے کو وحی پہنچائی۔ وحی کا ابہام تفخیم وتعظیم کے لیے (روح، قرطبی) ۔ ” ماکذب الفؤاد۔ الایۃ “ آپ نے اپنی آنکھوں سے جس چیز کا مشاہدہ کی آپ کے دل نے اسے پہچان لیا کہ یہ جبریل امین ہے آپ کے دل نے یہ نہیں کہا کہ میں نے اس کو پہچانا نہیں۔ حاصل یہ ہے کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو ان کی اصلی صورت میں پورے یقین اور وثوق سے دیکھا ہے۔ اور اس بارے میں آپ کے دل میں کوئی شک و شبہ واقع نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–12

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ کا نام سورة النجم ہے جو اس کی پہلی آیت کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة الحجرات سے لے کر سورة واقعہ تک تمام مکی سورتیں ہیں ، چناچہ یہ سورة بھی مکی دور میں نازل ہوئی ۔ اس سورة مبارکہ کی باسٹھ آیات اور تین رکوع ہیں اور یہ سورة تین سو الفاظ اور چودہ سو حروف پر مشتمل ہے۔ یہ سورة سورة اخلاص سے پہلے نازل ہوئی۔ مضامین سورة اس سورة کے مضامین بھی زیادہ تر وہی ہیں جو سابقہ سورة الطور کے ہیں ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس میں بھی اسلا م کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی حقانیت ہی کا تذکرہ ہے ، تا ہم رسالت کا پہلو غالب ہے۔ ساتھ ساتھ جزائے عمل کا مسئلہ بھی اجاگر کیا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰي مَا يَرٰى۝ 12 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–18

ترکیب : الواو للقسم اذا ھویٰ والعامل فی الظرف فعل القسم المحذوف ای اقسم بالنجم وقت ھو یہ وقیل النجم نزول القرآن فیکون العامل نفس النجم۔ ماضل الخ جواب القسم وماینطق الخ جملۃ مستانفۃ وقعت موقع الدلیل تقدیر الکلام کیف یضل ویغوی وھولا ینطق عن الہوی ان ھوای الذی ینطق بہ من القرآن۔ وحی موصوف یوٰحی صفۃ ترفع احتمال المجاز و تفید الاستمرار التجددی علمہ صفۃ للوحی ای علمہ ایاہ فاستوٰی عطف علی علمہ بطریق التفسیر فانہ الیٰ قولہ اوحٰی بیان لکیفیتہ التعلیم و ھو بالافق حال من فاعل استوٰی فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین خبرکان نزلۃ منصوب علی الظرفیۃ لان النزلۃ علی وزن الفعلۃ اسم للمرۃ وقیل نصبھا علی المصدر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 12–15

اَفَـتُمَارُوْنَـہٗ عَلٰی مَایَرٰی۔ وَلَقَدْ رَاٰہُ نَزْلَـۃً اُخْرٰی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی۔ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمَاْوٰی۔ (النجم : 12 تا 15) (تو کیا تم اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اور اس نے اس کو دوسری مرتبہ دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔ اسی کے پاس جنت الماویٰ بھی ہے۔ ) شک کرنے والوں کو ملامت جو لوگ آنحضرت ﷺ کے مشاہدات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے یا شبے کا اظہار کررہے تھے انھیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا اور نبی کریم ﷺ کا معاملہ عجیب ہے کہ حضور ﷺ تمہیں ان باتوں کی خبر دے رہے ہیں جنھیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اور وہ باتیں اس جہان کی ہیں جو تمہاری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اسے بیان کیا لیکن کفار اسے ماننے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ نبی (علیہ السلام) نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہی جنت الماویٰ ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اللہ تعالیٰ کی انوار و تجلیات کا مسلسل نزول ہوتا ہے۔ ” اَلْمُنْتَہٰی “ کا معنٰی انتہا ہے جس کا اہل علم نے یہ مفہوم لیا ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں مخلوق کی پہنچ کی حد ختم ہوجاتی ہے۔ اس سے نیچے کی مخلوق کے لیے عالم سفلٰی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس سے اوپر کے لیے سدرۃ المنتہیٰ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اس سے اوپر ” اللہ “ کی مخلوق میں سے کوئی نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 12: اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰى (کیا تم ان سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو) کیا تم جھگڑتے ہو، یہ المراء سے مشتق ہے۔ جس کا معنی جھگڑنا ہے اور المراء یہ مری الناقۃ سے لیا گیا۔ گویا جھگڑنے والوں میں سے ہر ایک اس کو کہلواتا ہے اور نکلواتا ہے جو اس کے ساتھی کے پاس ہوتا ہے، مری یمری، اونٹنی کے تھن کو دودھ کے لیے سہلانا تاکہ دودھ نکلے۔ قرات : اَفَتُمٰرُوْنَهٗ حمزہ علی خلف یعقوب نے پڑھا ہے، اس کا معنی یہ ہے کیا تم جھگڑے میں اس پر غالب آنا چاہتے ہو۔ یہ ماریتہ فمریتہ سے لیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں غلبہ کا معنی پایا جاتا ہے، اس لیے علی سے متعدی کیا گیا ہے۔ علی ما یری علی سے متعدی کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” ماکذب الفئواد مارای “ ابو جعفر نے ماکذب کو ذال کی شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی محمد ﷺ کے دل نے اس کو نہیں جھٹلایا جو آپ (علیہ السلام) نے اپنی آنکھ سے اس رات میں دیکھا بلکہ اس کی تصدیق کی اور اس کو حق جانا اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی محمد ﷺ نے جو کچھ دیکھا دل سے اس کو جھوٹ نہیں کہا بلکہ سچ کہا۔ کہا جاتا ہے ” کذبہ “ جب اس کو جھوٹ کہے اور صدقہ جب اس کو سچ کہے۔ اس کا مجاز ” ماکذب الفواد فیما رای “ ہے اور ” الذی راہ “ میں اختلاف ہوا ہے ایک قوم نے کہا ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھا اور یہی ابن مسعود ؓ اور عائشہ صدیقہ ؓ کا قول ہے۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–30

1۔ 30۔ تاروں کے ڈوبنے کے وقت کی قسم میں جو کچھ قدرت کا بھید ہے وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے لیکن اتنا تو ظاہر ہے کہ جس طرح انسان کا سونا جاگنا ‘ ہر سال کھیتیکا کٹ جانا اور اسی بیج سے دوسرے سال پھر پیداوار کا ہوجانا وغیرہ ‘ جہاں یہ سب چیزیں اللہ کی قدرت اور حشر کا نمونہ ہیں اسی طرح تاروں کا وقت مقررہ پر نکلنا اور وقت مقررہ پر چھپ جانا یہ بھی اسی کی قدرت اور حشر کا ایک نمونہ ہے۔ چناچہ سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اسی نمونہ سے اللہ تعالیٰ کو پہنچانا۔ ضال وہ شخص ہے جو جہل کے سبب سی بہکا ہوا ہو بےراہ وہ جو جان بوجھ کے حق بات کو چھوڑ دے۔ آنحضرت ﷺ ان ہی اہل مکہ میں پلے ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 11–12

(مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى) اس رسول نے جو کچھ دیکھا اس کے دل نے (اس کے متعلق) جھوٹ نہیں بولا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف جو وحی بھیجی اس پر آپ کا قلب مبارک آپ کی روئیت آپ کی سماعت اور آپ کی بصارت متفق تھے، یہ اس وحی کے کامل ہونے کی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف بھیجی، نیز یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے وحی کو اس طرح حاصل کیا کہ اس میں کوئی شک شبہ نہ تھا۔ آپ کی آنکھ مبارک نے جو کچھ دیکھا آپ کے قلب مقدس نے اس کو نہیں جھٹلایا اور نہ اس میں کوئی شک ہی کیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد وہ بڑی بڑی آیات الہی ہوں جو اس رات آپ کو دکھائی گئیں جس رات آپ کو آسمانوں پر لے جایا گیا،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 3–12

گفتہ پیغمبری وحی ہے قول باری ہے (وما ینطق عن الھویٰ اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں) اس آیت سے وہ لوگ استدلال کرتے ہیں جو یہ جائز نہیں سمجھتے کہ حضور ﷺ پیش آنے والے نئے واقعات کے متعلق اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ کہیں کیونکہ قول باری ہے (ان ھو الا وحی یوحیٰ ۔ ان کا کلام تو تمام تروحی ہے جوان پر بھیجی جاتی ہے) ۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ بات اس طرح نہیں ہے طرح انہوں نے گمان کیا ہے۔ کیونکہ اجتہاد رائے کی بنیاد اگر وحی ہو تو اس کے موجب اور نتیجے کو اس کی طرف منسوب کرکے یہ کہنا جائز ہوگا کہ اس کا مصدر وحی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 14] منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ ان سے ان باتوں پر جھگڑتے ہو جن کو انہوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ؟ یعنی یہ کیسی عجیب اور کتنی نامعقول بات ہے، کہ تم لوگ پیغمبر سے ان امور اور حقائق کے بارے میں جھگڑتے اور ان میں شک کرتے ہو جو آپ ﷺ نے کھلی آنکھوں سے دیکھے ہیں، سو یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی اندھا کسی آنکھوں والے سے جھگڑے، اور وہ اس کی اب باتوں کا انکار اور ان میں شک کرے جن کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو، مگر اس کے باوجود وہ اندھا اس آنکھوں والے سے کہے کہ نہیں صحیح وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

محمد ﷺ سچے رسول ہیں اور ان کا پیغام بہترین ہے تشریح : ان آیات کے شروع میں رب کائنات پھر قسم کھا کر اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سچے رسول ہیں۔ کیونکہ انہوں نے جو بھی حکم دیا قرآن کے مطابق دیا اور قرآن ایک ایسی سچی آسمانی کتاب ہے جو اللہ کی طرف سے نبی ﷺ کی طرف وحی کے ذریعے نازل کی گئی۔ کفار جو ان کے لیے الٹے سیدھے مفروضے بناتے ہیں تو یہ بالکل غلط ہیں کیونکہ وحی کوئی معمولی ذریعہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی مضبوط فرشتہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس کا پیغام پہنچانے کے کام پر معمور ہیں۔ یہاں صاف طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ان کو دیکھا جب وہ پہلی وحی کے ساتھ آپ ﷺ کے سامنے آئے اس کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–25

آیات 1 تا 25۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے یعنی ستاروں کا اپنے اپنے مقررہ راستوں پر وقت غروب تک ایسے چلنا کہ لوگ ان سے راستہ پاتے ہیں اس بات پر گواہ ہے کہ جس رب کے ستارے تک نہیں بھٹکتے بھلا ا اس کا رسول کیسے بھٹک سکتا ہے اور یہ تو تمہارے درمیان بسنے والی ہستی ہے وہ ہستی جس کا ساراوقت تمہارے ساتھ بسراہو اور جس کی صداقت وامانت کے تم خود گواہ ہو۔ صاحبکم۔ اور دوسری نعمت صاحبکم میں یہ رکھی ہے کہ آپ کا دامن شفقت تو سب کے لیے پھیلا ہوا ہے آپ کی برکات سے وہی بےنصیب محروم ہے جو خود کو الگ کرلے کہ یہ ہستی ہمیشہ صراط مستقیم کی ضامن ہے۔ آپ نہ کبھی راہ حق سے بھولے کہ غلطی سے بھٹک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 9–13

ف 6 یہ معراج کا واقعہ ہے کہ آنحضرت نے جبرئیل کو دوسری مرتبہ ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(53:12) افتمرونہ علی مایری۔ ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہےعاطفہ ہے کلام کی تقدیر یوں ہے۔ اتکذبونہ فتمارونہ : تمارون مضارع جمع مذکر حاضر مماراۃ مفاعلۃ مصدر سے : (م ر ی مادہ) ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ کیا تم اس کو جھٹلاتے ہو اور اس سے جھگڑا کرتے ہو۔ یعنی جس چیز کو وہ دیکھنے کا دعوی کر رہے ہیں تمہیں اس کا انکار یا تکذیب نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ہی جھگڑنا چاہیے۔ قرآن مجید میں اور جگہ ہے فلا تمار فیہم الا مراء ظاھرا (18:22) تم ان کے معاملہ میں مت جھگڑنا۔ مت گفتگو کرنا۔ تمارون : مراء سے مشتق ہے مراء کا معنی جھگڑا کرنا۔ مری الناقۃ دودھ نکالنے کے لئے اونٹنی کے تھن سہلانا۔ باہم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–18

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 18 ھوی نیچے اترا، غائب ہوا۔ عوی راہ بھٹک گیا۔ ماینطق وہ نہیں بولتا۔ شدید القوی بڑی طاقتوں والا۔ ذومرۃ زور دار۔ الافق الاعلی بلند کنارا۔ دنا قریب ہوا۔ تدلی وہ آگے بڑھا، لٹک گیا۔ قاب مقدار۔ قوسین دو کمانیں۔ تمرون تم جھگڑتے ہو۔ نزلۃ اترنا۔ سدرۃ بیری کا درخت۔ یغشی وہ ڈھانپ لیتا ہے۔ مازاغ نہیں لڑا۔ ماطغی حد سے نہ بڑھا۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 18 ستارے غائب ہوجانے کے بعد جب سورج نکلتا ہے تو ہر طرف اس کی کرنوں سے دنیا جگمگا اٹھتی ہے۔ درختوں پر ایک پھبن اور ہر چیز پر رونق آجاتی ہے۔ اندھیرے سمٹ جاتے ہیں اور سورج کی روشنی کے سامنے ہر روشنی ماند پڑجاتی ہے۔ اسی طرح کفر اور ظلم کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

معجزہ معراج النبی ﷺ کے بارے قریش کا جھگڑا کرنا۔ (ف 1) مشرکین مکہ شب معراج کے واقعات کا انکار کرتے، اور اس میں جھگڑتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کو تنبیہ فرمائی کہ بیت المقدس کی جن چیزوں کا حال تم لوگوں نے پوچھا، نبی ﷺ نے وہ سب حال تم سے صحیح بیان کردیا، جس کو تم لوگ جھٹلانہ سکے، پھر نبی ﷺ اللہ کی قدرت سے عادت کے خلاف جس طرح ایک دم میں بیت المقدس پہنچ گئے اور بیت المقدس کی سب چیزوں کو دیکھا اسی طرح اس رات میں آسمان کے اور عجائبات بھی انہوں نے دیکھے، ان کی دیکھی ہوئی چیزوں کو اوپری باتوں کے جھگڑے نکال کر جوتم لوگ جھٹلاتے ہو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ بیت المقدس کی حالت نے تمہاری سب اوپری…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[7] یہ ابتدائے نبوت کا واقعہ ہے جب جبرائیل (علیہ السلام) پہلی مرتبہ اپنی اصلی صورت میں نبی ﷺ کو نظر آئے۔ اس وقت آسمان مشرق سے مغرب تک ان کے وجود سے بھرا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 2–16

جبریل کو دیکھا 3: یعنی جس طرح ستارے غروب کے وہقت سمت کا صحیح صحیح پتہ دیتے ہیں ۔ اور گم گشتگان راہ ان کو دیکھ کر اپنا راستہ پالیتے ہیں ۔ حضرت محمد ﷺ ہدایت کے کو کب تابان میں اور جو کچھ کہتے ہیں ۔ اس میں گمراہی اور فکرواستقلال کی لغزش کو قطعاً داخل نہیں ۔ ان کی سب باتیں وحی والہام کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ یہ اپنی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق نہیں کہتے ۔ ان کے خیالات اور ان کی خواہشات نفس کے تابع ہیں ۔ منشاء الٰہی کے ان کے معلم جبرائیل ذی قوت ہیں ۔ جن کی التقاء کی استعداد بہت زبردست ہے ۔ آپ نے ان کو اپنی پوری شکل میں دیکھا ہے ۔ جب کہ یہ آسمان کے بلند ترین کنارے پر متمکن تھے ۔ پھر جب قریب ہوئے ۔ کچھ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) پس تم کیا پیغمبر کی دیکھی ہوئی چیز میں اس سے جھگڑتے ہو۔ یعنی محمد ﷺ نے اس فرشتہ کا جس طرح مشاہدہ کیا اور معائنہ کیا دلنی اور دماغ نے اسی طرح سمجھا دل نے جھوٹ نہیں کہا اور دماغ نے اس کے سمجھنے میں کوئی غلطی نہیں کی تو اب ایسی بات جس کو ان کی آنکھوں نے دیکھا اور دل و دماغ نے سمجھا تم اس چیز میں اے منکرو اس پیغمبر سے جھگڑا کرتے ہو۔ ایسا جھگڑا کٹ حجتی اور حماقت نہیں تو اور کیا ہے تمہاری گفتگو اور مجادلہ بیکار اور تمہاری ایک عامیانہ حرکت ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–19

ف 6۔ خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے، خواہ صرف معانی کی جو سنت کہلاتی ہے، اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو جس سے اجتہاد فرماتے ہیں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام کا نفی ہے زعم کفار کی، یعنی خدا کی طرف غلط بات کی نسبت نہیں فرماتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم اس سے اس پر جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا 12 ؎ (تما رونہ) تم اس سے جھگڑتے ہو۔ تم اس سے گفتگو کرتے ہو۔ تم اس کے متعلق شک کرتے ہو (تمارون) محاراۃ سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ” ہ “ ضمیر واحد مذکر غائب ہے۔ یہ خطاب آپ ﷺ کے مخالفین ومعاندین سے ہے جنہوں نے نبی اعظم و آخرت ﷺ کی بات کو سن کر طرح طرح کی بحث و تکرار شروع کردی اور آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی طرف کی گئی وحی کو اسہتزاء اور مذاق کا نشانہ بنایا۔ حالانکہ نبی کریم ﷺ نے وہی کچھ بیان کیا جس کا آپ ﷺ کو مشاہدہ کرایا گیا جس کی تفصیل قدرے سورة بنی اسرائیل میں گزر چکی اور ان شاء اللہ اس جگہ بھی عنقریب بیان ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–12

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَ‌أَىٰ (The heart did not err in what he saw....53:11) Fu'ad means heart, and the verse means whatever the eyes saw, the heart did not err in its grasping. This erring in the verse is described as kidhb [ lying ]. In other words, the heart did not lie in connection with the perceived objects. It did not err or slip up. In the phrase mara'a 'what he saw', the Qur'an does not specify what it saw. The blessed Companions ؓ and their followers, and the leading authorities on Tafsir hold two divergent views as was discussed in detail earlier: [ 1] The phrase means it […

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–14

10 That is, "As the Holy Prophet Muhammad (upon whom be peace) observed all this in broad daylight in the waking condition, with open eyes, his heart did not deem it was a delusion, or that it was a jinn or a devil, who had appeared before him, or that it was an imaginary figure, or a vision that he was seeing while awake, but his heart fully confirmed what his eyes saw. He did not for a moment doubt that it was the Angel Gabriel and the Message he was conveying was indeed God's Revelation to him." Here, the question arises: How is it that the Holy Prophet (upon whom be peace) did not…

Read the full tafseer →