Ayah 53:1و النجم اذا ھوٰی . قسم ہے (مطلق) ستارے کی جب وہ غروب ہونے لگے۔
والبی اور عوفی کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب ثریا گرجائے (غائب ہوجائے) ھوٰی کا معنی ہے غائب ہوجانا۔ عرب ثریا کو النجم کہتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے (کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) زمین پر جو آفت ارضی (کیڑے مکوڑے وغیرہ) ہوتی ہے۔ نجم یعنی ثریا کے نکلنے ہی وہ جاتی رہتی ہے۔ (رواہ البغوی)
امام احمد کی روایت میں ہے ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی (ارضی) آفت برپا ہو اور نجم صبح کو نکلے اور وہ آفت دور نہ کردی گئی ہو یا ہلکی نہ کردی گئی ہو۔ اس کی سند ضعیف ہے۔
مجاہد نے کہا آسمان کے سب ستارے مراد ہیں۔ النجم میں الف لام جنسی ہے (نجم کا معنی ہے برآمد ہونا) برآمد ہونے کی وجہ سے ہی ستاروں کو نجم کہا جاتا ہے۔ ہر برآمد ہونے والی چیز نجم ہے۔ کہا جاتا ہے : نجم السن دانت برآمد ہوا۔ قرآن اور سنت کے بھی نجوم ہوتے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : رجوم الشیٰطین : یعنی شیطان جو عالم بالا کی باتیں سننے کے لیے اوپر جاتے ہیں ان پر ا (نگاروں کی طرح پڑنے والے) تارے ہی ہوتے ہیں۔
ابو حمزہ ؓ نے کہا : آیت میں وہ ستارے مراد ہیں جو قیامت کے دن جھڑ جائیں گے ‘ بکھر جائیں گے۔
عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ النجم سے قرآن مراد ہے کیونکہ 23 برس میں قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا۔ تَنْجِیْم کا معنی ہے تفریق۔
کلبی نے کہا : ھوٰی کا معنی ہے اوپر سے نیچے اترنا۔
اخفش نے کہا : نجم اس پودے کو کہتے ہیں جس میں تنہ نہ ہو یعنی بیل۔
اللہ نے فرمایا ہے : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدَان اور ھوٰی کا معنی ہے زمین پر گرنا۔
امام جعفر صادق نے فرمایا : آیت میں رسول اللہ ﷺ مراد ہیں جب شب معراج میں آسمان سے نیچے اترے تھے۔ ھوٰی کا معنی ہے اترنا۔
بعض علماء نے کہا : النجم سے مراد ہے مسلمان اور ھوٰی سے مراد ہے اس کا قبر میں دفن ہونا۔
نجم کے وقت ہو یٰ کو قسم کے لیے اس وجہ سے مخصوص کیا کہ یہ وقت نجم کے اوقات میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ‘ جس کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
1) اگر نجم سے مراد ثریا یا عام ستارے ہوں اور ہویٰ سے مراد ہو ستاروں سے شعلہ نکلنا اور شیطانوں پر انگارے پڑنا تو ظاہر ہے کہ نجوم کی پیدائش کی اصل غرض رجم الشیطان ہی ہوگی اور اگر ہویٰ سے مراد قیامت کے دن ستاروں کا بکھرنا اور جھڑنا مراد ہو تو تکمیل مقصد یعنی ستاروں کے گرنے کا وہی وقت ہوگا اور اگر ہویٰ سے غروب نجم مراد ہو تو ظاہر ہے کہ ستاروں کا چھپنا اور غروب ہونا وجود صانع کا واضح ثبوت ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں کے ڈوبنے اور چاند ‘ سورج کے غروب ہونے سے صانع برتر کی ہستی پر استدلال کیا تھا اور کہا تھا : لَا اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔
2) اور اگر نجم سے نجم القرآن اور ہویٰ سے نزول مراد ہو تو یقینی امر ہے کہ نزول قرآن لوگوں کی ہدایت کے لیے ہوا اور اگر نجم سے رسول اللہ ﷺ کی مبارک شخصیت اور ہویٰ سے مراد شب معراج میں آپ ﷺ کا آسمان سے نیچے اترنا ہو تو ناقابل شک ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عروج کے بعد آپ ﷺ کا ہدایت خلق کے لیے نیچے اترنا اللہ کا بڑا احسان اور انعام ہے ‘ جس کی کوئی مثال نہیں۔
3) اور اگر نجم سے مسلمان اور ہویٰ سے مراد قبر میں دفن کیا جانا ہو تو بلاشبہ ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ شیطانی اغواء اور نفسانی وسوسہ سے محفوظ رہ کر مسلمان کا مرنا اور دفن ہونا عظیم الشان نعمت خداوندی ہے۔
Ayah 53:2ما ضل صاحبکم وما غوی . یہ تمہاے ساتھ رہنے والے نہ راہ سے بھٹکے ‘ نہ غلط رو ہوئے۔
” صاحب “ سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں یعنی ہدایت کے راستے سے نہ بھٹکے اور نہ باطل کے راستہ پر چل کر کج راہ ہوئے۔ بعض علماء نے کہا : ضلالت (گمراہی) ہدایت کے مقابل اور غی (کج راہی) رُشد کے مقابل ہوتی ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ ہدایت یافتہ ہیں (گمراہ نہیں) اور صاحب رشد ہیں (کج راہ نہیں) اے اہل قریش ! تمہارا خیال غلط ہے جو ان کو گمراہ اور کج رو سمجھتے ہو۔
Ayah 53:3وما ینطق عن الھوی . اور نہ یہ اپنی نفسانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں۔
وَمَا یَنْطِقُ : یعنی قرآن ہو یا دوسرا ارشاد وہ اپنے میلان نفس سے کچھ نہیں کہتے۔ مطلب یہ کہ شاعروں کے شعروں کی طرح قرآن انہوں نے خود نہیں بنایا۔ اسی طرح وہ جو کلام کرتے ہیں اپنے میلان نفس کے ماتحت نہیں کرتے وحی جلی (قرآن) ہو یا خفی (احادیث) سب اللہ کی طرف سے ہوتی ہیں بلکہ وہ اجتہاد فکری بھی بامر خدا ہوتا ہے۔
Ayah 53:4ان ھو الا وحی یوحی . ان کا ارشاد خالص وحی ہے جو ان کو بھیجی جاتی ہے۔
اِنْ ھُوَ : یعنی قرآن۔ اس جملہ میں کوئی لفظ ایسا نہیں جو یہ ثابت کرتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ خود اپنے اجتہاد سے کلام نہیں کرتے تھے بلکہ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی کی تائید اس جملہ سے ہو رہی ہے۔
Ayah 53:5علمہ شدید القوی . ان کو ایک بڑے طاقتور (فرشے) نے تعلیم دی۔
شَدِیْدُ الْقُوٰی : یعنی اللہ جو بڑی قوّ توں والا ہے۔ قُوٰی ‘ قُوَّتٌ کی جمع ہے۔
Ayah 53:6ذو مرۃ . جو پیدائشی طاقتور ہے۔
مِرَّۃٌ : قوّت ‘ شدت ‘ پختگی ‘ مضبوط کرنا (قاموس) اللہ کی گرفت بہت سخت ہے وہی ہر چیز کی اصل کو مضبوط کرتا ہے۔
فاستوی . پھر وہ (فرشتہ اپنی) اصلی صورت میں نمودار ہوا۔
لفظ اِسْتَوٰی متشابہات میں سے ہے جس کی مراد سوا اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ سلف (رح) نے آیت : الرَّحْمٰنُ عَلُی الْعَرْشِ اسْتَوٰی کی تشریح میں صراحت کی ہے کہ اِسْتِوَا : کا معنی معلوم ہے (لیکن استواء رحمٰن) بےکیفیت ہے۔ یعنی استواء کا معنی معلوم ہے لیکن کیفیت مجہول) سہیل بن عبداللہ تستری نے فرمایا : کسی مؤمن کے لیے جائز نہیں کہ وہ یہ سوال کرے کہ جس نے استواء کو پیدا کیا اس کا استواء کیسا ہے ؟ ہم پر رضا اور تسلیم لازم ہے۔ امام مالک (رح) بن انس ؓ نے فرمایا : کیفیت نامعلوم ہے اور استواء (کا ترجمہ) نامعلوم نہیں ہے اور استواء (کی کیفیت) کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو جو قرآن سکھایا تو رسول ﷺ سے اللہ کی نسبت ایسی ہی نامعلوم ہے جیسے عرش مجید یا کعبہ شریف سے اللہ کی نسبت مجہول ہے۔
Ayah 53:7وھو بالافق الاعلی . اس وقت وہ (آسمان کے) بلند ترین کنارے پر تھا۔
وَھُوَ : یعنی رسول اللہ ﷺ ۔ مطلب یہ کہ وحی کے وقت رسول اللہ ﷺ استعداد کی نہایت بلندی پر تھے۔ اس وقت آپ ﷺ کا مرتبہ بہت اونچا تھا۔
اُفق : کا معنی ہی کنارہ یعنی دائرۂ مکان کی آخری حد پر تھے کہ اس سے آگے دائرۂ وجوب تھا جسکے اندر کوئی سالک قدم نہیں رکھ سکتا۔
Ayah 53:8ثم دنا فتدلی
پھر وہ (فرشتہ رسول اللہ ﷺ کے) قریب آیا۔ پھر اور قریب آیا
دونوں جگہ مضاف محذوف ہے یعنی مقدار قرب دو قوسوں کے قرب کے برابر بلکہ اس سے بھی قریب تھی۔ بغوی نے لکھا ہے قصہ معراج میں شریک بن عبداللہ بن انس کی روایت سے ہم سے بیان کیا گیا کہ رب العزت قریب ہوا۔ پھر نیچے آیا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اتنا قریب ہوگیا جیسے دو کمانوں کا فاصلہ بلکہ اس سے بھی قریب۔
شیخ محمد حیات سندھیؔ نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے یہ حدیث غریب ہے اسی طرح حضرت ابن عباس ؓ نے بھی بیان کیا جس کو ابو سلمہ نے نقل کیا۔
Ayah 53:9فکان قاب قوسین او ادنی . سو دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم۔
اس جگہ ” او “ کا ترجمہ یا (شکیہ) نہیں ہے بلکہ او بمعنی بل ہے جیسے آیت : فَاَرْسَلْنَا اِلٰی مِأَۃٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَ میں او کا معنی ہے (بلکہ) صوفیہ نے کہا کہ دو کمانوں سے مراد ہے قوس امکان اور قوس وجوب۔ صوفی مرتبہ قرب میں قاب قوسین کے مقام پر پہنچتا ہے تو اس کی نظر دونوں قوسوں (دائرۂ مکان اور دائرۂ وجوب) کی طرف ہوتی ہے لیکن مرتبہ ادنیٰ (اقرب) پر پہنچتا ہے تو اس کی نظر سے قوس امکان پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ اس کو اپنی ہستی کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔
قَابَ ‘ قَیْبَۃٌ قَاو اور قَیْدٌ سب کے معنی ہیں : مقدار ‘ اس جگہ انتہائی قرب سے کنایہ ہے۔
عرب کا رواج تھا کہ جب دو شخص آپس میں دوستی کا معاہدہ کرتے تھے اور خصوص و مؤدت کا اظہار کرنا چاہتے تھے تو ہر ایک اپنی کمان لاتا اور دوسرے کی کمان سے چمٹا کر رکھ دیتا تھا۔ اس سے اس امر کا اظہار مقصود ہوتا تھا کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے حمایتی اور ہر طرح کے مددگار ہیں اور اتنے ہی قریب ہیں جیسے یہ دو کمانیں۔ یہاں قاب قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی سے مراد باری تعالیٰ کے قرب کا مرتبہ ہے جس کا ادراک ایک عارف ہی کرسکتا ہے۔ جس نے مرتبۂ قرب کا مزہ نہ چکھا ہو وہ کیا جانے۔ کتب تصوّف میں ان درجات کا ذکر ان گنت الفاظ میں کیا گیا ہے۔
ضحاک نے کہا : (دَنٰی فَتَدَلّٰی کی ضمیریں رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہیں) آیت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رب سے قریب ہوئے۔ پھر (سجدہ کے لیے) جھکے۔ اس قول پر ضمیروں کا انتشار لازم آئے گا۔ (اس لیے یہ قول درست نہیں ہے) ۔
Ayah 53:10فاوحی الی عبدہ ما اوحی . پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمائی۔
اوحی اور عبدہٖ کی ضمیریں شَدِیْدُ القوٰی کی طرف راجع ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت انس ؓ سے یہی قول مروی ہے اور عربی قواعد کے لحاظ سے اس میں کوئی سقم بھی نہیں ہے۔
حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اور اکثر اہل تفسیر نے اسی کو اختیار کیا ہے کہ شدید القوٰی سے مراد حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں اور فاستوٰی کی ضمیر بھی حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ ایک روایت میں ذُوْمِرَّۃٍ کا ترجمہ ” خوبصورت “ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے لیکن قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا : خوبصورت ‘ طویل القامت اور ھو کی ضمیر راجع ہے رسول اللہ ﷺ کی طرف۔
بغوی نے لکھا ہے جبرئیل ( علیہ السلام) اور محمد ﷺ شب معراج میں مستوی ہوگئے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ ھو ضمیر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ جبرئیل ( علیہ السلام) آدمی کی شکل میں دوسرے انبیاء کے پاس آتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس بھی اسی طرح بشکل انسان آتے تھے۔ ایک بار حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) سے فرمایا : آپ مجھے اپنی اصل شکل دکھا دیجئے۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے آپ کو اپنی اصلی شکل دو مرتبہ دکھائی۔ ایک بار زمین پر اور ایک بار آسمان پر تو مشرق کی طرف سے نمودار ہوئے۔ اس وقت حضور ﷺ حراء میں تھے۔ افق اعلیٰ سے مشرقی کنارہ مراد ہے۔ جس وقت جبرئیل ( علیہ السلام) مشرقی افق سے برآمد ہوئے تو مشرق سے مغرب تک پورے افق پر چھا گئے۔ حضور اقدس ﷺ یہ منظر دیکھتے ہی بیہوش ہو کر گرپڑے۔ جبرئیل ( علیہ السلام) فوراً آدمی کی شکل میں اتر کر آگئے اور رسول اللہ ﷺ کو چمٹا لیا اور چہرۂ مبارک سے غبار صاف کرنے لگے۔ دوسری بار آسمان میں سدرۃ المنتہیٰ کے پاس شب معراج میں آپ ﷺ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کی اصل شکل دیکھی۔ سوائے رسول اللہ ﷺ کے اور کسی نبی نے حضرت جبریل ( علیہ السلام) کو اس شکل میں نہیں دیکھا۔
ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی : یعنی جبرئیل جب زمین کے مشرقی افق پر نمودار ہوئے اور رسول اللہ ﷺ بےہوش ہو کر گرپڑے تو جبریل اتر کر آپ ﷺ کے پاس آئے اور بمقدار قوسین بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب آگئے۔ قوس سے مراد یہی کمان ہے جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔ مجاہد ‘ عکرمہ اور عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ چلہ سے کمان کا جتنا فاصلہ ہوتا ہے اتنا فاصلہ ایک قوس سے مراد ہے۔ (دو قوسوں کا فاصلہ اس سے دوگنا ہوگیا) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قَابَ قَوْسَیْنِ : یعنی دو ہاتھ (شرعی دو گز) مقدار سعید بن جبیر ؓ اور شقیق بن سلمہ کا بھی یہی قول ہے۔ قوس ایک ذراع ہوتی ہے جس سے ہر چیز ناپی جاتی ہے۔ بخاری نے اس آیت کی تشریح میں حضرت عائشہ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے اسی کے قائل ہیں حضرت ابن عباس حسن ؓ اور قتادہ۔
بعض اہل علم نے کہا : کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام تَدَلّٰی فَدَنٰی تھا کیونکہ نیچے کو اترنا ہی موجب قرب تھا لیکن ظاہر کلام اس قول کے خلاف ہے کیونکہ قرب کا مفہوم عام ہے اوپر سے نیچے اترنے سے بھی قرب ہوسکتا ہے اور بغیر نزول کے کسی مسافت کو طے کر کے منتہیٰ کے پاس پہنچنے کو بھی دُنُوٌّ (قرب) کہتے ہیں۔ جس مسافت کو طے کرنے کا ارادہ ہو اس مسافت کو طے کرنے کے بعد مقصد کے قریب پہنچ جانے کو دنو کہتے ہیں۔ خو اہ قریب آنے والی چیز اوپر سے نیچے کو نہ اتری ہو اور تدلّٰی کا یہ مفہوم بھی ہے کہ منتہیٰ کی جانب پہنچنے کے ساتھ اس چیز کا تعلق مبداء سے قائم رہے۔ جیسے ڈول کی رسّی ہاتھ میں رہتی ہے اور ڈول لٹک کر قعرۂ چاۂ کی طرف جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں : ادلٰی رجلہٗ اس نے اپنے پاؤں تخت سے نیچے لٹکا دیئے اور کہتے ہیں ادلٰی دلوہ اس نے اپنا ڈول لٹکا دیا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو وحی جبرئیل (علیہ السلام) کو کی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے وہی وحی اللہ کے بندے کو پہنچا دی۔ یہ تفسیر قانون نحو کے بھی خلاف ہے اور عقل و درایت کے بھی۔
1) یُوْحٰی یعنی سارا قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا۔ اس کا کوئی حصہ رسول اللہ ﷺ کا خود ساختہ نہیں ہے۔ یُوْحٰی کی ضمیر ذوالحال ہے اور اس کے بعد سارے حال ہیں۔ شَدِیْدُ الْقُوٰی اور فاسْتَوٰی اور وَھُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰی اور ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی یہ سب جملے حال ہیں اور عربی نحو کا ضروری قاعدہ ہے کہ حال اور ذوالحال کا زمانہ ایک ہی ہونا چاہیے۔ لہٰذا ان تمام جملوں کا وقوع مضمون وحی قرآن کے وقت ضرور ہونا چاہیے۔ یعنی قرآن مجید کی ہر آیت جس وقت نازل ہوئی اس وقت جبرئیل کا استواء اور افق اعلیٰ میں موجود ہونا اور قریب آنا اور اتنا قریب آجانا جتنا دو کمانوں کا فاصلہ ہوتا ہے لازماً ہونا چاہیے۔ ورنہ اگر کسی آیت کے نزول کے وقت یہ حالات نہ ہوں تو حال و ذوالحال کے زمانہ کی تفریق لازم آئے گی یا کچھ آیات کا نزول (اور ساخت) بغیر وحی کے ہونا جائز قرار پائے گا اور جس مضمون کو اِنْ ھُوَ الاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی میں بیان کیا گیا ہے اس کی تکذیب لازم آئے گی۔
2) دوسرے اَوْحٰی کی فاعلی ضمیر اور عَبْدِہٖ کی مجرور ضمیر دونوں سے مراد اللہ ہے اس لیے اوّل اَوْحٰی کا فاعل بھی اللہ ہی ہوگا۔ جبرئیل نہ ہوگا ‘ ورنہ انتشار ضمائر لازم آئے گا۔
3) جبرئیل کا رسول اللہ ﷺ کے قریب آنا اور نازل ہونا اور اتنا پاس آجانا جتنا قوسین کا فاصلہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے لیے باعث کمال نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا مرتبہ تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) سے افضل تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا آسمان میں میرے دو و زیر ہیں جبرئیل اور میکائیل۔
تفسیر دوم کی طرف رجوع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ قرب اور نزول اور استواء کو اللہ کی طرف منسوب کرنا بعید از فہم ہے ‘ سمجھنے والی بات نہیں ہے لیکن قرآن میں تو کچھ آیات متشابہات بھی ہیں۔ جن کی مراد سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا پھر اس آیت کو بھی اگر متشابہات میں سے قرار دیا جائے تو کیا حرج ہے۔ اللہ کا استواء قرب نزول سب کے معانی تو معلوم ہیں لیکن کیفیت معلوم نہیں۔ صرف ارباب القلوب ان صفات کا اس طرح مشاہدہ کرتے ہیں جس طرح چودہویں کے چاند کو دیکھا جاتا ہے ‘ اس لیے زیادہ مناسب قول اوّل ہی ہے۔
سعید بن جبیر ؓ نے آیت : فَاَوْحٰی اِلٰی عَبْدِہٖ مَا اَوْحٰیکی تشریح میں فرمایا : اللہ نے اپنے بندے کے پاس آیت : اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا سے وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ وحی بھیجی۔ بعض علماء نے کہا : اللہ نے یہ وحی بھیجی کہ جب تک آپ جنت میں داخل نہ ہوں گے (دوسرے) انبیاء کے لیے جنت حرام ہے اور جب تک آپ کی امت داخل نہ ہوجائے گی اور امتوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ وحی عام ہے ‘ تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔
Ayah 53:11ما کذب الفواء دما رای . قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں کوئی غلطی نہیں کی۔
اَلْفُؤَادُ : یعنی رسول اللہ ﷺ کا دِل۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پنکھ تھے۔ حضرت عائشہ کا قول بھی اسی طرح آیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ (معراج میں) اللہ کو دیکھنے کی منکر تھیں۔ مسروق کا بیان ہے میں نے عرض کیا : اماں کیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ فرمایا : تمہارے اس قول سے تو (خوف کی وجہ سے) میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ کیا تم کو دو تین باتیں معلوم نہیں کہ جو ان کا قائل ہے وہ جھوٹا ہے۔ (1) جو شخص کہتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ جھوٹا ہے یہ کہہ کر ام المؤمنین نے آیت : لَا تُدْرِکُہُ الْاَنْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ وَھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ تلاوت فرمائی اور یہ آیت بھی پڑھی : وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللہ الاَّ وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ (اس کے بعد فرمایا :) ‘(2) اور جو شخص تم سے کہے کہ رسول اللہ ﷺ آنے والے کل کی بات جانتے تھے تو وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر آپ ؓ نے آیت : مَا تَدْرِیْ نَفْسٌ مَّاذَا تَکْسِبُ غَدًا تلاوت فرمائی (پھر فرمایا :) ‘(3) اور جو شخص تم سے کہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وحی کا کوئی حصہ پوشیدہ کرلیا تھا وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر آپ ؓ نے آیت : یٰٓایُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّک تلاوت فرمائی۔ ہاں ! جبرئیل کو ان کی (اصل) شکل میں دو بار دیکھا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی وَلَقَدْ رَاہُ نَزَلَۃً اُخْرٰی : محمد ﷺ نے اپنے رب کو دو بار اپنے دل سے دیکھا تھا۔ (رواہ مسلم) ترمذی کی روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : محمد نے اپنے رب کو دیکھا تھا۔ عکرمہ ؓ نے عرض کیا : اللہ نے نہیں فرمایا ہے : لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ : ارے یہ (روایت) تو اس وقت ہوئی تھی جب اللہ اپنے نور (اخلاص) سے جلوہ اندوز ہوا تھا۔ بیشک محمد ﷺ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا تھا۔
حضرت انس ‘ حسن اور عکرمہ کا قول ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا یعنی اپنی آنکھ سے۔ بغوی نے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے ابراہیم کو خلت کے لیے چن لیا اور خلیل اللہ فرما دیا اور موسیٰ کو کلام کے لیے اور محمد ﷺ کو (اپنی) رؤیت کے لیے۔ ابن جریر ؓ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا ‘ کیا آپ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا : میں نے اپنے دل سے اس کو دیکھا۔ ترمذی نے بروایت شعبی بیان کیا کہ کعب احبار نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا : اللہ نے اپنے کلام اور دیدار کو موسیٰ اور محمد کے درمیان تقسیم کردیا۔ موسیٰ سے دو بار کلام کیا اور محمد ﷺ نے دو بار (اس کو) دیکھا۔
میں کہتا ہوں جس رؤیت میں اختلاف علماء ہے وہ قلبی رؤیت نہیں ‘ چشم سر کی رؤیت میں اختلاف ہے۔ کیونکہ رؤیت قلبی جس کو مشاہدہ بھی کہا جائے (انبیاء تو درکنار) بعض اولیاء امت کو بھی حاصل ہوجاتی ہے۔ بعض اولیاء نے تو رؤیت چشم کے حصول کا بھی دعویٰ کیا ہے مگر یہ خلاف اجماع ہے۔ اتفاق علماء ہے کہ رؤیت چشم سوائے رسول اللہ ﷺ کے کسی امتی کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض صوفیہ کو اشتباہ ہوجاتا ہے ‘ وہ بیداری کی حالت میں مشاہدۂ قلبی میں ایسے غرق ہوجاتے ہیں کہ باوجود آنکھیں کھلی ہونے کے قوّت بصر معطل ہوجاتی ہے۔ وہ غلبۂ حال کی وجہ سے خیال کرتے ہیں کہ ہم آنکھوں سے رب کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان کی بینائی چشم معطل ہوتی ہے ‘ دل سے مشاہدہ میں غرق ہوتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کہ میں نے اپنے رب کو اپنے دل سے دیکھا اگر ثابت ہوجائے تو اس سے رؤیت چشم کی نفی صراحتہً ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں ! اس کا مفہوم ضرور یہ نکلتا ہے (اور دلالت مفہوم معتبر نہیں) البتہ حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت عائشہ کا قول ضرور صراحتہً نفی رؤیت چشم پر دلالت کر رہا ہے لیکن یہ شہادت علی النفی ہے اور شہادت اثبات کے مقابلہ میں شہادت نفی مرجوع (اور غیر معتبر) ہے۔ شہادت ثبوت راجح ہے۔ نفی رؤیت پر حضرت عائشہ کا استدلال کمزور ہے۔ سورة انعام میں لَا یُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ کی تفسیر میں ہم لکھ چکے ہیں کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے۔ اسلئے نفی ادراک سے نفی رویت لازم نہیں آتی۔ اللہ نے فرمایا ہے : قَالَ اَصْحَابُ مُوْسٰی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ قَالَ کَلاَّ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ : (حضرت موسیٰ نے نفی ادراک کے باوجودیکہ آپ کے ساتھ فرعون کے لشکر کو آتا دیکھ رہے تھے ‘ رؤیت کا انکار ممکن نہیں تھا) اس کے علاوہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تمام لوگ ادراک نہیں کریں گے (سلب عموم ادراک) اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی بھی ادراک نہ کرے گا (عموم سلب ادراک) رہی آیت : مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُکَلِّمَہُ اللہ ُ..... تو اس میں وحی کے دو طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ پس پردہ سے وحی اور بلا حجاب وحی۔ اس سے نفی رؤیت پر استدلال نہیں کیا جاسکتا۔
مسلم نے حضرت ابوذر کا قول نقل کیا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ؟ فرمایا : وہ نور ہے ‘ میں اس کو کیسے دیکھتا ؟ انّٰی بمعنی کیف استفہام انکاری ہے۔ بعض روایات میں نُوْراَنِیٌ کے بجائے نُوْرَانِیٌّ اَرَاہُ اَنّٰی آیا ہے۔ اس روایت کے بموجب رؤیت کا ثبوت ہوتا ہے لیکن مشہور روایت کے بموجب بھی صراحۃً مطلق رؤیت کی نفی نہیں ہوتی۔
میں کہتا ہوں اگر رؤیت چشم ثابت بھی ہوجائے جیسا کہ حضرت ابن عباس اور کعب احبار کے مکالمہ میں ہے۔ تب بھی آیت میں رؤیت قلبی ہی مراد ہوگی۔ کیونکہ ہر وحی کے وقت قلبی رؤیت کا ہی تصور کیا جاسکتا ہے۔ رؤیت چشم مراد نہ ہوگی کیونکہ (اگر اس کا وقوع ہوا تو) اس کی خصوصیت شب معراج کے ساتھ ہے۔
ابو جعفر اور ہشام کی قراءت میں بحوالہ ابو عباس کذب (باب تفعیل) سے آیا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ اپنی آنکھ یا اپنے دل سے دیکھا۔ دل نے اس کی تصدیق کی ‘ تکذیب نہیں کی بلکہ یقین کرلیا ‘ محقق مان لیا۔ بات یہ ہے کہ امور قدسیہ کا ادراک سب سے پہلے قلب سے ہوتا ہے پھر یہ ادراک چشم بصیرت کی طرف منتقل ہوتا ہے (یعنی بصر و بصیرت اس کا ادراک کرتے ہیں) پس اگر ادراک قلبی کے موافق ادراک چشم و بصیرت ہو تو دل اس کی تصدیق کرتا ہے لیکن بصر و بصیرت کی رسائی ادراک قلبی تک نہ ہو بلکہ اس کے خلاف ہو تو قلب اس کی تکذیب کرتا ہے۔ سچے علوم رحمانی اور جھوٹے خیالات اور اشتباہات شیطانی میں یہی فرق ہے۔ کبھی صوفی کے مکاشفات اور رحمانی الہام میں وہم و خیال کی بنائی ہوئی جھوٹی علمی تصویریں اور شیطانی الہامات اشتباہ پیدا کردیتے ہیں ‘ اس وقت صوفی اپنے دل سے پوچھتا ہے اگر دل اس کی تصدیق کرتا ہے اور مطمئن ہوتا ہے اور یقین کی خنکی اس کو مل جاتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ مکاشفات رحمانی ہیں اور سچے ہیں اور اگر دل ان کی تکذیب کرتا ہے ‘ دل کو ان پر اطمینان نہیں ہوتا تو قلب ان کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ یہ الہامات شیطانی اور اختراعات وہمی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تمہارے سینہ میں کوئی چیز پیدا ہو یعنی خلجان پیدا کر دے تو اس کو چھوڑ دو (یعنی اگر کوئی الہامی خیال تمہارے دل میں اطمینان پیدا نہ کرسکے تو اس کو ترک کر دو اور سمجھ لو کہ وہ شیطانی ہے یا وہم کا کرشمہ ہے ‘ مترجم) ۔
(رواہ احمد عن ابی امامۃ)
رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا : اگرچہ مفتی تم کو فتویٰ دے دیں پھر بھی (اطمینان کے لیے) اپنے دل سے فتویٰ طلب کرو۔
کیا تصدیق قلبی رؤیت قلبی سے کوئی الگ چیز ہے ؟
بے شک دونوں الگ الگ چیزیں ہیں تنقیح مسئلہ اس طرح کی جاسکتی ہے کہ جب اللہ کو مؤمن بندے سے بےکیف ذاتی محبت ہوجاتی ہے تو مؤمن کو اللہ کی بےکیف ذاتی معیت حاصل ہوجاتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بندہ کو اللہ کی ذات وصفات کا ادراک میسر ہوجاتا ہے لیکن رؤیت حاصل نہیں ہوتی۔ رؤیت کا تعلق صرف مرتبہ ظلیت سے ہے (یعنی رؤیت ظلال کی ہوتی یہ ذات وصفات کی نہیں ہوتی) قلب تو ممکنات ذات کو بھی نہیں دیکھتا بلکہ اس کے ظل اور شبیہ کو دیکھتا ہے کیونکہ ذہن میں کسی چیز کی ذات حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کی صورت اور شبیہ حاصل ہوتی ہے۔ ہاں نفس شئی اور ذات شئی کی رؤیت قوّ تِ باصرہ کی وساطت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے ذات خداوندی کی رؤیت تو دنیا میں ممکن نہیں (معراج میں رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا یا نہیں دیکھا ‘ اس اختلاف کا ذکر سطور بالا میں کردیا گیا ہے) کیونکہ دنیا میں حاسۂ بصری اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ البتہ آخرت میں (قوّ تِ باصرہ میں) اس کی صلاحیت و استعداد پیدا ہوجائے گی۔ اس لیے عام مؤمنوں کو دیدارِ الٰہی ہو سکے گا اور ادراک کا تعلق چونکہ صرف دل سے ہے بصارت چشم سے نہیں ہے۔ اس لیے نہ دنیا میں ادراک ذات باری کا ہوسکتا ہے نہ آخرت میں ممکن ہے۔ پس رؤیت قلبی خواہ بوساطت چشم ہو یا بلا توسط ‘ اس میں اختراع وہم ‘ ایجاد خیال اور تلبیس شیطانی کی کبھی آمیزش ہوجاتی ہے ‘ جس کی وجہ سے حق کو باطل کے ساتھ اختلاط ہوجاتا ہے یا بصیرت میں کمی آجاتی ہے اور بینائی اصل مرئی سے ہٹ جاتی ہے اس لیے غلطی ہوجاتی ہے۔ ادراک سادہ میں سے نہ وہم کی رخنہ اندازی ہوتی ہے ‘ نہ شیطان کی ‘ نہ نظر کی کج روی۔ اسلئے اطمینان بالحق ‘ تصدیق قلب اور تکذیب باطل پیدا ہوتی ہے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 53:12افتمرونہ علی ما یری . کیا تم ان سے ان کی دیکھی ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو ؟
تَمَارُوْنَ ‘ مِرَا ءٌ : سے مشتق ہے۔ مراء : کا معنی جھگڑا کرنا۔ مری الناقۃ : دودھ نکالنے کے لیے اونٹنی کے تھن کو ملنا۔ باہم جھگڑنے والے بھی اپنے مخالف کی دلیلوں کو نکلوانا چاہتے ہیں۔ اس لغوی مناسبت سے مراء کا معنی ہوگیا ‘ جھگڑا کرنا۔ اصل کلام اس طرح تھا : کیا تم رسول اللہ ﷺ کی بات کا انکار کرتے ہو اور ان سے جھگڑا کرتے ہو۔
استفہام توبیخی اور انکاری ہے یعنی محمد ﷺ جس چیز کے دیکھنے کا دعویٰ کر رہے ہیں تمہیں اسکا انکار اور جھگڑا نہ کرنا چاہیے۔
صیغۂ مضارع کا استعمال ماضی کے استحضار اور حکایت کے لیے ہے یا زمانۂ حال میں رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ دکھایا گیا ہے یا دکھایا جائے گا اس کے انکار پر بصورت استفہام توبیخ کرنی مقصود ہے۔
Ayah 53:13ولقد راہ نزلۃ اخری .
اور انہوں نے (یعنی محمد ﷺ نے) اس کو (یعنی فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں) ایک اور دفعہ بھی دیکھا۔
وَلَقَدْ رَاٰہُ : یعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو یا جبرئیل ( علیہ السلام) کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا۔
نَزْلَۃً اُخْرٰی : یعنی ایک اور نزول کے وقت نَزْلَۃً سے اس طرف اشارہ ملتا ہے کہ اس بار رؤیت نزول اور قرب کی حالت میں ہوئی کیونکہ ممکن واجب کو اسی وقت دیکھ سکتا ہے جب دیکھنے والا انسان امکان کے مرتبۂ انس اور افق اعلیٰ میں ہوا اور واجب مرتبہ تنزیہہ سے کچھ اتر کر درجۂ تشبیہ کی طرف آجائے اور حجاب صفات یا پردۂ ضلال کی آڑ سے اس کو دیکھا جاسکے۔ اس قول سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ واجب کی ذات میں کوئی نئی حالت پیدا ہوجاتی ہے۔ اللہ تغیرات سے پاک ہے بلکہ آئینۂ قلب میں جب صفائی پیدا ہوجاتی ہے تو مرتبہ علم میں نزول و عروج ہوتا ہے۔ یہ تفصیلی بحث سورة بقرہ کی آیت : ھَلْ یَنْظُرُوْنَ الاَّ اَنْ یَاْتِیَھُمُ اللہ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ کی تفسیر میں ہم نے ذکر کردی ہے۔
اُخْرٰی : کے لفظ سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ رؤیت صرف دو مرتبہ ہوئی بلکہ اس سے مراد ہے تعداد اور تعداد کا ادنیٰ درجہ چونکہ دو کا عدد ہے۔ اسلئے حضرت ابن عباس ؓ اور کعب الاحبار کے مکالمہ میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے رب کو دو مرتبہ دیکھا۔
اِس آیت میں رؤیت کا ذکر ہے جو شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوئی تھی۔
Ayah 53:14عند سدرۃ المنتھی . سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔
ظاہر یہ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور کعب الاحبار کے سوال میں جس رؤیت چشم کا ذکر آیا ہے یہ وہی رؤیت ہے جو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہوئی۔ عِنْدَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی کا تعلق مَا یَرٰی سے ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ میں اضافت موصوف الی الصفت ہے جیسے جانب الغرب اور مسجد الجامع میں ہے۔ علمائے بصرہ کے نزدیک موصوف محذوف ہے۔ اصل میں سدرۃ المکان المنتہیٰ تھا۔
سدرۃ کو منتہیٰ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اعمال خلق پہنچنے کی یہ آخری حد ہے ‘ یہاں پہنچ کر ملائکہ سے لے لیے جاتے ہیں اور اوپر سے احکام اتر کر یہاں تک پہنچتے ہیں اور یہاں سے ملائکہ لے کر نیچے اترتے ہیں۔ گویا یہ مقام احکام الٰہی کے نزول اور اعمال خلق کے عروج کی آخری حد ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ سے جو کچھ پرے ہے وہ غیب ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ اور کعب کا کلام اسی پر دلالت کرتا ہے۔
معراج کا قصّہ
صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بحوالہ حضرت مالک ؓ بن صعصعہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں حطیم میں سو رہا تھا کہ ایک آنے والا آیا ‘ اس نے اس جگہ سے اس جگہ تک یعنی ہنسلی کے گڑھے سے ناف تک (میرا سینہ) شق کیا پھر ایک سنہری طشت ایمان سے بھرا ہوا لایا گیا اور (اس سے) میرے دل کو دھویا گیا۔ پھر (ایمان کو) دل میں بھر کر اس کی جگہ دوبارہ رکھ دیا گیا۔ ایک روایت میں آیا ہے پھر آب زمزم سے اس کو دھویا گیا۔ اس کے بعد ایمان اور حکمت سے اس کو بھر دیا۔ پھر ایک چوپایہ لایا گیا جو خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا۔ جس کو براق کہا جاتا تھا۔ حد نظر تک اس کا ایک قدم پڑتا تھا ‘ پھر مجھے اس پر سوار کیا گیا۔ اس کے بعد جبرئیل مجھے لے کر روانہ ہوئے یہاں تک کہ آسمان دنیا تک اور (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ دریافت کیا گیا : کون ہے ؟ جبرئیل نے کہا : جبرئیل۔ پوچھا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ جبرئیل نے کہا : محمد ﷺ ۔ دریافت کیا گیا : کیا ان کے پاس تم کو بھیجا گیا تھا ؟ جبرئیل نے کہا : ہاں (دروازہ) فوراً کھول دیا گیا اور کہا گیا : مرحبا ‘ خوش آمدید ! جب میں اوپر پہنچا تو وہاں آدم کو موجود پایا۔ جبرئیل نے کہا : یہ تمہارے باپ آدم ہیں ‘ ان کو سلام کرو۔ میں نے سلام کیا۔ آدم ( علیہ السلام) نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بیٹے کے لیے مرحبا۔ اس کے بعد جبرئیل ( علیہ السلام) مجھے دوسرے آسمان تک چڑھا کرلے گئے اور (دروازہ) کھلوانا چاہا۔ حضور ﷺ نے آسمان تک پہنچنے کے سلسلہ میں بیان فرمایا۔ چناچہ فرمایا : جب میں اوپر پہنچا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ کو پایا ‘ جو آپس میں خالہ کے بیٹے تھے۔ جبرئیل نے کہا : یہی یحییٰ ہیں اور یہ عیسیٰ ہیں۔ ان کو سلام کرو۔ میں نے دونوں کو سلام کیا۔ دونوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور صالح نبی کے لیے مرحبا۔ حضور ﷺ نے تیسرے آسمان یر یوسف ( علیہ السلام) (کے ہونے) کا اور چوتھے پر ادریس کا اور پانچویں پر ہارون کا اور چھٹے پر موسیٰ (کے موجود ہونے کا) ذکر کیا۔ ہر ایک نے صالح بھائی اور صالح نبی کے لیے مرحبا کہا۔ جب میں آگے بڑھا یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) سے تو موسیٰ ( علیہ السلام) رو دیئے ‘ پوچھا گیا : آپ کے رونے کی کیا وجہ ؟ موسیٰ نے کہا : میں اس لیے رویا کہ ایک لڑکے کو میرے بعد (نبی بنا کر) بھیجا گیا۔ جس کی امت ‘ میری امت سے زیادہ جنت میں جائے گی۔ پھر مجھے چڑھا کر ساتویں آسمان تک لے جایا گیا۔ اس جگہ بھی حضور ﷺ نے دروازہ کھلوانے وغیرہ کا حسب مذکور بالا ذکر فرمایا اور وہاں ابراہیم (علیہ السلام) کے موجود ہونے کا بھی بیان فرمایا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : یہ آپ کے باپ ابراہیم ہیں۔ ان کو سلام کرو۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا : صالح بیٹے کے لیے مرحبا۔ اس کے بعد سدرۃ المنتہیٰ اٹھا کر میرے سامنے لایا گیا ‘ اس کے بیر ایسے تھے جیسے ہجر کے مٹکے اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان۔ جبرئیل نے کہا : یہ سدرۃ المنتہیٰ ہے ‘ وہاں سے چار دریانکل رہے تھے۔ دو اندرونی و بیرونی۔ میرے دریافت کرنے پر جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : دو اندرونی دریا تو وہ ہیں جو جنت کے اندر ہیں اور دو بیرونی دریا نیل و فرات ہیں۔ اس کے بعد بیت معمور میرے سامنے لایا گیا پھر ایک برتن شراب کا بھرا ہوا اور ایک برتن دودھ سے بھرا ہوا اور ایک برتن شہد سے بھرا ہوا ‘ میرے سامنے لایا گیا۔ میں نے دودھ لے لیا۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : یہی وہ (دین) فطرت ہے جس پر آپ ﷺ اور آپ ﷺ کی امت ہوگی۔ اس کے بعد مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں لوٹ کر آیا اور موسیٰ کی طرف سے گزرا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کیا حکم دیا گیا ؟ میں نے کہا : ہر روز پچاس نمازوں کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا : آپ کی امت ہر روز پچاس نمازیں نہیں پڑھ سکے گی۔ میں واللہ ! آپ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں۔ میں بنی اسرائیل کی درستی کی بھی سخت کوشش کرچکا ہوں۔ آپ ﷺ جا کر اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کیجئے۔ میں واپس گیا (اور تخفیف کی درخواست کی) اللہ نے دس نمازیں ساقط کردیں۔ میں لوٹ کر موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف آیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے وہی پہلے کی طرح بات کی۔ میں پھر لوٹ کر گیا اور اللہ نے دس نمازیں (اور) ساقط کردیں۔ میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے وہی بات پہلے والی کہی۔ میں لوٹ کر پھر گیا تو مجھے روز پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا۔ میں موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس آیاتو انہوں نے پوچھا : کیا حکم ملا ؟ میں نے کہا : مجھے ہر روز پانچ نمازوں کا حکم دیا گیا ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا : آپ کی امت روزانہ پانچ نمازوں کی بھی طاقت نہیں رکھتی۔ میں آپ ﷺ سے پہلے لوگوں کا تجربہ کرچکا ہوں اور بنی اسرائیل سے میرا سخت واسطہ پڑچکا ہے۔ آپ واپس جا کر اپنی امت کے لیے تخفیف کی اپنے رب سے درخواست کیجئے۔ میں نے کہا : میں اتنی مرتبہ درخواست کرچکا ہوں کہ اب (مزید درخواست کرنے سے) مجھے شرم آتی ہے لیکن میں خوشی و رضاء سے حکم کو تسلیم کرتا ہوں۔ جب میں (موسیٰ ( علیہ السلام) کے پاس سے) آگے بڑھا تو ایک نداء کرنے والے نے پکار کر کہا : میں نے اپنا فرض جاری کردیا اور اپنے بندوں کے لیے تخفیف کردی۔
مسلمؔ نے بوساطت ثابت بنانی حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس براق لایا گریا۔ وہ ایک چوپایہ تھا ‘ سفید دراز قامت گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا۔ اس کی (ایک) ٹاپ وہاں پڑتی تھی جہاں تک اس کی نظر پہنچتی تھی۔ میں اس پر سوار ہوگیا۔ یہاں تک کہ بیت المقدس پہنچ گیا۔ جس حلقہ سے دوسرے انبیاء (اپنے جانوروں کو) باندھ دیتے تھے۔ اس سے میں نے براق کو باندھ دیا۔ ابن جریر کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب ہم بیت المقدس پہنچ گئے تو جبرئیل نے اشارہ کر کے پتھر میں شگاف کردیا اور اس سے براق کو باندھ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھر میں داخل ہوا اور اس میں دو رکعت نماز پڑھی ‘ باہر نکلا تو جبرئیل ( علیہ السلام) ایک برتن شراب سے بھرا ہوا اور ایک برتن دودھ سے بھرا ہوا میرے پاس لائے۔ میں نے دودھ کو پسند کرلیا۔ جبرئیل نے کہا : آپ ﷺ نے فطرت کو پسند کرلیا ‘ اس کے بعد ہم کو چڑھا کر آسمان کی طرف لے گئے۔ باقی حدیث روایت اوّل کے موافق ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : میری ملاقات (وہاں) آدم سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تیسرے آسمان میں یوسف ( علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ ان کو (کُل انسانوں کے) حسن کا آدھا حصہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ اس روایت میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے رونے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ساتویں آسمان میں حضرت ابراہیم کی ملاقات کا ذکر کیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت المعمور سے کمر لگائے بیٹھے تھے۔ بیت المعمور میں ہر روز ستّر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں (عبادت کے بعد) جب نکل کر چلے جاتے ہیں تو دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے۔ اس کے بعد مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا۔ اس کے پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان اور پھل اتنے بڑے تھے جیسے مٹکے۔ جب سدرۃ المنتہیٰ پر جو کچھ چھانا تھا ‘ امر الٰہی سے چھا گیا تو اس میں ایسا تغیر پیدا ہوگیا کہ کوئی مخلوق اس کے حسن کا بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اللہ نے جو کچھ وحی کرنا تھی مجھ پر نازل کردی اور ہر شبانہ روز میں پچاس نمازیں مجھ پر فرض کردیں۔ میں اتر کر موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف آیا تو انہوں نے پوچھا : آپ ﷺ کے رب نے آپ ﷺ پر کیا فرض کیا ؟ میں نے کہا : ہر دن ‘ رات میں پچاس نمازیں۔ موسیٰ نے کہا : واپس جا کر اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں ہے۔ میں بنی اسرائیل کا تجربہ اور آزمائش کرچکا ہوں۔ میں واپس اپنے رب کی طرف گیا اور عرض کیا۔ اے میرے ربّ ! میری امت کے لیے تخفیف کر دے۔ اللہ نے پانچ نمازیں ساقط کردیں۔ میں موسیٰ کے پاس لوٹ کر آیا اور ان سے کہا : اللہ نے پانچ نمازیں کم کردیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا : آپ ﷺ کی امت میں اس کی بھی طاقت نہیں۔ لوٹ کر پھر اپنے رب کے پاس جائیے اور تخفیف کی درخواست کیجئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس طرح میں اپنے رب اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان برابر آتا جاتا رہا۔ آخر کار اللہ نے فرمایا : محمد ! ہر دن رات میں یہ پانچ نمازیں ہیں۔ ہر نماز دس کے قائم مقام ہے۔ اس لیے یہ پچاس نمازیں ہوگئیں۔ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے گا لیکن کر نہ پائے گا ‘ اس کے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور جو کر بھی لے گا اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے گا لیکن کر نہ پائے گا ‘ اس کے لیے کچھ نہیں لکھا جائے گا اور اگر کر گزرا تو اس کے لیے ایک گناہ لکھا جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد اتر کر میں موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف گیا اور (پچاس کی جگہ پانچ نمازیں باقی رہنے کی) ان کو اطلاع دی ‘ انہوں نے پھر یہی کہا کہ واپس جا کر اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ میں نے کہا : اتنی بار میں لوٹ ‘ لوٹ کر جا چکا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔
صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ کی وساطت سے حضرت ابوذر کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے گھر کی چھت میں شگاف کردیا گیا۔ اس وقت میں مکہ میں تھا۔ پھر آپ ﷺ نے شق صدر کا حسب روایت سابق ذکر کیا لیکن براق کا ذکر نہیں کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر جبرئیل میرا ہاتھ پکڑ کر آسمان کی طرف چڑھا کرلے گئے۔ جب میں آسمان دنیا تک پہنچا تو جبرئیل نے آسمان کے دربان سے کہا : کھولو۔ جب (دروازہ) کھول دیا گیا اور ہم آسمان دنیا پر چڑھ گئے تو وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا نظر آیا۔ جس کے دائیں طرف کچھ شخص تھے۔ جب وہ دائیں طرف دیکھتا تھا تو ہنس دیتا تھا اور بائیں طرف دیکھ کر رو دیتا تھا۔ اس نے (مجھ سے) کہا : صالح نبی اور صالح بیٹے کے لیے مرحبا ! میں نے جبرئیل سے کہا : یہ کون ہیں ؟ جبرئیل نے جواب دیا : یہ آدم ہیں۔ ان کے دائیں بائیں ان کی اولاد کی روحیں ہیں۔ دائیں جانب والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے دوزخی اس وجہ سے دائیں جانب دیکھتے ہیں تو ہنس دیتے ہیں اور بائیں طرف دیکھ کر رو دیتے ہیں۔ حضور ﷺ نے اس کے بعد آسمانوں پر آدم ‘ ادریس ‘ موسیٰ ‘ عیسیٰ اور ابراہیم (علیہم السلام) سے ملاقات کا ذکر کیا لیکن کون کس مقام پر تھا ‘ اس بات کا ثبوت نہیں۔ اتنا ضرور فرمایا کہ آسمان دنیا پر آدم ( علیہ السلام) سے اور چھٹے آسمان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی۔
زہری نے کہا مجھ سے ابن حزم نے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابوحیہ انصاری ؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر مجھے چڑھا کر ایک چھت پر پہنچایا گیا ‘ جہاں قلموں کے چلنے کی آواز مجھے سنائی دیتی تھی۔
ابن حزم نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر میری امت پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ جب میں لوٹا اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف سے گزرا تو انہوں نے پوچھا : اللہ نے تمہارے لیے کیا فرض کیا ؟ میں نے کہا : پچاس نمازیں۔ انہوں نے کہا : اپنے رب کے پاس واپس جاؤ۔ آپ ﷺ کی امت میں اس کی طاقت نہیں۔ غرض موسیٰ ( علیہ السلام) نے مجھے لوٹا دیا۔ اللہ نے آدھی نمازیں ساقط کردیں۔ میں موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف لوٹ کر آیا اور کہہ دیا کہ اللہ نے آدھی نمازیں ساقط کردیں۔ موسیٰ نے کہا : پھر لوٹ کر جاؤ۔ آپ ﷺ کی امت میں اس کی طاقت بھی نہیں۔ غرض میں لوٹ کر گیا۔ (اور تخفیف کی درخواست کی) ۔ اللہ نے فرمایا : یہ پانچ (لازم) ہیں اور (حقیقت میں) یہ پچاس ہیں۔ میری بات بدلی نہیں جاتی۔ میں موسیٰ کی طرف لوٹ کر آیا۔ موسیٰ نے کہا : پھر اپنے رب کے پاس واپس جاؤ۔ میں نے کہا : اب تو مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ اس کے بعد جبرئیل ( علیہ السلام) مجھے لے کر چلے اور سدرہ تک پہنچا دیا۔ سدرہ پر اس وقت بہت سے مختلف رنگ چھائے ہوئے تھے۔ مجھے معلوم نہیں وہ کیا تھے۔ اس کے بعد مجھے جنت میں داخل کیا گیا۔ وہاں موتی کے ڈیرے تھے اور مٹی مشک کی تھی۔
معمر نے بوساطت قتادہ ‘ حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے براق لایا گیا جو زین پوش اور لگام بردوش تھا۔ براق نے کچھ شوخی کی۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے فرمایا : کیا محمد ﷺ کے ساتھ تو ایسی حرکت کر رہا ہے حالانکہ کوئی بھی اللہ کے نزدیک محمد ﷺ سے زیادہ عزت والا تجھ پر سوار نہیں ہوا۔ بُراق یہ بات سن کر پسینے ‘ پسینے ہوگیا۔
مسلم کا بیان ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا۔ سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے۔ زمین سے جو اعمال اوپر چڑھتے ہیں وہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچتے ہیں اور وہاں سے (اللہ کی طرف سے) انکو لے لیا جاتا ہے اور جو کچھ (حکم) اوپر سے اترتا ہے وہ سدرۃ المنتہیٰ تک آتا ہے اور یہاں سے (ملائکہ کے قبضہ میں) اسکو دیدیا جاتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ہلال بن یسار ؓ نے کہا : میں موجود تھا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کعب ؓ (احبار) سے سدرۃ المنتہیٰ کے متعلق دریافت کیا۔ کعب نے کہا : سدرہ عرش کی جڑ میں ہے۔ مخلوقات کے علم کی رسائی بس وہیں تک ہے۔ اس کے پرے غیب ہے۔ جس سے اللہ کے سوا کوئی واقف نہیں ہے۔
میں کہتا ہوں اس قول میں مخلوقات سے مراد ملائکہ ہیں۔ سدرۃ المنتہیٰ تک ملائکہ کی رسائی ہے۔ اس سے آگے کوئی فرشتہ نہیں بڑھ سکتا۔ اس سے پرے مکمل غیب ہے خود سدرۃ المنتہیٰ اگرچہ بعض آدمیوں کے لیے غیب ہے مگر بعض ملائکہ کے لیے غیب نہیں ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سدرۃ المنتہیٰ کا ذکر سنا۔ آپ ﷺ فرما رہے تھے : اس کی شاخ کا سایہ ایسا ہے کہ ایک سوار سو برس اس کے نیچے چلتا رہا اور ایک لاکھ سوار اس کے سایہ میں آسکتے ہیں۔ اس کا فرش سونے کا ہے اور اس کے پھل مٹکوں کی طرح (مقدار میں) ہیں۔
مقاتل نے کہا : وہ ایک درخت ہے جو زیور اور لباس اور پھلوں سے اور تمام رنگوں سے آراستہ ہے۔ اگر اس کا پتہ زمین پر گرجائے تو زمین کے سارے رہنے والوں کو روشن کر دے۔ یہی طوبیٰ ہے۔
Ayah 53:15عندھا جنۃ الماوی . اس کے قریب جنت الماویٰ ہے۔
جنت الماویٰ میں علماء کوفہ کے نزدیک اضافت موصوف الی الصفت ہے اور بصرہ کے نحویوں کے نزدیک موصوف محذوف ہے۔ یعنی جنۃ المکان الماوٰی۔
عطاء کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ ایسی جنت ہے جو جبرئیل ( علیہ السلام) اور ملائکہ کی قرارگاہ (جائے رجوع) ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : شہداء کی روحیں یہیں اقامت گزیں ہوتی ہیں۔
Ayah 53:16اذ یغشی الدرۃ ما یغشی . جب سدرۃ المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھی جو چیزیں لپٹ رہی تھیں۔
مَا یَغْشَی : یہ اوّل یغشٰی کا فاعل ہے۔ یعنی سدرہ پر وہ چیز چھائی ہوئی تھی کہ اس کی خوبصورتی کثرت اور حقیقت نہ پانے کی وجہ سے کوئی اس کی پوری کیفیت بیان نہیں کرسکتا۔
حضرت انس کی روایت کردہ حدیث معراج میں اوپر گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب سدرۃ المنتہیٰ پر جو کچھ چھانا تھا ‘ بامر خدا چھا گیا ‘ تو اس کی حالت بدل گئی۔ جس کی وجہ سے کوئی مخلوق بھی اس کی کیفیت نہیں بیان کرسکتی۔ مسلم نے حضرت ابن مسعود کا قول نقل کیا ہے کہ : مَا یَغْشٰی : (یعنی سونے کے پتنگے) ۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔
بغوی نے حسن کا قول بیان کیا کہ رب العزت کا نور اس پر چھا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ جگمگانے لگا۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کی محبت کی وجہ سے کوّ وں کی طرح ملائکہ اس پرچھا گئے۔ نور کا چھا جانا نورانی جلوہ پاشیوں کی ایک قسم ہے۔
بغوی کی ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے اس کے ہر پتہ پر ایک فرشتہ کو کھڑا دیکھا جو اللہ کی پاکی بیان کر رہا تھا۔
Ayah 53:17ما زاغ البصر وما طغی . نگاہ نہ تو ہٹی اور نہ بڑھی۔
مَا زَاغَ : یعنی رسول اللہ ﷺ کی نظر دائیں ‘ بائیں نہیں بھٹکی۔ نہ آپ کی نگاہ چوکی۔
وَمَا طَغٰی : اور نہ نظر محبوب سے ہٹی۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے
آہ من العشق و حالاتہ
احرق قلبی بحر اراتہ
ما نظر العین الی غیرکم
اقسم باللہ وایاتہ
” آہ ! عشق اور کیفیات عشق کی گوناگوں تپش نے میرے دل کو سوختہ کردیا۔ اللہ اور کلام اللہ کی قسم میری آنکھ نے تو تمہارے سوا (کسی چیز کو) دیکھا بھی نہیں۔ “
بعض علماء نے مَا طَغٰی کا یہ مطلب بیان کیا کہ جن عجائبات قدرت کو دیکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان سے نگاہ دوسری طرف نہیں مڑی۔
Ayah 53:18لقد رای من ایت ربہ الکبری . انہوں نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے۔
آیات کبریٰ سے مراد ہیں۔ عجائب ملکوتی جن کی سیر رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں دوران آمدورفت کی تھی۔ براق ‘ آسمان ‘ انبیاء ‘ ملائکہ ‘ سدرۃ المنتہیٰ سب کا شمار عجائب ملکوت میں ہے۔
مسلم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے آیت : لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی پڑھی اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو ان کی اصلی شکل میں دیکھا تھا کہ ان کے چھ سو پنکھ تھے۔
بخاری کی روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے آیت : لَقَدْ رَاٰی مِنْ اٰیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرٰی پڑھی اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے سبز رفرف کو دیکھا۔ جس نے افق کو بند کر رکھا تھا۔
عجائب ملکوت کو آیات کبریٰ کہنے کی خصوصیت اس بناء پر ہے کہ مذکورہ آیات قدرت برکت و رحمت کی فروگاہ تھیں اور انوار و تجلیات کی خصوصی بارش ان پر ہو رہی تھی۔ ورنہ ہر ممکن وجود صانع کی روشن برہان اور واضح دلیل ہے ‘ کسی مصنوع قدرت کو حقیر نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِاجْتَمَعُوْا لَہٗ ۔ ایک مکھی بھی حقیر نہیں بلکہ ضعیف و خلقت کے لحاظ سے اتنی عظیم الشان ہے کہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی طاقت بھی ایک مکھی کی تخلیق نہیں کرسکتی۔
ایک شبہ آیت مذکورہ میں لفظ آیات دلالت کر رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل کو دیکھا تھا ‘ اللہ کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ جبرئیل کو آیت رب کہا جاسکتا ہے اور وہ آیت کبریٰ تھے بھی۔ ذات کو آیات کبریٰ میں داخل نہیں قرار دیا جاسکتا۔ آیات کو دیکھنا بعینہٖ ذات کو دیکھنا نہیں قرار دیا جاسکتا۔
ازالہ رؤیت آیات رؤیت ذات کے منافی نہیں ہے۔ آیات تو جلوۂ ذات کا آئینہ ہیں۔ آئینہ میں سورج کی جلوہ پاشیاں نظر آتی ہیں۔ مَا طَغٰی کی تشریح میں ہم نے تفسیری مطلب لکھ دیا ہے کہ محبوب سے نظر نہیں ہٹی۔ اس تشریح سے خود ہی معلوم ہوگیا کہ رویت ذات کی حالت میں رویت آیات کو نظر انداز کردیا۔ حقیقت میں رویت آیات کا اصل مقصد ہی رویت ذات تھا۔ آیات تو ذات کا آئینہ تھیں۔ آیات کو دیکھ کر نظر آگے بڑھی۔ ذات تک پہنچی اور وہیں پہنچ کر سمٹ کر رک گئی۔
مسئلہ اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ سیر معراج بیداری میں ہوئی (لیکن کہاں سے کہاں تک اور کیسے ہوئی ‘ اس میں اقوال مختلف ہیں) اہل علم نے صراحت کی ہے کہ مسجد حرام (کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک جانا تو قطعی ہے۔ قرآنی صراحت سے ثابت ہے۔ اللہ نے سُبْحٰنَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصٰی تصریح کے ساتھ فرما دیا ہے۔ اس لیے اس کا منکر تو کافر ہے لیکن ساتویں آسمان تک اور اس سے اوپر جانا قرآن سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح احادیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ (اور احادیث آحاد قطعی نہیں ظنی ہوتی ہیں) اس لیے اس کا منکر فاسق (بحسب العقیدہ) ہے ‘ کافر نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا تو انہی آیات سے ثابت ہے اور قطعی ہے ‘ اس لیے معراج سماوی کا منکر بھی کافر ہے۔
ایک شبہ شیخین نے صحیحین میں بسند شریک بن عبداللہ بیان کیا ہے کہ حضرت انس ؓ بن مالک نے فرمایا : وحی آنے سے پہلے (کا واقعہ ہے کہ) رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں سو رہے تھے ‘ (خواب میں) تین شخص آئے۔ یہ شب معراج کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد حضرت انس ؓ نے معراج کا قصہ بیان کیا اور کہا کہ آسمان دنیا میں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں دو دریا رواں ہیں (جبرئیل ( علیہ السلام) نے) کہا : یہ نیل و فرات ہیں۔ پھر چل کر اور آسمان پر پہنچے تو وہاں ایک نہر دکھائی دی جس (کے کنارہ) پر موتیوں کا اور زبرجد کا ایک قصر بنا ہوا نظر آیا (پانی میں) ہاتھ مار کر دیکھا تو وہ پانی (خوشبو میں) خالص مشک (کی طرح) تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جبرئیل ( علیہ السلام) ! یہ کیا ہے ؟ جبرئیل نے جواب دیا : یہ کوثر ہے ‘ جو آپ ﷺ کے رب نے تیار کر رکھی ہے۔ سلسلۂ حدیث کو جاری رکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پھر مجھے ساتویں آسمان کی طرف چڑھا کرلے جایا گیا۔ اس روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا : اے میرے ربّ ! مجھے گمان نہ تھا کہ مجھ سے کسی کو اوپر اٹھایا جائے گا۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو اللہ نے اور اونچا اٹھایا اتنا کہ اللہ کے سوا اور کوئی (اس بلندی سے) واقف نہیں۔ یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچے اور جبار رَبّ العزت آپ ﷺ کے قریب آیا ‘ پھر نیچے اترا کہ بمقدار قوسین بلکہ اس سے بھی قریب آگیا۔ پھر جو کچھ وحی کرنا تھی ‘ اللہ نے وحی کی۔ ہر دن رات میں پچاس نمازوں کا وحی کے ذریعہ سے حکم دیا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بار بار رب کے پاس جانے کا مشورہ دیتے رہے (اور آپ ﷺ برابر آتے جاتے اور تخفیف کی درخواست کرتے رہے) آخر پچاس نمازیں (کم ہوتے ہوتے) پانچ رہ گئیں۔ پچاس کی پانچ ہونے پر بھی موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا : محمد ! ﷺ خدا کی قسم میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کو اس سے بھی کم پر تدبیر سے آمادہ کیا لیکن وہ اس سے بھی کمزور ثابت ہوئے۔ آپ ﷺ کی امت تو بنی اسرائیل سے جسم ‘ قلب اور چشم و گوش کے لحاظ سے کمزور ہے ‘ اس لیے آپ ﷺ واپس جا کر اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ ہر مرتبہ موسیٰ کی بات پر مشورہ حاصل کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف التفات فرماتے تھے اور جبرئیل ( علیہ السلام) بھی (تخفیف کی درخواست کو) نامناسب نہیں قرار دیتے تھے۔ پانچویں مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے جب درخواست کی اور عرض کیا : اے میرے ربّ ! میری امت کے جسم بھی کمزور ہیں ‘ دل بھی کمزور ہیں اور چشم و گوش بھی کمزور ہیں ‘ ہمارے لیے تخفیف فرما دے۔ رب العزت نے فرمایا : ” اے محمد ! ﷺ آپ ﷺ نے کہا : میں حاضر ہوں ‘ متوجہ ہوں۔ اللہ نے فرمایا : میں نے لوح میں جو فرض کردیا ہے۔ اس قول میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ ہر نیکی کا بدلہ دس گنا (لکھ دیا گیا) ہے۔ لوح محفوظ میں تو یہ پچاس ہی ہیں اور تم پر پانچ نمازیں (فرض) ہیں (جب واپس آئے تو) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے پھر وہی بات کہی کہ واپس جا کر اپنے رب سے تخفیف کی درخواست کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اب تو بار بار جانے سے مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے۔ اس کے بعد حکم ہوا۔ اب بسم اللہ کر کے نیچے اتر جاؤ۔ اس کے بعد حضور ﷺ بیدار ہوگئے۔ اس وقت مسجد حرام ہی میں تھے۔ یہ بخاری کی روایت کے الفاظ ہیں۔ مسلم نے واقعہ مختصراً نقل کیا ہے لیکن اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ معراج کا واقعہ خواب میں دکھائی دیا تھا۔
بعض اہل حدیث نے اس حدیث کو مجروح قرار دیا ہے اور کہا کہ بخاری و مسلم نے اپنی کتابوں میں جو (واقعۂ معراج کو) خواب کا واقعہ قرار دیا ہے ‘ اس کی تاویل سوائے اس کے کہ روایت کو مجروح قرار دیا جائے اور کوئی ممکن نہیں۔ اس روایت میں غلطی شریک بن عبداللہ کی ہے۔ جس نے اس واقعہ کو نزول وحی (یعنی نبوت) سے پہلے کا واقعہ قرار دیا ہے ‘ حالانکہ تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ سیرمعراج نبوت سے تقریباً بارہ سال بعد ہجرت سے ایک سال پہلے ہوئی۔
بعض علماء حدیث کا قول ہے کہ (معراج دو بار ہوئی ‘ ایک بار) نبوت سے پہلے خواب میں جبکہ آپ ﷺ مسجد حرام میں سو رہے تھے اور (دوسری بار) بیداری کی حالت میں ہجرت سے پہلے نبوت کے بارہ سال بعد آپ ﷺ کو سیر معراج کرائی گی تاکہ نبوت سے پہلے کے خواب کی عملی تصدیق ہوجائے جیسا کہ 6 ھ میں حدیبیہ کے سال خواب میں فتح مکہ دکھائی گئی۔ پھر اس کی عملی تصدیق 8 ھ میں ہوگئی اور اللہ نے فرمایا : لَقَدْ صَدَقَ اللہ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا بَالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ ۔ رؤیت رب و آیات رب کو ذکر کرنے اور رسول اللہ ﷺ کے قلب کی تصدیق کی صراحت کے بعد اللہ نے آئندہ آیت میں بطور مذمت کافروں کا ذکر فرمایا جو کوتاہ نظر تھے ‘ ان کی نظر مجاز سے آگے حقیقت تک رسائی نہیں رکھتی تھی۔