53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 53:1–2

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے تارے کی جب کہ وہ ڈوبنے لگے

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

تمہارا ساتھی نہ تو بھٹکا ہے نہ بہکا ہے

[ 3] صاحبکم کے لفظ کی بلاغت و تاثیر کا ذکر وبیان : سو اس لفظ اور اس کی ترکیب سے واضح فرما دیا گیا کہ جس کی پوری زندگی، اور زندگی کی ہر حالت، تمہارے سامنے ہے، اور ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے ہے، بچپن سے لڑکپن، اور لڑکپن سے جوانی، اور جوانی کے بعد کی پوری حیات طیبہ تمہارے سامنے ہے، اور اس طور پر کہ اس کا کوئی مرحلہ بھی تم سے مخفی اور تمہاری نگاہوں سے اوچھل اور پوشیدہ نہیں، اور تم خود ان کی صداقت، اور ان کی امانت و دیانت داری کے قائل اور معترف ہو، اور ان کو تم لوگ خود صادق و امین مانتے ہو، اور ان کی نزاہت و پاکیزگی کے تم لوگ خود عینی شاہد اور کھلے گواہ ہو، تو جب چالیس سال کی طویل زندگی میں، تم ان پر کسی بھی طرح کی کوئی حرف گیری نہیں کرسکے، بلکہ ان کو صادق و امین تسلیم کرنے پر تم لوگ خود مجبور رہے ہو، تو پھر یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ اس قدر عمر گزارنے کے بعد وہ یکایک ایسی بات کہہ دیں جو حق اور حقیقت کے خلاف ہو ؟ سو " صاحبکم " کے ارشاد سے یہ سب ہی امور معلوم و مستفاد ہوتے ہیں، سبحان اللّٰہ ! اس کتاب حکیم کا لفظ لفظ ایک دفتر کی حیثیت رکھتا ہے، پس " صاحبکم " کے لفظ کے یہاں پر استعمال میں بڑی بلاغت اور خاص تاثیر پائی جاتی ہے، اور ایسی اور اس حد تک کہ اگر صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیا جائے تو سارا معاملہ ہی صاف ہوجاتا ہے۔ کسی حیل و حجت اور قیل و قال کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، سوائے ان لوگوں کے جو عناد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہوں، کہ ایسوں کا کوئی علاج نہیں ہے، کہ عناد اور ہٹ دھرمی کا مرض ایک لا علاج مرض ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ بہرکیف اس لفظ کے استعمال سے واضح اور مستور ہوں اور ان کے اخلاق و کردار کی کوئی حالت اور کیفیت تم لوگوں سے مخفی نہیں۔ [ 4] پیغمبر ( علیہ السلام) سے ضلالت وغوایت دونوں کی نفی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے یہ ساتھی نہ بہکے نہ بھٹکے۔ یعنی نہ تو انہوں نے راہ حق سے قدم باہر رکھا اور نہ ہی کبھی کسی باطل کا کوئی عقیدہ رکھا، نہ علم کے اعتبار سے کوئی غلطی کی اور نہ عمل کے لحاظ سے، بلکہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے جادہ حق اور صراط مستقیم ہی پر گامزن رہے۔ ﷺ ۔ پس گمراہی میں داخل وہی بدنصیب لوگ ہیں، جو اس نبی برحق کے پیش کردہ دین حق کی تکذیب کرتے اور اس سے منہ موڑتے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ " ضل " کا استعمال عام طور پر انسان کی اس گمراہی کے لئے ہوتا ہے جس کا تعلق انسان کی بھول چوک یا فکر و اجتہاد کی غلطی سے ہو، جب کہ غوری کا تعلق بالعموم انسان کی اس گمراہی سے ہوتا ہے جس میں نفس کی اکساہٹ اور انسان کے قصد و تعمد کا بھی دخل ہوتا ہے، سو اس ارشاد کے ذریعے حضور ﷺ سے ان دونوں چیزوں کی نفی فرما دی گئی، نہ تو آپ ﷺ نے کبھی فکر و اجتہاد کی غلطی کی بناء پر راہ حق و صواب سے باہر قدم رکھا، اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی کسی باطنی اکساہٹ یا کسی طرح کے قصد و تعمد کی بنا پر کبھی ایسی کوئی لغزش کھائی، کہ آپ ﷺ قدرت کی حفاظت و عنایت اور فضل و کرم سے ایسی کسی طرح کی ضلالت وغوایت کا کوئی شائبہ تک نہیں، آپ ﷺ کی حیات مبارکہ، اور آپ کا فرمودہ کلام صدق نظام دونوں اس بات کے شاہد صدق ہیں، کہ آپ ﷺ کے اندر کسی طرح کی ضلالت وغوایت کا کوئی شائبہ تک نہیں اور آپ ﷺ جو کچھ کہتے اور فرماتے ہیں وہ سراسر حق و صدق اور عقل و فکر کے تقاضوں کے عین مطابق ہے بشرطیکہ کسی کی عقل مسخ اور اس کی فطرت اوندھی نہ ہوچکی ہو۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے راہ حق ہی پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 53:3

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

وہ اپنی خواہش نفس سے بولتا بھی نہیں1

[ 5] پیغمبر ( علیہ السلام) کا ہر قول حق اور صدق ہوتا ہے : کیونکہ انکا ہر قول و فعل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس میں نفسانی خواہش کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنی خواہش سے بولتے بھی نہیں۔ تو پھر کسی گمراہی کا کیا سوال ؟ کہ اصل بنیاد تو اتباع ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا گیا، ولا تتبع الھوٰی فیضلک عن سبیل للّٰہ یعنی تم خواہش کی پیروی نہیں کرنا کہ وہ تمہیں بھٹکا دے اللہ کی راہ سے، اور اتباع ہویٰ کا یہاں سرے سے کوئی وجود ہی نہیں، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا فانی لا اقوال فیہما الا حقاً ۔ یعنی میں رضا و غضب اور خوشی و غصہ کی ہر حالت میں حق ہی کہتا ہوں، اور میرے منہ سے کسی بھی حال میں ناحق و نا روایات کبھی بھی نہیں نکلتی، سبحان اللہ ! کیسی پاکیزہ شان ہوتی ہے، پیغمبر کی شان، اور کس قدر مقدس و معصوم ہستی ہوتی ہے پیغمبر کی ہستی، اور خاص کر حضرت امام الانبیاء کی ہستی، صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ ومن اھتدیٰ بھدیۃ الی یوم الدین بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کے پیش فرمودہ کلام کا نفس اور اس کی خواہشوں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، بلکہ وہ نری وحی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی طرف کی جاتی ہے، پس وہ جو کچھ فرماتے ہیں وہ حق اور صدق ہی ہوتا ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی اس لئے وہ بہرصورت حجت اور سند ہے، اور یہ امتیازی شان صرف آپ ﷺ کی ہے، ،
Ayahs 53:4–5

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

وہ تو نری وحی ہوتی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

آپ کو سکھایا اس سخت قوتوں والے نے

[ 7] پیغمبر (علیہ السلام) کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو سکھایا سخت قوتوں والے نے " پس جس طرح پیغمبر خود بےمثال عظمت شان کے مالک ہوتے ہیں اسی طرح ان کے استاد بھی بےمثال عظمت و شان کے مالک ہوتے ہیں، کہ وہ دنیا میں کسی سے پڑھتے سیکھتے نہیں، بلکہ ان کا علم براہ راست حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ البتہ اس کا ذریعہ و واسطہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) ہوتے ہیں۔ سو یہاں پر ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ﷺ کو سکھایا سخت قوتوں والے نے۔ یعنی جبرائیل امین (علیہ السلام) نے جیسا کہ پ 30 سورة تکویر آیت 19 تا 20 میں ارشاد فرمایا گیا { انہٗ لقول رسولٍ کریم ذی قوۃٍ عند ذی العرش مکین } سو جبرائیل بھی دراصل واسطہ ہیں، اس تعلیم میں جو پیغمبر کو دی جاتی ہے ورنہ اصل تو پیغمبر کے معلم حضرت حق جل مجدہ خود ہی ہوتے ہیں، سبحانہ و تعالیٰ جیسا کہ آپ ﷺ کا اپنا ارشاد ہے۔ ادبنی ربی فاحس تادیبی [ مجھے میرے رب نے ادب سکھایا اور کیا ہی خوب ادب سکھایا ] ، سو جب حق تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کی تعلیم و تادیب اس فرشتے کے ذریعے ہوئی جو ایسی عظیم الشان صفتوں اور قوتوں والا ہے تو پھر اس سلسلہ میں کسی اور کی طرف سے کسی طرح کی مداخلت اور اثر اندازی کا کوئی سوال ہی کیسے پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو اور ان کے ذیعے سے ملنے والی آپ ﷺ کی تعلیم و تادیب کو اس طرح کے ہر خلل اور فساد اور ایسی جملہ فروگزاشتوں اور وسوسہ اندازیوں سے پاک اور محفوظ رکھا۔ سو " شدید القویٰ " کے وصف سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ فرشتہ [ جبرائیل امین ] تمام اعلیٰ صفات اور صلاحیتوں سے بھرپور ہے، اور اس کی ہر صفت و صلاحیت نہایت محکم، مضبوط ہے۔ لہٰذا اس بات کا وہاں پر کوئی خدشہ و امکان نہیں کہ کوئی دوسری روح اس کو متاثر یا مرغوب کرسکے، اور اس طرح اس سے کسی خیانت یا تبدیلی یا خلط مبحث کا ارتکاب کرا سکے یا اس سے کسی طرح کی کوئی فروگزاشت ہوجائے یا کوئی وسوسہ لاحق ہوسکے۔ سو ان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام کمزوریوں اور اس طرح کے جملہ شوائب سے پاک اور محفوظ رکھا۔ پس ان کا ہر ارشاد حق اور ان کی ہر بات سچ ہے، علیہ السلام۔
Ayah 53:6

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

جو بڑا زور آور ہے چناچہ وہ (اپنی اصل شکل میں) سامنے آکھڑا ہوا

[ 8] وہ نہایت مضبوط و محکم عقل و کردار والا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا جو بڑا زورآور ہے۔ " مرّہ " کا اطلاق دراصل عقل و فکر کی قوت کے اعتبار سے ہوتا ہے، جب کہ پہلی صفت یعنی " شدید القویٰ " کا تعلق جسمانی اور عمل قوت سے ہے، [ روح، مدارک، بحر، بیضاوی، مراغی، اور صفوۃ وغیرہ ] چناچہ حضرت جبرائیل، کی جسمانی قوت کا عالم یہ تھا اور ہے کہ قوم لوط کی بستیوں کو ایک پر کے اوپر اٹھا کر آسمان تک تک لے گئے اور پھر وہاں سے ان کو اوندھا کرکے زمین پردے مارا، اور قوم ثمود کو ایک ہی آواز سے ڈھیر کردیا، اور آپ ملاء اعلیٰ یعنی عالم بالا سے زمین تک کا سفر پل بھر میں طے کرلیتے ہیں [ قرطبی، جواہر، خازن، ابن کثیر، روح اور مدارک وغیرہ ] سو آپ کی عقل و فکر کی قوت بھی کامل تھی کیونکہ مرّہ کے معنی فکری قوت کے ہی آتے ہیں، اور عرب ہر مضبوط رائے اور پختہ فکر شخص کو " ذومرّہ " کہتے تھے [ ابن کثیر، مدارک، بیضاوی وغیرہ ] اور یہ لفظ دراصل عرب کے اس قول سے ماخوذ ہے۔ " امررت الحبل " اور یہ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کہ رسی کو اچھی طرح اور خوب مضبوطی سے بانٹھا جاتا ہے [ محاسن التاویل، لعلامۃ الشام جمال القاسمی (رح) ] بہرکیف وہ اپنی عقل و فکر اور اپنے کردار میں نہایت محکم اور مضبوط تھے، اس لئے وہاں کسی خلل و فساد وغیرہ کا کوئی خدشہ و امکان نہیں، اور حضرت جبرائیل امین کی ان صفات کے ذکر وبیان سے جہاں کاہنوں اور نجومیوں کے اوہام و افکار پر ضرب کاری لگائی گئی وہیں اس سے یہود اور ان کے ہم مشرف اور ہم نواز و فض کے مزاعم باطلہ کی بھی بیخ کنی فرما دی گئی جنہوں نے آنجناب پر خیانت بددیانتی اور بےبصیرتی کے الزام لگائے۔ علیہم العائن اللّٰہ۔ اور اسی بنا پر انہوں نے حضرت جبرائیل امین سے عداوت اور دشمنی بھی رکھی۔ جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں اس کی تصریح نقل فرمائی گئی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ [ 9] پیغمبر (علیہ السلام) کی تعلیم کیلئے خاص اہتمام کا ذکر وبیان : سو جس طرح پیغمبر کے معلم خاص صفات کے حامل ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی تعلیم کے لئے بھی خاص اور بےمثال قسم کا اہتمام فرمایا گیا۔ سو " فاستوٰی " میں "" تفصیل کیلئے ہے۔ سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ پہلے تو وہ فرشتہ مستوی القامت ہو کر نمودار ہوا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ وہ نمودار ہوا اپنی شکل میں۔ جس پر ان کو اللہ پاک نے پیدا فرمایا ہے، اور اس اصلی صورت میں آپ کو آنحضرت ﷺ ہی نے دیکھا، کیونکہ جبرائیل امین آنحضرت ﷺ کے پاس اور آپ ﷺ سے پہلے دیگر انبیاء کرام کے پاس بالعموم انسانی شکل ہی میں آیا کرتے تھے، تو آنحضرت ﷺ نے آپ سے اپنی اصلی صورت دکھانے کی درخواست کی تو حضرت جبرائیل نے آپ ﷺ کو تین مرتبہ اپنی اصل شکل میں دیدار کرایا، دو مرتبہ زمین پر اور ایک مرتبہ آسمان میں، جب کہ دوسرا قول اس بارے حضرات اہل علم کا یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جبرائیل امین کو اپنی اصلی شکل و صورت میں دو ہی مرتبہ دیکھا ایک مرتبہ زمین پر ایک مرتبہ آسمان میں، والعلم عنداللہ سبحانہٗ و تعالیٰ [ ابن کثیر، جامع البیان، المراغی، اور بیضاوی وغیرہ ] بہرکیف اس سے پیغمبر ( علیہ السلام) کی تعلیم کیلئے خاص اہتمام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ۔
Ayah 53:7

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

جب کہ وہ آسمان کے بلند کنارے پر تھا

[ 10] حضرت جبرائیل امین ( علیہ السلام) افق اعلیٰ پر : سو جبرائیل امین کے نمودار ہونے کی جگہ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ افق اعلیٰ میں تھی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جبکہ وہ افق اعلیٰ یعنی آسمان کے بلند کنارے پر تھا : مشرقی جانب میں، جب کہ آپ غار حرا میں تھے، چناچہ جبرائیل امی نے جب اپنے دونوں پر کھولے تو مشرق و مغرب کے درمیان کو بھر دیا، اور حضور ﷺ بےہوش ہو کر گرپڑے، تو جبرائیل امین نے انسان کی شکل میں اتر کر آنحضرت ﷺ کو اپنے سینے سے لگایا، اور آپ کے چہرہ انور سے غبار جھاڑنے لگے [ روح، قرطبی، ابن کثیر، مراغی، اور محاسن وغیرہ ] بہرکیف حضرت جبرائیل اپنی اصلی ہیت میں افق اعلیٰ پر نمودار ہوئے، پھر وہ آپ ﷺ کے قریب ہوئے اور مزید قریب ہوگئے، " تدلیٰ " کے معنی جھک پڑنے یا لٹک آنے کے ہیں، سو اس سے یہ بیان فرمایا گیا کہ اس کے بعد حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) حضور ﷺ کو تعلیم دینے کے قصد سے آپ ﷺ کے قریب آگئے، اور جس طرح ایک شفیق اور بزرگ استاذ اپنے عزیز و محبوب شاگرد پر غایت شفقت کی بناء پر جھک پڑتا ہے، اسی طرح وہ آپ ﷺ کے اوپر جھک پڑے، یعنی اس طرح نہیں ہوا کہ دور سے بات بنادی اور اس کی پرواہ نہ کی ہو کہ آپ ﷺ نے بات اچھی طرح سنی یا نہیں سنی، جیسا کہ عام لیکچروں وغیرہ میں ہوتا ہے لیکچرار صاحب خود ہی لیکچر دے کر اپنی ڈیوٹی پوری کرلیتے ہیں اور بس۔ اسی سے آگے ان کو کوئی سروکار نہیں ہوتا، الا ما شاء اللّٰہ۔ سو حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) نے اس طرح نہیں کیا بلکہ خاص توجہ سے آپ ﷺ کو تعلیم دی، ۔
Ayahs 53:8–9

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر وہ نزدیک ہوا پھر اور نزدیک ہوا

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فاصلہ رہ گیا

[ 11] حضرت جبرائیل امین کے آنحضرت سے غایت قرب کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر رہ گیا یا اس سے بھی کم۔ سو یہ تعبیر یہ انتہائی قرب سے کنایۃ ہے جیسا کہ یہ عربوں کے یہاں رائج تھا کہ وہ اپنے محاورات میں گایت قرب کو ظاہر کرنے کیلئے قاب القوس کے اس استعارے کو استعمال کیا کرتے تھے، یعنی جبرائیل آنحضرت ﷺ سے نہایت قریب ہوگئے [ روح المعانی، خازن اور صفوۃ وغیرہ ] سو یہ ایسے ہی ہے جیسے ہمارے یہاں محاورے میں گز یا دو گزا فٹ یا دو فٹ وغیرہ کے الفاظ بولے جاتے ہیں، اور اوکا کلمہ یہاں پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ تشبیہ محض قرب کے بیان کیلئے ہے، یہ فاصلہ اس سے بھی کم ہوسکتا ہے۔ بہرکیف جبرائیل امین آپ ﷺ کے نہایت قریب پہنچ گئے، اور غایت اہتمام کے ساتھ آپ کو تعلیم دی۔ یہ نہیں کہ دور سے اپنی بات پھینک ماری ہو۔ اور اس بات کی فکر و پروا نہ ہو کہ آپ ﷺ نے بات اچھی طرح سنی یا نہیں۔ اور اگر سنی تو سمجھی بھی ہے یا نہیں۔ سو ایسے نہیں تھا بلکہ آنجاب نے پورے اہتمام اور التفات کیساتھ آپ کے کان میں بات اس طرح ڈالی کہ آپ ﷺ اس کو اچھی طرح سن بھی لیں اور سمجھ بھی لیں یہاں پر یہ بات بھی واضح رہے کہ کاہنوں کے شیاطین کا جو علم ہوتا ہے اس کو قرآن حکیم میں آچکی ہوئی بات سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد ہوتا ہے، { الا من خطف الخطفۃ فاتبعہٗ شھاب ثاقب } [ الصّٰفّٰت : 10 پ 23] جس طرح چور اور اچکے لیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ جب استاذ اچکے ہوں گے تو وہ شاگردوں کو تعلیم بھی اچکوں ہی کی دیں گے۔ سو قرآن حکیم نے یہاں پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے طریقہ تعلیم کو اس لئے نمایاں فرمایا ہے کہ تاکہ اس سے ان دونوں کے درمیان فرق اچھی طرح واضح ہوجائے کہ آپ ﷺ کی تعلیم اس خاص اہتمام و شان کی تھی جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی دنیا میں پائی گئی اور نہ قیامت تک کبھی پائی جانی ممکن ہے۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

تب اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو کچھ وحی آپ کو فرمانا تھی

[ 12] اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے کی طرف وحی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تب اللہ نے وحی بھیجی اپنے بندے کی طرف جو وحی بھیجنا تھی۔ دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تب جبرائیل نے اللہ کے بندے پر وحی فرمائی، مآل دونوں کا بہرحال ایک ہی ہے کہ بندے تو آپ ﷺ بھی بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کے تھے، جس طرح کہ دوسرے تمام بندے اسی کے بندے ہیں، اور وحی اللہ پاک ہی کی طرف سے آتی تھی، اور حضرت جبریل امین کے واسطے سے ہی آتی تھی، سو اللہ پاک نے اپنے بندہئِ خاص امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر سید الملائکہ حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) کے ذریعے وحی فرمائی جو وحی آپ کو فرمانا تھی اور اما اوحی کا ابہام تعظیم و تفحیم کیلئے ہے، سو جب جبرئیل امین حضور ﷺ کے اس قدر قریب پہنچ گئے تب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی طرف وحی فرمائی۔ سو یہ وحی بھی بےمثال کہ یہ کلام ہے رب العالمین کا اور جس فرشتے کے ذریعے فرمائی گئی وہ بھی بےمثال یعنی جبریل امین (علیہ السلام) جو کہ نوریوں کے سردار اور ان کے امام و پیشواء ہیں اور اس کیلئے جو اہتمام فرمایا گیا وہ بھی بےمثال۔ اور جس ہستی پر اس وحی کو نازل فرمایا گیا وہ بھی بےمثال۔ یعنی حضرت محمد ﷺ جو کہ افضل الخلائق سید البشر اور حضرات انبیاء و رسل کے امام و پیشواء ہیں علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ سو ایسا عظیم الشان کلام نہ کوئی ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے فالحمد للہ الذی شرفنا بھذا الکتاب المبارک المجید وبالایمان بہ والاشتغال، اللہم فثبتا علیہ وبارک لنا فیہ بہرکیف اس سے اللہ تعالیٰ کے اپنے بندے کی طرف وحی بھیجنے کا بھی ذکر فرما دیا گیا اور وحی خداوندی کی شان کا اظہار و اعلان بھی۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو کچھ وحی آپ کو فرمانا تھی۔ سو یہ ابیام تعظیم و تفخیم کے لئے ہے جیسا کہ سب مفسرین کرام لکھتے ہیں پس اہل بدعت کا یہ کہنا کہ یہ خدا و رسول کے درمیان اسرار ہیں جن پر ان کے سوا کسی کو اطلاع نہیں، اور یہ کہ اللہ نے اس راز کو مخفی رکھا وغیرہ تو یہ سب من گھڑت باتیں اور خود ساختہ مفروضے ہیں، جن کا قرآن و سنت میں کوئی ثبوت نہیں۔ بلکہ قرآن تو صاف کہتا ہے۔ { بلغ ما انزل الیک من ربک } [ المائدۃ :67] ۔ [ پیغمبر ! جو بھی کچھ آپ کی طرف اتارا گیا ہے آپ اس سب کو جوں کا توں آگے پہنچا دیں ] سو یہاں کلمہء ما استعمال ہوا ہے جو کہ عموم اسی کے لئے آتا ہے اور اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے، الاّ یہ کہ کوئی ایسا قرینہء صارفہ پایا جائے جو اس کے خلاف ہو، مگر یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں ہے، سو پیغمبر پر جو بھی کچھ وحی ان کے رب سے فرمائی گئی آپ ﷺ نے اس کو بلاکم وکاست آگے پہنچا دیا، کیونکہ آپ ﷺ اپنے رب سے اسی کے پابند اور مامور تھے، چناچہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو کوئی تم سے کہے کہ حضور ﷺ نے وحی کا کچھ چھیا لیا تھا یا مخفی رکھا تھا تو اس نے یقینا بڑا جھوٹ بولا، پھر آپ ﷺ نے " یا ایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک " [ الایۃ ] کی یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی [ ابن کثیر وغیرہ ] بہرکیف " ما اوحی " کا یہ ابہام تعظیم تفحیم کے لئے ہے، کہ وہ وحی بڑی ہی عظمت شان والی تھی [ روح، مدارک، محاسن، اور جامع وغیرہ ] یعنی وہ وحی اس قدر عظیم الشان تھی کہ اس کی عظمت بیان سے باہر تھی۔ بس اس کی عظمت کا اندازہ کرنا کسی بندے کے بس میں نہیں اس عظمت کو اللہ پاک ہی جان سکتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayah 53:11

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

دل نے جھوٹ نہیں کہا جو کچھ کہ اس نے دیکھا

[ 13] پیغمبر (علیہ السلام) کے مشاہدے کی تصویب و تصدیق کا ذکر وبیان : سو اس سے پیغمبر کے مشاہرے کی حضرت حق جل مجدہٗ کی طرف سے تصویب و تصدیق کا ذکر فرمایا گیا کہ دل نے اس کو جھٹلایا نہیں جو کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا، بلکہ دل نے اس کی تصدیق و تائید، کی تو آپ ﷺ کا فرمان ہر طرح سے حق اور سچ ہے، حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت جبریل امین کو اپنی اصل شکل میں دیکھا، تو ان کے چھ سو پر تھے، [ بخاری، کتاب التفسیر، سورة النجم ] اور ہر پر اتنا کہ افق کو بھر دے اور آپ کے پیروں سے یا قوت اور موتیوں جیسی ایسی عظیم الشان چیزیں جھڑ رہی تھیں جن کی اصل اور حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا سبحانہ وتعالیٰ [ ابن جریر، ابن کثیر، مراغی، قرطبی، جامع اور صفوۃ وغیرہ ] نبی کریم ﷺ نے جب شب معراج پو ہر نے والے عالم غیب کے مشاہدات کا ذکر فریاما تو مخالفین نے اس کا مذاق اڑایا اور طرح طرح کی باتیں بنائیں، اور کہا کہ اس شخص کے دل میں جس طرح کے ارمان بسے ہوئے ہیں اس کو اسی طرح کے خواب نظر آتے ہیں، اور یہ اپنے خوابوں کو حقیقت گمان کرکے لوگوں کو مرعوب کرنے کیلئے سناتا ہے، قرآن حکیم نے اس الزام کی تردید مختلف اسلوبوں سے جگہ جگہ فرمائی ہے، اور یہاں بھی ان احمقوں کی تردید فرمائی گئی ہے کہ انہوں نے جو کچھ دیکھا وہ کوئی خواب نہیں تھا، بلکہ وہ سب کچھ حق اور حقیقت تھا۔ اور آپ کی آنکھ نے جو کچھ دیکھ دل نے اس کی تصدیق کی آپ ﷺ نے اپنی آنکھ سے جو جبریل کو دیکھا تو وہ واقعی جبریل ہی کو دیکھا تھا۔ جیسا کہ اب مسعود کی روایت میں گزرا۔ فما کذب قلب محمد لما راہ ببصرہ من صورۃ جبریل الحقیقۃ [ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] سو آپ کا دیکھا سراسر حق و صداقت تھا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ،
Ayah 53:12

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

تو کیا تم لوگ اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جس کو اس نے خود دیکھا (اپنی کھلی آنکھوں سے ؟ )

[ 14] منکرین کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے ہوئے ان کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگ ان سے ان باتوں پر جھگڑتے ہو جن کو انہوں نے اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھا ؟ یعنی یہ کیسی عجیب اور کتنی نامعقول بات ہے، کہ تم لوگ پیغمبر سے ان امور اور حقائق کے بارے میں جھگڑتے اور ان میں شک کرتے ہو جو آپ ﷺ نے کھلی آنکھوں سے دیکھے ہیں، سو یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی اندھا کسی آنکھوں والے سے جھگڑے، اور وہ اس کی اب باتوں کا انکار اور ان میں شک کرے جن کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو، مگر اس کے باوجود وہ اندھا اس آنکھوں والے سے کہے کہ نہیں صحیح وہ نہیں جو تم دیکھ رہے ہو، بلکہ صحیح وہ ہے جو میں کہہ رہا ہوں، سو اس سے بڑھ کر سفاہت و جہالت اور مکابرہ و سینہ زوری اور کیا ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم، بہرکیف اس ارشاد میں ان لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا گیا کہ تم لوگ پیغمبر سے ان باتوں پر جھگڑتے ہو جن کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے ؟ اگر ایک چیز تم کو نظر نہیں آتی تو اس سے نفس حقیقت تو باطل نہیں ہوتی، یہاں پر یہ بات ملحوظ رہے کہ مخالفین اپنے کاہنوں کی ساری خرافات کر تو بےچون و چرا اور بےدریغ تسلیم کرلیتے تھے، لیکن پیغمبر کے پیش کردہ ٹھوس حقائق کو بھی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے، کیونکہ کاہنوں کی باتیں ان کی خواہشات کے مطابق ہوئی تھیں، جبکہ پیغمبر کی دعوت ان کی خواہشات کے خلاف تھی، اس لئے وہ آپ ﷺ کی مخالفت کے لئے طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے، اور یہی حال دنیا کل تھا، اور یہی آج ہے، سو اتباع ہو، یعنی خواہش پرستی محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین،
Ayah 53:13

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ ﷺ نے اس (فرشتہ) کو ایک اور مرتبہ بھی (اپنی اصل شکل میں) اترتے دیکھا

[ 15] پیغمبر (علیہ السلام) کے جبریل امین کو دوسری مرتبہ دیکھنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یقینا پیغمبر نے ان کو ایک مرتبہ اترتے دیکھا سدرۃ المنتہی کے پاس۔ کیونکہ یہاں " مرۃً اُخری " نہیں " نزلۃ اخری " فرمایا گیا ہے جو کہ نزول سے مشتق و ماخوذ ہے، اس لئے ہم اپنے ترجمہ کے الفاظ میں اسی فرق کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے، والحمد للہ جمہور امت کے نزدیک ان دونوں مرتبوں میں آنحضرت ﷺ نے جس ہستی کو دیکھا، اس سے مراد جبریل امین ہی ہیں [ روح، مدراک، المراغی، المحاسن، صفوۃ اور ابن کثیر وغیرہ ] رہ گئی یہ بات کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ کو روایت باری جل وعلا نصیب ہوئی یا نہیں ؟ تو اس بارے میں اگرچہ حضرات اہل علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، مگر جمہور کے نزدیک وہاں بھی رویت بصری نہیں جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین باتیں ایسی ہیں کہ ان میں سے جس کسی بات کی کبھی نسبت کسی نے آنحضرت ﷺ سے کی اس نے یقینا جھوٹ کا ارتکاب کیا، پھر آپ نے ان تینوں باتوں میں سے پہلی بات یہی بیان فرمائی کہ جس نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں کہا کہ آپ ﷺ نے شب معراج میں حضرت باری عزاسمہ کو دیکھا [ صحیح بخاری، کتاب التفسیر، کتاب التوحید، مسلم کتاب الایمان وغیرہ ] اور حضرت عائشہ ؓ کے علاوہ دوسرے بھی بہت سے اجلہ صحابہ کرام ؓ سے بھی یہی مروی ہے، جیسے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ وغیرہ اس کے مقابلے میں جو روایت حضرت ابن عباس ؓ ما سے مروی ہے اس میں بڑا اضطراب ہے اس لئے ثقہ علماء کرام نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، سند و روایت کے اعتبار سے بھی اور عقل و درایت کے اعتبار سے بھی، بہرکیف جمہور کا موقف روایۃً بھی قوی ہے اور درایۃ بھی، اور سورة نجم کی ان مذکورہ بالا آیات قرآنیہ کے سیاق وسباق کے بھی مطابق یہی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جبریل امن کو ہی دیکھا تھا، چناچہ مسند امام احمد (رح) کی روایت کے مطابق حضرت مسروق (رح) نے جب ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا اور عرض کیا " ہل رایٰ محمد ﷺ ربہ جل و علائ " [ کیا حضرت محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ؟] تو اس کے جواب میں حضرت ام المومنین ؓ نے برہم ہو کر ارشاد فرمایا کہ تم نے ایسی بات کہی کہ اس سے میرے جسم کی رونگٹے کھڑے ہوگئے، جو کوئی تم سے یہ کہے کہ پیغمبر نے اپنے رب کو دیکھا ہے، تو اس نے یقینا جھوٹ بولا ہے، پھر آپ ؓ نے اس کی تائید و تصدیق میں قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی { لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار ج وھو اللطیف الخبیر } [ انعام : 104 پ 7] نیز آپ ؓ نے سورة شوریٰ کی یہ آیت کریمہ بھی تلاوت فرمائی { وما کان لبشر ان یکلمہ اللّٰہ الا وحیا او من ورای حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ ما یشائُ ط انہٗ علی حکیم } الاٰیۃ [ شوری : 51] [ ابن جریر، ابن کثیر، محاسن التاویل، جامع البیان، قرطبی، خازن، اور روح المعانی وغیرہ ] یہاں پر ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں، اس سے زیادہ اور پوری تفصیل ہم اپنی مفصل تفسیر میں پیش کریں گے۔ انشاء اللہ وباللہ التوفیق۔ بہرکیف جمہور علماء و مفسرین کرام کے نزدیک ان تمام آیات کریمات کا تعلق حضرت جبریل امین کی رؤیت ہی سے ہے اور ان کے نزدیک ان دونوں موقعوں پر پیغمبر نے جس ہستی کو دیکھا وہ حضرت جبریل امین ہی کی ہستی تھی۔ مفسر ابو حیان نے جمہور کے قول کی تصویب کرتے ہوئے اسی کو صحیح قرار دیا اور اس کے لئے وہ اسی آیت کریمہ سے استدلال کرتے ہیں یعنی " ولقد رآہ نزلۃً اخری " سے اور یقینا آپ نے ان کو ایک اور مرتبہ دیکھا "۔ اور دوسرے ثقہ مفسرین کرام، اور حضرات اہل علم نے مفسر ابن حیان کے اس استدلال کو صحیح قرار دیا۔ [ البحر المحیط اور حاشیہ صفوۃ التفاسیر وغیرہ ] پس اس رویت کا تعلق رؤیت جبریل ہی سے ہے،
Ayah 53:14

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

یعنی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس

[ 16] سدرۃ المنتھیٰکے پاس کی رؤیت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضور ﷺ نے جبریل امین کو دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے ان کو یقینا ایک اور مرتبہ دیکھا سدرۃ المنتہی کے پاس۔ کہ مخلوقات کا علم اس پر ختم ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے خود آنحضرت ﷺ سے روایت کیا ہے اور اس کو منتہی اسی لئے کہتے ہیں کہ مخلوق اور ملائکہ کا علم یہاں تک ختم ہوجاتا ہے [ خازان، ابن کثیر، ابن جریر، صفوۃ وغیرہ ] باقی اس سدرہ [ بیری ] کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ سو وہ اللہ پاک ہی کے علم میں ہے کہ یہ چیز ان امور غیبیہ میں سے ہے جن کی حقیقت تک رسائی انسانی حیطہء قدرت اور اس کے ادراک سے باہر ہے، اور امور غیبیہ کے بارے میں صحیح اور سلامتی کا طریقہ یہی ہے کہ ان کو اسی طرح مانا اور تسلیم کیا جائے جیسا کہ ان کا ذکر و ثبوت نصوص قرآن و سنت میں پایا جاتا ہے، کہ ان سے ان کا وہی معنی و مفہوم مراد ہے جو اللہ کے علم میں ہے اور جو اس کی مراد ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، یا جیسا کہ اس کے بارے میں اللہ کے رسول نے اللہ کی وحی کی بناء پر سمجھایا اور بتایا ہو، اور بس بہرکیف سدرۃ المنتہی وہ مقام ہے جہاں عالم ناسوت کی سرحدیں ختم ہوجاتی ہیں، اور اس کے بعد عالم لاہوت کی سرحدیں شروع ہوجاتی ہیں۔ اور سدرۃ یعنی بیری کا یہ درخت عالم ناسوت اور عالم لاہوت کے درمیان ایک حد فاضل ہے، یہ سب باتیں عالم غیب اور اس جہاں نادیدہ سے تعلق رکھتی ہیں، جن کی اصل حقیقت کا علم و ادراک ہمارے بس میں نہیں، یہ سب چیزیں متشابہات میں سے ہیں ان کی حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے، اور وہی جان سکتا ہے، ہم نہ عالم ناسوت اور نہ عالم لاہوت کی ان حدود کو جان سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے درمیان کے اس نشان وصل کو، پس ان پر ویسے ہی ایمان لاتے ہیں جیسے قرآن نے ہمیں تعلیم و تلقین فرمایا ہے، اور جیسا کہ اللہ کے رسول نے ہمیں بتایا ہے اور بس، بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل امین کو دو مرتبہ دیکھا اور یہی بات ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل امین کو دو مرتبہ دیکھا۔ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں جیاد کے مقام پر، اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہی کے پاس [ ترمذی، کتاب التفسیر، سورة النجم ] علیہا الصلوٰۃ والسلام۔
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

جس کے پاس جنت الماویٰ ہے

[ 17] سدرۃ المنتھیٰ کے مقام کی نشاندہی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور سدرۃ المنتھیٰ کے مقام کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جس کے پاس جنت ماویٰ ۔ ماویٰ کے معنی ٹھکانا اور جائے قیام کے آتے ہیں اور یہ چونکہ مقام و ٹھکانا ہے فرشتوں اور اروح شہدا کا، اسلئے اس کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے، [ روح، خازن، صفوۃ، مراغی وغیرہ ] پھر اس جنت کے بارے میں حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ حضرات کا کہنا ہے کہ یہ وہی جنت ہے کہ جو اہل ایمان وتقویٰ کو آخرت میں عطا فرمائی جائے گی، اور اسی سے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں اس جنت کا محل و قوع بیان فرما دیا گیا کہ وہ سدرۃ المنتھیٰ عالم ناسوت کی آخری حد پر ہے، اسی طرح جنت الماویٰ عالم لاہوت کے نقطہ آغاز پر ہے پس اس نشاندہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضور ﷺ کو حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کا دوباہ مشاہدہ دونوں عالموں کے نقطہ اتصال پر ہوا۔ (علیہ السلام) ما تبقی ھذہ الاحرف والکلمات۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب کہ اس سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا

[ 18] سدرۃ المنتھیٰکی عظمت شان کا بیان و ذکر : سو اس سے سدرۃ المنتھی کی عظمت شان اور مشاہدہئِ پیغمبر کی کیفیت کو بیان فرمایا گیا ہے، چناچہ پیغمبر کے مشاہدہ کے وقت کی کیفیت کے اظہار وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا کہ جب اس سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا۔ یعنی انورات و تجلیات خداوندی، اور دیگر وہ احوال و کیفیات اور مظاہرِ تزئین و تحسین جن کی تصویر و تعبیر سے الفاظ و کلمات عاجز و قاصر ہیں، ما یغشی کا ابہام اسی عظمت کو ظاہر کرتا ہے، اس لئے محض ظن وتخمین اور گمان و قیاس کی بناء پر اس کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں، بہرکیف یہ اسلوب بیان اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ اس وقت اس سدرہ پر انورات و تجلیات کا ایسا ہجوم تھا کہ ان کی تعبیر الفاظ و کلمات کی گرفت میں نہیں آسکتی۔ بہرکیف اس سے سدرۃ المنتھیٰ کی عظمت شان اور پیغمبر کے مشاہدے کی کیفیت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ اور اس کی عظمت شان کے اظہار کیلئے کلمات ابہام و عموم کو استعمال فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 53:17–18

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

نگاہ نہ تو چوندھیائی نہ حد سے بڑھی2

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

بلاشبہ آپ ﷺ نے دیکھا اپنے رب کی بڑی نشانیوں کو3

[ 20] اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کا ذکر وبیان : سو اس سے آنحضرت ﷺ کے اس موقع پر اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ جیسے سدرۃ المنتھی، بیت المعمور، جنت و دوزخ، اور حضرت جبریل امین (علیہ السلام) کو اپنی اصلی شکل میں دیکھنا، وغیرہ وغیرہ، سو یہیں سے امام فخر الدین رازی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ شب معراج میں آنحضرت ﷺ نے اللہ پاک کو نہیں دیکھا، بلکہ آپ ﷺ کی کچھ آیات کبریٰ ہی کو دیکھا، کیونکہ اگر روئیت باری ہوتی، تو اس کا ضرور ذکر فرمایا جاتا کہ سب سے بڑی نشانی وہی ہوتی، مگر سفر اسراء و معراج کے بیان میں اس کا ذکر نہ یہاں فرمایا گیا، اور نہ ہی سورة بنی اسرائیل میں، بلکہ دونوں جگہ ان نشانیوں ہی کا ذکر فرمایا گیا، اور وہ بھی من تبعیضیۃ کے ساتھ یعنی من اٰیاتنا اور من اٰیات ربہٖ فرمایا گیا، یعنی آپ ﷺ نے اپنے رب کی کچھ بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے رب کی کچھ نشانیوں ہی کا مشاہرہ کروایا تھا۔ خود رب تعالیٰ کی رویت اور مشاہدے کے لئے کوئی ذکر و اشارہ نہیں۔ سو اس سے بھی ہماری اوپر والی بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ والحدللہ عزوجل،
Ayah 53:19

اَفَرَءَیْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰىۙ Open ayah 53:19 in the Quran reader

تو کیا تم لوگوں نے کبھی لات اور عزی کی حقیقت پر بھی کچھ غور کیا ؟

[ 21] مشرکین کی تحقیر و ملامت ان کے شرک پر : سو ارشاد فرمایا گیا اور مشرکین سے تحقیر آمیز خطاب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی لات کو بھی دیکھا ؟ یعنی اس کی حقیقت کے بارے میں بھی کبھی غور کیا ؟ کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے گھڑ کر اپنا معبود اور حاجت روا بنا رکھا ہے، آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ؟ اور تمہاری مت کہاں اور کیسے مار دی گئی ؟ اور تم کیوں اور کیسے مرتد ہوگئے ؟ جل وعلا العیاذ باللّٰہ۔ یہ بت طائف میں تھا جس کی بنو ثقیف پوجا کیا کرتے تھے یہ دراصل ایک نیک شخص تھا، جو حاجی صاحبان کو ستّو گھول کر پلایا کرتا تھا، پھر جب یہ مرگیا تو کچھ لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے، پھر انہوں نے اس کی مورتی بنا کر اس کو پوجنا شروع کردیا، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس ؓ ما سے مروی ہے۔ [ ابن کثیر، روح، خازن اور مراغی وغیرہ ] اس کے مادہ اشتقاق میں کئی اقوال ہیں، رو التفصیل فی المفصل ان شاء اللّٰہ بہرکیف مشرکین کے یہاں اس بت کا ایک خاص اور ممتاز مقام تھا، اور یہاں پر مشرکین سے یہ سوال و استفہام تعجب اور تحقیر و استخفاف کے لئے ہے، یعنی کہاں وحی لانے والے فرشتے جبریل امین کی وہ صفات جو اوپر ذکر ہوئیں، جو کہ سب سے اعلیٰ درجے کے مردانہ صفات ہیں، جیسے " شدید القویٰ "۔ " ذو مرۃٍ عند ذی العرش مکین " [ التکویر : 20] اور " متاعٍ ثم امین " [ التکویر : 21] اور کہاں تمہاری یہ بےحقیقت اور بےجان مورتیاں جن کو تم نے خود گھڑا ہے، خود ان کے زنانہ نام رکھے ہیں، اور ازخود ان کو خدائے وحدہٗ لاشریک کا شریک اور سہیم قرار دے رکھا ہے، اور ان کے آگے جھک کر اور سجدہ ریز ہو کر تم اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان خود اپنے ہاتھوں کرتے ہو۔ والعیاذ باللّٰہ۔ سو شرک ایک ایسا ہولناک جرم ہے جو انسان کو انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانات کے قعر مذلت میں پہنچا دیتا ہے، بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر وہ اس کو " اسفل السافلین " بنا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ انسانوں بلکہ حیوانوں بلکہ اس سے بھی نیچے گر کر وہ جمادات اور پتھروں کی پوجا کرنے لگتا ہے اور اس طرح وہ ذلتوں پر ذلتیں اٹھاتا، اور محرومی در محرومی کا شکار بنتا چلا جاتا ہے، اور وہ بھی اس طور پر کہ اس کو اپنی اس حرمان نصیبی اور خسران مبین کا کوئی شعور و احساس تک نہیں، تو پھر اس سے بڑھ کر ہلاکت و تباہی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہمیشہ راہ حق و صواب پر مستقیم و ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین۔ [ 22] عُزّٰی دیوی کی حقیقت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی عزی کو بھی دیکھا، یعنی اس کی حقیقت میں بھی غور کیا ؟ یعنی تم لوگ اس کے بارے میں سوچو اور غور کرو کہ آخر یہ بےحقیقت اور بےجان مورتیاں تمہاری معبود اور تمہاری حاجت روا و مشکل کشاکس طرح ہوسکتی ہیں ؟ یہ بت مکہ اور طائف کے درمیان وادیء نخلہ میں تھا جو اصل میں ایک درخت تھا جس پر تعمیر بھی تھی اور اس پر جھنڈیاں بھی باندھ کر رکھی گئیی تھیں، حضور ﷺ نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو اس کے کاٹنے کیلئے بھیجا، اور جب انہوں نے اس کو کاٹا تو اس سے چڑیل قسم کی ایک شیطان عورت نکلی، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اور وہ اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر واویلا کرنے لگی، تو حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنے تلوار جوہردار سے اس کا کام بھی تمام کردیا، جب واپس آکر آپ ؓ نے یہ قصہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا یہی عزی دیوی تھی جس کی آئندہ کبھی پوجا نہیں ہوسکے گی [ فقال تلک العزی ولن تعبدابدا ] جیسا کہ سنن نسائی وغیرہ نے حضرت ابو الفضل سے روایت کیا ہے [ روح، قرطبی، خازن، محاسن، جامع، اور وجیز وغیرہ ] بہرکیف عزی کے اس بت کا مشرکین کے یہاں بڑا خاص درجہ اور مقام تھا، اور اس کی پوجا پر وہ لوگ فخر کیا کرتے تھے چناچہ غزوہ و احد کے موقع پر ابو سفیان نے اسی کے نام کا فخریہ نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا۔ لنا العزی ولا عزی لکم۔ [ یعنی ہمارے لئے عزی دیوی ہے اور تمہارے لئے کوئی عزی نہیں ] تو اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو اس طرح کہنے کی ہدایت فرمائی تھی " اللّٰہُ مولانا ولا مولی لکم " [ یعنی اللہ ہمارا حامی و ناصر اور مولی و کارساز ہے اور تمہارا مولی و کارساز کوئی نہیں ] والعیاذ باللّٰہ جل وعلا بکل حال من الاحوال،
Ayah 53:20

وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى Open ayah 53:20 in the Quran reader

اور اس پچھلے تیسرے مناۃ کے بارے میں بھی کبھی سوچا

[ 23] مشرکین کو غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا اور مشرکین کو دعوت غور وفکر دینے کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے کبھی ان کے بارے میں کبھی سوچا نہیں ؟ یعنی کبھی تم لوگوں نے اس بارے سوچا اور گور نہیں کیا کہ ایک طرف تو حضرت حق جل مجدہ کی عظمت بےپایاں کے یہ آثار و مظاہر تمہارے سامنے موجود اور ہر طرف پھیلے بکھرے ہیں، اور دوسری طرف تمہارے یہ بےجان اور بےحقیقت بت اور خود ساختہ اور من گھڑت مورتیاں ہیں، جن کو تم لوگ ازخود اس کا شریک قرار دیتے ہو، کیا اس پر تمہیں شرم بھی نہیں آتی، تمہاری عقلوں کو آخر کیا ہوگیا ہے ؟ آخر لوگ سوچتے کیوں نہیں ؟ کہ تم کس سے توڑ کر کس سے جوڑ رہے ہو ؟ از کہ بریدی وبا کہ پیوستی ؟ لیکن جب کفر و شرک، اور بت پرستی کی نحوست سے کسی کی مت ماریدی جاتی ہے، تو پھر اس کی عقل ماؤف و معطل ہو کر رہ جاتی ہے، اور وہ ماتم کرنے کے لائق ہوجاتی ہے، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور اگر آپ دیکھیں اور کچھ غور و فکر سے کام لیں تو آپ کو بہت سے کلمہ گو اور جاہل مسلمانوں کے اندر بھی شرک کے اسی مرض کے جراثیم اور اسی طرح کے مظاہر جگہ جگہ نظر آئیں گے اور طرح طرح سے نظر آئیں گے، جہاں انہوں نے فرضی معبودوں اور خود ساختہ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے اڈے بنا رکھے ہیں، اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ ان کے نام بھی عورتوں کے رکھے ہوئے ہیں جیسے سہیلی سرکار اور نویلی سرکار وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور زیغ وضلال کی ہر قسم اس کی ہر شکل اور اس کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین یا ارحم الراحمین واکرم الاکرمین، سبحانہ وتعالیٰ ۔
Ayahs 53:21–22

اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَ لَهُ الْاُنْثٰى Open ayah 53:21 in the Quran reader

کیا تمہارے لئے تو ہوں بیٹے اور اس کے لئے ہوں بیٹیاں ؟

تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِیْزٰى Open ayah 53:22 in the Quran reader

تب تو یہ بڑی ہی ٹیڑھی (اور بےڈھنگی) تقسیم ہے

[ 24] " منات " کے بارے میں غور وفکر کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تم لوگوں نے بھی اور اس تیسرے " مناۃ " کے بارے میں بھی سوچا ؟ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان خزاعہ کا بت تھا جس کی پوجا اہل مکہ بھی کیا کرتے تھے، اور اس کے پاس سے مشرکین احرام بھی باندھا کرتے تھے، اور اس کو اخری [ پچھلا ] اس لئے فرمایا گیا کہ یہ مرتبے کے اعتبار سے تیسرے درجے پر تھا [ مراغی، محاسن اور ابن کثیر وغیرہ ] ویسے تو جزیر ہیٔ عرب میں اور بھی بہت سے بت تھے، مگر یہ تینوں چونکہ زیادہ مشہور و معروف تھے، اس لئے ان کا یہاں پر بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے، اور انہی کے بارے میں سوچنے اور گور کرنے کی دعوت دی گئی ہے، عربوں میں ان تین بتوں کے پجاریوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ تھی، اور ان کا درجہ اور مقام بھی ان کے یہاں سب سے بڑا تھا، اور اس اہمیت و عظمت میں ان تینوں کے شریک ہونے کے باوجود " مناۃ " کا درجہ ان دوسروں سے کم تھا، قرآن حکیم نے اسی حقیقت کو ظاہر کرنے کیلئے یہاں مناۃ کے ساتھ دو صفتوں کا ذکر فرمایا ہے، ایک ثالثہ اور ایک اخری سو پہلی صفت یعنی ثالثہ سے واضح فرما دیا گیا کہ زمرے کے اعتبار سے یہ بت بھی انہی تین میں شامل اور ان میں کا تیسرا تھا، لیکن اس کے ساتھ اخری کی صفت سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں کے نزدیک ان تینوں کے زمرے میں شامل ہونے کے باوجود اس کا درجہ پہلے دو سے بعد کا تھا۔ نہ کہ ان کے برابر کا۔
Ayah 53:23

اِنْ هِیَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰىؕ Open ayah 53:23 in the Quran reader

یہ تو محض کچھ نام ہیں جو رکھ لئے ہیں تم لوگوں نے خود اور تمہارے باپ دادا نے (ورنہ) اللہ نے تو ان کے بارے میں کوئی سند نہیں اتاری حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ تو محض وہم و گمان کے پیچھے چلتے ہیں اور ان خواہشات کی پیروی کرتے ہیں جو ان کے نفسوں میں آتی ہیں حالانکہ آچکی ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے ہدایت۔

[ 25] مشرکوں کی مت ماری کے ایک اور نمونے اور مظہر کا ذکر وبیان : کہ یہ لوگ اپنے لئے تو بیٹے پسند کرتے ہیں لیکن اللہ کے لئے بیٹیاں، سو ان کی اس مت ماری پر ان کی علامت اور سرزنش کرتے ہوئے اور ان کے ضمیروں پر دستک دیتے ہوئے ان سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا خود تمہارے لئے تو ہوں لڑکے، اور اس [ وحدہٗ لاشریک ] کیلئے ہوں لڑکیاں ؟ جن کو تم لوگ خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔ سو ایسے میں تو یہ بڑی ہی ٹیرھی تقسیم ہے۔ کہ جو چیز تم خود اپنے لئے پسند نہ کرو، وہ اپنے خالق ومالک کے لئے تجویز کرو، جیسا کہ آج کے بعض جاہل مسلمانوں کا حل ہے کے مسلمان ایسے ہیں جو کسی چیز کو جب خود اپنے لئے پسند نہیں کرتے، تو اللہ کے نام پردے دیتے ہیں مثلاً عشر میں گھٹیا غلہ دیں گے، اور زکوٰۃ و صدقات میں کھوٹا اور خراب مال پیش کریں گے، وغیرہ، والعیاذ باللّٰہ۔ نیز جیسا کہ اس کا مظاہرہ آج کا جاہل مسلمان اپنی اولاد کے بارے میں کرتا ہے کہ لڑکا پیدا ہو تو کہتا ہے پیروں نے دیا ہے اور اس کا نام بھی وہ پیراں دتہ یعنی پیروں کا دیا رکھتا ہے، مگر جب لڑکی پیدا ہوگی تو کہے گا اللہ نے دی ہے اور اس کا نام پیراں دتی یعنی پیر کی دی ہوئی نہیں رکھتا، سو یہ کل کے اسی قدیم مشرکانہ مرض کے جراثیم ہیں جو آج تک موجود ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اللہ شرک کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھے۔ آمین ثم آمین، بہرکیف طنزیہ انداز اسلوب کے ان فقیروں سے مشرکین کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے لئے تو لڑکے پسند کرتے ہو اور اللہ کے لئے لڑکیاں جن کے بارے میں تمہارا اپنا حال یہ ہے کہ اگر تم سے کسی کے گھر پیدا ہوجائے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے، اور وہ لوگوں سے چھپنے لگ جاتا ہے، اور پھر اس فکر میں پڑجاتا ہے کہ اس کو زندہ درگور کر دے یا اس کو ذلت کے ساتھ زندہ رکھے۔ [ النحل 58، 59] جس مخلوق کو تم لوگ اپنے لئے اس قدر برا اور معیوب سمجھتے ہو اسی کو تم اپنے خالق ومالک کی طرف منسوب کرتے ہو۔ تمہاری مت آخر کہاں ماری گئی ؟ اور تم اس قدر اوندھے کیوں ہوگئے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسواء وانحراف، بکل حال من الاحوال، جل و علا۔ [ 26] معبود ان باطلہ کی بےحقیقتی کا ذکر وبیان : سو مشرکوں کے خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کی بےحقیقتی کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ تو محض کچھ نام ہیں جو تم لوگوں نے خود رکھے ہیں اور بس۔ اور ان کو تم لوگوں نے ازخود اپنا حاجت روا اور مشکل کشا قرار دے کر پوجنا شروع کردیا، بغیر کسی سند اور دلیل کے افسوس کہ کل کے اس مرض شرک کے جراثیم بدقسمتی سے آج کے بہت سے مسلمانوں کے اندر بھی کسی نہ کسی شکل میں، یہاں اور وہاں، جگہ جگہ، اور طرح طرح سے پائے جاتے ہیں، چناچہ آج بھی کتنے ہی جاہل مسلمان ایسے ہیں جو ایسے بزرگوں کو جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں، طرح طرح کے ایسے من گھڑت اور خودساختہ اسماء والقاب سے پکارتے اور یاد کرتے ہیں، جس کے لئے ان کے پاس نہ کوئی سند ہے، نہ ثبوت، نہ قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی میں ان کا کہیں کوئی ذکر، اور نہ ہی کبھی خود ان بزرگوں میں سے کسی نے ایسی کوئی بات ارشاد فرمائی ہے، مگر یار لوگوں نے خود اپنی طرف سے اور اپنی خواہش ومرضی کے مطابق ایسے نام گھڑ لئے ہیں، کہ فلاں حاجت روا اور مشکل کشا اور فلاں یہ کرتا ہے اور فلاں وہ کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ، اور اس طرح شرک کو رواج دینے کے لئے ایسے لوگ طرح طرح کے جھوٹے قصے اور من گھڑت قصے اور افسانے گھڑ گھڑ کر پھیلاتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ العظیم، من کل زیغ و ضلال وسواء وانحراف، جل وعلا۔ [ 27] اتباع ظن و ہویٰ باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللّٰہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی باعث ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ صرف ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں۔ اور یہی دو باتیں بیماری اور فساد کی جڑ بنیاد ہیں جن کی نشاندہی اس ارشاد ربانی میں فرمائی گئی ہے، کل بھی سب خرابیوں کی جڑ بنیاد یہی دو چیزیں تھیں، اور آج بھی یہی ہیں یعنی اتباع ظن اور اتباع ہویٰ ، یعنی خیال و گمان کی پیروی، اور خواہشات نفس کی پیروی، چناچہ آج آپ دیکھ لیں کہ جو لوگ کفر و شرک، بت پرستی وتعزیہ پرستی، قبر پرستی، آستانہ پرستی وغیرہ مخلوق پرستی کے طرح طرح کے مہالک میں مبتلا ہیں، اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ اس سے ان کی کئی قسم کی خواہشات کی تکمیل ہوتی ہے اور اس سے ان کی طرح طرح کی اغراض اور مختلف قسم کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں، ان کو نذرانے ملتے ہیں، نیازیں پیش کی جاتی ہیں، گدیاں چلتی ہیں، اور طرح طرح کے دوسرے دنیاوی فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں، اس لئے ان لوگوں نے ان سے متعلق طرح طرح کے قصے گھڑے ہوتے ہیں اور افسانے بنائے ہوتے ہیں، مگر ایسے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اس طرح یہ خود حق و ہدایت کی دولت سے محروم ہو کر اپنے لئے کتنے بڑے ہولناک خسارے کا سامان کرتے ہیں، تاکہ اس طرح ان کا کاروبار شرک و بدعت پھیلتا اور بڑھتا جائے، مگر ان کو اس کا کوئی شعور و احساس تک نہیں ہوتا کہ اس طرح یہ لوگ خود اپنے لئے اور دوسروں کیلئے کس قدر ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللّٰہ جل و علا۔ بہرکیف اس سے ظاہر اور واضح فرما دیا گیا کہ ظن و گمان اور نفسانی اہوا و اغراض کی اتباع باعث ہلاکت و محرومی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ اور سلامتی و نجات اور فوزوفلاح کی راہ ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی یہ کہ اس حق و ہدایت کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی کی جائے جو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے اس کے بندوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے نازل فرمائی گئی ہیں۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل، سبحانہ وتعالیٰ ۔ فعلیہ نتوکل وبہ نستعین، بکل حال من الاحوال، جل وعلا۔ [ 28] نور ہدایت سے محرومی، ہر خیر سے محرومی۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نور ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی، اور ہدایت کی روشنی سے اعراض و دور گردانی ہلاکتوں کی ہلاکت ہے۔ والعیاذ باللّٰہ۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو صرف ظن و گمان اور خواہشات کی پیروی کرتے ہیں حالانکہ ان کے پاس پہنچ چکی ہدایت ان کے رب کی جانب سے، جو کہ اصل اور کامل ہدایت ہے اور جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہیں کھولتی ہے، جو کہ زندگی کے ایک ایک گوشے کو روشن ومنور کرتی، اور انسان کی راہنمائی فرماتی ہے، جو کہ اب قرآن مجید جیسی کتاب کامل و مقدس کی صورت، میں پہنچ گئی، جو کہ آخری اور ہر لحاظ سے کامل و مکمل ہدایت ہے مگر لوگوں کی اکثریت اس سب کے باوجود اس ہدایت کامل سے منہ موڑ کر ظن و گمان اور خواہشات نفس کی پیروی کرتی ہے، حق و ہدایت سے منہ موڑ کر ظن و گمان کی اور خواہشات نفس کی پیروی کرنا کتنے بڑے خسارے کا سودا ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو ایسے لوگ اگر نور حق و ہدایت کے پہنچنے سے پہلے ایسی کسی گمراہی میں مبتلا ہوتے تو ان کے لئے پھر بھی کسی عذر اور معذوری کی کوئی گنجائش ہوسکتی تھی، لیکن اب جب کہ ہدایت ان کے پاس پہنچ چکی اور حق ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوگیا تو اب ان کیلئے کسی عذر اور معذوری کی کوئی گنجائش کیسے ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا، وھو الھادی الیٰ سواء السبیل۔
Ayah 53:24

اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى٘ۖ Open ayah 53:24 in the Quran reader

کیا انسان کو وہ سب کچھ مل جاتا ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے ؟

[ 29] انسان کی ہر خواہش پوری نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا انسان کی ہر خواہش پوری ہوسکتی ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور یقینا نہیں، تو پھر تمہاری وہ تمنائیں اور آرزوئیں کس طرح اور کیونکر پوری ہوسکتی ہیں جو تم نے خداوند جل و علا کو چھوڑ کر لکڑی پتھر وغیرہ کی ان بےجان مورتیوں، طرح طرح کے آستانوں، اور زندہ و مردہ انسانوں سے وابستہ کر رکھی ہے ؟ سو آج تم لوگوں نے جو اپنے خود ساختہ معبودوں سے طرح طرح کی امیدیں اور آرزوئیں وابستہ کر رکھی ہیں، تو ان کے لئے آج تم اپنے آپ کو خوش کرنے کی غرض سے جو چاہو فلسفہ طرازیاں کرتے رہو، لیکن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ جو خیالی محل تم لوگ تعمیر کرتے رہے تھے، ان سب کی بنیاد ریت پر تھی، محض دھوکے اور دل کے بہلاوے کا سامان ہے اور طرح طرح کے مفروضوں کی بنا پر جو لوگ جگہ جگہ جھکتے اور طرح طرح کی آسیں اور امیدیں لگائے ہوئے ہیں وہ محض اپنی محرومی اور تذلیل و تحقیر کا سامان کرتے ہیں۔ کل قیامت کے روز جب حقائق اپنی اصلی صورت میں سامنے آئیں گے تو ان کو کھرا کھوٹا سب معلوم ہوجائیگا اور ان کی آنکھیں پوری طرح کھل جائیں گے۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم، جل وعلا۔
Ayah 53:25

فَلِلّٰهِ الْاٰخِرَةُ وَ الْاُوْلٰى۠ Open ayah 53:25 in the Quran reader

تو (یاد رکھو کہ) اللہ ہی کے لئے ہے آخرت بھی اور (اس سے پہلے یہ) دنیا بھی

[ 30] دنیا و آخرت دونوں اللہ تعالیٰ ہی کیلئے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ معاملہ سب کا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہء قدرت و اختیار میں ہے۔ پس اگر کوئی اس خام خیالی میں مبتلا ہے کہ کسی کی خواہشات کی تعمیل و تکمیل کیلئے اللہ تعالیٰ کی کسی سنت یا قانون میں تبدیلی آجائے گی تو وہ اچھی طرح اور کان کھول کر سن لے کہ اللہ ہی کے لئے ہے دنیا بھی اور آخرت بھی، کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے، اور مالک بھی وہی۔ پس یہ سب کچھ اسک کا ہے، جس میں اور کسی کا نہ کوئی حصہ ہے نہ عمل دخل۔ پس تم اسی وحدہٗ لاشریک کو راضی کرنے کی فکر و کوشش کرو، اور جو کچھ مانگنا ہے اسی سے مانگو کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اپنی جن جن خود ساختہ ہستیوں اور " سرکاروں " کو تم لوگوں نے اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے رکھا ہے، وہ سب کچھ خیالی، فرضی اور بےحقیقت ہے ان میں سے کچھ بھی تمہیں کام آنے والا نہیں، حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ دنیا و آخرت دونوں کلیۃً اللہ وحدہٗ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں، سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور کسی کا بھی یہ درجہ اور مرتبہ نہیں کہ وہ اس کے اذن کے بغیر اس کے یہاں کسی کے لئے کوئی سفارش کرسکے یا اس کے قانون یا فیصلے کو تبدیل کر اس کے۔ وباللّٰہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملہم الصدق والصواب،
Ayah 53:26

وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى Open ayah 53:26 in the Quran reader

اور (یہ معبودان باطل تو درکنار یہاں تو حال یہ ہے کہ) کتنے ہی فرشتے ہیں آّسمانوں (کی بلندیوں) میں کہ ان کی سفارش بھی کچھ کام نہیں دے سکتی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جس کے لئے وہ چاہے اور پسند فرمائے1

[ 31] فرشتوں کی شفاعت بھی اذن خداوندی کے بغیر کام نہیں آسکتی : سو اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ فرشتوں اور آسمان کے فرشتوں کے اختیار میں بھی کچھ نہیں مگر اللہ ہی کے اذن سے۔ چناچہ اس بارے میں واضح فرما دیا گیا اور حصر و تاکید کے ساتھ واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کے اذن کے بغیر آسمانوں کے فرشتوں کی سفارش بھی کچھ کام نہیں آسکتی۔ حالانکہ وہ پاکیزہ اور نوری مخلوق ہیں، اور ان کو اللہ پاک سے خاص قرب اور حضور بھی نصیب ہے، تو پھر اور کسی کا کہنا ہی کیا اور ان کے حاجت روا و مشکل کشا ہونے کا سوال ہی کیا ؟ سو مشرکین کی دیویوں، دیوتاؤں، آستانوں اور سرکاروں وغیرہ خود ساختہ سہاروں کی حیثیت ہی کیا ؟ یہاں تو حال یہ ہے کہ آسمانوں میں رہنے بسنے والے نوری فرشتوں کی سفارش بھی کسی کے کچھ کام نہیں آسکے گی، مگر یہ کہ اللہ ان کو کسی کے بارے میں شفاعت کی اجازت سے، سو اول تو کوئی اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کسی کے لئے شفاعت و سفارش کرنے کے لئے زبان بھی نہیں کھول سکے گا، اور جو اذن کے بعد زبان کھولے گا بھی تو صرف اس کیلئے کھولے گا جس کیلئے خداوند قدوس پسند فرمائے گا کہ اس کے لئے سفارش کی جائے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا۔ { یومئذ لا تنفع الشفاعۃُ الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہٗ قولا۔} [ طہٰ : 109 پ 16] ۔ یعنی اس دن کوئی سفارش کسی کے کچھ کام نہیں آئے گی مگر اسی کی جس کو خدائے رحمان اس کیلئے اجازت دے اور وہ اس کی بات کو پسند بھی کرئے۔ پس جن لوگوں نے ایمان و عمل کی راہ کو چھوڑ کر دوسرے مختلف خود ساختہ سہاروں پر اعتماد کر رکھا ہے وہ سراسر دھوکے اور خسارے میں اور بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ و سلامت رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین، [ 32] اصل چیز اللہ تعالیٰ کا اذن اور اس کی مرضی ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل چیز جس پر شفاعت و سفارش کا انحصار اور دارومدار ہے، وہ ہے اللہ پاک کا اذن اور اس کی مرضی، جس کے بغیر کوئی کسی طرح کی سفارش کیلئے بھی دم نہیں مارسکتا، اور اس کی شفاعت و سفارش کی وہاں پر کوئی گنجائش نہیں، جس کا عقیدہ مشرک اور جاہل لوگ رکھتے ہیں کہ ہمارے سفارشی بہرحال ہمیں بخشوا دیں گے، وہ اڑ کر بیٹھیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے ہم نے ان کا سہارا لے رکھا، ان کا لڑ پکڑ رکھا ہے، پس ہمیں یہی کافی ہے، سو اس مشرکانہ تصور شفاعت کی وہاں پر کوئی گنجائش نہیں، سو اس ارشاد سے ان تمام مشرکا نہ تصورات کی جڑ کاٹ دی گئی جو مشرک لوگوں نے ازخود اور فرضی بنیادوں پر قائم کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ آخرت کی جواب دہی اور اس کے لئے تیاری سے نچنت اور بےفکر ہیں اور ان کو اس کا احساس ہی نہیں اس طرح وہ کس قدر ہولناک خسارے میں گرتے اور بڑھتے چلے رہے ہیں۔ والعیاذ باللّٰہ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال اور اس کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین،