Explained with ayahs 35–43
توحید ربوبیت اور الوہیت
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 33
اشارہ ہے ان تدبیروں کی طرف جو کفار مکہ رسول اللہ ﷺ کو زک دینے اور آپ کو ہلاک کرنے کے لیے آپس میں بیٹھ بیٹھ کر سوچا کرتے تھے۔
سورة الطُّوْر 34
یہ قرآن کی صریح پیشن گوئیوں میں سے ایک ہے۔ مکی دور کے ابتدائی زمانے میں، جب مٹھی بھر بےسرو سامان مسلمانوں کے سوا بظاہر کوئی طاقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہ تھی، اور پوری قوم آپ کے خلاف برسر پیکار تھی، اسلام اور کفر کا مقابلہ ہر دیکھنے والے کو انتہائی نامساوی مقابلہ نظر آ رہا تھا۔ کوئی شخص بھی اس وقت یہ اندازہ نہ کرسکتا تھا کہ چند سال کے بعد یہاں کفر کی بساط بالکل الٹ جانے والی ہے۔ بلکہ ظاہر میں نگاہ تو یہ دیکھ رہی تھی کہ قریش اور سارے عرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →(ام یریدون کیدا فالذین کفروا ھم المیکدون (42)۔
(اصل حقیقت کی پردہ کشائی)۔ یہ سوال ہی کے پیرا یہ میں اصل حقیقت سے پردہ اٹھادیا ہے کہ یہ ساری دلیل بازیاں اور سخن سازیاں تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کی دعوت کے فروغ میں ان کو اپنی سیادت کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ اس کو بچانے کے لیے یہ ساری باتیں وہ اپنے ضمیر کے بالکل خلاف، گھڑتے اور پھیلاتے ہیں تاکہ ان کے عوام اس دعوت سے متاثر ہو کر ان کے ہاتھوں سے نکل نہ جائیں۔ فرمایا کہ کیا یہ کوئی چال چلنی چاہتے ہیں ! اگر یہ بات ہے تو یاد رکھیں کہ جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ خود اپنے دام میں گرفتار ہیں۔
(حق کے خلاف سازی کرنے والے خود اپنے دام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
42۔ 1 یعنی ہمارے پیغمبر کے ساتھ، جس سے اس کی ہلاکت واقع ہوجائے۔
42۔ 1 یعنی کید ومکر ان پر ہی الٹ پڑے گا اور سارا نقصان انہیں کو ہوگا جیسے فرمایا ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ چناچہ بدر میں یہ کافر مارے گئے اور بھی بہت سی جگہوں پر ذلت و رسوائی سے دوچار ہوئے۔
Read the full tafseer →12: اس سے ان سازشوں کی طرف اشارہ ہے جو یہ لوگ حضور اقدس ﷺ اور آپ کے صحابہ کے خلاف کیا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →ام یریدون ........ المکیدون (25 : 24) ” کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں اگر یہ بات ہے تو کفر والوں پر ان کی چال الٹی پڑے گی یعنی اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کی تدبیر ان کو گھیر لے گی اور اللہ کی تدبیریں ان پر پڑیں گی کیونکہ اللہ بہت سی بہترین تدبیریں کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →8 یعنی ان میں سے کوئی بات نہیں تو کیا پھر یہ ہی ارادہ ہے کہ پیغمبر کے ساتھ داؤ پیچ کھیلیں اور مکرو فریب اور خفیہ تدبیریں گانٹھ کر حق کو مغلوب یا نیست و نابود کردیں۔ ایسا ہے تو یاد رہے کہ یہ داؤ پیچ سب ان ہی پر الٹنے والے ہیں عنقریب پتہ لگ جائے گا کہ حق مغلوب ہوتا ہے یا وہ نابود ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 42{ اَمْ یُرِیْدُوْنَ کَیْدًاط فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہُمُ الْمَکِیْدُوْنَ۔ } ”کیا یہ لوگ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ اصل میں تو یہ کافر خود ہی چال کا شکار ہوگئے ہیں۔“
یہ لوگ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہمارے رسول ﷺ اور قرآن کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلا رہے ہیں تاکہ عوام ان سے متاثر نہ ہوں۔ لیکن ان کی یہ باتیں اس قدر بودی ہیں کہ خود ان کے اپنے دل بھی ان کو نہیں مانتے۔ ان کی سازشوں کو اللہ تعالیٰ اسی طرح ناکام کرتا رہتا ہے ‘ جیسا کہ سورة الطارق میں فرمایا گیا : { اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا - وَّاَکِیْدُ کَیْدًا۔ } ”یہ لوگ تو اپنی تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں اور میں اپنی تدبیر کر رہا ہوں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
36 اگر یہ سب باتیں نہیں تو لامحالہ یہ ان کی فریب کا رانہ چالیں ہیں کہ آپ پر طرح طرح کے الزامات لگا کر لوگوں کو آپ سے بدظن کردیں اور آپ کی ہمت توڑ دیں۔ لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ عنقریب یہ اپنی چالبازیوں، شاطرانہ چالوں اور سازشوں کے جال میں خود پھنس جائیں گے۔ واضح رہے کہ کافروں کے حق میں یہ پیشین گوئی مکی زندگی کے اس دور میں کی گئی جب بیچارے مسلمان کافروں کے ظلم و جور کی چکی میں بری طرح پس رہے تھے اور کسی کو یہ خیال تک بھی نہ آسکتا تھا کہ یہ سارا معاملہ الٹ بھی سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
21۔ یعنی اپنے اسی کید کے وبال میں خود ہی گرفتار ہوں گے، قید ہوں گے، قتل ہوں گے، شکست وناکامی کی ذلتیں اور مصیبتیں اٹھائیں گے، قریش کے عین دور غلبہ واقبال میں جبکہ اسباب ظاہری سب اسلام کی مغلوبی ہی کے تھے، ایسی پیشگوئی بجائے خود اعجاز قرآنی کی ایک دلیل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔
ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…
Read the full tafseer →ام یریدون کیدا فالذین کفروا ھم المکیدون . کیا یہ لوگ کچھ برائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ‘ سو یہ کافر خود ہی اس برائی میں گرفتار ہوں گے۔
یعنی کیا یہ لوگ کوئی سازش کر رہے ہیں کہ آپ کو ہلاک کردیں۔ دارالندوہ میں بیٹھ کر کافروں نے رسول اللہ ﷺ کو شہید کردینے کی سازش کی تھی۔ اسی سازش کے متعلق اللہ نے خبر دی تھی۔ وَاِذْ یَمْکُرُبِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَ وَ یَمْکُرُوْنَ وَ یَمْکُرُ اللہ وَ اللہ ُ خَیْرُ الْمٰکِرِیْنَ ۔
فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ھُمْ الْمَکِیْدُوْنَ : یعنی سازش کرنے والوں کی سازش انہی پر لوٹ پڑے گی اور سازش کی سزا انہی کو بھگتنی ہوگی۔…
Read the full tafseer →بلکہ یہ لوگ آپ کے قتل کی سازش کرتے ہیں تو ان کفار مکہ میں سے جو لوگ اس سازش میں شریک ہیں یعنی ابوجہل وغیرہ وہ خود ہی بدر کے مقتول ہوں گے۔
Read the full tafseer →(ام یریدون کیداً ، فالذین کفروا …:”المکیدون“ کاد یکید کیدا“ سے اسم مفعول ہے، جو کسی کی چال میں آچکے ہوں۔ یعنی یا وہ آپ کے خلاف کوئی چال چلنا چاہتے ہیں تو سن لیں کہ وہ لوگ جو حق کا انکار کر رہے ہیں، یا اس کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اور کئی طرح کی چالیں چل رہے ہیں وہ خود ہی چال میں آنے والے ہیں۔ چناچہ کفار نے آپ ﷺ کی ہجرت کے وقت یا کسی بھی موقع پر آپ ﷺ کے خلاف جو بھی سازش کی وہ ناکام ہوئی اور ان کی ہر چال انھی پر الٹی پڑی اور کفر پر اڑنے والے بدر اور دوسرے مواقع پر بری طرح قتل ہوئے۔ سعید روحوں نے اسلام قبول کرلیا اور پورا جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگیں آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ام یریدون کیداً یعنی وہ دارالندوہ میں تیرے بارے میں خفیہ تدبیر کا ارادہ کرتے ہیں۔
فالذین کفرواھم المکیدون۔ یعنی جنہوں نے کفر کیا ان کے ساتھ خفیہ تدبیر کی جائے گی، ارشاد باری تعالیٰ ہے : ولایحیق المکر السی الا باھلہ (فاطر : 43) اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں بدر کے میدان میں قتل کیا گیا۔ ام لھم الہ غیر اللہ یعنی وہ الہ پیدا کرتا ہے، رزق دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔ سبحن اللہ عما یشرکون۔ اللہ تعالیٰ کی اس امر سے پاکی بیان کیجیے کہ اس کا کوئی شریک ہو۔ خلیل نے کہا، سورة طور میں جہاں بھی ام کا لفظ ذکر کیا گیا ہے وہ کلمہ استفہام ہے عصف نہیں (5)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…
Read the full tafseer →اَمْ يُرِيْدُوْنَ [ یا یہ لوگ ارادہ کرتے ہیں ] كَيْدًا ۭ [کسی چالبازی کا ] فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا [ تو جن لوگوں نے انکار کیا ] هُمُ الْمَكِيْدُوْنَ [ وہی چالبازی کا نشانہ ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا ﴿ اَمْ يُرِيْدُوْنَ كَيْدًا 1ؕ فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِيْدُوْنَؕ0042﴾ (کیا وہ لوگ بری تدبیر کا ارادہ رکھتے ہیں سو جن لوگوں نے کفر کیا وہ خود ہی تدبیر کی زد میں آنے والے ہیں) ۔
صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ آیت بالا نازل ہونے کے کئی سال بعد اس پیشن گوئی کا ظہور ہوا جس کا اس آیت میں اظہار فرمایا ہے، مشرکین مکہ مشورہ لے کر بیٹھے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا کریں اس پر تین باتیں آئیں جن کو سورة انفال کی آیت کریمہ ﴿وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ میں بیان فرمایا ہے ان لوگوں کی سب تدبیریں دھری رہ گئیں اور رسول اللہ ﷺ صحیح سلامت مدینہ منورہ پہنچ گئے آپ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
20:۔ ” ام عندھم۔ الایۃ “ کیا وہ غیب جانتے ہیں اور انہوں نے آئندہ واقع ہونے والی غیب کی باتیں لوح مھفوظ سے نوٹ کرلی ہیں کہ دعوے کرتے پھر رہے ہیں کہ اول تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آ بھی گئی تو ہم عذاب سے مھفوظ رہیں گے۔ ” ام یریدون کیدا۔ الایۃ “ کیا وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے خلاف کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں ؟ یاد رکھیں کافروں کے منصوبے انہی پر الٹ دئیے جاتے ہیں اور پیغبروں کو ان سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کا ان کا منصوبہ ناکام کردیا گیا اور خود ان کو جنگ بدر میں قتل اور قید و بند کی سزا دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔
کہانت اور دیوانگی کی نفی
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…
Read the full tafseer →اَمْ يُرِيْدُوْنَ كَيْدًا 0 ۭ فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا ہُمُ الْمَكِيْدُوْنَ 42 ۭ
راود
والمُرَاوَدَةُ : أن تنازع غيرک في الإرادة، فترید غير ما يريد، أو ترود غير ما يرود، ورَاوَدْتُ فلانا عن کذا . قال : هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ نَفْسِي[يوسف/ 26] ، وقال : تُراوِدُ فَتاها عَنْ نَفْسِهِ [يوسف/ 30] ، أي : تصرفه عن رأيه،
( ر و د ) الرود
المراودۃ ( مفاعلہ ) یہ راود یراود سے ہے اور اس کے معنی ارادوں میں باہم اختلاف اور کشیدگی کے ہیں ۔ یعنی ایک کا ارداہ کچھ ہو اور دوسرے کا کچھ اور راودت فلان عن کزا کے معنی کسی کو اس کے ارداہ سے پھسلانے کی کوشش کرنا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ هِيَ راوَدَتْنِي عَنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
1 ؎ جس کا ان پر بوجھ پڑا رہا ہے۔
Read the full tafseer →اَمْ یُرِیْدُوْنَ کَیْدًا فَالَّذِیْنَ کََفَرُوْا ھُمُ الْمَکِیْدُوْنَ ۔ (الطور : 42)
(کیا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں، تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی اس چال میں گرفتار ہوں گے۔ )
مخالفین کی مخالفت کی حقیقت
سوال کے انداز میں اصل حقیقت کا انکشاف فرمایا گیا ہے کہ مخالفین کی یہ ساری دلیل بازیاں اور سخن سازیاں تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے فروغ میں انھیں اپنی سیادت کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ اور وہ محسوس کررہے ہیں کہ جیسے جیسے یہ دعوت پھیلتی جارہی ہے ہماری جہالت اور عصبیت سمٹتی جارہی ہے۔ ہمیں اپنی جس طاقت اور افرادی قوت پر ناز رہا ہے ہر گھر میں اس دعوت کا اثر پہنچنے کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین سے مزید سوالات۔
کیا آپ ﷺ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ جس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبر آتی ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں ؟ کیا یہ مزید مکر و فریب کرنا چاہتے ہیں ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خود ہی اپنے مکر میں پھنس جائیں گے۔ کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود اور مشکل کشا ہے جس کے کھونٹے پر ناچتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم شریک بناتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے مبرّا اور بےنیاز ہے۔ یہاں اہل مکہ اور ہر مشرک اور کافر کو مختلف قسم کے سوال کیے گئے ہیں تاکہ قیامت تک کے لیے انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے پاس کفر و شرک کی کوئی علمی اور عقلی…
Read the full tafseer →وبال ومکر خود ان کی طرف لوٹے گا :
آیت 42 : اَمْ یُرِیْدُوْنَ کَیْدًا (کیا یہ لوگ کچھ برائی کا ارادہ رکھتے ہیں) اور وہ ان کی تدابیر جو دارالند وہ میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق اور مؤمنین کے متعلق آئے روز کرتے رہتے تھے۔ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہُمُ الْمَکِیْدُوْنَ (پس یہ کافر خود اس برائی میں گرفتار ہونگے) اس میں اشارہ تو کفار مکہ کی طرف ہے اور مراد ہر اللہ تعالیٰ کا منکر ہے۔ مکیدون کا مطلب یہ ہے کہ وبال مکر ان پر لوٹ کر رہے گا اور ان کا مکر ان پر گرے گا اور وہ اس طرح ہوا کہ بدر میں مارے گئے۔ یا تدابیر ناکام کردیں گئیں۔ کید یہ کا یدتہ فکدتہ سے لیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →41 ۔” ام عندھم الغیب “ یعنی اس کا علم جوان سے غائب ہوگیا حتیٰ کہ انہوں نے جان لیا کہ جو ان کو رسول خبر دے رہے ہیں قیامت اور بعث کے امر کی وہ باطل ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں یہ ان کے قول ” نتربص بہ ریب المنون “ کا جواب ہے۔ فرماتے ہیں کہ کیا ان کے پاس غیب علم ہے حتیٰ کہ انہوں نے جان لیا کہ محمد ﷺ ان سے پہلے مرجائیں گے ؟ ” فھم یکتبون “ قتیبی (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ فیصلہ کرتے ہیں اور کتاب حکم کرنا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ان دو شخصوں کو کہا جو آپ (علیہ السلام) کی طرف مقدمہ لائے۔ ” اقضیٰ بینکما یکتاب اللہ “ میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے ذریعہ کروں گا۔ یعنی اللہ کے حکم کے ذریعے فیصلہ کروں گا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…
Read the full tafseer →اَمْ يُرِيْدُوْنَ كَيْدًا) کیا وہ آپ اور آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جرح وقدح کرکے کوئی سازش کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے سے وہ آپ کے دین اور آپ کے کام کو فاسد کرنا چاہتے ہیں ( فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِيْدُوْنَ ) تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی فریب خوردہ ہیں۔ یعنی ان کی سازش ان کے سینوں ہی میں رہے گی اور اس کا نقصان انہی کی طرف لوٹے گا اور اللہ تعالیٰ نے انکے ساتھ ایسا ہی کیا۔ کوئی ایسی چال جو کفار کی قدرت واختیار میں تھی انہوں نے باقی نہ رکھی جس پر عمل نہ کیا ہو مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں اپنے نبی کو فتح ونصرت سے سرفراز فرمایا اپنے دین کو غالب فرمایا ان کو بےیارومددگار تنہا چھوڑٓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
[ 52] منکرین حق کے حال پر اظہار تعجب و افسوس :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جس سے یہ لکھ لیتے ہیں ؟ اور اس طرح یہ لوگ قرآنی ہدایت سے بےنیاز ہوگئے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں کہ غیب کا علم تو صرف اللہ پاک ہی کے پاس ہے، تو یہ لوگ آخر کس بنا پر محمد ﷺ کے بارے میں حوادث زمانہ کی انتظار کرتے ہیں، اور اس وحی خداوندی سے خود بھی محروم ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی محروم کرتے ہیں جو اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ دنیا کے لئے بھیجی ہے، اور خود ان ہی لوگوں کے بھلے اور فائدے کے لئے نازل فرمائی ہے۔ بہرکیف ان کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے اور ان کے دل و دماغ پر دستک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی چاہ کن را چاہ درپیش ولا یحیق المکر السئیی الاباھلہ (فاطر :43)
Read the full tafseer →(52:42) ام استفہامیہ ۔ یریدون کیدا : یریدون مضارع جمع مذکر غائب۔ ارادۃ (باب افعال) مصدر۔ وہ ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں ۔ کیدا چالاکی۔ فریب داؤ پیچ۔ تدبیر (اچھی ہو یا بری) کاد یکید (باب ضرب) مصدر منصوب بوجہ مفعول ہے۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا : کیا یہ کوئی داؤ کرنا چاہتے ہیں (آپ کے خلاف یا دین کے خلاف)
یریدون میں ضمیر فاعل کفار مکہ کے لئے ہے جو اپنے چوپال یا ندوہ میں بیٹھ کر پیغمبر خدا ﷺ کے خلاف یا اس کے دین کے خلاف سازشیں کیا کرتے تھے۔ ان ہی کفار کے متعلق ارشاد ہے کہ فالذین کفروا ہم المکیدون آخر یہی کفار خود اپنے ہی داؤں میں آنے والے ہیں۔
فالذین میںانجام کار کو ظاہر کرنے کے لئے ہے۔ الذین کفروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
[17] یعنی بری تدبیریں جو وہ پیغمبر کے خلاف کر رہے ہیں خود انہی پر الٹ پڑیں گی اور عنقریب ان کو پتہ لگ جائے گا کہ حق مغلوب ہوتا ہے یا وہ نابود ہوتے ہیں۔ قریش کے دور غلبہ و عروج میں جبکہ اسباب ظاہری سب اسلام کی مغلوبی ہی کے تھے ایسی پیشین گوئی بجائے خود اعجاز قرآنی کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →ف 4: فرمایا : یہ لوگ مسلمانوں اور حضور ﷺ کے خلاف سازشیں کررہے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں ۔ کہ ان کی تدبیریں ان کے کچھ کام نہ آئیں گی ۔
حل لغات :۔ مغرم ۔ نادان کشفا ۔ کسی چیز کا ٹکڑا ۔ واحد اور جمع دونوں کے آتا ہے ۔
Read the full tafseer →(42) کیا یہ لوگ کو چال یا دائوں کرنا چاہتے ہیں سو جو لوگ منکر اور کافر ہیں وہ خود ہی چال میں گرفتار ہوں گے۔ یعنی اگر ان کا مقصد ان باتوں سے کوئی چال چلنی اور دائو کرنا ہے تو فکر نہ کرو اور جو لوگ بداندیش ہیں وہ اپنے دائوں میں خود ہی پھنس جایا کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
ف 1۔ چناچہ اس قصد میں ناکام ہوئے اور بدر میں مقتول ہوئے۔
Read the full tafseer →کیا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو وہ خود ہی فریب میں پھنس جائیں گے
44 ؎ (کیدا) کی اصل ک ی د ہے۔ (مکرا) کی اصل م ک ر ہے۔ دونوں لفظ معنوں کے لحاظ سے یکساں ہیں اور دونوں ہی مذموم اور محمود معنوں میں استعمال ہوتے ہیں دراصل ان دونوں ہی کے معنی ” میف تدبیر “ کے صحیح ہیں۔ اب غور کرو گے تو سمجھ جائو گے کہ ہر مخفی تدبیر نہ تو محمود ہوتی ہے اور نہ ہی مذموم۔ ہاں ! یہ صحیح ہے کہ مخفی تدبیر بھی لفظ عربی ہی کا ہے جو زیادہ تر محمود معنوں میں استعمال ہے لیکن جس طرح ” مخفی تدبیر “ زیادہ تر معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (کید) اور (مکر) کا لفظ زیادہ تر مذموم معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
{ 1} It means that their arguments against Islam having failed on rational grounds, the only possibility was that they had a direct link with Allah whereby they have ensured that their faith was true, but no one could bring any proof of having such a link with Allah. (Muhammad Taqi Usmani)
{ 2} This points out to the demand of the pagans of Makkah that they would not believe in the Holy Prophet unless he brings some pieces of the sky falling down from above. (See 17:92 and 26:187 in the Qur an) The answer given is that even if Allah fulfils this absurd demand, they would still not believe and…
Read the full tafseer →33 The allusion is to the secret plots that the disbelievers of Makkah used to devise in their meetings in order to defeat the mission of the Holy Prophet (on whom be Allah's peace) and to kill him.
34 This is one of the clear prophecies of the Qur'an. In the initial stage at Makkah when the Holy Prophet (on wham be Allah's peace) had no apparent power and support with him except a handful of the ill-equipped Muslims and the whole nation was opposing and resisting him relentlessly, the confrontation between Islam and disbelief appeared to be utterly unequal. No one at that time could imagine…
Read the full tafseer →