At-Tur 52:41

At-Tur · from ayah 41

52:41

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ ۟ؕاَمۡ عِنۡدَهُمُ الۡغَيۡبُ فَهُمۡ يَكۡتُبُوۡنَؕ

یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:41

کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان کے پاس علم غیب ہے جسے یہ لکھ لیتے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ لیتے ہوں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ان کے پاس غیب ہیں جس سے وہ حکم لگاتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا اُن کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ لکھ لیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ان کے پاس غیب ہے ؟ پس وہ لکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے وہ لکھتے جاتے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ان کے پاس علم غیب ہے۔ پس وہ خود ہی لکھ لیتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان کے پاس غیب (کے حقائق) کا علم ہے جس کی بناء پر یہ لکھ لیتے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ وہ اسے لکھ لیا کرتے ہیں ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ اسے لکھ لیتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or is it that they have access to (the Truths in) the realm beyond sense-perception which they are writing down?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or have they the knowledge of the Unseen, and they are recording it?

— Muhammad Taqi Usmani

Or have they the knowledge of the Unseen, and they are recording it?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or that the Unseen is with them, and they write it down

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or possess they the Unseen so that they can write (it) down?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have they [knowledge of] the unseen, so they write [it] down?

— Saheeh International

Do they have knowledge of the unseen, thus, are able to predict (the future)?

— Muhammad Sarwar

Or have they the unseen so that they write (it) down?

— Muhammad Habib Shakir

Is with them the Unseen, and they write it down!

— Abdul Majid Daryabadi

Or that the Unseen in it their hands, and they write it down?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–43

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 32 یعنی رسول تمہارے سامنے جو حقائق پیش کر رہا ہے ان کو جھٹلانے کے لیے آخر تمہارے پاس وہ کون سا علم ہے جسے تم اس دعوے کے ساتھ پیش کرسکو کہ پردۂ ظاہر کے پیچھے چھپی ہوئی حقیقتوں کو تم براہ راست جانتے ہو ؟ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ خدا ایک نہیں ہے بلکہ وہ سب بھی خدائی صفات و اختیارات رکھتے ہیں جنہیں تم نے معبود بنا رکھا ہے ؟ کیا واقعی تم نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ لڑکیاں ہیں اور نعوذ باللہ، خدا کے ہاں پیدا ہوئی ہیں ؟ کیا واقعی تم یہ جانتے ہو کہ کوئی وحی نہ محمد ﷺ کے پاس آئی ہے نہ خدا کی طرف سے کسی بندے کے پاس آسکتی ہے ؟ کیا واقعی تمہیں اس بات کا علم ہے کہ کوئی قیامت برپا نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ام عندھم الغیب فیھم یکتبون) (41) یعنی تم سے اور تمہاری پیش کردہ ہدایت سے یہ اس قدر بیزار ہیں تو کیا ان کے پاس غیب کے خون جان لینے کا کوئی ذریعہ موجود ہے جس سے وہ تمام ضروری باتیں معلوم کر کے لکھ لیتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس طرح کا کوئی ذریعہ ان کے پاس موجود نہیں ہے۔ ایسی حالت میں حق تو یہ تھا کہ وہ تمہاری پکار پر لپکنے کہ تم اللہ تعالیٰ کی وحی کے ذریعہ سے ان کو اس کے احکام اور اس کی مرضیات سے آگاہ کرنے کے لیے اٹھے ہو۔ لیکن وہ تم سے تو بیزار ہیں۔ خود اپنے جی سے انہوں نے شریعت گھڑ رکھی ہے جو ہے تو ان کی من مانی خواہشات اور ان کے اوہام کا مجموعہ لیکن اس کو انہوں نے اللہ کا اتارا ہوا دین سمجھ رکھا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–41

11: مشرکین کے جن عقائد کا ذکر پچھلے حاشیہ میں کیا گیا ہے، وہ سب عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ فرمایا جارہا ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کی باتیں انہوں نے لکھ کر محفوظ کر رکھی ہوں ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام عندھم ........ یکتبون (25 : 14) ” کیا ان کے پاس غیب کے حقائق ہیں کہ اس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہیں “ ان کو معلوم ہے کہ ان کے پاس غیب کا علم نہیں ہے اور نہ وہ غیب کے علم سے لکھ رہے ہیں نہ ان کو اس پر قدرت ہے کہ غیب میں وہ کوئی فیصلے لکھیں۔ یہ اللہ ہی ہے جو غیب کی کتابوں میں بندوں کی تقدیر لکھتا ہے۔ جو ذات غیب جانتی ہے وہی تدبیر امور کرسکتی ہے۔ تقدیروں کے فیصلے کرسکتی ہے۔ وہ کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ غیب نہیں جانتے اور غیب کے ذخائر میں وہ کچھ بھی ثبت نہیں کرسکتے۔ اس لئے وہ آپ کے خلاف کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ نہ یہ لوگ آپ کے مستقبل میں تصرف کرسکتے ہیں نہ کوئی سازش کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی کیا خود ان پر اللہ اپنی وحی بھیجتا اور پیغمبروں کی طرح اپنے بھید پر مطلع کرتا ہے جسے یہ لوگ لکھ لیتے ہیں جیسے انبیاء کی وحی لکھی جاتی ہے۔ اس لیے ان کو آپ کی پیروی کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41{ اَمْ عِنْدَہُمُ الْـغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُـبُوْنَ۔ } ”کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہیں ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 جس کی بنا پر انہیں یقین ہوچکا ہے کہ آپ اپنے دعوائے رسالت میں جھوٹے ہیں اور اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–42

21۔ یعنی اپنے اسی کید کے وبال میں خود ہی گرفتار ہوں گے، قید ہوں گے، قتل ہوں گے، شکست وناکامی کی ذلتیں اور مصیبتیں اٹھائیں گے، قریش کے عین دور غلبہ واقبال میں جبکہ اسباب ظاہری سب اسلام کی مغلوبی ہی کے تھے، ایسی پیشگوئی بجائے خود اعجاز قرآنی کی ایک دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام عندھم الغیب فھم یکتبون . کیا ان کے پاس غیب (کا علم) ہے کہ یہ لکھ لیا کرتے ہیں۔ اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : الغیب سے مراد لوح محفوظ ہے جس کے اندر تمام مغیبات کا اندراج ہے۔ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ : کہ اس سے یعنی لوح محفوظ سے وہ لکھ لیا کرتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا : مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو حشر ‘ قیامت اور اخروی عذاب وثواب کا عقیدہ لے کر آئے ہیں اور ان غیبی امور کا ذکر کر رہے ہیں جن کا وقوع ممکن بلکہ برہان و دلیل کی روشنی میں واجب و ضروری ہے تو کیا ان منکروں کا علم غیب ہے کہ غائب امور کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کر رہے ہیں ‘ ان کو اس کا غلط ہونا معلوم ہے ‘ اسی لیے یہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یا ان کے پاس کوئی ایسی کتاب ہے کہ اس میں اپنے اعمال و اقوال میں سے جو چاہتے ہیں لوح محفوظ سے لکھ لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ام عندھم الغیب فہم یکتبون :)”عندھم“ پہلے لانے سے حصر پیدا ہوگیا ہے، اس لئے ترجمہ ”یا انھی کے پاس غیب ہے“ کیا گیا ہے۔ یعنی یا پھر انہیں آپ کے اتباع کی ضرورت اس لئے نہیں کہ سارا غیب انھی کے پاس ہے اور وہ اپنے معاملتا کے فیصلے خود ہی وہاں سے لکھ لیتے ہیں، اسلئے انہیں اس کتاب کی ضرورت ہی نہیں جو آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں۔ یہاں بھی سوال ہی پر اکتفا فرمایا ہے، کیونکہ اس کا جواب ظاہر ہے کہ سارے غیب کا بلاشرکت کغیرے مالک ہونا تو بہت ہی دور ہے۔ یہ تو غیب کے ایک ذرے سے بھی آگاہ نہیں۔ پھر یہ اللہ کی کتابا ور اس کے رسول سے کس طرح مستغنی ہوسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ام عندھم الغیب فھم یکتبون۔ وہ لوگوں کے لئے غیب میں سے وہ کچھ لکھتے ہیں جس کا وہ ارادہ کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ان کے پاس ایسا علم ہے جو لوگوں سے غائب ہے یہاں تک کہ انہیں علم ہوگیا کہ رسول اللہ نے قیامت، جنت، جہنم اور بعث کے بارے میں جو کچھ خبر دی ہے وہ سب باطل ہے۔ قتادہ نے کہا، جب انہوں نے کہا نتربص بہ ریب المنون ہم اس کے بارے میں حادثات زمانہ کا اتنظار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ام عندھم الغیب یہاں تک کہ انہیں علم ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا وصال کب ہوگا اور ان کے معاملہ کا انجام کیا ہوگا (1) ؟ حضرت ابن عباس نے کہا : کیا ان کے پاس لوح محفوظ ہے تو اس میں جو کچھ ہے اسے وہ لکھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ عِنْدَهُمُ [ یا ان کے پاس ] الْغَيْبُ [غیب ہے ] فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ [ تو یہ لوگ لکھتے ہیں (اس کو ) ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَؕ0041﴾ یعنی یہ جو کہہ رہے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ محمد ﷺ موت کے حادثہ میں دنیا سے رخصت ہوجائیں گے جسے یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ان کی اس بات کی بنیاد کیا ہے کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے اور انہیں پتہ ہے کہ داعی اسلام ﷺ کی موت ہمارے سامنے ہوگی اور یہ خود اس کے بعد زندہ رہیں گے اور آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ نہ یہ رہے گا اور نہ ان کا دین رہے گا۔ (ذكرہ القرطبی)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

20:۔ ” ام عندھم۔ الایۃ “ کیا وہ غیب جانتے ہیں اور انہوں نے آئندہ واقع ہونے والی غیب کی باتیں لوح مھفوظ سے نوٹ کرلی ہیں کہ دعوے کرتے پھر رہے ہیں کہ اول تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آ بھی گئی تو ہم عذاب سے مھفوظ رہیں گے۔ ” ام یریدون کیدا۔ الایۃ “ کیا وہ پیغمبر (علیہ السلام) کے خلاف کوئی منصوبہ بنا رہے ہیں ؟ یاد رکھیں کافروں کے منصوبے انہی پر الٹ دئیے جاتے ہیں اور پیغبروں کو ان سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کا ان کا منصوبہ ناکام کردیا گیا اور خود ان کو جنگ بدر میں قتل اور قید و بند کی سزا دی گئی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ عِنْدَہُمُ الْغَيْبُ فَہُمْ يَكْتُبُوْنَ۝ 41 ۭ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُبُوْنَ ۔ (الطور : 41) (کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے، پس وہ خود ہی لکھ لیتے ہیں۔ ) گزشتہ مضمون کا منطقی نتیجہ گزشتہ آیت میں جو سوال اٹھایا گیا ہے اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو زندگی کے جن حقائق کا علم دے رہے ہیں اور وہ ان سے بھاگ رہے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے وہ تمام ضروری باتیں معلوم کرکے لکھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کوئی ذریعہ علم ان کے پاس موجود نہیں، کیونکہ انھیں یہ بات خود تسلیم ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا۔ ان کی لائی ہوئی تعلیم اہل عرب کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–43

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین سے مزید سوالات۔ کیا آپ ﷺ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ جس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبر آتی ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں ؟ کیا یہ مزید مکر و فریب کرنا چاہتے ہیں ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خود ہی اپنے مکر میں پھنس جائیں گے۔ کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود اور مشکل کشا ہے جس کے کھونٹے پر ناچتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم شریک بناتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے مبرّا اور بےنیاز ہے۔ یہاں اہل مکہ اور ہر مشرک اور کافر کو مختلف قسم کے سوال کیے گئے ہیں تاکہ قیامت تک کے لیے انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے پاس کفر و شرک کی کوئی علمی اور عقلی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 41 : اَمْ عِنْدَہُمُ الْغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُبُوْنَ (کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے۔ کہ یہ لکھ لیا کرتے ہیں) الغیب سے یہاں لوح محفوظ۔ یکتبون سے مراد جو کچھ اس میں اندراج ہے۔ یہاں تک کہ وہ کہنے لگ گئے ہم اٹھائے نہ جائیں گے اور اگر ہم اٹھائے گئے تو ہمیں عذاب نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

40 ۔” ام تسالھم اجرا “ اس پر جو آپ ان کے پاس لائے ہیں اور ان کو دین کی طرف دعوت دی ہے۔ ” فھم من مغرم مثقلون “ ان کو اس تاوان نے بوجھل کردیا ہے جس کا آپ نے اس سے سوال کیا ہے۔ پس اس نے ان کو اسلام سے روک دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–43

35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُوْنَ ) یا غیب میں سے جو کچھ انہیں معلوم ہوتا ہے اسے لکھ لیتے ہیں انہیں ان امور کی اطلاع ہوتی ہے جن کی اطلاع رسول اللہ کو نہیں ہوتی پس وہ اپنے علم غیب کے ذریعے سے آپ کا مقابلہ کرتے ہیں اور آپ سے عنادر کھتے ہیں ؟ حالانکہ یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ ان پڑھ جاہل اور گمراہ لوگ ہیں اور رسول اللہ ایسی ہستی ہیں جن کے پاس دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تعالیٰ نے جتنا آپ کو غیب کے علم سے آگاہ فرمایا اتنا ہی اپنی مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں کیا۔ یہ سب ان کے قول کے فاسد ہونے پر عقلی اور نقلی طریقے سے الزامی دلیل ہے نیز نہایت احسن، نہایت واضح اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 41–42

[ 52] منکرین حق کے حال پر اظہار تعجب و افسوس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں کے پاس غیب کا کوئی علم ہے جس سے یہ لکھ لیتے ہیں ؟ اور اس طرح یہ لوگ قرآنی ہدایت سے بےنیاز ہوگئے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں کہ غیب کا علم تو صرف اللہ پاک ہی کے پاس ہے، تو یہ لوگ آخر کس بنا پر محمد ﷺ کے بارے میں حوادث زمانہ کی انتظار کرتے ہیں، اور اس وحی خداوندی سے خود بھی محروم ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی محروم کرتے ہیں جو اللہ پاک نے حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ دنیا کے لئے بھیجی ہے، اور خود ان ہی لوگوں کے بھلے اور فائدے کے لئے نازل فرمائی ہے۔ بہرکیف ان کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑتے اور ان کے دل و دماغ پر دستک…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی ان کے مطابق اپنے معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اس قانون سے بےنیاز سمجھتے ہیں جسے خدا کی طرف سے محمد ﷺ نے کر آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:41) ام : استفہامیہ انکاری کے لئے ہے۔ الغیب سے مراد کیا ہے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) حضرت ابن عباس کے نزدیک الغیب سے مراد لوح محفوظ ہے کہ جس میں تمام غائنات کا اندراج ہوتا ہے فھو یکتبون کہ جہاں سے وہ لکھ لیتے ہیں۔ بیضاوی کا بھی یہی قول ہے۔ (2) قتادہ نے کہا ہے کہ یہ جواب ہے کافروں کے قول کا ۔ کافروں نے کہا تھا کہ نتربص بہ ریب المنون۔ اللہ نے اس کا جواب دیا۔ کیا ان کو علم غیب ہے کہ (حضرت) اس صورت میں فھو یکتبون کا ترجمہ ہوگا۔ جس کی بنا پر وہ فیصلہ دے رہے ہیں۔ یکتبون بمعنی یحکمون ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–43

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[16] یعنی کیا اللہ ان پر اپنی وحی بھیجتا اور پیغمبروں کی طرح غیب پر مطلع کرتا ہے جسے یہ لوگ لکھ لیتے ہیں اس لئے ان کو آپ کی پیروی کی ضرورت نہیں ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 3: انکار کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی ۔ کہ علوم نبوت کے علاوہ کچھ ان کے پاس بھی اسرار اور رموز ہوں ۔ اور یہ ان پر قانع ہوں ۔ مگر یہ بات بھی تو نہیں میسر تھی ۔ حضور ﷺ پر نبوت کی نعمت تمام ہوچکی تھی ۔ اور غیوب کی سب راہیں مسدود ۔ یہ ناممکن تھا کہ اس مہیط وحی والہام کے علاوہ کہیں یہ بھی فیوض کا دریا جاری ہو ۔ اور نبوت و رسالت کو چھوڑ کر تذکیر اور عبرت پذیری کے کچھ دوسرے وسائل بھی ہوں ۔ اس لئے بہتر یہی تھا ۔ کہ یہ لوگ اپنے معتقدات وہم و خیال کو چھوڑ کر حضور ﷺ کی اطاعت کرتے اور عقل سے کام لے کر اسلام کی صداقتوں کو مان لیتے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(41) کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں۔ یعنی یہ جو آپ کے مقابلے میں بےسروپا بکواس بکتے رہتے ہیں کہ ہم کو قیامت میں بھی مزے ہوں گے اور مسلمان یہاں بھی تکلیف میں ہیں وہاں بھی دکھ بھریں گے تو کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے کہ یہ اس کو محفوظ رکھنے کی غرض سے لکھ لیا کرتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جو انہوں نے لوح محفوظ سے لکھ لیا ہے یعنی جب کوئی بات بھی نہیں تو پھر عالم آخرت کے متعلق کیوں بےکار یا وہ گوئی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان کے پاس غیب ہے کہ اس کو لکھتے جاتے ہیں ؟ 41 ؎ فطری باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو اگر کوئی جھٹلانا چاہے تو بھی نہیں جھٹلا سکتا جب تک کہ ان کے لئے کوئی واضح اور غیر مبہم دلیل نہ ہو۔ جو باتیں محمد رسول اللہ ﷺ نے کی ہیں ان میں سے ہر ایک بات پر ایک ایک نہیں سو سو دلیلیں موجود ہیں مثلاً رسول اللہ ﷺ نے عقدیہ ٔ توحید کا اعلان کیا تو اس پر دلائل کے انبار لگا دیئے۔ عقیدہ آخرت اسلام لانے کے لئے ضروری قرار دیا تو اس پر اتنے دلائل پیش کئے کہ اس کائنات کے ذرہ ذرہ کی شہادتیں پیش کیں۔ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ سیارے اور فضا کی ایک ایک چیز کے پیدا ہونے اور فنا ہونے کی شہادت پیش کی۔ دوبارہ جی اٹھنے کا عقیدہ بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

{ 1} It means that their arguments against Islam having failed on rational grounds, the only possibility was that they had a direct link with Allah whereby they have ensured that their faith was true, but no one could bring any proof of having such a link with Allah. (Muhammad Taqi Usmani) { 2} This points out to the demand of the pagans of Makkah that they would not believe in the Holy Prophet unless he brings some pieces of the sky falling down from above. (See 17:92 and 26:187 in the Qur an) The answer given is that even if Allah fulfils this absurd demand, they would still not believe and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

32 That is, "What particular knowledge do you have to refute the truths that the Messenger is presenting before you, which you may present with the claim that you directly know the realities hidden behind the phenomenal world? Do you really have the knowledge that God is not One, but all those whom you have set up as deities also possess godly attributes and powers ? Have you really seen the angels and found that they are girls, and, God forbid, are begotten of God? Do you really know that the Revelation has neither come to Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings), nor it can come…

Read the full tafseer →