At-Tur 52:40

At-Tur · from ayah 40

52:40

اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ ۟ؕاَمۡ تَسۡئَـلُهُمۡ اَجۡرًا فَهُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَؕ

(اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you, [O Muhammad], ask of them a payment, so they are by debt burdened down?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:40

کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر) کیا تم ان سے صلہ مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا تو ان سے کوئی اجرت طلب کرتا ہے کہ یہ اس کے تاوان سے بوجھل ہو رہے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کیا تم ان سے کوئی اجرت مانگ رہے ہو جس کی وجہ سے یہ تاوان کے بوجھ میں دبے جارہے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا تم ان سے کچھ اجرت مانگتے ہہو تو وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا آپ اُن سے کوئی اُجرت طلب فرماتے ہیں کہ وہ تاوان کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تو ان سے کوئی اجرت مانگتا ہے ؟ پس وہ تاوان سے بوجھل کیے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں جس کے تاوان سے یہ دبے جارہے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم ان سے کسی عوض کے طالب ہو کہ وہ اس تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا آپ ان سے کوئی اجر مانگتے ہیں ؟ کہ یہ چٹی کے بوجھ سے دبے جا رہے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یا آپ ان سے کچھ معاوضہ طلب کرتے ہیں سو وہ اس تاوان کے بوجھ سے دبے جاتے ہیں ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا آپ ان لوگوں سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں کہ یہ تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ! کیا تم ان سے بدلہ مانگتے ہو ؟ کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or is it that you ask of them any recompense so that they should fear to be weighed down under the burden of debt?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or is it that you (O prophet) ask them for a fee, and therefore they are burdened with a liability?

— Muhammad Taqi Usmani

Or is it that you (O prophet) ask them for a fee, and therefore they are burdened with a liability?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or is it that you ask a wage from them so that they are burdened with a load of debt

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or askest thou (Muhammad) a fee from them so that they are plunged in debt?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you, [O Muhammad], ask of them a payment, so they are by debt burdened down?

— Saheeh International

Do you (Muhammad) ask them for any payment (for your preaching) which they cannot afford?

— Muhammad Sarwar

Or do you ask them for a reward, so that they are overburdened by a debt?

— Muhammad Habib Shakir

Or askest thou a hire from them so that they are with debt laden?

— Abdul Majid Daryabadi

Or is it that thou dost ask for a reward, so that they are burdened with a load of debt?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–43

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 31 سوال کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تم سے کوئی غرض رکھتا اور اپنی کسی ذاتی منفعت کے لیے یہ ساری دوڑ دھوپ کر رہا ہوتا تو اس سے تمہارے بھاگنے کی کم از کم ایک معقول وجہ ہوتی۔ مگر تم خود جانتے ہو کہ وہ اپنی اس دعوت میں بالکل بےغرض ہے اور محض تمہاری بھلائی کے لیے اپنی جان کھپا رہا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم ٹھنڈے دل سے اس کی بات سننے تک کے روادار نہیں ہو ؟ اس سوال میں ایک لطیف تعریض بھی ہے۔ ساری دنیا کے بناوٹی پیشوا اور مذہبی آستانوں کے مجاوروں کی طرح عرب میں بھی مشرکین کے پیشوا اور پنڈت اور پروہت کھلا کھلا مذہبی کاروبار چلا رہے تھے۔ اس پر یہ سوال ان کے سامنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ام تسلھم اجوا فھم من مغرم متقلون (40)۔ (مخالفین کی حق بیزاری پر تعجب) یہ ان لوگوں کی حق بیزاری پر اظہار تعجب ہے کہ آخر یہ تمہاری بات سنتے کیوں نہیں ؟ اپنی بات سنانے پر تم ان سے کسی تنخواہ یا معاوضہ کے طالب تو ہو نہیں کہ اس کے بوجھ تلے یہ دبے جا رہے ہوں یا تم تو اپنے رب کی نعمت مفت بانٹ رہے ہو تو ان کو کیا حرج ہوتا ہے کہ وہ اس کے سننے کے بھی روادار نہیں۔ یہ امر واضح رہے کہ جہل کے مقابل میں علم بہر حال ایک محبوب و مطلوب شے ہے، کوئی سلیم الفطرت نہ یہ گوارا کرتا اور نہ اسے گوارا کرنا چاہیے کہ اس کے سامنے اس چیز کا علم پیش کیا جائے جس سے وہ بیخبر ہے اور وہ اس کے سننے کا بھی روادار نہ ہو۔ ایسے شخص…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–41

11: مشرکین کے جن عقائد کا ذکر پچھلے حاشیہ میں کیا گیا ہے، وہ سب عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ فرمایا جارہا ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کی باتیں انہوں نے لکھ کر محفوظ کر رکھی ہوں ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام تسئلھم ........ مثقلون (25 : 04) ” کیا تم ان سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں “ یعنی یہ اس مالی بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے جو تم ان پر ڈال رہے ہو۔ تو اگر واقعہ یہ ہے کہ نہ تو اجرت طلب ہورہی ہے اور نہ تم پر کوئی بوجھ ڈالا جارہا ہے تو پھر تمہارا رویہ کس قدر قبیح اور ذلیلانہ ہے۔ تمہیں اپنے رویہ پر سوچ کر شرمندہ ہونا چاہئے ؟ اس کے بعد دوبارہ ان کے سامنے ان کے وجود اور اس کائنات میں ان کے حالات کو پیش کیا جاتا ہے کہ یہ بندے ہیں اور ان کے کچھ حدود ہیں۔ اس کائنات میں ان پر بہت ہی امور مخفی ہیں اور کچھ تھوڑے ہی امور ایسے ہیں جن کے بارے میں وہ جانتے ہیں امور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی کیا یہ لوگ آپ کی بات اس لیے نہیں مانتے کہ خدا نکردہ آپ ان سے اس ارشاد و تبلیغ پر کوئی بھاری معاوضہ طلب کر رہے ہیں جس کے بوجھ سے وہ دبے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 40{ اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۔ } ”کیا آپ ان لوگوں سے کوئی اجرت طلب کر رہے ہیں کہ یہ تاوان کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟“ یہاں پر پے در پے سوالات کا انداز خصوصی تاثیر کا حامل ہے۔ یہ مقام زور خطابت ‘ فصاحت ‘ بلاغت ‘ ادبیت اور عذوبت کے حوالے سے گویا قرآن کی معراج ہے۔ ظاہر بات ہے ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 آپ کی مخالفت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے معاوضہ اور نذریں نیازیں طلب کرتے۔ جیسے عموماً مذہب کے ٹھیکیدار حضرات اپنے معتقدین اور مریدوں سے وصول کرتے اور اپنی دکانیں خوب چمکا لیتے ہیں۔ یہاں یہ معاملہ بھی نہیں کہ آپ ان سے نذرانے طلب کریں اور وہ اسے بوجھ سمجھ کر آپ سے پرے ہٹ جائیں۔ حالانکہ آپ کا معاملہ مذہبی ٹھیکیداروں کے بالکل برعکس تھا۔ آپ نے اپنا ذاتی سرمایا دین کے کاموں میں صرف کر ڈالا تھا۔ دین کی تبلیغ کی وجہ سے آپ کا کاروبار ٹھپ ہوچکا تھا۔ پھر آپ اس تبلیغ کے کام کا کسی صورت میں معاوضہ بھی نہیں لیتے تھے۔ بلکہ بالکل بےلوث اور بےغرض ہو کر انسانیت کی خدمت کر رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–42

21۔ یعنی اپنے اسی کید کے وبال میں خود ہی گرفتار ہوں گے، قید ہوں گے، قتل ہوں گے، شکست وناکامی کی ذلتیں اور مصیبتیں اٹھائیں گے، قریش کے عین دور غلبہ واقبال میں جبکہ اسباب ظاہری سب اسلام کی مغلوبی ہی کے تھے، ایسی پیشگوئی بجائے خود اعجاز قرآنی کی ایک دلیل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام تسئلھم اجرا فھم من مغرم مثقلون . یا (تبلیغ احکام کا) کوئی معاوضہ آپ ان سے مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان لوگوں کو گراں معلوم ہوتا ہے۔ اَمْ تَسْءَلُھُمْ اَجْرًا : یعنی کیا تبلیغ رسالت کی کوئی اجرت آپ ان سے طلب کر رہے ہیں ‘ جس کا تاوان ان پر پڑ رہا ہے اور وہ بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں اور اسی لیے آپ کا اتباع نہیں کرتے ‘ باوجودیکہ موجب اتباع موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے محمد کیا آپ ان سے اس دعوت ایمانی پر کچھ معاوضہ مانگتے ہیں کہ اس تاوان کا ادا کرنا ان کو گراں معلوم ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ام تسلھم اجراً …:”الغرم و الغرامۃ و المغرم“ تاوان، چٹی، جو مال آدمی کو نہ چاہیے کے باوجود دینا پڑجائے۔ ”اجراً“ پر تنوین تنکیر کیلئے ہے، کسی بھی طرح کی اجرت۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت قبول نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہوسکتی تھی کہ آپ ان سے کسی طرح کی اجرت کا مطالبہ کرتے ہوں اور وہ تاوان سمجھ کر بوجھ بردشات کرنے کیلئے تیار نہ ہوں۔ جب آپ ان سے کسی طرح کی اجرت یا معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اپنی مزدوری صرف اللہ تعالیٰ کے ذمے سمجھتے ہیں اور اپنی کمائی یا ک اور بار یک بھی پروانہ کرتے ہوئے ہر وقت ان کی خیر خواہی کے لئے ان کے پیچھے پھرتے ہیں تو پھر وہ آپ سے دور کیوں بھاگتے ہیں ؟ مزید دیکھیے سورة مومنون (72)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

ام لہ البنت ولکم البنون۔ انہیں شرمندہ کرنے اور تنبیہ کرنے کے لئے ان کی عقلوں کو بیوقوف قرار دیا، یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہو جب کہ خود ان کے بارے میں غیرت کا مظاہرہ کرتے ہو جس کی دانش اس جیسی ہو تو اس کے بارے میں کوئی بعید نہیں کہ وہ بعث کا انکار کرے۔ ام تسلھم اجراً کیا آپ ان سے رسالت کی تبلیغ پر اجر طلب کرتے ہیں فھم من مغرم مثقلون۔ تو وہ چئی جس کا آپ ان سے مطالبہ کرتے ہیں اس کے باعث وہ مشقت میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ تَسْـَٔــلُهُمْ [ یا آپ مانگتے ہیں ان سے ] اَجْرًا [ کوئی اجرت ] فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ [ تو یہ لوگ کسی تاوان سے ] مُّثْقَلُوْنَ [ لادے ہوئے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ0040﴾ (کیا آپ ان سے کسی معاوضہ کا سوال کرتے ہیں ان پر اس تاوان کی ادائیگی بھاری پڑ رہی ہے) اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان لے آئے تو کیا کچھ دینا پڑے گا تو یہ ان کا غلط خیال ہے ان کو دنیا سے ذرا سا بھی سوال نہیں اور ان کے آخرت کے نفع کے لیے ان کو ایمان و اعمال صالحہ کی دعوت دی جا رہی ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ایمان سے منہ موڑیں۔ قال فی معالم التنزیل اثقلھم ذلک المغرم الذی تسالھم فمنعھم ذلک عن الاسلام۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

19:۔ ” ام لہ البنات۔ الایۃ “ یہ ان کی جہالت و حماقت کا بیان ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لیے تو پسند نہیں کرتے، لیکن فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ان کو خدا کی بارگاہ میں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ” ام تسئلہم اجرا۔ الایۃ “ کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ آپ تعلیم وتبلیغ اور وعظ و نصیحت پر ان سے تنخواہ یا کوئی معاوضہ مانگتے ہیں ؟ اور انہیں اس تاوان کے بوجھ تلے دب جانے کا اندیشہ ہے کہ اگر مان لیا تو تنخواہ دینی پڑے گی۔ بات اصل وہی ہے کہ عناد و طغیان کی وجہ سے نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ تَسْـَٔــلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ۝ 40 ۭ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ سأل السُّؤَالُ :…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ تَسْئَلُھُمْ اَجْرًا فَھُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ ۔ (الطور : 40) (کیا آپ ان سے کوئی عوض مانگتے ہو کہ وہ اس تاوان کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں۔ ) آپ ﷺ سے سوال کی صورت میں مخالفین کے رویئے کی مذمت سوال بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھا جارہا ہے کہ آپ جو انھیں اللہ تعالیٰ کا دین سکھا رہے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی مرضیات سے آگاہ کررہے ہیں اور ان کی زندگی کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھا رہے ہیں۔ اور انھیں باطل کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی معرفت کی روشنی میں لارہے اور اس کے لیے آپ نے اس قدر دلسوزی، ہمدردی اور فکرمندی سے کام کیا ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–43

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین سے مزید سوالات۔ کیا آپ ﷺ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ جس کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں ؟ کیا ان کے پاس کوئی غیب کی خبر آتی ہے جس کو یہ لکھ لیتے ہیں ؟ کیا یہ مزید مکر و فریب کرنا چاہتے ہیں ؟ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ خود ہی اپنے مکر میں پھنس جائیں گے۔ کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود اور مشکل کشا ہے جس کے کھونٹے پر ناچتے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم شریک بناتے ہو اللہ تعالیٰ ان سے مبرّا اور بےنیاز ہے۔ یہاں اہل مکہ اور ہر مشرک اور کافر کو مختلف قسم کے سوال کیے گئے ہیں تاکہ قیامت تک کے لیے انہیں معلوم ہوجائے کہ ان کے پاس کفر و شرک کی کوئی علمی اور عقلی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 40 : اَمْ تَسْئَلُہُمْ اَجْرًا فَہُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ (کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو گراں معلوم ہوتا ہے) اجر سے تبلیغ و انذار پر بدلہ۔ المغرم : چٹی۔ انسان اپنے اوپر ایسی شیٔ لازم کرے جو اس پر لازم نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر بھاری چٹی لازم آگئی جس نے ان کو بوجھل کردیا اور آپ کی اتباع سے ایک جانب لا کھڑا کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” ام لہ البنات ولکم البنون “ یہ ان پر انکار ہے جب انہوں نے اللہ کے لئے وہ بنایا جس کو وہ ناپسند کرتے ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول۔ ” فاستفتتھم الربک البنات ولھم البنون “

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–43

35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَمْ تَسْـَٔــلُهُمْ ) اے رسول کیا آپ ان سے مانگتے ہیں (اجرا) تبلیغ رسالت پر اجر ( فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ ) کہ وہ اس کے تاوان سے بوجھل ہورہے ہیں مگر معاملہ ایسا نہیں ہے آپ تو ان کو کسی معاوضے کے بغیر علم سکھانے کے خواہش مند ہیں آپ تو اپنی رسالت قبول کرنے آپ کے حکم اور آپ کی دعوت پر لبیک کہنے پر بہت زیادہ مال خرچ کرتے ہیں آپ زکوۃ میں سے تالیف قلب کے لیے مال عطا کرتے ہیں تاکہ ان کے دلوں میں علم و ایمان جاگزیں ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 50] پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت حق قطعی طور پر بےلوث : سو اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت قطعی طور پر بےلوث ہے اور محض نصح و خیر خواہی کے جز بےپر مبنی ہے، چناچہ منکرین کی بےقدری اور ناشکری پر اظہار تعجب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ ان سے کوئی مانگتے ہیں ؟ یعنی اجراً عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی کسی بھی قسم کا کوئی اجر و معاوضہ، خواہ وہ نوٹ اور ووٹ کی شکل میں ہو، یا کسی اور صلہ و ستائش کی صورت میں، اور ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں کہ آپ ﷺ ان اسے اس طرح کا کوئی اجر و صلہ بھی نہیں مانگتے، تو پھر ان لوگوں کے نہ ماننے کی آخر وجہ کیا ہے ؟ سوائے عناد اور ہٹ دھرمی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:40) ام تسئلہم اجرا۔ یہاں پھر رسول مقبول ﷺ سے خطاب کی طرف رجوع ہے (آیت نمبر 31 کے بعد) اور کفار سے نفرت کی بناء پر مخاطب سے غائب کی طرف التفات ہے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 52:39 متذکرہ بالا) کیا تبلیغ کے سلسلہ میں آپ نے ان سے کسی اجر کا مطالبہ کیا ہے۔ ام یہاں بھء استفہامیہ انکار کے لئے ہے۔ فہم میںسببیہ ہے ای لاجل ذلک (اور) اس وجہ سے وہ ۔۔ مغرم۔ الغرم والغرامۃ سے مصدر میمی ہے۔ الغرم (مفت کا تاوان، جرمانہ) وہ مالی نقصان جو کسی قسم کی خیانت یا جنابت (جرم) کا ارتکاب کئے بغیر انسان کو اٹھانا پڑے۔ عزم کذا غرما ومغرما فلاں نے نقصان اٹھایا۔ اغرم فلان غرامۃ اس پر تاوان پڑگیا۔ قرآن مجید میں ہے ویتخذ ما…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–43

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–40

[15] اپنے لئے تو وہ چیزیں پسند کرتے ہو جنہیں اپنے نزدیک اعلیٰ سمجھتے ہو اور اللہ کے لئے وہ چیزیں جو تمہارے معیار سے ادنیٰ درجے کی ہیں۔ آیت میں اشارہ ان مشرکین کی طرف ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

پیغمبر تنخواہ دار نہیں ہوتا 2: جب یہ بدلختان ازل رشدوہدایت کے فیوض سے محروم رہتے ۔ تو حضور کو بتقاضائے شفقت پیغمبرانہ بڑا دکھ ہوتا ۔ اور آپ کے قلب پاک پر یہ انکار وتمرد بہت گراں ہوتا ۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ کہ آپ کا کام محض میرے پیغام کو ان تک پہنچا دینا ہے ۔ اگر یہ نہیں تسلیم کرتے تو نہ کریں ۔ آپ ان سے کچھ معاوضہ تو وصول کرتے ہی نہیں ۔ جو ناکامی پر خواہ مخواہ ملال ہو ۔ مان جائیں ۔ تو اس میں ان کا اپنا بھلا ہے نہیں مانتے ہیں تو اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں ۔ آپ بالکل پرواہ نہ کریں ۔ اور شمانیت قلب کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو ادا کرتے رہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) کیا آپ سے تبلیغ پر کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں کہ وہ اس تاوان میں دبے جاتے ہیں اور وہ تاوان ان کو گراں معلوم ہوتا ہے مغرم لازمی ٹیکس یا تاوان جس کو چٹی کہتے ہیں اور جب آپ ان سے کوئی مزدوری اور معاوضہ نہیں طلب کرتے تو پھر آپ کی نبوت کا ان پر کیا با رہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا آپ ﷺ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں جس کے بوجھ تلے وہ دب جاتے ہیں ؟ 40۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسولوں کا تذکرہ قرآن کریم میں کیا ہے ایک ایک کا ذکر پڑھو اور نبی و رسول کی دعوت میں آپ کو یہ بات صاف اور واضح الفاظ میں ملے گی کہ نبی و رسول سے یہ اعلان کرا دیا گیا کہ میں تم کو یہ پیغام دے کر کسی معاوضہ کا طالب نہیں ہوں اور نہ ہی میری کوئی کسی طرح کی کوئی غرض اس کے ساتھ وابستہ ہے کہ چلو اور نہیں تو مجھے کوئی اقتدار ہی مل جائے گا یا کوئی اس طرح کی اور غرض ہی وابستہ ہوگی۔ ہاں ! اگر تم کو کوئی میری غرض وابستہ نظر آتی ہے تو اس کی وضاحت کر دو اور دو ٹوک کہہ دو جس طرح اور بہت طرح کے اور قسم قسم کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

{ 1} It means that their arguments against Islam having failed on rational grounds, the only possibility was that they had a direct link with Allah whereby they have ensured that their faith was true, but no one could bring any proof of having such a link with Allah. (Muhammad Taqi Usmani) { 2} This points out to the demand of the pagans of Makkah that they would not believe in the Holy Prophet unless he brings some pieces of the sky falling down from above. (See 17:92 and 26:187 in the Qur an) The answer given is that even if Allah fulfils this absurd demand, they would still not believe and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31 The question is actually directed to the disbelievers. It means: "If the Messenger had a selfish motive and had been exerting only for a personal gain from you, there would be a rational ground for you to avoid him. But you yourselves know that he is absolutely selfless in his invitation and is exerting himself only for your own benefit and well-being. Then, how is it that you are not even inclined to listen to him with a cool mind ?" There is also a subtle hint in this question. Like the self-styled guides and guardians of religious shrines of the world, the religious guides, priests and…

Read the full tafseer →