At-Tur 52:39

At-Tur · from ayah 39

52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ ۟ؕاَمۡ لَـهُ الۡبَنٰتُ وَلَـكُمُ الۡبَنُوۡنَؕ

کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or has He daughters while you have sons?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:39

کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا خدا کی تو بیٹیاں اور تمہارے بیٹے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا اللہ کی تو سب لڑکیاں ہیں اور تمہارے ہاں لڑکے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا اللہ کے حصے میں تو بیٹیاں ہیں اور بیٹے تمہارے حصے میں آئے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا اس کو بیٹیاں اور تم کو بیٹے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا اس (خدا) کے لئے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا اس (اللہ) کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا اس کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا اللہ کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور خود تمہارے لئے ہوں بیٹے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہوں اور تمہارے لئے بیٹے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا اللہ کی تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے بیٹے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Or does Allah have daughters whereas you have sons?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that He has daughters and you have sons?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that He has daughters and you have sons?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or has He only daughters and you have sons

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or hath He daughters whereas ye have sons?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or has He daughters while you have sons?

— Saheeh International

Do the daughters belong to Him and the sons to you?

— Muhammad Sarwar

Or has He daughters while you have sons?

— Muhammad Habib Shakir

Hath He daughters and ye sons?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 52:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–43

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 30 ان مختصر فقروں میں ایک بڑے مفصل استدلال کو سمو دیا گیا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ اگر تمہیں رسول کی بات ماننے سے انکار ہے تو تمہارے پاس خود حقیقت کو جاننے کا آخر ذریعہ کیا ہے ؟ کیا تم میں سے کوئی شخص عالم بالا میں پہنچا ہے اور اللہ تعالیٰ ، یا اس کے فرشتوں سے اس نے براہ راست یہ معلوم کرلیا ہے کہ وہ عقائد بالکل حقیقت کے مطابق ہیں جن پر تم لوگ اپنے دین کی بنا رکھے ہوئے ہو ؟ یہ دعویٰ اگر کسی کو ہے تو وہ سامنے آئے اور بتائے کہ اسے کب اور کیسے عالم بالا تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور کیا علم وہ وہاں سے لے کر آیا ہے۔ اور اگر یہ دعویٰ تم نہیں رکھتے تو پھر خود ہی غور کرو کہ اس سے زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ام لہ البنت ولکھ لبنون (9) (شرکاء و شفعا کا غرہ بالکل باطل ہے) یعنی مذکورہ باتوں میں سے اگر کوئی بات نہیں ہے تو کیا تمہارا غرہ اپنے شرکاء و شفعا کے بل پرے کہ وہ دنیا میں بھی تمہارے محافظ ہیں اور آخرت میں بھی وہ شفیع و مددگار ہوں گے۔ اگر یہ بات ہے تو اس زعم کا بھونڈا پن واضح کردینے کے لیے تنہا ہی بات کافی ہے کہ تم نے خدا کے لیے تو لڑکیاں فرض کررکھی ہیں، ورآنحالی کہ اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہو، لڑکیوں سے نفرت کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس سوال پر غور کرنے کی توفیق نہیں ہوئی تھی کہ خدا کا کوئی شریک و کفو ہوسکتا ہے یا نہیں تو کم از کم یہ احساس تو انسانی فطرت کا بالکل بد یہی تقاضا تھا کہ خدا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

38۔ 1 یعنی کیا ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد ﷺ کی طرح آسمانوں پر جاکر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 39–41

11: مشرکین کے جن عقائد کا ذکر پچھلے حاشیہ میں کیا گیا ہے، وہ سب عالم غیب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ فرمایا جارہا ہے کہ کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جس کی باتیں انہوں نے لکھ کر محفوظ کر رکھی ہوں ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام لہ ........ البنون (25 : 93) ” کیا اللہ کے لئے تو بیٹیاں ہیں اور تم لوگوں کے لئے ہیں بیٹے “ ان کے خیال میں بیٹیاں بیٹوں سے کم درجے کی مخلوق تھیں۔ یہاں تک کہ جب کسی کو بتایا جاتا کہ اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو وہ غم پریشانی اور ناپسندیدگی کی وجہ سے سیاہ رو ہوجاتا تھا لیکن اپنے ان خیالات کے باوجود وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت میں شرم محسوس نہ کرتے تھے۔ یہاں اللہ خود ان کے رواج اور رسم کے مطابق ان پر اعتراض کرتا ہے تاکہ وہ ذرا اپنے اس دعویٰ پر شرم محسوس کریں حالانکہ ان کا یہ خیال بھی غلط اور قابل اصلاح تھا۔ نبی ﷺ ان کو اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ اسے وہ ایک بڑا بوجھ محسوس کرتے تھے حالانکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی کیا (معاذ اللہ) خدا کو اپنے سے گھٹیا سمجھتے ہیں جیسا کہ بیٹے اور بیٹیوں کی اس تقسیم سے مترشح ہوتا ہے اور اس لیے اس کے احکام و ہدایات کے سامنے سر تسلیم جھکانا اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 39{ اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَـکُمُ الْبَنُوْنَ۔ } ”کیا اس کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی بھی حاصل نہیں تو پھر انہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ کو نظام کائنات چلانے کے لیے اولاد کی ضرورت ہے ؟ پھر ان بدبختوں نے اللہ کے لیے اولاد بنا ڈالی اور وہ بھی بیٹے نہیں بلکہ بیٹیاں جنہیں یہ خود سخت ناپسند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیزیں پسند کرتے ہوج نہیں اپنے نزدیک اعلی درجہ کی سمجھتے ہو اور اللہ کے لیے وہ چیزیں جو تمہارے معیار سے ادنی درجہ کی ہیں۔ آیت میں اشارہ اس گروہ مشرکیہ کی طرف ہے جو دیویوں کی خدا کی بیٹیاں قراردیتا تھا۔ مشرکین عرب کے ہاں بیٹی کے ناپسندیہ ومکروہ ہونے پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام لہ البنٰت ولکم البنون . کیا خدا کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں۔ کافر کہتے ہیں کہ ملائکہ خدا کی بیٹیاں ہیں ‘ اللہ ان کی تحمیق کرتا ہے اور فرماتا ہے ‘ کیا انہوں نے اللہ کی بیٹیاں فرض کر رکھی ہیں اور انسانوں کے لیے بیٹے (پسند کرتے ہیں) کیسے سفیہ العقل اور سبک سر ہیں ‘ ایسے شخص کو تو ہوش مند نہیں کہا جاسکتا ‘ چہ جائیکہ وہ شخص عالم ملکوت تک روحانی ارتقاء رکھتا ہو اور غیب کی باتوں کی اس کو اطلاع ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

لہذا یہ اپنے دعوے پر کوئی صاف دلیل پیش کریں کیا اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کی جائیں جبکہ خود اپنے لیے ان کا ہونا پسند نہیں کرتے ہو اور تمہارے لیے بیٹے تجویز ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ام لہ البنت ولکم البنون): پھر جب انہیں عالم بالا تک رسائی نہیں تو انہیں کیسے معلوم ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کو کائنات کا نظام چلانے کے لئے اولاد کی ضرورت ہے اور انہوں نے یہ کیسے طے کردیا کہ اولاد بناتے وقت اس نے اپنے لئے بیٹوں کے بجائے بیٹیوں کا چناؤ کیا ہے اور انہیں بیٹوں کے لئے منتخب کیا ہے ؟ حالانکہ یہ لوگ اپنے لئے کبھی بیٹیاں پسند نہیں کرتے۔ دیکھیے سورة نحل (57 تا 60) اور سورة زخرف (16 تا 18)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 39–40

ام لہ البنت ولکم البنون۔ انہیں شرمندہ کرنے اور تنبیہ کرنے کے لئے ان کی عقلوں کو بیوقوف قرار دیا، یعنی کیا تم اللہ تعالیٰ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے ہو جب کہ خود ان کے بارے میں غیرت کا مظاہرہ کرتے ہو جس کی دانش اس جیسی ہو تو اس کے بارے میں کوئی بعید نہیں کہ وہ بعث کا انکار کرے۔ ام تسلھم اجراً کیا آپ ان سے رسالت کی تبلیغ پر اجر طلب کرتے ہیں فھم من مغرم مثقلون۔ تو وہ چئی جس کا آپ ان سے مطالبہ کرتے ہیں اس کے باعث وہ مشقت میں مبتلا ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ [ یا اس کے لیے بیٹیاں ہیں ] وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ [ اور تم لوگوں کے لیے بیٹے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ0039﴾ (کیا س کے لیے بیٹیاں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں) قریش مکہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور فرشتوں کو بنات اللہ کہتے تھے اور جب ان کے سامنے ان کے اپنے ہاں بیٹیاں پیدا ہونے کی بات آتی تھی تو اس کو برا مانتے تھے، اس آیت میں ان کی بیوقوفی بتادی کہ جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کرتے ہو اسے اللہ کے لیے تجویز کرتے ہو، جن لوگوں کی سمجھ کا یہ حال ہے کیا انہیں یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر اعتراض کریں کہ ہماری سمجھ کے مطابق کسی کو نبی کیوں نہیں بنایا گیا، نیز یہ لوگ وقوع قیامت کا انکار کرتے ہیں یہ بھی ان کی بیوقوفی ہے۔ علامہ قرطبی رحمتہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 39–40

19:۔ ” ام لہ البنات۔ الایۃ “ یہ ان کی جہالت و حماقت کا بیان ہے کہ بیٹیوں کو اپنے لیے تو پسند نہیں کرتے، لیکن فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہیں اور ان کو خدا کی بارگاہ میں سفارشی سمجھ کر پکارتے ہیں۔ ” ام تسئلہم اجرا۔ الایۃ “ کیا ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ آپ تعلیم وتبلیغ اور وعظ و نصیحت پر ان سے تنخواہ یا کوئی معاوضہ مانگتے ہیں ؟ اور انہیں اس تاوان کے بوجھ تلے دب جانے کا اندیشہ ہے کہ اگر مان لیا تو تنخواہ دینی پڑے گی۔ بات اصل وہی ہے کہ عناد و طغیان کی وجہ سے نہیں مانتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ۝ 39 ۭ ( ابْنُ ) أصله : بنو، لقولهم في الجمع : أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه بناء للأب، فإنّ الأب هو الذي بناه وجعله اللہ بناء في إيجاده، ويقال لكلّ ما يحصل من جهة شيء أو من تربیته، أو بتفقده أو كثرة خدمته له أو قيامه بأمره : هو ابنه، نحو : فلان ابن الحرب، وابن السبیل للمسافر، وابن اللیل، وابن العلم، قال الشاعر أولاک بنو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–39

1 ؎ یہ ہے سموات کی سیڑھی جس پر چڑھ کر حضرات انبیاء انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والے علوم اوپر سے لاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–39

اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُھُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اَمْ لَـہُ الْبَنٰتُ وَلَـکُمُ الْبَنُوْنَ ۔ (الطور : 38، 39) (کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں، تو چاہیے کہ ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔ کیا اس کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے۔ ) مخالفین کو آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات تھے اور قرآن کریم کے بارے میں جو کچھ ان کے تحفظات تھے گزشتہ آیات میں ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں کہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے اور تمہارا الزام یہ ہے کہ اسے خود محمد ﷺ نے لکھا ہے تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–39

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی ﷺ کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کو کاہن، جادوگر اور شاعر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 39 : اَمْ لَہُ الْبَنٰتُ وَلَکُمُ الْبَنُوْنَ (کیا اللہ تعالیٰ کیلئے بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں) پھر ان کی حماقت ذکر کی کہ وہ کہلاتے تو بڑے عقل مند ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے لئے ایسی چیز کا چنائو کیا جس کو خود اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

38 ۔” ام لھم سلم “ سیڑھی اور زینہ آسمان تک۔ ” یستمعون فیہ “ یعنی اس پر وحی سن آتے ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ” ولا صلبنکم فی جذوع النخل “ ہے یعنی علیھا ان درختوں پر۔ یعنی کیا ان کے لئے سیڑھیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ آسمان تک چڑھ جائیں۔ پس وہ وحی کو سن لیں اور جان لیں کہ جو ان کے پاس ہے وہی حق ہے وحی کے ساتھ۔ پس وہ اس کو تھامے ہوئے ہیں اسی طرح ؟ ” فلیات مستمعھم “ اگر وہ اس کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ” بسلطان مبین “ واضح دلیل کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–43

35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ ) کیا اس (اللہ) کے لیے بیٹیاں ہیں ؟ جیسا کہ تم سمجھتے ہو (وَلَكُمُ الْبَنُوْنَ ) اور تمہارے لیے بیٹے۔ پس تم قابل احتراز امور کو جمع کررہے ہو، یعنی تمہارا اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دینا ناقص ترین صنف کو اس کی طرف منسوب کرنا، رب کائنات کی اس تنقیص کے بعد بھی کوئی غایت وانتہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 49] منکرین کی حماقت اور مت ماری کا ایک اور نمونہ و مظہر : کہ یہ لوگ اللہ کے لئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور خود اپنے لئے بیٹے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کے لئے تو ہوں بیٹیاں اور خود تمہارے لئے ہوں بیٹے ؟ تو کیا تم لوگوں کو شرم بھی نہیں آتی کہ اپنے خالق ومالک کی طرف وہ چیز منسوب کرتے ہوئے، جسے تم خود اپنے لئے گوارا نہیں کرتے، افسوس کہ اس مرض کے جراثیم آج بہت سے جاہل مسلمانوں کے اندر بھی موجود ہیں، چناچہ ایسے کسی شخص کے گھر میں اگر لڑکا پیدا ہوگا تو کہتا ہے کہ یہ پیروں نے دیا ہے، اور اس کا نام بھی وہ " پیراں دتہ "، " علی داد "، " علی بخش "، " حضور بخش " اور " حسین بخش " وغیرہ رکھتا ہے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بہت مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھتے تھے جیسا کہ دوسری متعدد آیات میں ان کے اس عقیدے کا ذکر کر کے اس کا باطل ہونا ثابت کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:39) ام لکم البنت ولکم البنون : ام منقطہ انکار اور زجروتوبیخ کے لئے آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بےعقلی اور حماقت بیان فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ عقل کے اندھوں نے کیا بودی اور بےڈھبی تقسیم کر رکھی ہے کہ اپنے لئے تو بیٹے پسند کئے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں۔ حالانکہ اگر ان کے ہاں بیٹیاں پیدا ہوجائیں تو شرم کے مارے منہ نہیں دکھاتے عجب ذہنیت ہے کہ جسے اپنے لئے ناپسند کرتے ہیں وہ اللہ کے حصے میں ڈال دیتے ہیں۔ فائدہ : اوپر مشرکین کو صیغہ غائب سے خطاب کیا جارہا ہے اس آیت میں ام منقطعہ کے زجر و توبیخ کی شدت کے اظہار کے لئے صیغہ حاضر استعمال ہوا ہے یعنی اللہ کی طرف سے ان کی حماقت اور سفیہ العقلی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–43

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–40

[15] اپنے لئے تو وہ چیزیں پسند کرتے ہو جنہیں اپنے نزدیک اعلیٰ سمجھتے ہو اور اللہ کے لئے وہ چیزیں جو تمہارے معیار سے ادنیٰ درجے کی ہیں۔ آیت میں اشارہ ان مشرکین کی طرف ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

کیا خدا کے اولاد ہے ؟ 1: مکہ والوں کے اس عقیدہ کی تردید ہے ۔ کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں فرمایا ۔ اس حقیقت پر غور تو کرو ۔ کہ اس کی ذات والا صفحات لوالد وتناسل سے بالکل مبرا ہے ۔ پھر اگر اس کے اولاد فرض بھی کرلی جائے اور اس کفر کو تھوڑی دیر کے لئے مان بھی لیا جائے ۔ تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ تم اپنے لئے تو اولاد ذکورا پسند کرو ۔ اور اللہ کے لئے اولاد اناث ؟ اگر تمہارے لئے یہ بات لائق فخر نہیں ۔ کہ تم بیٹی کے باپ کہلاؤ۔ تو بموجب تمہارے عقیدہ کے اس پروردگار کے لئے کیوں کر باعث عزت اور وقار ہوسکتا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ تمہارے اس عقیدہ میں اور دوسرے مزعومات میں صراحتاً تناقص ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) کیا اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹیاں تجویز کی جائیں اور تمہارے لئے بیٹے۔ یعنی اول تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد کا قول کرنا پھر اولاد میں سے بیٹیوں کی نسبت کرنا جسکو اپنے لئے پسند نہ کریں یہ کس قدر بہتان اور ظلم ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–39

ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اللہ کے لئے بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں ؟ یہ بات بھی تم نے آسمان ہی سے سنی ہے۔ 39۔ اہل مکہ نے قومی نظریہ کے طور پر یہ تسلیم کر رکھا تھا کہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور چونکہ بیٹی کی سفارش کو ان کے معاشرہ میں بھی آج کل کے معاشرہ کی طرح بہت ہی اہمیت دی جاتی تھی اس لئے ان کے اس نظریہ کا ماحصل بھی یہی تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کی یہ بیٹیاں ہماری سفارش ٹھہریں تو پھر نجات یافتہ نہ ہونے کا کیا سوال پیدا ہو سکتا ہے جب ہم انسانوں کے ہاں بیٹی کی سفارش کی اتنی اہمیت ہے تو وہ بذاتہ رب اور الہ ہے اس کی بیٹی کی سفارش تو اور بھی متاثر ہوگی اور اس طرح ہمارا کام بن جائے گا اور ہم نے اس دنیا میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

{ 1} It means that their arguments against Islam having failed on rational grounds, the only possibility was that they had a direct link with Allah whereby they have ensured that their faith was true, but no one could bring any proof of having such a link with Allah. (Muhammad Taqi Usmani) { 2} This points out to the demand of the pagans of Makkah that they would not believe in the Holy Prophet unless he brings some pieces of the sky falling down from above. (See 17:92 and 26:187 in the Qur an) The answer given is that even if Allah fulfils this absurd demand, they would still not believe and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

30 A detailed reasoning has been compressed into these brief sentences. It means to say "If you deny what the Prophet says, then what means have you got to know the reality? Has any of you had access to the heavens where he found out directly from Allah or His angels that the beliefs on which you have based your religion are absolutely in accord with the reality ? If someone makes this claim he should come forward and tell as to when and how he had access to the heavens and what knowledge he has brought from there. If you do not make any such claim, then consider how ridiculous is your crced…

Read the full tafseer →