At-Tur 52:38

At-Tur · from ayah 38

52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ ۚ— فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۟ؕاَمۡ لَهُمۡ سُلَّمٌ يَّسۡتَمِعُوۡنَ فِيۡهِ‌ ۚ فَلۡيَاۡتِ مُسۡتَمِعُهُمۡ بِسُلۡطٰنٍ مُّبِيۡنٍؕ

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have they a stairway [into the heaven] upon which they listen? Then let their listener produce a clear authority.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:38

کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر (چڑھ کر آسمان سے باتیں) سن آتے ہیں۔ تو جو سن آتا ہے وہ صریح سند دکھائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر سنتے ہیں؟ (اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے واﻻ کوئی روشن دلیل پیش کرے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا ان کے لئے کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ (عالم بالا کی باتیں) سن لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں سے جو سنتا ہو وہ کوئی واضح ثبوت تو لائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ان کے پاس کوئی زینہ ہے جس میں چڑھ کر سن لیتے ہیں تو ان کا سننے والا کوئی روشن سند لائے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا اُن کے پاس کوئی سیڑھی ہے (جس پر چڑھ کر) وہ اُس (آسمان) میں کان لگا کر باتیں سن لیتے ہیں؟ سو جو اُن میں سے سننے والا ہے اُسے چاہئے کہ روشن دلیل لائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر وہ اچھی طرح سن لیتے ہیں ؟ تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ (عالم بالا کی) باتیں سن آتے ہیں ؟ (اگر ایسی بات ہو) تو ان میں سے کوئی سننے والا صریح سند کے ساتھ وہ بات پیش کرے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ لوگ (عالم بالا کی باتیں) سن لیتے ہیں ؟ تو لے آئے ان کا سننے والا کوئی کھلی سند

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے باتیں سن لیا کرتے ہیں ؟ تو ان میں سے جو سن آتا ہو وہ لائے (اپنے دعوی پر) کوئی کھلی دلیل۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعے سے یہ آسمان کی خبریں سن لیتے ہیں ؟ اگر ایسا ہے) تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل لائے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا ان کے پاس سیڑھی ہے کہ جس پر چڑھ کر آسمان سے باتیں سن آتے ہیں ؟ تو جو سن آتا ہے وہ پکی سند دکھائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do they have a ladder whereon they can climb and attempt to listen (to what is transpiring in the Higher Realm)? Then, let any of them who has listened to it produce a clear proof of it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or have they a stairway (to the heavens) by means of which they listen (to the divine decrees)? If so, their listener must bring a clear proof.

— Muhammad Taqi Usmani

Or have they a stairway (to the heavens) by means of which they listen (to the divine decrees)? If so, their listener must bring a clear proof.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or have they a stairway (to heaven), by means of which they listen Then let their listener produce some manifest proof.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or have they any stairway (unto heaven) by means of which they overhear (decrees). Then let their listener produce some warrant manifest!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have they a stairway [into the heaven] upon which they listen? Then let their listener produce a clear authority.

— Saheeh International

Do they have a ladder (by which they can climb up to the heavens) and listen (to the angels) and come back to the rest of the people with clear authority?

— Muhammad Sarwar

Or have they the means by which they listen? Then let their listener bring a clear authority.

— Muhammad Habib Shakir

Have they a stairway whereby they overhear? Then let their listener bring an authority manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Or have they a ladder, by which they can (climb up to heaven and) listen (to its secrets)? Then let (such a) listener of theirs produce a manifest proof.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:38

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–43

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة الطُّوْر 29 یہ کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آخر محمد بن عبداللہ ﷺ ہی کیوں رسول بنائے گئے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عبادت غیر اللہ کی گمراہی سے نکالنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی کو تو رسول مقرر کیا جانا ہی تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہے کہ خدا اپنا رسول کس کو بنائے اور کس کو نہ بنائے ؟ اگر یہ لوگ خدا کے بنائے ہوئے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو خدا کی خدائی کا مالک یہ اپنے آپ کو سمجھ بیٹھے ہیں، یا پھر ان کا زعم یہ ہے کہ اپنی خدائی کا مالک تو خدا ہی ہو مگر اس میں حکم ان کا چلے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(امر لھم سلم یستمعون فیہ فلیات مستمعھم بسلطن مبین) (38) (کفار کے بےبنیاد اوہام)۔۔۔ یعنی اگر ان کے زعم یہ ہے کہ وہ اسی طرح دنیا میں بھی عیش کریں گے اور آخرت ہوئی تو وہاں بھی سب پر بالا رہیں گے تو اس زعم کی بنیاد کیا ہے ؟ کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کو آسمان میں لگا کر اپنے حق میں اللہ کے فیصلے سن لیا کرتے ہیں ؟ کیا ان پر کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جس میں ان کی پسند کی سب باتیں لکھی ہوئی ہیں ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو کوئی برأت نامہ لکھ کر پکڑا دیا ہے کہ تم جو چاہے ادھم مچاتے پھرو، ہم دنیا میں تم کو کچھ کہیں گے نہ آخرت میں تم سے کوئی باز پرس ہونی ہے ؟ اگر اس طرح کی کوئی خبر ان کے کسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

38۔ 1 یعنی کیا ان کا دعویٰ ہے کہ سیڑھی کے ذریعے سے یہ بھی محمد ﷺ کی طرح آسمانوں پر جاکر ملائکہ کی باتیں یا ان کی طرف جو وحی کی جاتی ہے، وہ سن آئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: مشرکین مکہ بہت سے ایسے عقیدے رکھتے تھے جن کا تعلق عالم بالا سے تھا، مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کے لیے چھوٹے چھوٹے بہت سے خداؤں کو اختیار دے رکھا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجا، نیز یہ کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، جیسا کہ اگلی آیت میں ان کے اسی عقیدے کا حوالہ دیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ عالم بالا کی یہ باتیں آخر کہاں سے تمہیں معلوم ہوئی ہیں ؟ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر تم وہاں کی یہ معلومات حاصل کرتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام لھم ........ مبین (25 : 83) ” کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہخے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں ؟ ان میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل۔ “ حضرت محمد ﷺ کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور ان کی طرف وحی آتی ہے اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور یہ لوگ تکذیب کرتے ہیں۔ کیا ان کے پاس عالم بالا کی معلومات کا کوئی ذریعہ ہے ؟ کہ محمد ﷺ کی طرف وحی نہیں کی جاتی اور سچائی اور ہے لہٰذا اس قسم کی سن گن رکھنے والا کوئی دلیل لے آئے۔ ایسی دلیل کہ وہ بذات خود اپنی قوت اپنے اندر رکھتی ہو جس کے نتیجے میں انسان تصدیق کرنے پر مجبور ہوجائے۔ اس میں اشارہ ہے ان دلائل کی طرف جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کیا یہ دعویٰ ہے کہ وہ زینہ لگا کر آسمان پر چڑھ جاتے اور وہاں سے ملاء اعلیٰ کی باتیں سن آتے ہیں۔ پھر جب ان کی رسائی براہ راست اس بارگاہ تک ہو تو کسی بشر کا اتباع کرنے کی کیا ضرورت رہی۔ جس کا یہ دعویٰ ہو تو بسم اللہ اپنی سند اور حجت پیش کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 38{ اَمْ لَہُمْ سُلَّـمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ ج } ”کیا ان کے پاس کوئی ایسی سیڑھی ہے جس کے ذریعے سے یہ آسمان کی خبریں سن لیتے ہیں ؟“ { فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُہُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ۔ } ”اگر ایسا ہے تو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل لائے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 یعنی عالم بالا سے کوئی ایسی بات سن آئے ہیں کہ مکہ میں جو نبی پیدا ہوا ہے اسے ہم نے تو نہیں بھیجا تھا۔ اس نے از خود ہی کچھ کلام تالیف کرکے لوگوں سے کہہ رکھا ہے کہ یہ کلام مجھ پر اللہ کی طرف سے نازل ہوتا ہے ؟ اگر کوئی ایسی بات ہے تو اس کا ثبوت پیش کریں۔ پھر جب رسالت کی تردید کے لیے ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تو وہ اس قدر ہٹ دھرمی اور سختی سے اس کا انکار کیسے کر رہے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19۔ یعنی کیا یہ لوگ اس کے مدعی ہیں کہ ” ہمارے پاس ایک سیڑھی ہے۔ اس پر چڑھ کر ہم آسمان کی باتیں سن آیا کرتے ہیں “۔ اگر یہ ان کا دعوی ہے تو چاہیے کہ اپنے دعوے کو ثابت کریں، مطلب یہ ہے کہ یہ جو قطعی وآسمانی علم کے مدعی ہیں تو ان کے پاس اپنے خرافاتی دعو وں پر کوئی وزنی دلیل بھی ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام لھم سلم یستمعون فیہ فلیات مستمعھم بسلطان مبین . کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر (یہ آسمان کی) باتیں سن لیا کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ان میں جو آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ کوئی صاف دلیل پیش کرے۔ اَمْ لَھُمْ سُلَّمٌ : یعنی ان کے پاس آسمان تک پہنچانے والی کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ ملائکہ کا کلام سن سکیں اور علم غیب کی وحی ان تک پہنچ جائے اور ان کو معلوم ہوجائے کہ کیا ہونے والا ہے یا یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے حق کیا ہے تاکہ خود حق پرست بن جائیں اور محمد ﷺ کا اتباع نہ کریں ‘ اگر ان کو اس بات کا دعویٰ ہے تو ان میں سے جو شخص کلام ملائکہ اور حکم وحی کو سننے کا مدعی ہو تو وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–38

(37۔ 38) کیا ان کے پاس تمہارے رب کی نعمتوں اور رحمتوں یعنی بارش رزق نبوت کے خزانوں کی کنجیاں ہیں یا یہ لوگ اس محکمہ نبوت کے حاکم ہیں کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن لیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ام لھم سلم یستعون فیہ …:) یا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ عالم بالا کی طرف کان لگائے رکھتے ہیں اور وہاں سے سن آئے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہی حق ہے اور یہ بھی سن آئے ہیں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول نہیں اور نہ اس نے انہیں بھیجا ہے، بلکہ انہوں نے قرآن خود ہی تصنیف کر کے اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا دیا ہے۔ اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے تو وہ اس کی واضح دلیل پیش کرے، جس سے معلوم ہو کہ وہ واقعی آسمان تک گیا تھا اور وہاں اس نے واقعی اللہ تعالیٰ کی اور فرشتوں کی باتیں سنی ہیں۔ دیکھیے سورة احقاف (4) اور سورة فاطر (40) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار کے پاس رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کے لئے کوئی نقلی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 37–38

ام عندھم خزآئن ربک یعنی ان کے پاس ان کے رب کے خزانے ہیں اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے مستغنی ہیں اور اس کے امر سے اعراض کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، خزائن سے مراد بارش اور رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رحمت کی چابیاں۔ عکرمہ نے کہا، مراد رسالت ہے جہاں وہ چاہتے ہیں اسے رکھتے ہیں (1) خزائن سے مثال بیان فرمائی ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہوتی ہے جسے اس لئے تیار کیا جاتا ہے تاکہ مختلف قسم کے ذخائر کو جمع کیا جائے۔ سب کی مقدورات ان خزائن کی طرح ہیں جن میں ہرق سم کی جنسیں ہوتی ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی۔ ام ھم المصیطرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی تسلط جمانے اولے اور جبار ہیں (2) ان سے یہ بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ [ یا انکے لیے کوئی ایسی سیڑھی ہے ] يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ۚ [ یہ لوگ کان لگاتے ہیں جس میں ] فَلْيَاْتِ [ تو چاہیے کہ لائے ] مُسْتَمِعُهُمْ [ ان کا کان لگانے والا ] بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ [ کوئی واضح دلیل ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ﴾ (کیا ان کے پاس زینہ ہے جس میں وہ باتیں سنتے ہیں) ۔ ﴿ فَلْيَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍؕ0038﴾ (سو ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل لے کر آئے) علامہ قرطبی لکھتے ہیں : ای حجۃ بینۃ ان ھذا الذی ھم علیہ حق مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب پیش کرتے ہیں، اس کا کتاب اللہ ہونا تو اسی سے ثابت ہوگیا کہ تم اس جیسی کتاب بنا کر لانے سے عاجز ہو، اب تم اپنے دین کو حق ثابت کرو اس کو ثابت کرنے کے لیے کوئی واضح دلیل ہونی لازمی ہے وہ کون سا زینہ ہے جس پر چڑھ کر تمہارا کوئی شخص اپنے دین کے حق ہونے کی حقانیت معلوم کرچکا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–38

18:۔ ” ام عندھم “ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں۔ کیا اللہ کی رحمت، نبوت اور رزق وغیرہ ان کے ہاتھ میں ہے یا وہ خدائی خزانوں کے نگران اور تقسیم کنندگان ہیں کہ جسے چاہیں جو چیز چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ کیا وہ محمد ﷺ کی نبوت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ نبوت کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے آپ کو نبوت نہیں دی ؟ نہیں انکار محض عنادًا ہے۔ ” ام لہم سلم الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کی موت کے منتظر ہیں اور انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ آپ کی وفات ان سے پہلے ہوگی۔ کیا انہوں نے آسمان میں سیڑھی لگا رکھی ہے اور وہ آسمان پر چڑھ کر فرشتوں کی باتیں اور ان پر اللہ کی طرف سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہاں سے سن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْہِ۝ 0 ۚ فَلْيَاْتِ مُسْتَمِعُہُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ۝ 38 ۭ سُّلَّمُ سيڑهي والسُّلَّمُ : ما يتوصّل به إلى الأمكنة العالية، فيرجی به السّلامة، ثمّ جعل اسما لكلّ ما يتوصّل به إلى شيء رفیع کالسّبب، قال تعالی: أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ [ الطور/ 38] ، وقال : أَوْ سُلَّماً فِي السَّماءِ [ الأنعام/ 35] ، وقال الشاعر : ولو نال أسباب السماء بسلّم والسَّلْمُ والسَّلَامُ : شجر عظیم، كأنه سمّي لاعتقادهم أنه سلیم من الآفات، والسِّلَامُ : الحجارة الصّلبة . السلم اصل میں ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بلند مقامات پر چڑھا جاتا ہے ۔ تاکہ سلامتی حاصل ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–39

1 ؎ یہ ہے سموات کی سیڑھی جس پر چڑھ کر حضرات انبیاء انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے والے علوم اوپر سے لاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 38–39

اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُھُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اَمْ لَـہُ الْبَنٰتُ وَلَـکُمُ الْبَنُوْنَ ۔ (الطور : 38، 39) (کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں، تو چاہیے کہ ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔ کیا اس کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے۔ ) مخالفین کو آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات تھے اور قرآن کریم کے بارے میں جو کچھ ان کے تحفظات تھے گزشتہ آیات میں ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں کہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے اور تمہارا الزام یہ ہے کہ اسے خود محمد ﷺ نے لکھا ہے تو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–39

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی ﷺ کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کو کاہن، جادوگر اور شاعر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 38 : اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ (کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے) جو گڑی ہوئی ہے کہ جس سے آسمان پر یہ چڑھ جائیں گے۔ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ (جس پر چڑھ کر باتیں سن لیا کرتے ہیں) ملائکہ کا کلام اور جو علم غیب کی باتیں وحی کے ذریعہ بھیجی جاتی ہے۔ تاکہ ان کو آئندہ ہونے والے حالات کا علم ہوجائے کہ ان کی ہلاکت سے پہلے کس کی ہلاکت ہے۔ اور آخرت میں کامیابی انہوں نے لکھوا رکھی ہیں۔ وہ محمد ﷺ کو میسر نہ ہوگی جیسا کہ ان کا زعم ووہم ہے۔ قول الزجاج۔ : یستمعون فیہ میں فی علیٰ کے معنی میں ہے۔ وہ اس پر کان لگائیں۔ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُہُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ (اگر ایسا ہے تو ان میں جو آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

37 ۔” ام عندھم خزائن ربک “ عکرمہ (رح) فرماتے ہیں یعنی نبوت مقاتل (رح) فرماتے ہیں کیا ان کے ہاتھوں میں تیرے رب کی رسالت کی چابیاں ہیں کہ وہ اس کو جہاں چاہیں رکھ دیں ؟ کلبی (رح) فرماتے ہیں بارش اور رزق کے خزانے۔ ” ام ھم المصیطرون “ مسلط کیے ہوئے متکبر۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں۔ غالب کہ کسی امرونہی کے تحت نہ ہوں اور جو چاہیں کریں اور سین اور صاد کے ساتھ جائز ہے۔ ابن عامر (رح) نے یہاں سین کے ساتھ پڑھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول ” بمسیطر “ میں، اور ابن کثیر (رح) نے یہاں سین کے ساتھ اور ” بمصیطر ‘ صاد کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے دونوں میں صاد کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–43

35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَّسْتَمِعُوْنَ فِيْهِ ) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں یعنی کیا انہیں غیب کا علم ہے اور وہ ملا اعلی کی باتیں سنتے ہیں اور ایسے امور کے بارے میں خبریں دیتے ہیں جنہیں ان کے سوا کوئی نہیں جانتا (فلیات مستمعھم) پھر چاہیے کہ ان کا سننے والا لائے۔ یعنی ملا اعلی کی باتیں سننے کا دعوے دار (بسلطن مبین) کوئی صریح دلیل۔ اور یہ دلیل اس کے پاس کہاں سے آسکتی ہے اللہ تعالیٰ ہی غیب اور موجود کا علم رکھتا ہے وہ کسی غیب کو ظاہر نہیں کرتا سوائے کسی رسول کے جس پر وہ غیب کو ظاہر کرنے پر راضی ہو وہ اپنے علم میں سے جو چاہتا ہے اس کے بارے میں اس رسول کو آغاہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 47] منکرین و مشرکین کے زعم باطل پر ایک ضرب کاری : سو ان کے اس زعم باطل کی تردید کے لئے کہ آخرت ہوئی بھی تو یہ وہاں پر بھی عیش کریں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس ذہنیت کے لوگوں کا یہ قول نقل فرمایا گیا ہے۔ { ولئن اذقنہ رحمۃً منا من م بعد ضرآء مستہ لیقولن ھذا لی لا ومآ اظن الساعۃ قائمۃً لا ولئن رجعت الی ربی ان لی عندہٗ للحسنی ج فلننبئن الذین کفروا بما عملوا ز ولندیقنھم من عذابٍ غلیظ۔ [ حم السجدۃ : 50 پ 25] یعنی اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقینا اس کے یہاں بھی میرے لئے اچھائی ہی ہوگی۔ سو ایسے لوگوں کے ایسے زعم باطل کی تردید کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 17 یعنی کیا ان کی رسائی براہ راست فرشتوں بلکہ خدا تک ہوجاتی ہے اس لئے وہ اپنے آپ کو پیغمبر کی رہنمائی سے آزاد سمجھتے ہیں۔ 18 کھلی سند سے مراد ایسی سند ہے جس سے معلوم ہو کہ وہ واقعی آسمان تک گیا تھا اور وہاں اس نے اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی باتیں سنی تھیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:38) ام استفہام انکاری ہے۔ سلم سیڑھی۔ زینہ۔ سیٹھی کے ذریعہ چونکہ آدمی سلامتی کے ساتھ اوپر پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے اس کام سلم ہوا۔ اس کی جمع سلالم اور سلالیم ہے۔ یستمعون : مضارع جمع مذکر غائب۔ استماع (افتعال) مصدر ۔ سننا ۔ کان لگا کر سننا باب افتعال کے خواص میں سے تصرف کی خاصیت ہوتی ہے یعنی تحصیل ماخذ میں کوشش کرنا۔ سو یہاں اس کا مطلب ہوگا۔ وہ کان لگا کر یعنی کوشش کرکے سن آتے ہیں۔ (ملاء اعلیٰ کی باتیں۔ آسمان کی باتیں۔ کلام اللہ) فیہ : ای صاعدین فیہ۔ اس سیڑھی پر چڑھ کر یا چڑھتے ہوئے یہ پھر (محذوف) فاعل یستمعون سے حال ہے یستمعون کا مفعول محذوف ہے۔ ای کلام الملئکۃ۔ روح البیان میں یستمعون فیہ کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–43

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–38

[14] یعنی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے خزانے جن میں نبوت بھی شامل ہے ان کے قبضے میں ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں یا ان خزانوں پر حاکم ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دلوا دیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–38

ف 2: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ اپنے مرتبہ ومقام کو پہچانیں ۔ اور اللہ کے سامنے جھکیں ۔ کیونکہ یہ خودبخود موجود نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلعت وجود بخشا ہے ۔ حل لغات :۔ اخلامھم ۔ حلم کی جمع ہے ۔ بمعنے عقل تقولد ۔ تقویل کے معنے وضع کرنے کے ہیں لسم ۔ سیڑھی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(38) کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن آتے ہیں اگر ایسا ہے تو ان میں سے جو سننے والا ہے وہ کوئی واضح دلیل پیش کرے۔ آسمانی باتوں کی دو ہی شکلیں میں یا تو وحی آئے یا صاحب وحی خود آسمان پر جائے وحی تو ان پر آتی نہیں اب یہ اگر مدعی ہیں تو کیا انہوں نے آسمان پر صعود کیا ہے وہاں سے سن کر آئے ہیں کہ فلاح شخص نبی نہیں ہے یا قرآن ہم نے نہیں اتارا تو اگر ان میں سے کوئی شخص سن کر آیا ہے تو اس کو چاہیے کہ واضح دلیل کے ساتھ اپنا صاحب وحی ہونا اور اپنی وحی کو بیان کرے اور پیش کرے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کا مشریف بہ وحی ہونا دلائل ظاہرہ سے ثابت ہے اسی طرح یہ آسمان پر چڑھنے والے بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–39

ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

38۔ (مسلم) کا مادہ س ل م ہی ہے اور سیڑھی کو (سلم) کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ آدمی سلامتی کے ساتھ اوپر پہنچ جاتا ہے اس لئے اس کا نام (سلم) ہوا۔ سلالم اور سلالیم ؓ اس کی جمع ہے یعنی سیڑھی اور زینہ خواہ وہ لوہے کی ہو یا مٹی اور لکڑی کی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جو انہوں نے آسمان کے ساتھ لگا لی ہے اوپر چڑھ کر انہوں نے یہ باتیں سن لی ہیں اور وہاں سے نیچے آ کر یہ لوگ اپنی سنی ہوئی باتیں لوگوں کو سنا رہے ہیں۔ لاریب ایسی نہ تو کوئی سیڑھی ہو سکتی ہے جو آسمانوں تک ان لوگوں نے لگا لی ہو اور نہ ہی ان کی رسائی وہاں تک ہو سکتی ہے۔ ہاں ! اگر ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–43

{ 1} It means that their arguments against Islam having failed on rational grounds, the only possibility was that they had a direct link with Allah whereby they have ensured that their faith was true, but no one could bring any proof of having such a link with Allah. (Muhammad Taqi Usmani) { 2} This points out to the demand of the pagans of Makkah that they would not believe in the Holy Prophet unless he brings some pieces of the sky falling down from above. (See 17:92 and 26:187 in the Qur an) The answer given is that even if Allah fulfils this absurd demand, they would still not believe and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

29 This is an answer to the objection of the disbelievers of Makkah who said: Why had Muhammad, son of `Abdullah (upon whom be peace), only been appointed a Messenger? The answer implies this: "Somebody in any case had to be appointed a Messenger in order to deliver the people from their error of serving others than AIIah. Now the question is: Who should decide whom AIIah should appoint His Messenger and whom He should not ? If these people refuse to accept the Messenger appointed by Allah, it means that either they regard themselves as the masters of the world or they presume that the world…

Read the full tafseer →