At-Tur 52:37

At-Tur · from ayah 37

52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَ ۟ؕاَمۡ عِنۡدَهُمۡ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمۡ هُمُ الۡمُصَۜيۡطِرُوۡنَؕ

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or have they the depositories [containing the provision] of your Lord? Or are they the controllers [of them]?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:37

کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان کے پاس تمہارے پروردگار کے خزانے ہیں۔ یا یہ (کہیں کے) داروغہ ہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں؟ یا (ان خزانوں کے) یہ داروغہ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا تمہارے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں، یا وہ داروغہ بنے ہوئے ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا وہ کڑوڑے (حاکمِ اعلیٰ) ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا اُن کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا وہ اُن پر نگران (اور) داروغے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں، یا وہی حکم چلانے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ان کے پاس آپ کے پروردگار کی رحمت کے خزانے ہیں ؟ یا یہ ان (خزانوں) پر حکم چلانے والے ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا انہی کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا وہ ان پر داروغہ مقرر ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں ؟ یا یہ ان کے داروغے ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم (مجاز) ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں یا یہ کہیں کے داروغہ ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Or do they have your Lord's treasures in their keeping? Or have absolute authority over them?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or do they have the treasures of your Lord, or have they acquired control (over them)?

— Muhammad Taqi Usmani

Or do they have the treasures of your Lord, or have they acquired control (over them)?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or are with them the treasures of your Lord Or are they the tyrants with the authority to do as they like

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or do they own the treasures of thy Lord? Or have they been given charge (thereof)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or have they the depositories [containing the provision] of your Lord? Or are they the controllers [of them]?

— Saheeh International

Do they own the treasures of your Lord? Have they any authority over God?

— Muhammad Sarwar

Or have they the treasures of your Lord with them? Or have they been set in absolute authority?

— Muhammad Habib Shakir

Are with them the treasures of thy Lord! or are they the dispensers?

— Abdul Majid Daryabadi

Or are the Treasures of thy Lord with them, or are they the managers (of affairs)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–43

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 37–38

سورة الطُّوْر 29 یہ کفار مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آخر محمد بن عبداللہ ﷺ ہی کیوں رسول بنائے گئے۔ اس جواب کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کو عبادت غیر اللہ کی گمراہی سے نکالنے کے لیے بہرحال کسی نہ کسی کو تو رسول مقرر کیا جانا ہی تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہے کہ خدا اپنا رسول کس کو بنائے اور کس کو نہ بنائے ؟ اگر یہ لوگ خدا کے بنائے ہوئے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یا تو خدا کی خدائی کا مالک یہ اپنے آپ کو سمجھ بیٹھے ہیں، یا پھر ان کا زعم یہ ہے کہ اپنی خدائی کا مالک تو خدا ہی ہو مگر اس میں حکم ان کا چلے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(ام عند ھم خزائن ربک ام ھم المصیطرون) (37) (ایک اور سوال)۔۔۔۔۔ جس طرح کے سوال اوپر کی دو آیتوں میں کیے ہیں اسی طرح کا سوال یہ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے یا آسمان و زمین کے خالق نہیں تو کیا تیرے رب کے خزانوں کے مالک یا ان پر داروغہ ہیں کہ وہ خدا کی پکڑ سے بےفکر ہیں ! یعنی جس طرح کہ آسمان و زمین کے خالق ہونے کے مدعی نہیں ہو سکتے اسی طرح اس بات کے بھی مدعی نہیں ہو سکتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رزق و فضل کے خزانے ان کے حوالے کردیئے ہیں یا ان کی تقسیم پر ان کو مامور کردیا ہے کہ جس کو چاہیں دیں، جس کو چاہیں نہ دیں، پھر ان کو یہ عرہ کیوں ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں نہیں آسکتے یا جس عیش میں وہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 کہ یہ جس کو چاہیں روزی دیں جس کو چاہیں نہ دیں یا جس کو چاہیں نبوت سے نوازیں۔ 37۔ 2 مصیطر یا مسیطر سَطْرً سے ہے، لکھنے والا، جو محافظ و نگران ہو، وہ چونکہ ساری تفیصلات لکھتا ہے، اس لئے یہ محافظ اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی کیا اللہ کے خزانوں یا اس کی رحمتوں پر ان کا تسلط ہے کہ جس کو چاہیں دیں یا نہ دیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 35–37

9: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو مکہ مکرمہ یا طائف کے کسی بڑے سردار کو پیغمبر کیوں نہیں بنایا گیا ؟ (دیکھئے سورة زخرف 43۔ 31) اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے، جن میں کسی کو پیغمبر بنانے کا اختیار بھی شامل ہے، ان کی خواہشات کے تابع ہیں کہ وہ جسے چاہیں اسے پیغمبر بنادیا جائے ؟۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 36–37

ام خلقوا ........ یوقنون (25 : 63) ” یا زمین و آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ یہ لوگ بھی اور ہر عقلمند شخص جو فطری انداز میں سوچتا ہو اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ زمین اور آسمانوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یا بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود انہوں نے یعنی کسی انسان نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کسی کو دینا ہے اور ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن یہ حقیقت ان کے ادراک میں اس قدر واضح نہ تھی کہ وہ ان کے دلوں اور ان کی سوچ اور ان کے طرز عمل میں کوئی تغیر پیدا کرے اور وہ کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی کیا یہ خیال ہے کہ زمین و آسمان گو خدا کے بنائے ہوئے ہیں مگر اس نے اپنے خزانوں کا مالک ان کو بنادیا ہے ؟ یا اس ملک اور خزانوں پر انہوں نے زور سے تسلط اور قبضہ حاصل کرلیا ہے۔ پھر ایسے صاحب تصرف و اقتدار ہو کر وہ کسی کے مطیع و منقاد کیوں بنیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37{ اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ اَمْ ہُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ۔ } ”کیا ان کے قبضہ قدرت میں آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ داروغہ ہیں ؟“ اس آیت کو پڑھتے ہوئے مشرکین مکہ کا وہ اعتراض بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس کا ذکر سورة الزخرف کی آیت 31 میں ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اگر وحی بھیجنا تھی اور اپنا کلام دنیا میں نازل کرنا ہی تھا تو اس کے لیے اس کی نظر بنوہاشم کے ایک یتیم شخص ہی پر کیوں پڑی ‘ جو نہ تو سرمایہ دار ہے اور نہ ہی مکہ کے قبائلی نظام کے اعلیٰ عہدوں hierarchy میں سے کوئی عہدہ اس کے پاس ہے ! عرب کے قبائلی معاشرے میں کسی شخصیت کے ”بڑے“ ہونے کا ایک معیار یہ بھی تھا کہ وہ کسی بڑے عہدے پر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

31 یہ کافروں کے ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ نے کسی بشر کو رسول بنانا تھا تو کیا اسے یہی شخص اس کام کے لیے پسند آیا تھا۔ مکہ اور طائف کے سردار مرگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کیا اللہ کی رحمت کے خزانوں کے مالک یہ ہیں ؟ یا اللہ نے اپنے خزانوں کی تقسیم کا اختیار ان کو دے رکھا ہے کہ جونسی نعمت جسے چاہیں دے دیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ (اور یہ جسے چاہیں نبوت دلوادیں) اب تک ذکر منکرین توحید کا تھا۔ اب ذکر منکرین رسالت کا شروع ہوتا ہے۔ (آیت) ” خزآئن ربک “۔ خزائن پروردگار سے مراد اس کی نعمتوں اور رحمتوں کے خزانے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام عندھم خزآئن ربک ام ھم المصیطرون . کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں یا یہ لوگ (اس محکمۂ نبوت کے) حاکم ہیں۔ اَمْ عِنْدَھُمْ : یعنی کیا رزق رب کے انکے پاس خزانے ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں یا خزائن سے مراد ہیں خزائن علم رب یعنی کیا انکے پاس رب کے علم اور حکمت کے خزانے ہیں کہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کون نبوت کا مستحق ہے اور حکمت کا تقاضا کیا ہے۔ اَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ : یا ان کا تسلط تمام چیزوں پر ہے اور ان کے اقتدار کے نیچے تمام اشیاء داخل ہیں کہ جیسا چاہیں کریں ‘ کسی کا حکم ان پر نہ چلے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–38

(37۔ 38) کیا ان کے پاس تمہارے رب کی نعمتوں اور رحمتوں یعنی بارش رزق نبوت کے خزانوں کی کنجیاں ہیں یا یہ لوگ اس محکمہ نبوت کے حاکم ہیں کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے کہ اس پر چڑھ کر آسمان کی باتیں سن لیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) ام عندھم خزآئن ربک …: یہ کفار کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ آپ ﷺ ہی کو کیوں رسول بنایا گیا، مکہ اور طائف کے سرداروں میں سے کسی کو رسالت کے لئے کیوں نہ چنا گیا ؟ فرمایا، یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو رسول بنا کر بھیجا اجئے مالک کا کام ہے۔ اب یہ لوگ اگر اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے رسول کا انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلق یہ ہے کہ یا تو تیرے رب کے خزانوں کے مالک یہ ہیں، جسے چاہیں دیں جسے چاہیں نہ دیں، یا یہ کہ مالک تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر اس پر حکم انہی کا چلتا ہے۔ اب یہ خود ہی بتائیں کہ ان دونوں میں سے ان کا دعویٰ کیا ہے ؟ مزید دیکھیے سورة ص (8 تا 10) اور سورة زخرف (31، 32) ، خلاصہ یہ کفار کے پاس رسول…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 37–38

ام عندھم خزآئن ربک یعنی ان کے پاس ان کے رب کے خزانے ہیں اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے مستغنی ہیں اور اس کے امر سے اعراض کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے کہا، خزائن سے مراد بارش اور رزق ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رحمت کی چابیاں۔ عکرمہ نے کہا، مراد رسالت ہے جہاں وہ چاہتے ہیں اسے رکھتے ہیں (1) خزائن سے مثال بیان فرمائی ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہوتی ہے جسے اس لئے تیار کیا جاتا ہے تاکہ مختلف قسم کے ذخائر کو جمع کیا جائے۔ سب کی مقدورات ان خزائن کی طرح ہیں جن میں ہرق سم کی جنسیں ہوتی ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں ہوتی۔ ام ھم المصیطرون۔ حضرت ابن عباس نے کہا، اس کا معنی تسلط جمانے اولے اور جبار ہیں (2) ان سے یہ بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ عِنْدَهُمْ [ یا ان کے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ [ آپ کے رب کے خزانے ہیں ] اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ [ یا یہ لوگ (خزانوں کے ) داروغہ ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَبِّكَ ﴾ (کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں) اگر ان کے پاس رحمت الٰہیہ کے خزانے ہوتے تو جسے چاہتے نبوت دے دیتے۔ اس آیت میں مشرکین مکہ کے اس اعتراض کا جواب ہے کہ اگر نبی اور رسول بنانا ہی تھا تو محمد بن عبداللہ کو کیوں بنایا مکہ معظمہ اور طائف میں بڑے بڑے مالدار اور سردار پڑے ہیں ان میں سے کسی کو نبوت ملنا چاہیے تھا بطور سوال ان کا جواب دے دیا (جواستفہام انکاری کے طور پر ہے) ۔ ﴿اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَؕ0037﴾ کیا ان کے پاس حکومت اور طاقت اور ایسا غلبہ ہے کہ اپنے اختیار سے کسی کو نبوت دلا دیں جب یہ دونوں باتیں نہیں ہیں تو انہیں کیا مقام ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–38

18:۔ ” ام عندھم “ کیا وہ اللہ کے خزانوں کے مالک ہیں۔ کیا اللہ کی رحمت، نبوت اور رزق وغیرہ ان کے ہاتھ میں ہے یا وہ خدائی خزانوں کے نگران اور تقسیم کنندگان ہیں کہ جسے چاہیں جو چیز چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں۔ کیا وہ محمد ﷺ کی نبوت کا اس لیے انکار کرتے ہیں کہ نبوت کی تقسیم ان کے ہاتھ میں ہے اور انہوں نے آپ کو نبوت نہیں دی ؟ نہیں انکار محض عنادًا ہے۔ ” ام لہم سلم الخ “ یہ آنحضرت ﷺ کی موت کے منتظر ہیں اور انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ آپ کی وفات ان سے پہلے ہوگی۔ کیا انہوں نے آسمان میں سیڑھی لگا رکھی ہے اور وہ آسمان پر چڑھ کر فرشتوں کی باتیں اور ان پر اللہ کی طرف سے جو احکام نازل ہوتے ہیں وہاں سے سن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ ہُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ۝ 37 ۭ عند عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ، ( عند ) ظرف عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا اور کبھی کسی شخص کی قرب ومنزلت کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہے ۔ خزن الخَزْنُ : حفظ الشیء في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ ہاں غیب کا دفتر ہوتا اور اس کے مطابق آپ کی باتیں نہ پاتے تو یقینا چھوٹا کہہ سکتے تھے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَبِّـکَ اَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ ۔ (الطور : 37) (کیا آپ کے رب کے خزانے ان کے پاس ہیں یا وہ ان پر نگران بنائے گئے ہیں۔ ) قریش کے اعتقادات کے تناظر میں ان سے چند سوالات قریشِ مکہ کے بعض اعتقادات کی وجہ سے ان سے چند سوالات کیے گئے ہیں۔ ان کا ایک اعتقاد یہ تھا کہ نبوت اور رسالت ایک عظیم منصب ہے اس کا اہل اول تو انسان نہیں ہوسکتا، کسی فرشتے کو ہونا چاہیے۔ اور اگر مان لیا جائے کہ انسانوں کی اصلاح کے لیے کسی انسان ہی کو رسول بن کر آنا چاہیے تو اسے یقینا اپنے وقت کا دولت و ثروت کے حوالے سے کوئی نمایاں ترین فرد ہونا چاہیے تاکہ لوگ اس کی عظمت اور بڑائی کے سامنے جھکیں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–39

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی ﷺ کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔ اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کو کاہن، جادوگر اور شاعر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ تو نہ خزائن کے مالک ‘ نہ مدبر : آیت 37 : اَمْ عِنْدَہُمْ خَزَآئِنُ رَبِّکَ (کیا ان کے پاس آپ کے رب کے خزانے ہیں) یعنی نبوت ٗ رزق وغیرہ۔ پس وہ اس میں جس کو چاہیں جو چاہیں عطا کریں۔ اَمْ ہُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ (یا یہ لوگ حاکم ہیں) غلبہ والے ہیں کہ ربوبیت کے معاملات کی تدبیر جس سے کریں اور معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں۔ قراءت : مسیطرون۔ شامی و مکی نے پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

36 ۔” ام خلقوا السموات والارض “ پس وہی خالق ہوجائیں۔ معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ ” بل لا یوقنون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–43

35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ ) یعنی کیا ان جھٹلانے والوں کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں کہ جسے چاہیں عطا کریں اور جسے چاہیں محروم کردیں ؟ اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ و اپنے بندے اور رسول محمد کو نبوت سے سرفراز کرنے سے روک دیا ہے گویا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ان کے سپرد کردیے گئے ہیں حالانکہ وہ اس حقیر اور ذلیل تر ہیں کہ یہ کام ان کے سپرد کیا جائے ان کے ہاتھ میں تو خود اپنی ذات کے لیے نفع ونقصان، زندگی اور موت اور مرنے کے بعد زندہ ہونا نہیں ہے۔ (اھم یقسمون رحمۃ ربک نحن قسمنا بینھم معیشتھم فی الحیوۃ الدنیا۔ الزخرف 32) کیا یہ لوگ آپ کے رب کی رحمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 46] منکرین کے ضمیروں سے ایک اور سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے پاس تمہارے رب کے خزانے ہیں ؟ یا یہ ان پر مسلط اور ان کے داروغے ہیں ؟ کہ جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں۔ یعنی یہ خالق تو نہیں، مگر ان کو اتنا غلبہ اور تسلط حاصل ہے کہ اللہ پاک کے خزانوں اور ان کی تقسیم پر انکا حکم چلتا ہو ؟ ظاہر ہے کہ یہ بات بھی نہیں، کہ جس طرح خالق ومالک وہ وحدہٗ لاشریک ہے، اسی طرح اس میں حاکم و متصرف و کارساز بھی تنہا وہی ہے، پس نہ تو اس کے سوا کسی کی بندگی جائز ہے اور نہ ہی اس کے کسی کام پر کسی کو انگلی اٹھانے اور اعتراض کرنے کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے، اور نہ اس کا حق، جیسا کہ کفار کا کہنا تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 15 ” کہ جسے چاہیں روزی دیں اور جسے چاہیں نہ دیں یا جسے چاہیں وہ خدا کا پیغمبر ہو اور جسے نہ چاہیں وہ نہ ہو ؟ “ 16 کہ دنیا میں ہر بات انہی کی مرضی کے مطابق ہوا کرے ؟

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:37) دونوں جگہ امد استفہام انکاری ہے۔ عندھم : عند مضاف ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان کے پاس، ان کے نزدیک ۔ جیسے واخراج اہلہ منہ اکبر عند اللہ (2:217) اور اہہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے ۔ المصیطرون : اسم فاعل جمع مذکر مصبطر واحد یہ لفظ اصل میں مسیطر تھا۔ س کو ص سے بدل دیا گیا ۔ جیسے سراط کو صراط کہا جاتا ہے سیطرۃ مصدر ہے۔ جس کے معنی ہیں کسی کام پر مقرر ہونا۔ ذمہ دار ہونا۔ اس لئے مسیطر یا مصیطر کا ترجمہ ہوا۔ ذہ دار نگران، سطر مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–43

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–38

[14] یعنی اگر یہ لوگ اللہ کے رسول کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے خزانے جن میں نبوت بھی شامل ہے ان کے قبضے میں ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دے دیں یا ان خزانوں پر حاکم ہیں کہ جس کو چاہیں نبوت دلوا دیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–38

ف 2: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ اپنے مرتبہ ومقام کو پہچانیں ۔ اور اللہ کے سامنے جھکیں ۔ کیونکہ یہ خودبخود موجود نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلعت وجود بخشا ہے ۔ حل لغات :۔ اخلامھم ۔ حلم کی جمع ہے ۔ بمعنے عقل تقولد ۔ تقویل کے معنے وضع کرنے کے ہیں لسم ۔ سیڑھی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(37) کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ کوئی داروغہ اور حکمراں ہیں یعنی یہ جو کہا کرتے ہیں کہ فلاں شخص کو نبوت دی جاتی یا فلاح شخص کو کو یں نہیں دی گئی اس کا جواب ہے کہ آپ کے پروردگار کے خزانے ان کے پاس ہیں یا یہ ان خزانوں پر حکمراں ہیں کہ فلاں کو دو فلاح کو نہ دو بلکہ ہم مالک ہیں اور اپنی مصلحت کے موافق جس کو چاہتے ہیں اپنی رحمت یعنی نبوت سے نوازتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–39

ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان کے کنٹرول میں تیرے رب کے خزانے ہیں کہ وہ دان کے مالک بن بیٹھے ہیں 37 ؎ مکہ والوں کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ دیکھو مکہ اور طائف کی دو بڑی بستیوں میں بڑے بڑے لوگ موجود ہیں جن کے نام سے لوگ ہل جاتے ہیں اور ان کے منہ سے جب کوئی بات نکلتی ہے تو ذرا دیر نہیں لگتی کہ اس کو مانے کے لئے لوگ تیار کھڑے ہوتے ہیں اور عرب کا شاید ہی کوئی خطہ اور حصہ ایسا ہوگا جہاں ان کے ناموں کو شہرت حاصل نہ ہو۔ ان کے پاس مال و دولت کی ریل پیل بھی ہے اور ان کا تعلق بڑے بڑے خاندانوں سے ہے گویا وہی بات جو ہمارے ہاں معروف ہے کہ وہ باپ دادا والے لوگ ہیں پھر اگر اللہ عالیٰ نے کسی انسان ہی کو نبی و رسول بنانا تھا تو ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

{ 1} This is an answer to one of the objections frequently raised by the disbelievers of Makkah against the prophethood of the Holy Prophet . They used to ask why he was chosen for messenger-ship, and not one of the outstanding chiefs of the tribe. The answer given in this verse is that the selection of prophets is the exclusive prerogative of Allah. He has the treasures of knowledge, and it is He who decides to whom they should be given. The attitude of those who raise objections against His decision is tantamount to claiming that the disposal of these treasures should have been in their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 37–38

29 This is an answer to the objection of the disbelievers of Makkah who said: Why had Muhammad, son of `Abdullah (upon whom be peace), only been appointed a Messenger? The answer implies this: "Somebody in any case had to be appointed a Messenger in order to deliver the people from their error of serving others than AIIah. Now the question is: Who should decide whom AIIah should appoint His Messenger and whom He should not ? If these people refuse to accept the Messenger appointed by Allah, it means that either they regard themselves as the masters of the world or they presume that the world…

Read the full tafseer →