Explained with ayahs 35–43
توحید ربوبیت اور الوہیت
توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 28
اس سے پہلے جو سوالات چھیڑے گئے تھے وہ کفار مکہ کو یہ احساس دلانے کے لیے تھے کہ محمد ﷺ کے دعوائے رسالت کو جھٹلانے کے لیے جو باتیں وہ بنا رہے ہیں وہ کس قدر غیر معقول ہیں۔ اب اس آیت میں ان کے سامنے یہ سوال رکھا گیا ہے کہ جو دعوت محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں آخر اس میں وہ بات کیا ہے جس پر تم لوگ اس قدر بگڑ رہے ہو۔ وہ یہی تو کہہ رہے ہیں کہ اللہ تمہارا خالق ہے اور اسی کی تم کو بندگی کرنی چاہیے۔ اس پر تمہارے بگڑنے کی آخر کیا معقول وجہ ہے ؟ کیا تم خود بن گئے ہو، کسی بنانے والے نے تمہیں نہیں بنایا ؟ یا اپنے بنانے والے تم خود ہو ؟ یا یہ وسیع کائنات تمہاری بنائی ہوئی ہے ؟ اگر ان میں سے کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(امر خلقوا من غیر شی ام ھم الخلقون ام خلقوا السموات والارض بل لا یوقنون (35۔ 36)
(معترنین سے چند سوالات)۔ مکذبین کے اعتراضات و اتہامات کے جواب دینے کے بعد اب یہ ان سے چند سوالات کیے گئے ہیں۔ کہ اگر وہ عذاب اور آخرت کے منکر ہیں تو یہ بتائیں کہ کیا وہ بغیر خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا خود ہی اپنے خالق ہیں ؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ یہ امر واضح رہے کہ مشرکین عرب اپنا اور تمام آسمان و زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ وہ اپنے مزعومہ شرکاء میں سے کسی کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے۔ یہ سوال قرآن نے ان کے سامنے رکھ کے گویا ان سے یہ پوچھا ہے کہ جب…
Read the full tafseer →36۔ 1 بلکہ اللہ کے وعدوں اور وعیدوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
9: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو مکہ مکرمہ یا طائف کے کسی بڑے سردار کو پیغمبر کیوں نہیں بنایا گیا ؟ (دیکھئے سورة زخرف 43۔ 31) اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے، جن میں کسی کو پیغمبر بنانے کا اختیار بھی شامل ہے، ان کی خواہشات کے تابع ہیں کہ وہ جسے چاہیں اسے پیغمبر بنادیا جائے ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
ام خلقوا ........ یوقنون (25 : 63) ” یا زمین و آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے “ یہ لوگ بھی اور ہر عقلمند شخص جو فطری انداز میں سوچتا ہو اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ زمین اور آسمانوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا یا بغیر خالق کے پیدا ہوئے یا خود انہوں نے یعنی کسی انسان نے ان کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوالات ہیں جن کا جواب ہر کسی کو دینا ہے اور ان کا حال تو یہ تھا کہ جب ان سے یہ سوال کیا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اللہ نے پیدا کیا ہے لیکن یہ حقیقت ان کے ادراک میں اس قدر واضح نہ تھی کہ وہ ان کے دلوں اور ان کی سوچ اور ان کے طرز عمل میں کوئی تغیر پیدا کرے اور وہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
2 یعنی پیغمبر خدا کی بات کیوں نہیں مانتے۔ کیا ان کے اوپر کوئی خدا نہیں جس کی بات ماننا ان کے ذمہ لازم ہو۔ کیا بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا خود اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں ؟ یا یہ خیال ہے کہ آسمان و زمین ان کے بنائے ہوئے ہیں لہذا اس قلم رو میں جو چاہیں کرتے پھریں، کوئی ان کو روکنے ٹوکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ سب خیالات باطل اور مہمل ہیں۔ وہ بھی دلوں میں جانتے ہیں کہ ضرور خدا موجود ہے جس نے ان کو اور تمام زمین و آسمان کو نیست سے ہست کیا۔ مگر اس علم کے باوجود جو ایمان و یقین شرعاً مطلوب ہے اس سے محروم اور بےبہرہ ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 36{ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ۔ } ”کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے بنایا ہے ؟ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔“
چلو اپنی تخلیق کی بحث کو چھوڑو ‘ تم ذرا یہ بتائو کہ زمین و آسمان تم نے بنائے ہیں ؟ اگر تم تسلیم کرتے ہو کہ تم نے نہیں بنائے تو پھر مان کیوں نہیں لیتے کہ خود تمہارا خالق اور تمام مخلوق سمیت پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جو دو اور دو چار کی طرح مسلم ہیں ‘ لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ یقین سے محروم ہیں۔
Read the full tafseer →30 یعنی اگر اس کائنات کے خالق یہ ہیں تو پھر اس میں ان کا تصرف بھی چلنا چاہئے۔ اور آزادانہ زندگی بسر کرنے کے بھی مجاز ہوسکتے تھے۔ لیکن جب خود انہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ کائنات کا خالق اللہ ہے تو پھر یہ اس کے آگے کیوں اکڑنے لگے ہیں ؟ اصل معاملہ یہ ہے کہ یہ لوگ زبانی تو اعتراف کرلیتے ہیں کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے۔ لیکن اس اعتراف کے تقاضوں کو اس لیے پورا نہیں کرتے کہ اپنے اس اعتراف پر خود بھی پورا یقین نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →17۔ اصل یہ ہے کہ ان تینوں شقوں میں سے یہ کسی بھی قائل ومعتقد نہیں لیکن محض جہل اور بےغوری سے توحید کا انکار کئے چلے جاتے ہیں۔ (آیت) ” ام ..... الارض “۔ یعنی کیا یہ کہ خدا کی صفت خالقیت میں خود اپنے کو شریک سمجھتے ہیں۔ اور تعدد صانع عالم کے قائل ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–47
ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔
ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…
Read the full tafseer →ام خلقوا السموات والارض بل لا یوقنون .
یا انہوں نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے بلکہ یہ لوگ (بوجہ جہالت کے توحید پر) یقین نہیں لاتے۔
اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ : یعنی واضح اور قطعی برہان موجود ہے کہ یہ خود آسمان و زمین کے خالق نہیں ہیں بلکہ اللہ نے انکو بھی پیدا کیا اور آسمان و زمین کو بھی ‘ پس لازم تھا کہ یہ ایمان لے آتے لیکن انکو یقین ہی نہیں ہے اگر یقین ہوتا تو اللہ کی عبادت سے اعراض نہ کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(35۔ 36) کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق یا باپ کے خود بخود پیدا ہوگئے یا یہ خود ہی اپنے خالق ہیں یا یہ کہ انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ایسا بھی نہیں بلکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے مگر یہ لوگ پھر بھی رسول اکرم اور قرآن حکیم کی تصدیق نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
(1) ام خلفوا من غیر شیء …: اس سے پہلے تین سوال یہ ثابت کرنے کے لئے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول اور قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے، اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کو ثابتک رنے کی بات کا آغاز فرمایا۔ یعنی محمد ﷺ نے ان کے سامنے جو دعوت پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا خلاق ہے، اس لئے تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ آخر اس پر ان کے بگڑنے کی کیا کوئی معقول وجہ ہے ؟ اگر یہ رب تعالیٰ کو خلاق نہیں مانتے تو بتائیں کہ کیا وہ کسی بنانے والے کے بغیر ہی بن گئے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر بنی ہوئی چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ام خلقوا من غیر شی ام میں میم زائد ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اخلقوا من غیر شیء حضرت ابن عباس نے کہا، کیا ان کے رب کے علاوہ نے انہیں پیدا کیا اور انہیں مقدر کیا ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کیا ماں اور باپ کے علاوہ میں انہیں پیدا کیا گیا تو وہ جماد کی طرح ہیں جو عقل نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی ان کے خلاف کوئی دلیل قائم نہیں وہ ایسے نہیں کیا انہیں نطفہ، عقلہ اور مضغہ سے پیدا نہیں کیا گیا ہے اور انہیں بےمقصد چھوڑ دیا گیا ہے من غیر شیء کا معنی ہے کسی شے کے لئے بھی نہیں۔ یہاں من، لام کے معنی میں ہے۔
ام ھم الخلقون۔ یا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہیں مانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–46
5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔
6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…
Read the full tafseer →اَمْ خَلَقُوا [ یا انہوں نے پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۚ[ آسمانوں اور زمین کو ] بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ [ بلکہ یہ یقین نہیں کرتے ]
Read the full tafseer →﴿ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ 1ۚ﴾ (کیا ان لوگوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے) ۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی انہوں نے ان چیزوں کو پیدا نہیں کیا، ان چیزوں کو بھی اسی نے پیدا فرمایا جس نے ان لوگوں کو پیدا کیا، یہ سب باتیں ظاہر ہیں۔ ﴿ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَؕ0036﴾ (بلکہ ان باتوں کو جانتے اور مانتے ہوئے یقین نہیں کرتے) کفر اور شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
17:۔ ” ام خلقوا۔ تا۔ مرکوم “ زجرات ہیں، مشرکین کو ان کے ضد وعناد پر متنبہ کیا گیا ہے۔ ” من غیر شیء “ ای من اجل لاشیء من العبادۃ والمجازاۃ (مظہری ج 9 ص 99) ۔ کیا انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ انہیں عبادت اور جزاء وسزا کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بالکل ہی بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور اسی وجہ سے نیک کاموں میں انہیں کوئی رغبت نہیں یا وہ خود ہی کو اپنا خالق سمجھتے ہیں ؟ اور اس لیے اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتے۔ ” ام خلقوا السموات الخ “ کیا زمین و آسمان کو خود انہوں نے پیدا کیا ہے اور اس لیے خالق حقیقی کا شکر اور اس کی عبادت نہیں ؟ بل، بلکہ وہ یقین لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لیے دلائل قدرت میں غور و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔
کہانت اور دیوانگی کی نفی
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…
Read the full tafseer →اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ 0 ۚ بَلْ لَّا يُوْقِنُوْنَ 36 ۭ
سما
سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه،
قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ،
( س م و ) سماء
ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔
تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْ ئٍ اَمْ ھُمُ الْخٰلِقُوْنَ ۔ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج بَلْ لاَّ یُوْقِنُوْنَ ۔ (الطور : 35، 36)
(کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔ )
مخالفین سے چند سوالات
قریش اور دیگر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد مخالفین سے چند سوالات کیے گئے کہ اگر وہ آخرت کے منکر ہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر وہ یہ بتائیں کہ وہ بغیر خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا خود ہی اپنے خالق ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بات بھی بتائیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کی بنیادی دعوت اللہ کی توحید پر سچے دل کے ساتھ ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ اہل مکہ کو اس دعوت کے ساتھ ترین اختلاف تھا جس بنا پر نبی ﷺ کو الزام دیتے کہ اس نے اپنی طرف سے قرآن بنالیا ہے۔ اس موقعہ پر اہل مکہ سے اس کے جواب میں پندرہ سوال کیے گئے جن کا جواب دینے میں وہ ناکام رہے لیکن پھر بھی اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔
اہل مکہ کو قرآن اور صاحب قرآن کے ساتھ بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے کیوں روکتا ہے۔ اس لیے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ اس قرآن کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے آپ ﷺ کو کاہن، جادوگر اور شاعر…
Read the full tafseer →آیت 36 : اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (یا انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے) پس اس لئے وہ ان کے خالق کی عبادت نہیں کرتے۔ بَلْ لاَّ یُوْقِنُوْنَ (بلکہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے) یعنی آیات میں غور و فکر نہیں کرتے کہ جس سے اپنے خالق کو اور آسمان و زمین کے خالق کو جان لیتے۔
Read the full tafseer →35 ۔” ام خلقوا من غیر شیئ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بغیر رب کے اور اس کا معنی ہے کیا وہ پیدا کیے گئے ہیں بغیر کسی چیز کے ان کو پیدا ہونا ہے۔ پس وہ بغیر خالق کے پائے گئے ہیں اور یہ وہ چیز ہے جو ممکن نہیں اس لئے کہ خلق کا خالق کے ساتھ تعلق اسم کی ضرورت ہے ہر تخلیق کا خالق ضروری ہے۔ پس اگر وہ خالق کا انکار کرتے ہیں تو یہ ممکن نہیں کہ وہ خود بغیر خالق کے پائے جائیں۔ ” ام ھم الخالقون “ اپنے آپ کے ۔ یہ سخت ترین باطل چیز ہے۔ اس لئے کہ جس چیز کا خود وجود نہ تھا وہ کیسے پیدا کرسکتی ہے۔ پس جب دونوں صورتیں باطل ہوگئیں تو ان پر حجت قائم ہوگئی کہ ان کا خالق ہے۔ پس چاہیے کہ وہ اس پر ایمان لے آئیں۔ اس معنی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…
Read the full tafseer →(اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ) یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ یہ ایسا استفہام ہے جو نفی کے اثبات پر دلالت کرتا ہے یعنی انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا نہیں کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شریک بن جائیں یہ حقیقت بالکل واضح ہے لیکن تکذیب کرنے والے (لایوقنون) یقین نہ کرنے والے لوگ ہیں یعنی یہ جھٹلانے والے علم کامل سے محروم ہیں جو ان کے لیے دلائل شرعی وعقلی سے استفادے کا موجب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →[ 44] منکرین کے عقول و ضمائر سے دوسرا سوال :
سو ایسوں کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑنے کے لئے ان سے دوسرا بڑا اور واضح سوال یہ کیا گیا کہ کیا انہوں نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں، تو اس سب کا خالق اللہ وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور عبادت و بندگی کا حق اس وحدہٗ لاشریک کے سوا اور کسی کو کیونکر ہوسکتا ہے ؟ جس نے خود ان کو بھی پیدا کیا اور ان کے فائدے کیلئے آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں سے پر اور طرح طرح کے فوائد اور عجائب وغرائب سے بھری اس ساری کائنات کو بھی پیدا فرمایا ؟ فلہ الحمد والمنۃ۔ سو اس قادر مطلق کیلئے اس انسان کو اور اس پوری کائنات کو دوبارہ پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–49
نبوت کے منکر عقل سے عاری
تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →ف 14 یعنی نہیں وہ اپنے آپ کو زمین و آسمان کا خلاق نہیں سمجھتے لیکن اس کے باوجود محمد ﷺ کی بات نہیں مان رہے اور کفر و شرکت میں ڈوبے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر یقین نہیں ہے محض ناقابل اعتبار قسم کا شک ہے۔ اگر یقین ہوتا تو ہرگز کفر و شرک میں مبتلا نہ رہتے بلکہ آنحضرت کی بات مان کر اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان لاتے جو اس پر ایمان لانے کا حق ہے۔
Read the full tafseer →(52:36) ام خلقوا السموت والارض۔ استفہام انکاری ہے کہ انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ؟ نہیں یہ بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب تم ان سے پوچھو کہ ان کو کس نے پیدا کیا ہے تو کہہ دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے۔ ولئن سئالتہم من خلقھم : لیقولن اللہ۔ (43:87) اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا۔ تو کہہ دیں گے خدا نے (39:38)
بل : اضراب کے لئے ہے یعنی ماقبل کے ابطال کے لئے اور مابعد کے اقرار کے لئے ۔ یعنی ان کا یہ کہنا باطل اور محض زبانی و کلامی ہے کہ ان کو اور آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا اس پر کوئی یقین ہی نہیں۔
لایوقنون ۔ مضارع منفی جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔
(ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…
Read the full tafseer →[13] یعنی یہ بات تو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا اور ساری دنیا کا خالق اللہ ہے۔ مگر جب ان سے کہا جاتا ہے کہ بندگی بھی صرف اسی کی کرو تو بوجہ جہل اس کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
ف 2: غرض یہ ہے ۔ کہ یہ لوگ اپنے مرتبہ ومقام کو پہچانیں ۔ اور اللہ کے سامنے جھکیں ۔ کیونکہ یہ خودبخود موجود نہیں ہوں گے ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو خلعت وجود بخشا ہے ۔
حل لغات :۔ اخلامھم ۔ حلم کی جمع ہے ۔ بمعنے عقل تقولد ۔ تقویل کے معنے وضع کرنے کے ہیں لسم ۔ سیڑھی ۔
Read the full tafseer →(36) کیا انہوں نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ یقین نہیں لاتے ۔ یعنی کیا یہ زمین و آسمان کے خالق ہیں نہیں یہ بات یعنی نہ یہ اپنے خالق اور نہ آسمان و زمین کے خالق سوائے اللہ تعالیٰ کے پھر یہ سوچتے سمجھتے نہیں کہ خالق کائنات کے لئے الوہیت اور توحید لازم ہے بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور یقین نہیں کرتے آگے پھر رسالت کے متعلق ان کے چند مزعومات باطلہ کا ردفرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ یقین نہیں کرتے
36 ؎ قرآن کریم میں آپ پیچھے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ کفار مکہ سے جب بھی پوچھا گیا کہ بتائو اس آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے۔ اس طرح جب بھی ان سے پوچھا گیا کہ تمہارا خالق کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا اللہ ! جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کائنات کا نظام کون چلا رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اللہ۔ اس کی مکمل وضاحت غزوہ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة العنکبوت آیت 61 ‘ 63 پھر سورة لقمان کی آیت 25 میں پھر سورة الزمر کی آیت 8 میں اور پھر سورة الزخرف کی آیت 9 میں اور 87 میں گزر چکی ہے اور ہر بار پہلے ان سے سوال کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →28 The questions asked before this were meant to make the disbelievers of Makkah realize that whatever they were saying to belie the Prophet Muhammad's claim to prophet hood was highly irrational. Now in this verse the question put before them is: "What is that in the message of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace) which you find so embarrassing for yourselves? He just says that Allah is your Creator and you should only serve Him. Why are you annoyed at it? Are you your own creators? Or, has this vast Universe been created by you? If neither of these is true, and you admit that…
Read the full tafseer →