At-Tur 52:35

At-Tur · from ayah 35

52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ ۟ؕاَمۡ خُلِقُوۡا مِنۡ غَيۡرِ شَىۡءٍ اَمۡ هُمُ الۡخٰلِقُوۡنَؕ

کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or were they created by nothing, or were they the creators [of themselves]?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:35

کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں۔ یا یہ خود (اپنے تئیں) پیدا کرنے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ بغیر کسی (پیدا کرنے والے) کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں؟ یا یہ خود پیدا کرنے والے ہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا یہ لوگ بغیر کسی کے آپ سے آپ پیدا ہوگئے، یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا وہ کسی اصل سے نہ بنائے گئے یا وہی بنانے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ کسی شے کے بغیر ہی پیدا کر دیئے گئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا وہ کسی چیز کے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں، یا وہ (خود) پیدا کرنے والے ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا کیا وہ بغیر کسی چیز کے خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ بغیر کسی خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق کے یونہی از خود پیدا ہوگئے ؟ یا یہ خود ہی خالق ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا یہ لوگ بغیر کسی کے (پیدا کئے) پیدا ہوگئے یا یہ خود (اپنے) خالق ہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بن گئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ کسی کے پیدا کئے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے خود کو خود ہی پیدا کرلیا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Did they come into being without any creator? Or were they their own creators?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it that they are created by none, or are they themselves the creators?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it that they are created by none, or are they themselves the creators?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or were they created by nothing Or were they themselves the creators

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or were they created out of naught? Or are they the creators?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or were they created by nothing, or were they the creators [of themselves]?

— Saheeh International

Have they been created from nothing or are they themselves their own creators?

— Muhammad Sarwar

Or were they created without there being anything, or are they the creators?

— Muhammad Habib Shakir

Have they not been created by aught, or are they the creators?

— Abdul Majid Daryabadi

Were they created of nothing, or were they themselves the creators?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 35–43

توحید ربوبیت اور الوہیت توحید ربوبیت اور توحید الوہیت کا ثبوت دیا جا رہا ہے فرماتا ہے کیا یہ بغیر موجد کے موجود ہوگئے ؟ یا یہ خود اپنے موجد آپ ہی ہیں ؟ دراصل دونوں باتیں نہیں بلکہ ان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے یہ کچھ نہ تھے اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا۔ حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں نبی ﷺ مغرب کی نماز میں سورة والطور کی تلاوت کر رہے تھے میں کان لگائے سن رہا تھا جب آپ آیت (اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَاۗىِٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜيْطِرُوْنَ 37؀ۭ) 52۔ الطور :37) تک پہنچے تو میری حالت ہوگئی کہ گویا میرا دل اڑا جا رہا ہے (بخاری) بدری قیدیوں میں ہی یہ جبیر آئے تھے یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب یہ کافر تھے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 34–35

سورة الطُّوْر 27 یعنی بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ محمد ﷺ کا کلام نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سرے سے انسانی کلام ہی نہیں ہے اور یہ بات انسان کی قدرت سے باہر ہے کہ ایسا کلام تصنیف کرسکے۔ اگر تم اسے انسانی کلام کہتے ہو تو اس پائے کا کوئی کلام لا کر دکھاؤ جسے کسی انسان نے تصنیف کیا ہو۔ یہ چیلنج نہ صرف قریش کو، بلکہ تمام دنیا کے منکرین کو سب سے پہلے اس آیت میں دیا گیا تھا۔ اس کے بعد تین مرتبہ مکہ معظمہ میں اور پھر آخری بار مدینہ منورہ میں اسے دہرایا گیا (ملاحظہ ہو یونس، آیت 38۔ ہود، 13، بنی اسرائیل، 88۔ البقرہ، 23)۔ مگر کوئی اس کا جواب دینے کی نہ اس وقت ہمت کرسکا نہ اس کے بعد آج تک کسی کی یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 35–36

(امر خلقوا من غیر شی ام ھم الخلقون ام خلقوا السموات والارض بل لا یوقنون (35۔ 36) (معترنین سے چند سوالات)۔ مکذبین کے اعتراضات و اتہامات کے جواب دینے کے بعد اب یہ ان سے چند سوالات کیے گئے ہیں۔ کہ اگر وہ عذاب اور آخرت کے منکر ہیں تو یہ بتائیں کہ کیا وہ بغیر خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا خود ہی اپنے خالق ہیں ؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ یہ امر واضح رہے کہ مشرکین عرب اپنا اور تمام آسمان و زمین کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ وہ اپنے مزعومہ شرکاء میں سے کسی کو کسی چیز کا خالق نہیں مانتے تھے۔ یہ سوال قرآن نے ان کے سامنے رکھ کے گویا ان سے یہ پوچھا ہے کہ جب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35۔ 1 یعنی اگر واقعی ایسا ہے تو پھر کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ انہیں کسی بات کا حکم دے یا کسی بات سے منع کرے۔ لیکن جب ایسا نہیں ہے بلکہ انہیں ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے تو ظاہر ہے اس کا انہیں پیدا کرنے کا ایک خاص مقصد ہے، وہ انہیں پیدا کر کے یوں کس طرح چھوڑ دے گا۔ 35۔ 2 یعنی یہ خود بھی اپنے خالق نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ کے خالق ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 35–37

9: مکہ مکرمہ کے کافر لوگ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیجنا ہی تھا تو مکہ مکرمہ یا طائف کے کسی بڑے سردار کو پیغمبر کیوں نہیں بنایا گیا ؟ (دیکھئے سورة زخرف 43۔ 31) اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے، جن میں کسی کو پیغمبر بنانے کا اختیار بھی شامل ہے، ان کی خواہشات کے تابع ہیں کہ وہ جسے چاہیں اسے پیغمبر بنادیا جائے ؟۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام خلقوا ........ الخلقون (25 : 53) ” کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں “ ان کا وجود کسی چیز کے بغیر اسی طرح ہونا فطرت کی منطق کے خلاف ہے اور اس نکتے پر کسی قلیل یا کثیر جدل وجدال کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بات کہ یہ خود اپنے آپ کے خالق ہیں تو اس کا کوئی قائل نہ تھا نہ وہ لوگ اس کے قائل تھے اگر یہ دونوں باتیں فطری استدلال کے خلاف ہیں تو پھر تیسری صورت وہی رہ جاتی ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے کہ یہ سب اللہ کی مخلوق ہیں اور اس تخلیق میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ لہٰذا ربوبیت ، عبادت اور اطاعت میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے۔ یہ نہایت سادہ اور فطری حقیقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 35–36

2 یعنی پیغمبر خدا کی بات کیوں نہیں مانتے۔ کیا ان کے اوپر کوئی خدا نہیں جس کی بات ماننا ان کے ذمہ لازم ہو۔ کیا بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا خود اپنے آپ کو خدا سمجھتے ہیں ؟ یا یہ خیال ہے کہ آسمان و زمین ان کے بنائے ہوئے ہیں لہذا اس قلم رو میں جو چاہیں کرتے پھریں، کوئی ان کو روکنے ٹوکنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ سب خیالات باطل اور مہمل ہیں۔ وہ بھی دلوں میں جانتے ہیں کہ ضرور خدا موجود ہے جس نے ان کو اور تمام زمین و آسمان کو نیست سے ہست کیا۔ مگر اس علم کے باوجود جو ایمان و یقین شرعاً مطلوب ہے اس سے محروم اور بےبہرہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 35{ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ۔ } ”کیا یہ بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بن گئے ہیں یا یہ خود ہی خالق ہیں ؟“ یہ فلسفے کا بہت گہرا مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے کوئی شے بغیر کسی کے بنائے ہوئے خود بخود تو بنتی نہیں ہے۔ چناچہ کسی بھی چیز کی تخلیق کے حوالے سے دو ہی صورتیں ممکن ہیں ‘ یعنی یا تو اس چیز کو کسی نے تخلیق کیا ہے یا اس چیز نے اپنے آپ کو خود تخلیق کیا ہے۔ چناچہ یہ منطقی سوال ان کے سامنے رکھا گیا کہ اگر تم اس حقیقت سے آگاہ ہو کہ تم نے خود اپنے آپ کو تخلیق نہیں کیا تو پھر خود بخود ثابت ہوجاتا ہے کہ کسی دوسری ہستی نے تمہیں پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ وہ ہستی اللہ تعالیٰ ہی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

28 دہریت ونیچریت کا رد : یعنی اتفاقات کے نتیجہ میں پیدا ہوگئے ہیں جیسا کہ دہری اور نیچری حضرات کا خیال ہے اور ان کا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ؟ یہ خیال اس لیے باطل ہے کہ یہ ایک ایسے بدیہی امر کے خلاف ہے جس کی دلیل یا ثبوت کی ضرورت کوئی بھی نہیں سمجھتا اور وہ بدیہی امر یہ ہے کہ ہر بنی ہوئی چیز کا کوئی بنانے والا ضرور ہوتا ہے از خود نہیں بن جاتی۔ 29 یعنی وہ خود ہی اپنے خالق ہیں۔ سابقہ آیت سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ان کی پیدائش میں ان کا اپنا کچھ عمل دخل نہیں تھا۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ یہ اپنے ہی عمل دخل اور ارادہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور یہ خیال بھی ایک بدیہی امر کے خلاف ہے جو یہ ہے کہ کوئی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16۔ یعنی کیا یہ اس کے قائل ہیں کہ یہ محتاج تو کسی خالق کے ہیں لیکن وہ خالق خود آپ ہی ہیں۔ مشرک فلاسفہ کا ایک مذہب یہ بھی ہوا ہے کہ عالم محتاج تو ایک خالق کا ہے لیکن وہ خالق کوئی غیر نہیں بلکہ نفس عالم ہی ہے، اس مذہب الحاد کے جواب میں اتنا ہی کافی ہے کہ علت ومعلول ایک ہی جہت سے ایک ذات میں جمع ہو نہیں سکتے۔ (آیت) ” ام خلقوا من غیر شیء “۔ یعنی کیا یہ اس کے قائل ہیں کہ عالم اپنے وجود میں کسی کی تخلیق کا محتاج نہیں بلکہ خود بخود قائم ہے ؟ یہ مذہب خالص اور غالی اہل دہریت کا ہوا ہے اور اس کے جواب میں اسی قدر کافی ہے کہ ممکنات کے پہلوئے وجود کو ترجیح ہو نہیں سکتی جب تک کوئی مرجح نہ موجود ہو اور وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام خلقوا من غیر شیء ام ھم الخالقون کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق کے خودبخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں مِنْ غَیْرِ شَیْ ءٍ : حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مراد یہ ہے کہ کیا بغیر ربِّ خالق کے یہ پیدا ہوگئے ‘ ایسا ناممکن ہے کیونکہ حادث جو پہلے معدوم تھا ‘ اس کا وجود بغیر موجد کے ہو نہیں سکتا۔ بعض اہل علم نے من شی ءٍ کا ترجمہ کیا : ” بےوجہ “۔ یعنی عبادت پر مامور کرنے کے بغیر اور بلا سزا جزا کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کردیا گیا ہے کہ نہ ان پر احکام تشریعی جاری ہوں گے ‘ نہ اعمال کا اچھا برا بدلہ آخرت میں دیا جائے گا۔ ابن کیسان اور زجاج نے یہی مطلب بیان کیا ہے۔ اَمْ ھُمُ الْخٰلِقُوْنَ : یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 35–36

(35۔ 36) کیا یہ لوگ بغیر کسی خالق یا باپ کے خود بخود پیدا ہوگئے یا یہ خود ہی اپنے خالق ہیں یا یہ کہ انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ایسا بھی نہیں بلکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے مگر یہ لوگ پھر بھی رسول اکرم اور قرآن حکیم کی تصدیق نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 35–36

(1) ام خلفوا من غیر شیء …: اس سے پہلے تین سوال یہ ثابت کرنے کے لئے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول اور قرآن اللہ کی سچی کتاب ہے، اب یہاں سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور قدرت کاملہ کو ثابتک رنے کی بات کا آغاز فرمایا۔ یعنی محمد ﷺ نے ان کے سامنے جو دعوت پیش کی ہے وہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارا خلاق ہے، اس لئے تمہیں اسی کی عبادت کرنی چاہیے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا چاہیے۔ آخر اس پر ان کے بگڑنے کی کیا کوئی معقول وجہ ہے ؟ اگر یہ رب تعالیٰ کو خلاق نہیں مانتے تو بتائیں کہ کیا وہ کسی بنانے والے کے بغیر ہی بن گئے ہیں ؟ ظاہر ہے یہ ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر بنی ہوئی چیز…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 35–36

ام خلقوا من غیر شی ام میں میم زائد ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے اخلقوا من غیر شیء حضرت ابن عباس نے کہا، کیا ان کے رب کے علاوہ نے انہیں پیدا کیا اور انہیں مقدر کیا ۔ ایک قول یہ کیا گیا : کیا ماں اور باپ کے علاوہ میں انہیں پیدا کیا گیا تو وہ جماد کی طرح ہیں جو عقل نہیں رکھتے اور اللہ تعالیٰ کی ان کے خلاف کوئی دلیل قائم نہیں وہ ایسے نہیں کیا انہیں نطفہ، عقلہ اور مضغہ سے پیدا نہیں کیا گیا ہے اور انہیں بےمقصد چھوڑ دیا گیا ہے من غیر شیء کا معنی ہے کسی شے کے لئے بھی نہیں۔ یہاں من، لام کے معنی میں ہے۔ ام ھم الخلقون۔ یا وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہیں مانیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ خُلِقُوْا [ یا یہ لوگ پیدا کیے گئے ] مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ [کسی چیز (نطفہ ) کے بغیر ] اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ [ یا یہ لوگ ہی پیدا کرنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا ﴿ اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ0035﴾ (کیا یہ لوگ یوں ہی بغیر خالق کے پیدا کردیئے گئے ہیں) ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے انہیں خود اقرار ہے کہ ہمارا خالق ہے اور ہم مخلوق ہیں اگر یوں کہیں کہ ہمارا کوئی خالق نہیں تو پھر بتائیں یہ کیسے پیدا ہوئے کیا انہوں نے اپنی جانوں کو خود پیدا کرلیا، ظاہر ہے کہ ایسا بھی نہیں ہے کیونکہ جو شخص موجود نہ ہو نہ اپنی ذات کو پیدا کرسکتا ہے نہ اور کسی کو، جب مخلوق ہیں تو اپنے خالق پر ایمان بھی لائیں اس کی توحید کا بھی اقرار کریں اور اس پر ایمان بھی لائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 35–36

17:۔ ” ام خلقوا۔ تا۔ مرکوم “ زجرات ہیں، مشرکین کو ان کے ضد وعناد پر متنبہ کیا گیا ہے۔ ” من غیر شیء “ ای من اجل لاشیء من العبادۃ والمجازاۃ (مظہری ج 9 ص 99) ۔ کیا انہوں نے سمجھ رکھا ہے کہ انہیں عبادت اور جزاء وسزا کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بالکل ہی بےمقصد پیدا کیا گیا ہے ؟ اور اسی وجہ سے نیک کاموں میں انہیں کوئی رغبت نہیں یا وہ خود ہی کو اپنا خالق سمجھتے ہیں ؟ اور اس لیے اپنے خالق کا حق نہیں پہچانتے۔ ” ام خلقوا السموات الخ “ کیا زمین و آسمان کو خود انہوں نے پیدا کیا ہے اور اس لیے خالق حقیقی کا شکر اور اس کی عبادت نہیں ؟ بل، بلکہ وہ یقین لانا چاہتے ہی نہیں۔ اس لیے دلائل قدرت میں غور و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ۝ 35 ۭ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔ تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 35–36

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْ ئٍ اَمْ ھُمُ الْخٰلِقُوْنَ ۔ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج بَلْ لاَّ یُوْقِنُوْنَ ۔ (الطور : 35، 36) (کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ یا انھوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے۔ ) مخالفین سے چند سوالات قریش اور دیگر مخالفین کے اعتراضات کا جواب دینے کے بعد مخالفین سے چند سوالات کیے گئے کہ اگر وہ آخرت کے منکر ہیں اور آنحضرت ﷺ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر وہ یہ بتائیں کہ وہ بغیر خالق ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا خود ہی اپنے خالق ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ بات بھی بتائیں کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 33–35

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کا چوتھا الزام اور اس کا جواب۔ فہم القرآن میں یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ جب انسان ضد اور تکبر کا شکار ہوجاتا ہے تو اسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ اپنے مخالف کے بارے میں کیا کیا ہرزہ سرائی کررہا ہے۔ یہی حالت اہل مکہ کی تھی۔ ایک طرف آپ کو مجنون کہتے اور دوسری طرف یہ الزام دیتے تھے کہ آپ اپنی طرف سے قرآن بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسے اللہ کا کلام قرار دیتے ہیں۔ ان کا قرآن اور نبی کی ذات پر ایمان نہیں تھا اس لیے انہیں اور پوری دنیا کے جنوں اور انسانوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم بھی ایسا کلام بنا لاؤ اگر تم اپنے الزام میں سچے ہو۔ کیونکہ نبی بھی انسان ہے اور تم بھی انسان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 35 : اَمْ خُلِقُوْا (کیا یہ لوگ پیدا کیے گئے) کیا ان کو پیدا کیا گیا اور ان کا اندازہ اس فطرت کے مطابق لگایا گیا جس پر یہ ہیں۔ بلا مقصد : مِنْ غَیْرِ شَیْئٍ (کسی خالق کے بغیر خود بخود) کسی اندازہ کرنے والے کے بغیر اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ (یا یہ خود اپنے خالق ہیں) یا یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے اپنے کو اس طرح پیدا کیا کہ وہ خالق کی عبادت نہ کریں گے۔ ایک قول یہ ہے کہ بلا خالق بنایا : کیا ان کو بغیر جزاء وسزا کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کیا گیا۔ کیا وہ خود خالق ہیں کہ حکم پر چلنے کو تیار نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

34 ۔” پھر ان پر حجت لازم کرتے ہوئے فرمایا : ” فلیاتوا بحدیث مثلہ “ یعنی قرآن کی مثل اس کی ترتیب اور حسن بیان میں ” ان کانوا صادقین “ کہ محمد ﷺ اس کو اپنی طرف سے کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 35–43

35۔ 43۔ قد افلح المومنون میں گزر چکا ہے کہ مشرک لوگ اللہ کے خالق اور رزاق ہونے کے قائل تھے صرف اللہ کی توحید میں ان لوگوں نے فتور ڈال رکھا تھا۔ اس لئے اللہ کے خالق اور رازق ہونے میں جتنی آیتیں قرآن شریف میں ہیں سب استفسار کے طور پر ہیں۔ مثلاً ھل من خالق غیر اللہ وغیرہ۔ یہ استفسار ایسی جگہ پر ہوتا ہے جہاں کسی واقف کار آدمی سے اس کے قائل کرنے کے لئے پوچھا جائے کہ کیا تم کو معلوم نہیں کہ یہ بات یوں ہے۔ ان آیتوں میں اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ اگرچہ اللہ کے خالق و رازق ہونے کے قائل ہیں مگر جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَ ) کیا یہ کسی کے پیدا کیے بغیر ہی پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خوداپنے آپ کو پیدا کرنے والے ہیں ؟ یہ ان کے سامنے ایک ایسی چیز کے ذریعے سے استدلال ہے جس میں حق کو تسلیم کیے بغیر ان کے لیے کوئی چارہ کار نہیں یا اس سے ان کا عقل ودین کی موجبات سے نکلنا ثابت ہوجائے گا اس کی توضیح یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے ہیں اور نبی اء ورسل کو جھٹلاتے ہیں اور یہ اس حقیقت کے انکار کو مستلزم ہے کہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے شریعت کے ساتھ ساتھ عقل میں بھی یہ چیز متحقق ہے کہ ان کی تخلیق تین امور میں سے کسی ایک سے خالی نہیں۔ 1۔ ان کو کسی چیز کے بغیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–35

[ 42] منکرین و مکذبین کو قرآن کا صاف وصریح چیلنج : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لا دکھائیں یہ لوگ اس جیسا کوئی کلام اگر یہ سچے ہیں اپنے الزام و اتہام میں، کہ ان کے پاس اسکے باعث و دواعی پورے موجود ہیں، کہ یہ شاعر اور ادیب وبلیغ بھی ہیں، بلکہ اپنی فصاحت و بلاغت پر ان کو بڑا فخر و ناز ہے، اور یہ حق کے مقابلے میں پوری طرح سینہ سپر اور اس کے خلاف کمربستہ بھی ہیں، جب کہ محمد عربی [ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ] نے نہ دنیا میں کبھی کسی سے پڑھا نہ سیکھا، اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے شعر گوئی فرمائی، نہ شعر گوئی سے آپ ﷺ کو کوئی مناسبت ہی تھی، اور نہ ہی کبھی آپ ﷺ نے اپنی فصاحت و بلاغت کا کوئی دعویٰ ہی کیا، تو اس سب کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 اس لئے محمد ﷺ کی بات نہیں مانتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے معامیل میں خود مختار ہیں جو چاہیں کرتے پھریں ؟ ‘

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:35) ام خلقوا من غیر شیئ۔ ام استفہام انکاری کے لئے آیا ہے ۔ خلقوا ماضٰ مجہول جمع ذکر غائب خلق (باب نصر) مصدر کیا وہ پیدا کئے گئے ۔ کیا وہ بنائے گئے۔ من غیر شیئ۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) بغیر کسی خالق کے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ :۔ مراد اس سے یہ ہے کہ کیا بغیر رب خالق کے یہ پیدا ہوگئے۔ ایسا ناممکن ہے کیونکہ حادث جو پہلے معدوم تھا بغیر محدث (یعنی پیدا کرنے والے کے) پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ (2) وہ بغیر کسی وجہ کے پیدا کئے گئے ہیں یعنی عبادت پر مامور کئے جانے کے بغیر اور بلا سزا و جزاء کے مقصد کے یونہی بیکار پیدا کیا گیا ہے۔ کہ ان پر احکام شرعی نافذ نہ ہوں نہ ان کو اعمال کا اچھا یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 35–43

حضور ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا انجام۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ یہ کافر لوگ جب اللہ کے حکم کو نہیں مانتے تو ان کی سرکشی تو یہ جتلاتی ہے کہ یا تو یہ لوگ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کرلیا ہے یہ لوگ دنیا میں بڑے عقل مند کہلاتے ہیں ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کوئی کام بغیر کسی کام کے کرنے والے کے نہیں ہوسکتا، پھر یہ خود بخود کیونکر پیدا ہوگئے اسی طرح پیدا ہونے سے پہلے یہ لوگ بالکل معدوم تھے پھر معدوم شخص اپنے آپ کو کیونکر موجود کرسکتا ہے جب یہ دونوں باتیں عقل کے خلاف ہیں تو اللہ کے رسول بھی تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ جو تمہارا خالق و رازق ہے اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–35

[12] یعنی ان کی عقل و دانش نے جس پر انہیں ناز ہے یہ سکھلایا ہے کہ ایک انتہائی صادق، امین، عاقل و فرزانہ اور سچے پیغمبر کو شاعر، کاہن اور دیوانہ کہہ کر نظرانداز کردیا جائے۔ پھر اگر عقل کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے۔ بہت سے متضاد حکم کیسے لگاتے ہیں ؟ آخر ایک شخص بیک وقت شاعر، کاہن اور دیوانہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دل میں سمجھتے سب کچھ ہیں مگر محض سرکشی اور شرارت سے باتیں بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 34–35

ف 1: فرمایا : کہ آپ ان لوگوں کے الزامات کی پرواہ نہ کیجئے ۔ اور برابر ان کو اللہ کا پیغام سناتے رہیے ۔ نہ آپ کاہن ہیں ۔ نہ مجنون ۔ آپ کی دماغی قابلیتوں کا اندازہ یہ لوگ نہیں کرسکتے ۔ نہ یہ کہ آپ شاعر ہیں ۔ اگر یہ لوگ زمانہ کے حوادث کے منتظر ہیں ۔ تو بات درست ہے ۔ ان سے کہیے ۔ کہ میں بھی منتظر ہوں ۔ اور ان سے پوچھئے ۔ کہ یہ متضاد باتیں آپ کی طرف کیوں منسوب کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ یہ کہانت جانتا ہے ۔ جس کے لئے ذہانت کی ضرورت ہے ۔ اور کبھی خلل دماغ کا طعنہ دیتے ہیں ۔ اور یہ دونوں باتیں متناقص ہیں ۔ کیا ان کی عقلوں کا یہ فتویٰ ہے ۔ یا محض شرارت ان لوگوں سے کہیئے کہ اگر ان کو قرآن کے کلام الٰہی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(35) کیا یہ بغیر کسی پیدا کرنے والے کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا یہ خود اپنے خالق ہیں۔ یعنی بغیر خالق کے پیدا نہیں ہوئے اور خود یہ اپنے خالق نہیں ورنہ تحصیل حاصل ہوگا پھر کیوں خالق کی یعنی واحدنیت پر ایمان نہیں لاتے۔ اس آیت میں کئی شکلیں بن سکتی ہیں مگر ہم نے محض استفہام انکار کی تقری کردی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–39

ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ بغیر کسی کے پیدا کرنے ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں 35 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا حق بندہ پر کیا ہے ؟ یہی کہ وہ اس کی عبادت کرے اس طرح کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن وہ اس کی عبادت اسی وقت کرسکتا ہے جب اس کو یقین آئے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا خالق ومالک ہے اور مکہ والے باوجود زبانی اقرار کرنے کے عملی طور پر اس بات سے انکاری تھے جب نبی اعظم و آخر ﷺ انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے تو وہ ازراہ غرور آپ ﷺ کے اس فرمان کو پس پشت ڈال دیا کرتے۔ ان کے اس طرز عمل کے بارے میں ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وہ بغیر کسی خالق کے خود بخود ہی پیدا ہوگئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–36

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said: "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 34–35

27 That is, `Not only is the Qur'an not the word of Muhammad (upon whom be Allah's peace and bessings) but the truth' is that it is not human at all; it is beyond the power of man to compose and produce it. If you think it is human, you are challenged to produce the like of it, which should also be human. " This challenge had been given not only to the Quraish but to all the disbelievers of the world first of all in this verse. Then it was repeated thrice in Makkah and then finally in Madinah. (Please see Yunus: 38, Hud: 13, Bani Isra'il: 88, Al-Baqarah: 23). But no one could dare meet this…

Read the full tafseer →