At-Tur 52:32

At-Tur · from ayah 32

52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ۟ۚاَمۡ تَاۡمُرُهُمۡ اَحۡلَامُهُمۡ بِهٰذَآ‌ اَمۡ هُمۡ قَوۡمٌ طَاغُوۡنَ‌ۚ

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do their minds command them to [say] this, or are they a transgressing people?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:32

کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں۔ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں؟ یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی کچھ کرنے کو کہتی ہیں، یا وہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا ان کی عقلیں انہیں یہی بتاتی ہیں یا وہ سرکش لوگ ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا اُن کی عقلیں انہیں یہ (بے عقلی کی باتیں) سُجھاتی ہیں یا وہ سرکش و باغی لوگ ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا انھیں ان کی عقلیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا وہ خود ہی حد سے گزرنے والے لوگ ہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا ان کی عقلیں ہی انہیں ایسی باتیں کرنے کا حکم دیتی ہیں یا پھر یہ لوگ ہیں ہی سرکش۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا ان کی عقلیں یہی باتیں ان کو سمجھاتی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان کی عقلیں ان کو ایسی باتیں سکھاتی ہیں یا یہ حد سے گزرنے والے لوگ ہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان کی عقلیں انہیں باتوں کی تعلیم کرتی ہیں یا یہ ہے کہ یہ ہیں ہی شریر لوگ ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھا رہی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں ؟ بلکہ یہ لوگ ہیں ہی شریر

— محترمہ رفعت اعجاز

Do their minds prompt them to say such things, or are they a people immersed in transgression?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it their intellects that direct them to (say) this, or are they a rebellious people?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it their intellects that direct them to (say) this, or are they a rebellious people?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or do their minds command them this or are they people transgressing all bounds

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Do their minds command them to do this, or are they an outrageous folk?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do their minds command them to [say] this, or are they a transgressing people?

— Saheeh International

Does their reason tell them to say this or is it because they are a rebellious people?

— Muhammad Sarwar

Nay! do their understandings bid them this? Or are they an inordinate people?

— Muhammad Habib Shakir

Enjoin them their understandings to this? or are they a people conumacious?

— Abdul Majid Daryabadi

Is it that their faculties of understanding urge them to this, or are they but a people transgressing beyond bounds?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:32

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–34

کاہن کی پہچان اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے کاہن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہوجائے گا پھر اپنے نبی ﷺ کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 25 ان دو فقروں میں مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر انہیں بالکل بےنقاب کردیا گیا ہے۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے سردار اور مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں، مگر کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو، جسے ساری قوم ایک دانا آدمی کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو، اور جس شخص کا کہانت سے کوئی دور دراز کا تعلق بھی نہیں ہے اسے خواہ مخواہ کاہن قرار دو۔ پھر اگر عقل کی بنا پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے۔ بہت سے متضاد حکم تو ایک ساتھ نہیں لگا سکتے تھے۔ ایک شخص آخر بیک وقت شاعر ہے تو کاہن نہیں ہو سکتا، کیونکہ شعر کی زبان اور اس کے موضوعات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(امرتا مرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاعون) (32) (مخالفین کی مخالفت کا اصل سبب ان کی سرکشی ہے) یعنی معاملہ دو شکلوں سے خالی نہیں یا فی الواقع ان کی عقلیں ہی کچھ ان کو سمجھا رہی ہیں کہ تم اللہ کے رسول نہیں بلکہ ایک کاہن، مجنوں اور شاعر ہو یا یہ بات ہے کہ یہ لوگ اپنی سر کشی کے باعث تمہاری بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اس وجہ سے تکذیب کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پہلی بات کا امکان تو بہت بعید ہے۔ آخر کوئی عاقل تمہارے جیسے صداقت شعار، راست باز، قل، فرزانہ، متین، زرین، مومن، مسلم، حنیف اور حکیم کو کاہن، مجنوں اور شاعر کس طرح قرار دے سکتا ہے ! اگر کوئی یہ جسارت کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

32۔ 1 یعنی یہ تیرے بارے میں جو اناپ شناپ جھوٹ اور غلط سلط باتیں کرتے رہتے ہیں، کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سجھاتی ہیں۔ 32۔ 2 نہیں بلکہ یہ سرکش اور گمراہ لوگ ہیں، اور یہی سرکشی اور گمراہی انہیں ان باتوں پر بڑھکاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–32

7: یعنی یہ لوگ تو بڑے عقل کے دعوے دار ہیں، کیا ان عقلوں کا یہی حال ہے کہ انہیں بالکل سامنے کی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں، اور وہ اس قسم کی بےہودہ باتیں کرتے رہتے ہیں ؟ یا پھر حق بات ان کی عقل میں تو آجاتی ہے لیکن اپنی سرکشی کی وجہ سے اسے مانتے نہیں ہیں ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام تامرھم ........ طاغون (25 : 23) ” کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یادراصل یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں “ پہلے سوال میں مزاح ہے اور دوسرے سوال میں ایک ذلیل حرکت کا الزام ہے اور ان لوگوں کا جو موقف ہے اس پر ان میں سے کوئی ایک بات چسپاں ہے۔ رسول اللہ کے بارے میں ان کی زبانیں اس قدر دراز تھیں کہ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ آپ یہ کلام اپنی جانب سے بناتے ہیں۔ اس پر بھی ایک سوال کیا جاتا ہے جو ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ اگر وہ ایسا کہتے ہیں تو یہ ان کو نہیں کہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی پیغمبر کو مجنون کہہ کر گویا اپنے کو بڑا عقلمند ثابت کرتے ہیں۔ کیا ان کی عقل و دانش نے یہ ہی سکھلایا ہے کہ ایک انتہائی صادق، امین، عاقل و فرزانہ اور سچے پیغمبر کو شاعر یا کاہن یا دیوانہ قرار دے کر نظر انداز کردیا جائے۔ اگر شاعروں اور پیغمبروں کے کلام میں تمیز بھی نہیں کرسکتے تو کیسے عقلمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دل میں سمجھتے سب کچھ ہیں مگر محض شرارت اور کجروی سے باتیں بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 32{ اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ بِہٰذَآ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۔ } ”کیا ان کی عقلیں انہیں یہی کچھ سکھا رہی ہیں یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ ؟“ مشرکین کے ایمان نہ لانے کی یہ دو ہی ممکنہ وجوہات تھیں۔ یا تو واقعتا انہیں بات سمجھ نہیں آرہی تھی اور ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی تھیں کہ محمد ﷺ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ محض شاعری اور ان کا من گھڑت کلام ہے۔ دوسرا امکان یہ تھا کہ بات ان کی سمجھ میں بھی آتی تھی اور ان کے دل گواہی بھی دیتے تھے کہ یہ سب کچھ درست ہے مگر وہ اپنی سرکشی ‘ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار پر جمے رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں یہ ساری…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

25 قریش مکہ کا حقیقت حال سے پوری طرح واقف ہونا :۔ آپ کی زندگی بھر کی پاکیزہ سیرت اور کردار ان کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ لہذا وہ جو کچھ الزامات آپ پر لگا رہے ہیں خود ان کی عقلیں ان چیزوں کو تسلیم کرنے سے ابا کرتی ہیں۔ چناچہ سرداران قریش اپنی نجی محفلوں میں متعدد بار اس بات کا اعتراف کرچکے تھے کہ آپ نہ شاعر ہیں نہ کاہن ہیں، نہ جادوگر ہیں اور نہ دیوانہ ہیں۔ وہ دل سے یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ آپ واقعی اللہ کے رسول اور قرآن واقعی اللہ کا کلام ہے لیکن اگر وہ اس بات کا اعتراف کرلیتے تو خود مرتے تھے۔ ان کی سرداریاں ختم ہوتی تھیں اور انہیں رسول کا تابع فرمان بن کر رہنا پڑتا تھا اور یہ باتیں انہیں کسی قیمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ (جو محض شرارت، ضد وخباثت سے ایسے نتائج پر مصر ہیں۔ ) (آیت) ” ام ..... بھذا سرداران قریش اپنی عقل وتدبیر ودور اندیشی کے لحاظ سے دور دور مشہور تھے۔ قرآن مجید کی تعریض ہے کہ کیا یہی ان کی عقلیں ہیں ؟ جو عقل انہیں ان نتائج پر لارہی ہے، اسی عقل پر انہیں ناز ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–47

ام تامرھم احلامھم بھذا ام ھم قوم طاغون کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عناد حد سے گذرے ہوئے لوگ ہیں۔ ان دو فقروں نے مخالفین کے سارے پروپیگنڈے کی ہوا نکال کر رکھ دی اور ان کو بالکل بےنقاب کردیا، استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ قریش کے پیرو مشائخ بڑے عقلمند بنے پھرتے ہیں کیا ان کی عقل یہی کہتی ہے کہ جو شخص شاعر نہیں ہے اسے شاعر کہو اور جسے پوری قوم دانا کی حیثیت سے جانتی ہے اسے مجنون کہو اور جسے ہانت سے دور کا بھی تعلق نہیں اسے خواہ مخواہ کہو، پھر اگر عقل ہی کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے بہت سے متضاد حکم یا تو عقل سے محروم اور بےبصیرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام تامرھم احلامھم بھٰذا ام ھم قوم طاغون . کیا انکی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں یا یہ شریر لوگ ہی ہیں آخر بدر کے دن اللہ کا عذاب کافروں پر بصورت قتل آگیا۔ اَمْ تَاْمُرُھُمْ اِحْلَامُھُمْ : کیا ان کی عقلیں ان متضاد اقوال کا حکم دے رہی ہیں ‘ کاہن تو بڑا زیرک اور دقیق النظر ہوتا ہے اور مجنون بےعقل ‘ خبط الحواس اور شاعر وہ ہوتا ہے جس کا کلام بلیغ ‘ موزوں اور تخیل کا حامل ہوتا ہے اور مجنون کے کلام میں نہ وزن ہوتا ہے ‘ نہ بلاغت ‘ نہ خیال کی پرواز۔ قریش کے بڑے لوگ بہت دانش مند مانے جاتے تھے۔ اللہ نے فرمایا : ان کو تو زیرک (دانا) اور پاگل میں بھی امتیاز نہیں ہے۔ حق و باطل میں بھی تمیز نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–32

(31۔ 32) آپ ابوجہل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ سے فرما دیجیے کہ تم میری موت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے عذاب کا منتظر ہوں، چناچہ بدر کے دن یہ سب مارے گئے کیا ان کی عقلیں ان کو اس تکذیب اور سب و شتم اور نبی اکرم کو تکلیف پہنچانے کی تعلیم کرتی ہیں کیونکہ یہ تو اپنی عقل مندی کے بڑے مدعی ہیں یا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی میں بڑے ماہر لوگ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ام تامرھم احلامھم بھذآ…:”احلام“”حلم“ کی جمع ہے، جو دراصل غصہ بھڑکنے کے وقت ضبط نفس کو کہتے ہیں۔ عقل کو ”حلم“ اس لئے کہتے ہیں کہ ایسے وقت میں وہی طبیعت پر ضبط کا باعث ہوتی ہے۔ مشرکین اپنے آپ کو بڑا عقل مند باور کرواتے تھے، اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کے متعلق ان کی تین باتیں ذکر فرمائیں، کاہن، مجنون اور شاعر پھر ان کی عقولں پر چوٹ فرمائی کہ کیا کوئی عاقل ایسی بات کہہ سکتا ہے ؟ اول تو رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی اور آپ کا لایا ہوا قرآن سب کے سامنے ہے، کوئی شخص جس کی عقل قائم ہو وہ آپ کے متعلق یا قرآن کے متعلق ان میں سے کوئی بات بھی نہیں کہہ سکتا، کیو کہ قرآن کریم کا اور رسول کریم ﷺ کا کہانت، جنون یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–33

ام تا مرھم احلا مھم بھذا، احلام سے مراد ان کے عقول ہیں۔ ھذا سے مراد آپ کی ذات پر جھوٹ بولنا ہے۔ ام ھم قوم طاغون ،۔ یا بغیر عقل کے وہ سر کشی کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ام بل کے معنی میں ہے۔ بلکہ انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے کفر کیا اگرچہ ان کے لئے حق ظاہر ہوا۔ حضرت عمرو بن عاص ؓ سے کہا گیا : کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم ایمان نہیں لائی۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی صفت دانشمند ہونے سے بیان کی ہے ؟ فرمایا : وہ ایسی عقلیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے توفیق نصیب نہیں فرمائی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ احلامھم سے مراد ان کے اذہان ہیں کیونکہ عقل کافر کو نہیں دی جاتی اگر اس کے پاس عقل ہوتی تو وہ ایمان لے آتا،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 32–46

5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ' ام تامرھم احلامھم '' (کیا ان کی عقلیں انکو اس بات کی تعلیم دے رہی ہیں) احلامہم یعنی عقلیں۔ 6:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' فلیاتوا بحدیث مثلہ '' (تو یہ بھی اس طرح کا کلام بناکر لے آئیں) یعنی قرآن کی طرح (آیت ) '' فلیات مستمعہم '' (جو ان میں آسمانی باتیں سننے کا مدعی ہے وہ صاف دلیل پیش کرے) یعنی ان کا سننے والا ساتھی لے کر آئے (آیت ) '' ام تسئلھم اجرا فہم من مغرم مثقلون '' (یا آپ ان سے معاوضہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان ان کو بھاری معلوم ہوتا ہے) یعنی کیا آپ نے ان لوگوں سے اسلام لانے پر کوئی معاوضہ مانگا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ تَاْمُرُهُمْ [ یا حکم دیتی ہیں ان کو ] اَحْلَامُهُمْ [ ان کی عقلیں ] بِھٰذَآ [اس (حرکت ) کا ] اَمْ هُمْ [ یا یہ لوگ ] قَوْمٌ طَاغُوْنَ [ ایک سرکشی کرنے والی قوم ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 30–32

15:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے۔ ” ریب المنون “ حوادث زمانہ یا حادثہ موت (خازن، مدارک) ۔ معاندین کبھی تو کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے جب تک زندہ ہے اس کے اشعار کو عروج ہے اور ہم اس کی موت کے منتظر ہیں جونہی اس نے آنکھیں بن دکیں یہ سارا کھیل ختم ہوجائیگا۔ ” قل تربصوا۔ الایۃ “ جواب شکوی ہے۔ آپ فرما دیجئے ہاں تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں موت تو سب پر آئیگی، لیکن، تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ عزت کی موت کس کی ہوگی اور ذلت ورسوائی کی موت کس کے حصے میں آئیگی چناچہ ان معاندین نے میدان بدر میں دیکھ لیا کہ آخر ذلت و رسوائی ان ہی کیلئے مقدر تھی (مظہری، خازن) ۔ ” ام تامرھم۔ الایۃ “۔ مشرکین عقل و فہم کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ بِھٰذَآ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ۝ 32 ۚ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ أمر الأَمْرُ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔ تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ تَاْمُرُھُمْ اَحْلاَ مُھُمْ بِھٰذَٓا اَمْ ھُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ۔ (الطور : 32) (کیا ان کی عقلیں انھیں اس بات کا حکم دیتی ہیں، یا یہ ہیں ہی سرکش لوگ۔ ) مخالفین کی مخالفت کی حقیقت اس آیت کریمہ میں نہایت منطقی انداز میں مخالفین کی تمام باتوں کا پول کھول دیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں جس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مخالفین اشرافِ قریش ہوں یا دوسرے لوگ، یہ سب اپنے تئیں عقل کل ہونے کے دعویدار ہیں۔ اور ان کے نزدیک ان کی ہر بات عقل کے ترازو میں تل کے نکلتی ہے۔ سوا یہ ہے کہ تم جس عظیم شخصیت پر کبھی کاہن اور مجنون ہونے کا الزام لگاتے ہو اور کبھی اسے شاعر قرار دے کر اس کی دعوت کو بےوزن کرنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–32

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی ﷺ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ ﷺ کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔ مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم ﷺ کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ عقل ہے یا شرارت : آیت 32 : اَمْ تَاْمُرُہُمْ اَحْلَامُہُمْ (کیا ان کی عقلیں ان کو اس بات کی تعلیم دیتی ہیں) احلام : عقول۔ بِہٰذَٓا (اس متناقض بات کا) کہ کبھی کاہن ٗ کبھی شاعر اور ایک قول یہ بھی ہے کہ مجنون ہے۔ اور قریش اپنے کو اہل الاحلام والنہٰی۔ صاحبان عقل و دانش کہلواتے تھے۔ اَمْ ہُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ (یا یہ شریر لوگ ہی ہیں) کہ جو ظہور حق کے باوجود عناد کی حدود کو پھاندنے والے ہیں۔ بلاغت : امر کا اسناد احلام کی طرف اسناد مجازی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31 ۔” قل تربصوا “ میری موت کا انتظار کرو۔ ” فانی معکم من المتربصبین “ انتظار کرنے والوں میں سے حتیٰ کہ اللہ کا امر تمہارے بارے میں آجائے۔ پس تم عذاب دیئے جائو بدر کے دن تلوار کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–34

29۔ 34۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِھٰذَآ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَ ) کیا ان کی عقلیں انہیں یہی سکھاتی ہیں یا یہ لوگ ہی سرکش ہیں ؟ یعنی کیا ان کا آپ کا یہ جھٹلانا اور ان کی یہ باتیں جو وہ (آپ کے بارے میں) کرتے ہیں ان کی عقل وخرد سے صادر ہوئی ہیں کتنی بری ہے ان کی عقل خرد جس کے یہ نتائج اور یہ ثمرات ہیں کیونکہ ان کی عقلوں ہی نے تو مخلوق میں سے زیادہ کامل العقل کو مجنون اور سب سے بڑی صداقت اور سب سے بڑے حق کو جھوٹ اور باطل قرار دیا، ایسی فاسد عقلوں سے تو مجاننین بھی منزہ ہیں۔ یا اس پر جس چیز نے ان کو آمادہ کیا ہے وہ ان کا ظلم اور سرکشی ہے ؟ اور فی الواقع ظلم اور سرکشی ہی اس کا سبب ہے۔ پس سرکشی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 40] ہٹ دھرموں کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان کی عقلیں ان کو ایسا سیکھاتی ہیں یا یہ حد سے گزرنے والے سرکش اور ہٹ دھرم لوگ ہیں ؟ یعنی معاملہ ان دو صورتوں سے خالی نہیں کہ یا تو ان لوگوں کی عقلیں ان کو یہی کچھ سکھا اور بتارہی ہیں کہ آپ ﷺ ! اللہ کے رسول نہیں بلکہ ایک کاہن، مجنون اور شاعر ہیں، اور یا پھر یہ لوگ سرکش ہیں جو حق بات سننے اور ماننے کو تیار نہیں۔ اور خواہ مخواہ کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔ سو اگر پہلی بات ہے تو یہ ان لوگوں کی عقلوں کیلئے ماتم کا مقام ہے۔ پس اب دوسرا مکان ہی باقی رہ جاتا ہے کہ یہ لوگ سرکش ہیں جو حق ماننا چاہتے ہی نہیں۔ سو عقل بشرطیکہ وہ عقل ہو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 32–49

نبوت کے منکر عقل سے عاری تشریح : اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق کے بارے میں وضاحت کی ہے جو شروع دن سے آخر دن تک ایک ہی عقیدے پر قائم ہیں اور ہمیشہ قائم رہیں گے وہ ہے کفروشرک کا عقیدہ۔ ایسے لوگ ہمیشہ فخروغرور، نفرت، تعصب اور ہٹ دھرمی پر ایسے قائم رہتے ہیں جیسے وہی دنیا اور اس کی ہر چیز کے خالق ہیں اور خود ان کا وجود بھی ان کی اپنی ہی قدرت اور طاقت کا نتیجہ ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ آیت 32 سے 44 تک اللہ تعالیٰ نے انہی کفاومشرکین کے بارے میں بتایا ہے۔ اور پھر پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی طرف سے بالکل بےفکر ہوجائیں کیونکہ یہ ماننے والے نہیں ان کا علاج اس دن وعدے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 یعنی یہ جو اس قسم کی بےجوڑ باتیں کرتے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ ان کی عقل نہیں اس طرح بےوقوفی کی باتیں سکھاتی ہیں بلکہ اصل وجہ ان کا طغیان یعنی شراتر اور ہٹ دھرمی کی حد سے گزر جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:32) ام تامرہم احلامہم بھذا : ام کیا تامرھم۔ تامر مضارع واحد مؤنث غائب۔ امر (باب نصر) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ احلامہم مضاف مضاف الیہ ۔ ان کی عقلیں۔ احلام حلم کی جمع جس کے معنی بردباری کے ہوتے ہیں اور چونکہ بردباری عقل کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے حلم کے معنی عقل کے بھی لے لیتے ہیں گویا مسبب بول کر سبب مراد لیتے ہیں ۔ اور جگہ قرآن مجید میں احلام بمعنی خواب بھی آیا ہے مثلاً قالوا اضغاث احلام (12:44) انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان سے خواب ہیں۔ بھذا۔ میں اشارہ کفار مکہ کی مختلف و متضاد باتوں کی طرف ہے یعنی کبھی کہنا کہ کاہن ہے پھر کہنا کہ مجنون ہے اور کبھی کہنا کہ یہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–34

(ف 1) شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایتیں ہیں جب اللہ کا سچا دین روز بروز ترقی کرنے لگا تو موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے مشرکین مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھادیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے نبی ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 32–35

[12] یعنی ان کی عقل و دانش نے جس پر انہیں ناز ہے یہ سکھلایا ہے کہ ایک انتہائی صادق، امین، عاقل و فرزانہ اور سچے پیغمبر کو شاعر، کاہن اور دیوانہ کہہ کر نظرانداز کردیا جائے۔ پھر اگر عقل کی بناء پر یہ لوگ حکم لگاتے تو کوئی ایک حکم لگاتے۔ بہت سے متضاد حکم کیسے لگاتے ہیں ؟ آخر ایک شخص بیک وقت شاعر، کاہن اور دیوانہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دل میں سمجھتے سب کچھ ہیں مگر محض سرکشی اور شرارت سے باتیں بناتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–33

اعمال کی اصلی حیثیت 1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(32) کیا ان کو اس قسم کی باتیں اور اس قسم کے عقیدے ان کی عقلیں سکھاتی ہیں یا یہ لوگ سرکش اور شریر واقع ہوئے ہیں۔ یعنی یہ خود بھی اپنے عقل مند ہونے کے مدعی ہیں اور کفار عرب میں بھی مکہ والے عقل مند مشہور ہیں تو کیا ان کی عقلیں ان کو یہ تعلیم دیتی ہیں یا یہ کہ وہ سرکش ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 32–39

ف 6۔ یعنی اپنے لئے تو وہ چیز پسند کرتے ہو جس کو اعلی درجہ کا سمجھتے ہو، اور خدا کے لئے وہ چیز تجویز کرتے ہو جس کو ادنی درجہ کا سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھا رہی ہیں یا عقل سے کام لینا یہ لوگ حرام سمجھتے ہیں۔ 32: چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق یہ لوگ کسی بھی حتمی فیصلہ پر نہیں پہنچتے تھے کبھی کاہن کہتے اور کبھی شاعر ، کبھی مجنون کہتے اور کبھی مفتری پھر کبھی ساحر کہتے اور کبھی سحر زدہ اس طرح خود ہی مبہوت ہو کر رہ گئے تھے اور کسی ایک نظریہ پر وہ جمتے نہیں تھے اسی لیے کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں کہاں وہ جمے گا تو آخر کیوں اور کیسے۔ احلامہم ان کی عقلیں یا ان کے خوابات۔ اس لیے کہ احلام حلم کی جمع بھی ہے اور حلم کی بھی اور حلم کے معنی خواب کے ہیں حلم کے معنی بربداری کے اور برباری ظاہر ہے کہ عقل و فکر ہی کی وجہ سے ہوتی ہے اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–36

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said: "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 In these two sentences, the opponents' entire propaganda has been nailed, and they have been completely exposed. The reasoning briefly is this: These Qaraish chiefs and elders pose as very wise people, but does their intellect tell them that they should call a person a poet when he is not a poet, and call him a madman when he is well-known for his wisdom among the people, and dub him a sorcerer when he has not the remotest association with sorcery ? Then, if you are passing these judgments only on the basis of intellect and reason, you should have passed one judgment, and not so many…

Read the full tafseer →