Explained with ayahs 29–34
کاہن کی پہچان
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے کاہن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہوجائے گا پھر اپنے نبی ﷺ کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 24
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ میں بھی دیکھتا ہوں کہ تمہاری یہ آرزو پوری ہوتی ہے یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ میں بھی منتظر ہوں کہ شامت میری آتی ہے یا تمہاری۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(امر یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ قل تربصو فانی معکم من المتربصین) (30، 31)۔
(مخالفین کے ایک الزام کا جواب)۔ یہ ان کے دوسرے الزام کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ لوگ تمہیں شاعر کہتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس طرح دوسرے بہت سے شاعر اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے اسی طرح گردش روز گار ایک دن تمہیں بھی فنا کر دے گی۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس انتظار میں ہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انتظار کرو، میں بھی انتظار میں ہوں کہ میں جو وعید تم کو سنا رہا ہوں وہ پوری ہوتی ہے یا تم جو خواب دیکھ رہے ہو وہ سچا ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مخالفین آپ کو جو شاعر کہتے تھے تو اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ…
Read the full tafseer →31۔ 1 یعنی دیکھو ! موت پہلے کسے آتی ہے ؟ اور ہلاکت کس کا مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
7: یعنی یہ لوگ تو بڑے عقل کے دعوے دار ہیں، کیا ان عقلوں کا یہی حال ہے کہ انہیں بالکل سامنے کی باتیں بھی سمجھ میں نہیں آتیں، اور وہ اس قسم کی بےہودہ باتیں کرتے رہتے ہیں ؟ یا پھر حق بات ان کی عقل میں تو آجاتی ہے لیکن اپنی سرکشی کی وجہ سے اسے مانتے نہیں ہیں ؟
Read the full tafseer →قل تربصوا ........ المتربصین (25 : 13) ” ان سے کہو اچھا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں “ اور تمہیں جلدی معلوم ہوجائے گا کہ اچھا انجام کس کا ہونے والا ہے اور کس کو فتح و کامرانی ہوتی ہے۔
قریش کے اکابر کو کہا جاتا تھا کہ یہ ذوی الاحلام ہیں اشارہ اس طرف تھا کہ یہ بہت عقلمند ہیں اور معاملات بڑی دانشمندی سے چلاتے ہیں۔ قرآن مجید ان کے ساتھ ان کی اس دانشمندی پر سنجیدہ مزح کرتا ہے کہ ان کا طرز عمل تو عقل و دانش کے سرابر منافی ہے۔ پوچھا جاتا ہے کہ حضرت محمد کے بارے میں ان کی رائے اور وحی و رسالت کا انکار کیا ان کی وہ دانشمندی ہے بلکہ یہ سرکش ہیں اور ان کی عقل جس بات کو تسلیم کرتی ہے یہ…
Read the full tafseer →10 یعنی اچھا تم میرا انجام دیکھتے رہو۔ میں تمہارا دیکھتا ہوں۔ عنقریب کھل جائے گا کہ کون کامیاب ہے، کون خائب و خاسر۔
Read the full tafseer →آیت 31{ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ۔ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اچھا تم انتظار کرو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔“
Read the full tafseer →24 وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح شاعر لوگ وقتی طور پر اپنے سامعین کو متاثر کرلیتے ہیں لیکن ان کا کوئی قابل ذکر کارنامہ باقی نہیں رہتا۔ ان کے مرنے کے ساتھ ہی ان کی شخصیت بھی دنیا سے ختم ہوجاتی ہے۔ اسی صورت حال کی توقع وہ آپ سے بھی رکھتے ہیں اور آپ کی موت کے منتظر بیٹھے ہیں کہ کب آپ کو موت آلیتی ہے اور ان کی اس مصیبت سے جان چھوٹتی ہے۔ آپ ان سے کہیے کہ تم میرے متعلق گردش ایام کا انتظار کرو اور میں اس انتظار میں ہوں کہ تمہیں تمہاری ان کرتوتوں کی سزا کب اور کس طرح ملتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
13۔ یعنی اچھی بات ہے۔ تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں۔ ” اس میں اشارۃ پیش گوئی ہے کہ میرا انجام فلاح و کامیابی ہے اور تمہارا انجام فساد وناکامی ہے “۔ (تھانوی (رح))
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ترجمہ : تو آپ سمجھاتے رہیں (یعنی) مشرکین کو سمجھانے کی پابندی رکھیں، اور ان کے آپ کو کاہن مجنون کہنے کی وجہ سے سمجھانے سے کنارہ کشی نہ کریں، اس لئے کہ آپ اپنے رب کے فضل سے یعنی آپ پر اس کے انعام سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون بکاھن ما کی خبر ہے اور ولا مجنون اس پر معطوف ہے کیا کافریوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانہ کے حوادثات کا انتظار کر رہے ہیں، سو دیگر شعرئا کے مانند یہ بھی ہلاک ہوجائے گا آپ کہہ دیجیے کہ تم میری ہلاکت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں چناچہ یوم بدر میں تلوار کے ذریعہ ان کو سزا دی گئی، اور تربض کے معنی انتظار کے ہیں کیا ان کی عقلیں انہیں یہی…
Read the full tafseer →قل تربصوا فانی معکم من المتربصین .
‘ آپ کہہ دیجئے تم لوگ انتظار کرتے رہو ‘ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں۔
قُلْ : اے محمد ! آپ ﷺ کہہ دیجئے۔
تَرَبَّصُوْا : تم میرے مرنے کے منتظر رہو۔ میں بھی منتظر ہوں کہ تمہارے بارے میں اللہ کا کیا حکم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
(31۔ 32) آپ ابوجہل اور ولید بن مغیرہ وغیرہ سے فرما دیجیے کہ تم میری موت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے عذاب کا منتظر ہوں، چناچہ بدر کے دن یہ سب مارے گئے کیا ان کی عقلیں ان کو اس تکذیب اور سب و شتم اور نبی اکرم کو تکلیف پہنچانے کی تعلیم کرتی ہیں کیونکہ یہ تو اپنی عقل مندی کے بڑے مدعی ہیں یا یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی معصیت و نافرمانی میں بڑے ماہر لوگ ہیں۔
Read the full tafseer →(قل تربصوا فانی معکم من المتربصین : اس کا یہ مطلب نہیں کہ انتظار کر کے دیکھ لو، تم ہی مرو گے میں نہیں مروں گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں۔ تمہارا انجام ناکامی اور ہلاکت ہے، میرا انجام کامیابی اور نجات ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فذکر اے محمد ! ﷺ اپنی قوم کے ذریعے سمجھا تے رہیے۔ فما انت بنعمت ربک بکاھن یعنی اپنے رب کی رسالت کا فریضہ سر انجامدینے کی وجہ سے کاہن نہیں کہ آپ خود ہی اپنی طرف سے قول گھڑتے ہیں اور وحی کے بغیر اگلے روز خبر دے دیتے ہوں۔ ولا مجنون، اس میں ان کے قول کا رد کیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا تھا : وہ مجنون ہیں۔ شیبہ بن ربیعہ نے کہا تھا : وہ جادوگر ہیں۔ دوسرے نے کہا تھا : کاہن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ان کا رد کیا، پھر یہ کہا گیا : فما انت بنعمت رب قسم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قسم آپ کاہن اور مجنون نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ ابن اسحاق وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش دارالندوہ میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں جمع ہوئے ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا اس کو رسی میں باندھ دو پھر اس کی موت کا انتظار کرو یہاں تک کہ یہ مرجائے جیسے اس سے پہلے شعراء زھیر اور نابغہ وغیرہ مرگئے کیونکہ یہ بھی ان میں سے ایک ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کے بارے میں (یہ آیت ) '' ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون '' (کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان پر حادثہ موت آنے کا انتظار کررہے ہیں)
2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ریب المنون '' سے مراد ہے…
Read the full tafseer →قُلْ [آپ کہیے ] تَرَبَّصُوْا [ تم لوگ انتظار کرو ] فَاِنِّىْ مَعَكُمْ [تو میں (بھی ) تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ [ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید
ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
15:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے۔ ” ریب المنون “ حوادث زمانہ یا حادثہ موت (خازن، مدارک) ۔ معاندین کبھی تو کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے جب تک زندہ ہے اس کے اشعار کو عروج ہے اور ہم اس کی موت کے منتظر ہیں جونہی اس نے آنکھیں بن دکیں یہ سارا کھیل ختم ہوجائیگا۔ ” قل تربصوا۔ الایۃ “ جواب شکوی ہے۔ آپ فرما دیجئے ہاں تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں موت تو سب پر آئیگی، لیکن، تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ عزت کی موت کس کی ہوگی اور ذلت ورسوائی کی موت کس کے حصے میں آئیگی چناچہ ان معاندین نے میدان بدر میں دیکھ لیا کہ آخر ذلت و رسوائی ان ہی کیلئے مقدر تھی (مظہری، خازن) ۔ ” ام تامرھم۔ الایۃ “۔ مشرکین عقل و فہم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔
کہانت اور دیوانگی کی نفی
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…
Read the full tafseer →قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ 31 ۭ
ربص
التّربّص : الانتظار بالشیء، سلعة کانت يقصد بها غلاء، أو رخصا، أو أمرا ينتظر زواله أو حصوله، يقال : تربّصت لکذا، ولي رُبْصَةٌ بکذا، وتَرَبُّصٌ ، قال تعالی: وَالْمُطَلَّقاتُ يَتَرَبَّصْنَ
[ البقرة/ 228] ، قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ [ الطور/ 31] ، قُلْ هَلْ تَرَبَّصُونَ بِنا إِلَّا إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ [ التوبة/ 52] ، وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوائِرَ [ التوبة/ 98] .
( ر ب ص ) التربص
کے معنی انتظار کرنے کے ہیں ۔ خواہ وہ انتظار سامان تجارت کی گرانی یا ارزانی کا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔
تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّـتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ ۔ (الطور : 30، 31)
(کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش روزگار کے منتظر ہیں۔ ان سے کہئے تم انتظار میں رہو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ )
آپ ﷺ پر شاعر ہونے کا الزام اور اس کی حقیقت
قریشِ مکہ اور دیگر مخالفین کا دوسرا الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ نے جو نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے یہ محض ایک فریب ہے۔ اور جس کلام کو وہ پیش کرتا ہے وہ اس کا اپنا بنایا ہوا یا کسی کا بنایا ہوا کلام ہے جسے اللہ تعالیٰ کا کلام کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ رہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی ﷺ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ ﷺ کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔
مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم ﷺ کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم…
Read the full tafseer →آیت 31 : قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ (آپ کہہ دیجئے۔ تم لوگ انتظار کرتے ہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں) میں تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں جیسا تم میری ہلاکت کے منتظر ہو۔
Read the full tafseer →30 ۔” ام یقولون “ بلکہ وہ کہتے ہیں یعنی یہ تقسیم کرنے والے اندازے لگانے والے ” شاعر “ یعنی وہ شاعر ہیں۔ ” تربص بہ ریب المنون “ زمانہ کے حوادث اور سا کا پھرنا۔ پس وہ بھی مر کر ہلاک ہوجائیں گے۔ جیسا کہ ان سے پہلے شعراء ہلاک ہوگئے اور اس کے ساتھی تتر بتر ہوگئی اور ان کے والد جوانی میں فوت ہوگئے۔ اب ہمیں امید ہے کہ ان کی موت بھی اپنے والد کی موت کی طرح ہوگی اور ” المنون “ کبھی دھر کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی موت کے معنی میں۔ ان دونوں کے ساتھ نام رکھا گیا کیوں کہ یہ دونوں مدت کو ختم کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
29۔ 34۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے…
Read the full tafseer →قُلْ ) آپ اس حماقت آمیز بات کے جواب میں ان سے کہہ ریجئے (تربصوا) یعنی تم میرے مرنے کا انتظار کرو (فَاِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ ) پس میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ ہم تمہارے بارے میں اس انتظار میں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں تمہیں عذاب میں مبتلا کرے۔
Read the full tafseer →[ 39] منکرین و مکذبین کے الزام و اعتراض کا جواب :
سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ اچھا تم لوگ انتظار کرلو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ وقت آنے پر تمہیں خود معلوم ہوجائے گا اور یہ حقیقت سب کے سامنے آشکار اور واضح ہوجائے گی کہ حق پر کون تھا، اور باطل پر کون ؟ انجام کس کا صحیح تھا اور کس کا خراب ؟ یہ سب کچھ پوری طرح واضح ہوجائے گا اور انجام سب کے سامنے آجائے گا مگر افسوس کہ اس وقت کا تمہارا پچھتانا تمہیں کچھ کام نہ دے گا کہ اس وقت گزر چکا ہوگا کہ جو ایمان مطلوب و محمود اور مفید ہے، وہ ایمان بالغیب ہے جس کا موقع دنیاوی زندگی میں تھا جو کہ اب ہاتھ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →ف 9 یعنی تم میری ہلاکت کا انتظار کرتے رہو میں تمہاری ہلاکت کا انتظار کر رہا ہوں۔ دیکھو اللہ تعالیٰ کا عذاب مجھ پر آتا ہے یا تم پر ؟
Read the full tafseer →(52:31) قل : ای قل لہم یا محمد ﷺ ۔ ای محمد ﷺ ان سے کہہ دیجئے۔
تربصوا۔ امر جمع مذکر حاضر۔ تربص (تفعیل) مصدر۔ تم انتظار کرو۔
المتربصین۔ ام فاعل جمع مذکر۔ بحالت جر۔ متربص واحد۔ انتظار کرنے والے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :۔ اے میرے نبی ! ان بےسروپا امیدیں باندھنے والوں سے کہہ دو ، بڑی اچھی بات ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا۔ وقت خود ہی فیصلہ کر دے گا کہ کون حق پر تھا اور کون گمراہ تھا ۔ کامیابیاں کس کے قدم جو متی ہیں۔ اور عذاب الٰہی کس پر نازل ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
(ف 1) شان نزول :
تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایتیں ہیں جب اللہ کا سچا دین روز بروز ترقی کرنے لگا تو موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے مشرکین مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھادیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے نبی ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
[11] یعنی پیغمبر کو یہ محض شاعر سمجھتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ جس طرح قدیم زمانے کے بہت سے شعراء گردش زمانہ سے یونہی مرمرا کر ختم ہوگئے یہ بھی ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ کوئی کامیاب مستقبل ان کے
ہاتھ میں نہیں۔ محض چند روز کی وقتی واہ واہ ہے اور بس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
اعمال کی اصلی حیثیت
1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…
Read the full tafseer →(31) آپ فرمادیجئے اچھا تم انتظا کئے جائو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ یعنی تمہاری طرح میں بھی منتظر ہوں تمہارے انجام کا۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی تم میرا انجام دیکھو، میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں اس میں اشارة پیشنگوئی ہے کہ میرا انجام فلاح و کامیابی ہے اور تمہارا انجام خسارہ اور ناکامی، اور یہ مقصود نہیں کہ تم مرو گے میں نہ مروں گا بلکہ ان لوگوں کا اس سے جو مقصود تھا کہ ان کا دین چلے گا نہیں، یہ مرجائیں گے اور دین مٹ جائے گا، جواب میں اس کا رد مقصود ہے، چناچہ یوں ہی ہوا۔
Read the full tafseer →آپ کہہ دیجئے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
31: اے پیغمبر اسلام ! ان شامت کے ماروں کو سیدھی راہ چلنا نہیں آتی یا یہ لوگ ٹیڑھی ہی راہ چلنا چاہتے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ کی ذمہ داری ان کو راہ راست پر لانے کی نہیں بلکہ آپ ان کو برملا کہہ دیں کہ تم جو جو سوچیں سوچ کر بیٹھے ہو تم کو مبارک اب تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اگر اس وقت میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی تو نہ سہی عنقریب پتہ چل جائے گا۔ جب نتیجہ تمہارے سامنے آئے گا اور میرے سامنے بھی۔ اس لیے تم اپنے منہ دھیان کرتے جاؤ جو کر رہے ہو اور میں اپنے منہ دھیان کرتا ہوں جو کر رہا ہوں۔ زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →24 This can have two meanings: (1) "I would also see whether this desire of yours is fulfilled or not ; " and (2) "I am also waiting to see who goes to his doom, you or I. "
Read the full tafseer →