Explained with ayahs 29–34
کاہن کی پہچان
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے کاہن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہوجائے گا پھر اپنے نبی ﷺ کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 23
یعنی ہم منتظر ہیں کہ اس شخص پر کوئی آفت آئے اور کسی طرح اس سے ہمارا پیچھا چھوٹے۔ غالباً ان کا خیال یہ تھا کہ محمد ﷺ چونکہ ہمارے معبودوں کی مخالفت اور ان کی کرامات کا انکار کرتے ہیں، اس لیے یا تو معاذ اللہ، ان پر ہمارے کسی معبود کی مار پڑے گی، یا کوئی دل چلا ان کی یہ باتیں سن کر آپے سے باہر ہوجائے گا اور انہیں قتل کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–47
خلاصہ تفسیر
(جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
(امر یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ قل تربصو فانی معکم من المتربصین) (30، 31)۔
(مخالفین کے ایک الزام کا جواب)۔ یہ ان کے دوسرے الزام کا حوالہ ہے۔ فرمایا کہ کیا یہ لوگ تمہیں شاعر کہتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ جس طرح دوسرے بہت سے شاعر اپنی اپنی بولیاں بول کر اڑ گئے اسی طرح گردش روز گار ایک دن تمہیں بھی فنا کر دے گی۔ فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس انتظار میں ہیں تو ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انتظار کرو، میں بھی انتظار میں ہوں کہ میں جو وعید تم کو سنا رہا ہوں وہ پوری ہوتی ہے یا تم جو خواب دیکھ رہے ہو وہ سچا ہوتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے مخالفین آپ کو جو شاعر کہتے تھے تو اس کی وجہ، جیسا کہ ہم جگہ جگہ واضح کرتے آ…
Read the full tafseer →30۔ 1 رَیْب کے معنی ہیں حوادث، موت کے ناموں سے ایک نام۔ مطلب ہے قریش مکہ اس انتظار میں ہیں کہ زمانے کے حوادث سے شاید اس (محمد ﷺ کو موت آجائے اور ہمیں چین نصیب ہوجائے، جو اس کی دعوت توحید نے ہم سے چھین لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →ام یقولون ........ المنون (25 : 03) ” کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کررہے ہیں “ انہوں نے یہ بات کہی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو یوں تسلی دیتے تھے یعنی اس تحریک کے مقابلے میں صبر کرو اور اپنے دین پر ثابت قدم رہو۔ اپنے وقت پر یہ شخص مر جائے گا۔ یوں ہماری جان چھوٹ جائے گی۔ ایک دوسرے کو کہتے کہ صبر کرو کہ یہ مرجائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ ان کو ذرا دھمکی آمیز انداز میں کہہ دیں اچھا۔
Read the full tafseer →9 یعنی پیغمبر جو اللہ کی باتیں سناتا اور نصیحت کرتا ہے۔ کیا یہ لوگ اس لیے قبول نہیں کرتے کہ آپ ﷺ کو محض ایک شاعر سمجھتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ جس طرح قدیم زمانہ کے بہت سے شعراء گردش زمانہ سے یونہی مر مرا کر ختم ہوگئے ہیں، یہ بھی ٹھنڈے ہوجائینگے۔ کوئی کامیاب مستقبل ان کے ہاتھ میں نہیں۔ محض چند روز کی وقتی واہ واہ ہے اور بس۔
Read the full tafseer →آیت 30{ اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ۔ } ”کیا ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک شاعر ہے ‘ جس کے لیے ہم منتظر ہیں گردش زمانہ کے ؟“
مشرکین مکہ آپس میں ایک دوسرے کو یہ کہہ کر تسلی دیتے تھے کہ محمد ﷺ محض ایک شاعر ہیں۔ ان کے شاعرانہ کلام سے متاثر ہونے میں جلدی مت کرو ‘ کچھ دیر انتظار کرو گے wait and see ! ‘ تو ان کے دعو وں کی اصل حقیقت خود بخود کھل کر سامنے آجائے گی۔ ہمیں قوی امید ہے کہ بہت جلد یہ خود ہی گردش زمانہ کی لپیٹ میں آجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
23 کفار کا آپ کو کاہن دیوانہ اور شاعر کے القابات سے نوازنا :۔ یہاں سے پھر کفار مکہ کے آپ پر تبصروں اور القابات کی طرف رخ مڑ گیا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ روئے سخن آپ کی طرف ہے مگر حقیقت میں یہ خطاب کفار مکہ کی طرف ہے۔ یعنی اگر آپ کے یہ دشمن بغض وعناد کی بنا پر آپ کو کاہن یا مجنوں کہتے ہیں تو ان کی اس بکواس سے آپ کاہن یا مجنوں بن نہیں جائیں گے۔ انہیں ایسی بکواس کرتے رہنے دیجئے اور آپ اپنے کام میں مصروف رہیے اور لوگوں کو قرآن سنا سنا کر نصیحت کرتے جائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
13۔ یعنی اچھی بات ہے۔ تم میرا انجام دیکھو میں تمہارا انجام دیکھتا ہوں۔ ” اس میں اشارۃ پیش گوئی ہے کہ میرا انجام فلاح و کامیابی ہے اور تمہارا انجام فساد وناکامی ہے “۔ (تھانوی (رح))
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
ترجمہ : تو آپ سمجھاتے رہیں (یعنی) مشرکین کو سمجھانے کی پابندی رکھیں، اور ان کے آپ کو کاہن مجنون کہنے کی وجہ سے سمجھانے سے کنارہ کشی نہ کریں، اس لئے کہ آپ اپنے رب کے فضل سے یعنی آپ پر اس کے انعام سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون بکاھن ما کی خبر ہے اور ولا مجنون اس پر معطوف ہے کیا کافریوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانہ کے حوادثات کا انتظار کر رہے ہیں، سو دیگر شعرئا کے مانند یہ بھی ہلاک ہوجائے گا آپ کہہ دیجیے کہ تم میری ہلاکت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں چناچہ یوم بدر میں تلوار کے ذریعہ ان کو سزا دی گئی، اور تربض کے معنی انتظار کے ہیں کیا ان کی عقلیں انہیں یہی…
Read the full tafseer →ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون
کیا یہ لوگ (یوں بھی) کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان پر حادثۂ موت آنے کا انتظار کر رہے ہیں
رَیْبَ الْمَنُوْنِ : حوادث زمانہ یا حوادث موت یعنی مہلک حوادث ‘ کافروں نے کہا تھا جیسے اور شاعر مرگئے ‘ محمد ﷺ بھی مرجائیں گے۔ یہ بھی ایک شاعر ہیں ‘ ان کے مرنے کے بعد ان کے ساتھی منتشر ہوجائیں گے۔ ان کا باپ جوان مرگیا ہم کو امید ہے کہ یہ بھی باپ کی طرح جوان مرجائے گا۔
یَامَنُوْنَ مَنَّہ : سے اسم مفعول کا صیغہ ہے۔ مَنَّہ : اس کو کاٹ دیا۔ اس سے زمانہ مراد ہے یا موت زمانہ اور موت زندگی کو کاٹ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →شان نزول : اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ (الخ)
ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ قریش جب رسول اکرم کی ذات اقدس کے بارے میں دار الندوہ میں مشورہ کے لیے جمع ہوئے تو ان میں سے کسی نے کہا کہ ان کو نعوذب اللہ مضبوط زنجیروں میں باندھ دو پھر ان کی موت کا انتظار کرو تاکہ یہ بھی اسی طرح ہلاک ہوجائیں جیسا کہ پہلے شعراء میں سے زہیر اور نابغہ ہلاک ہوگئے کیونکہ یہ بھی ان ہی کی طرح ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →(ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون :”نربص یتربص“ (تفغل) ”آنے والے کسی شر یا خیر کا انتظار کرنا۔“”المنون“”من یمن منا“ (ن) کا معنی ”قطع کرنا“ ہے۔ ”المنون“ بروزن ”فعول“ (کاٹنے والا) موت کو کہتے ہیں، کیونکہ وہ زندگی کی رسی کو کاٹ دیتی ہے اور زمانے کو بھی، کیونکہ وہ بھی زندگی کے ایام کو کاٹتا چلا جاتا ہے۔ ”ریب“ کا اصل معنی شک اور بےچینی ہے، لیکن جب اس کا استعمال زمانے کے ساتھ ہو تو مراد زمانے کے حوادث ہوتے ہیں، کیونکہ وہ آدمی کو بےچین رکھتے ہیں۔
یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انکار اور تعجب کے انداز میں ان مشرکین کی جہالت کی باتوں کا پندرہ (15) دفعہ لفظ ”ام“ کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور ہر ”ام“ کے بعد سوال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
فذکر اے محمد ! ﷺ اپنی قوم کے ذریعے سمجھا تے رہیے۔ فما انت بنعمت ربک بکاھن یعنی اپنے رب کی رسالت کا فریضہ سر انجامدینے کی وجہ سے کاہن نہیں کہ آپ خود ہی اپنی طرف سے قول گھڑتے ہیں اور وحی کے بغیر اگلے روز خبر دے دیتے ہوں۔ ولا مجنون، اس میں ان کے قول کا رد کیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا تھا : وہ مجنون ہیں۔ شیبہ بن ربیعہ نے کہا تھا : وہ جادوگر ہیں۔ دوسرے نے کہا تھا : کاہن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ان کا رد کیا، پھر یہ کہا گیا : فما انت بنعمت رب قسم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قسم آپ کاہن اور مجنون نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قسم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
1:۔ ابن اسحاق وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش دارالندوہ میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں جمع ہوئے ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا اس کو رسی میں باندھ دو پھر اس کی موت کا انتظار کرو یہاں تک کہ یہ مرجائے جیسے اس سے پہلے شعراء زھیر اور نابغہ وغیرہ مرگئے کیونکہ یہ بھی ان میں سے ایک ہے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کے بارے میں (یہ آیت ) '' ام یقولون شاعر نتربص بہ ریب المنون '' (کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان پر حادثہ موت آنے کا انتظار کررہے ہیں)
2:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' ریب المنون '' سے مراد ہے…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ [ یا یہ لوگ کہتے ہیں ] شَاعِرٌ [ (کہ یہ) ایک شاعر ہے ] نَّتَرَبَّصُ بِهٖ [ ہم انتظار کرتے ہیں جس کے بارے میں ] رَيْبَ الْمَنُوْنِ [ گردش زمانہ کا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید
ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔
(ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–32
15:۔ ” ام یقولون “ یہ شکوی ہے۔ ” ریب المنون “ حوادث زمانہ یا حادثہ موت (خازن، مدارک) ۔ معاندین کبھی تو کہتے ہیں کہ وہ شاعر ہے جب تک زندہ ہے اس کے اشعار کو عروج ہے اور ہم اس کی موت کے منتظر ہیں جونہی اس نے آنکھیں بن دکیں یہ سارا کھیل ختم ہوجائیگا۔ ” قل تربصوا۔ الایۃ “ جواب شکوی ہے۔ آپ فرما دیجئے ہاں تم بھی انتظار کرو۔ میں بھی انتظار کرتا ہوں موت تو سب پر آئیگی، لیکن، تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ عزت کی موت کس کی ہوگی اور ذلت ورسوائی کی موت کس کے حصے میں آئیگی چناچہ ان معاندین نے میدان بدر میں دیکھ لیا کہ آخر ذلت و رسوائی ان ہی کیلئے مقدر تھی (مظہری، خازن) ۔ ” ام تامرھم۔ الایۃ “۔ مشرکین عقل و فہم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–42
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔
کہانت اور دیوانگی کی نفی
اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…
Read the full tafseer →اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ 30
أَمْ»حرف
إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه :
أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔
شعر ( شاعر)
الشَّعْرُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–36
ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔
تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّـتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ ۔ (الطور : 30، 31)
(کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش روزگار کے منتظر ہیں۔ ان سے کہئے تم انتظار میں رہو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ )
آپ ﷺ پر شاعر ہونے کا الزام اور اس کی حقیقت
قریشِ مکہ اور دیگر مخالفین کا دوسرا الزام یہ تھا کہ محمد ﷺ نے جو نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے یہ محض ایک فریب ہے۔ اور جس کلام کو وہ پیش کرتا ہے وہ اس کا اپنا بنایا ہوا یا کسی کا بنایا ہوا کلام ہے جسے اللہ تعالیٰ کا کلام کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ رہی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–32
فہم القرآن
ربط کلام : جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی ﷺ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ ﷺ کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔
مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم ﷺ کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم…
Read the full tafseer →آیت 30 : اَمْ یَقُوْلُوْنَ (کیا وہ یہ کہتے ہیں) شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ (کہ یہ شاعر ہے اور ہم ان پر حادثہ موت کے منتظر ہیں) ریب المنون۔ حوادث زمانہ یعنی ہم اس کے متعلق مصائب زمانہ کے منتظر ہیں جن کا شکار ہو کر یہ ہلاک ہوجائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے شعراء ہلاک ہوئے۔ مثلاً زہیر ٗ نابغہ وغیرہ۔ ام۔ اس آیت کی ابتداء میں منقطعہ ہے اور اس کا معنی بل ہے۔ اور ہمزہ اس پر لائی گئی ہے۔
Read the full tafseer →29 ۔” فذکر “ اے محمد ! ﷺ قرآن کے ذریعے اہل مکہ کو ” فما انت بنعمۃ ربک “ اس کی رحمت اور حفاظت کے ساتھ۔ ” بکاھن “ کہ قرآن گھڑ لیا ہو اور آئندہ آنے والی بات کی بغیر وحی کے خبر دیں۔ ” ولا مجنون “ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے مکہ کی گھاٹیاں تقسیم کرلی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ پر کہانت ، جادو، جنوں اور شعر کی تہمت لگاتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
29۔ 34۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے…
Read the full tafseer →اور کبھی کبھی (يَقُوْلُوْنَ ) وہ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ وہ (شَاعِرٌ) ہے۔ شعر کہتا ہے اور اس کے پاس جو چیز آتی ہے وہ شاعری ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ یس 69) ہم نے اسے شاعری سکھائی ہے نہ شاعری اس کے لائق ہے۔ (نتربص بہ ریب المنون) یعنی ہم اس کی موت کا انتظار کررہے ہیں پس اس کا معاملہ ختم ہوجائے گا اور ہم اس سے نجات حاصل کرکے راحت پالیں گے۔
Read the full tafseer →[ 38] منکرین و مکذبین کی محرومی اور امت ماری کا ایک نمونہ و مظہر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ان کے بارے میں منتظر ہیں حادثہ موت کے۔ " منونِ " کے معنی دہر یعنی زمانہ کے آتے ہیں۔ اور " ریب " کے معنی حوادث و آفات کے، اسی طرح " منون " کے معنی موت کے بھی آتے ہیں، کیونکہ یہ لفظ دراصل من سے مشتق ہے جس کے اصل معنی زمانے میں بھی پائے جاتے ہیں سو پیغمبر کے بارے میں ان بدبختوں کا کہنا تھا کہ یہ چونکہ ایک شاعر ہیں جو ختم ہوجائیں گے، جس طرح کہ زبیر اعشی اور نابغہ وغیرہ دوسرے بڑے بڑے شعراء ختم ہو کر مٹ مٹا گئے ہیں۔ پس تم لوگ ان کے بارے میں تھوڑا صبر سے کام لو ان کا معاملہ بھی یونہی تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
آیات 29 تا 49۔
اسرار ومعارف۔
آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی جس طرح قدیم زمانہ کے بہت سے شعراء مر کر ختم ہوگئے یہ بھی ختم ہوجائے گا اور دنیا میں اس کا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے گا۔ حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ دارالندوہ میں قریش کا اجتماع ہوا کہ آنحضرت کے معاملے پر غور کیا جائے ایک کہنے والے نے کہا اس شخص کو قید کردو اور اس کی موت کا انتظار کرتے رہو۔ جیسے نابغہ اور دوسرے شعرا مرگئے یہ بھی مرجائے گا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ شوکانی
Read the full tafseer →(52:30) ام یقولون شاعر : ام حرف اضراب بل کے معنی میں ہے یعنی وہ رسول کریم ﷺ کو کاہن اور مجنون کہتے تھے ۔ جس کی نفی خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں کردی۔ فما انت بنعمۃ ربک بکاھن ولا مجنون۔ بلکہ وہ مزید برآں آپ کو شاعر بھی کہتے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم اس کے حق میں زمانے کے حوادث کا انتظار کر رہے ہیں۔ یعنی حادثہ موت کا انتظار کر رہے ہیں۔
مطلب یہ کہ آپ شاعر ہیں جس طرح اور شاعر زہیر، نابغہ وغیرہ مرگئے اور ان کے ساتھ ان کا کلام بھی مرگیا۔ اور ان کے بہی خواہ اور ثنا خوانان بھی ختم ہوگئے۔ یہ بھی مرجائیں گے اور ان کے ساتھ ان کا کلام اور ان کے ساتھ ختم ہوجائیں گے : ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–49
لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46
کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے)
مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔
تشریح آیت نمبر 29 تا 49
اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–34
(ف 1) شان نزول :
تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایتیں ہیں جب اللہ کا سچا دین روز بروز ترقی کرنے لگا تو موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے مشرکین مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھادیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے نبی ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
[11] یعنی پیغمبر کو یہ محض شاعر سمجھتے ہیں اور اس بات کے منتظر ہیں کہ جس طرح قدیم زمانے کے بہت سے شعراء گردش زمانہ سے یونہی مرمرا کر ختم ہوگئے یہ بھی ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ کوئی کامیاب مستقبل ان کے
ہاتھ میں نہیں۔ محض چند روز کی وقتی واہ واہ ہے اور بس۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
اعمال کی اصلی حیثیت
1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…
Read the full tafseer →(30) ہاں تو یہ کافر یوں کہتے کہ یہ شخص شاعر ہے ہم اس کے لئے زمانے کی گرشت یعنی موت کا انتظار کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح اور شاعرعرب کے مرگئے اور حوادث زمانہ نے ان کو ختم کردیا اور ان کے رفقا بھی ھختم ہوگئے اسی طرح اس کی بھی موت کا انتظارکرو یہ مرجائے گا تو اس کی بھی پارٹی اور اس کی رفقا بھی منتشر ہوجائیں گے اور یہ روز روز کا قصہ ختم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →ف 4۔ در منثور میں ہے کہ قریش دار الندوہ میں جمع ہوئے اور آپ کے بارے میں یہ مشورہ قرار پایا کہ جیسے اور شعراء اومرمرا گئے، آپ بھی ان ہی میں ایک ہیں، اسی طرح آپ بھی ہلاک ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →کیا وہ آپ کو شاعر کہتے ہیں اور آپ کے لیے گردش زمانہ کی انتظار میں ہیں ؟
30: شاعر کیا ہے ؟ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے جس کے معنی ہیں شعر کہنے والا۔ شعارۃ ، سے جس کے معنی شاعر ہونے کے ہیں اور شعر کے معنی معروف ہیں اور سب جانتے ہیں کہ بال کو کہتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ومن اصوافھا و اوبارھا و اشعارھا ، اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی بیریوں سے اور بکریوں کے بالوں سے اور ، کذا ، یعنی میں نے علم حاصل کیا جو باریکی میں ایسا ہے جیسے بال کا پتہ چلانا اور شاعر کو شاعر اس کی فطانت اور معرفت کی پہچان کی بنا پر کہا گیا ہے۔ پس شعر اصل میں علم دقیق کا نام ہے۔ عرب کا محاورہ ہے کہ لیت شعری ، کاش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →23 That is, "We arc waiting for him to be afflicted with calamity so that we be rid of him. " Probably they thought that since Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) was opposing their deities and denying their supernatural powers, he would fall under the curse of some deity, or some bold devotee of a god would put an end to him.
Read the full tafseer →