At-Tur 52:29

At-Tur · from ayah 29

52:29

فَذَكِّرْ فَمَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ ۟ؕفَذَكِّرۡ فَمَاۤ اَنۡتَ بِنِعۡمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَّلَا مَجۡنُوۡنٍؕ

تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So remind [O Muhammad], for you are not, by the favor of your Lord, a soothsayer or a madman.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:29

پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ دیوانے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو آپ سمجھاتے رہیں کیونکہ آپ اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں نہ دیوانہ

— مولانا محمد جوناگڑہی

لہذا (اے پیغمبر) تم نصیحت کرتے رہو، کیونکہ تم اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہو، نہ مجنون۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اے محبوب! تم نصیحت فرماؤ کہ تم اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہو نہ مجنون،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو (اے حبیبِ مکرّم!) آپ نصیحت فرماتے رہیں پس آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے نہ تو کاہن (یعنی جنّات کے ذریعے خبریں دینے والے) ہیں اور نہ دیوانے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس نصیحت کر، کیوں کہ تو اپنے رب کی مہربانی سے ہرگز نہ کسی طرح کاہن ہے اور نہ کوئی دیوانہ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پس آپ نصیحت کرتے رہئے۔ اپنے رب کے فضل سے آپ کاہن یا مجنون نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

(پس تم یاددہانی کرتے ہو، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کوئی کاہن ہو اور نہ کوئی دیوانے ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس آپ نصیحت کرتے رہیے کہ آپ اپنے رب کی مہربانی سے نہ تو کاہن ہیں نہ مجنون

— مولانا اسحاق مدنی

تو آپ سمجھاتے رہئے کیونکہ آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو (اے نبی ﷺ !) آپ تذکیر کرتے رہیے پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اے پیغمبر تم نصیحت کرتے رہو تم اپنے رب کے فضل سے نہ تو کاہن ہو اور نہ ہی دیوانے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

So exhort (them, O Prophet), for by your Lord's Grace, you are neither a soothsayer nor a madman.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So keep reminding (them), because by the grace of your Lord, you are neither a soothsayer, nor a mad man.

— Muhammad Taqi Usmani

So keep reminding (them), because by the grace of your Lord, you are neither a soothsayer, nor a mad man.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Therefore, remind. By the grace of Allah, you are neither a Kahin nor a madman.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Therefor warn (men, O Muhammad). By the grace of Allah thou art neither soothsayer nor madman.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So remind [O Muhammad], for you are not, by the favor of your Lord, a soothsayer or a madman.

— Saheeh International

(Muhammad), remind them, by the Grace of your Lord, that you are neither a soothsayer or an insane person.

— Muhammad Sarwar

Therefore continue to remind, for by the grace of your Lord, you are not a soothsayer, or a madman.

— Muhammad Habib Shakir

Wherefore admonish thou! thou art not, by the grace of thy Lord, a soothsayer or a madman.

— Abdul Majid Daryabadi

Therefore proclaim thou the praises (of thy Lord): for by the Grace of thy Lord, thou art no (vulgar) soothsayer, nor art thou one possessed.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–34

کاہن کی پہچان اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ اللہ کی رسالت اللہ کے بندوں تک پہنچاتے رہیں ساتھ ہی بدکاروں نے جو بہتان آپ پر باندھ رکھے تھے ان سے آپ کی صفائی کرتا ہے کاہن اسے کہتے ہیں جس کے پاس کبھی کبھی کوئی خبر جن پہنچا دیتا ہے تو ارشاد ہوا کہ دین حق کی تبلیغ کیجئے۔ الحمد اللہ آپ نہ تو جنات والے ہیں نہ جنوں والے۔ پھر کافروں کا قول نقل فرماتا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک شاعر ہیں انہیں کہنے دو جو کہہ رہے ہیں ان کے انتقال کے بعد ان کی سی کون کہے گا ؟ ان کا یہ دین ان کے ساتھ ہی فنا ہوجائے گا پھر اپنے نبی ﷺ کو اس کا جواب دینے کو فرماتا ہے کہ اچھا ادھر تم انتظار کرتے ہو ادھر میں بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 22 اوپر آخرت کی تصویر پیش کرنے کے بعد اب تقریر کا رخ کفار مکہ کی ان ہٹ دھرمیوں کی طرف پھر رہا ہے جس سے وہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کر رہے تھے۔ یہاں خطاب بظاہر تو آنحضرت ﷺ سے ہے مگر دراصل آپ کے واسطے سے یہ باتیں کفار مکہ کو سنانی مقصود ہیں۔ ان کے سامنے جب آپ قیامت، اور حشر و نشر، اور حساب و کتاب، اور جزا و سزا اور جنت و جہنم کی باتیں کرتے تھے، اور ان مضامین پر مشتمل قرآن مجید کی آیات اس دعوے کے ساتھ ان کو سناتے تھے کہ یہ خبریں اللہ کی طرف سے میرے پاس آئی ہیں اور یہ اللہ کا کلام ہے جو مجھ پر وحی کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے، تو ان کے سردار اور مذہبی پیشوا اور اوباش لوگ آپ کی ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–47

خلاصہ تفسیر (جب آپ پر مضامین واجب التبلیغ کی وحی کی جاتی ہے جیسے اوپر ہی جنت و دوزخ کے مستحقین کی تفصیل کی گئی ہے) تو آپ (ان مضامین سے لوگوں کو) سمجھتے رہئے کیونکہ آپ بفضلہ تعالیٰ نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں (جیسا مشرکین کا یہ قول سورة الضحیٰ کی شان نزول میں منقول ہے قد ترکک شیطانک رواہ البخاری، جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ کاہن نہیں ہو سکتے، کیونکہ کاہن شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے اور آپ کا شیطان سے کوئی واسطہ نہیں اور ایک آیت میں ہے وَيَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌ الآیة اس میں آپ سے جنون کی نفی کی گئی ہے، مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام ہمیشہ نصیحت کرتے رہنا ہے، گو لوگ کچھ ہی بکیں)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے آیات 29۔ 49 کا مضمون آگے کی آیات میں نبی ﷺ کی حوصلہ افزائی فرمائی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی یا وہ گوئیوں کی پروا کیے بغیر اسی قرآن کے ذریعے سے تذکیر کرتے رہو۔ جو لوگ تمہاری تکذیب پر اڑے رہیں گے وہ خود اپنی شامت بلائیں گے۔ اسی ذیل میں مخالفین کی ان باتوں کے سکت جواب بھی دیئے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں وہ کہتے تھے اور جن کی طرف اوپر لفظ خوض سے ارشاد فرمایا ہے۔ ان کی اس ساری سخن سازی کو قرآن نے محض ایک چال قرار دیا ہے اور یہ اطمینان دلایا ہے کہ اس چال سے وہ دعوت حق کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے بلکہ یہ انہی کے خلاف پڑے گی۔ آخر میں آپ کو تسلی دی ہے کہ ان کو کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 اس میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ وعظ و تبلیغ اور نصیحت کا کام کرتے رہیں اور یہ آپ کی بابت جو کچھ کہتے رہتے ہیں، ان کی طرف کان نہ دھریں، اس لئے کہ آپ اللہ کے فضل سے کاہن ہیں نہ دیوانہ (جیسا کہ یہ کہتے ہیں) بلکہ آپ پر باقاعدہ ہماری طرف سے وحی آتی ہے جو کہ کاہن پر نہیں آتی آپ جو کلام لوگوں کو سناتے ہیں وہ دانش و بصیرت کا آئینہ دار ہوتا ہے ایک دیوانے سے اس طرح گفتگو کیوں کر ممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–30

6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

نبی ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے آپ یاددہانی کئے جائیں اور ان لوگوں کی بدسو کی سے متاثر نہ ہوں اور ان لوگوں کی جانب سے جو اتہامات لگائے جارہے ہیں ان کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ وہ کبھی یہ الزام لگاتے تھے کہ آپ ” کاہن “ ہیں۔ کبھی وہ کہتے تھے کہ آپ مجنون ہیں اور یوں وہ در پر وہ ایسے الزامات لگاتے تھے جو ان کے درمیان مشہور تھے کہ کاہن اور مجنون دراصل شیاطین سے ہدایات لیتے ہیں اور شیاطین بعض لوگوں کو خبط میں مبتلا کرکے مجنون کردیتے ہیں۔ گویا ان دونوں صفات کی پشت پر ان کے نزدیک شیطان کام کرتا تھا اور یہ لوگ اسی وجہ سے حضور اکرم پر یہ الزامات عائد کرتے تھے۔ پھر وہ نبی ﷺ پر ساحر اور جادو گر ہونے کا الزام لگاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 کفار، حضور ﷺ کو کبھی دیوانہ کہتے، کبھی کاہن، یعنی جنوں اور شیطانوں سے کچھ جھوٹی سچی خبریں لے کردیتے ہیں۔ اتنا نہیں سمجھتے تھے کہ آج تک کسی کاہن اور دیوانے نے ایسی اعلیٰ درجہ کی نصیحتیں اور حکیمانہ اصول، اس طرح کے صاف، شستہ اور شائستہ طرز میں بیان نہیں کیے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ آپ ﷺ ان کو بھلا برا سمجھاتے رہیے اور پیغمبرانہ نصیحتیں کرتے رہیے۔ ان کی بکواس سے دل گیر نہ ہوں۔ جب اللہ کے فضل و رحمت سے نہ آپ کاہن ہیں نہ مجنون بلکہ اسکے مقدس رسول ہیں تو نصحیت کرتے رہنا آپ ﷺ کا فرض منصبی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29{ فَذَکِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ۔ } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ تذکیر کرتے رہیے ‘ پس آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔“ یہ خطاب اگرچہ حضور ﷺ سے ہے لیکن اصل میں سنانا ان لوگوں کو مقصود ہے جو آپ ﷺ کے ایسے نام رکھتے تھے۔ ان لوگوں کو نظر انداز کر کے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کی فضول باتوں پر بالکل توجہ نہ دیں اور لوگوں کو مسلسل تذکیر اور یاد دہانی کرتے رہیں۔ اس سے ملتا جلتا مضمون قبل ازیں گزشتہ سورت الذاریات میں بھی آچکا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا : { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ فَمَآ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ - وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

23 کفار کا آپ کو کاہن دیوانہ اور شاعر کے القابات سے نوازنا :۔ یہاں سے پھر کفار مکہ کے آپ پر تبصروں اور القابات کی طرف رخ مڑ گیا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ روئے سخن آپ کی طرف ہے مگر حقیقت میں یہ خطاب کفار مکہ کی طرف ہے۔ یعنی اگر آپ کے یہ دشمن بغض وعناد کی بنا پر آپ کو کاہن یا مجنوں کہتے ہیں تو ان کی اس بکواس سے آپ کاہن یا مجنوں بن نہیں جائیں گے۔ انہیں ایسی بکواس کرتے رہنے دیجئے اور آپ اپنے کام میں مصروف رہیے اور لوگوں کو قرآن سنا سنا کر نصیحت کرتے جائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

12۔ (جیسا کہ بعض بدنصیب یہود ومشرکین کا خیال) عرب جاہلیت میں شاعروں کا بڑا زور اور اثر تھا، جیسا کہ یونان اور روما میں خطیبوں کا زور رہ چکا تھا یا آج فرنگی قوموں میں اخبار نوسیوں اور ایڈیٹروں اور مشہور افسانہ نگاروں اور ڈراما نگاروں کا ہے۔ مشرکوں کے ایک روشن خیال گروہ نے یہ رائے قائم کی کہ (نعوذ باللہ) یہ مدعی نبوت شاعر ہیں اور جس طرح اور شاعر مر مرا گئے ایک روز یہ بھی ختم ہوجائیں گے اور ان کا چلایا ہوا کلام اور مذہب بھی نسیامنسیا ہوجائے گا کسی بڑے شاعر کے منہ آتے ہوئے اہل عرب خود ڈرتے اور ہچکچاتے تھے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ ایک روز جمع ہو کر باہم مشورہ ہوا اور آخرت یہ قرار پایا کہ ان نئے شاعر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–31

ترجمہ : تو آپ سمجھاتے رہیں (یعنی) مشرکین کو سمجھانے کی پابندی رکھیں، اور ان کے آپ کو کاہن مجنون کہنے کی وجہ سے سمجھانے سے کنارہ کشی نہ کریں، اس لئے کہ آپ اپنے رب کے فضل سے یعنی آپ پر اس کے انعام سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون بکاھن ما کی خبر ہے اور ولا مجنون اس پر معطوف ہے کیا کافریوں کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ہم اس پر زمانہ کے حوادثات کا انتظار کر رہے ہیں، سو دیگر شعرئا کے مانند یہ بھی ہلاک ہوجائے گا آپ کہہ دیجیے کہ تم میری ہلاکت کا انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں چناچہ یوم بدر میں تلوار کے ذریعہ ان کو سزا دی گئی، اور تربض کے معنی انتظار کے ہیں کیا ان کی عقلیں انہیں یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فذکر فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون . تو آپ سمجھاتے رہیے کیونکہ آپ اللہ کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں۔ فَذَکِّرْ : اس میں فَ سببیہ ہے (پہلا کلام تذکیر کی علّت ہے) اللہ کی طرف سے وعدہ اور وعید کو پورا کرنا وعظ و نصیحت کے حکم کا سبب ہے۔ فَمَآ اَنْتَ : فَ تعلیلیہ ہے یعنی لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ آپ اللہ کے نبی ہیں ‘ اپنے رب کی نعمت یعنی نبوت اور عقل سلیم کے حامل ہیں۔ کاہن اور مجنون نہیں۔ نبوت اور دین کہانت کے منافی ہے۔ اس لیے آپ کاہن نہیں ہیں اور عقل سلیم جنون کے منافی ہے اس لیے آپ مجنون نہیں ہیں۔ آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جو مکہ کے پہاڑیوں کی گھاٹیوں میں الگ الگ بٹ کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(29۔ 30) تو آپ لوگوں کو سمجھاتے رہیے کیوں کہ آپ نبوت اور اسلام کی دولت سے سرفراز ہونے کی وجہ سے نہ تو کاہن ہیں کہ کل کی خبریں دیں اور نہ مجنوں ہیں۔ بلکہ کفار مکہ یعنی ابو جہل، ولید بن مغیرہ وغیرہ آپ کے بارے میں یوں بھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور ہم ان کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فذکر فما انت بنعمت ربک بکاھن ولا مجنون :”کاہن“ وہ شخص جو شیاطین سے تعلق رکھتا ہے اور ان سے سن کر غیب کی خبریں یدتا ہے، جن میں ایک آدھ وہ سچی خبر بھی ہوتی ہے جو انہوں نے آسمان کے نیچے فرشتوں کی باہمی گفتگو سے چرائی ہوتی ہے، پھر اس کے ساتھ سو باتیں جھوٹی ملا کر اپنے دوستوں کو بتاتے ہیں۔ (2) سورت کے شروع سے قیامت، جزا و سزا اور جنت و جہنم کی تفصیل اور دلائل ذکر کرنے کے بعد فرمایا :”فذکر“ (پس نصیحت کر) یعنی جب ہم نے یہ سب کچھ آپ کو وحی کے ذریعے سے بتادیا تو اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ساتھ تمام لوگوں کو صنیحت کریں اور کفار و مشرکین کی بےہودہ باتوں اور تہمتوں کی پروا نہ کریں۔ وہ آپ کو کاہن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 29–31

فذکر اے محمد ! ﷺ اپنی قوم کے ذریعے سمجھا تے رہیے۔ فما انت بنعمت ربک بکاھن یعنی اپنے رب کی رسالت کا فریضہ سر انجامدینے کی وجہ سے کاہن نہیں کہ آپ خود ہی اپنی طرف سے قول گھڑتے ہیں اور وحی کے بغیر اگلے روز خبر دے دیتے ہوں۔ ولا مجنون، اس میں ان کے قول کا رد کیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا تھا : وہ مجنون ہیں۔ شیبہ بن ربیعہ نے کہا تھا : وہ جادوگر ہیں۔ دوسرے نے کہا تھا : کاہن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلایا اور ان کا رد کیا، پھر یہ کہا گیا : فما انت بنعمت رب قسم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کی قسم آپ کاہن اور مجنون نہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ قسم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–29

8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) علی ہنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) یعنی دنیا میں۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) یعنی آگ کے بھڑکنے اور جلنے سے۔ عذاب '' سموم '' کی شدت : 10:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ عذاب سموم میں سے زمین والوں پر ایک پورے کے برابر کھول دیں تو زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب کو جلاکر راکھ کردے۔ 11:۔ عبد الرزاق وابن ابی شیبہ (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَذَكِّرْ [ تو آپ یاد دہانی کراتے رہیں ] فَمَآ اَنْتَ [ پھر آپ نہیں ہیں ] بِنِعْمَتِ رَبِّكَ [ اپنے رب کی نعمت (فضل ) کے سبب سے ] بِكَاهِنٍ [ کوئی کاہن ] وَّلَا مَجْنُوْنٍ [اور نہ کوئی مجنون ] ک ھ ن : (ف) کھانۃ ، غیب کی خبریں بتانا ۔ (ظن و گمان سے) کا ھن غیب کی خبریں بتانے والا ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 29 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–34

منکرین اور معاندین کی باتوں کا تردید ان آیات میں ابتدائی خطاب رسول اللہ ﷺ سے ہے پھر اسی ذیل میں اہل مکہ سے سوال و جواب ہے گویا آپ کے واسطہ سے ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے ارشاد فرمایا کہ آپ نصیحت حق فرماتے رہیں دشمنوں کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں یہ لوگ آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا آپ پر فضل و انعام ہے آپ نہ کاہن ہیں نہ دیوانہ ہیں، نیز ان منکرین کا کہنا یہ بھی ہے کہ آپ شاعر ہیں اور ساتھ ہی یوں بھی کہتے ہیں کہ ہمیں انتظار ہے کہ ان کی موت کا حادثہ ہوجائے تاکہ ان سے ہمارا چھٹکارا ہوجائے اور ہم سے جو خطاب کرتے ہیں اور اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ بند ہوجائے جیسے بہت سے شاعر دنیا میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–49

زجرو توبیخ مجرمین از عذاب خداوندی وحمایت ایزدی بہ تسبیح وحمد رب العالمین : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” فذکر فما انت بنعمت ربک ....... الی ...... وادبار النجوم “۔ (ربط) ماقبل آیات سورة والطور میں دوگروہوں کا ذکر فرمایا گیا ایک گروہ مجرمین کا اور دوسرا مطیعین کا اور احوال متعلقہ بھی ذکر کردیئے گئے تو اس کے بعد یہ مناسب ہوا کہ اہل عناد و انکار کو زجر و تو بیخ عذاب خداوندی سنایا جائے کیونکہ انسانی طبائع کا خاصہ ہے کہ برے افعال و اعمال کے نتائج بدسن کرمتاثرہوتے ہیں پھر اس حالت تأثر میں اگر اسکو مزید تنبیہ وزجر کیا جائے تو وہ ان برے اعمال سے باز آنے کا قصد کرلیتا ہے تو اسی لحاظ سے اب ان آیات میں ان…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

14:۔ ” فذکر۔ الایۃ “ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ فرمایا آپ وعظ و تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھیں اور مشرکین کے آپ کو کاہن اور مجنون کہنے افسردہ خاطر نہ ہوں۔ آپ اللہ کی مہربانی سے نہ کاہن ہیں نہ مجنون آپ پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اور آپ اللہ کے سچے رسول ہیں، اس لیے آپ اپنے فرض منصبی کو ادا فرماتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 29–42

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت ، رسالت اور توحید کے منکرین کا رد کیا اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ۔ اس کے ساتھ ساتھ متقیوں کا انجام اور ان کو ملنے والے انعام و اکرام کا تذکرہ کیا ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقا م اور عز ت وشرف حاصل ہوگا ۔ اب اس درس میں اللہ نے منکرین کی ذہیت اور ان کے مختلف نظریات کی تردید فرمائی ہے ۔ ابتداء میں رسالت کا ذکر ہے اور آگے توحید اور جزائے عمل کی بات ہے۔ ضمنا ً قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا بیان بھی ہے ۔ کہانت اور دیوانگی کی نفی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا فذکر پس آپ لوگوں کو نصیحت کردیں ، ان کو سمجھا دیں یا یاد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَذَكِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ۝ 29 ۭ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 29–36

ترکیب : بکاھن الخ خبر ما والباء زائدۃ بنعمت ربک حال من اسم ما اومن خبرھا والعامل کا ھن ای لست کا ھنا ولا مجنونا۔ متلبسا بنعمۃ ربک ای بانعامہ علیک ریب المنون المراد من الریب صروف الدھر و حوادثہ علی انھا شبھت بالریب ای الشک لانھا لاتدوم ولا تبقی فیکون استعارۃ تصریحیتہ المنون قال الاصمعی واحد فعول من امن وھوا لقطع فھو اسم للموت اوالدھر لانہ یقطع العددوینقص المدد، قال الفراء المنون واحد و جمع قال الاخفش جمع لا واحدلہ، التقول الافتراء والکذب ام ھھناو فی مابعد منقطعۃ بمعنی بل وقیل ام فی ھذہ الآیات للاستفہام مثل الھمزۃ والاستفہامات انکار علی الکفار علی ظنو ناتھم الفاسدۃ۔ تفسیر : دارِ آخرت کی کیفیت…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَذَکِّرْ فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ بِکَاھِنٍ وَّلاَ مَجْنُوْنٍ ۔ (الطور : 29) (پس اے پیغمبر ! آپ نصیحت کرتے رہیں، آپ اپنے رب کے فضل سے نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون۔ ) مخالفین کی یا وہ گوئی پر آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے جواب میں مخالفین نے جو رویہ اختیار کر رکھا تھا اور خاص طور پر آخرت کے حوالے سے وہ جس طرح مختلف اعتراضات اٹھا رہے تھے ان کا جواب دینے اور آخرت کی تصویر پیش کرنے کے بعد اب کلام کا رخ مخالفین کی ان ہٹ دھرمیوں اور زبان درازیوں کی طرف پھر گیا ہے جس کا اظہار وہ مختلف صورتوں میں کرتے رہتے تھے اور ساتھ ہی آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کی یا وہ گوئی سے دل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 29–32

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے انعامات اور ان کے جذبات کا ذکر کرنے کے بعد خطاب کا رخ نبی ﷺ کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ آپ کی دعوت کا مقصد لوگوں کو رب کریم اور اس کی جنت کی طرف بلانا تھا۔ اس لیے حکم ہوا کہ آپ ﷺ کفار کے الزامات کی پرواہ کیے بغیر دعوت کا کام جاری رکھیں۔ مکہ کی تیرہ سالہ نبوت کی زندگی میں نبی کریم ﷺ کفار کو شب وروز سمجھا تے رہے کہ آؤ اس دعوت کو قبول کرو اور جنت کے وارث بن جاؤ گے۔ لیکن بدنصیبوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرنے کی بجائے آپ کو کاہن اور دیوانہ کہتے تھے۔ کبھی آپ کو لوگوں کے سامنے شاعر کہتے اور اپنے ساتھیوں کو دلاسہ دیتے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اپنے نظریات پر قائم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 29 : فَذَکِّرْ (پس آپ سمجھاتے رہیں) لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہیے۔ نبوت اور عقل سلیم کا انعام : فَمَآ اَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّکَ (کیونکہ آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے) نعمت رحمت کے معنی میں ہے۔ اور وہ انعام جو نبوت کی صورت اور عقل سلیم کے انداز میں ہے۔ بِکَاہِنٍ وَّلَا مَجْنُوْنٍ (نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون ہیں) جیسا کہ کفار مکہ کا خیال ہے۔ نحو : یہ موضع حال میں ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے۔ لست کاہنًا ولا مجنونا ملتبسا بنعمۃ ربک۔ آپ نہ کاہن ہیں اور نہ مجنون بلکہ اپنے رب کی نعمت کے ساتھ ملتبس ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28 ۔” انا کنا من قبل “ دنیا میں ۔” ندعوہ “ خالص کے لئے عبادت کرتے تھے۔ ” انہ “ اہل مدینہ اور کسائی رحمہم اللہ نے ” انہ “ الف کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” لانہ “ یا ” بانہ “ اور دیگر حضرات نے زیر کے ساتھ استئناف کی بناء پر پڑھا ہے۔ ” ھوالبر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ” اللطیف “ (باریک بین) اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں اپنے وعدہ میں سچا ہے۔ ” الرحیم “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 29–34

29۔ 34۔ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایتیں ہیں کہ موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے اہل مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھا دیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے آنحضرت ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ دیوانے ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں کی باتوں کا کچھ خیال نہ کرو۔ بلکہ تم اللہ کے کلام کے موافق عام لوگوں کو نصیحت کرتے جاؤ یہ لوگ جھوٹے ہیں اللہ نے اپنے فضل سے تم کو نبوت کی نعمت دی ہے۔ تم اللہ کے رسول ہو۔ عرب میں شاعر بہت ہوتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی اپنے رسول کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو مسلمانوں اور کفار کو نصیحت کریں تاکہ ظالموں پر اللہ کی حجت قائم ہوجائے اور توفیق یافتہ لوگ آپ کی تذکیر کے ذریعے سے راہ راست پالیں، نیز یہ کہ آپ مشرکین اہل تکذیب کی باتوں اور ان کی ایذا رسانی کو خاطر میں نہ لائیں اور ان کی ان باتوں کی پروانہ کریں جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کو آپ کی اتباع سے روکتے ہیں حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ ان باتوں سے لوگوں میں سب سے زیادہ دور ہیں بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہر اس نقص کی نفی کردی جسے وہ آپ کی طرف منسوب کرتے تھے اس لیے فرمایا (فماانت بنعمت ربک) یعنی نہیں ہیں آپ اپنے رب کے لطف و کرم سے (بکاھن) کاہن۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

[ 35] عقیدہ توحید صلاح و فلاح دارین کی اصل اصیل : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید ہی کی ہے۔ چناچہ اہل جنت اپنی فائز المرامی کے بارے میں اور اس سے سرفرازی کے اسباب کے ذکر کے سلسلے میں کہیں گے کہ بلاشبہ اس سے پہلے یعنی دنیا میں ہم لوگ اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارا کرتے تھے، اور امید وہم اور خوف و درجاء کی ہر حالت میں ہم اسی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اور اس کے سوا اور کسی کو نہ ہم نے کبھی اس کا شریک وسہیم جانا اور نہ اس کے سوا اور کسی کو ہم نے کبھی پوجا پکارا۔ یعنی ہم عقیدہ توحید اور اس کی حقیقت سے آگاہ، سرفراز، اور اس کئی لذت و حلاوت سے سرشار تھے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 29–49

آیات 29 تا 49۔ اسرار ومعارف۔ آپ نصیحت فرماتے رہیے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھیے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کوئی کاہن نہیں کہ کاہن تو شیاطین سے خبریں حاصل کرتا ہے جبکہ آپ رب العزت کی طرف سے وحی کیے جاتے اور نہ آپ پاگل ہیں بلکہ سب سے زیادہ عقل اور بہترین دماغ تو نبی کا ہوتا ہے نہ ہی ان کا یہ کہنا درست ہے کہ یہ شاعر ہیں اور جیسے کئی شاعر ہوئے اور مرکرختم ہوگئے معاذ اللہ زمانہ ان کی یادیں بھی بھلادے گا آپ فرمائیے کہ تم ہمارے انجام کا انتظار کروہم بھی تمہارے اس معاندانہ کردار پر مرتب ہونے والے عذاب کا انجام کا انتظار کرتے ہیں چناچہ وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت میں بھی اور آپ کا پیغام روئے زمین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 اس سے مقصود مشرکین کی تردید ہے جو نبی ﷺ کو کبھی کاہن کہتے اور کبھی بائولا۔ کاہن سے مراد پروہت ہے جو وحی کے بغیر غیب دانی کا دعویٰ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:29) نذکر۔ اس میںسببیہ ہے پہلا کلام تذکیر کی علت ہے اللہ کی طرف سے وعدہ اور وعید کو پورا کرنا وعظ اور نصیحت کے حکم کا سبب ہے۔ ذکر امر واحد مذکر حاضر۔ تذکیر تفعیل مصدر۔ تو یاد دلا۔ تو سمجھا، تو نصیحت کر۔ فما انت ۔۔ الخ۔ اس میں فاء تعلیلیہ ہے یعنی آپ لوگوں کو نصیحت کیجئے کیونکہ آپ اللہ کے فضل سے نہ تو کاہن ہیں اور نہ مجنون۔ ما نافیہ ہے۔ بنعمتۃ ربک۔ ب ملابست ۔ مصاحبت کے لئے ہے۔ (کے ساتھ) یا یہ قسم کے لئے ہے لیکن اقرب یہ ہے کہ ب سببیہ ہے (روح المعانی) ۔ نعمۃ مضاف، ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ نعمۃ مضاف کا۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور حرف جار ب کا۔ آپ کے رب کی نعمت کے سبب سے۔ بکاھن ولا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 29–49

لقغات القرآن آیت نمبر 29 تا 46 کاھن غیب کی خبریں بتانے والا۔ نعربص ہم انتظار کر رہے ہیں۔ رب المنون زمان کی گردش۔ احلام (حلم) عقلیں۔ طاغون سرکشیک رنے والے المصیطرون حکم چلانے والے ۔ سلم سیڑھی مغرم تاوان (جو کسی کو زبردستی دینا پڑے) مظون دبے اتے ہیں۔ کسفاً ٹکڑا ۔ مرکوم (رکم) تہہ پر تہہ جمی ہو۔ یصعفون وہ گر پڑیں گے باعتنا ہماری نظر میں ہے ہماری نگرانی ہے۔ النجوم ستارے۔ تشریح آیت نمبر 29 تا 49 اعلان نبوت کے بعد جب رسول اللہ ﷺ نے قریش مکہ اور مشرکین کے سامنے دین اسلام کی سچائیوں کو رکھ کر بےحقیقت بتوں سے منہ پھیرنے کی دعوت دی تو شروع میں انہوں نے ایک وقتی بات سمجھ کر نظر امنداز کردیا لیکن جب روشنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–34

(ف 1) شان نزول : تفسیر ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایتیں ہیں جب اللہ کا سچا دین روز بروز ترقی کرنے لگا تو موسم حج میں باہر کے مسافر لوگ مکہ کو آتے تھے مشرکین مکہ ان دنوں میں کچھ آدمی اطراف مکہ میں بٹھادیتے تھے کہ وہ ان مسافروں سے نبی ﷺ کی طرح طرح سے مذمت کریں کسی سے کہہ دیں کہ یہ کاہن ہیں کسی سے کہہ دیں کہ یہ شاعر ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–29

[10] یعنی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھئے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آدمی اکثر جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–33

اعمال کی اصلی حیثیت 1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) پس اے پیغمبر آپ نصیحت کرتے رہیے آپ اپنے پروردگار کے فضل سے نہ کاہن ہیں نہ دیوانے - اوپر جو اہل جنت اور اہل جہنم کا ذکر تھا وہ سب ترغیب اور ترہیب کو شامل تھا اور یہی مضمون ہے نصیحت کا اسی پر تفریع فرمائی کہ آپ تذکیر اور نصیحت کئے جائیے نہ کاہن ہیں آپ نہ مجنوں ، کاہن وہ جو شیطان کب بتائی ہوئی باتیں جھوٹی سچی غیب کا نام لے کر لوگوں کو بتائے۔ مجنون کے معنی ظاہر ہی ہیں اکثر لوگ مکہ سے باہر جاکر قافلے والوں کو بہکاتے تھے اور آپ کے متعلق کاہن کا دیوانہ کہہ کر ان مسافروں کو بہکاتے تھے اس لئے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–29

ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام و دوام علی التذکیر ہے گو لوگ کچھ ہی بکیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پس اے پیغمبر اسلام ! آپ نصیحت کرتے رہیں لاریب آپ کاہن اور مجنون نہیں ہیں : 29: کفار مکہ نے نبی اعظم و آخر ﷺ پر جو جو الزامات لگائے تھے ان کا ذکر پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے انہوں نے آپ کو مجنون یعنی پاگل اور فاتر العقل کہا۔ آپ کو کاہن کے نام سے پکارا۔ آپ کو شاعر کہا اور مفتری سمجھا۔ ساحر اور سحر زدہ ہونے کا الزام دیا اور اس طرح آپ کے بارے میں متضاد باتیں کیں کہ جو کچھ آپ کے متعلق انہوں نے کہا وہ سب کچھ ان پر صادق آنے لگا۔ بہت سے مقامات پر پیچھے بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ اس طرح کی جو بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں جب ان کا کوئی سر پیر نہیں ہے تو آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–36

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said: "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 After depicting a scene of the Hereafter the address now turns to the obduracies of the disbelieves of Makkah with which they were resisting the message of the Ho]y Prophet (upon whom be peace): This verse though apparently addressed to the Holy Prophet is actually meant for the disbelievers through him. Whenever he spoke of Resurrection and the gathering together of mankind, and accountability, and meting out of rewards and punishments, and Heaven and Hell and recited the verses of the Qur'anin support thereof, with the claim that he received that information from Allah and that it was…

Read the full tafseer →