At-Tur 52:28

At-Tur · from ayah 28

52:28

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ؕ— اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ ۟۠اِنَّا كُـنَّا مِنۡ قَبۡلُ نَدۡعُوۡهُ‌ ؕ اِنَّهٗ هُوَ الۡبَـرُّ الرَّحِيۡمُ

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, we used to supplicate Him before. Indeed, it is He who is the Beneficent, the Merciful."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:28

ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ بےشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم اس سے پہلے ہی اس کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وه محسن اور مہربان ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم اس سے پہلے اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہی ہے جو بڑا محسن، بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے اپنی پہلی زندگی میں اس کی عبادت کی تھی، بیشک وہی احسان فرمانے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم پہلے سے ہی اُسی کی عبادت کیا کرتے تھے، بیشک وہ احسان فرمانے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک ہم اس سے پہلے ہی اسے پکارا کرتے تھے، بیشک وہی تو بہت احسان کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم اس سے پہلے (دنیا میں) اسی کو پکارا کرتے تھے۔ بلاشبہ وہ بڑا احسان کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے رہے تھے، بیشک وہ بڑا ہی با وفا اور مہربان ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم اس سے پہلے صرف اسی کو پکارا کرتے تھے بلاشبہ وہی ہے بڑا احسان کرنے والا انتہائی مہربان

— مولانا اسحاق مدنی

ہم اس سے پہلے اس کی دعائیں مانگا کرتے تھے واقعی وہ بڑا محسن ہے مہربان ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا ہم پہلے سے اس کو پکارا کرتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے بیشک وہ احسان کرنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Formerly we had always prayed to Him. Surely He is Most Benign, Most Compassionate.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We used to pray to Him before. He is surely the Most-Kind, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

We used to pray to Him before. He is surely the Most-Kind, the Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, We used to invoke Him before. Verily, He is the Most Subtle, the Most Merciful."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! we used to pray unto Him of old. Lo! He is the Benign, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, we used to supplicate Him before. Indeed, it is He who is the Beneficent, the Merciful."

— Saheeh International

We had prayed to Him; He is Kind and All-merciful".

— Muhammad Sarwar

Surely we called upon Him before: Surely He is the Benign, the Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Verily we were wont to pray Unto Him aforetime; verily He! it is He, the Benign, the Merciful.'

— Abdul Majid Daryabadi

"Truly, we did call unto Him from of old: truly it is He, the Beneficent, the Merciful!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–28

صالح اولاد انمول اثاثہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الطُّوْر 21 اصل میں لفظ سَمُوم استعمال ہوا ہے جس کے معنی سخت گرم ہوا کے ہیں۔ اس سے مراد لو کی وہ لپیٹیں ہیں جو دوزخ سے اٹھ رہی ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–28

بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(انا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو لبرالرحیم (28) (انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید کی ہے) اس جملہ کا تعلق اوپر والے جملہ (انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین) سے ہے، یعنی ایک تو یہ کہ ہم اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں، دوسرے یہ کہ ہم خوف اور طمع، امیدوارہر حال میں خدا ہی کو پکارنے والے رہے ہیں۔ اس کے سوا کسی اور کی کبھی ہم نے نہ دہائی دی اور نہ کسی کو اس کا شریک و مبہم جانا۔ اس جملہ کو اصلاً آنا تو اوپر والے جملہ ہی کے ساتھ تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کی مہارت ظاہر کرنے کے لیے (فمن اللہ علینا) الایۃ کو اس پر مقدم کردیا اور اس کو موخر کردیا۔ اس تاخیر میں یہ بلاغت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 یعنی صرف اسی ایک کی عبادت کرتے تھے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، یا یہ مطلب ہے کہ اس سے عذاب جہنم سے بچنے کے لیے دعا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–30

6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انا کنا من قبل ندعوہ (25 : 82) ” ہم پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے اور اللہ کی ان صفات کو جانتے تھے کہ وہ البر اور العظیم ہے۔ انہ ھو البر الرحیم (25 : 82) ” وہ واقعی بڑا محسن اور رحیم ہے “ یہ ہے راز ان لوگوں کے جنت تک پہنچنے کا یہ مباحثہ کرتے ہیں یہ کامیاب لوگ دارالنعیم میں فی الواقع مکرم لوگ ہیں۔ اس سورة کے پہلے پیراگراف میں ہم نے اچھی طرح جان لیا کہ عذاب الٰہی کیا ہوگا اور دوسرے پیراگراف میں ہم نے اللہ کی انعامات کے بارے میں جان لیا۔ یوں حقائق معلوم کرنے کے لئے ہمارا احساس خوب تیز ہوگیا چناچہ سیاق کلام نہایت تیزی سے ، مختصر جملوں اور زور دار الفاظ میں نفس انسان کے پردہ احساس کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–28

7 یعنی جنتی اس وقت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کریں گے اور غایت مسرت و امتنان سے کہیں گے کہ بھائی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھیے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہ کھٹکا برابر لگا رہتا تھا۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ آج اس نے کیسا مامون و مطمئن کردیا کہ دوزخ کی بھاپ بھی ہم کو نہیں لگی۔ ہم اپنے رب کو ڈر کر اور امید باندھ کر پکارا کرتے تھے۔ آج دیکھ لیا کہ اس نے اپنی مہربانی سے ہماری پکار سنی اور ہمارے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْہُ ط } ”یقینا ہم پہلے سے اس کو پکارا کرتے تھے۔“ البتہ یہ ضرور تھا کہ اپنی دنیوی زندگی میں ہم اپنی مغفرت کے لیے اللہ تعالیٰ سے مسلسل دعائیں کرتے رہتے تھے۔ { اِنَّہٗ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ۔ } ”یقینا وہ بہت ہی اچھا سلوک کرنے والا ‘ بہت رحم فرمانے والا ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 یعنی ہم دنیا میں اللہ سے ڈرتے بھی رہتے تھے اور ساتھ ہی اللہ سے دعائیں بھی مانگا کرتے تھے کہ اے پروردگار ! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا۔ سو اللہ نے ہماری دعا کو شرف قبولیت بخشا اور ہمیں اس عذاب سے بچا لیا اور یہ جنت اور اس کی نعمتیں جو عطا فرمائی ہیں تو یہ اس کا خاص احسان اور اس کی مہربانی ہے کہ ہمیں ہمارے اعمال اور دعاؤں سے بڑھ کر ثواب عطا کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–28

11۔ (تو ہماری دعائیں کیوں نہ قبول کرلیتا) آیت سے معلوم ہوا کہ آخرت کو بکثرت یاد کرتے رہنا، اپنے انجام سے ڈرتے رہنا۔ اپنے انجام بخیر کی دعائیں کرتے رہنا مقبولین ومتقین کی علامتوں میں ہیں۔ (آیت) ” انا ..... ندعوہ “۔ یعنی ہم دنیا میں برابر یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ پروردگار ! ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت میں داخل کرنا، سو ہماری دعا سن لی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–28

بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انا کنا من قبل ندعوہ انہ ھو البر الرحیم . ہم اس سے پہلے (دُنیا میں) اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔ واقعی وہ بڑا محسن ‘ مہربان ہے۔ نَدْعُوْہُ : اللہ کی عبادت کرتے تھے ‘ جہنم سے محفوظ رکھنے کی دعا کرتے تھے۔ اَلْبَرُّ : احسان کرنے والا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مہربانی کرنے والا۔ ضحاک نے کہا : وعدہ کا سچا ‘ وعدہ پورا کرنے والا۔ الرَّحِیْمُ : بڑی رحمت والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

واقعتا اس نے جو ہم سے وعدہ فرمایا تھا اس کو اس نے پورا فرمایا اور وہ اپنے مومن بندوں پر بڑا مہربان ہے کہ ہم پر بھی احسان فرمایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) انا کنا من قبل ندعوہ : یعنی مہ اس سے پہلے دنیا میں ڈرتے تھے، مگر ڈرنے کے باوجود اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوئے، بلکہ اپنی امیدیں اسی سے وابستہ رکھیں۔ اس لئے اسی کو پکارتے رہے، اسی سے دعا کرتے رہے اور اسی سے جنت میں داخلے اور جہنم سے پناہ کی درخواست کرتے رہے۔ (2) انہ ھو البر الرحیم :”ان“ تعلیل کے لئے آتا ہے، یعنی اس نے ہماری خطائیں معاف فرمائیں، ہمیں جہنم کی زہریلی بو سے بچایا، ہمیں جنت کی نعمتیں عطا کیں اور ہمارے پیاروں کو ہمارے ساتھ یکجا کردیا، اس لئے کہ وہی ہے جو بےحد احسان کرنے والا اور نہایت رحم والا ہے، ہمیں جو کچھ عطا ہوا وہ محض اسی کے احسان اور رحم کا نتیجہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اناکنا من قبل ندعوہ ہم اس سے قبل دنیا میں اس سے دعا کیا کرتے تھے کہ وہ گناہوں کی بخشش فرما کر ہم پر احسان فرمائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ندعوہ کا معنی نعبفہ ہے انہ ھو البر الرحیم نافع اور کسائی نے اسے انہ پڑھا ہے اصل میں لانہ تھا۔ باقی قراء نے اسے انہ پڑھا ہے کیونکہ یہاں سے کلام شروع ہورہی ہے۔ البر کا معنی لطیف ہے (2) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : اس نے جو وعدہ کیا وہ اس میں سچا ہے (3) ؛ یہ ابن جریج کا قول ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–29

8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) علی ہنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) یعنی دنیا میں۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) یعنی آگ کے بھڑکنے اور جلنے سے۔ عذاب '' سموم '' کی شدت : 10:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ عذاب سموم میں سے زمین والوں پر ایک پورے کے برابر کھول دیں تو زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب کو جلاکر راکھ کردے۔ 11:۔ عبد الرزاق وابن ابی شیبہ (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّا [ بیشک ہم ] كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ۭ [ اس سے پہلے ہم پکارا کرتے تھے اس کو ] اِنَّهٗ [ یقینا وہ ( ہے کہ ) ] هُوَ الْبَرُّ [ وہی احسان کرنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ] (آیت ۔ 28) ” ب ر ر ‘ ‘ کی لغت آیت نمبر ۔ 2:44 ۔ میں گزر چکی ہے ۔ وہاں بتایا ہے کہ بر اسم الفاعل ہے اب نوٹ کرلیں کہ یہ دراصل بارر ہے عربی کے کچھ الفاظ میں فاعل کے وزن کا الف گرا دیتے ہیں ۔ اس میں بھی بار کا الف گرا ہوا ہے اس لیے یہ برر ہوا ۔ پھر ادغام کرکے بر ہوگیا ۔ جیسے رب مصدر بھی ہے اور اسم الفاعل بھی ۔ جس میں یہ اصلا راب ب ہے ۔ اس کا الف گرا تو یہ رب استعمال ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–28

جام کی چھینا جھپٹی : اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–28

وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔ بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

13:۔ ” انا کنا من۔ الایۃ “ یہ ماقبل کی علت ہے اور بیان توحید ہے علی سبیل الترقی از سورة سابقہ اور ثمرہ توحید۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں جہنم سے بچا لیا۔ اس لیے کہ ہم دنیا میں صرف حاجات و مصائب میں اسی کو پکارتے تھے اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتے تھے۔ یہ عذاب سے محفوظ رہنا توحید پر قائم رہنے ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی محسن و مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–28

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْہُ۝ 0 ۭ اِنَّہٗ ہُوَالْبَرُّ الرَّحِيْمُ۝ 28 ۧ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْہُ ط اِنَّـہٗ ھُوَالْبَرُّالرَّحِیْمُ ۔ (الطور : 28) (ہم اس سے پہلے اسی کو پکارتے تھے، بیشک وہ بڑا ہی باوفا اور رحیم ہے۔ ) تمام کامیابیوں کی کلید ہمیں چونکہ ہمیشہ اپنی اور اپنی اولاد کی فکر دامن گیر رہی اور ہم نے دنیا کو بھی دین کا ذریعہ بنایا۔ دنیا کو ایک ضرورت سمجھا اور دین کو مقصدحیات ٹھہرایا۔ اسی احساس کے تحت ہم نے ہمیشہ اپنے رب کو پکارا۔ اس راہ میں جو بھی مشکل پیش آئی اسی سے مدد مانگی۔ اور ہر چیز کی رہنمائی کے لیے اسی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج اس کی طرف سے ہم پر انعامات اور نعمتوں کی بارش ہورہی ہے۔ اور اس نے دنیا میں اپنے رسول اور کتاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–28

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کی آپس میں گفتگو اور اظہار تشکر۔ جنتی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور آپس میں خوش گپیاں کرنے کے باوجود ہر دم اس بات کا خیال رکھیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل نہ کرتا تو ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح جہنم کے عذاب میں جل رہے ہوتے۔ رب کریم کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کے جلادینے والے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا۔ ہم دنیا میں اپنے اہل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے رب سے ڈرا کرتے اور اس سے اس کی رحمت مانگا کرتے تھے۔ اس نے ہماری دعاؤں کو قبول کیا، ہم پر مہربانی فرمائی اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا کیونکہ وہ بہت ہی احسان فرمانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 28 : اِنَّا کُنَّا مِنْ قَبْلُ (ہم اس سے پہلے) اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کی بارگاہ میں پہنچنے سے پہلے یعنی دنیا میں۔ نَدْعُوْہُ (اسی سے دعائیں مانگا کرتے تھے) اسی کی عبادت کرتے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرتے تھے اور اسی سے جہنم سے بچنے کا سوال کرتے تھے۔ اِنَّہٗ ہُوَ الْبَرُّ الرَّحِیْمُ (وہ بڑا محسن و مہربان ہے) البر : محسن الرحیم : ایسی عظیم رحمت والا کہ جب اس کی عبادت کی جائے تو وہ بدلہ دیتا ہے۔ جب اس سے سوال کیا جائے تو قبولیت بخشتا ہے۔ قراءت : اَنَّہٗ فتحہ کے ساتھ مدنی ٗ علی نے پڑھا ہے۔ باء کو محذوف یا لام کو محذوف مانا ہے۔ بانہٗ او لاَنَّہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” فمن اللہ علینا “ مغفرت کے ساتھ۔ ” ووقانا عذاب السموم “ کلبی (رح) فرماتے ہیں جہنم کے عذاب سے اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” السموم “ جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–28

24۔ 28۔ جو موتی کام میں لایا جائے وہ ذرا میلا ہوجاتا ہے ان غلاموں کا رنگ ایسا آبدار ہوگا جس طرح بےکام میں لایا ڈبیا میں رکھا ہوا موتی آبدار ہوتا ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ مشرکوں کے نابالغ بچے جو مرجاتے ہیں یہ وہی ہیں لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جنت میں اگرچہ غلام اور خدمت گار کی کچھ ضرورت نہیں وہاں سب کام اللہ کے حکم سے خود ہوجایا کریں گے لیکن عزت اور احتشام بڑھانے کے لئے ادنیٰ اہل جنت کو اسی ہزار غلام دیئے جائیں گے چناچہ ترمذی میں 1 ؎ ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس سند میں رشدین بن سعد کو منفرد کہا ہے جو بعض علماء کے نزدیک ضعیف ہے لیکن صحیح ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوْهُ ۭ ) بیشک اس سے پہلے ہم اس سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ وہ ہمیں عذاب سموم سے بچائے اور نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے۔ یہ جملہ دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں کو شامل ہے۔ یعنی ہم مختلف عبادات کے ذریعے سے اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور تمام اوقات میں اس کو پکارتے تھے (اِنَّهٗ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيْمُ ) پس ہم پر اس کا احسان اور رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنی رضا اور جنت سے بہرور کیا اور اپنی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے بچایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

[ 35] عقیدہ توحید صلاح و فلاح دارین کی اصل اصیل : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کی نجات میں اصل عامل کی حیثیت عقیدہ توحید ہی کی ہے۔ چناچہ اہل جنت اپنی فائز المرامی کے بارے میں اور اس سے سرفرازی کے اسباب کے ذکر کے سلسلے میں کہیں گے کہ بلاشبہ اس سے پہلے یعنی دنیا میں ہم لوگ اسی وحدہٗ لاشریک کو پکارا کرتے تھے، اور امید وہم اور خوف و درجاء کی ہر حالت میں ہم اسی کی طرف رجوع کیا کرتے تھے اور اس کے سوا اور کسی کو نہ ہم نے کبھی اس کا شریک وسہیم جانا اور نہ اس کے سوا اور کسی کو ہم نے کبھی پوجا پکارا۔ یعنی ہم عقیدہ توحید اور اس کی حقیقت سے آگاہ، سرفراز، اور اس کئی لذت و حلاوت سے سرشار تھے،…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:28) من قبل۔ ای من قبل ھذا : اس سے قبل۔ کنا ندعوۃ۔ ماضی استمراری جمع متکلم دعاء دعوۃ (باب نصر) ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ ہم اس سے دعا کیا کرتے تھے۔ یعنی عذاب دوزخ سے بچنے کی دعا مانگا کرتے تھے یا اس کی ہی عبادت کیا کرتے تھے۔ البر : احسان کرنے والا۔ نیک سلوک کرنے والا۔ بر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے بر (یعنی زمین اور خبگل) کے معنی میں چونکہ وسعت کا تصور موجود ہے اس لئے اس سے بر کا استقاق ہوا۔ جس کے معنی خوب نیکی کرنے کے ہیں۔ چناچہ بر کی نسبت کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے انہ ھو البر الرحیم (آیت ہذا) بیشک وہی ہے بڑا احسان کرنے والا مہربان۔ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے وبرا بوالدیہ (19:14) (اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–28

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–28

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–29

[10] یعنی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھئے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آدمی اکثر جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–33

اعمال کی اصلی حیثیت 1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) ہم اس عالم سے پہلے اسی کو پکارا کرتے تھے اور اس سے ہی دعائیں کرتے تھے واقعی وہ بڑا محسن اور نہایت مہربان ہے۔ یعنی دنیا میں اس کی عبادت کرتے تھے اسی سے دعائیں کیا کرتے تھے کہ ہم کو عذاب سے بچائیو اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھیں اس سے پہلے یعنی عالم آخرت سے پہلے یا اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–29

ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام و دوام علی التذکیر ہے گو لوگ کچھ ہی بکیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتے تھے بلاشبہ وہ بہت احسان کرنے والا ہے : 28: البر ، احسان کرنے والا ، نیک سلوک کرنے والا ، اس کا مادہ ب ر ر ہے اور بر سے صفت مشبہ کا صیغہ بر کے معنی جنگل اور زمین کے بھی ہیں چونکہ اس میں وسعت کا تصور موجود ہے اس لیے اس سے بر کا اشتقاق ہوا جس کے معنی خوب نیکی کرنے کے ہیں چناچہ بر کی نسبت کبھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے زیر نظر آیت میں اور کبھی بندہ کی طرف جیسے و برا بوالدیہ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہے۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے اس کا استعمال ہوگا تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوں گے اور جب یہ لفظ بندہ کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–36

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said: "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

21 The word samum in the original means hot, scorching wind; here it implies the waves of hot wind that will be arising from Hell.

Read the full tafseer →