Explained with ayahs 21–28
صالح اولاد انمول اثاثہ
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
سورة الطُّوْر 21
اصل میں لفظ سَمُوم استعمال ہوا ہے جس کے معنی سخت گرم ہوا کے ہیں۔ اس سے مراد لو کی وہ لپیٹیں ہیں جو دوزخ سے اٹھ رہی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…
Read the full tafseer →(فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم) (27) ہمارے اس خوف و اندیشہ کی برکت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا کہ ہم کو اور ہماری اولاد کو اس بہشت میں یکجا کردیا اور آتش دوزخ کی ہوائے گرم سے اس نے ہمیں محفوظ رکھا۔ سموم ہوائے گرم اور آگ کی آنچ کو کہتے ہیں۔ یہ اسلوب بیان اللہ تعالیٰ کی غایت درجہ لطف و احسان کی تعبیر کے لیے وہ اختیار فرمائیں گے۔ مطلب یہ کہ دوزخ اور آتش دوزخ تو درکنار اللہ تعالیٰ نے اس کی ہوائے گرم سے بھی ہمیں محفوظ رکھا۔
Read the full tafseer →27۔ 1 سَمُوم لو، جھلس ڈالنے والی گرم ہوا کو کہتے ہیں، جہنم کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “
راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
7 یعنی جنتی اس وقت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کریں گے اور غایت مسرت و امتنان سے کہیں گے کہ بھائی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھیے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہ کھٹکا برابر لگا رہتا تھا۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ آج اس نے کیسا مامون و مطمئن کردیا کہ دوزخ کی بھاپ بھی ہم کو نہیں لگی۔ ہم اپنے رب کو ڈر کر اور امید باندھ کر پکارا کرتے تھے۔ آج دیکھ لیا کہ اس نے اپنی مہربانی سے ہماری پکار سنی اور ہمارے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا۔
Read the full tafseer →آیت 27{ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقٰٹنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ۔ } ”تو اللہ نے بڑا احسان کیا ہم پر اور ہمیں بچالیا لو ُ کے عذاب سے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
21 یعنی دنیا میں بیتے ہوئے ایام کی یاد تازہ کرنا چاہیں گے اور کہیں گے ہمیں تو ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ہم سے کوئی ایسا فعل سرنہ زد ہوجائے جس کی پاداش میں اللہ کے حضور ہماری جواب طلبی اور گرفت ہوجائے۔ اور گھر والوں کا ذکر اس لیے کریں گے کہ انسان دنیا میں بہت سے گناہ کے کام محض اہل و عیال کی خاطر کرتا ہے۔ مال و دولت کی ہوس کی وجہ سے اسے مال کمانے میں حرام و حلال کی تمیز نہیں رہتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
11۔ (تو ہماری دعائیں کیوں نہ قبول کرلیتا) آیت سے معلوم ہوا کہ آخرت کو بکثرت یاد کرتے رہنا، اپنے انجام سے ڈرتے رہنا۔ اپنے انجام بخیر کی دعائیں کرتے رہنا مقبولین ومتقین کی علامتوں میں ہیں۔ (آیت) ” انا ..... ندعوہ “۔ یعنی ہم دنیا میں برابر یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ پروردگار ! ہمیں دوزخ سے بچانا اور جنت میں داخل کرنا، سو ہماری دعا سن لی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا
والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…
Read the full tafseer →فمن اللہ علینا ووقنا عذاب السموم .
سو اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔
فَمَنَّ اللہ عَلَیْنَا : یعنی اللہ نے ہم کو توفیق دی ‘ ہماری مغفرت کردی اور رحم فرمایا۔
عَذَاب السَّمُوْمِ : لُو کی طرح مسامات کے اندر گھسنے والی آگ کے عذاب سے۔ حسن نے کہا سموم جہنم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے مغفرت و رحمت اور جنت میں داخل فرما کر ہم پر بڑا احسان کیا اور ہمیں عذاب دوزخ سے بچا لیا اور ہم اس مغفرت سے پہلے اسی کی عبادت کیا کرتے تھے اور اسی کی توحید کے قائل تھے۔
Read the full tafseer →(فمن اللہ علینا و قنا عذاب السموم :”السموم“ ”سم“ (زہر) سے مشتق ہے، زہریلی یو۔ اس کی جمع ”سمائم“ آتی ہے۔ بعض کہتے ہیں یہ ”مسام“ سے ہے جو جسم کے ہر مسام میں داخل ہوجائے۔ یعنی ہم تو شدید خائف تھے کہ اپنی کوتاہیوں اور نافرمانیوں کی وجہ سے جہنم میں نہ پھینک دیئے جائیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہماری خطائیں معاف فرما کر ہمیں جہنم کی زہریلی بو سے بچا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جو دنیا میں انہیں لا حق ہوتی تھی اور خوف کے ختم ہونے پر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایک دوسرے کو کہیں گے تو اس بلند مقام پر کیسے پہنچا۔ قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین، ہر مسئول اپنے سائل سے یہی بات کرے گا یعنی ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا کرتے تھے۔ فمن اللہ علینا اللہ تعالیٰ نے جنت اور مغفرت عطا فرما کر ہم پر احسان کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : توفیق اور ہدایت دے کر ہم پر احسان کیا گیا۔ ووقنا عذاب السموم، حضرت حسن بصری نے کہا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) علی ہنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) یعنی دنیا میں۔
9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) یعنی آگ کے بھڑکنے اور جلنے سے۔
عذاب '' سموم '' کی شدت :
10:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ عذاب سموم میں سے زمین والوں پر ایک پورے کے برابر کھول دیں تو زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب کو جلاکر راکھ کردے۔
11:۔ عبد الرزاق وابن ابی شیبہ (رح)…
Read the full tafseer →فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا [ تو احسان کیا اللہ نے ہم پر ] وَوَقٰىنَا [ اور اس نے بچایا ہم کو ] عَذَابَ السَّمُوْمِ [ جھلس دینے والی لو کے عذاب سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
جام کی چھینا جھپٹی :
اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
13:۔ ” انا کنا من۔ الایۃ “ یہ ماقبل کی علت ہے اور بیان توحید ہے علی سبیل الترقی از سورة سابقہ اور ثمرہ توحید۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں جہنم سے بچا لیا۔ اس لیے کہ ہم دنیا میں صرف حاجات و مصائب میں اسی کو پکارتے تھے اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتے تھے۔ یہ عذاب سے محفوظ رہنا توحید پر قائم رہنے ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی محسن و مہربان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…
Read the full tafseer →فَمَنَّ اللہُ عَلَيْنَا وَوَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ 27
منن
والمِنَّةُ : النّعمة الثّقيلة، ويقال ذلک علی وجهين : أحدهما : أن يكون ذلک بالفعل، فيقال : منَّ فلان علی فلان : إذا أثقله بالنّعمة، وعلی ذلک قوله : لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 164]
والثاني : أن يكون ذلک بالقول،
وذلک مستقبح فيما بين الناس إلّا عند کفران النّعمة، ولقبح ذلک قيل : المِنَّةُ تهدم الصّنيعة «4» ، ولحسن ذكرها عند الکفران قيل : إذا کفرت النّعمة حسنت المنّة . وقوله : يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلامَكُمْ [ الحجرات/ 17] فالمنّة منهم بالقول، ومنّة اللہ عليهم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔
تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…
Read the full tafseer →فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَوَقٰـنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ ۔ (الطور : 27)
(تو اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدر افزائی
ہمارے اسی احساس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہم پر کرم فرمایا۔ ہمیں بھی نیکی کی توفیق دی اور ہمارے بچوں کو بھی۔ اور مزید یہ احسان یہ فرمایا کہ ہمیں نہ صرف جنت عطا فرمائی اور جہنم سے بچایا بلکہ جہنم کی بادسموم سے بھی ہمیں محفوظ رکھا۔ عرب میں بادسموم ایسی گرم ہوا کو کہتے تھے جس کے چلنے سے بعض دفعہ ناک سے خون جاری ہوجاتا تھا اور آدمی یوں محسوس کرتا تھا جیسے اس پر آگ کے تھپڑے پڑ رہے ہوں۔ اور جہاں تک دوزخ کی بادسموم کا تعلق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کی آپس میں گفتگو اور اظہار تشکر۔
جنتی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور آپس میں خوش گپیاں کرنے کے باوجود ہر دم اس بات کا خیال رکھیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل نہ کرتا تو ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح جہنم کے عذاب میں جل رہے ہوتے۔ رب کریم کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کے جلادینے والے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا۔ ہم دنیا میں اپنے اہل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے رب سے ڈرا کرتے اور اس سے اس کی رحمت مانگا کرتے تھے۔ اس نے ہماری دعاؤں کو قبول کیا، ہم پر مہربانی فرمائی اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا کیونکہ وہ بہت ہی احسان فرمانے…
Read the full tafseer →آیت 27 : فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْنَا (پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا) مغفرت و رحمت کے ساتھ۔ وَوَقٰنَا عَذَابَ السَّمُوْمِ (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) السموم : ایسی گرم ہوا جو مسامات میں داخل ہوجائے۔ جہنم کی آگ کو یہ نام دیا گیا کیونکہ وہ بھی مسامات میں داخل ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →26 ۔” قالوانا کنا قبل فی اھلنا “ دنیا میں۔ ” مشفقین “ عذاب سے ڈرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
24۔ 28۔ جو موتی کام میں لایا جائے وہ ذرا میلا ہوجاتا ہے ان غلاموں کا رنگ ایسا آبدار ہوگا جس طرح بےکام میں لایا ڈبیا میں رکھا ہوا موتی آبدار ہوتا ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ مشرکوں کے نابالغ بچے جو مرجاتے ہیں یہ وہی ہیں لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جنت میں اگرچہ غلام اور خدمت گار کی کچھ ضرورت نہیں وہاں سب کام اللہ کے حکم سے خود ہوجایا کریں گے لیکن عزت اور احتشام بڑھانے کے لئے ادنیٰ اہل جنت کو اسی ہزار غلام دیئے جائیں گے چناچہ ترمذی میں 1 ؎ ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس سند میں رشدین بن سعد کو منفرد کہا ہے جو بعض علماء کے نزدیک ضعیف ہے لیکن صحیح ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ ) اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں (قالوا) یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انہیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے کہیں گے (انا کنا قبل) بلاشبہ اس سے پہلے ہم یعنی دنیا کے گھر میں (فی اھلنا مشفقین) اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کرلیا۔ (فمن اللہ علینا) تو اللہ نے ہدایت اور توفیق کے ساتھ ہم پر احسان فرمایا (ووقنا عذاب السموم) اور کرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سختی ہوگی ہمیں…
Read the full tafseer →[ 34] خوف خداوندی ذریعہ نجات و سرفرازی :
سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خوف خداوندی اور اندیشہئِ آخرت ذریعہئِ نجات اور باعث سرفرازی وفائز المرامی ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت دوزخ سے بچاؤ اور جنت سے سرفرازی کے بارے میں کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر احسان فرمایا اور ہمیں بچا دیا دوزخ کے اس عذاب سے۔ یعنی احسان در احسان سے نوازا کہ اول تو ایمان اور عمل صالح کی توفیق بخشی، پھر اس پر استقامت نصیب فرمائی، اور پھر اسے شرف قبولیت سے سرفراز فرما کر ہمیں اس ہولناک آگ کے سخت عذاب سے بچا لیا، جو کہ مسام جان کے اندر گھس گھس جاتی ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ اگر اس آگ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →ف 5 سموم کے لفظی معنی لو (جھلس ڈالنے والی گرم ہوا) کے ہیں اور یہ دوزخ کے ناموں میں سے ایک نام بھی ہے۔ اس لئے متن میں اس کا ترجمہ دوزخ کیا گیا ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اگر سموم کے عذاب میں سے اللہ تعالیٰ ایک پورا برابر دنیا والوں پر ڈال دے تو زمین سمیت سب جل کر راکھ ہوجائیں۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(52:27) من اللہ : من ماضی واحد مذکر غائب من (باب نصر) مصدر۔ اس نے بڑا احسان کیا۔ یعنی ہم کو توفیق دی۔ ہماری مغفرت کردی، اور رحم فرمایا۔ ممنون احسان مند۔
وقنا۔ وقی ماضی واحد مذکر غائب۔ وقایۃ (باب ضرب) مصدر۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم۔ اس نے ہم کو بچا لیا۔
عذاب السموم مضاف مضاف الیہ مل کر وقی کا مفعول ثانی) ۔ السموم۔ لو۔ تیز بھاپ۔ وہ گرام ہوا جو زہر (سم) کا سا اثر کرے، سموم کہلاتی ہے۔ مؤنث ہے اس کی جمع سمائم ہے۔ باد سموم۔ وہ ہوا جو عرب کے صحراؤں میں چلتی ہے اور زہر کا اثر رکھتی ہے
ترجمہ : اور اس نے ہم کو گرم لو (زہر کی سی اثر والی لو) سے بچا لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28
فکھین دل بہانے والاے
ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 28
کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–29
[10] یعنی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھئے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آدمی اکثر جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–33
اعمال کی اصلی حیثیت
1: اہل جنت جب اللہ تعالیٰ کی نعمت ہائے گوناگوں کو دیکھیں گے اور محسوس کرینگے کہ یہاں کامل صحت اور مسرت کا سامان موجود ہے ۔ نواز راہ شکر گزاری آپس میں اللہ کے اس احسان عظیم کا تذکرہ کرینگے ۔ کہ دنیا میں ہم عاقبت سے بہت ڈرتے تھے ۔ اور خشیت اور خوف کے جذبات ہم پر طاری رہتے تھے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ کہ اس نے عذاب نار سے بچا لیا ۔ گویا یہ پاکباز نفوس اس وقت بھی کبروغرور کی آسودگی سے اپنے دامن کو ملوث نہ کرینگے ۔ اس وقت بھی یہی کہیں گے ۔ کہ اس مقام بلند تک رسائی جو ہوئی ہے ۔ تو محض اس کے کرم اور مہربانی کی وجہ سے دورنہ ہمارے اعمال اس لائق کہاں تھے کہ اس درجہ انعام…
Read the full tafseer →(27) پس اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا۔ سمول اصل میں گرم ہوا کو کہتے ہیں یہاں دوزخ مراد ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی دوزخ کی بھاپ بھی نہ لگی۔
خلاصہ : یہ کہ دنیا میں ڈرنا آج کام آیا اور جہنم کی آگ اور اس کے عذاب سے محفوظ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام و دوام علی التذکیر ہے گو لوگ کچھ ہی بکیں۔
Read the full tafseer →پھر بلاشبہ اللہ نے ہم پر بڑا احسان فرمایا کہ ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا
27 ؎ وہ آپس میں دوران گفتگو اپنے جنت میں پہنچنے کا ذکر بھی کریں گے اور اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے احسان کا تذکرہ بھی ہوگا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہم کو نیک کاموں کی توفیق عطا نہ کرتا تو آج ہم بھی عذاب میں پھنسے ہوتے اور یہ بھی کہ ہمارے اعمال پر کیا انحصار ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کا ہم پر احسان ہے کہ اس نے ہم کو اہل النار سے نہ کیا بلکہ اہل الجنتہ میں شمار فرمایا ورنہ اس وقت ہم بھی نہ معلوم کس عذاب میں پھنسے ہوتے اور ہمارا بھی کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔ وہ لوگ جو دوسروں کے سہارے اور آسرے پر اس دن کو بھول ہی بیٹھے تھے آج وہ کہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
21 The word samum in the original means hot, scorching wind; here it implies the waves of hot wind that will be arising from Hell.
Read the full tafseer →