At-Tur 52:26

At-Tur · from ayah 26

52:26

قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِیْۤ اَهْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۟قَالُـوۡۤا اِنَّا كُـنَّا قَبۡلُ فِىۡۤ اَهۡلِنَا مُشۡفِقِيۡنَ

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will say, "Indeed, we were previously among our people fearful [of displeasing Allah].

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:26

یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں (خدا سے) ڈرتے رہتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے درمیان بہت ڈرا کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہیں گے کہ : ہم پہلے جب اپنے گھر والوں (یعنی دنیا) میں تھے تو ڈرے سہمے رہتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں سہمے ہوئے تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہیں گے: بیشک ہم اس سے پہلے اپنے گھروں میں (عذابِ الٰہی سے) ڈرتے رہتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہیں گے بلاشبہ ہم اس سے پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرنے والے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہیں گے : اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں میں ڈرتے ڈرتے رہا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہیں گے۔ ہم اس سے پہلے اپنے اہل و عیال کے باب میں بڑے ہی چوکنے رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے (دنیا میں) اپنے گھر والوں میں ڈرتے رہا کرتے تھے (اپنے رب کی ناراضگی و پکڑ سے)

— مولانا اسحاق مدنی

(اور یہ بھی) کہیں گے کہ ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں ڈرتے ہوئے رہتے تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہیں گے کہ اس سے پہلے ہم اپنے گھر میں اللہ سے ڈرتے رہتے تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They will say: “When we were living before among our kinsfolk we lived in constant fear (of Allah's displeasure).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will say, :Indeed we were afraid (of Allah‘s punishment) when we were amidst our family,

— Muhammad Taqi Usmani

They will say, :Indeed we were afraid (of Allah‘s punishment) when we were amidst our family,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Saying: "Aforetime, we were afraid in the midst of our families."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Saying: Lo! of old, when we were with our families, we were ever anxious;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will say, "Indeed, we were previously among our people fearful [of displeasing Allah].

— Saheeh International

saying, "We were afraid while in the world.

— Muhammad Sarwar

Saying: Surely we feared before on account of our families:

— Muhammad Habib Shakir

They will say: verily we were aforetime, midst our household, ever in dread.

— Abdul Majid Daryabadi

They will say: "Aforetime, we were not without fear for the sake of our people.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:26

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–28

صالح اولاد انمول اثاثہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 20 یعنی ہم وہاں عیش میں منہمک اور اپنی دنیا میں مگن ہو کر غفلت کی زندگی نہیں گزار رہے تھے، بلکہ ہر وقت ہمیں یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ کہیں ہم سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے جس پر خدا کے ہاں ہماری پکڑ ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں کے درمیان ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہے۔ اسی کے لیے وہ حرام کماتا ہے، دوسروں کے حقوق پر ڈاکے ڈالتا ہے، اور طرح طرح کی ناجائز تدبیریں کرتا ہے۔ اسی بنا پر اہل جنت آپس میں کہیں گے کہ خاص طور پر جس چیز نے ہمیں عاقبت کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–28

بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین (26) جواب دینے والے جواب دیں گے کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں اپنے اہل و عیال کے اندر ڈرنے والے رہے ہیں۔ اپنی عاقبت کے ساتھ برابر ان کی عاقبت کی بھی ہمیں فکر رہی ہے۔ ہم اس غرور میں کبھی مبتلا نہیں ہوئے کہ ہمارا بڑا خاندان اور بڑا کنبہ و قبیلہ ہے اور اس دنیا میں ہمیں جو کچھ حاصل ہے یہ ہمارا پیدائشی اور خاندانی حق ہے، اس کو کوئی ہم سے چھین نہیں سکتا۔ ہم نے آخرت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا اور اپنے رب سے برابر یہ دعا کی کہ قیامت کے دن وہ ہمیں صالحین کے سربراہ کی حیثیت سے اٹھائے۔ فتاق کے پیشوا کی حیثیت سے نہ اٹھائے، ہم نے اپنی اولاد کو ہمیشہ نماز، زکوٰۃ اور خدا سے ڈرتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

26۔ 1 یعنی اللہ کے عذاب سے۔ اس لئے اس عذاب سے بچنے کا اہتمام بھی کرتے رہے، اس لئے کہ انسان کو جس چیز کا ڈر ہوتا ہے، اس سے بچنے کے لئے وہ تگ و دو کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 24–30

6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 25–27

واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “ راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 25–28

7 یعنی جنتی اس وقت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کریں گے اور غایت مسرت و امتنان سے کہیں گے کہ بھائی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھیے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہ کھٹکا برابر لگا رہتا تھا۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ آج اس نے کیسا مامون و مطمئن کردیا کہ دوزخ کی بھاپ بھی ہم کو نہیں لگی۔ ہم اپنے رب کو ڈر کر اور امید باندھ کر پکارا کرتے تھے۔ آج دیکھ لیا کہ اس نے اپنی مہربانی سے ہماری پکار سنی اور ہمارے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 26{ قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ۔ } ”وہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے اہل و عیال میں ڈرتے ہوئے رہتے تھے۔“ دنیا میں اپنے اہل و عیال اور عزیز و اقارب کے درمیان معمول کی زندگی بسر کرتے ہوئے ہمیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ نہ معلوم ہمارے اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر بھی پائیں گے یا نہیں۔ نہ معلوم نیک اعمال کی قبولیت کے لیے مطلوبہ معیار کا اخلاص ہمارے دلوں میں ہے بھی یا نہیں۔ کہیں ہم سے کوئی ایسی غلطی سرزد نہ ہوجائے جو ہماری ساری محنت کو بھی اکارت کر دے۔ ایسے اندیشے اور خدشے ہر لمحہ ہمیں دامن گیر رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

21 یعنی دنیا میں بیتے ہوئے ایام کی یاد تازہ کرنا چاہیں گے اور کہیں گے ہمیں تو ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ ہم سے کوئی ایسا فعل سرنہ زد ہوجائے جس کی پاداش میں اللہ کے حضور ہماری جواب طلبی اور گرفت ہوجائے۔ اور گھر والوں کا ذکر اس لیے کریں گے کہ انسان دنیا میں بہت سے گناہ کے کام محض اہل و عیال کی خاطر کرتا ہے۔ مال و دولت کی ہوس کی وجہ سے اسے مال کمانے میں حرام و حلال کی تمیز نہیں رہتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 25–26

10۔ (اپنے انجام کار سے) (آیت) ” قبل فی اھلنا “۔ یعنی جب دنیا میں اپنے گھرو الوں کے ساتھ رہتے سہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–28

بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین کہیں گے ہم اس سے پہلے اپنے گھر (یعنی دنیا) میں بہت ڈرا کرتے تھے ‘ قَالُوْٓا : کہیں گے۔ اِنَّا کُنَّا قَبْلُ : اس سے پہلے دنیا میں۔ مُشْفِقِیْنَ : اللہ کے عذاب سے ڈرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور جنتی آپس میں ملاقات کے وقت دنیا کا بھی تذکرہ کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تو جنت میں داخل ہونے سے پہلے دنیا میں اپنے گھر والوں کے ساتھ عذاب خداوندی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(قالوا انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین : یعنی وہ کہیں گے کہ ہم اس سے پہلے دنیا میں اپنے گھر والوں میں رہتے ہوئے ہر قسم کی آسائشو کے باوجود ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں ہم سے اللہ کی نافرمانی نہ ہوجائے، ہماری نیکیاں نامقبول نہ ہوجائیں اور ہمارے اعمال کی شامت سے ہمارا خاتمہ خراب نہ ہوجائے۔”فی اھلنا“ (اپنے گھروالوں میں) کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کے بارے میں ڈرتے رہتے تھے کہ وہ اللہ کے نافرمان نہ بن جائیں اور نافرمانی کے نتیجے میں جہنم کا ایندھن نہ بن جائیں، اور یہ بھی کہ ان کی وجہ سے کہیں ہم راہ راست سے نہ بھٹک جائیں، ان کی خاطر کمائی کرتے کرتے حرام کاموں کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 25–27

واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جو دنیا میں انہیں لا حق ہوتی تھی اور خوف کے ختم ہونے پر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایک دوسرے کو کہیں گے تو اس بلند مقام پر کیسے پہنچا۔ قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین، ہر مسئول اپنے سائل سے یہی بات کرے گا یعنی ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا کرتے تھے۔ فمن اللہ علینا اللہ تعالیٰ نے جنت اور مغفرت عطا فرما کر ہم پر احسان کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : توفیق اور ہدایت دے کر ہم پر احسان کیا گیا۔ ووقنا عذاب السموم، حضرت حسن بصری نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–29

8:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) علی ہنے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (ہم اس سے پہلے اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) یعنی دنیا میں۔ 9:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین '' (اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا) یعنی آگ کے بھڑکنے اور جلنے سے۔ عذاب '' سموم '' کی شدت : 10:۔ ابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ عذاب سموم میں سے زمین والوں پر ایک پورے کے برابر کھول دیں تو زمین اور جو کچھ اس کے اوپر ہے سب کو جلاکر راکھ کردے۔ 11:۔ عبد الرزاق وابن ابی شیبہ (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالُوْٓا اِنَّا كُنَّا [ وہ کہیں گے بیشک ہم تھے ] قَبْلُ [اس سے پہلے ] فِيْٓ اَهْلِنَا [ اپنے گھر والوں میں ] مُشْفِقِيْنَ [ ڈرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–28

جام کی چھینا جھپٹی : اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–28

وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔ بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

13:۔ ” انا کنا من۔ الایۃ “ یہ ماقبل کی علت ہے اور بیان توحید ہے علی سبیل الترقی از سورة سابقہ اور ثمرہ توحید۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہمارے گناہ معاف فرمائے اور ہمیں جہنم سے بچا لیا۔ اس لیے کہ ہم دنیا میں صرف حاجات و مصائب میں اسی کو پکارتے تھے اور اس کی پکار میں کسی کو شریک نہیں کرتے تھے۔ یہ عذاب سے محفوظ رہنا توحید پر قائم رہنے ہی کا ثمرہ و نتیجہ ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی محسن و مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–28

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِيْٓ اَہْلِنَا مُشْفِقِيْنَ۝ 26 أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَھْلِنَا مُشْفِقِیْنَ ۔ (الطور : 26) (یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ ) اہلِ جنت کے احساس کی سلامتی اہلِ جنت ایک دوسرے کو بتائیں گے کہ ہمیں زندگی میں جس طرح اپنی فکر رہی کہ کوئی کام ایسا ہم سے سرزد نہ ہونے پائے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اور اپنی ہمت کے مطابق ہم نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کی کوشش کی۔ اسی طرح ہم اپنے بچوں کی تربیت میں بھی اسی تصور سے گراں بار رہے کہ اللہ تعالیٰ نے بچوں کی تربیت کی ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے اور قیامت کے دن اس حوالے سے بازپرس ہونے والی ہے۔ کہیں ایسا نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 25–28

فہم القرآن ربط کلام : جنتی کی آپس میں گفتگو اور اظہار تشکر۔ جنتی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور آپس میں خوش گپیاں کرنے کے باوجود ہر دم اس بات کا خیال رکھیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل نہ کرتا تو ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح جہنم کے عذاب میں جل رہے ہوتے۔ رب کریم کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کے جلادینے والے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا۔ ہم دنیا میں اپنے اہل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے رب سے ڈرا کرتے اور اس سے اس کی رحمت مانگا کرتے تھے۔ اس نے ہماری دعاؤں کو قبول کیا، ہم پر مہربانی فرمائی اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا کیونکہ وہ بہت ہی احسان فرمانے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیا میں رحمت کے چھن جانے کا خطرہ تھا : آیت 26 : قَالُوْٓا اِنَّا کُنَّا قَبْلُ (وہ کہیں گے۔ ہم اس سے پہلے) دنیا کی زندگی میں۔ فِیْ اَہْلِنَا مُشْفِقِیْنَ (اپنے گھر میں بہت ڈرا کرتے تھے) نمبر 1۔ مشفقین۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت سے ہمارے دل نرم تھے۔ یا نمبر 2۔ ایمان کے کھینچ اور فوت ہوجانے اور رحمت کے چھن جانے کا ڈر رکھتے تھے۔ نمبر 3۔ نیکیوں کے مسترد ہوجانے اور گناہوں کے بدلے پکڑ لیے جانے سے ڈرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

25 ۔” واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون “ ایک دوسرے سے جنت میں سوال کریں گے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں دنیا کی مشقتیں اور خوف کو یاد کریں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 24–28

24۔ 28۔ جو موتی کام میں لایا جائے وہ ذرا میلا ہوجاتا ہے ان غلاموں کا رنگ ایسا آبدار ہوگا جس طرح بےکام میں لایا ڈبیا میں رکھا ہوا موتی آبدار ہوتا ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ مشرکوں کے نابالغ بچے جو مرجاتے ہیں یہ وہی ہیں لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جنت میں اگرچہ غلام اور خدمت گار کی کچھ ضرورت نہیں وہاں سب کام اللہ کے حکم سے خود ہوجایا کریں گے لیکن عزت اور احتشام بڑھانے کے لئے ادنیٰ اہل جنت کو اسی ہزار غلام دیئے جائیں گے چناچہ ترمذی میں 1 ؎ ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس سند میں رشدین بن سعد کو منفرد کہا ہے جو بعض علماء کے نزدیک ضعیف ہے لیکن صحیح ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 25–27

وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ ) اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں (قالوا) یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انہیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے کہیں گے (انا کنا قبل) بلاشبہ اس سے پہلے ہم یعنی دنیا کے گھر میں (فی اھلنا مشفقین) اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کرلیا۔ (فمن اللہ علینا) تو اللہ نے ہدایت اور توفیق کے ساتھ ہم پر احسان فرمایا (ووقنا عذاب السموم) اور کرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سختی ہوگی ہمیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–26

[ 32] اہل جنت کے لطف و سرور کے ایک اور منظر کا ذکر وبیان : یعنی یہ کہ اہل جنت وہاں پر آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اس کے احوال پوچھیں گے۔ یعنی اپنے دنیاوی حال و احوال کے بارے میں۔ تاکہ وہاں کی تنگی و تکلیف کے مقابلے میں جنت کی ان نعمتوں کو دیکھ کر ان کی لذت و سرور میں اضافہ ہوتا جائے، اور کافروں کو بھی دنیاوی عیش و عشرت یاد ہوگی، تاکہ اس طرح ان کو دوزخ کے عذاب کی اذیت و تکلیف اور زیادہ محسوس ہو، [ کبیر، مراغی، اور صفوہ وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو جس طرح کٹھن اور لمبا سفر طے کرنے کے بعد منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد مسافر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، اور حال دریافت کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:26) قالوا : ماضی بمعنی مستقل ، وہ کہیں گے۔ انا کنا قبل : اس سے پہلے دنیا میں ہم ۔ مشفقین اسم فاعل جمع مذکر منصوب بوجہ کنا کی خبر کے۔ ڈرنے والے۔ اشفاق (افعال) مصدر۔ مشفق واحد۔ باب افعال) شفق کا معنی ہے غروب آفتاب کے وقت روشنی کا تاریکی سے اختلاط۔ اسی لئے جو محنت خوف کے ساتھ مخلوط ہو اس کو شفقت کہتے ہیں۔ باب افعال سے اشفاق کا معنی ہوگا۔ ایسی محبت کرنا جس میں خوف بھی لگا ہوا ہو۔ کیونکہ مشفق ہمیشہ مشفق علیہ کو محبوب سمجھتا ہے اور اسے تکلیف نہ پہنچنے سے ڈرتا ہے۔ ماں کا بچے کی بابت ڈرتے رہنا کہیں اسے تکلیف نہ پہنچے۔ باب افعال سے اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) اگر من کے واسطہ سے متعدی ہو تو اس میں…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–28

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–28

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–29

[10] یعنی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھئے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہاں خاص طور پر اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرنے کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آدمی اکثر جس وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے بال بچوں کو عیش کرانے اور ان کی دنیا بنانے کی فکر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–26

اہل دوزخ 1: غرض کہ لفظ قرآن حکیم میں عموماً برے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مقصود وکفر والحاد میں شغف اور انہماک ہے ۔ برائی اور معصیت سے لگاؤ ہے ۔ اور فسق وفجور سے محبت ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت برے عذاب میں گرفتار ہوں گے ۔ دنیا میں تو غفلت کے پردے ان کی آنکھوں پر پڑے تھے ۔ اور یہ لوگ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے اور سوچتے بھی تھے تو یہ کہ کس طرح اس آفتاب نبوت کی روشنی سے لوگوں کو محروم رکھا جاسکتا ہے ۔ مگر اب دونوں آنکھیں کھلیں گی ۔ بصیرت کی بھی اور بصارت کی بھی ۔ یہاں یہ دیکھیں گے کہ فرشتے پکڑ پکڑ کر ان کو دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اور کہہ رہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(26) دوران گفتگو میں کہیں گے ہم ا س سے پہلے اپنے گھر میں اور گھر والوں میں بہت ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہر وقت انجام سے ڈرا کرتے تھے دنیا میں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–29

ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام و دوام علی التذکیر ہے گو لوگ کچھ ہی بکیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک دوسرے سے کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے 26 ؎ وہ آپس میں مصروف گفتگو ہوں گے تو دنیا کی زندگی کے متعلق بھی ان کو بہت کچھ یاد آئے گا اور وہ اس بات کا ایک دوسرے سے اعتراف کریں گے کہ ہم نے کس طرح اللہ تعالیٰ کا ڈر اختیار کیا اور اپنی زندگی کن کن پابندیوں میں گزاری اور اپنے ماحول کی ساری باتیں ان کو یاد آئیں گی اور دنیاوی زندگی کے سارے ساتھی اور ان کا آپس میں وطیرہ سب یاد آئے گا اس طرح کی گفتگو کا تذکرہ اس سے قبل سورة الاعراف کی آیات 37 سے چل کر 53 تک چلا گیا ہے کہ اہل جنت آپس میں مصروف گفتگو ہوں گے اور اہل دوزخ سے بھی بات چیت کا موقع ان کو فراہم کیا جائے گا وہ بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–36

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said: "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

20 That is, "We were not heedless and living a care-free life of ease and comfort, but we were always on our guard lest we should commit an evil for which we may be held accountable before God." Here, the mention of "...living among our kinsfolk, in fear and dread," in particular, has been made for the reason that man commits evil mostly when he is deeply engrossed in arranging ease and comfort for his children and trying to make their future secure and happy. For the same purpose he earns forbidden things by forbidden means, usurps the rights of others and makes evil plans. That is why the…

Read the full tafseer →