Explained with ayahs 21–28
صالح اولاد انمول اثاثہ
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الطُّوْر 19
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ غِلْمَانُھُمْ نہیں فرمایا بلکہ غِلْمَانٌ لَّہُمْ فرمایا ہے۔ اگر غِلْمَانُہُمْ فرمایا جاتا تو اس سے یہ گمان ہوسکتا تھا کہ دنیا میں ان کے جو خادم تھے وہی جنت میں بھی ان کے خادم بنا دیے جائیں گے، حالانکہ دنیا کا جو شخص بھی جنت میں جائے گا اپنے استحقاق کی بنا پر جائے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ جنت میں پہنچ کر وہ اپنے اسی آقا کا خادم بنادیا جائے جس کی خدمت وہ دنیا میں کرتا رہا تھا۔ بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی خادم اپنے عمل کی وجہ سے اپنے مخدوم کی بہ نسبت زیادہ بلند مرتبہ جنت میں پائے۔ اس لیے غِلْمَانٌ لَّھُمْ فرما کر اس گمان کی گنجائش باقی نہیں رہنے دی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…
Read the full tafseer →(واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون (25)
(اہل جنت کا ایک دوسرے سے دریافت حال)۔ جنت میں مجتمع ہوجانے کے بعد، جس طرح ایک دراز اور کٹھن سفر کے مسافر منزل پر پہنچ کر ایک دوسرے سے دریافت حال کرتے ہیں اسی طرح اہل جنت تڑپ کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے اور پوچھیں گے کہ کہیے کیسے گزری، راہ میں کیسی گھاٹیوں سے گزرنا پڑا، منزل تک کس طرح پہنچتا ہوا اور یہ اہل و عال کی یکجائی کسے نصیب ہوئی۔
Read the full tafseer →25۔ 1 ایک دوسرے سے دنیا کے حالات پوچھیں گے کہ دنیا میں وہ کن حالات میں زندگی گزارتے اور ایمان و عمل کے تقاضے کس طرح پورے کرتے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
واقبل ........ الرحیم (82) (25 : 52 تا 82) ” یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے۔ یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے۔ آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا۔ یہ پچھلی زندگی میں اس سے دعائیں مانگتے تھے۔ وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے۔ “
راز یہ ہے کہ انہوں نے اس دن سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کی۔ وہ اللہ کی ملاقات سے ڈرتے تھے۔ اللہ کے سامنے حساب و کتاب کا انہیں ڈر تھا۔ وہ اپنے اہل و عیال میں تھے لیکن ڈرتے تھے۔ بظاہر وہ اس دنیا کے جھوٹے امن و عافیت میں تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو دھوکہ نہ دیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
7 یعنی جنتی اس وقت ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باتیں کریں گے اور غایت مسرت و امتنان سے کہیں گے کہ بھائی ہم دنیا میں ڈرتے رہتے تھے کہ دیکھیے مرنے کے بعد کیا انجام ہو۔ یہ کھٹکا برابر لگا رہتا تھا۔ اللہ کا احسان دیکھو کہ آج اس نے کیسا مامون و مطمئن کردیا کہ دوزخ کی بھاپ بھی ہم کو نہیں لگی۔ ہم اپنے رب کو ڈر کر اور امید باندھ کر پکارا کرتے تھے۔ آج دیکھ لیا کہ اس نے اپنی مہربانی سے ہماری پکار سنی اور ہمارے ساتھ کیسا اچھا سلوک کیا۔
Read the full tafseer →آیت 25{ وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّـتَسَآئَ لُوْنَ۔ } ”اور وہ اہل جنت ایک دوسرے کی طرف رخ کرکے باہم سوال کریں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
20 نوخیز لڑکے :۔ یہ نوخیز لڑکے بےریش ہوں گے اور ہمیشہ نوخیز ہی رہیں گے۔ ان کی خوبصورتی، صفائی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہوگا جیسے موتی ابھی اپنی صدف میں ہی محفوظ ہوں یا کسی جواہرات والی ڈبیہ میں چھپا دیئے گئے ہوں تاکہ ان پر گردوغبار کا کوئی ذرہ نہ پڑجائے۔ بالفاظ دیگر وہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ ہاتھ لگنے سے بھی میلے معلوم ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
10۔ (اپنے انجام کار سے) (آیت) ” قبل فی اھلنا “۔ یعنی جب دنیا میں اپنے گھرو الوں کے ساتھ رہتے سہتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا
والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…
Read the full tafseer →واقبل بعضھم علی بعض یتسالون
اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے ‘
یَتَسَآءَ لُوْنَ : یعنی باہم ایک دوسرے سے گزشتہ دنیوی احوال اور واقعات پوچھے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : دنیا میں جو خوف اور دکھ تھا باہم اس کا تذکرہ کریں گے۔
اَقْبَلَ : ماضی کا صیغہ ہے لیکن مراد مستقبل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(23۔ 25) یا یہ کہ جنت میں اس کے پینے سے نہ بک بک ہوگی اور نہ کوئی بےہودہ بات اور نہ جھوٹی قسمیں اور نہ آپس میں گالی گلوچ ہوگی اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے آئیں گے جو صفائی اور خوبصورتی میں حفاظت کے ساتھ رکھے ہوئے موتیوں کی طرح ہوں گے جیسا کہ موتی کو گرمی سردی اور گرد و غبار سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون : یعنی اہل جنت ان نعمتوں سے جن کا ذکر اوپر گزرا شاد کام ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک پوچھنے والا بھی ہوگا اور دوسرے کو واب دینے والا بھی کہ سناؤ دنیا میں تم پر کیا کچھ گزرا ؟ پھر اس کی مصیبتوں اور فتنوں سے بچتے بچاتے یہاں جنت میں کیسے پہنچے ؟ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں گزشتہ تمام واقعات یادہوں گے ، چناچہ وہ اپنی حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہیں گے۔ ایک دوسرے سے اس سوال و جواب میں ان کے ابٓاء اور ان کی اولاد کی گفتگو بھی شامل ہے جو ایک درجے میں اکٹھے ہوں گے۔ تو خوشی سے ایک دوسرے سے گزرے ہوئے احوال کے متعلق سوال کریں گے اور موجودہ حالت کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
واقبل بعضھم علی بعض یتساء لون، حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ ایک دوسرے سے سوال کریں گے جو دنیا میں انہیں لا حق ہوتی تھی اور خوف کے ختم ہونے پر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کریں گے (3) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ایک دوسرے کو کہیں گے تو اس بلند مقام پر کیسے پہنچا۔ قالو انا کنا قبل فی اھلنا مشفقین، ہر مسئول اپنے سائل سے یہی بات کرے گا یعنی ہم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا کرتے تھے۔ فمن اللہ علینا اللہ تعالیٰ نے جنت اور مغفرت عطا فرما کر ہم پر احسان کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : توفیق اور ہدایت دے کر ہم پر احسان کیا گیا۔ ووقنا عذاب السموم، حضرت حسن بصری نے کہا :…
Read the full tafseer →قولہ تعالیٰ : (آیت ) '' واقبل بعضھم علی بعض یتسآء لون '' (الآیۃ)
7:۔ البزار نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جنت والے جنت میں داخل ہوں گے تو وہ بھائیوں کی طرف (ملنے کا) شوق کریں گے تو اس (جنتی کے) پلنگ کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اس (جنتی) کے پلنگ کے سامنے آجائے گا۔ پھر وہ دونوں آپس میں باتیں کریں گے یہ بھی ٹیک لگائے گا اور وہ بھی ٹیک لگائے ہوئے ہوگا اور وہ آپ میں اس طرح باتیں کرنے لگیں گے جیسے وہ دنیا میں باتیں کرتے تھے ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہے گا اے فلاں نے کیا تو جانتا ہے کس دن اللہ تعالیٰ ہماری مغفرت فرمائی (وہ کہے گا) جس دن ہم فلاں فلاں مقام پر تھے اور ہم نے اللہ…
Read the full tafseer →وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ [ اور سامنے ہوگا ان کا کوئی ] عَلٰي بَعْضٍ [ کسی کے ] يَّتَسَاۗءَلُوْنَ [باہم پوچھتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
جام کی چھینا جھپٹی :
اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…
Read the full tafseer →12:۔ ” واقبل بعضہم “ یہ اہل جنت کی باہمی گفتگو ہے جس میں وہ اللہ کے انعام و اکرام کا اعتراف اور اس کے احسان کا شکر کریں گے۔ ” یتساءلون “ آپس میں گفتگو کریں گے اور دنیا کے بعض احوال کا ذکر کریں گے۔ وہ کہیں گے دنیا میں تو ہم بہت ہی خائف تھے اور ہمیں ڈر تھا کہ ہم بڑے گنہگار ہیں، اللہ کے عذاب سے کس طرح بچیں گے۔ ” فمن اللہ۔ الایۃ “ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم گنہگاروں پر کتنا بڑا احسان فرمایا کہ محض اپنی رحمت سے ہمارے گناہ معاف فرما دئیے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچالیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…
Read the full tafseer →وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ 25
بعض
بَعْضُ الشیء : جزء منه، ويقال ذلک بمراعاة كلّ ، ولذلک يقابل به كلّ ، فيقال : بعضه وكلّه، وجمعه أَبْعَاض . قال عزّ وجلّ : بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36]
( ب ع ض ) بعض
الشئی ہر چیز کے کچھ حصہ کو کہتے ہیں اور یہ کل کے اعتبار سے بولا جاتا ہے اسلئے کل کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے : بعضہ وکلہ اس کی جمع ابعاض آتی ہے قرآن میں ہے : ۔ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ [ البقرة/ 36] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ۔
سأل
السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔
تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…
Read the full tafseer →وَاَقْبَلَ بَعْضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ ۔ (الطور : 25)
(یہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے دیافتِ حال کرتے ہوئے۔ )
اہلِ جنت کی بےتلف مجلس آرائی
اہلِ جنت جب جنت میں باہم مجلس آرائی کریں گے تو چونکہ ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے اخلاص ہوگا اور کسی کو کسی سے گزند پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہوگا اس لیے نہایت محبت اور پیار سے ایک دوسرے کے احوال معلوم کریں گے اور پھر اسی سلسلے میں دنیا میں گزری ہوئی زندگی کے حالات کے بارے میں بھی سوال کریں گے۔ اور خود جن کٹھن راہوں سے گزرے ہوں گے ان کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک دوسرے سے بھی معلوم کرنا چاہیں گے کہ کیا ان کو بھی ایسی دشواریاں پیش آئیں یا نہیں۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
فہم القرآن
ربط کلام : جنتی کی آپس میں گفتگو اور اظہار تشکر۔
جنتی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور آپس میں خوش گپیاں کرنے کے باوجود ہر دم اس بات کا خیال رکھیں گے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل نہ کرتا تو ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح جہنم کے عذاب میں جل رہے ہوتے۔ رب کریم کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ہمیں جہنم کے جلادینے والے عذاب سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا۔ ہم دنیا میں اپنے اہل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی اپنے رب سے ڈرا کرتے اور اس سے اس کی رحمت مانگا کرتے تھے۔ اس نے ہماری دعاؤں کو قبول کیا، ہم پر مہربانی فرمائی اور ہمیں جہنم سے بچا کر جنت میں داخل فرمایا کیونکہ وہ بہت ہی احسان فرمانے…
Read the full tafseer →آیت 25 : وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسَآئَ لُوْنَ (وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے۔ ایک دوسرے سے حالات دریافت کریں گے اور وہ اعمال پوچھیں گے جن کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ درجات پانے کا مستحق بنا)
Read the full tafseer →24 ۔” ویطوف علیھم “ خدمت کے ساتھ۔ ” غلمان لھم کانھم “ حسن سفیدی اور رونق میں۔ ” لولومکنون “ محفوظ خزانہ جس تک لوگوں کے ہاتھ نہ پہنچے ہوں۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں مکنون یعنی سیپ میں۔ عبداللہ بن عمرو (رح) فرماتے ہیں ہر جنتی کے لئے ہزار غلام دوڑتے ہوں گے اور ہر غلام اس کام پر ہوگا جو دوسرا نہ کررہا ہوگا اور حسن (رح) سے روایت کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت تلاوت کی تو صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، یارسول اللہ ! خادم چھپے ہوئے موتی کی طرح ہوگا تو مخدوم کیسا ہوگا ؟ اور قتادہ (رح) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں ذکر کیا گیا کہ ایک شخص نے کہا یا نبی اللہ ! ﷺ یہ خادم ہے تو مخدوم کیسا ہوگا ؟ تو آپ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
24۔ 28۔ جو موتی کام میں لایا جائے وہ ذرا میلا ہوجاتا ہے ان غلاموں کا رنگ ایسا آبدار ہوگا جس طرح بےکام میں لایا ڈبیا میں رکھا ہوا موتی آبدار ہوتا ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ مشرکوں کے نابالغ بچے جو مرجاتے ہیں یہ وہی ہیں لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جنت میں اگرچہ غلام اور خدمت گار کی کچھ ضرورت نہیں وہاں سب کام اللہ کے حکم سے خود ہوجایا کریں گے لیکن عزت اور احتشام بڑھانے کے لئے ادنیٰ اہل جنت کو اسی ہزار غلام دیئے جائیں گے چناچہ ترمذی میں 1 ؎ ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس سند میں رشدین بن سعد کو منفرد کہا ہے جو بعض علماء کے نزدیک ضعیف ہے لیکن صحیح ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
وَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰي بَعْضٍ يَّتَسَاۗءَلُوْنَ ) اور وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے یعنی دنیا کے معاملات اور اس کے احوال کے بارے میں (قالوا) یعنی وہ اس چیز کا ذکر کرتے ہوئے جس نے انہیں خوشی اور مسرت کے احوال تک پہنچایا ہے کہیں گے (انا کنا قبل) بلاشبہ اس سے پہلے ہم یعنی دنیا کے گھر میں (فی اھلنا مشفقین) اپنے اہل و عیال میں (اللہ سے) ڈرا کرتے تھے۔ یعنی ہم نے اس کے خوف کی وجہ سے گناہوں کو چھوڑ دیا اور اس بنا پر عیوب کو درست کرلیا۔ (فمن اللہ علینا) تو اللہ نے ہدایت اور توفیق کے ساتھ ہم پر احسان فرمایا (ووقنا عذاب السموم) اور کرم عذاب سے جس کی حرارت بہت سختی ہوگی ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
[ 32] اہل جنت کے لطف و سرور کے ایک اور منظر کا ذکر وبیان :
یعنی یہ کہ اہل جنت وہاں پر آپس میں ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر اس کے احوال پوچھیں گے۔ یعنی اپنے دنیاوی حال و احوال کے بارے میں۔ تاکہ وہاں کی تنگی و تکلیف کے مقابلے میں جنت کی ان نعمتوں کو دیکھ کر ان کی لذت و سرور میں اضافہ ہوتا جائے، اور کافروں کو بھی دنیاوی عیش و عشرت یاد ہوگی، تاکہ اس طرح ان کو دوزخ کے عذاب کی اذیت و تکلیف اور زیادہ محسوس ہو، [ کبیر، مراغی، اور صفوہ وغیرہ ] ۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو جس طرح کٹھن اور لمبا سفر طے کرنے کے بعد منزل مقصود پر پہنچنے کے بعد مسافر آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، اور حال دریافت کرتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اپٓس میں ایک دوسرے سے دریافت کریں گے کہ جنت کی زندگی کیونکہ گزر رہی ہے
Read the full tafseer →(52:25) اقبل : ماضی (بمعنی مستبقل) واحد مذکر غائباقبال (افعال) مصدر۔ وہ متوجہ ہوگا وہ رخ کرے گا۔
یتساء لون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ تساول (تفاعل) مصدر۔ باہم ایک دوسرے سے پوچھیں گے۔ دنیا میں جو خوف اور دکھ تھا باہم اس کا تذکرہ کریں گے (ابن عباس)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28
فکھین دل بہانے والاے
ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 28
کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
[8] یعنی یہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان مومنین کے آباء کے بعض اعمال لے کر ان کی اولاد کو دے دے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مومنین و صالحین کی اولاد کو ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دے گا اگرچہ عمل کے لحاظ سے وہ اولاد اس درجے کی مستحق نہ ہو۔ [9] یعنی جس طرح کوئی شخص قرض ادا کئے بغیر گروی کی ہوئی چیز نہیں چھڑا سکتا اسی طرح کوئی شخص فرض ادا کئے بغیر اپنے آپ کو اللہ کے مواخذہ سے نہیں بچا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہیں۔ جب تک وہ ادا نہ ہوں نجات ممکن نہیں۔ لہذا آباؤ اجداد کی نیک عملی بدعمل اولاد کو نجات نہیں دلا سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اہل دوزخ
1: غرض کہ لفظ قرآن حکیم میں عموماً برے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مقصود وکفر والحاد میں شغف اور انہماک ہے ۔ برائی اور معصیت سے لگاؤ ہے ۔ اور فسق وفجور سے محبت ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت برے عذاب میں گرفتار ہوں گے ۔ دنیا میں تو غفلت کے پردے ان کی آنکھوں پر پڑے تھے ۔ اور یہ لوگ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے اور سوچتے بھی تھے تو یہ کہ کس طرح اس آفتاب نبوت کی روشنی سے لوگوں کو محروم رکھا جاسکتا ہے ۔ مگر اب دونوں آنکھیں کھلیں گی ۔ بصیرت کی بھی اور بصارت کی بھی ۔ یہاں یہ دیکھیں گے کہ فرشتے پکڑ پکڑ کر ان کو دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اور کہہ رہے…
Read the full tafseer →(25) وہ اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کی جانب متوجہ ہوکر گفتگو اور پوچھ گچھ کرتے ہوں گے۔ یعنی آپس میں ایک دوسرے کے واقعات دریافت کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–29
ف 3۔ مطلب یہ کہ آپ نبی ہیں اور نبی کا کام و دوام علی التذکیر ہے گو لوگ کچھ ہی بکیں۔
Read the full tafseer →اور ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر وہ پوچھیں گے
25 ؎ ” وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ یہ متوجہ ہونا غلمان اور اہل جنت کا نہیں بلکہ اہل جنت کا اہل جنت سے ہے خواہ عام اہل جنت کا آپس میں اور خواہ والدین اور ان کی بالغ اولاد جو اپنے کسب سے اہل جنت ہوئی ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے احسانا اولاد کو والدین سے ملا دیا ہوگا یہ آپس میں پوچھیں گے اور آپس میں راز و نیاز اور پیار و محبت کی باتیں کریں گے جیسے کہ ہم مشرب اور گہرے دوست آپس میں ایک دوسرے سے مصروف گفتگو ہوتے ہیں اور ہر ایک اپنے دل کی بات کہتا اور سنتا ہے اور اس طرح آپس میں جب سلسلہ گفتگو شروع ہوگ اتو ظاہر ہے کہ وہ جہاں آ کر آباد ہوئے ہیں یعنی جنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
19 Here, the word used is ghilman-ul lahum and not ghilman-u-hum. If ghilman-u-hum had been used, it would have meant that their servants in the world would be made their servants in Paradise too; whereas whoever from the world goes to Paradise, will go there on the basis of his own work and entitlement, and there is no reason that after his entry in Paradise he may be made a servant of the same master whom he had been serving in the world. But it can also be that a servant on account of his deeds may attain a higher rank than his master in Paradise. Therefore, by using ghilman-ul-lahum no…
Read the full tafseer →