Explained with ayahs 21–28
صالح اولاد انمول اثاثہ
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
سورة الطُّوْر 19
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ غِلْمَانُھُمْ نہیں فرمایا بلکہ غِلْمَانٌ لَّہُمْ فرمایا ہے۔ اگر غِلْمَانُہُمْ فرمایا جاتا تو اس سے یہ گمان ہوسکتا تھا کہ دنیا میں ان کے جو خادم تھے وہی جنت میں بھی ان کے خادم بنا دیے جائیں گے، حالانکہ دنیا کا جو شخص بھی جنت میں جائے گا اپنے استحقاق کی بنا پر جائے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ جنت میں پہنچ کر وہ اپنے اسی آقا کا خادم بنادیا جائے جس کی خدمت وہ دنیا میں کرتا رہا تھا۔ بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی خادم اپنے عمل کی وجہ سے اپنے مخدوم کی بہ نسبت زیادہ بلند مرتبہ جنت میں پائے۔ اس لیے غِلْمَانٌ لَّھُمْ فرما کر اس گمان کی گنجائش باقی نہیں رہنے دی گئی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…
Read the full tafseer →(ویطوف علیھم غلمان لھم کا نھم لولو مکنون (24) یعنی ان کی خدمت اور ان کی فرمائشوں کی تعمیل کے لیے ہر وقت ایسے چھو کرے ان کے سامنے حاضر رہیں گے جو اپنی پاکیزگی اور اپنے حسن و جمال کے اعتبار سے معلوم ہوگا کہ موتی ہیں جو صدف میں محفوظ رہے ہیں اور ان کی خدمت ہی کے لیے ان سے نکلے ہیں۔ اہل عرب کسی چیز کی غایت درجہ نفاست و نزاکت کی تعبیر کے لیے (لولو مکنون) کی تشبیہ استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کے انداز بیان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان چھو کروں کو خاص اس مقصد کے لیے پیدا کرے گا۔ بعض لوگوں کی رائے اس کے خلاف بھی ہے لیکن ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے اس وجہ سے اس پر تنقید کی ضرورت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →24۔ 1 یعنی جنتیوں کی خدمت کے لئے انہیں نو عمر خادم بھی دیئے جائیں گے جو ان کی خدمت کے لئے پھر رہے ہونگے اور حسن و جمال اور صفائی و رعنائی میں وہ ایسے ہونگے جیسے موتی، جسے ڈھک کر رکھا گیا ہو، تاکہ ہاتھ لگنے سے اس کی چمک دمک ماند نہ پڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–30
6: عربی لغت کے اعتبار سے اس جملے کا یہ ترجمہ بھی ہوسکتا ہے کہ : یہ صاحب شاعر ہیں جن کے بارے میں ہم موت کے حادثے کا انتظار کر رہے ہیں۔ علامہ سیوطی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قریش کے کچھ لیڈروں نے حضور اقدس ﷺ کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ تو ایک شاعر ہیں۔ اور جس طرح دوسرے شاعر ہلاک ہوگئے، اور ان کی شاعری بھی انہی کے ساتھ دفن ہوگئی، اسی طرح یہ بھی انتقال کر جائیں گے تو پھر ان کی باتیں انہی کے ساتھ ختم ہوجائیں گی۔ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →کانھم لؤ لؤ مکنون (25 : 42) ” ایسے خوبصورت جیسے چھپائے ہوئے موتی “ جن کی وجہ اس مجلس کا لطف روحانی اور جسمانی اعتبار سے دو چند ہوجائے گا۔ اس منظر اور مجلس کی تکمیل کے لئے ان کی باہم گفتگو بھی پیش کی جاتی ہے ۔ ان کے ماضی پر ان کا مذاکرہ بھی دیا جاتا ہے اور وہ جس مقام تک پہنچ چکے ہیں اس کے اسباب بھی گنوائیں گے کہ کس وجہ سے وہ اس امن ، رضامندی ، امن و محبت اور وسیع سامان زندگی تک پہنچے ہیں۔ یوں وہ اپنے دلوں میں وہاں بھی اپنی اس حالت کے اسباب گنوا رہے ہوں گے اور اس منظر میں اہل دنیا کو بتایا جاتا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کا یہ راستہ ہے۔
Read the full tafseer →6 یعنی جیسے موتی اپنے غلاف کے اندر بالکل صاف و شفاف رہتا ہے گردو غبار کچھ نہیں پہنچتا۔ یہ ہی حال ان کی صفائی اور پاکیزگی کا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 24{ وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ غِلْمَانٌ لَّہُمْ کَاَنَّـہُمْ لُـؤْلُــؤٌ مَّکْنُوْنٌ۔ } ”اور ان پر گردش میں رہیں گے نوجوان لڑکے ان کی خدمت کے لیے ‘ وہ ایسے ہوں گے جیسے موتی ہوں غلافوں میں رکھے ہوئے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
20 نوخیز لڑکے :۔ یہ نوخیز لڑکے بےریش ہوں گے اور ہمیشہ نوخیز ہی رہیں گے۔ ان کی خوبصورتی، صفائی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہوگا جیسے موتی ابھی اپنی صدف میں ہی محفوظ ہوں یا کسی جواہرات والی ڈبیہ میں چھپا دیئے گئے ہوں تاکہ ان پر گردوغبار کا کوئی ذرہ نہ پڑجائے۔ بالفاظ دیگر وہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ ہاتھ لگنے سے بھی میلے معلوم ہوں گے۔
Read the full tafseer →9۔ (کہ ان پر ذرا گردوغبار نہیں، اور ان کی آب وتاب اعلی درجہ کی ہے) عربی محاورہ میں یہ کنایہ غایت حسن و جمال سے ہوتا ہے۔ اور جب خادموں کا یہ حال ہوگا تو مخدوموں کے حسن و جمال کا کیا ٹھکانہ !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا
والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…
Read the full tafseer →ویطوف علیھم غلمان لھم کانھم لو لو مکنون . اور ان کے پاس ایسے لڑکے آتے جاتے رہیں گے جو خاص انہیں کے لیے ہوں گے ‘ گویا وہ حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں۔
یَطُوْفُ عَلَیْھِمْ : یعنی ان کی خدمت کے لیے گردش کرتے رہیں گے۔
غِلْمَانٌ لَّھُمْ : ان کے مخصوص غلام یعنی جو انہیں کے مملوک ہوں گے (مشترک خادم نہیں ہوں گے) ۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام جنتیوں میں سب سے نچلا درجہ اس شخص کا ہوگا جس کے پیچھے دس ہزار خادم (کمربستہ) خدمت کے لیے کھڑے ہوں گے۔
ابن ابی الدنیا نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ اہل جنت میں کمترین درجہ کا وہ شخص ہوگا جس کی خدمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(23۔ 25) یا یہ کہ جنت میں اس کے پینے سے نہ بک بک ہوگی اور نہ کوئی بےہودہ بات اور نہ جھوٹی قسمیں اور نہ آپس میں گالی گلوچ ہوگی اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے آئیں گے جو صفائی اور خوبصورتی میں حفاظت کے ساتھ رکھے ہوئے موتیوں کی طرح ہوں گے جیسا کہ موتی کو گرمی سردی اور گرد و غبار سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →(1) ویطوف علیھم غلمان لہم : اس کی وضاحت کیلئے دیکھیے سورة دہر (19) اور سورة واقعہ (17، 18) کی تفسیر۔
(2) کانھم لو لو مکنون : یعنی ان کی خوبصورتی، سفیدی اور پاکیزگی کا یہ عالم ہوگا جیسے موتی ابھی اپنی سیپ ہی میں محفوظ ہوں، یا جواہرات والی ڈبیا میں اس طرح چھپا کر رکھے ہوئے ہوں کہ نہ ان پر گرد و غبار کا کوئی ذرہ پڑا ہوا اور نہ وہ ہاتھ لگنے سے میلے ہوئے ہوں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اتنے خوبصورت اور صاف ستھرے ہوں گے کہ چھوٹے سے میلے ہوتے ہوں گے۔
Read the full tafseer →۔ ویطوف علیھم غلمان لھم ان کے غلام پھلوں، تحفوں، کھانوں اور مشروبات کے ساتھ گردش کناں ہوں گے اس کی دلیل ہے یطاف علیھم بصحاف منذھب (الز خرف :71) یطاف علیھم بک اس من معین، (الصافات) کہا گیا : یہ غلمان ان کی وہ اولادیں ہوں گی جو ان سے پہلے فوت ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انکے ساتھ ان کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد وہ خادم ہیں جو دوسروں کیا ولادوں میں سے اللہ تعالیٰ نے ان کا خادم بنایا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے ؛ مراد وہ غلمان ہیں جو جنت میں پیدا کیے گئے۔ کلبی نے کہا : وہ کبھی کبھی بڑی عمر کے نہیں ہوں گے۔ کا نھم وہ حسن اور سفیدی میں۔ لولومکنون، صدف میں چھپے موتی ہیں۔ مکنون کا…
Read the full tafseer →4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' کانہم لؤلؤمکنون '' (گویا کہ وہ حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں) یعنی ایسے موتی جن کو ابھی تک ہاتھوں نے مس نہ کیا ہو۔
5:۔ عبدالرزاق وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) '' کانہم لؤلؤمکنون '' کے بارے میں روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ جب یہ خدام موتیوں کی طرح ہیں تو مخدوم کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ مخدوم کو خادم پر ایسی فضیلت حاصل ہوگی جیسے چادھویں رات کے چاند کی فضیلت ستاروں پر یہ ابن جریر کے الفاظ ہیں اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ان دونوں کے…
Read the full tafseer →وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ [ اور گھومیں پھریں گے ان کے گرد ] غِلْمَانٌ لَّهُمْ [ ان کی خدمت گزار ] كَاَنَّهُمْ [ جیسے کہ وہ ] لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ [ چھپائے ہوئے موتی ہوں ]
ترکیب : (آیت ۔ 24) ” ط وف “ ۔ کی لغت آیت نمبر ۔ 2: 125 ۔ میں گزر چکی ہے ۔ اس میں یہ اضافہ کرلیں کہ اس کے مفعول پر جب ب ؛کا صلہ آئے تو مطلب ہوتا ہے کسی جگہ یا مکان کے چاروں طرف چکر لگانا یعنی طواف کرنا ۔ اور جب علی کا صلہ آئے تو مطلب ہوتا ہے کسی کے پاس یا کسی جگہ آنا جانا کرنا ۔ چکر لگانا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
جام کی چھینا جھپٹی :
اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…
Read the full tafseer →11:۔ ” ویطوف۔ الایۃ “ وہاں ان کی خدمت کیلئے ایسے نوجوان موجود ہوں گے جو حسن و جمال میں ایسے سچے اور آبدار موتیوں کی طرح ہوں گے جنہیں چھپا کر رکھا گیا ہو، اور انسانی ہاتھوں نے ان کو چھو تک نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…
Read the full tafseer →وَيَطُوْفُ عَلَيْہِمْ غِلْمَانٌ لَّہُمْ كَاَنَّہُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ 24
طوف
الطَّوْفُ : المشيُ حولَ الشیءِ ، ومنه : الطَّائِفُ لمن يدور حول البیوت حافظا . يقال : طَافَ به يَطُوفُ. قال تعالی: يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدانٌ [ الواقعة/ 17] ، قال : فَلا جُناحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِما[ البقرة/ 158] ، ومنه استعیر الطَّائِفُ من الجنّ ، والخیال، والحادثة وغیرها .
قال : إِذا مَسَّهُمْ طائِفٌ مِنَ الشَّيْطانِ [ الأعراف/ 201] ، وهو الذي يدور علی الإنسان من الشّيطان يريد اقتناصه، وقد قرئ : طيف «4» وهو خَيالُ الشیء وصورته المترائي له في المنام أو الیقظة . ومنه قيل للخیال : طَيْفٌ. قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔
تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…
Read the full tafseer →وَیَطُوْفُ عَلَیْھِمْ غِلْمَانٌ لَّھُمْ کَاَنَّھُمْ لُؤْلُؤٌ مَّکْنُوْنٌ۔ (الطور : 24)
(اور دوڑتے پھر رہے ہوں گے ان کی خدمت میں ایسے لڑکے جو ان کے لیے ہوں گے، گویا کہ وہ چھپا کر رکھے گئے موتی ہیں۔ )
مجلسی زندگی اور خدمت کے امور کے لیے ہر وقت ایسے نوعمر لڑکے مستعد اور سرگرم رہیں گے جو اپنے پاکیزہ حسن و جمال کی وجہ سے ایسے لگیں گے جیسے صدف سے نکلے ہوئے موتی ہیں۔ کسی چیز کو بھی غایت درجہ نفاست اور نزاکت کے لیے موتی سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ لیکن موتی کی آب و تاب اسی صورت میں جوبن پر رہتی ہے جب اسے بیرونی آب و ہوا کے اثرات سے محفوظ رکھا جائے۔ کیونکہ خوبصورت چیز کا خاصا ہوتا ہے :
کہ ہوا بھی چھو جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح کم درجے رکھنے والی اولاد پر کرم فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ جنتی کے اعمال سے زیادہ انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ جنتی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ جنت میں نعمتیں بیشمار ہوں گی لیکن پھل اور گوشت کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پھل اور گوشت ہر انسان کی مرغوب اور پسندیدہ خوراک ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر پھلوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے :
” ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →قراءت : لا لغوا فیہا ولا تأثِیْمَ ۔ مکی و بصری نے پڑھا ہے۔
آیت 24 : وَیَطُوْفُ عَلَیْہِمْ غِلْمَانٌ (اور ان کے پاس ایسے لڑکے آتے جاتے ہونگے) غلام۔ لَّہُمْ (جو انہی کے ساتھ مخصوص ہونگے) کَاَنَّہُمْ (گویا کہ وہ) اپنی سفیدی اور صفائی کی وجہ سے۔ لُؤْلُوٌ مَّکْنُوْنٌ (حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں) نمبر 1۔ سیپ میں کیونکہ جب یہ موتی تر ہوتا ہے تو زیادہ خوبصورت اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ نمبر 2۔ مکنونٌ مخزون کے معنی میں خزانہ میں جمع شدہ۔ کیونکہ انتہائی قیمتی چیز کو خزانہ میں رکھا جاتا ہے۔ حدیث میں ارشاد فرمایا۔ ان ادنی اہل الجنۃ الحدیث سب سے کم درجہ جنتی خدام کو آواز دے گا تو ایک آواز پر ایک ہزار لبیک…
Read the full tafseer →23 ۔” یتنازعون “ ایک دوسرے سے لیں گے دیں گے۔ ” فیھا کا سا لا لغوفیھا “ اور وہ باطل ہے۔ قتادہ (رح) سے یہ روایت کیا گیا ہے۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں اس میں کوئی فضول کام نہ ہوگا۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں اس میں کوئی گناہ نہ ہوگا۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں نہ گالم گلوچ نہ کوئی جھگڑا۔ قتیبی (رح) فرماتے ہیں ان کی عقل نہ ختم ہوگی کہ لغوی گناہ کی باتیں کریں۔ ” ولا تاثیم “ یعنی ان سے وہ کام نہ ہوگا جو ان کو گناہ گار کردے۔
زجاج (رح) فرماتے ہیں ان کے درمیان لغو اور وہ کام جاری نہ ہوگا جس میں گناہ ہو جیسا کہ دنیا میں شراب پینے کے ساتھ ہوتا ہے اور کہا گیا اس کے پینے میں گنہگار نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
24۔ 28۔ جو موتی کام میں لایا جائے وہ ذرا میلا ہوجاتا ہے ان غلاموں کا رنگ ایسا آبدار ہوگا جس طرح بےکام میں لایا ڈبیا میں رکھا ہوا موتی آبدار ہوتا ہے۔ بعض مفسروں نے لکھا ہے کہ مشرکوں کے نابالغ بچے جو مرجاتے ہیں یہ وہی ہیں لیکن اوپر بیان ہوچکا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے۔ جنت میں اگرچہ غلام اور خدمت گار کی کچھ ضرورت نہیں وہاں سب کام اللہ کے حکم سے خود ہوجایا کریں گے لیکن عزت اور احتشام بڑھانے کے لئے ادنیٰ اہل جنت کو اسی ہزار غلام دیئے جائیں گے چناچہ ترمذی میں 1 ؎ ابو سعید خدری کی حدیث میں اس کا ذکر ہے اگرچہ ترمذی نے اس سند میں رشدین بن سعد کو منفرد کہا ہے جو بعض علماء کے نزدیک ضعیف ہے لیکن صحیح ابن…
Read the full tafseer →(وَيَطُوْفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَّهُمْ ) یعنی نوجوان خدام ان کے آس پاس پھریں گے۔ (كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَّكْنُوْنٌ) اپنے حسن اور خوب صورتی کی بنا پر گویا وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں وہ ان کی خدمت اور ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان کے پاس آجا رہے ہوں گے یہ چیز ان کے لیے بےپایاں نعمتوں اور کامل راحت پر دلالت کرتی ہے۔
Read the full tafseer →[ 31] جنتیوں کے خادموں کی صفت و شان کا ذکر وبیان :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی خدمت کے لئے وہاں پر ایسے عمدہ اور بےمثال لڑکے چل پھر رہے ہوں گے جیسے کہ وہ موتی ہوں جن کو چھپا رکھا گیا ہو۔ یعنی اپنی صفائی چمک سفیدی عمدگی اور خوش منظری وغیرہ میں، سو وہ ان موتیوں کی طرح ہوں گے جن کو چھپا کر رکھا گیا ہو۔ سو اہل جنت کو ملنے والی دوسری نعمتوں کی طرح ان کے خادم بھی ایک خاص عظمت شان کے مالک اور ایسے بےمثال ہوں گے کہ اس دنیا میں ان کو کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں۔ آمین۔ سو اہل جنت کے یہ بےمثال اور حاضر باش خادم جو ان کی ہر فرمائش کی تعمیل کے لئے ہر وقت وہاں موجود ہوں گے اپنی عمدگی اور نفاست میں ایسے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی ایسے موتی جو غلاف یا سیپ کے اندر ہوں اور کسی نے انہیں چھواء تک نہ ہو۔ اس لئے نہایت صاف شفاف ہوں۔
Read the full tafseer →(52) 24) یطوفون : مضارع جمع مذکر غائب طوف و طواف (باب نصر) چکر لگاتے رہیں گے : خدمت کے لئے تیار رہیں گے۔
غلمان۔ غلام کی جمع ہے۔ الغلام اس لڑکے کو کہتے ہیں جس کی مسیں بھیگ چکی ہوں۔ لڑکا جو بھرپور جوانی میں ہو۔ قرآن مجید میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصہ میں آیا ہے ھذا غلم یہ تو نہایت حسین لڑکا ہے۔
لہم میں لام تخصیص کا ہے یعنی جو ان کے ہی مملوک ہوں گے ۔ مشرک خادم نہیں ہوں گے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب اہل بہشت کیلئے ہے۔ کانھم : کان حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب : کان کا اسم، گویا وہ سب۔ کان چار معانی کے لئے مستعمل ہے۔
(1) عموماً تشبیہ کے لئے بکثرت یہی استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28
فکھین دل بہانے والاے
ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 28
کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
[8] یعنی یہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان مومنین کے آباء کے بعض اعمال لے کر ان کی اولاد کو دے دے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مومنین و صالحین کی اولاد کو ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دے گا اگرچہ عمل کے لحاظ سے وہ اولاد اس درجے کی مستحق نہ ہو۔ [9] یعنی جس طرح کوئی شخص قرض ادا کئے بغیر گروی کی ہوئی چیز نہیں چھڑا سکتا اسی طرح کوئی شخص فرض ادا کئے بغیر اپنے آپ کو اللہ کے مواخذہ سے نہیں بچا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہیں۔ جب تک وہ ادا نہ ہوں نجات ممکن نہیں۔ لہذا آباؤ اجداد کی نیک عملی بدعمل اولاد کو نجات نہیں دلا سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
اہل دوزخ
1: غرض کہ لفظ قرآن حکیم میں عموماً برے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مقصود وکفر والحاد میں شغف اور انہماک ہے ۔ برائی اور معصیت سے لگاؤ ہے ۔ اور فسق وفجور سے محبت ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت برے عذاب میں گرفتار ہوں گے ۔ دنیا میں تو غفلت کے پردے ان کی آنکھوں پر پڑے تھے ۔ اور یہ لوگ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے اور سوچتے بھی تھے تو یہ کہ کس طرح اس آفتاب نبوت کی روشنی سے لوگوں کو محروم رکھا جاسکتا ہے ۔ مگر اب دونوں آنکھیں کھلیں گی ۔ بصیرت کی بھی اور بصارت کی بھی ۔ یہاں یہ دیکھیں گے کہ فرشتے پکڑ پکڑ کر ان کو دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اور کہہ رہے…
Read the full tafseer →(24) اور ان کی خدمت کے لئے جو غلام اور خادم ان اہل جنت کے پاس آمدورفت کرتے ہوں گے اور ان پر پھرتے ہوں گے ایسے ہوں جیسے سیپی میں محفوظ ہوتی۔ خدام جنت کی صفائی اور سفیدی میں تشبیہہ بیان کی گئی جو موتی غلاف میں یا سیب میں رکھا ہو اس کی صفائی اور سفیدی بہت بڑھیا ہوتی ہے مکنون کا یہی مطلب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 2۔ محفوظ موتی پر گردو غبار نہیں ہوتا اور آب و تاب اعلی درجہ کی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →ان کے ارد گرد خدمت گار لڑکے ہوں گے گویا وہ موتی ہوں گے جو کہیں چھپا کر رکھے گئے تھے :
24: انسانی فطرت میں جو چیزیں اس کو مرغوب ہیں اور جن کو دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے ان میں چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں جو معصوم ہوتے ہیں اور خصوصاً چھ سات سال کی عمر میں جب وہ توتلی زبان سے بات کرتے ہیں اور کسی کو اپنے معصوم ہاتھوں سے تحفہ پیش کرتے ہیں اور خصوصا جب وہ صاف ستھرے اور خبوصورت بھی ہوں اور ظاہری حسن و زیبائش سے آراستہ بھی تو طبیعت کو بہت بھاتے ہیں اور ان کی معصومیت کو دیکھ کر شاید ہی کوئی قسی القلب ہو جس کی آنکھوں میں لبھائے نہ ہوں اور اس کے دل میں ان کی معصومتی (Innocence) کا پیار نہ آئے اور جی نہ چاہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
19 Here, the word used is ghilman-ul lahum and not ghilman-u-hum. If ghilman-u-hum had been used, it would have meant that their servants in the world would be made their servants in Paradise too; whereas whoever from the world goes to Paradise, will go there on the basis of his own work and entitlement, and there is no reason that after his entry in Paradise he may be made a servant of the same master whom he had been serving in the world. But it can also be that a servant on account of his deeds may attain a higher rank than his master in Paradise. Therefore, by using ghilman-ul-lahum no…
Read the full tafseer →