At-Tur 52:23

At-Tur · from ayah 23

52:23

یَتَنَازَعُوْنَ فِیْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْهَا وَلَا تَاْثِیْمٌ ۟يَـتَـنَازَعُوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا لَّا لَغۡوٌ فِيۡهَا وَلَا تَاۡثِيۡمٌ

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will exchange with one another a cup [of wine] wherein [results] no ill speech or commission of sin.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:23

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹ لیا کریں گے جس (کے پینے) سے نہ ہذیان سرائی ہوگی نہ کوئی گناہ کی بات

— مولانا فتح محمد جالندہری

(خوش طبعی کے ساتھ) ایک دوسرے سے جام (شراب) کی چھینا جھپٹی کریں گے جس شراب کے سرور میں تو بیہوده گوئی ہوگی نہ گناه

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہاں وہ ایسے جام شراب پر (دوستانہ) چھینا جھپٹی کر رہے ہوں گے جس میں نہ کوئی بےہودگی ہوگی، اور نہ کوئی گناہ ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ایک دوسرے سے لیتے ہیں وہ جام جس میں نہ بیہودگی اور گنہگاری

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہاں یہ لوگ جھپٹ جھپٹ کر (شرابِ طہور کے) جام لیں گے، اس (شرابِ جنت) میں نہ کوئی بے ہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ گاری ہوگی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ اس میں ایک دوسرے سے شراب کا پیالہ چھینیں جھپٹیں گے، جس میں نہ بےہودہ گوئی ہوگی اور نہ گناہ میں ڈالنا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہاں وہ لپک لپک کر ایک دوسرے سے جام شراب لیں گے جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ کوئی گناہ کا کام

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے درمیان ایسی شراب کے پیالوں کے تبادلے ہو رہے ہوں گے جو لغویت اور گناہ سے پاک ہو گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہاں پر وہ ایک دوسرے سے لپک لپک کرلے رہے ہوں گے ایسی جام شراب جس میں نہ کوئی بےہودگی ہوگی اور نہ کوئی گنہگاری

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں آپس میں جام (شراب) پر چھینا جھپٹی بھی کریں گے کہ اس (شراب) میں نہ بک بک لگے گی اور نہ اور کوئی بیہودہ بات۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس میں وہ ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے وہ جام جن (کے مشروب) میں نہ تو کوئی بےہودگی ہوگی اور نہ ہی گناہ میں ڈالنے والی کوئی بات۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب جھپٹا کریں گے جس کے پینے سے نہ نشہ چڑھے گا نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall pass on to one another a cup that will incite neither levity nor sin.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will snatch from one another (in a friendly manner) a glass (of wine) carrying neither absurd talk, nor something leading to sin.

— Muhammad Taqi Usmani

They will snatch from one another (in a friendly manner) a glass (of wine) carrying neither absurd talk, nor something leading to sin.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There they shall pass from hand to hand a cup, free from any idle talk, and free from sin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

There they pass from hand to hand a cup wherein is neither vanity nor cause of sin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They will exchange with one another a cup [of wine] wherein [results] no ill speech or commission of sin.

— Saheeh International

They will pass cups of un-intoxicating and unsinful wine to one another.

— Muhammad Sarwar

They shall pass therein from one to another a cup wherein there shall be nothing vain nor any sin.

— Muhammad Habib Shakir

They will therein snatch from one another a cup; therein will be neither vain babble nor sin.

— Abdul Majid Daryabadi

They shall there exchange, one with another, a (loving) cup free of frivolity, free of all taint of ill.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–28

صالح اولاد انمول اثاثہ اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 18 یعنی وہ شراب نشہ پیدا کرنے والی نہ ہوگی کہ اسے پی کر وہ بد مست ہوں اور بیہودہ بکواس کرنے لگیں، یا گالم گلوچ اور دھول دھپے پر اتر آئیں، یا اس طرح کی فحش حرکات کرنے لگیں جیسی دنیا کی شراب پینے والے کرتے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة صافات، حاشیہ 27)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 21–28

بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یتنازعون فیھا کا سا لا لغو فیھا ولا تاتیھم) (23) (جنت کا لطف و سرور)۔ یہ اس لطف و سرور کا بیان ہے جس سے وہ جنت میں بہرہ مند ہوں گے۔ فرمایا کہ ان کے درمیان جام شراب کے تبادلے ہو رہے ہیں۔ (تنارعوا الک اس) کے معنی ہیں (تعاطر) یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے کی طرف شراب کے جام بڑھائیں گے، چھین جھپٹ اس لفظ کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ لفظ کاس ظرف اور مظروف یعنی شراب اور جام شراب دونوں کے لیے آتا ہے۔ (لا لغز فیھا ولا تاتیھم) یعنی یہ شراب ان برے اثرات سے بالکل پاک ہوگی جو دنیا کی شراب کے لوازم میں سے ہے۔ اس شراب سے آدمی نہ تو کسی لغو گوئی میں مبتلا ہوگا اور نہ کسی پر گناہ کی تہمت لگائے گا۔ (اثمہ تاثیما) کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 یتنازعون یتعاطون ویتناولون ایک دوسرے سے لیں گے۔ یا پھر وہ معنی ہیں جو فاضل مترجم نے کیے ہیں، کس اس پیالے اور جام کو کہتے ہیں جو شراب یا کسی اور مشروب سے بھرا ہوا ہو خالی برتن کو کس نہیں کہتے۔ 23۔ 2 اس شراب میں دنیا کی شراب کی تاثیر نہیں ہوگی اسے پی کر نہ کوئی بہکے گا اور نہ اتنا مدہوش ہوگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–23

5: چھینا جھپٹی سے مراد وہ چھینا جھپٹی ہے جو بےتکلف دوستوں میں کسی لذیذ چیز سے لطف لینے کے لئے ہوا کرتی ہے، اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ؛ بلکہ مجلس کا لطف بڑھ جاتا ہے ؛ چنانچہ فرمایا گیا ہے اس جام شراب میں اس طرح کی بےہودگی یا گناہ کی کوئی بات نہیں ہوگی جو دنیا کے شرابیوں میں پائی جاتی ہے، اس شراب میں وہ نشہ ہی نہیں ہوگا جو انسان کو بےہودگیوں پر آمادہ کردے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لا لغو فیھا ولا تاثیم (25 : 32) ” جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ بدکرداری “ وہ یہ جام شراب ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے اور ایک دوسرے کو پکڑا رہے ہوں گے تاکہ زیادہ محبت ولذت حاصل ہو اور جب یہ اس قسم کی لذتوں کے اندر ہوں گے تو ان پر خوبصورت چاند جیسے مکھڑے والے لڑکے پھر رہے ہوں گے۔ پاک اور صاف اور تروتازہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی شراب طہور کا دور جب چلے گا تو جنتی بطور خوش طبعی کے ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی کریں گے۔ لیکن اس شراب میں محض نشاط اور لذت ہوگی۔ نشہ ' بکواس اور فتور عقل وغیرہ کچھ نہ ہوگا نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 23{ یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِیْہَا وَلَا تَاْثِیْمٌ۔ } ”اس میں وہ ایک دوسرے سے چھین رہے ہوں گے وہ جام جن کے مشروب میں نہ تو کوئی بےہودگی ہوگی اور نہ ہی گناہ میں ڈالنے والی کوئی بات۔“ یہ اہل جنت کی دوستانہ محفلوں کی رونق اور چہل پہل کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے کہ وہ خوش طبعی کے انداز میں ایک دوسرے سے جام چھین رہے ہوں گے۔ اہل جنت کو جو مشروب ملے گا اس میں کیف و سرور تو ہوگا لیکن دنیا کی شراب کی طرح بےہودگی کی کوئی کیفیت نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 اہل جنت جام شراب کے لیے ایک دوسرے سے چھینا جھپٹی اس لیے نہیں کریں گے کہ انہیں شراب کے ذخیرہ میں کمی واقع ہوجانے کا خطرہ ہوگا بلکہ محض خوش طبعی کے طور پر وہ یہ شغل لگائیں گے۔ 19 جنت میں شراب کے دور :۔ دنیا کی شراب میں کئی قباحتیں ہوتی ہیں۔ مثلاً اس کا مزہ تلخ ہوتا ہے اور بو ناخوشگوار، اس کا نشہ سر کو چڑھ جاتا ہے جس سے سر چکرانے لگتا ہے اور بعض دفعہ درد بھی کرنے لگتا ہے۔ اس کا نشہ عقل پر چھا کر اس میں فتور پیدا کردیتا ہے۔ پھر اسی نشہ کی حالت میں انسان بعض دفعہ بکواس بکنے لگتا ہے بعض دفعہ کسی کی بےعزتی کر بیٹھتا ہے یا کوئی اور گناہ کا کام کر بیٹھتا ہے اور اس کا فائدہ صرف یہ ہوتا ہے کہ عارضی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 22–23

8۔ مسلمان کی جنت ہر بیہودگی، ہرگندگی سے تو یقیناً خالی ہوگی۔ لیکن اس کے سوا باقی ہر طرح کی تفریح، زندہ دلی، ہنسی مزاج کا وہ ایک مستقل گھر ہوگی، زاہد ان خشک کے مزاج ومسلک سے الگ اور بہت الک۔ (آیت) ” یتنازعون فیھا کا سا “۔ یعنی دنیا میں جیسے بےتکلف دوستوں کے درمیان ہنسی کھیل میں چھین، جھپٹ ہوتی رہتی ہے ویسے ہی لفط وخوش طبعی کے ساتھ وہاں بھی رہے گی ، (آیت) ” لالغوفیھا “۔ لغو کی نفی سے معلوم ہوگیا کہ وہ شراب سکر پیدا کرنے والی نہ ہوگی۔ (آیت) ” ولا تاثیم “۔ تاثیم کی نفی سے معلوم ہوگیا کہ وہ شراب عقل ومتانت کو زائل کرنے والی نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–28

بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

میتنا زعون فیھا کا سا لا لغو فیھا ولا تاثیم . اور وہ آپس میں (خوش طبعی کے طور پر) شراب بھرے پیالوں کی چھینا جھپٹی بھی کریں گے ‘ اس میں نہ بک بک لگے گی اور نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی۔ یَتَنَازَعُوْنَ : یہ لفظ نزع سے ماخوذ ہے۔ نزع کا معنی ہے کسی کے ہاتھ سے کھینچ لینا ‘ (چھین لینا) اس جگہ باب تفاعل ثلاثی مجرد کے معنی میں ہے یعنی یَتَنَازَعُوْنَ کا معنی ہے ینزعون من ید الساقی : ساقی کے ہاتھ سے لے لیں گے۔ کاسًا : مشروب سے بھرے ہوئے پیالے ‘ برتن میں بھرے ہوئے مشروب کو بھی کاس کہا جاتا ہے اور برتن کو بھی۔ لاَ لَغْوٌ : قتادہ نے لغو کا ترجمہ کیا ‘ باطل۔ مقاتل بن حبان نے کہا : بیہودہ بکواس۔ سعید بن مسیّب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–25

(23۔ 25) یا یہ کہ جنت میں اس کے پینے سے نہ بک بک ہوگی اور نہ کوئی بےہودہ بات اور نہ جھوٹی قسمیں اور نہ آپس میں گالی گلوچ ہوگی اور ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے آئیں گے جو صفائی اور خوبصورتی میں حفاظت کے ساتھ رکھے ہوئے موتیوں کی طرح ہوں گے جیسا کہ موتی کو گرمی سردی اور گرد و غبار سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) یتنازعون فیھا کا سا :”کا سا“ کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة صافات (45) کی تفسیر۔ اہل جنت ایک دوسرے سے شراب کے پیالے اس لئے نہیں چھینیں جھپٹیں گے کہ وہاں کسی کمی کا یا ختم ہونے کا اندیشہ ہوگا، بلکہ محض خوش طبعی کے طور پر ایسا کریں گے، کیونکہ چھیننے جھپٹنے کا الگ مزا ہے۔ (2) لا لغو فیھا ولا تاثیم : دنیا کی شراب میں کئی قباحتیں ہیں، جن میں سے سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ آدمی کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے ، حالانکہ عقل ہی اسے جانوروں سے امتیاز اور ان پر برتری عطا کرتی ہے۔ پھر وہ نشے کی حالت میں بکواس کرنے لگتا ہے، گناہ کے کام کر بیٹھتا ہے، حتیٰ کہ بعض اوقات اپنی محرم عورتوں تک کی عزت برباد کر بیٹھتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

وامددنھم بفا کھۃ ولحم مما یشتھون ،۔ یعنی ہم ان کے اعمال سے بڑھ کر انہیں یہ کثیر چیزیں دیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے زیادتی ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ انہیں وہ وہ چیزیں عطا فرمائے گا جس کے وہ مستحق نہ تھے۔ یتنازعون فیھا کا سا وہ جام ایک دوسرے سے لیں گے وہ جنت میں مومن، اس کی بیویاں اور ان کے خادم ہوں گے۔ کاس شراب کا برتن جو شراب وغیرہ سے بھرا ہوا ہو، جب وہ خالی ہو تو اسے کاس نہیں کہتے۔ لغت میں تنازع اور کاس کی تائید اخطل کا شعر کرتا ہے : وشارب مریح بلک اس نادمنی لا بالحصور ولا فیھا بسوار (1) نازعتہ طیب الراح الشمول وقد صاح الدجاج وجانت وقعۃ الساری بھرے ہوئے جام پینے والا میرا ندیم ہے تنگ دل بخیل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ عبدالرزاق (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' یتنازعون فیھا کا سا '' (اور وہ آپس میں خوش طبعی کے طور پر شراب بھرے پیالوں کو چھینا جھپٹی کریں گے یعنی وہ آدمی اور اس کی بیویاں اور اس کے خادم آپس میں چھینا جھپٹی کریں گے وہ آدمی جام شراب اپنے اور اپنی بیوی سے چھیننے کی کوشش کرے گا اور خدام وہی جام اس سے اور اس کی بیوی سے چھیننے کی کوشش کریں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لالغوفیھا '' نہ اس میں جھوٹ ہوگا (آیت ) '' ولا تاثیم '' اور نہ کوئی گناہ کی بات ہوگی۔ 3:۔ ابن جریر (رح) ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) '' لالغوفیھا '' یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا [ چھینا جھپٹی کریں گے اس میں ] كَاْسًا [ ایک ایسے جام کی ] لَّا لَغْوٌ فِيْهَا [ کوئی بیکار بات نہ ہوگی جس میں ] وَلَا تَاْثِيْمٌ [ اور نہ کوئی الزام تراشی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 23–28

جام کی چھینا جھپٹی : اس کے بعد اہل جنت کے جام پینے کا تذکرہ فرمایا ارشاد فرمایا ﴿ يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَ لَا تَاْثِيْمٌ0023﴾ (کہ یہ لوگ جنت میں دل لگی کے طور پر آپس میں جام شراب کی چھینا جھپٹی کریں گے) وہاں کسی چیز کی کمی نہ ہوگی یہ چھینا جھپٹی بطور دل لگی کے ہوگی۔ ك اس بھرے ہوئے جام کو کہا جاتا ہے یہ جام خوب بھرے ہوئے ہوں گے جنہیں سورة نباء میں ﴿وَكَاْسًا دِهَاقًاؕ0034﴾ سے تعبیر فرمایا ہے اور ہر شخص کے لیے وقت کی خواہش کے مطابق بھرے ہوئے ہوں گے اس کو سورة دھر میں ﴿قَدَّرُوْهَا تَقْدِيْرًا 0016﴾ میں بیان فرمایا ہے۔ ان جاموں میں تسنیم رنجبیل کافور کی آمیزش ہوگی۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–28

وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔ بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–23

10:۔ ” وامددناہم “ اہل جنت کے لیے مزید نعمتوں کا ذکر ہے۔ مذکورہ نعمتوں کے علاوہ ہم ان کو ان کی مرضی اور خواہش کے میوہ جات اور مختلف انواع گوشت بھی مہیا کریں گے اور وہاں شراب طہور کے ساغر پہ ساغر چلیں گے۔ وہ شراب ایسی پاکیزہ ہوگی جو نشہ اور بد مزگی سے مبرا ہوگی۔ اور اس کے پینے سے کوئی بےہودگی، کوئی لغو بات اور کوئی گناہ کی چیز ظاہر نہیں ہوگی جیسا کہ دنیا کی شراب بےہودگی اور گناہ کا سرچشمہ ہے۔ ای لا یکون فیھا ما یوثمہم ولا یجری بینہم مافیہ لغو واثم کما یجری بین شربۃ الخمر فی الدنیا (خازن ج 6 ص 251) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–28

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَتَنَازَعُوْنَ فِيْہَا كَاْسًا لَّا لَغْوٌ فِيْہَا وَلَا تَاْثِيْمٌ۝ 23 نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَتَنَا زَعُوْنَ فِیْھَا کَاْسًا لاَّلَغْوٌ فِیْھَا وَلاَ تَاْثِیْمٌ۔ (الطور : 23) (ان کے درمیان ایسی شراب کے پیالوں کے تبادلے ہورہے ہوں گے جس میں نہ یا وہ گوئی ہوگی اور نہ بدکرداری۔ ) اہلِ جنت کی بھرپور مجلسی زندگی یَتَنَا زَعُوْنَ تنازع سے ہے جس کا معنی عام طور پر جھگڑا کیا جاتا ہے۔ لیکن جب اس کا استعمال الک اس کے ساتھ آتا ہے مثلاً تنازع الک اس تو پھر اس کے معنی ہیں جھگڑنا اور چھیننا شامل نہیں بلکہ اس کا معنی ہے ایک دوسرے کی طرف شراب کا جام بڑھانا۔ غذائی ضرورت پوری کرنے اور تفکہات کے بعد مجلسی خوشی کو دوبالا کرنے کے لیے مجلس کے لیے چند لوازم کی ضرورت ہوتی ہے جو ہر طرح کی مجلس کے لیے الگ الگ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح کم درجے رکھنے والی اولاد پر کرم فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ جنتی کے اعمال سے زیادہ انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ جنتی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ جنت میں نعمتیں بیشمار ہوں گی لیکن پھل اور گوشت کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پھل اور گوشت ہر انسان کی مرغوب اور پسندیدہ خوراک ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر پھلوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے : ” ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 23 : یَتَنَازَعُوْنَ فِیْہَا کَاْسًا (اور وہ شراب بھرے پیالوں کی چھینا جھپٹی بھی کریں گے) کاسًا خمرا : ام شراب۔ وہ اپنے مجلس والوں اور اقرباء کے ساتھ ایک دوسرے کے ہاتھ سے سرور میں چھین جھپٹ کریں گے۔ لاَّ لَغْوٌ فِیْہَا (اس میں نہ بک بک ہوگی) اس شراب کے پینے میں۔ وَلَا تَاْثِیْمٌ (اور نہ کوئی بیہودہ بات ہوگی) ان کے مابین لغو بات نہ چلے گی باطل بات وہاں نہ ہوگی اور نہ ایسی بات ہوگی جس میں گناہ ہو۔ اگر ایسا کام کہ اگر وہ دارالتکلیف میں کرتا تو گناہ ہوتا جیسے جھوٹ۔ گالم گلوچ جیسے شرابی کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی عقلیں قائم ہونگی اور وہ حکمت اور عمدہ کلام کرنے والے ہونگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔” وامددناھم بفاکھۃ “ اس پر زیادتی جو ان کے لئے پہلے تھا۔ ” ولحم مما یشتھون، مختلف قسم کے گوشت۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–23

21۔ 23۔ عقبیٰ میں ماں باپ سے اولاد کو اور اولاد سے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فائدہ پہنچائے گا چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور طبرانی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں ہے کہ قیامت کے دن بعض جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بی بی بچوں کا حال فرشتوں سے پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں فرشتے کہیں کے ان کے اعمال اس قابل نہ تھے کہ اس درجہ کی جنت میں وہ داخل ہوتے یہ جنتی لوگ اللہ سے دعا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ اعلیٰ درجہ کی جنت میں اکٹھا کر دے گا۔ طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن غزوان ضیفد ہے۔ لیکن یہ روایت مسند 2 ؎…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

يَتَنَازَعُوْنَ فِيْهَا كَاْسًا) رحیق اور شراب کے جاموں کا دور چلے گا وہ آپس میں ایک دوسرے سے جام لے رہے ہوں گے اور ہمیشہ رہنے والے لڑکے پیالے اور صراحیاں لیے ان کے درمیان خدمت کے لیے گھوم رہے ہوں گے۔ ( لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ) یعنی جنت میں کوئی لغو بات نہ ہوگی وہ بات جس میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس میں کوئی گناہ کی بات ہوگی اور اس سے مراد وہ بات ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کا کوئی پہلو ہو۔ جب کلام لغو اور کلام معصیت دونوں کی نفی ہوگئی تو اس تیسری چیز کا اثبات ہوگیا یعنی ان کا کلام لغور امور سے سلامت اور طیب و طاہر ہوگا جو نفوس کو مسرت اور دلون کو فرحت بخشے گا وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 30] اہل جنت کے لطف و سرور کے ایک اور منظر کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر ان کے درمیان تبادلے ہو رہے ہوں گے ایسے جامہائے شراب کے جس میں نہ کوئی بیہودگی ہوگی، اور نہ کوئی گنہگاری۔ جیسا کہ دنیاوی شراب میں ہوتا ہے۔ اسی لئے وہ ام الخبائث کہلاتی ہے، جبکہ وہاں کی وہ شراب ہر قسم کے غل و غش اور عیب اور خرابی سے پاک ایای عمدہ اور بےمثال شراب ہوگی کہ اس میں نہ کسی طرح کی کوئی بیہودگی ہوگی، اور نہ کسی قسم کی کوئی گنہگاری، یعنی اہل جنت کو پیش کی جانے والی وہ شراب ان تمام مفاسد اور برے اثرات سے خالی اور ان سے بالکل پاک ہوگی، جو دنیاوی شراب کے لوازم میں سے ہیں، اس کے پینے سے آدمی نہ کسی طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 1 یعنی ان میں شراب کا دور چلے گا اور وہ خوش طبعی کے طور پر ایک دوسرے سے جام چھینیں گے لیکن وہ شراب ایسی ہوگی کہ اس میں نشاط اور لذت تو ہوگی، نشہ، بول اس اور فتور عقل وغیرہ کچھ نہ ہوگا اور نہ اسے پی کر وہ بری حرکات کا ارتکاب کریں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:23) یتنازعون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ تنازع (تفاعل) مصدر ۔ باہم (بطور تفریح) چھین جھپٹ کریں گے۔ ایک لے گا دوسرا دے گا (لغات القرآن) ۔ یتنازعون فیہا کا سا : ای یتعاطون ویتناول بعضھم من بعض کا سا (اضواء البیان) تعالیٰ کوئی چیز کسی کو پکڑا نا۔ تناول۔ ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو لے لینا۔ (الفرائد الدریہ) باہم ملاطفت و محبت کے جذبہ سے سرشار کسی کو شراب کا پیالہ پکڑانا اور اسے لے لینے پر اصرار کرنا ۔ اور دوسری طرف سے ازراہ تلطف و تعطف قبول کرتے ہوئے لے لینا۔ اپنی کثرت میں یہ چھینا جھپٹی کا منظر پیش کرنا ہے۔ لہٰذا یتنازعون کا استعمال لینے کی بناء پر بھی اور دینے کی بناء پر بھی ہوتا ہے۔ تنازع باہم نزاع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–28

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–28

(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–25

[8] یعنی یہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان مومنین کے آباء کے بعض اعمال لے کر ان کی اولاد کو دے دے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مومنین و صالحین کی اولاد کو ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دے گا اگرچہ عمل کے لحاظ سے وہ اولاد اس درجے کی مستحق نہ ہو۔ [9] یعنی جس طرح کوئی شخص قرض ادا کئے بغیر گروی کی ہوئی چیز نہیں چھڑا سکتا اسی طرح کوئی شخص فرض ادا کئے بغیر اپنے آپ کو اللہ کے مواخذہ سے نہیں بچا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہیں۔ جب تک وہ ادا نہ ہوں نجات ممکن نہیں۔ لہذا آباؤ اجداد کی نیک عملی بدعمل اولاد کو نجات نہیں دلا سکتی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–26

اہل دوزخ 1: غرض کہ لفظ قرآن حکیم میں عموماً برے معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مقصود وکفر والحاد میں شغف اور انہماک ہے ۔ برائی اور معصیت سے لگاؤ ہے ۔ اور فسق وفجور سے محبت ہے ۔ غرض یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن بہت برے عذاب میں گرفتار ہوں گے ۔ دنیا میں تو غفلت کے پردے ان کی آنکھوں پر پڑے تھے ۔ اور یہ لوگ سوچنے اور غور وفکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے تھے اور سوچتے بھی تھے تو یہ کہ کس طرح اس آفتاب نبوت کی روشنی سے لوگوں کو محروم رکھا جاسکتا ہے ۔ مگر اب دونوں آنکھیں کھلیں گی ۔ بصیرت کی بھی اور بصارت کی بھی ۔ یہاں یہ دیکھیں گے کہ فرشتے پکڑ پکڑ کر ان کو دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں ۔ اور کہہ رہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(23) وہ اس جنت میں جام شراب پر باہمی چھینا جھپٹی بھی کریں گے اس شراب سے لیس گے یا یہ کہ جیسا عام مجمع میں ہوتا ہے کہ دیا زید کو لے لیا محمود نے یا ایک دوسرے کے ہاتھ سے لیگا کہ پہلے میں پیوں گا غرض جو باتیں ایسے موقعہ پر لطف اٹھانے اور دل لگی کرنے کی ہوتی ہیں وہ بھی ہوں گی۔ البتہ اس شراب میں بیہودگی اور گناہ کا کوئی بات نہ ہوگی دنیا کی شراب پر وہاں کی شراب کو قیاس نہ کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 22–24

ف 2۔ محفوظ موتی پر گردو غبار نہیں ہوتا اور آب و تاب اعلی درجہ کی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس جام کو وہ ایک دوسرے سے بڑھ کرلیتے ہوں گے اس میں کوئی لغو بات نہ ہوگی : 23: وہی بات جو پہلے گزر چکی فرمایا کہ وہ ان آب خوروں سے جام پر جام پئیں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کو پی کر مدہوش ہوجائیں گے اور دنیا میں پی کر جس طرح لوگ غل غپاڑا مچاتے ہیں وہ بھی مچائیں گے ہرگز نہیں وہ شراب نشہ آور نہیں ہوگی اور سوائے اس کے کہ وہ نام کے لحاظ سے شراب ہوگی اور کوئی علامت اس کی اس شراب سے نہیں ملے گی نہ اس کو پی کر کوئی بدمست ہوگا اور نہ ہی کوئی بیہودہ بکواس اور گالی گلوچ پر اترے گا اس طرح کی کوئی بدمزگی وہاں نہیں ہوگی۔ اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقی جلد ہفتم سورة الصافات کی آیت 47 میں کردی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–36

The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّ‌يَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّ‌يَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said: "Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 That is, the wine of Paradise will not intoxicate that they should get drunk and talk nonsense, or use abusive language, or conduct and behave indecently as drunkards. (For further explanation, see E.N. 27 of As-Saaffat).

Read the full tafseer →