Explained with ayahs 21–28
صالح اولاد انمول اثاثہ
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 17
اس آیت میں اہل جنت کو مطلقاً ہر قسم کا گوشت دیے جانے کا ذکر ہے، اور سورة واقعہ آیت 21 میں فرمایا گیا ہے کہ پرندوں کے گوشت سے ان کی تواضع کی جائے گی۔ اس گوشت کی نوعیت ہمیں ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہے۔ مگر جس طرح قرآن کی بعض تصریحات اور بعض احادیث میں جنت کے دودھ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا نہ ہوگا، اور جنت کے شہد کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ مکھیوں کا بنایا ہوا نہ ہوگا، اور جنت کی شراب کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ پھلوں کو سڑا کر کشید کی ہوئی نہ ہوگی، بلکہ اللہ کی قدرت سے یہ چیزیں چشموں سے نکلیں گی اور نہروں میں بہیں گی، اس سے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…
Read the full tafseer →(رامدد نھم لفاکھۃ ولحم مما یشتھون (22) یعنی جس طرح ہم ان کی اولاد کو یکجا کردیں گے، اسی طرح ان کے لیے مطلوبہ ہوا کہ اور ان کے مرغوب گوشت میں بھی اضافہ کردیں گے (لفظامددنا) اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ تعداد کے اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے رزق و فضل میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ (فانۃ اور نحم کے دونوں لفظوں کے اندر تمام غذائی نعمتیں جمع ہوگئی ہیں خواہ وہ لفکات کی نوعیت کی ہوں یا غذا کی۔
Read the full tafseer →22۔ 1 زِدْنَاہُمْ ، یعنی خوب دیں گے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
5: چھینا جھپٹی سے مراد وہ چھینا جھپٹی ہے جو بےتکلف دوستوں میں کسی لذیذ چیز سے لطف لینے کے لئے ہوا کرتی ہے، اس سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی ؛ بلکہ مجلس کا لطف بڑھ جاتا ہے ؛ چنانچہ فرمایا گیا ہے اس جام شراب میں اس طرح کی بےہودگی یا گناہ کی کوئی بات نہیں ہوگی جو دنیا کے شرابیوں میں پائی جاتی ہے، اس شراب میں وہ نشہ ہی نہیں ہوگا جو انسان کو بےہودگیوں پر آمادہ کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
والذین ........ رھین (25 : 12) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ “
یہ منظر جاری ہے۔ جنت کی نعمتوں کا بیان ہورہا ہے۔ یہ نعمتیں قسم قسم کی ہیں ، پھل آرہے ہیں ، قسم قسم کے گوشت چلے آرہے ہیں جو بھی وہ چاہیں وہ وہاں ایک دوسرے سے جام شراب لے رہے ہوگے۔ یہ شراب دنیا کی شراب نہ ہوگی جس کے استعمال کے بعد لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں یا فحش حرکات کرتے ہیں بلکہ یہ مصفی اور پاک شراب ہوگی۔
Read the full tafseer →4 یعنی جس قسم کا گوشت مرغوب ہو اور جس جس میوے کو دل چاہے بلا توقف لگاتار حاضر کیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 22{ وَاَمْدَدْنٰـہُمْ بِفَاکِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ۔ } ”اور ہم انہیں دیے چلے جائیں گے پھل اور گوشت جس سے وہ چاہیں گے۔“
Read the full tafseer →17 صرف پھل اور گوشت ہی نہیں بلکہ جنت کی تمام نعمتیں ختم نہ ہونے والی اور لازوال ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
8۔ مسلمان کی جنت ہر بیہودگی، ہرگندگی سے تو یقیناً خالی ہوگی۔ لیکن اس کے سوا باقی ہر طرح کی تفریح، زندہ دلی، ہنسی مزاج کا وہ ایک مستقل گھر ہوگی، زاہد ان خشک کے مزاج ومسلک سے الگ اور بہت الک۔ (آیت) ” یتنازعون فیھا کا سا “۔ یعنی دنیا میں جیسے بےتکلف دوستوں کے درمیان ہنسی کھیل میں چھین، جھپٹ ہوتی رہتی ہے ویسے ہی لفط وخوش طبعی کے ساتھ وہاں بھی رہے گی ، (آیت) ” لالغوفیھا “۔ لغو کی نفی سے معلوم ہوگیا کہ وہ شراب سکر پیدا کرنے والی نہ ہوگی۔ (آیت) ” ولا تاثیم “۔ تاثیم کی نفی سے معلوم ہوگیا کہ وہ شراب عقل ومتانت کو زائل کرنے والی نہ ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا
والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…
Read the full tafseer →وامددنھم بفاکھۃ ولحم مما یشتھون
اور ہم ان کو میوہ اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے
اَمْدَدْنٰھُمْ : یعنی وقتاً فوقتاً ہم متقیوں کی نعمتوں میں اضافہ کرتے رہیں گے۔
مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ : یعنی طرح طرح کی نعمتیں۔
Read the full tafseer →اور ہم اہل جنت کو جنت میں مختلف اقسام کے میوے اور پرندوں کا گوشت جس قسم کا ان کو پسند ہوگا دیتے رہیں گے اور وہ جنت میں جام شراب میں چھینا جھپٹی بھی کریں گے اور اس کے پینے سے نہ پیٹ پر کوئی بوجھ ہوگا اور نہ اس پر کوئی گناہ ہوگا۔
Read the full tafseer →(وامدد نھم بفاکھۃ…:) اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سوروہ صافات (42) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وامددنھم بفا کھۃ ولحم مما یشتھون ،۔ یعنی ہم ان کے اعمال سے بڑھ کر انہیں یہ کثیر چیزیں دیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے زیادتی ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ انہیں وہ وہ چیزیں عطا فرمائے گا جس کے وہ مستحق نہ تھے۔ یتنازعون فیھا کا سا وہ جام ایک دوسرے سے لیں گے وہ جنت میں مومن، اس کی بیویاں اور ان کے خادم ہوں گے۔ کاس شراب کا برتن جو شراب وغیرہ سے بھرا ہوا ہو، جب وہ خالی ہو تو اسے کاس نہیں کہتے۔ لغت میں تنازع اور کاس کی تائید اخطل کا شعر کرتا ہے : وشارب مریح بلک اس نادمنی لا بالحصور ولا فیھا بسوار (1) نازعتہ طیب الراح الشمول وقد صاح الدجاج وجانت وقعۃ الساری بھرے ہوئے جام پینے والا میرا ندیم ہے تنگ دل بخیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
3:۔ الحاکم (وصححہ) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتہم '' (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کی اولاد کو درجہ میں ان کے ساتھ کردے گے)
4:۔ سعید بن منصور (رح) وھناد ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم جو الحاکم والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کی اولاد کو اس کے ساتھ جنت میں بلند درجہ پر فائز کردے گا اگرچہ وہ عمل میں کم ہوں گے تاکہ ان کے سبب مؤمن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پھر یہ (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم ''…
Read the full tafseer →وَاَمْدَدْنٰهُمْ [اور ہم دراز کریں گے دنیا ان کو ] بِفَاكِهَةٍ وَّلَحْمٍ [ پھلوں اور گوشت سے ] مِّمَّا [ اس میں سے جو ] يَشْتَهُوْنَ [ ان کا جی چاہے گا ]
Read the full tafseer →اس کے بعد اہل ایمان کے ایک اور انعام کا تذکرہ فرمایا، ارشاد ہے :
﴿وَ اَمْدَدْنٰهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ 0022﴾ (اور ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہوگا بڑھا کردیتے رہیں گے) اس میں اہل جنت کو فاکہۃ یعنی میوے پیش کیے جانے کا تذکرہ فرمایا ہے سورة الزخرف میں فرمایا ﴿ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ 0073﴾ (تمہارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں جن میں تم کھا رہے ہو) اور سورة مرسلات میں فرمایا ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ ظِلٰلٍ وَّ عُيُوْنٍۙ0041 وَّ فَوَاكِهَ مِمَّا يَشْتَهُوْنَؕ0042 ﴾ (پرہیز گار لوگ سایوں میں اور چشموں اور مرغوب میووں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
10:۔ ” وامددناہم “ اہل جنت کے لیے مزید نعمتوں کا ذکر ہے۔ مذکورہ نعمتوں کے علاوہ ہم ان کو ان کی مرضی اور خواہش کے میوہ جات اور مختلف انواع گوشت بھی مہیا کریں گے اور وہاں شراب طہور کے ساغر پہ ساغر چلیں گے۔ وہ شراب ایسی پاکیزہ ہوگی جو نشہ اور بد مزگی سے مبرا ہوگی۔ اور اس کے پینے سے کوئی بےہودگی، کوئی لغو بات اور کوئی گناہ کی چیز ظاہر نہیں ہوگی جیسا کہ دنیا کی شراب بےہودگی اور گناہ کا سرچشمہ ہے۔ ای لا یکون فیھا ما یوثمہم ولا یجری بینہم مافیہ لغو واثم کما یجری بین شربۃ الخمر فی الدنیا (خازن ج 6 ص 251) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…
Read the full tafseer →وَاَمْدَدْنٰہُمْ بِفَاكِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا يَشْتَہُوْنَ 22
مد
أصل المَدّ : الجرّ ، ومنه : المُدّة للوقت الممتدّ ، ومِدَّةُ الجرحِ ، ومَدَّ النّهرُ ، ومَدَّهُ نهرٌ آخر، ومَدَدْتُ عيني إلى كذا . قال تعالی: وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ الآية [ طه/ 131] . ومَدَدْتُهُ في غيّه، ومَدَدْتُ الإبلَ : سقیتها المَدِيدَ ، وهو بزر ودقیق يخلطان بماء، وأَمْدَدْتُ الجیشَ بِمَدَدٍ ، والإنسانَ بطعامٍ. قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلى رَبِّكَ كَيْفَ مَدَّ الظِّلَ [ الفرقان/ 45] . وأكثر ما جاء الإمْدَادُ في المحبوب والمدُّ في المکروه نحو : وَأَمْدَدْناهُمْ بِفاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ الطور/ 22]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔
تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…
Read the full tafseer →وَاَمْدَدْنٰـہُمْ بِفَاکِھَۃٍ وَّ لَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَھُوْنَ ۔ (الطور : 22)
(اور ہم ان کو برابر دیتے رہیں گے ہر طرح کے پھل اور گوشت جیسے ان کا جی چاہے گا۔ )
اہلِ جنت پر افضال و انعام کی ایک جھلک
بِمَآ اٰتٰـھُمْ رَبُّھُمْمیں جو بات مجمل انداز میں فرمائی گئی تھی اب اس کو تھوڑا سا کھول دیا گیا ہے کہ ہم جو اہل جنت کو ہر طرح کی بےپایاں نعمتیں عطا کریں گے ان میں غذائی نعمتوں کے اعتبار سے ہر طرح کا پھل بھی دیں گے اور ہر طرح کا گوشت بھی فراہم کریں گے۔ کیونکہ انسان کی غذا ان دونوں میں سے کسی ایک کے بغیر نامکمل رہتی ہے۔ آدمی غذا میں مختلف چیزوں کا استعمال کرتا ہے، دالیں اور سبزیاں بھی کھائی جاتی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ جس طرح کم درجے رکھنے والی اولاد پر کرم فرما کر انہیں ان کے ماں باپ کے ساتھ ملانے کے لیے اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ جنتی کے اعمال سے زیادہ انہیں اپنی نعمتوں سے سرفراز فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ جنتی کو خوش رکھنے کے لیے وہ کچھ عطا فرمائے گا جو وہ چاہیں گے۔ جنت میں نعمتیں بیشمار ہوں گی لیکن پھل اور گوشت کا اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ پھل اور گوشت ہر انسان کی مرغوب اور پسندیدہ خوراک ہوتی ہے۔ دوسرے مقام پر پھلوں کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا ہے :
” ایمان لانے اور صالح اعمال کرنے والوں کو خوش خبری دیجیے کہ ان کے لیے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →نظار ہائے جنت :
آیت 22 : وَ اَمْدَدْنٰہُمْ بِفَاکِہَۃٍ وَّلَحْمٍ مِّمَّا یَشْتَہُوْنَ (اور ہم ان کو میوہ اور گوشت جس قسم کا مرعوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے) امددنا کا معنی وقتا فوقتاً بڑھانا ہے۔ مما یشتہوں۔ اگرچہ وہ اپنی طرف سے تجویز نہ بھی کریں۔
Read the full tafseer →21 ۔” والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان “ ابو عمرو نے ” اتبعناھم “ الف قطعی کے ساتھ تعظیم کی وجہ سے پڑھا ہے ۔ ” ذریاتھم “ الف اور تاء کی زیر کے ساتھ دونوں میں۔ اللہ تعالیٰ کے قول ” الحقنا بھم “ اور ” وماالتناھم “ کی وجہ سے تاکہ کلام ایک ترتیب پر ہوجائے اور دیگر حضرات نے ” واتبعتھم “ الف وصلی اور اس کے بعد تاء مشدد اور آخری تاء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ پھر ان کا اختلاف ہوا ہے ” ذریتھم “ میں۔ اہل مدینہ نے پہلے کو بغیر الف اور تاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے کو الف اور تاء کی زیر کے ساتھ۔
اوراہل شام اور یعقوب نے دونوں کو الف کے ساتھ اور تاء کی زیر کے ساتھ دوسرے میں اور دیگر حضرات نے دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ عقبیٰ میں ماں باپ سے اولاد کو اور اولاد سے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فائدہ پہنچائے گا چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور طبرانی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں ہے کہ قیامت کے دن بعض جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بی بی بچوں کا حال فرشتوں سے پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں فرشتے کہیں کے ان کے اعمال اس قابل نہ تھے کہ اس درجہ کی جنت میں وہ داخل ہوتے یہ جنتی لوگ اللہ سے دعا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ اعلیٰ درجہ کی جنت میں اکٹھا کر دے گا۔ طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن غزوان ضیفد ہے۔ لیکن یہ روایت مسند 2 ؎…
Read the full tafseer →(وَاَمْدَدْنٰهُمْ ) یعنی ہم اپنے بےپایاں فضل و کرم سے اہل جنت کو اور زیادہ نعمتیں عطا کریں گے اور رزق عام سے بہر مند کریں گے۔ (بفاکھۃ) یعنی انگور، انار، سیب اور نہایت لذیذ پھلوں کی مختلف اصناف سے نوازیں گے جو اس پر مستزاد ہوں گے جسے وہ عام خوراک کے طور پر استعمال کریں گے (ولحم مما یشتھون) اور پرندوں وغیرہ کے ہر قسم کے گوشت جو وہ طلب کریں گے اور جو ان کے دل چاہے گا۔
Read the full tafseer →[ 29] اہل جنت کے لئے نعمتوں میں اضافے کی خوش خبری :
سو اس ارشاد سے اہل جنت کے لئے جنت کی نعمتوں میں اضافے اور ان سے ان کو برابر نوازے جانے کی خوشخبری دے دی گئی۔ یعنی وقت بوقت ہم ان کو نعمتوں سے نوازتے رہیں گے جن کی وہ خواہش کریں گے، [ مدارک وغیرہ ] اور پھل اور گوشت کو بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا گیا کہ دنیا میں کھانے کی چیزوں میں سب سے بڑھ کر اور اصل یہی دو چیزیں ہیں۔ سو تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کے لئے رزق و فضل میں بھی اضافہ کیا جاتا رہے گا۔ اللہ نصیب فرمائے۔ بہرکیف اس موقع پر اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ جس طرح ہم ان کی اولاد کو ان سے ملا دیں گے اور ان کے کیف و سرور کو دوبالا کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 1 یعنی ان میں شراب کا دور چلے گا اور وہ خوش طبعی کے طور پر ایک دوسرے سے جام چھینیں گے لیکن وہ شراب ایسی ہوگی کہ اس میں نشاط اور لذت تو ہوگی، نشہ، بول اس اور فتور عقل وغیرہ کچھ نہ ہوگا اور نہ اسے پی کر وہ بری حرکات کا ارتکاب کریں گے۔
Read the full tafseer →(52:22) وامددنھم۔ امددنا ماضی بمعنی مستقبل ۔ صیغہ نمع متکلم۔ امداد افعال مصدر۔ امدا کرنا۔ بوقت ضرورت یا حسب خواہش دینا۔ وقتاً فوقتاً دینا۔ امددنھم ای زونھم فی وقت بعد وقت (اللمدارک) ہم ای الاباء والابناء من سکان الجنۃ۔ یعنی جنت میں بسنے والے آباء و اجداد اور ان کی اولاد۔ (السیر التفاسیر) جن کو فضل الٰہی سے جنت میں باہم ملا دیا جائے گا۔
مما۔ مرکب ہے من حرف جار اور ما موصولہ ہے۔
یشتھون مضارع جمع مذکر غائب۔ اشتھاء (افتعال) مصدر (جس کی) وہ خواہش کریں گے۔ (جسے) وہ چاہیں گے۔
ترجمہ :۔ اور ہم وقتاً فوقتاً انہیں میوے اور گوشت جسے وہ پسند کریں گے با فراط دیتے رہیں گے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28
فکھین دل بہانے والاے
ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 28
کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
[8] یعنی یہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان مومنین کے آباء کے بعض اعمال لے کر ان کی اولاد کو دے دے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مومنین و صالحین کی اولاد کو ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دے گا اگرچہ عمل کے لحاظ سے وہ اولاد اس درجے کی مستحق نہ ہو۔ [9] یعنی جس طرح کوئی شخص قرض ادا کئے بغیر گروی کی ہوئی چیز نہیں چھڑا سکتا اسی طرح کوئی شخص فرض ادا کئے بغیر اپنے آپ کو اللہ کے مواخذہ سے نہیں بچا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہیں۔ جب تک وہ ادا نہ ہوں نجات ممکن نہیں۔ لہذا آباؤ اجداد کی نیک عملی بدعمل اولاد کو نجات نہیں دلا سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
بہشت والے
1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس…
Read the full tafseer →(22) اور ہم ان اہل جنت کو جس قسم کے میوے اور گوشت وہ چاہیں گے پے درپے دیتے رہیں گے۔ یعنی یہ نعمتیں کسی خا ص مدت کے لئے نہ ہوں گی بلکہ برابر ملتی رہیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 2۔ محفوظ موتی پر گردو غبار نہیں ہوتا اور آب و تاب اعلی درجہ کی ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →ہم اہل جنت کو دم بدم میوے ، گوشت اور جو وہ چاہیں گے دیتے رہیں گے :
22: یہ بات ہم ساتھ ساتھ عرض کرتے چلے آرہے ہیں کہ انسن کو جو کچھ اس دنیا میں مرغوب ہے اور اس کو جس چیز کی چاہت ہوتی ہے قرآن کریم نے جنت میں وہ سب کچھ ملنے کا ذکر کیا ہے اور ان میں سے ایک چیز بھی نہیں جس کو چھوڑا ہو لیکن ساتھ ساتھ یہ بات واضح کرتا گیا ہے کہ ان ناموں کے سوا دنیا کی ان چیزوں اور آخرت کی ان چیزوں میں کوئی مناسبت نہیں نام یہی ہوں گے اور ان کی شناخت کے لیے ان کی شکل و صورت بھی ان سے ملتی جلتی ہوگی لیکن اصلیت کا اس دنیا کی چیزوں اور آخرت کی چیزوں میں بہت زیادہ فرق ہے بلکہ ان دونوں کا کوئی وصف آپس میں نہیں ملتا ہوگا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →17 In this verse, there is the mention of providing the dwellers of Paradise with every kind of meat generally, and in Surah AI-Waqi'ah it has been said: "They will be served with the flesh of fowls." We do not know what exactly will be the nature of this flesh. But just as in some expressions of the Qur'an and in some Ahadith it has been said about the milk of Paradise that it will not have been drawn from the udders of animals, and about the honey of Paradise it has been said that it will not have been produced by the bees, and about the wine of Paradise it has been said that it will not…
Read the full tafseer →