Explained with ayahs 21–28
صالح اولاد انمول اثاثہ
اللہ تعالیٰ جل شانہ اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم اپنے احسان اور انعام کا بیان فرماتا ہے کہ جن مومنوں کی اولاد بھی ایمان میں اپنے باپ دادا کی راہ میں لگ جائے لیکن اعمال صالحہ میں اپنے بڑوں سے کم ہو پروردگار ان کے نیک اعمال کا بدلہ بڑھا چڑھا کر انہیں ان کے بڑوں کے درجے میں پہنچا دے گا تاکہ بڑوں کی آنکھیں چھوٹوں کو اپنے پاس دیکھ کر ٹھنڈی رہیں اور چھوٹے بھی اپنے بڑوں کے پاس ہشاش بشاش رہیں ان کے عملوں کی بڑھوتری ان کے بزرگوں کے اعمال کی کمی سے نہ کی جائے گی بلکہ محسن و مہربان اللہ انہیں اپنے معمور خزانوں میں سے عطا فرمائے گا حضرت ابن عباس اس آیت کی تفسیر یہی فرماتے ہیں۔ ایک…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 15
یہ مضمون اس سے پہلے سورة رعد آیت 23، اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گزر چکا ہے، مگر یہاں ان دونوں مقامات سے بھی زیادہ ایک بڑی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ سورة رعد والی آیت میں صرف اتنی بات فرمائی گئی تھی کہ اہل جنت کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویوں میں سے جو جو افراد بھی صالح ہوں گے وہ سب ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔ اور سورة مومن میں ارشاد ہوا تھا کہ فرشتے اہل ایمان کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ان کی اولاد اور ازواج اور آباء میں سے جو صالح ہوں انہیں بھی جنت میں ان سے ملا دے۔ یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی…
Read the full tafseer →(والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنابھم ذریتھم وما التتھم من عملھم من شئی کلی امری بما کسب رہین (21)
(اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے ایک بشارت)۔۔ جنت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی مسرت کی تکمیل کے لیے جو اہتمام فرمائے گا اسی سلسلہ میں یہ بشارت بھی دی گئی ہے کہ ان کی اولاد میں سے جس نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ہوگی اللہ تعالیٰ ان کو بھی ان کے ساتھ ملا دے گا اگرچہ وہ ایمان و عمل کے اعتبار سے ان کے درجے کے مستحق نہ ہوں۔ اس یکجائی کے لیے ضابطہ یہ بیان فرمایا کہ (وما التنھم من عملھم من شئی) اولاد کے ایمان کے کسر کا جبران کے والدین کے عمل میں کمی کر کے نہیں کیا جائیگا۔ وہ اپنے اسی…
Read the full tafseer →21۔ 1 یعنی جن کے باپ اپنے اخلاص و تقوٰی اور عمل و کردار کی بنیاد پر جنت کے اعلٰی درجوں پر فائز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی ایماندار اولاد کے بھی درجے بلند کرکے، ان کو ان کے باپوں کے ساتھ ملا دے گا یہ نہیں کرے گا کہ ان کے باپوں کے درجے کم کرکے ان کی اولاد والے کمتر درجوں میں انہیں لے آئے یعنی اہل ایمان پر دو گونہ احسان فرمائے گا۔ ایک تو باپ بیٹوں کو آپس میں ملا دے گا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں، بشرطیکہ دونوں ایماندار ہوں دوسرا یہ کہ کم درجے والوں کو اٹھا کر اونچے درجوں پر فائز فرما دے گا۔ ورنہ دونوں کے ملاپ کا یہ طریقہ بھی ہوسکتا ہے کہ اے کلاس والوں کو بی کلاس دے دے، یہ بات چونکہ اس کے فضل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
3: یعنی نیک لوگوں کی اولاد اگر مومن ہو تو اگرچہ وہ اپنے اعمال کے لحاظ سے جنت میں اس اونچے درجے کی مستحق نہ ہو جو اس کے والد کو ملا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ والد کو خوش کرنے کے لئے اولاد کو بھی وہی درجہ دے دیں گے اور والد کے درجے میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
4: رہن اس سامان کو کہتے ہیں جو کسی ادھار دینے والے نے اپنے ادھار کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر مقروض سے لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہو، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، وہ انسان کے پاس ادھار ہیں، یہ ادھار اسی صورت میں اترسکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان صلاحیتوں کو استعمال کرے جس کا مظاہرہ دنیا میں ایمان لانے اور نیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
والذین ........ رھین (25 : 12) ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے۔ ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے۔ “
یہ منظر جاری ہے۔ جنت کی نعمتوں کا بیان ہورہا ہے۔ یہ نعمتیں قسم قسم کی ہیں ، پھل آرہے ہیں ، قسم قسم کے گوشت چلے آرہے ہیں جو بھی وہ چاہیں وہ وہاں ایک دوسرے سے جام شراب لے رہے ہوگے۔ یہ شراب دنیا کی شراب نہ ہوگی جس کے استعمال کے بعد لوگ یا وہ گوئی کرتے ہیں یا فحش حرکات کرتے ہیں بلکہ یہ مصفی اور پاک شراب ہوگی۔
Read the full tafseer →2 یعنی کاملوں کی اولاد اور متعلقین اگر ایمان پر قائم ہوں اور ان ہی کاموں کی راہ پر چلیں۔ جو خدمات ان کے بزرگوں نے انجام دی تھی یہ بھی ان کی تکمیل میں ساعی ہوں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کو جنت میں ان ہی کے ساتھ ملحق کر دے گا۔ گو ان کے اعمال و احوال سے کما وکیفا فروتر ہوں۔ تاہم ان بزرگوں کے اکرام اور عزت افزائی کے لیے ان تابعین کو ان متبوعین کے جوار میں رکھا جائے گا۔ اور ممکن ہے بعض کو بالکل ان ہی کے مقام اور درجہ پر پہنچا دیا جائے جیسا کہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس صورت میں یہ گمان نہ کیا جائے کہ ان کاملین کی بعض نیکیوں کا ثواب کاٹ کر ذریت کو دے دیا جائے گا۔ نہیں یہ محض اللہ کا فضل…
Read the full tafseer →آیت 21{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّـتَہُمْ } ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ان کی پیروی کی ایمان کے ساتھ ‘ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اس اولاد کو“
قبل ازیں اس مضمون کا ذکر سورة المومن میں حاملین عرش اور ان کے ساتھی فرشتوں کی دعا کے ضمن میں بھی آچکا ہے۔ وہ اللہ کے حضور مومنین کے لیے یوں دعا کر رہے ہوں گے : { رَبَّـنَا وَاَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّہُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِ ہِمْ وَاَزْوَاجِہِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اے ہمارے پروردگار ! انہیں…
Read the full tafseer →15 کم درجہ والی اولاد کو والدین سے ملادینا :۔ یعنی والدین نیک اور پرہیزگار تھے۔ اولاد نے اپنے والدین کی پیروی کی کوشش تو کی مگر نیکی اور پرہیزگاری میں اس درجہ تک نہ پہنچے جو والدین کا درجہ تھا تو اللہ تعالیٰ اولاد پر یہ مہربانی فرمائیں گے کہ ان کو بھی ان کے والدین کے درجہ تک پہنچا کر جنت میں ان کے والدین کے ساتھ ملا دیں گے تاکہ والدین اور اولاد جیسے دنیا میں اکٹھے رہے تھے جنت میں بھی اکٹھے رہ سکیں اور والدین اور اولاد دونوں کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ اس سلسلہ میں یہ نہ ہوگا کہ کچھ والدین کا کچھ درجہ کم کردیا اور کچھ اولاد کا کچھ بڑھا دیا اور دونوں کو ایک درمیانی درجہ کے مقام میں جنت میں ملا دیا…
Read the full tafseer →6۔ یعنی اس کی صورت یہ نہ ہوگی کہ متقی اسلاف کے اعمال میں سے کچھ کم کرکے انہیں اور ان کی پست عمل اولاد کو ایک درجہ میں رکھ دیا جائے۔ (آیت) ” ذریتھم “۔ ذریت۔ کے لفظ میں گنجائش ہے۔ علاوہ سلبی اولاد کے دوسرے اعزہ و اقرباء احباب، ومسترشدین بھی مراد ہوسکتے ہیں، اور حدیث میں تو ذریت کا عطف ہی لفظ دلدپر ہے، جس سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ ذریت سے یہاں مراد مطلق توابع ہیں۔ (آیت) ” واتبعتھم ذریتھم بایمان “۔ مراد ایسی ذریت ہے جو صاحب ایمان تو اپنے اسلاف ہی کی طرح ہو، البتہ اعمال میں اتباع شریعت میں ان سے بہت پیچھے ہو۔ (آیت) ” بایمان “۔ اس ایمان کی قید سے فقہاء مفسرین نے یہ نکالا ہے کہ یہاں ذکر بالغ اولاد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
بشرط ایمان بزرگوں سے تعلق نسبی آخرت میں نفع دے گا
والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم یہ مضمون سورة رعد آیت 23 اور سورة مومن آیت 8 میں بھی گذر چکا ہے مگر یہاں ان دونوں آیتوں سے زائد جو بات فرمائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اولاد کسی نہ کسی درجہ ایمان میں بھی اپنے آباء کے نقش قدم کی پیروی کرتی رہی ہو خواہ اپنے عمل کے لحاظ سے وہ اس مرتبے کی مستحق نہ ہو جو آباء کو ان کے بہتر ایمان و عمل کی بناء پر حاصل ہوگا پھر بھی یہ اولاد اپنے آباء کے ساتھ ملا دی جائے، اور یہ ملانا اس نوعیت کا نہ ہوگا جیسے وقتاً فوقتاً کوئی کسی کی ملاقات کرلیا کرے بلکہ اسکے لئے الحقنا بھم کے الفاظ استعمال ہوئے…
Read the full tafseer →والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنابھم ذریتھم وما التناھم من عملھم من شی .
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کی اولاد کو بھی (درجہ میں) ان کے ساتھ شامل کردیں گے اور ان کے عمل میں سے کچھ کم نہیں کریں گے۔
ذُرِّیَّتُھُمْ : ذرّیت کا اطلاق واحد پر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی۔
بِاِیْمَانٍ : تنوین تنکیر یہ بتارہی ہے کہ (درجہ میں) شامل کرنے کے لیے صرف ایمان کافی ہوگا بلکہ ایمان حکمی بھی الحاق کے لیے کافی ہے جیسے بچہ کا ایمان اور جنون کی حالت کا ایمان۔ حضرت ابن عباس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ مؤمنوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
(18۔ 21) اور ان کو عیش و آرام کی جو چیزیں جنت میں ان کے پروردگار نے دی ہوں گی ان سے خوش ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور ان سے فرمائے گا جنت کے پھلوں کو خوب کھاؤ اور اس کی نہروں سے خوب پیو کسی قسم کی کوئی تکلیف و گرانی نہ ہوگی اور نہ موت آئے گی۔
اپنے ان نیک اعمال کے بدلے میں جو دنیا میں کیا کرتے تھے ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر ترتیب وار بچھائے ہوئے ہیں۔
اور جنت میں ہم ان کی گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت حوروں سے شادی کریں گے۔
اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کامل اور سچے رہے اور ان کی اولاد نے بھی دنیا…
Read the full tafseer →(1) والذین امنوا واثبعتھم ذریتھم بایمان :”بایمان“ پر تنوین تنکیر و تقلیل کیلئے ہے، اس لئے ترجمہ ”اور ان کی اولاد کسی بھی درجے کے ایمان کے ساتھ ان کے پیچھے چلی“ کیا گیا ہے۔
(2) الحقنا بھم ذریتم : طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے اس کی تفسیر نقل فرمائی ہے :(ان اللہ تبارک و تعالیٰ یرفع للمومن ذریتہ ، وان کانوا دونہ فی العمل ، لیقر اللہ بھم عینہ) (طبری : 32622)”اللہ تعالیٰ مومن کی خاطر اس کی اولاد کو اونچا لے جائے گا، خواہ وہ عمل میں اس سے کم ہوں گے، تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے اس کی آنکھ ٹھنڈی کرے۔“ اس سے پہلے سورة رعد (23) میں بیان فرمایا کہ اہل جنت کے آباء اور…
Read the full tafseer →والذین امنو او اتبعتھم ذریتھم، عام قراءت واتبعتھم ہے ہمزہ وصلی، تاء مشد د، عین مفتوحہ اور تاء ساکن۔ ابو عمرو نے واتبعنا ھم پڑھا ہے ہمزہ قطعی تاء اور عین ساکن اور نون۔ وہ اسے الحقنا بھم پر قیاس کرتے ہیں تاکہ کلام ایک ہی طریقہ پر رہے۔ جہاں تک پہلے ذریتھم کا تعلق ہے تو ابن عامر، ابو عمرو اور یعقوب نے جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور اسے نافع سے پڑھا ہے مگر ابو عمرو نے تاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا کیونکہ مفعول ہے باقی نے اسے ضمہ دیا ہے باقی قراء اسے واحد کا صیغہ اور تاء کو ضمہ دیا ہے نافع سے بھی یہی مشہور ہے جہاں تک دوسرے لفظ ذریۃ کا تعلق ہے نافع، ابن عامر، ابو عمرو اور یعقوب نے تاء کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
3:۔ الحاکم (وصححہ) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتہم '' (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا ہم ان کی اولاد کو درجہ میں ان کے ساتھ کردے گے)
4:۔ سعید بن منصور (رح) وھناد ابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم جو الحاکم والبیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کی اولاد کو اس کے ساتھ جنت میں بلند درجہ پر فائز کردے گا اگرچہ وہ عمل میں کم ہوں گے تاکہ ان کے سبب مؤمن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پھر یہ (آیت ) '' والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم ''…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا [ اور جو لوگ ایمان لائے ] وَاتَّبَعَتْهُمْ [ اور پیروی کی جن کی ] ذُرِّيَّــتُهُمْ [ان کی اولاد نے ] بِاِيْمَانٍ [ایمان کے ساتھ ] اَلْحَـقْنَا بِهِمْ [ ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ] ذُرِّيَّتَهُمْ [ ان کی اولاد کو ] وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ [ اور حق تلفی نہیں کریں گے ان کو ] مِّنْ عَمَلِهِمْ [ ان کے عمل میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ ۭ [ ذرا سا بھی ] كُلُّ امْرِی [ ہر شخص ] بِمَا كَسَبَ [ بسبب اس کے جو اس نے کمائی کی ] رَهِيْنٌ [ گروی رکھا ہوا ہے ]
ء ل ت : (ض) التا ۔ کسی کے حق میں کمی کرنا ۔ گھٹانا (متعدی ) کسی چیز کا کم ہوجانا ۔ گھٹنا ۔ (لازم) ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 21 ۔
نوٹ ۔ 1: انسان کا…
Read the full tafseer →اہل ایمان کی ذریت
اس کے بعد ایک مزید انعام کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ اہل ایمان جو جنت میں جائیں گے ان کی ایمان والی ذریت یعنی اہل و اولاد بھی جنت میں ان کے درجات میں پہنچا دی جائے گی اگرچہ وہ لوگ یعنی اہل واولاد اعمال کے اعتبار سے اپنے آباء سے کم ہوں، بڑوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے چھوٹوں کو بھی ان کا درجہ دے دیا جائے گا اور یہ جو کچھ دیا جائے گا محض انعام اور فضل ہوگا۔ بڑوں کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہ کی جائے گی، ان کا پورا پورا اجر اور انعام دیتے ہوئے ان کی ذریت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی ہوگی۔
روح المعانی میں بحوالہ مستدرک حاکم اور سنن بیہقی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…
Read the full tafseer →9:۔ ” والذین امنوا۔ الایۃ “ ما التناھم ای ما نقصناھم (خازن، روح) ۔ یعنی ہم کم نہیں کریں گے۔ جو مؤمنین اپنے ایمان اور عمل کی وجہ سے جنت کے بہت اونچے درجات میں ہوں گے ہم ان کی اولاد جو ایمان وعمل میں ان کا اتباع کرتی رہی، لیکن ان کے رتبے کو نہ پہنچ سکی، ہم ان کو بھی جنت میں ان کے آباء و اجداد کے درجات میں جگہ دے دیں گے۔ اور اس کی وجہ سے ان کے آباء و اجداد کے درجہ و رتبہ میں کسی قسم کی کمی نہیں کریں گے اور نہ ان کے کسی عمل کا ثواب ہی کم کریں گے لیکن ہر کافر و مشرک اپنے اعمال مشرکانہ کی وجہ سے جہنم میں گرا ہوگا خواہ اس کے ماں باپ کتنے ہی نیک اور صالح ہوں۔ مشرک اور کافر اولاد کو ماں باپ کی نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّيَّــتُہُمْ بِـاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِہِمْ ذُرِّيَّتَہُمْ وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ 0 ۭ كُلُّ امْرِئٍؚ بِمَا كَسَبَ رَہِيْنٌ 21
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔
تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَمَآ اَلَتْنٰـھُمْ مِّنْ عَمَلِھِمْ مِّنْ شَیْ ئٍ ط کُلُّ امْرِیٍٔ م بِمَا کَسَبَ رَھِیْنٌ۔ (الطور : 21)
(اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ان کی اولاد کو بھی ہم جنت میں ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ان کے عمل میں سے ذرا بھی کمی نہیں کریں گے، ہر شخص اس کمائی کے بدلے میں رہن ہے جو اس نے کی ہوگی۔ )
اہلِ جنت پر ایک خصوصی انعام
اللہ تعالیٰ نے اہل جنت پر جو بیشمار انعامات کیے ہیں ان میں سے ایک انعام یہ بھی ہے جو درحقیقت اہل جنت کی خوشیوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے کہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنتی والدین کے ساتھ ان کی نیک اولاد کا ملاپ اور مقام۔
جو لوگ ایمان لائے اور اس کے تقاضے پورے کرتے رہے، ان کی اولادنے بھی ایمان لانے اور نیک عمل کرنے میں اپنے والدین کی پیروی کی۔ جب دونوں جنت میں داخل کیے جائیں گے اور اپنے اپنے مقام پر قیام پذیر ہوں گے تو جنت کے نچلے درجے میں رہنے والی اولاد کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کے ماں باپ کے ساتھ ملادے گا اور ان کے ماں باپ کے درجات میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ گویا کہ ان کی اولاد کے درجات میں اضافہ کردیا جائے گا۔ فطری طور پر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ رہیں کسی کے درجات میں کمی کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے عدل اور…
Read the full tafseer →اولاد کا آباء سے ملنا :
آیت 21 : وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (اور جو لوگ ایمان لائے) نحو : یہ مبتدأ ہے اور الحقنا بہم اس کی خبر ہے۔ وَاتَّبَعَتْہُمْ (اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا)
قراءت : ابوعمرو نے واتبعناہم پڑھا ہے۔ ذُرِّیَّتُہُمْ (ان کی اولادنے) بِاِیْمَانٍ ۔ نحو : یہ فاعل سے حال ہے۔
اَلْحَقْنَابِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ (ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ شامل کردیں گے) یعنی اولاد کو اس کے ایمان اور اعمال صالحہ کے سبب سے ان کے آباء کے ساتھ درجات میں ملا دیں گے۔ خواہ اولاد کے اعمال اپنے آباء سے کم ہوں۔
ایک قول یہ ہے :
اولاد اگرچہ وہ کسی مقام پر نہ پہنچے ہوں۔ کہ ان کا ایمان استدلالی…
Read the full tafseer →20 ۔” متکئین علی سرر مصفوفۃ “ ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہوئے ہوں گے۔ ” وزوجناھم بحور عین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
21۔ 23۔ عقبیٰ میں ماں باپ سے اولاد کو اور اولاد سے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے فائدہ پہنچائے گا چناچہ تفسیر ابن ابی حاتم اور طبرانی 1 ؎ میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس آیت کی تفسیر یوں ہے کہ قیامت کے دن بعض جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بی بی بچوں کا حال فرشتوں سے پوچھیں گے کہ وہ سب کہاں ہیں فرشتے کہیں کے ان کے اعمال اس قابل نہ تھے کہ اس درجہ کی جنت میں وہ داخل ہوتے یہ جنتی لوگ اللہ سے دعا کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ ان سب کو ایک جگہ اعلیٰ درجہ کی جنت میں اکٹھا کر دے گا۔ طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن غزوان ضیفد ہے۔ لیکن یہ روایت مسند 2 ؎…
Read the full tafseer →یہ اہل جنت کی نعمتوں کی تکمیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اہل جنت کے ساتھ ان کی اس اولاد کو بھی لے جائے گا جنہوں نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی، یعنی وہ اس ایمان کی بنا پر ان کے ساتھ جاملیں گے جو ان کے آبا اجداد سے صادر ہو اور اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی اتباع کی، اگر اولاد نے اپنے ایمان کے ساتھ جو خود ان سے صادر ہوا، اپنے آباؤ اجداد کی اتباع کی تو ان کے اپنے آبا کے ساتھ لاحق ہونا زیادہ اولی ہے۔ ان مذکورہ بالا لوگوں کو اللہ تعالیٰ جنت میں ان کے آبا اجداد کے ساتھ ان کے مقامات میں ملائے گا اگرچہ وہ ان مقامات پر نہ جاسکیں گے۔ یہ الحاق ان کے آبا اجداد کے لیے جز اور ان کے ثواب میں اضافے کے طور پر…
Read the full tafseer →[ 26] اہل جنت کے لئے ایک اور بشارت کا ذکر وبیان :
سو اس سے اہل جنت کی تکمیل مسرت کے لئے ایک اور بشارت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ ان کی ایماندار اولاد کو بھی ان کے ساتھ شامل و شریک کردیا جائے گا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اہل جنت کیلئے ان کی ایماندار اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے، تاکہ وہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کے سکون و سرور میں اضافے کا باعث نہیں۔ طبرانی (رح) میں حضرت ابن عباس ؓ ۔ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنتی جنت میں داخل ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے بارے میں پوچھے گا کہ وہ کہاں ہیں ؟ تو اس کو جواب ملے گا کہ ان کے اعمال چونکہ تمہارے برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اولاد کے ساتھ آملنے سے یہ نہیں ہوگا کہ ان کے کسی عمل کا ثواب کم ہوجائے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا ان پر فضل و کرم ہوگا کہ ان کی اولاد گو درجات میں کم ہوگی لیکن ان کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچانے کے لئے انہی کے درجہ میں رکھی جائے گی بشرطیکہ وہ انہی کے راستہ پر چلنے والی ہو حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : آدمی جب جنت میں داخل ہوگا تو اپنے والدین بیوی اور اولاد کے بارے میں دریافت کرے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ وہ تیرے درجہ اور عمل کو نہیں پہنچے وہ عرض کرے گا کہ اے اللہ ! میں نے تو اپنے لئے اور ان کے لئے عمل کیا تھا اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ انہیں بلند درجہ دے کر ان کے ساتھ ملا دیا…
Read the full tafseer →(52:21) والذین امنوا۔ الموصول ، مبتدا۔ الحقنا بھم ذریتھم اس کی خبر۔ واتبعتھم ذریتھم جملہ معترضہ، الحقنابھم کی تعلیل کے لئے۔ یا یہ معطوف ہے اور اس کا عطف الذین امنوا پر ہے۔
بایمان متعلق اتباع۔
ما التنھم۔ ماضی منفی جمع متکلم ۔ الہ۔ الت۔ ایلاۃ والاتۃ (باب ضرب) مصدر۔ حقہ حق کو کم کرکے دینا۔ ہم ان کا حق ان کو کم کرکے نہیں دیں گے۔ ہم ان کے حق میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ اگر ما موصولہ لیا جائے تو ترجمہ ہوگا : بیشک جو پرہیزگار ہیں باغوں میں چین کرتے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کو ان کے رب نے عطا کیں اور ان کا رب ان کو عذاب دوزخ سے بچادے گا۔ (آیات 1-18) تفسیر حقانی۔
فائدہ : اللہ تعالیٰ جنت میں بھی داخل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28
فکھین دل بہانے والاے
ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 28
کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
(ف 1) اس آیت میں فرمایا کہ جو لوگ رسول و قرآن پرسچے دل سے ایمان لائے ہوں گے اور ان کی اولاد نے ان کا اتباع کیا ہوگا تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے باپوں کے ساتھ جنت میں ملادیں گے یعنی اگر ماں باپ کے مراتب جنت میں برتر ہوں گے اور اولاد کے پست درجہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ باپوں کی خوشی کے لیے اولاد کے مراتب بلند کردے گا یا یہ کہ اولاد جو نابالغی کی حالت میں مر گئی ہوگی ان کو خدا جنت میں ان ہی درجوں میں جہاں ان کے ماں باپ ہوں گے داخل کردے گا، اور یہ درجہ محض اپنی رحمت وفضل سے دے گا تاکہ اولاد کے اور ماں باپ کے ایک جگہ ہوجانے سے ماں باپ کا دل خوش ہوجائے اور اس درجہ کے معاوضہ میں ماں باپ کے عملوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
[8] یعنی یہ نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان مومنین کے آباء کے بعض اعمال لے کر ان کی اولاد کو دے دے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے مومنین و صالحین کی اولاد کو ان کے بزرگ آباء کے درجے میں پہنچا دے گا اگرچہ عمل کے لحاظ سے وہ اولاد اس درجے کی مستحق نہ ہو۔ [9] یعنی جس طرح کوئی شخص قرض ادا کئے بغیر گروی کی ہوئی چیز نہیں چھڑا سکتا اسی طرح کوئی شخص فرض ادا کئے بغیر اپنے آپ کو اللہ کے مواخذہ سے نہیں بچا سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ نیک اعمال بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہیں۔ جب تک وہ ادا نہ ہوں نجات ممکن نہیں۔ لہذا آباؤ اجداد کی نیک عملی بدعمل اولاد کو نجات نہیں دلا سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
بہشت والے
1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس…
Read the full tafseer →(21) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان لانے میں ان کی پیروی کی ہم ان کی اولاد کو ان کے پاس پہنچادیں گے اور ان سے ملادیں گے اور ان سابقہ اہل ایمان کے اعمال میں سے کوئی عمل کم نہیں کریں گے ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے محبوس اور رہن رکھا ہوا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں نیکوں کی اولادکو یہ فائدہ ہے کہ اگر ایمان رکھیں تو ان کی راہ پر چلیں تو ان کے درجے میں پہنچیں نیکوں کا عمل ان کو نہیں بانٹ دیتے پر ان کی خوشی پر ان پر مہر کی اور ان کی راہ نہ چلیں تو جیسے اور ۔
خلاصہ : یہ کہ نیک اور متقیوں کے لئے بشارت ہے کہ ان کی اولاد بھی اگر مومن ہوگی تو اس مومن اولاد کو اپنے خاندان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1۔ یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، بلکہ متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو بھی وہاں پہنچا دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →اور ہم ایمان والوں کے ساتھ ان کی ایمان والی اولاد کو ملا دیں گے۔
21: اولادبلاشبہ اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک انعام ہے بشرطیکہ وہ نیک ہو اور ماں باپ کی فرمانبردار بھی ہو اور خوش اخلاق بھی اور یہی حال دوسری رشتہ داریوں کا ہے کہ اللہ کرے دلوں میں ان کے قرب کے باعث کوئی خلش نہ پیدا ہوجائے جو سرور کو متاثر کردے یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی جا رہی ہے کہ نیک لوگوں کی وہ الواد جو نیک ہوگی اور اپنے اعمال کے باعث جنت کی مستحق ہوگی تو وہ یقیناً ان کے ساتھ ملا دی جائے گی اور یہ میل ملاپ ان کے ایمان کا نتیجہ ہوگا اور اس طرح والدین اولاد کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں گے اور نیک اولاد بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–36
The Believing Children of the Righteous will benefit from their relationship with their Believing Parents in Paradise
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (And those who believed and their children followed them in belief, We will join their children with them,... 52:21) Sayyidna Ibn 'Abbas ؓ reports from the Holy Prophet ﷺ who said:
"Verily, Allah elevates the ranks of the believers' children to the rank of their parents, even though the latter do not deserve the same rank as their parents deserve, so that the eyes of the parents…
Read the full tafseer →15 This theme has already been mentioned in Surah Ar-Ra`d: 23 and AIMu'min: 8 above, but here a greater good news has been given. In the verse of Surah Ar-Ra'd only this much was said: "They will enter into them (Gardens) along with the righteous from among their forefathers, wives and descendants," and in Surah AI-Mu'min: "The angels ask forgiveness for the believers; they say Our Lord...(admit therein also) of their parents and wives and children who are righteous." Here, what has been said in addition is: If the children had been following in the footsteps of their forefathers in faith,…
Read the full tafseer →