Explained with ayahs 17–20
منظر جنت
اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال خوش دل ہیں قسم قسم کے کھانے طرح طرح کے پینے بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند وبالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو نہ کسی کان نے سنا ہو نہ کسی دل پر خیال تک گذرا ہو پھر اللہ کی طرف سے بار…
Read the full tafseer →سورة الطُّوْر 14
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورة الصافات حواشی 26۔ 29۔ الدخان حاشیہ 42۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →(متکین علی سرر مصفوفۃ وزوجنھم بحورعین (20) متکین دراصل فکھین کی وضاحت اور بیچ کا جملہ کلوا واشربو۔۔۔ الایۃ بطور جملہ معترضہ آگیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی نعمتوں سے محظوظ ہو رہے ہوں گے صف بہ صف تختوں پر بیٹھے ہوئے۔ صف صف ہونا ان کی نشست گاہوں کے کمال درجہ آراستہ ہونے کی بھی تعبیر ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ ان میں باہم کامل محبت اور بےتکلیفی ہوگی اس وجہ سے دور دور ہو کر بیٹھیں گے۔ بعض جگہ یہ مفہوم متقبلین کے لفظ سے بھی ادا کیا گیا ہے۔ (وزوجنھم بحورعین) انسان کا کوئی لطف و سرور بھی بیوی بچوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ جنت میں یہ نعمت بھی اہل ایمال کے لیے مہیا…
Read the full tafseer →20۔ 1 مَصْفُوفَۃِ ، ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے، گویا ایک صف میں ہیں۔ بعض نے مفہوم بیان کیا ہے، کہ چہرے ایک دوسرے کے سامنے ہونگے۔ جیسے میدان جنگ میں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے ہوتی ہیں اس مفہوم کو قرآن میں دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے " علی سرر متقابلین " ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر فروکش ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
3: یعنی نیک لوگوں کی اولاد اگر مومن ہو تو اگرچہ وہ اپنے اعمال کے لحاظ سے جنت میں اس اونچے درجے کی مستحق نہ ہو جو اس کے والد کو ملا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ والد کو خوش کرنے کے لئے اولاد کو بھی وہی درجہ دے دیں گے اور والد کے درجے میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
4: رہن اس سامان کو کہتے ہیں جو کسی ادھار دینے والے نے اپنے ادھار کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر مقروض سے لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہو، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، وہ انسان کے پاس ادھار ہیں، یہ ادھار اسی صورت میں اترسکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان صلاحیتوں کو استعمال کرے جس کا مظاہرہ دنیا میں ایمان لانے اور نیک…
Read the full tafseer →متکئین ........ مصفوفة (25 : 02) ” وہ اکٹھے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے “ یہ تختے آمنے سامنے بچھے ہوں گے۔ بڑی اچھی ترتیب کے ساتھ اور اس میں دوسری لذتوں کے علاوہ اپنے بھائیوں سے وہ ملیں گے۔
وزوجنھم بحور عین (25 : 02) ” اور خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان کو بیاہ دیں گے “ اور یہ وہ اعلیٰ ترین نعمت ہے جس کا کوئی انسان تصور کرسکتا ہے۔
اب ان کا یہ اعزاز ایک قدم اور آگے جاتا ہے۔ ان کی مومن اولاد بھی ان کے ساتھ جمع کردی جاتی ہے اور وہ بھی ان نعمتوں میں شریک ہوتے ہیں اور یہ ان پر عنایات مزید ہیں۔ اگرچہ اولاد کے اعمال معیار کے اعتبار سے ان متقین سے کم ہی ہوں لیکن اگر اولاد مومن ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
1 یعنی جنتیوں کی مجلس اس طرح ہوگی کہ سب جنتی بادشاہوں کی طرح اپنے اپنے تخت پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے اور ان کی ترتیب نہایت قرینہ سے ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 20{ مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍج } ”وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ان تختوں پر جو برابر بچھے ہوں گے صف درصف۔“
{ وَزَوَّجْنٰـہُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ۔ } ”اورا نہیں ہم بیاہ دیں گے بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
14 جنت میں داخلہ محض اللہ کی مہربانی سے ہوگا :۔ جنت میں پرہیزگاروں کے داخلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، کہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا، سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کی الگ نعمت ہے۔ اور دوزخ کے عذاب سے بچا لینا الگ نعمت ہے۔ اور بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ گویا کامیابی کا اصل معیار دوزخ کے عذاب سے بچنا ہے۔ رہا جنت میں داخلہ تو یہ محض اللہ کے فضل اور مہربانی سے ہوگا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
5۔ غرض یہ کہ وہ سارے مادی عیش اور لذائذ جو دنیا میں ممکن تھے سب جنت میں بھی انہیں نصیب ہوں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنت میں ان کا کوئی انعام کسی قسم کا کٹ بھی جائے۔ (آیت) ” وزوجنھم بحورعین “۔ ان تصریحات سے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ظاہر ہورہا ہے کہ یہ عمل تزویج میں کوئی امر شرمناک ہے، اور نہ گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں کے حسن کا ذکر اپنے جائز محل پر قابل ملامت ہے جیسا کہ بعض جدید فرقوں نے مسیحیت یا بدھ ازم کے اثر سے سمجھ لیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔
Read the full tafseer →متکئین علی صرر مصفوفۃ و زوجناھم بحور عین . خوب کھاؤ ‘ پیو ‘ مزہ کے ساتھ اپنے اعمال کے بدلہ میں وہ تکیہ لگائے ہوئے ‘ برابر برابر بچھائے ہوئے تختوں پر ہوں گے اور ہم
کشادہ چشم گوریوں (یعنی حوروں) سے ان کا جوڑ لگا دیں گے۔
زَوَّجْنٰھُمْ : ماضی بمعنی مستقبل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
(18۔ 21) اور ان کو عیش و آرام کی جو چیزیں جنت میں ان کے پروردگار نے دی ہوں گی ان سے خوش ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور ان سے فرمائے گا جنت کے پھلوں کو خوب کھاؤ اور اس کی نہروں سے خوب پیو کسی قسم کی کوئی تکلیف و گرانی نہ ہوگی اور نہ موت آئے گی۔
اپنے ان نیک اعمال کے بدلے میں جو دنیا میں کیا کرتے تھے ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر ترتیب وار بچھائے ہوئے ہیں۔
اور جنت میں ہم ان کی گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت حوروں سے شادی کریں گے۔
اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کامل اور سچے رہے اور ان کی اولاد نے بھی دنیا…
Read the full tafseer →(1) متکین علی سرر مصفوفۃ : ابن کثیر ؒ نے فرمایا کہ وہ تخت قطار در قطار آمنے سامنے بچھے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا :(علی سرر متقبلین) (الصاقات : 33)”تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔“
(2) وزوجھنم بحور عین : اس کے لئے دیکھیے سورة دخان (54) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ان المتقین فی جنت و نعیم، جب کفار کا حال ذکر کیا تو مومنین کا حال بھی ذکر کیا۔ فکھین کثیر پھلوں والے۔ یہ کہا جاتا ہے : رجل فاکہ یعنی پھل والا جس طرح لابن اور تامر کہا جاتا ہے دودھ والا اور کھجور والا، یعنی یہ نسبت کا معنی دیتا ہے۔ شاعر نے کہا : و غررتنی وزعمت انک لابن بالصیف و تامر (1) تو نے مجھے دھوکہ دیا اور تو نے گمان کیا کہ تو موسم گرما میں دودھ والا اور کھجور والا ہے۔ یہاں بھی لابن اور تامر، ذولبن اور ذوتمر کے معنی ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے قراء نے فکھین الف کے بغیر پڑھا ہے اس کا معنی ہے خوش وخرم (2) ۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے قول ہے : کہا جاتا ہے فکہ الرجل فھو فکہ جب اس کی…
Read the full tafseer →جنتیوں کی آپس میں ملاقات :
2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ جنت والے (آپ میں) ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ؟ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے بلاشبہ وہ لوگ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ایسی تیز چلنے والی اونٹنیوں پر کہ جس پر ریشم کے کپڑے ہوں گے اوپر والے نیچے والوں کی ملاقات کے لئے آئیں گے لیکن نیچے والے اوپر والوں کی ملاقات نہیں کرسکیں گے فرمایا یہ ان کے لئے مختلف درجات ہیں پھر فرمایا بیشک وہ لوگ اپنی کہنیاں تکیوں پر رکھے ٹیک لگا کر بیٹھیں گے اور کھائے پیئے گے اور خوش حال زندگی بسر کریں گے اور اس میں جام شراب ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ [ ٹیک لگانے والے ہوتے ہوئے ] عَلٰي سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ ۚ [ قطار لگائے ہوئے تختوں پر ] وَزَوَّجْنٰهُمْ [ اور ہم جوڑے بنادیں گے ان کے ] بِحُوْرٍ عِيْنٍ [ خوبصورت بڑی آنکھوں والیوں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ، حورِعین سے نکاح آپس میں سوال وجواب
تکذیب کرنے والوں کی سزا کا تذکرہ فرمانے کے بعد متقیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ تقویٰ والے بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ان میں ان کا رہنا فرحت اور لذت کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں انہیں عطا ہوں گی ان میں مشغول رہیں گے اور محظوظ ہوتے رہیں گے، ان پر جو نعمتوں کا انعام ہوگا دائمی ہوگا اور ہمیشہ کے لیے انہیں دوزخ سے محفوظ کردیا جائے گا، ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جو نیک عمل کرتے تھے ان کے بدلے خوب کھاؤ پیو، یہ کھانا پینا تمہارے لیے مبارک ہے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور کھانے پینے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔
بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
8:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ شرک و تکذیب سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والے قیامت کے دن جنت کے باغوں میں اور انواع و اقسام نعمت میں مصروف عیش ہوں گے۔ ” فاکھین “ اللہ کی دی ہوئی عزت و کرام اور انعامات میں بےپایاں میں خوش و خرم ہوں گے اور جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں گے۔ ” کلوا واشربوا “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ ان سے کہا جائیگا کہ جنت کے ماکولات و مشروبات میں سے جو چاہو کھاؤ اور پیوا یہاں کی ہر چیز خوشگوار اور صحت افزا ہے۔ یہ تمہارے اعمال صالحہ کا انعام ہے۔ ” متکئین “ یہ ” کلوا “ کی ضمیر سے حال ہے۔ حال من الضمیر فی کلوا واشربوا (مدارک ج 4 ص 45) ۔ قطار در قطار تختوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…
Read the full tafseer →مُتَّكِـــِٕيْنَ عَلٰي سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍ 0 ۚ وَزَوَّجْنٰہُمْ بِحُوْرٍ عِيْنٍ 20
تكأ
المُتَّكَأ : المکان الذي يتكأ عليه، والمخدّة : المتکأ عليها، وقوله تعالی: وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، أي : أترجا «1» . وقیل : طعاما متناولا، من قولک : اتكأ علی كذا فأكله،
( ت ک ء ) التکاء
( اسم مکان سہارہ لگانے کی جگہ ۔ تکیہ جس پر ٹیک لگائی جائے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں متکاء کے معنی ترنج کے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ مراد کھانا ۔
سَّرِيرُ
: الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔
تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…
Read the full tafseer →مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍ ج وَزَوَّجْنٰـھُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ ۔ (الطور : 20)
(وہ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے صف بہ صف تختوں کے اوپر، اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں ان سے بیاہ دیں گے۔ )
اہلِ جنت کی مجلسی زندگی
گزشتہ سے پیوستہ آیت میں جنت کی نعمتوں سے اہل جنت کے محظوظ ہونے کا ذکر فرمایا گیا، یہ اسی کی مزید وضاحت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو کھانے پینے کی اشیاء کی وہ فراوانی ہوگی کہ آدمی دیکھتا ہی رہ جائے، لیکن کیا مجال ہے کہ اس سے ہاتھ رکے، طبیعت میں اکتاہٹ پیدا ہو یا آدمی اجنبیت محسوس کرے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ مجلس آرائی کے لوازم ایسے کہ جس سے ہر شخص کی خوشیوں میں اضافہ ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کا انجام بتلانے کے بعد جنتی کے انعامات کا تذکرہ۔
ایک طرف جہنمی اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور دوسری طرف جنتی جنت میں انعامات سے سرفراز ہوتے رہیں گے۔ وہ اپنے رب کی عطاؤں پر خوش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جہنمی کو حکم ہوگا کہ اپنے کیے کی سزا پاؤ اور جنتی کو حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے میں کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوں گے۔ یہاں پہلے ذکر فرمایا ہے کہ جنتی کو ان کا رب جو کچھ عطا فرمائے گا وہ اس پر خو ش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جنتی کو جہنم سے…
Read the full tafseer →آیت 20 : مُتَّکِئِیْنَ (وہ تکیہ لگائے ہوئے) نحو : یہ کلوا واشربوا کی ضمیر سے حال ہے۔ عَلٰی سُرُرٍ مَّصْفُوْفَۃٍ (برابر برابر بچھائے ہوئے تختوں پر ہونگے) سرر جمع سریرٌ کی ہے۔ مصفوفۃ : ایک دوسرے سے متصل۔ وَزَوَّجْنٰہُمْ بِحُوْرٍ عِیْنٍ (اور ہم کشادہ چشم گوریوں یعنی حوروں سے ان کا جوڑ لگا دیں گے) زوجنا کا معنی جوڑ لگانا۔ حور جمع حوراء کی ہے۔ عین : بڑی آنکھوں والی ہونا یہ ان کا حسن ہے۔
Read the full tafseer →19 ۔” کلوا واشربوا ھنیئا “ اس کا انجام بیماری اور پیٹ خرابی سے امن ہے۔ ” بما کنتم تعملون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
17۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا اہل جنت کے لئے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ ان کی توحید کے طفیل سے اللہ تعالیٰ ان کے کم تر درجہ کے گناہ معاف فرما کر ان کو جنتی بنا دے گا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہوں کو دنیا میں میں نے لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اس لئے جنت کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچانے کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ سرر مصفوفہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے چھپر کھٹ کے کئے…
Read the full tafseer →مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي سُرُرٍ مَّصْفُوْفَةٍ ) ۔ وہ برابر بچھے ہوئے شاندار تختوں پر تکیے لگائے ہوئے ہوں گے۔ الاتکاء سے مراد ہے راحت اور قرار کے ساتھ جم کر بیٹھنا۔ السرر سے مراد وہ تخت ہیں جو قیمتی پارچہ جات اور خوبصورت بچھونوں سے آراستہ کیے گئے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا تختوں کا وصف بیان کرنا کہ وہ صف درصف بچھائے گئے ہوں گے ان کی کثرت، حسن تنظیم، اہل جنت کے اجتماع، ان کی مسرت، ان کے حسن معاشرت اور باہم ملاطفت پر دلالت کرتا ہے۔ جب ان کے لیے قلب اور بدن وروح کی ایسی ایسی نعمتیں یکجا ہوجائیں گے، یعنی لذیذ ماکولات، مشروبات اور حسین اور دلکش مجالس جن کا گزر کبھی تصور و خیال میں بھی نہ ہوگا تو عورتوں کے…
Read the full tafseer →[ 24] اہل جنت کے آرام و راحت کی تصویر :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے صف در صف بچھے ہوئے عظیم الشان تختوں پر۔ جو علامت ہے انتہائی سکون و راحت اور دلی آرام و اطمینان کی، ورنہ جو کوئی تکلیف اور پریشانی وغیرہ میں مبتلا ہو، وہ ایسے کیونکر بیٹھ سکتا ہے ؟ سو وہ خوش نصیب جنت کی ان پر کیف فضاؤں میں صف در صف بچھی نشست گاؤں پر ٹیک لگائے نہایت آرام و سکون سے بیٹھے ہوں گے۔ سو یہ ان کے کمال درجہ سکون و اطمینان کی بھی تعبیر ہے اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ان کے درمیان کامل درجے کی محبت بھی ہوگی، اور بےتکلفی بھی، اسی لئے وہ وہاں پر رودررو ہو کر بیٹھے ہوں گے اسی لئے دوسرے مقام پر ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات
تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 9 ” حور “ حورا کی جمع ہے اور خور گورے رنگ کی عورت کو کہتے ہیں عین عینا کی جمع ہے اور عیناء بڑی اور سیاہ آنکھوں والی عورت کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →(52:20) متکئین : اسم فاعل جمع مذکر۔ منصوب بوجہ کلوا یا وقہم یا اتھم کی ضمیر جمع مذکر غائب سے حال ہونے کے متکئی واحد اتکاء (افتعال) مصدر، تکیہ لگائے ہوئے۔ پیچھے سے گاؤ تکیہ سے سہارا لگائے ہوئے۔
سرر۔ سریر کی جمع ہے۔ راغب لکھتے ہیں : سریر یعنی جس پر سرور سے بیٹھا جائے۔ کیونکہ یہ ارباب نعمت ہی کے پاس ہوتا ہے۔ اس کی جمع اسرۃ بھی آتی ہے یہ یہاں مصفوفۃ کا موصوف آیا ہے ۔
مصفوفۃ : سرر کی صفت ہے صفوں کی صورت میں رکھے ہوئے۔
زوجنھم : زوجنا ماضی جمع متکلم۔ تزویج (تفعیل) مصدر ہم نے ان کو بیاہ دیں۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اس کا مرجع المتقین ہے جن کا ذکر چلا آرہا ہے۔
حور۔ حوریں۔ حوراء کی جمع ہے۔ حورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–28
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28
فکھین دل بہانے والاے
ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 28
کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
اہل جنت کاشاندار انجام۔
(ف 1) اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ شرک وکفر خرافات سے بچتے ہیں اللہ سے ڈرتے ہیں وہ اس دن باغات پربہار میں ہوں گے چشمے بہتے ہوں گے ان کے پروردگار نے جو ان کی نعمتیں عیش لذتیں دی ہوں گی ان میں مشغول ومصروف ہوں گے خوشیاں مناتے ہوں گے کہ خدا نے ان کو دوزخ سے بچایا، اللہ انسے کہے گا کہ اے میرے اچھے بندو جنت میں جو چاہو کھاؤ جو چاہو پیو، میوے مزیدار ، نہریں خوشگوار سب موجود ہیں جو کام دنیا میں کرتے تھے اس کے بدلہ میں آج عیش لوٹو، مبارک سلامت۔ اب نہ موت ہے نہ نکلنا، نہ گناہ ، وہ جنت کے تخت اور چھپر کھٹوں پر صف بصف اپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔
[7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔
(الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
بہشت والے
1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس…
Read the full tafseer →(20) یہ پرہیزگار لوگاتختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہوں گے تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں کا ان سے نکاح کردیں گے۔ تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے یہ تخت برابر برابر بچھے ہوئے ہوں گے اور ان سے ہم حورعین کو بیادہ دیں گے آنکھیں بڑی اور رنگت گوری یہ حال تھا عام اہل ایمان کا اب آگے ایک آیت مخصوص مومنین کا ذکر فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–21
ف 1۔ یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، بلکہ متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو بھی وہاں پہنچا دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →وہ بچھے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم عمر رانیاں ان کے ساتھ ہوں گی :
20: دنیوی زندگی میں انسان جس چیز کو انعام و اکرام اور لطف اندوز ہونے والی چیزیں سمجھتا ہے بلکہ جن سے لطف اندوز ہوتا ہے ان چیزوں کا ذکر جب اس کے سامنے کیا جاتا ہے تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں ہوتی اور پھر جب وہ چیزیں اس کو مل جاتی ہیں اور وہ فی الواقع ان سے لطف اندوز ہوتا ہے تو اس وقت ان کی اصلیت کھل کر اس کے سامنے آجاتی ہے اور وہ گویا خواب سے نکل کر مشاہدہ میں آجاتا ہے اور یہی بات اس آخرت کی زندگی کی ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں جن چیزوں سے انسان لطف اندوز ہوتا ہے اگر ان چیزوں کے علاوہ اس کو کوئی چیز سمجھانا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →14 For explanation, see E. N . 's 20, 29 of Surah As-Saaffat, and E. N . 42 of Ad-Dukhan.
Read the full tafseer →