At-Tur 52:19

At-Tur · from ayah 19

52:19

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِیْٓـًٔا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟ۙكُلُوۡا وَاشۡرَبُوۡا هَـنِٓـيـْئًا ۢ بِمَا كُنۡـتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَۙ

اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[They will be told], "Eat and drink in satisfaction for what you used to do."

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:19

(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اپنے اعمال کے صلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم مزے سے کھاتے پیتے رہو ان اعمال کے بدلے جو تم کرتے تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(ان سے کہا جائے گا کہ) خوب مزے سے کھاؤ پیو، ان اعمال کے صلے میں جو تم کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کھاؤ اور پیو خوشگواری سے صِلہ اپنے اعمال کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اُن سے کہا جائے گا:) تم اُن (نیک) اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے رہے تھے خوب مزے سے کھاؤ اور پیو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کھاؤ اور پیو خوب مزے سے، اس کے بدلے جو تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(انہیں کہا جائے گا) مزے سے کھاؤ پؤ یہ ان اعمال کا بدلہ ہے جو تم کرتے رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کھائو اور پیو بےغل و غش اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور ان کے لطف و سرور کو مزید دوبالا کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ) کھاؤ پیو تم اپنے ان اعمال کے صلہ (و بدلہ) میں جو تم کرتے رہے تھے (اپنی فرصت حیات میں)

— مولانا اسحاق مدنی

خوب (مزے سے) کھاؤ پیوان (نیکیوں) کے بدلہ میں جو تم کرتے رہے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کھائو پیو رچتا پچتا اُن اعمال کا صلہ جو تم کرتے رہے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنے اعمال کے بدلے میں مزے سے کھاؤ اور پیو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(They will be told): “Eat and drink to your hearts' content as a reward for your deeds.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be said to them,) :Eat and drink pleasantly because of what you used to do,

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be said to them,) :Eat and drink pleasantly because of what you used to do,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Eat and drink with happiness because of what you used to do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(And it is said unto them): Eat and drink in health (as a reward) for what ye used to do,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[They will be told], "Eat and drink in satisfaction for what you used to do."

— Saheeh International

They will be told, "Eat and drink to your heart's delight for what you have done".

— Muhammad Sarwar

Eat and drink pleasantly for what you did,

— Muhammad Habib Shakir

Eat and drink with relish for that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

(To them will be said:) "Eat and drink ye, with profit and health, because of your (good) deeds."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–20

منظر جنت اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال خوش دل ہیں قسم قسم کے کھانے طرح طرح کے پینے بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند وبالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو نہ کسی کان نے سنا ہو نہ کسی دل پر خیال تک گذرا ہو پھر اللہ کی طرف سے بار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 13 یہاں " مزے سے " کے الفاظ اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتے ہیں۔ جنت میں انسان کو جو کچھ ملے گا کسی مشقت اور محنت کے بغیر ملے گا۔ اس کے ختم ہوجانے یا اس کے اندر کمی واقع ہوجانے کا کوئی اندیشہ نہ ہوگا۔ اس کے لیے انسان کو کچھ خرچ کرنا نہیں پڑے گا۔ وہ عین اس کی خواہش اور اس کے دل کی پسند کے مطابق ہوگا۔ جتنا چاہے گا اور جب چاہے گا حاضر کردیا جائے گا۔ مہمان کے طور پر وہ وہاں مقیم نہ ہوگا کہ کچھ طلب کرتے ہوئے شرمائے بلکہ سب کچھ اس کے اپنے گذشتہ اعمال کا صلہ اور اس کی اپنی پچھلی کمائی کا ثمرہ ہوگا۔ اس کے کھانے اور پینے سے کسی مرض کا خطرہ بھی نہ ہوگا۔ وہ بھوک مٹانے اور زندہ رہنے کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–20

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(کلوا واشربو ھنیا بما کنتم تعملون (19) یعنی ان لوگوں کو رب کریم کی طرف سے بشارت دی جائیگی کہ اب اپنے اعمال کے صلے میں بےغل و غش کھائو پیو۔ نہ اس سے کوئی ضرر لا حق ہوگا، نہ اس میں کمی واقع ہوگی اور نہ اس کے لیے تمہیں دکھ جھیلنا پڑے گا۔ ھنیی نعمیل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کے معنی ہیں راس آنے والی چیز۔ یہاں یہ درحقیقت مصدر مخدوف کی صفت واقع ہے۔ پورا جملہ یوں ہے (کلوا واشربوا اکلا شربا ھنیا) بعض لوگوں نے اس کو حال کے مفہوم میں لیا ہے لیکن یہ رائے عربیت کے خلاف ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 دوسرے مقام پر فرمایا (كُلُوْا وَاشْرَبُوْا هَنِيْۗئًۢا بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِي الْاَيَّامِ الْخَالِيَةِ) 69۔ الحاقہ :24) اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لئے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ بہت ضروری ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–21

3: یعنی نیک لوگوں کی اولاد اگر مومن ہو تو اگرچہ وہ اپنے اعمال کے لحاظ سے جنت میں اس اونچے درجے کی مستحق نہ ہو جو اس کے والد کو ملا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ والد کو خوش کرنے کے لئے اولاد کو بھی وہی درجہ دے دیں گے اور والد کے درجے میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ 4: رہن اس سامان کو کہتے ہیں جو کسی ادھار دینے والے نے اپنے ادھار کی ادائیگی کی ضمانت کے طور پر مقروض سے لے کر اپنے پاس رکھ لیا ہو، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو جو صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں، وہ انسان کے پاس ادھار ہیں، یہ ادھار اسی صورت میں اترسکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ان صلاحیتوں کو استعمال کرے جس کا مظاہرہ دنیا میں ایمان لانے اور نیک…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان نعمتوں اور لذتوں کے ساتھ ساتھ پھر استقبال اور تکریم بھی۔ کلواواشربوا ........ تعملون (25 : 91) ” کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کررہے تھے “ یہ کہ عالم بالا سے ان کو پکاراجائے گا بذات خود ایک بلند مرتبہ واعزازیہ کہا جائے گا کہ تم اس کے مستحق ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 19–20

1 یعنی جنتیوں کی مجلس اس طرح ہوگی کہ سب جنتی بادشاہوں کی طرح اپنے اپنے تخت پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہوں گے اور ان کی ترتیب نہایت قرینہ سے ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِیْٓئًام بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”اور کھائو پیو رچتا پچتا ‘ اُن اعمال کا صلہ جو تم کرتے رہے ہو۔“ قبل ازیں بھی متعدد مرتبہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کی قدر افزائی کے لیے جنت اور اس کی نعمتوں کو ان کے اعمال کا صلہ قرار دیا جائے گا ‘ جبکہ اہل جنت بار بار یہ اقرار کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! یہ تیرا فضل ہے جو تو نے ہمیں بخش دیا اور جنت کی نعمتوں سے سرفراز فرمایا ‘ ورنہ ہم اس قابل ہرگز نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–20

14 جنت میں داخلہ محض اللہ کی مہربانی سے ہوگا :۔ جنت میں پرہیزگاروں کے داخلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، کہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا، سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کی الگ نعمت ہے۔ اور دوزخ کے عذاب سے بچا لینا الگ نعمت ہے۔ اور بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ گویا کامیابی کا اصل معیار دوزخ کے عذاب سے بچنا ہے۔ رہا جنت میں داخلہ تو یہ محض اللہ کے فضل اور مہربانی سے ہوگا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–20

5۔ غرض یہ کہ وہ سارے مادی عیش اور لذائذ جو دنیا میں ممکن تھے سب جنت میں بھی انہیں نصیب ہوں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنت میں ان کا کوئی انعام کسی قسم کا کٹ بھی جائے۔ (آیت) ” وزوجنھم بحورعین “۔ ان تصریحات سے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ظاہر ہورہا ہے کہ یہ عمل تزویج میں کوئی امر شرمناک ہے، اور نہ گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں کے حسن کا ذکر اپنے جائز محل پر قابل ملامت ہے جیسا کہ بعض جدید فرقوں نے مسیحیت یا بدھ ازم کے اثر سے سمجھ لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلوا واشربوا ھنیا بما کنتم تعملون کُلُوْا وَاشْرَبُوْا : یعنی ان سے کہا جائے گا کہ کھاؤ اور پیو۔ ھَنِیْءًا : خوشگواری کے ساتھ کھاؤ پیو یا خوشگوار کھانا کھاؤ اور خوشگوار مشروب پیو۔ اوّل صورت میں ھَنِیْءًا مفعول ہوگا اور دوسری صورت میں محذوف مفعول بہ کی صفت) ھَنِئٌاس چیز کو کہتے ہیں جس کے کھانے پینے میں کوئی دشواری نہ ہو اور کھانے کے بعد معدے میں ناگواری نہ ہو۔ بِمَا کُنْتُمْ.... : اپنے اعمال کے سبب یا اپنے اعمال کے بدلے میں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 18–21

(18۔ 21) اور ان کو عیش و آرام کی جو چیزیں جنت میں ان کے پروردگار نے دی ہوں گی ان سے خوش ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور ان سے فرمائے گا جنت کے پھلوں کو خوب کھاؤ اور اس کی نہروں سے خوب پیو کسی قسم کی کوئی تکلیف و گرانی نہ ہوگی اور نہ موت آئے گی۔ اپنے ان نیک اعمال کے بدلے میں جو دنیا میں کیا کرتے تھے ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر ترتیب وار بچھائے ہوئے ہیں۔ اور جنت میں ہم ان کی گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت حوروں سے شادی کریں گے۔ اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کامل اور سچے رہے اور ان کی اولاد نے بھی دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(کلوا واشربوا ھنیئاً …:”ھنا یھنی ویھنا ویھنو الطعام“ کا مفہوم صرف مزیدار ہونے کے لفظ پورا ادا نہیں ہوتا، بلکہ لغت میں ”ھنیی“ سے مراد وہ چیز ہے جو کسی مشقت کے بغیر آسانی سے حاصل ہوجائے، کھانے میں لذیذ ہو اور گلے سے آسانی سے اتر جائے ، اس سے بدہضمی یا بیماری کا کوئی اندیشہ نہ ہو اور اس کے ساتھ کوئی غم یا فکر نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–20

ان المتقین فی جنت و نعیم، جب کفار کا حال ذکر کیا تو مومنین کا حال بھی ذکر کیا۔ فکھین کثیر پھلوں والے۔ یہ کہا جاتا ہے : رجل فاکہ یعنی پھل والا جس طرح لابن اور تامر کہا جاتا ہے دودھ والا اور کھجور والا، یعنی یہ نسبت کا معنی دیتا ہے۔ شاعر نے کہا : و غررتنی وزعمت انک لابن بالصیف و تامر (1) تو نے مجھے دھوکہ دیا اور تو نے گمان کیا کہ تو موسم گرما میں دودھ والا اور کھجور والا ہے۔ یہاں بھی لابن اور تامر، ذولبن اور ذوتمر کے معنی ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے قراء نے فکھین الف کے بغیر پڑھا ہے اس کا معنی ہے خوش وخرم (2) ۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے قول ہے : کہا جاتا ہے فکہ الرجل فھو فکہ جب اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے جنت والوں کے بارے میں اس ارشاد (آیت ) '' کلوا وشربوا ھنیأا بماکنتم تعملون '' (خوب کھاؤ پیومزے ساتھ اپنے اعمال کے بدلے میں) کہ متعلق فرمایا کہ اس میں (آیت ) '' ھنیأا '' سے مراد ہے کہ اس میں نہیں مروگے پھر اس وقت اہل جنت کہیں گے (آیت) '' افمانحن بمیتین الا موتتنا الاولی وما نحن معذبین '' (پس کیا اب ہم مرنے والے نہیں مگر ہمارا پہلے بار کا مرنے اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا [(کہا جائے گا ) تم لوگ کھاؤ اور پیو ] هَنِيْۗــــًٔـــۢا [ خوشگوار ہوتے ہوئے ] بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [ بسبب اس کے جو تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ، حورِعین سے نکاح آپس میں سوال وجواب تکذیب کرنے والوں کی سزا کا تذکرہ فرمانے کے بعد متقیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ تقویٰ والے بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ان میں ان کا رہنا فرحت اور لذت کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں انہیں عطا ہوں گی ان میں مشغول رہیں گے اور محظوظ ہوتے رہیں گے، ان پر جو نعمتوں کا انعام ہوگا دائمی ہوگا اور ہمیشہ کے لیے انہیں دوزخ سے محفوظ کردیا جائے گا، ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جو نیک عمل کرتے تھے ان کے بدلے خوب کھاؤ پیو، یہ کھانا پینا تمہارے لیے مبارک ہے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور کھانے پینے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–28

وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔ بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

8:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ شرک و تکذیب سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والے قیامت کے دن جنت کے باغوں میں اور انواع و اقسام نعمت میں مصروف عیش ہوں گے۔ ” فاکھین “ اللہ کی دی ہوئی عزت و کرام اور انعامات میں بےپایاں میں خوش و خرم ہوں گے اور جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں گے۔ ” کلوا واشربوا “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ ان سے کہا جائیگا کہ جنت کے ماکولات و مشروبات میں سے جو چاہو کھاؤ اور پیوا یہاں کی ہر چیز خوشگوار اور صحت افزا ہے۔ یہ تمہارے اعمال صالحہ کا انعام ہے۔ ” متکئین “ یہ ” کلوا “ کی ضمیر سے حال ہے۔ حال من الضمیر فی کلوا واشربوا (مدارک ج 4 ص 45) ۔ قطار در قطار تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–28

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِيْۗــــًٔۢـــا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 19 ۙ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ شرب الشُّرْبُ : تناول کلّ مائع، ماء کان أو غيره . قال تعالیٰ في صفة أهل الجنّة : وَسَقاهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِٓیْئًا م بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الطور : 19) (ان سے کہا جائے گا) کہ کھائو اور پیو رچتا ہوا، اپنے ان اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔ ) مہمانوں کی قدر افزائی اہلِ جنت کی حیثیت چونکہ مہمانوں کی بھی ہوگی اور جنت کے مالکوں کی بھی۔ لیکن جنت کی بےپایاں نعمتیں دیکھ کر طبیعتوں میں ایک ہچکچاہٹ ضرور ہوگی کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے ہمیں جنت کی نعمتیں عطا فرمائی ہیں لیکن یہ ان کا بےپایاں اور بیشمار ہونا یہ ایک ایسا انعام ہے جو ہمیں حیرت میں مبتلا کیے جارہا ہے۔ اس لیے ان کی اس ہچکچاہٹ اور حیرت کو دور کرنے کے لیے فرمایا جائے گا کہ یہ سب نعمتیں تمہارے لیے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–20

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام بتلانے کے بعد جنتی کے انعامات کا تذکرہ۔ ایک طرف جہنمی اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور دوسری طرف جنتی جنت میں انعامات سے سرفراز ہوتے رہیں گے۔ وہ اپنے رب کی عطاؤں پر خوش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جہنمی کو حکم ہوگا کہ اپنے کیے کی سزا پاؤ اور جنتی کو حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے میں کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوں گے۔ یہاں پہلے ذکر فرمایا ہے کہ جنتی کو ان کا رب جو کچھ عطا فرمائے گا وہ اس پر خو ش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جنتی کو جہنم سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 19 : کہا جائے گا۔ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِیْئًآم بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (خوب کھائو اور پیو مزہ کے ساتھ اپنے اعمال کے بدلہ میں) کھائو و پیو کھانا اور پینا خوشگوار۔ نمبر 2۔ کلوا طعامًا واشربوا شرابا ہنیئا۔ کھانے والی اور پینے والی چیزیں مزے سے کھائو۔ ہنیئا اس کھانے کو کہتے ہیں جس میں ناگواری نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18 ۔” فاکھین “ اس پر خوش ہیں اتراتے ہیں۔ ” بما آتاھم ربھم ووقاھم ربھم عذاب الجحیم “ اور ان کو کہا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–20

17۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا اہل جنت کے لئے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ ان کی توحید کے طفیل سے اللہ تعالیٰ ان کے کم تر درجہ کے گناہ معاف فرما کر ان کو جنتی بنا دے گا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہوں کو دنیا میں میں نے لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اس لئے جنت کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچانے کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ سرر مصفوفہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے چھپر کھٹ کے کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

كُلُوْا وَاشْرَبُوْا) یعنی ہر قسم کے لذیذ کھانے اور مشروبات جو تمہارا دل چاہتا کھاؤ پیو (ھنیئا (یعنی مزے سے بہت و سرور اور فرحت ومسرت کے ساتھ (بما کنتم تعلمون) یعنی تمہیں جو کچھ حاصل ہوا ہے تمہارے نیک اعمال اور اچھے اقوال کے باعث حاصل ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 21] جنتیوں کے لئے عمدہ اور خوشگوار کھانے پینے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا اب کھاؤ پیو تم لوگ نہایت عمدہ اور خوشگوار کھانا پینا۔ اور ایسا کہ نہ اس کے لئے کمانے اور محنت کرنے کی ضرورت، اور نہ ختم ہونے اور چھن جانے کا کوئی خطرہ، اور نہ ہی کسی خرابی اور بدہضمی وغیرہ کا کوئی خوف و اندیشہ و خوف۔ سبحان اللّٰہ !۔ کیا کہنے جنت کی ان نعمتوں کے اللہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سو ان کو رب کریم کی طرف سے یہ بشارت دی جائے گی کہ اب تم عیش و آرام اور سکون و راحت سے کھاؤ پیو جنت کی ان نعمتوں میں سے، بغیر کسی تکدرو پریشانی اور بدون کسی تعب اور مشقت کے۔ نہ اس سے کوئی ضرر و نقصان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 19–20

ف 9 ” حور “ حورا کی جمع ہے اور خور گورے رنگ کی عورت کو کہتے ہیں عین عینا کی جمع ہے اور عیناء بڑی اور سیاہ آنکھوں والی عورت کو کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:19) کلوا واشربوا طعاما وشرابا ھنیئا تم خوش گوار کھانے کھاؤ اور خوش مزہ مشروب پئو۔ اس صورت میں یہ مفعول بہٖ کی صفت ہوگا۔ ہنیی اس چیز کو کہتے ہیں جس کے کھانے پینے میں دشواری نہ ہو اور کھانے کے بعد معدے میں گرانی نہ ہو۔ بما کنتم تعلمون ۔ ب سببیہ ما موصولہ اور کنتم تعلمون۔ صلہ بسبب ان اعمال کے جو تم کرتے رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–28

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–20

اہل جنت کاشاندار انجام۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ شرک وکفر خرافات سے بچتے ہیں اللہ سے ڈرتے ہیں وہ اس دن باغات پربہار میں ہوں گے چشمے بہتے ہوں گے ان کے پروردگار نے جو ان کی نعمتیں عیش لذتیں دی ہوں گی ان میں مشغول ومصروف ہوں گے خوشیاں مناتے ہوں گے کہ خدا نے ان کو دوزخ سے بچایا، اللہ انسے کہے گا کہ اے میرے اچھے بندو جنت میں جو چاہو کھاؤ جو چاہو پیو، میوے مزیدار ، نہریں خوشگوار سب موجود ہیں جو کام دنیا میں کرتے تھے اس کے بدلہ میں آج عیش لوٹو، مبارک سلامت۔ اب نہ موت ہے نہ نکلنا، نہ گناہ ، وہ جنت کے تخت اور چھپر کھٹوں پر صف بصف اپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

بہشت والے 1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) ارشاد ہوگا تم ان اعمال کے بدلے میں جو کیا کرتے تھے خوب مزے کے ساتھ رچ کر کھائو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–21

ف 1۔ یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، بلکہ متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو بھی وہاں پہنچا دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان سے کہا گیا ہے کہ بڑے مزے سے رہو اور خوب کھاؤ پیو یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے : 19: ان لوگوں کو جنت میں داخل کرکے ان کے حصہ کی جنت کی نشاندہی کرا دی جائے گی اور ان کو کہا جائے گا کہ اس میں رہو ، خوب کھاؤ پیو اور عیش و مزہ کی زندگی گزارو اور اچھی طرح جان لو کہ تم کو یہاں سے کبھی نہیں نکالا جائے گا اور یہ بھی کہ جو کچھ تم کو دیا گیا ہے یہ تمہارے اعمال کا بدلہ ہے یعنی یہ تمہارا حق ہے اس لیے اب جنت کے اس حصہ کا تم کو وارث بنا دیا گیا ہے اور حق کو بطور حق استعمال کرنے میں جو نشہ ہے وہ مانگے کی اور ادھار چیز میں کہاں ہے اس لیے ان کو کہا گیا ہے کہ یہ جنت جو تم کو دی گئی ہے یہ تمہارا حق تھا اور اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–20

يَوْمَ تَمُورُ‌ السَّمَاءُ مَوْرً‌ا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 Here, the word "with relish" contains vast meaning in itself. In Paradise whatever a man receives, he will have it without any labor and toil. There will be no question of its sustenance in short supply. Man will not have to spend anything for it. It will be precisely according to his desire and choice and taste. In whatever quantity and whenever he will desire it, it will be made available. He will not be staying there as a guest that he may feel shy of asking for something, but everything will be the reward of his lifelong deeds and the fruit of his own labors. His eating and drinking…

Read the full tafseer →