At-Tur 52:18

At-Tur · from ayah 18

52:18

فٰكِهِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۚ— وَوَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۟فٰكِهِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمۡ رَبُّهُمۡ‌ۚ وَوَقٰٮهُمۡ رَبُّهُمۡ عَذَابَ الۡجَحِيۡمِ

جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Enjoying what their Lord has given them, and their Lord protected them from the punishment of Hellfire.

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:18

لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو کچھ ان کے پروردگار نے ان کو بخشا اس (کی وجہ) سے خوشحال۔ اور ان کے پروردگار نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو انہیں ان کے رب نے دے رکھی ہیں اس پر خوش خوش ہیں، اوران کے پروردگار نے انہیں جہنم کے عذاب سے بھی بچا لیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے پروردگار نے انہیں جس طرح نوازا اور ان کے پروردگار ہی نے انہیں دوزخ کے عذاب سے جس طرح بچایا، اس کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے رب کے دین پر شاد شاد اور انہیں ان کے رب نے آگ کے عذاب سے بچالیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

خوش اور لطف اندوز ہوں گے اُن (عطاؤں) سے جن سے اُن کے رب نے انہیں نوازا ہوگا، اور اُن کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

لطف اٹھانے والے اس سے جو ان کے رب نے انھیں دیا اور ان کے رب نے انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا لیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو کچھ انہیں انکا پروردگار عطا کرے گا اس سے لطف اندوز ہوں گے اور ان کا پروردگار انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ محفوظ ہو رہے ہوں گے۔ ان نعمتوں سے جوان کے رب نے ان کو دے رکھی ہوں گی اور اس بات سے کہ ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لطف اندوز ہو رہے ہوں گے وہ ان طرح طرح کی چیزوں سے جو ان کو وہاں عطا فرمائی ہوں گی ان کے رب نے اور بچا لیا ہوگا ان کو ان کے رب نے دوزخ کے عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اس سے جو کچھ کہ ان کے پروردگار نے انہیں دیا ہوگا اور ان کا پروردگار انہیں عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ مزے کر رہے ہوں گے ان نعمتوں کے ساتھ جو ان کے رب نے انہیں عطا کی ہوں گی۔ اور بچا لے گا انہیں ان کا ربّ جہنم کے عذاب سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو کچھ ان کے رب نے انکو بخشا وہ اس کی وجہ سے خوشحال ہوں گے اور ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے بچالیا

— محترمہ رفعت اعجاز

enjoying what Allah will have endowed them with; and their Lord will have saved them from the torment of the Blazing Fire.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

enjoying what their Lord will have given to them, and their Lord will have saved them from the punishment of Hell.

— Muhammad Taqi Usmani

enjoying what their Lord will have given to them, and their Lord will have saved them from the punishment of Hell.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Enjoying in that which their Lord has bestowed on them, and (the fact that) their Lord saved them from the torment of the blazing Fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Happy because of what their Lord hath given them, and (because) their Lord hath warded off from them the torment of hell-fire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Enjoying what their Lord has given them, and their Lord protected them from the punishment of Hellfire.

— Saheeh International

talking of what they have received from their Lord and of how their Lord has saved them from the torment of hell.

— Muhammad Sarwar

Rejoicing because of what their Lord gave them, and their Lord saved them from the punishment of the burning fire.

— Muhammad Habib Shakir

Rejoicing in that which their Lord hath vouchsafed Unto them; and their Lord will protect them from the torment of the Flame.

— Abdul Majid Daryabadi

Enjoying the (Bliss) which their Lord hath bestowed on them, and their Lord shall deliver them from the Penalty of the Fire.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–20

منظر جنت اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال خوش دل ہیں قسم قسم کے کھانے طرح طرح کے پینے بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند وبالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو نہ کسی کان نے سنا ہو نہ کسی دل پر خیال تک گذرا ہو پھر اللہ کی طرف سے بار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 12 کسی شخص کے داخل جنت ہونے کا ذکر کردینے کے بعد پھر دوزخ سے اس کے بچائے جانے کا ذکر کرنے کی بظاہر کوئی حاجت نہیں رہتی۔ مگر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہ دونوں باتیں الگ الگ اس لیے بیان کی گئی ہیں کہ آدمی کا دوزخ سے بچ جانا بجائے خود ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اور یہ ارشاد کہ " اللہ نے ان کو عذاب دوزخ سے بچا لیا " دراصل اشارہ ہے اس حقیقت کی طرف کہ آدمی کا دوزخ سے بچ جانا اللہ کے فضل و کرم ہی سے ممکن ہے، ورنہ بشری کمزوریاں ہر شخص کے عمل میں ایسی ایسی خامیاں پیدا کردیتی ہیں کہ اگر اللہ اپنی فیاضی سے ان کو نظر انداز نہ فرمائے اور سخت محاسبے پر اتر آئے تو کوئی بھی گرفت سے نہیں چھوٹ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–20

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

۔۔۔۔۔۔ (18) یہ ان باغوں اور نعمتوں سے ان کو بہرہ مند اور محظوظ ہونے کی تفصیل آرہی ہے۔ فرمایا کہ ان کے رب نے ان کو جو کچھ بخش رکھا ہوگا اس سے وہ پوری آزادی کے ساتھ محظوظ ہو رہے ہوں گے (بما اتھم ربھم) میں جو ابہام ہے وہ تفخیم شان پر دلیل ہے کہ آج کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ ان کا رب ان کو کیا کچھ بخش دے گا۔ ان کی حقیقت اس دن کھلے گی جس دن یہ عطا ہوں گی اور انہیں پر کھلیں گی جن کو عطا ہوں گی۔ (ووقھم ربھم عذاب الجحیم) کا عطف میرے نزدیک میرے نزدیک (بما اتھم ربھم) پر ہے۔ یعنی وہ اپنے رب کی بخشی ہوئی بےپایاں نعمتوں سے محظوظ اور خاص طور پر اس کے اس فضل پر خوش ہو رہے ہوں گے کہ اس نے ان کو اپنی توفیق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یعنی جنت کے گھر، لباس، کھانے، سواریاں، حسین جمیل بیویاں (حورعین) اور دیگر نعمتیں، ان سب پر وہ خوش ہونگے، کیونکہ یہ نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے بدرجہا بڑھ کر ہوں گی۔ اور ما لا عین رأت ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر کا مصداق۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–18

2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

یہ منظر نعمتوں کے قریب ہے جو روز اول سے ان لوگوں کے شعور میں رچی بسی تھیں جن سے مخاطب ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لئے ان کے پاکیزہ اور حسی الذائد کے اعتبار سے بہت ہی پرکشش ہے اور یہ مناظر اس سخت اور ہولناک عذاب کے عین مقابل ہیں اور متضاد ہیں جو اوپر خشک اور طفلانہ دلوں کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔ ان المتقین ........ الجحیم (25 : 81) ” متقی لوگ وہاں باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ “ اس جہنم سے بچا لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے مناظر ابھی ابھی پیش کئے گئے اور یہاں تو اس بچاؤ کے ساتھ نعمتیں بھی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

13 یعنی جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے تھے۔ وہاں بالکل مامون اور بےفکر ہوں گے۔ ہر قسم کے عیش و آرام کے سامان ان کے لیے حاضر رہیں گے اور یہ ہی انعام کیا کم ہے کہ دوزخ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ فٰـکِہِیْنَ بِمَآ اٰتٰـہُمْ رَبُّہُمْ ج } ”وہ مزے کر رہے ہوں گے ان نعمتوں کے ساتھ جو ان کے رب نے انہیں عطا کی ہوں گی۔“ { وَوَقٰـہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۔ } ”اور بچا لے گا انہیں ان کا ربّ جہنم کے عذاب سے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–20

14 جنت میں داخلہ محض اللہ کی مہربانی سے ہوگا :۔ جنت میں پرہیزگاروں کے داخلہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے اس فرمان، کہ انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیا جائے گا، سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں داخلہ اللہ تعالیٰ کی الگ نعمت ہے۔ اور دوزخ کے عذاب سے بچا لینا الگ نعمت ہے۔ اور بعض مقامات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر فرمایا کہ دوزخ کے عذاب سے بچ جانا ہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ گویا کامیابی کا اصل معیار دوزخ کے عذاب سے بچنا ہے۔ رہا جنت میں داخلہ تو یہ محض اللہ کے فضل اور مہربانی سے ہوگا۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–20

5۔ غرض یہ کہ وہ سارے مادی عیش اور لذائذ جو دنیا میں ممکن تھے سب جنت میں بھی انہیں نصیب ہوں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنت میں ان کا کوئی انعام کسی قسم کا کٹ بھی جائے۔ (آیت) ” وزوجنھم بحورعین “۔ ان تصریحات سے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ظاہر ہورہا ہے کہ یہ عمل تزویج میں کوئی امر شرمناک ہے، اور نہ گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں کے حسن کا ذکر اپنے جائز محل پر قابل ملامت ہے جیسا کہ بعض جدید فرقوں نے مسیحیت یا بدھ ازم کے اثر سے سمجھ لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاکھین بما اتاھم ربھم ووقھم ربھم عذاب الجحیم . فَاکِھِیْنَ : راحت کے مزے اڑانے والے ‘ لذت یاب۔ بِمَآ اٰتٰھُمْ رَبُّھُمْ : مَا اٰتٰی میں ابہام ہے ‘ عطاء کی تفصیل نہیں ہے۔ یہ ابہام بجائے خود عظمت عطاء پر دلالت کر رہا ہے ‘ پھر دینے کی نسبت رب کی طرف کی گئی ہے جس سے نعمت کی عظمت اور بڑھ گئی ‘ جیسا عظیم الشان دینے والا ‘ اسی کے مناسب عظیم الشان نعمت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 18–21

(18۔ 21) اور ان کو عیش و آرام کی جو چیزیں جنت میں ان کے پروردگار نے دی ہوں گی ان سے خوش ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا اور ان سے فرمائے گا جنت کے پھلوں کو خوب کھاؤ اور اس کی نہروں سے خوب پیو کسی قسم کی کوئی تکلیف و گرانی نہ ہوگی اور نہ موت آئے گی۔ اپنے ان نیک اعمال کے بدلے میں جو دنیا میں کیا کرتے تھے ایسے تختوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے جو برابر ترتیب وار بچھائے ہوئے ہیں۔ اور جنت میں ہم ان کی گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی خوبصورت حوروں سے شادی کریں گے۔ اور جو لوگ رسول اکرم اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کامل اور سچے رہے اور ان کی اولاد نے بھی دنیا…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1)”فکھین“”فکہ یف کہ فکھا و فکاھۃ“ (ع) سے اسم فاعل ہے، خوش ہونا، لطف اٹھانا، لذت لینا، ظریف الطبع ہونا۔ (2) بما انتھم ربھم : اس کی وضاحت کے لئے دیکھیے سورة ذاریات (16) کی تفسیر۔ (3) ووقھم ربھم عذاب الجحیم : اس کی تفصیل کے لئے دیکھیے سورة دخان (56) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–20

ان المتقین فی جنت و نعیم، جب کفار کا حال ذکر کیا تو مومنین کا حال بھی ذکر کیا۔ فکھین کثیر پھلوں والے۔ یہ کہا جاتا ہے : رجل فاکہ یعنی پھل والا جس طرح لابن اور تامر کہا جاتا ہے دودھ والا اور کھجور والا، یعنی یہ نسبت کا معنی دیتا ہے۔ شاعر نے کہا : و غررتنی وزعمت انک لابن بالصیف و تامر (1) تو نے مجھے دھوکہ دیا اور تو نے گمان کیا کہ تو موسم گرما میں دودھ والا اور کھجور والا ہے۔ یہاں بھی لابن اور تامر، ذولبن اور ذوتمر کے معنی ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے قراء نے فکھین الف کے بغیر پڑھا ہے اس کا معنی ہے خوش وخرم (2) ۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے قول ہے : کہا جاتا ہے فکہ الرجل فھو فکہ جب اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–18

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فٰكِهِيْنَ [ خوش ہونے والے ] بِمَآ [ اس پر جو ] اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۚ [ دیا ان کو ان کے رب نے ] وَوَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ [ اور بچایا ان کو ان کے رب نے ] عَذَابَ الْجَحِيْمِ [آگ کے عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ، حورِعین سے نکاح آپس میں سوال وجواب تکذیب کرنے والوں کی سزا کا تذکرہ فرمانے کے بعد متقیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ تقویٰ والے بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ان میں ان کا رہنا فرحت اور لذت کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں انہیں عطا ہوں گی ان میں مشغول رہیں گے اور محظوظ ہوتے رہیں گے، ان پر جو نعمتوں کا انعام ہوگا دائمی ہوگا اور ہمیشہ کے لیے انہیں دوزخ سے محفوظ کردیا جائے گا، ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جو نیک عمل کرتے تھے ان کے بدلے خوب کھاؤ پیو، یہ کھانا پینا تمہارے لیے مبارک ہے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور کھانے پینے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–28

وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔ بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

8:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ شرک و تکذیب سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والے قیامت کے دن جنت کے باغوں میں اور انواع و اقسام نعمت میں مصروف عیش ہوں گے۔ ” فاکھین “ اللہ کی دی ہوئی عزت و کرام اور انعامات میں بےپایاں میں خوش و خرم ہوں گے اور جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں گے۔ ” کلوا واشربوا “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ ان سے کہا جائیگا کہ جنت کے ماکولات و مشروبات میں سے جو چاہو کھاؤ اور پیوا یہاں کی ہر چیز خوشگوار اور صحت افزا ہے۔ یہ تمہارے اعمال صالحہ کا انعام ہے۔ ” متکئین “ یہ ” کلوا “ کی ضمیر سے حال ہے۔ حال من الضمیر فی کلوا واشربوا (مدارک ج 4 ص 45) ۔ قطار در قطار تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–28

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فٰكِہِيْنَ بِمَآ اٰتٰىہُمْ رَبُّہُمْ۝ 0 ۚ وَوَقٰىہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ۝ 18 فكه الفَاكِهَةُ قيل : هي الثّمار کلها، وقیل : بل هي الثّمار ما عدا العنب والرّمّان . وقائل هذا كأنه نظر إلى اختصاصهما بالذّكر، وعطفهما علی الفاکهة . قال تعالی: وَفاكِهَةٍ مِمَّا يَتَخَيَّرُونَ [ الواقعة/ 20] ، وَفاكِهَةٍ كَثِيرَةٍ [ الواقعة/ 32] ، وَفاكِهَةً وَأَبًّا [ عبس/ 31] ، فَواكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ [ الصافات/ 42] ، وَفَواكِهَ مِمَّا يَشْتَهُونَ [ المرسلات/ 42] ، والفُكَاهَةُ : حدیث ذوي الأنس، وقوله : فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ«1» قيل : تتعاطون الفُكَاهَةَ ، وقیل : تتناولون الْفَاكِهَةَ. وکذلک قوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فٰـکِھِیْنَ بِمَآ اٰتٰـھُمْ رَبُّھُمْ ج وَوَقٰـہُمْ رَبُّہُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ (الطور : 18) (وہ محظوظ ہورہے ہوں گے ان نعمتوں سے جو ان کے رب نے ان کو دے رکھی ہوں گی، اور اس بات سے کہ ان کے رب نے ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ ) متقین کا اظہارِطمانیت جنت میں متقین کو اللہ تعالیٰ جس طرح کی زندگی سے بہرہ ور فرمائے گا اب اس کی ہلکی سی تفصیل بیان کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ایسی نعمتوں سے نوازے گا جن سے وہ نہایت خوشی اور مسرت سے محظوظ ہوں گے۔ اور جو کچھ ان کو عطا کیا جائے گا اس کی تفصیل کو مضمر رکھتے ہوئے ان نعمتوں کے بےپایاں اور انتہائی مسرت افزاء ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–20

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام بتلانے کے بعد جنتی کے انعامات کا تذکرہ۔ ایک طرف جہنمی اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور دوسری طرف جنتی جنت میں انعامات سے سرفراز ہوتے رہیں گے۔ وہ اپنے رب کی عطاؤں پر خوش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جہنمی کو حکم ہوگا کہ اپنے کیے کی سزا پاؤ اور جنتی کو حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے میں کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوں گے۔ یہاں پہلے ذکر فرمایا ہے کہ جنتی کو ان کا رب جو کچھ عطا فرمائے گا وہ اس پر خو ش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جنتی کو جہنم سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 18 : فٰکِہِیْنَ (وہ خوش دل ہونگے) نحو : یہ ظرف کی ضمیر سے حال ہے اور ظرف خبر ہے۔ ای متلذذین اس حال میں کہ وہ لذت حاصل کرنے والے ہونگے۔ بِمَآ ٰاتٰہُمْ رَبُّہُمْ (جو چیزیں ان کو ان کے رب نے دی ہونگی) وَوَقٰہُمْ رَبُّہُمْ (اور ان کا رب ان کو محفوظ رکھے گا) نحو : اس کا عطف فی جناتٍ پر ہے تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ان المتقین استقروا فی جنات و وقاہم ربہم۔ نمبر 2۔ آتاہم ربہم پر اس کا عطف ہے۔ اس صورت میں ما مصدریہ ہے۔ معنی یہ ہوگا۔ وہ لذت اندوز ہونے والے ہونگے۔ اس سبب سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دی ہیں اور اس سبب سے کہ ان کو جہنم کے عذاب سے بچایا ہے۔ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ( دوزخ کا عذاب) نمبر 3۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–20

17۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا اہل جنت کے لئے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ ان کی توحید کے طفیل سے اللہ تعالیٰ ان کے کم تر درجہ کے گناہ معاف فرما کر ان کو جنتی بنا دے گا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہوں کو دنیا میں میں نے لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اس لئے جنت کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچانے کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ سرر مصفوفہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے چھپر کھٹ کے کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

فٰكِهِيْنَ بِمَآ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ ۚ ) ۔ یعنی ان کا رب ان کو جس نعمت سے نوازے گا اس سے خوش ہوتے ہوئے نہایت فرحت و سرور کے ساتھ اس سے متمتع ہوتے ہوئے اس سے لطف واندوز ہوں گے ایسی نعمت جس کا وصف ممکن نہیں اور نہ کوئی نفس یہ جانتا ہے کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا آنکھوں کی ٹھنڈک چھپارکھی ہے پس ان کو ان کی پسندیدہ چیزیں عطا کرے گا اور ناپسندیدہ چیزوں سے بچائے گا کیونکہ انہوں نے وہ کام کیے جو ان کے رب کو پسند تھے اور ان کاموں سے اجتناب کیا جن سے وہ ناراض ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 19] اہل جنت کی لطف اندوزیوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ لطف اندوز ہو رہے ہوں گے وہاں کی ان عظیم الشان نعمتوں سے جو ان کو اللہ نے بخشی ہونگی محض اپنے کرم و احسان سے۔ اور ان کے ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی بناء پر، سو وہ ہر طرح کے رنج و غم سے محفوظ اور ہر اعتبار سے شاداں وفرحاں ہوں گے، جو متقضٰی ہے " فاکہین " لے لفظ کا، اللہ نصیب فرمائے آمین، اور " بما اتھم ربھم " میں جو ابہام ہے وہ تفحیم شان کی دلیل ہے، سو کوئی اندازہ نہیں کرسکتا کہ ان کے رب نے ان کو وہاں پر کیا کچھ بخشا ہوگا، ان نعمتوں کی حقیقت اسی دن کھلے گی جس دن یہ عطا ہونگی اور انہی خوش نصیبوں پر کھلے گی جن کو یہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–18

ف 8 یا جو نعمتیں ان کے رب نے انہیں دی ہوں گی ان سے لذت اندوز ہو رہے ہوں گے۔ “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:18) فکہین اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب۔ فکر واحد فکاہۃ اسم مصدر۔ مزہ اڑانے والے۔ فاکھۃ بمعنی اسم فاعل ہے بمعنی ظریف۔ ہنس ہنس کر باتیں کرنے والا۔ دوستوں سے ہنسی کرنے والا۔ اور خوب ٹھٹھے لگانے والا۔ بہت زیادہ ہنس مکھ۔ نصب بوجہ حال ہونے کے ہے۔ بما۔ ب سببیہ ما مصدریہ ای فکہین بایتاء ہم ربھم : اپنے رب کی عطا (دین) پر مزے اڑاتے ہوئے۔ اتہم : اتی ماضی واحد مذکر غائب ایتاء ّافعال) مصدر۔ دینا۔ عطا کرنا۔ الشی کسی کو کوئی چیز دینا ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ المتقین کے لئے ہے۔ ووقھم۔ واؤ عاطفہ، جمعلہ کا عطف اتھم پر ہے۔ وفی ماضٰ واحد مذکر غائب وقایۃ (باب ضرب) مصدر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب وہ ان کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–28

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–20

اہل جنت کاشاندار انجام۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ شرک وکفر خرافات سے بچتے ہیں اللہ سے ڈرتے ہیں وہ اس دن باغات پربہار میں ہوں گے چشمے بہتے ہوں گے ان کے پروردگار نے جو ان کی نعمتیں عیش لذتیں دی ہوں گی ان میں مشغول ومصروف ہوں گے خوشیاں مناتے ہوں گے کہ خدا نے ان کو دوزخ سے بچایا، اللہ انسے کہے گا کہ اے میرے اچھے بندو جنت میں جو چاہو کھاؤ جو چاہو پیو، میوے مزیدار ، نہریں خوشگوار سب موجود ہیں جو کام دنیا میں کرتے تھے اس کے بدلہ میں آج عیش لوٹو، مبارک سلامت۔ اب نہ موت ہے نہ نکلنا، نہ گناہ ، وہ جنت کے تخت اور چھپر کھٹوں پر صف بصف اپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

بہشت والے 1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) اور جو کچھ ان کو ان کے پروردگار نے دیا ہوگا یعنی جو عیش و آرام کی چیزیں عطا فرمائی ہوں گی ان پر شادماں اور خوش حال ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھے گا۔ فاکھین کا ترجمہ ہم نے خوش دل اور خوش حال وشاماں کیا ہے ، بعض حضرات نے فاکہین کا ترجمہ میوے کھاتے کیا ہے میوے کھانا بھی اطمینان کے ساتھ خوش حالی کی دلیل ہے اس لئے مطلب ایک ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–21

ف 1۔ یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، بلکہ متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو بھی وہاں پہنچا دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

رب کریم نے جو انہیں عطا کیا اس پر وہ خوش ہیں اور بڑی خوشی یہ ہے کہ وہ جہنم سے بچ گئے۔ 18: فاکھین اسم فاعل جمع مذکر فاکھۃ واحد۔ محلی نے اس کا ترجمہ کیا ہے فاعیین۔ یعنی آرام پانے والے یا مزے اڑانے والے۔ صاوی نے اس کی تائید کے بعد یہ بھی لکھا ہے فکھین اور فاکھین دونوں کے معنی ہی مذاق اڑانے والے۔ اور اس طرح مفہوم یہ ہوگا کہ یہ وہی ہیں جن کا تم مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کو طرح طرح سے استہزا $ کا نشانہ بناتے تھے اب جب کہ ان کو اللہ نے جنت الفردوس میں داخل کردیا ہے تو گویا ان کی یہ حالت تمہارے لیے باعث مذاق ہوگئی ہے کہ جس مقام کے تم اپنے آپ کو اہل سمجھتے تھے اس کے اہل وہ ہوگئے ہیں اور جس مقام کا تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–20

يَوْمَ تَمُورُ‌ السَّمَاءُ مَوْرً‌ا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 There seems to be no need to mention a person's being saved from Hell after it has been said that he will be admitted to Heaven, but at several places in the Qur'an these two things have been mentioned separately because a person's being saved from Hell is by itself a great blessing. And the words, "their Lord shall save them from the torment of Hell", is an allusion to the truth that man's being saved from Hell is possible only through Allah's grace and bounty; otherwise human weaknesses cause such flaws to occur in everyone's work that if Allah does not overlook them by His grace and…

Read the full tafseer →