At-Tur 52:17

At-Tur · from ayah 17

52:17

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ ۟ۙاِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ جَنّٰتٍ وَّنَعِيۡمٍۙ

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعتموں میں ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the righteous will be in gardens and pleasure,

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:17

متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعتموں میں ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً پرہیزگار لوگ جنتوں میں اور نعمتوں میں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

متقی لوگ بیشک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک پرہیزگار باغوں اور چین میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک متّقی لوگ بہشتوں اور نعمتوں میں ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک متقی لوگ باغوں اور بڑی نعمت میں ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(البتہ) پرہیزگار باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک متقی بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے برعکس متقی (و پرہیزگار) لوگ طرح طرح کے عظیم الشان باغوں اور قسما قسم کی نعمتوں میں (رہ بس رہے) ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک متقی لوگ باغوں اور سامان عیش میں ہورہے ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو پرہیزگار ہیں وہ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely the God-fearing shall be in Gardens and bliss,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Of course, the God-fearing will be in gardens and bliss,

— Muhammad Taqi Usmani

Of course, the God-fearing will be in gardens and bliss,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who have Taqwa will be in Gardens and Delight.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who kept their duty dwell in gardens and delight,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the righteous will be in gardens and pleasure,

— Saheeh International

The pious will live in bountiful Paradise,

— Muhammad Sarwar

Surely those who guard (against evil) shall be in gardens and bliss

— Muhammad Habib Shakir

Verily the God-fearing will bein Gardens and Delight.

— Abdul Majid Daryabadi

As to the Righteous, they will be in Gardens, and in Happiness,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–20

منظر جنت اللہ تعالیٰ نیک بختوں کا انجام بیان فرما رہا ہے کہ عذاب و سزا جو ان بدبختوں کو ہو رہا ہے یہ اس سے محفوظ کر کے جنتوں میں پہنچا دئیے گئے جہاں کی بہترین نعمتوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہر طرح خوش حال خوش دل ہیں قسم قسم کے کھانے طرح طرح کے پینے بہترین لباس، عمدہ عمدہ سواریاں، بلند وبالا مکانات اور ہر طرح کی نعمتیں انہیں مہیا ہیں کسی قسم کا ڈر خوف نہیں اللہ فرما چکا ہے کہ تمہیں میرے عذابوں سے نجات مل گئی غرض دکھ سے دور، سکھ سے مسرور، راحت و لذت میں مخمور ہیں جو چیز سامنے آتی ہے وہ ایسی ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو نہ کسی کان نے سنا ہو نہ کسی دل پر خیال تک گذرا ہو پھر اللہ کی طرف سے بار…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الطُّوْر 11 یعنی وہ لوگ جنہوں نے انبیاء کی دی ہوئی خبر پر ایمان لا کر دنیا ہی میں اپنا بچاؤ کرلیا اور ان افکار و اعمال سے پرہیز کیا جن سے انسان جہنم کا مستحق بنتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–20

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

۔۔۔۔ (17) مکذبین کے انجام کی سنگینی کو واضح کرنے کے لیے ان کے مقابل میں متقین کا صلہ و انعام بھی بیان فرما دیا۔ تقابل کا اصول دلیل ہے کہ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے پیغمبر کے اندر کا مذاق اڑانے کی جگہ اس کی باتیں گوش دل سے سنیں، ان پر غور کیا اور ان کو حرز جاں بنایا۔ فرمایا یہ لوگ بیشک باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–18

2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

یہ منظر نعمتوں کے قریب ہے جو روز اول سے ان لوگوں کے شعور میں رچی بسی تھیں جن سے مخاطب ہے۔ لہٰذا یہ لوگوں کے لئے ان کے پاکیزہ اور حسی الذائد کے اعتبار سے بہت ہی پرکشش ہے اور یہ مناظر اس سخت اور ہولناک عذاب کے عین مقابل ہیں اور متضاد ہیں جو اوپر خشک اور طفلانہ دلوں کے بارے میں پیش کئے گئے تھے۔ ان المتقین ........ الجحیم (25 : 81) ” متقی لوگ وہاں باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ لطف لے رہے ہوں گے ان چیزوں سے جو ان کا رب انہیں دے گا اور ان کا رب انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ “ اس جہنم سے بچا لینا ہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کے مناظر ابھی ابھی پیش کئے گئے اور یہاں تو اس بچاؤ کے ساتھ نعمتیں بھی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

13 یعنی جو دنیا میں اللہ سے ڈرتے تھے۔ وہاں بالکل مامون اور بےفکر ہوں گے۔ ہر قسم کے عیش و آرام کے سامان ان کے لیے حاضر رہیں گے اور یہ ہی انعام کیا کم ہے کہ دوزخ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ۔ } ”یقینا متقی لوگ باغات میں اور نعمتوں میں ہوں گے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی جو لوگ اللہ کے فرمانبردار بن کے رہے تاکہ اس کے عذاب سے بچ جائیں۔ ان کو صرف عذاب سے بچایا ہی نہیں جائے گا بلکہ پربہار باغات میں داخل کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 17–20

5۔ غرض یہ کہ وہ سارے مادی عیش اور لذائذ جو دنیا میں ممکن تھے سب جنت میں بھی انہیں نصیب ہوں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنت میں ان کا کوئی انعام کسی قسم کا کٹ بھی جائے۔ (آیت) ” وزوجنھم بحورعین “۔ ان تصریحات سے قرآن مجید کے دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی ظاہر ہورہا ہے کہ یہ عمل تزویج میں کوئی امر شرمناک ہے، اور نہ گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں کے حسن کا ذکر اپنے جائز محل پر قابل ملامت ہے جیسا کہ بعض جدید فرقوں نے مسیحیت یا بدھ ازم کے اثر سے سمجھ لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان المتقین فی جنت و نعیم متقی لوگ بلاشبہ بہشت کے باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے اور جو چیزیں ان کے رب نے ان کو دی ہوں گی ان سے وہ خوش دل ہوں گے اور ان کا رب دوزخ کے عذاب سے ان کو محفوظ رکھے گا۔ جَنّٰتٍ اور نَعِیْمٍ میں تنوین تعظیم ہے یعنی عظیم الشان جنتیں اور عالی قدر بڑی راحتیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اب مومنین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں کے ٹھکانے کا اللہ تعالیٰ تذکرہ فرماتا ہے کہ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے لوگ باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان المتقین فی جنت و نعیم : مکذبین کے برے انجام کے ذکر کے بعد متقین کے حسن انجام کا ذکر فرمایا۔ مزید دیکھیے سورة حجر (45)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–20

ان المتقین فی جنت و نعیم، جب کفار کا حال ذکر کیا تو مومنین کا حال بھی ذکر کیا۔ فکھین کثیر پھلوں والے۔ یہ کہا جاتا ہے : رجل فاکہ یعنی پھل والا جس طرح لابن اور تامر کہا جاتا ہے دودھ والا اور کھجور والا، یعنی یہ نسبت کا معنی دیتا ہے۔ شاعر نے کہا : و غررتنی وزعمت انک لابن بالصیف و تامر (1) تو نے مجھے دھوکہ دیا اور تو نے گمان کیا کہ تو موسم گرما میں دودھ والا اور کھجور والا ہے۔ یہاں بھی لابن اور تامر، ذولبن اور ذوتمر کے معنی ہے۔ حضرت حسن بصری اور دوسرے قراء نے فکھین الف کے بغیر پڑھا ہے اس کا معنی ہے خوش وخرم (2) ۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء کے قول ہے : کہا جاتا ہے فکہ الرجل فھو فکہ جب اس کی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–18

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ [ بیشک تقوی اختیار کرنے والے ] فِيْ جَنّٰتٍ [ باغوں میں ] وَّنَعِيْمٍ [ اور ہمیشہ خوشحالی میں ہوں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–20

متقی بندوں کی نعمتوں کا تذکرہ، حورِعین سے نکاح آپس میں سوال وجواب تکذیب کرنے والوں کی سزا کا تذکرہ فرمانے کے بعد متقیوں کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اول تو یہ فرمایا کہ تقویٰ والے بندے باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے ان میں ان کا رہنا فرحت اور لذت کے ساتھ ہوگا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں انہیں عطا ہوں گی ان میں مشغول رہیں گے اور محظوظ ہوتے رہیں گے، ان پر جو نعمتوں کا انعام ہوگا دائمی ہوگا اور ہمیشہ کے لیے انہیں دوزخ سے محفوظ کردیا جائے گا، ان سے کہہ دیا جائے گا کہ تم دنیا میں جو نیک عمل کرتے تھے ان کے بدلے خوب کھاؤ پیو، یہ کھانا پینا تمہارے لیے مبارک ہے اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی اور کھانے پینے سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–28

وعدہ انعام واکرام برائے اہل ایمان وایقان : قال اللہ تعالیٰ : (آیت ) ” ان المتقین فی جنت ونعیم ...... الی ...... انہ ھو البر الرحیم “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں قدرت خداوندی کے عظیم مناظر اور شواہد کو بیان کرتے ہوئے مجرمین ومنکرین کو عذاب آخرت سے متنبہ کیا گیا تھا اور ان پر وعید اور عذاب کی شدت کا ذکر تھا اب ان آیات میں مجرمین ومنکرین کے بالمقابل مومنین ومطیعین پر انعامات خداوندی کا ذکر ہے اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے یہاں کس قدر اعزاز واکرام ہوگا۔ ارشاد فرمایا۔ بیشک تقوی والے لوگ بہشت کے باغات میں ہوں گے اور ہر طرح سامان عیش و راحت میں لطف اندوز اور مسرور ہوتے ہوں گے اس عیش و راحت کے سامان سے جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

8:۔ ” ان المتقین “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ شرک و تکذیب سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچنے والے قیامت کے دن جنت کے باغوں میں اور انواع و اقسام نعمت میں مصروف عیش ہوں گے۔ ” فاکھین “ اللہ کی دی ہوئی عزت و کرام اور انعامات میں بےپایاں میں خوش و خرم ہوں گے اور جہنم کے عذاب سے بھی محفوظ ہوں گے۔ ” کلوا واشربوا “ اس سے پہلے ” یقال لہم “ مقدر ہے۔ ان سے کہا جائیگا کہ جنت کے ماکولات و مشروبات میں سے جو چاہو کھاؤ اور پیوا یہاں کی ہر چیز خوشگوار اور صحت افزا ہے۔ یہ تمہارے اعمال صالحہ کا انعام ہے۔ ” متکئین “ یہ ” کلوا “ کی ضمیر سے حال ہے۔ حال من الضمیر فی کلوا واشربوا (مدارک ج 4 ص 45) ۔ قطار در قطار تختوں پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–28

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ نے چند چیزوں کی قسم اٹھا کر یعنی ان کو بطور شاہد پیش کر کے جزائے عمل کی بات سمجھائی ، پھر مکذبین کا حال بیان فرمایا کہ وہ جزائے عمل والے دن سخت پریشانی کے عالم میں ہوں گے ۔ ان کو دھکیل کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا اور ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ جس چیز کو تم سحر سے تعبیر کرتے تھے ۔ بتلائو کیا یہ سحر ہے یا حقیقت ؟ آج دیکھ لو قیامت برپا ہو کر جزائے عمل کی منزل آ چکی ہے ، یہ وہی چیز ہے جس کو تم جھٹلاتے تھے ، اور اللہ کی وحدانیت ، رسول کی رسالت اور قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ اب تمہیں صبر یا بےصبری کے ساتھ یہیں رہنا ہوگا ، ایسے لوگوں کے لیے اس دن تباہی و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّنَعِيْمٍ۝ 17 ۙ تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–28

ترکیب : فاکہین یقال رجل فاکہتہ ای ذوفاکہتہ قیل ذونعمۃ تلذوحال و قرء فکھین والفکھہ طیب النفس بما موصولۃ والباء علی اصلھا او بمعنی فی ووقاھم عطف علیٰ الصلۃ او حال تبقدیر قد او معطوف علی فی جنات متکئین حال من الضمیر فی کلوا اومن الضمیر فی وقاھم اومن الضمیر فی فاکہین والذین امنوا مبتدء و اتبتھم الخ معترضۃ للتعلیل الحقنابھم خبرہ بایمان حال من الضمیر او الذریۃ او منھا یتنازعون حال۔ انہ بالکسر علی الاسقیناف کا ساخمرا سماھا باسم محلہا وذلک انث الضمیر فی قولہ لا لغو فیہا۔ تفسیر : جیسا کہ اہل جہنم کا حال بیان ہوا تھا، اب اہل جنت کا حال بیان فرماتا ہے۔ فقال ان المتقین الخ کہ پرہیز گار بہشتوں میں ہر طرح…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ ۔ (الطور : 17) (بےشک متقی لوگ باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے۔ ) مکذبین کے انجام کے بعد متقین کے اعزاز کا ذکر مکذبین کا انجام بیان کرنے کے بعد اب متقین کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ اضداد کے ذکر سے حقائق کی وضاحت کرتا اور انھیں دلوں میں اتارتا ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات واضح ہوتی ہے کہ متقی وہ لوگ ہوں گے جو مکذبین کی ضد ہوں گے۔ یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی رسالت اور نبوت کی تکذیب کرنے کی بجائے دل و جان سے قبول کیا ہوگا۔ مکذبین اگر جنت اور دوزخ کو ایک مذاق سمجھتے تھے یہ لوگ اسے حقیقت مان کر جنت کے استحقاق اور جہنم سے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–20

فہم القرآن ربط کلام : جہنمی کا انجام بتلانے کے بعد جنتی کے انعامات کا تذکرہ۔ ایک طرف جہنمی اپنے کیے کی سزا پائیں گے اور دوسری طرف جنتی جنت میں انعامات سے سرفراز ہوتے رہیں گے۔ وہ اپنے رب کی عطاؤں پر خوش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جہنمی کو حکم ہوگا کہ اپنے کیے کی سزا پاؤ اور جنتی کو حکم ہوگا کہ اپنے نیک اعمال کے بدلے میں کھاؤ پیو اور مزے اڑاؤ۔ جنتی جنت کے نفیس اور شاندار صوفوں پر تکیہ لگا کر تشریف فرما ہوں گے۔ یہاں پہلے ذکر فرمایا ہے کہ جنتی کو ان کا رب جو کچھ عطا فرمائے گا وہ اس پر خو ش ہوں گے اور ان کا رب ان کو جہنم کے عذاب سے محفوظ فرمائے گا۔ جنتی کو جہنم سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

متقین کا بدلہ : آیت 17 : اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَعِیْمٍ (متقی لوگ بلاشبہ بہشت کے باغوں اور سامان عیش میں ہونگے) جنات کی تنوین تعظیم کیلئے ہے کیا خوب باغات میں ونعیم۔ کیا خوب نعمتوں میں ہونگے جو اپنی صفات میں کامل ہیں۔ یا ایسے باغات اور نعمتیں جو متقین کے ساتھ مخصوص ہونگی۔ جو انہی کیلئے پیدا کی گئیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” اصلوھا “ اس کی سختی کو قیاس کرو۔ ” فاصبروا او لا تصبروا سواء علیکم “ صبر کرنا اور واویلا کرنا ہے ۔ تجزون ما کنتم تعملون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–20

17۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا اہل جنت کے لئے یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے کہ ان کی توحید کے طفیل سے اللہ تعالیٰ ان کے کم تر درجہ کے گناہ معاف فرما کر ان کو جنتی بنا دے گا۔ چناچہ صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم کی عبد اللہ بن عمر کی حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا کہ جس طرح تمہارے گناہوں کو دنیا میں میں نے لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا آج بھی میں تمہارے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں اس لئے جنت کی نعمتوں میں اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچانے کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ سرر مصفوفہ کے معنی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے چھپر کھٹ کے کئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی نے اہل تکذیب کی سزا کا ذکر کرنے کے بعد اہل تقوی کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تاکہ ترغیب ترہیب کو اکٹھا کردے اور دل خوف ورجا کے درمیان رہیں، چناچہ فرمایا (ان المتقین) جنہوں نے اپنے رب کے لیے تقوی کو اپنا شعار بنایا جو اس کے اوامر کی تعمیل اور اس کی نواہی سے کنارہ کشی کرکے اس کی ناراضی اور اس کے عذاب سے بچتے رہے۔ (فی جنت) وہ باغات میں ہوں گے ان باغات کی روشوں کو گھنے درختوں نے ڈھانپ رکھا ہوگا، ان میں اچھلتی کودتی ندیاں ہوں گی، چار دیواری سے گھرے ہوئے محل اور آراستہ کیے ہوئے گھر ہوں گے۔ (ونعیم) اور نعمتوں میں ہوں گے۔ یہ قلب کی نعمت اور روح وبدن کی نعمت کو شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

[ 15] منکرین کو دوزخ میں داخلے کا حکم۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا : سو منکرین و مکذبین کی اس طرح تذلیل و توبیخ کے بعد ان کو صاف اور صریح طور پر حکم ہوگا کہ اب تمداخل ہوجاؤ اس دوزخ میں برابر ہیں تمہارے حق میں کہ تم لوگ صبر کرو یا نہ کرو اب تم نے بہرحال اسی میں رہنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، کہ تمہارے چھٹکارے کی کوئی صورت اب بہرحال ممکن نہیں، کہ تم لوگوں کو دائمی ٹھکانہ دوزخ کی یہ دہکتی آگ ہی ہے جس میں تم لوگوں کو ہمیشہ ہمیش کیلئے جلتے رہنا ہے کہ یہ طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے تمہارے اس کفر و انکار کا جس کو تم لوگوں نے زندگی بھر گلے لگائے رکھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے دنیا کی زندگی اور اس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–31

حساب کے دن پرہیزگاروں کے حالات تشریح : کس قدر خوبصورت اور پیارا بدلہ ہے جو نیک پاک اور متقی لوگوں کو دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ جہاں سزا اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے تو ساتھ ہی اجر عظیم جنت کا ذکر بھی کرتا ہے۔ تاکہ انسان دنیا کی زندگی عدل و انصاف اور خوش اسلوبی سے گزارے۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ دنیا کی گہما گہمی میں آخرت کو بھولنے لگتا ہے اسی لیے رب العزت نے انسان کی اصلاح و تربیت کے لیے نبی ﷺ کو قرآن دے کر بھیجا اور پھر پیار سے تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ ہدایت دینے پر جو کچھ آپ ﷺ کو کفار کی طرف سے سخت سست سننا پڑتا ہے اور سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ ان سے گبھرائیں نہیں بلکہ بڑی مستعدی اور سکون…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–18

ف 8 یا جو نعمتیں ان کے رب نے انہیں دی ہوں گی ان سے لذت اندوز ہو رہے ہوں گے۔ “

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:17) فی جنت و نعیم ۔ دونوں میں تنوین تعظیم کے لئے ہے ای جنت عظیمۃ و نعیم عظیم یعنی عظیم الشان جنتیں اور عالی قدر راحتیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–28

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 28 فکھین دل بہانے والاے ھنیء ہنسی خوشی مصفولہ برابر بچھائے گئے۔ حور (حورائ) خوبصورت (آنکھوں والیاں) عین (عینائ) بڑی بڑی آنکھیں ما التنا ہم نے کمی نہیں کی۔ رھین پھنس جانا۔ یتنازعون وہ جھگڑیں گے۔ چھینا جھپٹی کریں گے۔ غلمان لڑکے، کم عمر بچے لولو موتی۔ مکنون چھاپے گئے قیمتی اقبل وہ متوجہ ہوا۔ سامنے ہوا۔ السموم گرم گرم ہوا تشریح : آیت نمبر 17 تا 28 کفار و مشرکین کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ تقویٰ اور پرہیز گاری کی زندگی گذارتے اور محض اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے گناہوں سے بچنے تھے اللہ تعالیٰ ان کو جنت کے ایسے باغوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–20

اہل جنت کاشاندار انجام۔ (ف 1) اوپر کی آیتوں میں اہل دوزخ کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں اہل جنت کا ذکر فرمایا کہ جو لوگ شرک وکفر خرافات سے بچتے ہیں اللہ سے ڈرتے ہیں وہ اس دن باغات پربہار میں ہوں گے چشمے بہتے ہوں گے ان کے پروردگار نے جو ان کی نعمتیں عیش لذتیں دی ہوں گی ان میں مشغول ومصروف ہوں گے خوشیاں مناتے ہوں گے کہ خدا نے ان کو دوزخ سے بچایا، اللہ انسے کہے گا کہ اے میرے اچھے بندو جنت میں جو چاہو کھاؤ جو چاہو پیو، میوے مزیدار ، نہریں خوشگوار سب موجود ہیں جو کام دنیا میں کرتے تھے اس کے بدلہ میں آج عیش لوٹو، مبارک سلامت۔ اب نہ موت ہے نہ نکلنا، نہ گناہ ، وہ جنت کے تخت اور چھپر کھٹوں پر صف بصف اپس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–22

بہشت والے 1: ان آیتوں میں پاکبازوں متقیوں کے مقام کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ ان لوگوں نے دنیا میں اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے اپنی آسائیشوں اور آسودگیوں کو چھوڑا تھا ۔ یہاں ان کو ان مسرتوں سے تمام و کمال بہرہ مند کیا جائیگا ۔ یہاں یہ اللہ کی رضا کو محسوس کریں گے ۔ اور اس پر خوش ہوں گے ۔ ان سے کہا جائے گا ۔ کہ جس چیز سے چاہو اپنے کام وذہن کی تواضع کرو ۔ اطمینان ووقار کے ساتھ مزین وآراستہ تختوں پر بیٹھو ۔ پھر ایسا ہوگا ۔ کہ تسکین روح کے لئے بڑی بڑی آنکھوں والی گوری چٹی عورتوں کو ان کی رفاقت میں دے دیا جائے گا ۔ پھر ان لوگوں کی اولاد مگر مرتبہ ومقام میں ان سے فروتر ہوگی ۔ تو ان کو خوش کرنے کے لئے اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–21

ف 1۔ یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، بلکہ متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو بھی وہاں پہنچا دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے جنتوں اور نعمتوں میں ہوں گے 17 ۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ یہ وہی ہیں جن کو تم بادی الرای اور رذیل لوگ خیال کیا کرتے تھے جن کے ساتھ مل کر بیٹھنا اور ان کی موجودگی میں بات کرنا اور ایک مجلس میں مل کر بیٹھنا تم پر شاق گزرتا تھا۔ جن کو دیکھتے ہی تمہارے چہروں پر بل پڑجاتے تھے اور تم ان کو دیکھ کر ناخوش ہوجاتے تھے ان کی غربت کے پیش نظر تم ان کو مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے نظریہ پر پھبتی کستے تھے اور کتنی بار تم نے ان سے محنت و مزدوری کرا کر ان کو کہا کہ تم روز جزا پر ایمان رکھتے ہو ؟ اور انہوں نے جب اثبات میں جواب دیا تو تم نے ایک بہت بڑا قہقہہ لگایا اور کہہ دیا کہ اچھا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–20

يَوْمَ تَمُورُ‌ السَّمَاءُ مَوْرً‌ا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 "The righteous" : the people who believed in the news given by the Prophets and who safeguarded themselves in the world itself and refrained from thoughts and deeds that doom man to Hell.

Read the full tafseer →