Explained with ayahs 2–16
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
سورة الطُّوْر 10
یعنی دنیا میں جب رسول تمہیں اس جہنم کے عذاب سے ڈراتے تھے تو تم کہتے تھے کہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے ہمیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اب بولو، یہ جہنم جو تمہارے سامنے ہے یہ اسی جادو کا کرشمہ ہے یا اب بھی تمہیں نہ سوجھا کہ واقعی اسی جہنم سے تمہارا پالا پڑگیا ہے جس کی خبر تمہیں دی جا رہی تھی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔
Read the full tafseer →۔۔۔۔ (16) حکم ہوا گا کہ جائو اس میں پڑو، تمہارے لیے اب کوئی مفر نہیں۔ خواہ صبر کرو یا رئو و چلائو، دونوں تمہارے لیے یکساں ہے، نہ صبر کی داد طنی ہے اور نہ آہ و فریاد کی شنوائی ہوئی ہے۔ (انما تجزون ما کنتم تعملون) یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے تمہارے اپنے ہی اعمال ہیں۔ اگر تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہوتی اور تم فریاد کرتے تو شنوائی اور فریاد رسی کی توقع کرسکتے تھے لیکن جب تمہاری اپنی ہی کمائی تمہارے سامنے آرہی ہے تو فریاد کس کے خلاف کرو گے اور شنوائی کی توقع کس سے کرو گے ! (انما تجزون ما کنتم تعملون) سے مراد یہ نہیں ہے کہ بعینہٖ وہ اعمال ان کے سامنے آئیں گے جو انہوں نے دنیا میں کیے ہوں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 1 جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ ! کیا یہ بھی کوئی جادو کا کرتب ہے ؟
15۔ 2 یا جس طرح تم دنیا میں حق کے دیکھنے سے اندھے تھے یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آرہا ہے ؟ یہ تقریع وتوبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدے میں آچکی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔
Read the full tafseer →اصلوھا ........ تعملون (25 : 61) ” جاؤ، اب جھلسو ، اس کے اندر تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لئے یہ یکساں ہے تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔ “
اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے کہ خواہ کوئی صبر کرے یا نہ کرے عذاب جاری رہے گا۔ کوئی اسے روکنے والا نہیں ہے۔ اگر صبر کرے تو درد وہی اگر نہ کرے تو درد وہی۔ جہنم میں رہنا اپنا مقدر ہے خواہ چیخے یا چپ ہوجائے۔ یہ اس لئے کہ یہاں تو جزاء وسزا اعمال پر ہے جو کچھ ہوچکا اس میں کوئی تغیر وتبدل نہیں ہوسکتا۔ ان الفاظ پر یہ منظر اب ختم ہوتا ہے اور یہاں یہ پہلا حصہ بھی ختم ہوتا ہے۔
اس سورة کا دوسرا حصہ بھی فکر انگیز ہے لیکن اس میں…
Read the full tafseer →12 یعنی دوزخ میں پڑ کر اگر گھبراؤ اور چلاؤ گے، تب کوئی فریاد کو پہنچنے والا نہیں۔ اور بفرض محال صبر کر کے چپ ہو رہو تب تم پر کوئی رحم کھانے والا نہیں۔ غرض دونوں حالتیں برابر ہیں۔ اس جیل خانہ سے نکلنے کی تمہارے لیے کوئی سبیل نہیں۔ جو کرتوت دنیا میں کیے ان کی سزا یہی حبس دوام اور ابدی عذاب ہے۔
Read the full tafseer →آیت 16{ اِصْلَوْہَا فَاصْبِرُوْٓا اَوْلَا تَصْبِرُوْاج سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ ط } ”اب داخل ہو جائو اس میں ‘ تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ‘ اب تمہارے حق میں برابر ہے۔“
اب تمہارے جزع فزع کرنے اور چیخنے چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کو نہیں آئے گا۔ تمہارے پاس اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس میں خاموشی سے داخل ہو جائو اور اس کی سختیوں کو صبر سے برداشت کرو۔
{ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”تمہیں بدلے میں وہی کچھ تو مل رہا ہے جو کچھ تم عمل کیا کرتے تھے۔“
Read the full tafseer →12 تم نے دنیا میں یہ طے کرلیا تھا کہ جو کچھ بھی ہو ہم کبھی اس دعوت حق کو قبول نہیں کریں گے اور پھر اپنی اس ہٹ دھرمی پر ڈٹ گئے تھے۔ اسی طرح تمہارے عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی تم چیخو چلاؤ یا صبر کرکے عذاب برداشت کرتے جاؤ۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
Read the full tafseer →4۔ یعنی تمہارا جرم تو کفر ہے .... اللہ کے کمالات غیر متناہی کا کفران ..... سو تمہارے لئے سزا بھی دوزخ میں خلود کی ہے۔ (آیت) ” انما ..... تعملون “۔ انما کلمہ حصر ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ تمہیں بس اتنا ہی عذاب تو ہورہا ہے جس کے تم مستحق ہوگئے تھے۔ اس سے زائد سزا تو نہیں مل رہی ہے (آیت) ” فاصبروا ..... علیکم “۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ تمہاری ہائے واویلا سے تمہیں نجات ہوجائے، اور نہ یہی ہوگا کہ تمہارے سکوت وانقیاد سے تم پر ترحم کیا جائے۔ (تھانوی (رح))
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔
Read the full tafseer →اصلوھا فاصبروا اولا تصبروا سواء علیکم انما تجزون ما کنتم تعملون . اس میں داخل ہوجاؤ پھر اس کو سہار کرو یا نہ کرو تمہارے حق میں دونوں برابر ہیں ‘ جیسا
تم کرتے تھے ویسا ہی تم کو بدلہ دیا جائے گا۔
سَوَآءٌ : مصدر بمعنی اسم فاعل ہے یعنی دونوں چیزیں تمہارے لیے برابر ہیں۔ تمہارے اعمال کی سزا تو ضرور ملنی ہے۔ کفر کی سزا کی وعید اللہ کی طرف سے تم کو مل چکی تھی اور کفر کی سزا بھی اللہ کی واجب کردہ ہے (اس لیے نہ وعید کی خلاف ورزی ہوسکتی ہے نہ اللہ کی مقرر کردہ سزا بدل سکتی ہے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
جس روز کہ ان کو جہنم کی طرف دھکے دے دے کر لائیں گے فرشتے ان کو دھکے دیں گے اور ان کے منہ کے بل ان کو دوزخ کی طرف گھسیٹیں گے اور ان سے زبانیہ فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے تو کیا یہ دن اور یہ عذاب بھی سحر کیونکہ تم دنیا میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ساحر کہتے تھے یا تم اب بھی نہیں سمجھ رہے۔
پھر ارشاد خداوندی ہوگا اچھا تو اب دوزخ میں داخل ہوجاؤ پھر خواہ اس عذاب کو سہو یا نہ سہو کیونکہ خاموشی سے سہنا اور شور مچانا دونوں تمہارے حق میں برابر ہیں اور تم دنیا میں جیسا کرتے اور کہتے تھے ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →(1) اصلوھا : ظاہر ہے وہ یہی کہیں گے کہ پروردگار ! نہ یہ جادو ہے اور نہ اسے دیکھنے سے ہم اندھے ہیں بس ایک دفعہ ہمیں واپس جانے دے، ہم کبھی انکار نہیں کریں گے۔ (دیکھیے انعام : 27 تا 30) مگر حکم ہوگا اب اس میں داخلے کے بغیر چارہ نہیں، اسی میں جھلستے رہو۔
(2) فاصبروا ولا تصبروا سوآء علیکم : یعنی تمہارے لئے صبر کرنا یا نہ کرنا دونوں برابر ہیں، کیونکہ نہ صبر سے تمہارے عذاب میں تخفیف ہوگی اور نہ جزع فزع اور واویلا کرنے سے، کیونکہ اب نہ عذاب میں کمی ہوگی، نہ اس میں وقف ہوگا اور نہ اس سے نکل کرسکو گے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (162) ، زخرف (75) اور سورة ابراہیم (21)۔
(3) انما تجزون ما کنتم تعملون : یعنی جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
یوم تمور السماء مورا۔ یوم میں عامل واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان پر عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھر تھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مار الشی یمورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے ضحاک نے کہا ؛ ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہوں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعر ذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابہ لا ریت ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوسی کے گھر بادل جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تیزی سے چلتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔
2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔
عذاب الہی کے تصور سے رونا :
3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…
Read the full tafseer →اِصْلَوْهَا [ تم لوگ جا پڑو اس میں ] فَاصْبِرُوْٓا [ پھر (چاہیے ) صبر کرو ] اَوْ لَا تَصْبِرُوْا ۚ [ یا صبر مت کرو ] سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ ۭ [ برابر ہے تم لوگوں پر ] اِنَّمَا تُجْزَوْنَ [ تم لوگوں کو تو بس بدلہ دیا جاتا ہے ] مَا [ وہ (ہی ) جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ [تم لوگ عمل کیا کرتے تھے ]
نوٹ ۔ 1: سورة ذاریات میں آخرت کے امکان اس کے وجود اور وقوع کے دلائل دیے جاچکے تھے ۔ اس لیے یہاں ان کا اعادہ نہیں کیا گیا ۔ البتہ آخرت کی شہادت دینے والے چند حقائق و آثار کی قسم کھا کر پورے زور کے ساتھ فرمایا کہ وہ یقینا واقع ہوکر رہے گی ۔ طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم کو اٹھانے اور ایک غالب…
Read the full tafseer →ان سے مزید کہا جائے گا ﴿ اِصْلَوْهَا فَاصْبِرُوْۤا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا 1ۚ ﴾ (تم اس دوزخ میں داخل ہوجاؤ پھر چاہے صبر کرو یا نہ کرو) ﴿ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ 1ؕ﴾ (تمہارے لیے دونوں چیزیں برابر ہیں) نہ صبر سے عذاب دفع ہوگا اور نہ بےصبری سے، دنیا میں جو مصیبت پر صبر کرنے سے کبھی کبھی تکلیف دور ہو کر آرام مل جاتا تھا یہاں وہ بات نہیں ہے۔
﴿اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 0016﴾ (تمہیں انہی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے کسی قسم کا کوئی ظلم نہ ہوگا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔
(ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔
قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…
Read the full tafseer →ٖف 7:۔ ” اصلوھا۔ الایۃ “ اب صبر کرو یا بےصبری سے واویلا کرو اور چیخو چلا، تمہارے لیے برابر ہے اس سے تمہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ اب تو تمہیں اس عذاب جہنم میں داخل ہونا ہی ہوگا۔ اس میں تم سے کوئی زیادتی اور بےانصافی نہیں کی گئی یہ تمہارے اپنے ہی اعمال یعنی کفر و شرک اور عناد و تکذیب کی سزا ہے جن میں تم عمر بھر لگے رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…
Read the full tafseer →اِصْلَوْہَا فَاصْبِرُوْٓا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا 0 ۚ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ 0 ۭ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 16
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103]
وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔
تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…
Read the full tafseer →اِصْلَوْھَا فَاصْبِرُوْٓا اَوْ لاَ تَصْبِرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الطور : 16)
(اس میں داخل ہوجاؤ، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔ )
ان کی یا وہ گوئی کا جواب دینے کے بعد انھیں حکم دیا جائے گا کہ جاؤ اب جہنم میں داخل ہوجاؤ، یہ جگہ باتیں بنانے کی نہیں، یہاں تو حکم کی تعمیل کرنا ہوگی، اب تم صبر کرو یا بےصبری کرتے ہوئے واویلا مچائو، دونوں باتیں تمہارے لیے برابر ہیں۔ صبر پر داد کی امید نہ رکھو اور بےصبری پر شنوائی کی توقع نہ کرو۔ تمہیں یہاں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسا تم دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
فہم القرآن
ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔
ویل کا معنٰی جہنم بھی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ اس لیے جہنم کو ویل کہا گیا ہے۔ ویل ان لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی تکذیب اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو کرتے ہیں۔ جب انہیں قیامت کے دن جہنم کی آگ میں دھکیلا اور پھینکا جائے گا تو فرشتے انہیں جہنم میں دھکیلتے…
Read the full tafseer →عذاب پر صبر تو سزا ہے :
آیت 16 : اِصْلَوْہَا فَاصْبِرُوْا اَوْلَا تَصْبِرُوْا سَوَآئٌ عَلَیْکُمْ (اس میں داخل ہو پھر سہار کرنا یا نہ کرنا تمہارے حق میں برابر ہے) سواء کی خبر محذوف ہے ای علیکم الامران الصبرو عدمہ۔ بعض نے اس کا عکس کہا ہے۔ اور استواء الصبرو عدمہ کی اس قول سے تعلیل بیان کی کہ اعمال کی سزا تو ضرور ملنی ہی ہے۔ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (تمہیں انہی اعمال کی جزاء دی جائے گی جو تم کیا کرتے تھے) یہ تعلیل ہے۔ کیونکہ صبر کو جزع فزع پر یہ مرتبہ حاصل ہے کہ صبر کا بدلہ یہ ہے کہ صابر کو بہتر بدلہ ملتا ہے۔ باقی عذاب پر صبر جو کہ سزا ہے اس کا کوئی انجام نہیں اور نہ فائدہ…
Read the full tafseer →15 ۔” افسحر ھذا “ کیونکہ وہ محمد ﷺ کی نسبت سحر کی طرف کرتے تھے اور یہ کہ محمد ﷺ آنکھوں جادو کے ساتھ ڈھانپ دیتے ہیں تو ان کو ڈانٹا گیا اور ان کو کہا گیا ” افسحر ھذا ام انتم لا تبصرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…
Read the full tafseer →اِصْلَوْهَا) یعنی اس آگ میں اس طرح داخل ہوجاؤ کہ یہ تمہیں گھیر لے تمہارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمہارے دلوں تک جا پہنچے (فَاصْبِرُوْٓا اَوْ لَا تَصْبِرُوْا ۚ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ ۭ ) پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمہارے لیے یکساں ہے۔ یعنی جہنم کے اندر صبر تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمہارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہوجاتی ہے ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوگا بنا بریں فرمایا اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[ 15] منکرین کو دوزخ میں داخلے کا حکم۔ والعیاذ باللّٰہ جل وعلا :
سو منکرین و مکذبین کی اس طرح تذلیل و توبیخ کے بعد ان کو صاف اور صریح طور پر حکم ہوگا کہ اب تمداخل ہوجاؤ اس دوزخ میں برابر ہیں تمہارے حق میں کہ تم لوگ صبر کرو یا نہ کرو اب تم نے بہرحال اسی میں رہنا ہے۔ والعیاذ باللّٰہ، کہ تمہارے چھٹکارے کی کوئی صورت اب بہرحال ممکن نہیں، کہ تم لوگوں کو دائمی ٹھکانہ دوزخ کی یہ دہکتی آگ ہی ہے جس میں تم لوگوں کو ہمیشہ ہمیش کیلئے جلتے رہنا ہے کہ یہ طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے تمہارے اس کفر و انکار کا جس کو تم لوگوں نے زندگی بھر گلے لگائے رکھا۔ والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ سو اس سے دنیا کی زندگی اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
گنہگاروں کی حالت حساب کے دن
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں قیامت کا ہلکا سا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ ' جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے کائنات میں کشش ثقل اور گردشی حرکت نے ناقابل یقین توازن قائم کر رکھا ہے۔ ایک دن یہ توازن اللہ کے حکم سے ختم ہوجائے گا زمین کی کشش ثقل ختم ہوجائے گی تو زمین پر موجود ہر چیز زمین کو چھوڑ کر اڑنا شروع کر دے گی۔ زمین کے ان حالات کا ذکر بیشمار دفعہ کیا جاچکا ہے اور سائنس دان اس حقیقت کو مان رہے ہیں۔ اور قیامت کے قریب آنے کی نشانیاں سائنس اپنی زبان میں اور قرآن و احادیث اپنے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–28
آیات 1 تا 28۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
ف 8 یا جو نعمتیں ان کے رب نے انہیں دی ہوں گی ان سے لذت اندوز ہو رہے ہوں گے۔ “
Read the full tafseer →(52:16) اصلوھا : فعل امر، جمع مذکر حاضر صلی (باب سمع) مصدر۔ بمعنی آگ میں جلنا اور اس میں جا پڑنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ النار کے لئے ہے۔ تم اس میں جا پڑو۔ تم اس کے اندر چلے جاؤ۔
اصبروا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر صبر (باب ضرب) مصدر۔ تم صبر کرو۔
اولا تصبروا۔ او حرف عطف ہے۔ اکثر نخییر کے معنی میں آتا ہے یعنی دو چیزوں میں سے ایک کو انتخاب کرنے کا اختیار دینا (یا) ۔ لاتصبروا فعل نہی جمع مذکر حاضر، تم صبر نہ کرو، مطلب یہ کہ تم اب نار جہنم میں جلنے پر صبر سے کام لو یا بےصبری سے تمہارے لئے دونوں برابر ہیں۔ اب تو تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا ہو صورت میں بھگتنا ہوگی۔
سوائ : مصدر بمعنی اسم فاعل یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16
مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 16
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔
(ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–20
[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔
[7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔
(الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
سورة الطور
1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔
اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…
Read the full tafseer →(16) جائو اس دوزخ میں داخل ہوجائو پھر اب تم خواہ صبر کرو یا صبرنہ کرو تمہارے لئے دونوں باتیں برابر ہیں۔ بس تم کو ویسا ہی بدلا دیاجائے گا جیسے اعمال تم کیا کرتے تھے - یہ قسمیں مجازاۃ عمل کی غرض سے ارشاد فرمائیں کیونکہ منکرین قیامت اور جزائے اعمال کے منکروں کا جس قدر ان کا بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اس کے اثبات کو موکد فرماتے ہیں۔
طور سے مراد ہی پہاڑ ہے جس پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا تھا لکھی ہوئی کتاب جو کشادہ کاغذ میں لکھی ہوئی ہے اس سے مراد بظاہر صحائف اعمال ہیں جن کو نامہ اعمال کہتے ہیں یا مراد توریت ہے یا قرآن ہے یا تمام کتب سماویہ یا لوح محفوظ مراد ہیں اس بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ف 7۔ نہ یہ ہوگا کہ تمہاری ہائے واویلا سے نجات ہوجائے، اور نہ یہ ہوگا کہ تمہاری تسلیم وانقیاد و سکوت پر ترحم کر کے نکال دیا جائے بلکہ ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا۔
8۔ یعنی تم کفر کیا کرتے تھے جو کہ اشد عصیان اور عقوق و کمالات غیر متناہیہ الہیہ کا کفران ہے، پس بدلہ میں عذاب و دوزخ نصیب ہوگا جو کہ عذاب اشد و غیر متناہی ہے۔
Read the full tafseer →اچھا اس میں داخل ہو جائو اور تم صبر کرو یا نہ کرو بہرحال جو کچھ کرو تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہیۃ
16 ؎ بہرحال اب کیا نہیں ہے ‘ تم کیا تسلیم کرو اور کیا تسلیم نہ کرو اس بحث میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اب تم کو اس میں داخل ہونا ہے اس پر صبر کرو یا نہ کرو اگر تم صبر نہیں کرو گے تو کیا کرو گے ؟ جو بھی کرو گے تمہارے لئے برابر ہے کیونکہ تمہارے اعمال کا تم کو ضرور بدلہ دیا جائے گا اور کسی حال میں بھی تم اس سے بچ نہیں سکتے اگر تمہارے حق میں اس دوزخ کا فیصلہ ہوا ہے اور اس میں تم کو دھکیلا جا رہا ہے تو تمہارے ہی اعمال کا یہ بدلہ ہے تم پر کسی طرح کا ظلم و زیادتی نہیں کی جا رہی اور پھر تم کو یہ پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–20
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
10 That is, "When the Messengers in the world warned you of this Hell. you said that it was only by magic that they were fooling you. Now say: Is this Hell which you are facing mere magic, or you still do not see that you have actually met with the same Hell which was being foretold to you?"
Read the full tafseer →