At-Tur 52:15

At-Tur · from ayah 15

52:15

اَفَسِحْرٌ هٰذَاۤ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ ۟ۚاَفَسِحۡرٌ هٰذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ‌ۚ

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is this magic, or do you not see?

— Saheeh International

Juz 27 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tur

All translations of 52:15

اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر ہی نہیں آتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

(اب بتاؤ) کیا یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا یہ جادو ہے یا تمہیں (اب بھی) کچھ نظر نہیں آرہا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو کیا یہ جادو ہے یا تمہیں دکھائی نہیں دیتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا یہ جادو ہے، یا تم نہیں دیکھ رہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے یا تمہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سمجھائی نہیں دے رہا ہے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھتا نہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

تو کیا یہ بھی سحر ہے یا تمہیں نظر نہیں آتا ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو کیا یہ جادو ہے یا تم کو نظر نہیں آتا

— محترمہ رفعت اعجاز

Is this, then, any feat of magic or are you unable to see?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Is it then magic, or do you not see?

— Muhammad Taqi Usmani

Is it then magic, or do you not see?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is this magic or do you not see

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then is this magic, or do you not see?

— Saheeh International

Is it magic or do you not still see?

— Muhammad Sarwar

Is it magic then or do you not see?

— Muhammad Habib Shakir

Is this magic? or ye still see not clearly!

— Abdul Majid Daryabadi

"Is this then a fake, or is it ye that do not see?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 52:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 2–16

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے ان چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی عظیم الشان قدرت کی نشانیاں ہیں فرماتا ہے کہ اس کا عذاب ہو کر ہی رہے گا جب وہ آئے گا کسی کی مجال نہ ہوگی کہ اسے ہٹا سکے۔ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جس پر درخت ہوں جیسے وہ پہاڑ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کلام کیا اور جہاں سے حضرت عیسیٰ کو بھیجا تھا اور جو خشک پہاڑ ہو اسے جبل کہا جاتا ہے طور نہیں کہا جاتا آیت (کتاب مسطور) سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے یا اللہ کی اتاری ہوئی لکھی ہوئی کتابیں ہیں جو انسانوں پر پڑھی جاتی ہیں اسی لئے ساتھ ہی فرما دیا کھلے ہوئے اوراق میں آیت (بیت المعمور) کی بابت معراج والی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 15–16

سورة الطُّوْر 10 یعنی دنیا میں جب رسول تمہیں اس جہنم کے عذاب سے ڈراتے تھے تو تم کہتے تھے کہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے ہمیں بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ اب بولو، یہ جہنم جو تمہارے سامنے ہے یہ اسی جادو کا کرشمہ ہے یا اب بھی تمہیں نہ سوجھا کہ واقعی اسی جہنم سے تمہارا پالا پڑگیا ہے جس کی خبر تمہیں دی جا رہی تھی ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–20

يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

۔۔۔ (15) یعنی دنیا میں جب اللہ کا رسول تم کو اس سے ڈرا رہا تھا تو تم اپنے آپ کو اور اپنے عوام کو اس سے نچنت رکھنے کے لیے قرآن کے انداز کو الفاظ کی جادوگری قرار دیتے تھے۔ اب بتائو یہ الفاظ کی جادوگری ہے یا ایک حقیقت ہے لیکن جس طرح تم دنیا میں اس سے اندھے بنے رہے اسی طرح اب بھی تمہیں یہ دکھائی نہیں دے رہی ہے

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

15۔ 1 جس طرح تم دنیا میں پیغمبروں کو جادوگر کہا کرتے تھے، بتلاؤ ! کیا یہ بھی کوئی جادو کا کرتب ہے ؟ 15۔ 2 یا جس طرح تم دنیا میں حق کے دیکھنے سے اندھے تھے یہ عذاب بھی تمہیں نظر نہیں آرہا ہے ؟ یہ تقریع وتوبیخ کے لیے انہیں کہا جائے گا ورنہ ہر چیز ان کے مشاہدے میں آچکی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–18

2: یہ ترجمہ اس تفسیر پر مبنی ہے جو علامہ آلوسی نے ان الفاظ میں نقل فرمائی۔ ”وَ وَقٰھُمْ رَبُّھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْم عطف علی آتا ھم ان جعلت ما مصدریة، ای فاکھین بایتائھم ربھم و وقایتھم عذاب الجحیم۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

افسحر ........ تبصرون (25 : 51) ” یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے “ یہ لوگ دنیا میں قرآن کے بارے میں کہتے تھے یہ جادو ہے۔ طنزاً کہا جاتا ہے کہ یہ آگ بھی محض جادو ہے یا حقیقت ہے اور ایک خوفناک حقیقت ہے یا صورت یہ ہے کہ تم اس آگ کو اسی طرح نہیں دیکھ رہے جس طرح تم قرآن کو نہ دیکھتے تھے۔ جب یہ مزاحیہ سرزنش اور گوشمالی ختم ہوتی ہے تو جلدی انہیں سنجیدگی سے مایوس کردیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی تم دنیا میں انبیاء کو جادوگر اور ان کی وحی کو جادو کہا کرتے تھے۔ ذرا اب بتلاؤ کہ یہ دوزخ جس کی خبر انبیاء نے دی تھی کیا واقعی جادو یا نظر بندی ہے یا جیسے دنیا میں تم کو کچھ سوجھتا نہ تھا، اب بھی نہیں سوجھتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ اَفَسِحْرٌ ہٰذَآ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”کیا یہ جادو ہے یا تم دیکھ نہیں رہے ہو ؟“ اب بتائو ! کیا تم اپنے سامنے واقعی جہنم کو دیکھ رہے ہو یا اس کو بھی تم جادو کا کھیل ہی سمجھتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 یعنی دنیا میں جب تمہیں تمہارے برے انجام سے ڈرایا جاتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ تم مر کر زندہ کیے جاؤ گے پھر تمہاری باز پرس اور محاسبہ ہوگا پھر تمہیں تمہارے برے اعمال کی سزا ملے گی تو تم کہہ دیتے تھے کہ یہ تو بس جادوگری ہے۔ اب بتاؤ کیا یہ جادو ہے یا حقیقت ؟ یا جیسے تمہیں دنیا میں کوئی حقیقت نظر نہ آتی تھی آج بھی یہ بات نظر نہیں آرہی کہ یہ تمہارے ہی اعمال کا بدلہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 11–15

3۔ ملامت مزید کے طور پر اہل دوزخ کو قائل کیا جائے گا کہ دنیا میں تو دوزخ کے بیان کو خوب جھٹلاتے اور سحرپر محمول کرتے رہے۔ اب کہو، اب مشاہدہ کے بعد بھی اس کے سحر ہی ہونے کے قائل ہو یا یہ کہ دنیا کی طرح یہاں بھی، یہ تمہیں نظر نہیں آرہا ہے ؟ (آیت) ” فی خوض یلعبون “۔ اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی آگیا کہ یہ منکرین ومکذبین اب بھی ان حقائق ومسائل پر اس سنجیدگی سے غور وفکر نہیں کرتے جو ان حقائق کی اہمیت کی متقاضی ہے بلکہ بےفکری، بےغوری، بےخیالی کے ساتھ ان پر سے یوں ہی سرسری گزرتے چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–20

یوم تمور السماء موراً ، مور کے معنی حرکت و اضراطب کے ہیں، قیامت کے دن آسمان کے نظم میں جو اختلال اور کواکب و سیارگان کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے جو اضطراب واقع ہوگا اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے، یوم تمور السماء موراً یوم مذکورہ عذاب کے لئے ظرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تو کیا یہ جادو ہے ؟ اَفَسِحْرٌ : میں استفہام انکاری توبیخی ہے اور فَ تعقیبی ہے یعنی دنیا میں تم وحی اور معجزات کو سحر کہتے تھے ‘ اب حقیقت سامنے آگئی تو کیا تمہارے خیال میں یہ بھی جادو ہے۔ ام انتم لا تبصرون یا یہ کہ (اب بھی) تم کو نظر نہیں آتا اَمْ اَنْتُمْ لاَ تُبْصِرُوْنَ : یعنی کیا تم کو یہ آگ دکھائی نہیں دیتی جس طرح تم کو دنیا میں معجزات دکھائی نہیں دیتے تھے اور تم کہتے تھے ہماری نظر بندی کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 13–16

جس روز کہ ان کو جہنم کی طرف دھکے دے دے کر لائیں گے فرشتے ان کو دھکے دیں گے اور ان کے منہ کے بل ان کو دوزخ کی طرف گھسیٹیں گے اور ان سے زبانیہ فرشتے کہیں گے کہ یہ وہی دوزخ ہے جس کا تم دنیا میں انکار کیا کرتے تھے تو کیا یہ دن اور یہ عذاب بھی سحر کیونکہ تم دنیا میں انبیاء کرام (علیہم السلام) کو ساحر کہتے تھے یا تم اب بھی نہیں سمجھ رہے۔ پھر ارشاد خداوندی ہوگا اچھا تو اب دوزخ میں داخل ہوجاؤ پھر خواہ اس عذاب کو سہو یا نہ سہو کیونکہ خاموشی سے سہنا اور شور مچانا دونوں تمہارے حق میں برابر ہیں اور تم دنیا میں جیسا کرتے اور کہتے تھے ویسا ہی تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(افسحر ھذا ام انتم لاتبصرون : یعنی جس طرح تم دنیا میں ہر معجزے کو جادو کہہ کر جھٹلا دیتے تھے، اب اس آگ کو بھی جادو کہہ کر جھٹلا دو ، تو بتاؤ کیا یہ جادو ہے ؟ یا جس طرح تم دنیا میں کہتے تھے :(من بیننا وبینک حجاب) (حم السجدۃ : 5) کہ ہمارے اور تمہارے درمیان ایک پردہ ہے، جو کچھ تم بتاتے ہو ہمیں دکھائی نہیں دیتا تو بتاؤ کیا اب بھی تم نہیں دیکھ رہے ؟ یہ ساری بات کفار کو دنیا میں ان کی جھٹلانے کے لئے کہی ہوئی باتیں یاد کروا کر ذلیل کرنے کیلئے کہی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–16

یوم تمور السماء مورا۔ یوم میں عامل واقع ہے یعنی قیامت کے روز ان پر عذاب واقع ہوگا یہ وہ دن ہے جس میں آسمان تھر تھرائے گا۔ اہل لغت نے کہا : مار الشی یمورا اس نے حرکت کی وہ آیا اور وہ گیا۔ جس طرح کھجور کا لمبا درخت حرکت کرتا ہے تمور اس کی مثل ہے ضحاک نے کہا ؛ ان میں سے بعض بعض میں موجیں مار رہے ہوں گے (1) ۔ مجاہد نے کہا : وہ چکر لگا رہے ہوں گے (2) ۔ ابوعبیدہ اور اخفش نے کہا : وہ جھول رہے ہوں گے اور اعشی کا شعر ذکر کیا : کان مثی تھا من بیت جار تھا مور السحابہ لا ریت ولا عجل (3) اس کی چال اس کے پڑوسی کے گھر بادل جھولنے کی طرح ہوتی ہے نہ بہت سست نہ بہت تیز۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تیزی سے چلتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–18

1:۔ سعید بن منصوروابن سعد (رح) واحمد (رح) نے جبیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا کہ میں مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا بدر کے قیدیوں میں آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور آپ اپنے صحابہ کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے۔ میں نے سنا تو آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو یہ آیت سنتے ہی میرا دل پریشان اور مضطرب ہوگیا۔ 2:۔ ابوعبید فی فضائلہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) '' ان عذاب ربک لواقع '' تو آپ کی سانس پھول گئی اور اس وجہ سے کئی دن تک یہ کیفیت رہی۔ عذاب الہی کے تصور سے رونا : 3:۔ احمد بن زھد مالک بن مفعول (رح) سے روایت کیا عمر ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ''…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَفَسِحْرٌ ھٰذَآ [ تو کیا جادو ہے یہ ] اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ [ یا تم لوگ بصیرت سے کام نہیں لیتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–15

اس کے بعد جھٹلانے والوں کی بدحالی بیان فرمائی ﴿ فَوَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ0011﴾ (سو اس دن بڑی خرابی ہے یعنی بربادی ہے اور عذاب میں گرفتاری ہے ان لوگو کے لیے جو حق کو جھٹلاتے ہیں) ﴿ الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ خَوْضٍ يَّلْعَبُوْنَۘ0012﴾ (جو بیہودہ باتوں میں گھسے ہوئے ہیں اور اس شغل کو انہوں نے کھیل کے طور پر اختیار کر رکھا ہے) صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں۔ یخوضون فی الباطل یلعبون غافلین لاھین یعنی یہ لوگ باطل چیزوں میں گھستے ہیں حق کے خلاف بولتے ہیں اور مشورے کرتے ہیں، غافل ہیں اپنے شغل کو کھیل بنا رکھا ہے۔ ﴿يَوْمَ يُدَعُّوْنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّاؕ0013﴾ یہاں ان کا یہ حال ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–16

تہدید وتوبیخ منکرین معاد وعید عذاب برائے اہل عناد : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والطور وکتب مسطور ....... الی ....... ما کنتم تعملون “۔ (ربط) سورة والذاریات کا اختتامی مضمون جن وانس کی تخلیق بغرض عبادت خداوندی تھا اسی کے ساتھ جو قومیں اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور وحدانیت کو نہیں تسلیم کرتیں اور بلاحجت و دلیل نافرمانی اور بغاوت پر قائم ہیں ان کو عذاب خداوندی کی دھمکی دی گئی ارشاد فرمایا۔ قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ورق میں لکھی ہوئی ہے اور قسم ہے بیت معمور کی اور قسم ہے ایک بلند چھت کی اور قسم ہے ابلتے ہوئے سمندر کی یقیناً آپ کے رب کا عذاب ضرور واقع ہو کر رہے گا جس کا کوئی ٹلانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–15

6:۔ ” یوم یدعون “ یدعون، انہیں دھکا دے کر پھینکا جائیگا۔ یدفعون الیھا بعنف (بیضاوی) ۔ ھذہ النار، سے پہلے فیقال لہم مقدر ہے (مدارک) جس دن جھٹلانے والوں کو دھکے دے دے کر جہنم میں پھینکا جائے گا اس وقت ان سے کہا جائیگا یہ وہی جہنم ہے جس سے ہمارے پیغمبر (علیہم الصلوۃ والسلام) تمہیں ڈراتے تھے لیکن تم اس کو نہ مانتے تھے۔ ” افسحر ھذا۔ الایۃ “ اب بتاؤ کیا یہ بھی جادو ہی ہے اور تمہاری نظر بندی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے تمہیں یہ دوزخ نظر آرہا ہے، لیکن حقیقت میں کچھ بھی نہیں ؟ جس طرح دنیا میں تم معجزات ِ انبیاء (علیہم السلام) کو جادو اور نظر بندی سے تعبیر کیا کرتے تھے کیا یہ جہنم بھی تمہیں نظر نہیں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

نام اور کوائف اس سورة مبارکہ ک نام سورة الطور ہے ، جو کہ اس کے پہلے لفظ سے مآخوذ ہے ۔ سورة مکی زندگی میں سورة السجدۃ کے بعد نازل ہوئی ۔ مکی سورتوں کا یہ سلسلہ سورة الواقعہ تک چلے گا ۔ اس سورة کی انچاس آیتیں اور دو رکوع ہیں ، اور یہ سورة مبارکہ 812 الفاظ اور 500 1 احروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة گزشتہ سورة کی طرح اس سورة میں بھی زیادہ تر جزائے عمل ہی کا ذکر ہے ، البتہ پہلی سورة کی نسبت اس سورة میں کچھ زیادہ تفصیلات آگئی ہیں ۔ پچھلی سورة میں جواب قسم تھا ان الذین الواقع یعنی جزائے عمل ضرور واقع ہونے والی ہے ، اور اس سورة میں مختلف چیزوں کی قسم اٹھانے کے بعد فرمایا ہے ان عذاب ربک لواقع بیشک تیرے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَسِحْرٌ ھٰذَآ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ۝ 15 ۚ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–16

ترکیب : الوا والاولیٰ فی والطور للقسم و مابعدھا فی و کتاب الخ للعطف فی رق متعلق بمسطوران عذاب الخ جواب القسم مالہ الخ الجملۃ صفۃ لواقع و یوم ظرف لدافع او لواقع یوم یدعون بدل من یوم تمور۔ افسحر خبر مقدم ھذا مبتدء موخر سواء خبر مبتدء محذوف ای صبر کم و ترکہ سواء ‘ الرق بفتح الراء و کسرھا کل مایکتب فیہ جلد اکان اوغیرہ وجمعہ رقوق والمور الاضطراب و الحرکۃ ولذا یطلق علی الموج الدع الدفع بعنف۔ تفسیر : یہ سورة بھی بالاتفاق مکہ میں نازل ہوئی ہے، جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں، میں نے نبی ﷺ کو مغرب کی نماز میں یہ سورة پڑھتے سنا (رواہ البخاری مسلم وغیرہ ہما) اس سورة میں یہی مسئلہ حشر کا اثبات ہے اور وہ اثبات اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَسِحْرٌ ھٰذَٓا اَمْ اَنْتُمْ لاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ (الطور : 15) (کیا یہ جادو ہے یا تمہیں سجھائی نہیں دے رہا۔ ) دنیا میں جب نبی کریم ﷺ انھیں آخرت سے ڈراتے یا عذاب کی دھمکی دیتے تھے، تو یہ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ محض الفاظ کی جادوگری ہے جس سے ہمیں بیوقوف بنایا جارہا ہے۔ اس طرح سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ قیامت کے دن ان کی اس یا وہ گوئی کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جائے گا کہ اب تمہیں جس جہنم میں پھینکا جارہا ہے، غور سے دیکھو یہ جادوگری ہے یا حقیقت ہے۔ کیا اب بھی تمہیں دکھائی دے رہا ہے یا نہیں ؟

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 12–16

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دن کی ہولناکیوں کا ذکر کرنے کے بعد ان لوگوں کا انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو میں مصروف رہتے ہیں۔ ویل کا معنٰی جہنم بھی ہے کیونکہ اس میں داخل ہونے والوں کے لیے ہلاکت اور بربادی ہوگی۔ اس لیے جہنم کو ویل کہا گیا ہے۔ ویل ان لوگوں کے لیے ہوگی جو قیامت کی تکذیب اور اس سے لاپرواہی کرتے ہیں۔ جب ان کے سامنے قیامت اور اس کی ہولناکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسے شغل کے طور پر لیتے ہیں اور اس کے بارے میں لایعنی گفتگو کرتے ہیں۔ جب انہیں قیامت کے دن جہنم کی آگ میں دھکیلا اور پھینکا جائے گا تو فرشتے انہیں جہنم میں دھکیلتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 15 : اَفَسِحْرٌ ہٰذَآ (کیا یہ سحر ہے) نحو : ہٰذَا مبتدأ۔ أسحر اس کی خبر ہے۔ یعنی تم وحی کو سحر کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟ مراد یہ ہے کیا یہ مصداق بھی جادو ہے ؟ اسی وجہ سے فاء کو اس پر داخل کیا۔ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ (یا یہ کہ تم کو نظر نہیں آتا) جیسا کہ تم دنیا میں نہ دیکھتے تھے۔ یعنی کیا تم جس کے متعلق خبر دی گئی ہے اس سے اندھے ہو جیسا کہ خبر سے اندھے تھے ؟ یہ توبیخ و ڈانٹ ہے۔ أفسحر کا استفہام انکاری ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–16

1۔ 16۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں۔ کتاب مسطور کے معنی لو محفوظ کشادہ ورق لوح محفوظ کے صفحہ کو فرمایا۔ ہر ایک آسمان پر ہر آسمان کے فرشتوں کی عبادت کا ایک مکان بنا ہوا ہے۔ ساتویں آسمان کے فرشتوں کے عبادت کا مکان جو بنا ہوا ہے اس کا نام بیت المعمور ہے۔ صحیح 1 ؎ بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے اور صحیح مسلم 2 ؎ میں انس بن مالک سے معراج کی ذکر کی جو حدیث ہے اس میں بیت المعمور کا بھی ذکر ہے غرض کعبہ کی سیدھ پر یہ مکان ساتویں آسمان پر ہے اور ساتویں آسمان کے فرشتوں کا یہی کعبہ ہے۔ سقف مرفوع کے معنی آسمان۔ اکثر سلف بحر مسجور کی یہی تفسیر کی ہے کہ قیامت کے دن دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اَفَسِحْرٌ ھٰذَآ اَمْ اَنْتُمْ لَا تُبْصِرُوْنَ ) ۔ کیا پھر یہ جادو ہے ؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں ؟ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز دیکھ نہیں سکتے یعنی تمہارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 14] منکرین و مکذبین کی تحقیر و تذلیل مزید کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم لوگوں کو اب بھی کچھ دکھتا اور سوجھتا ہے کہ نہیں ؟ جیسے دنیا میں نہیں سوجھتا تھا۔ اب بتاؤ کہ یہ جادوگری ہے یا قطعی حقیقت ؟ سو اس طرح وہ بدبخت مارے افسوس اور صدمے کے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائیں گیم، مگر اس کا کوئی فائدہ ان کو بہرحال نہیں ہوگا، سوائے یاس و حسرت اور غم اندوہ میں اضافے کے، والعیاذ باللّٰہ العظیم، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس کتاب حکیم قرآن مجید کا دنیا میں ہی آگاہ کردیا ہے، تاکہ جس نتے ان کو غیب کے ان عظیم الشان اور جلیل القدر حقائق سے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–16

گنہگاروں کی حالت حساب کے دن تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں قیامت کا ہلکا سا نقشہ بیان کیا گیا ہے کہ ' جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر اور پہاڑ چلنے پھرنے لگیں گے کائنات میں کشش ثقل اور گردشی حرکت نے ناقابل یقین توازن قائم کر رکھا ہے۔ ایک دن یہ توازن اللہ کے حکم سے ختم ہوجائے گا زمین کی کشش ثقل ختم ہوجائے گی تو زمین پر موجود ہر چیز زمین کو چھوڑ کر اڑنا شروع کر دے گی۔ زمین کے ان حالات کا ذکر بیشمار دفعہ کیا جاچکا ہے اور سائنس دان اس حقیقت کو مان رہے ہیں۔ اور قیامت کے قریب آنے کی نشانیاں سائنس اپنی زبان میں اور قرآن و احادیث اپنے طور پر بیان کر رہے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–28

آیات 1 تا 28۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے طور پہاڑ کی یعنی طور جو موسیٰ (علیہ السلام) کے اللہ سے ہم کلام ہونے کے باعث مشہور ہے اور نزول کلام الٰہی کی کیفیت کا امین ہے وہ اس پر گواہ ہوئی کتاب کشادہ اوراق پر یعنی قرآن کریم بعض حضرات نے اعمال نامہ مراد لیا ہے کہ اعمال کا لکھا جانا اور بیت معمور کہ ساتویں آسمان پر فرشتوں کا کعبہ ہے کہ ملائکہ کو بھی دوبارہ باری نصیب نہیں ہوتی اور یہ اونچی چھت جیسا آسمان اور ابلتے ہوئے سمندر یہ سارانظام ہی اس بات پر گواہ ہے کفر اور برائی پر سزا ضرور مرتب ہوگی اور تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہوگا اسے کوئی نہیں روک سکتا یہ تمام واقعات اپنے اپنے مقام پر نتائج کے حامل ہیں تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 14–15

ف 6 ” جیسا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کی باتوں کو جادو بتاتے تھے۔ “ 7” جیسے تمہیں دنیا میں حق دیکھنے کے بعد بھی کوئی بات سمجھائی نہ دیتی تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(52:15) افسحر ھذا۔ ہمزہ استفہام انکاری تو بیخی ہےتعقیب کا ہے۔ یعنی دنیا میں تم وحی و معجزات کو سحر کہا کرتے تھے۔ اب حقیقت سامنے آگئی ہے تو تمہارے خیال میں کیا یہ بھی جادو ہے۔ ای یقال لہم ذلک : یعنی ان سے یہ کہا جائے گا ۔۔ ام۔ بمعنی یا۔ لاتبصرون مضارع منفی جمع مذرک حاضر ابصار (افعال) مصدر۔ تم نہیں دیکھتے ہو۔ یعنی یا کیا تم کو یہ آگ دکھانئی نہیں دیتی جس طرح دنیا میں تم کو معجزات دکھائی نہیں دیتے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–16

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 16 مسطور لکھا ہوا۔ رق جھلی (جس پر اس زمانہ میں لکھا کرتے تھے) المعمور آباد۔ السقف المرفوع اونچی چھت۔ المسجور جوش مارنا۔ دافع دور کرنے والا۔ تمور تھرتھرائے گا۔ تسیر چلے گا۔ خوض ڈوب جانا۔ یدغون وہ دھکیلے جائیں گے۔ اصلوا تم گھس جائو، داخل ہو جائو۔ تجزون تم بدلہ دیئے جائو گے۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 16 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے طور سینا، کتاب مسطور، بیت المعمور، شقف مرفوع اور بحر مسجور کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب کفار و مشرکین پر عذاب مسلط کیا جائے گا تو کوئی اس کو ٹالنے والا اور جب اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور پرہیز گار بندوں پر ان کے بہتر اعمال کے بدلے جنت کی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–16

اہل دوزخ واہل جنت کا انجام۔ دنیا کھیل تماشہ نہیں ہے جو جیسا کرے گا ویسا پھل پائے گا۔ (ف 1) قسم ہے طور کی۔ طور وہ پہاڑ ہے جس پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں، اور قسم ہے کتاب مسطور کی جو صاف صاف کھلے ہوئے صحیفہ میں لکھی ہوئی ہے کتاب مسطور سے مراد یا قرآن ہے یا توریت یالوح محفوظ ۔ جس میں احوال بنی آدم مندرج ہیں یا بندوں کے نامہ اعمال مراد ہیں جس کو بندے بروز قیامت پڑھیں گے اور قسم ہے بیت المعمور کی۔ بیت المعمور ساتویں آسمان میں عرش کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل مقابل ہے یہ آسمان والوں کا قبلہ ہے ہر روز سترہزار فرشتے اس میں طواف و نماز کے لیے حاضر ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–20

[6] رب کے عذاب سے مراد آخرت ہے کیونکہ کافروں کے لئے اس کا آنا عذاب ہی ہے۔ [7] یعنی وہ پانچ چیزیں جن کی اوپر قسم کھائی گئی ہے اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آخرت واقع ہو کر رہے گی اور ہر انسان کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا دی جائے گی۔ (الف) طور وہ جگہ ہے جہاں ایک دبی اور پسی ہوئی قوم بنی اسرائیل کے اٹھائے جانے اور فرعون جیسے زبردست فرمانروا کا اپنے لشکر سمیت غرق کر دئیے جانے کا فیصلہ ایک سنسان رات میں کیا گیا تھا (ملاحظہ ہو سورة طہٰ آیات 9 تا 42 صفحہ 718، 720 اور حاشیہ 3 صفحہ 6 73 انسانی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں اللہ کا قانون مکافات برابر کام کرتا رہا ہے جس میں نیکو کاروں کے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–16

سورة الطور 1: دعوی یہ ہے کہ اللہ کے عذاب کو کوئی شخصیت ٹال نہیں سکے گی ۔ وہ آئیگا اور ضرور آئیگا ۔ ثبوت یہ ہے کہ طور کو دیکھو ، اور حضرت موسیٰ کی تعلیمات کو ملاحظہ کرو ۔ پھر کتاب مسطور پر نظر دوڑاؤ۔ جو کہ کھلے اوراق میں مندرج ہے جس سے غالباً لوح محفوظ مراد ہے باروشن اور واضح صفت ہے کتاب کی ۔ بیت اللہ کی آدمی اور معموری پر نظر وفکر سے کام لو ۔ کہ کیونکر اس نے مخالفتوں کے خلاف اس کو برکت عطا کی ہے ۔ اور آسمان کی طرف نظر کرو ۔ جو چھت کی طرح ہے ۔ اور سمندروں کو بنظر غائر دیکھو ۔ جو پانی کے فراواں ذخائر سے پر ہیں ۔ کیا ان باتوں میں تمہارے لئے عبرت وتذکیر کا سامان نہیں ہے ۔ کیا موسیٰ کی تعلیمات اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) اب بتائو کیا یہ کوئی جادو ہے یا تم کو اب بھی دکھائی نہیں دیتا اور تم کو سوجھتا نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–16

ف 7۔ نہ یہ ہوگا کہ تمہاری ہائے واویلا سے نجات ہوجائے، اور نہ یہ ہوگا کہ تمہاری تسلیم وانقیاد و سکوت پر ترحم کر کے نکال دیا جائے بلکہ ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا۔ 8۔ یعنی تم کفر کیا کرتے تھے جو کہ اشد عصیان اور عقوق و کمالات غیر متناہیہ الہیہ کا کفران ہے، پس بدلہ میں عذاب و دوزخ نصیب ہوگا جو کہ عذاب اشد و غیر متناہی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اب تم بتائو کہ کیا یہ جادو ہے ‘ کیا تم اسے دیکھ نہیں رہے ؟ 15 ؎ اس وقت دنیا میں جب تم کو ہمارے نبیوں اور رسولوں نے اس آگ سے ڈرایا اور اس کے شعلوں سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی تو تم ان کا مذاق اڑاتے رہے اور پھر مذاق ہی مذاق میں کبھی ان کو جادو گر قرار دیا اور کبھی سحر زدہ ‘ کبھی ان کو مجنون کہا اور کبھی کاہن و شاعر ہونے کا الزام لگایا اور اس طرح تم اپنی ضد پر آڑے رہے اور پھر مذاق ہی مذاق میں کبھی ان کو جادوگر قرار دیا اور کبھی سحر زدہ کبھی ان کو مجنون کہا اور کبھی کاہن و شاعر ہونے کا الزام لگایا اور اس طرح تم اپنی ضد پر ڑے رہے اب تم ہی بتائو کہ یہ آگ جو تمہارے سامنے ہے اور تم اس میں ڈالے جا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–20

يَوْمَ تَمُورُ‌ السَّمَاءُ مَوْرً‌ا (...the Day when the sky will tremble, a horrible trembling, ...52:9) The lexicographical denotation of the word mawr is violent shaking, or movement caused by unrest. This verse describes the violent movement of the heavens on the Day of Resurrection.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 15–16

10 That is, "When the Messengers in the world warned you of this Hell. you said that it was only by magic that they were fooling you. Now say: Is this Hell which you are facing mere magic, or you still do not see that you have actually met with the same Hell which was being foretold to you?"

Read the full tafseer →